اگلی صبح میری آنکھ آفتاب کے ہلانے پر کھلی۔۔۔ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں اور آفتاب گاڑی لے کر باہر نکل گئے اور مہندی کے فنکشن کا سامان خریدنے لگے۔۔۔اسی شاپنگ میں ہمیں دوپہر کے دو بج گئے۔۔۔دو بجے کا کھانا ہم لوگوں نے فوڈ اسٹریٹ سیور فوڈز میں کھایا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ہم سامان لیکر گھر پہنچ گئے اور سارا سامان آفتاب کی بہن کے حوالے کر کے ہم لوگ کمرے میں آ بیٹھے۔۔۔ تھوڑی دیر میں چائے بن کر آ گئی اور ہم چائے پینے لگے۔۔۔چائے پینے کے دوران آفتاب نے مجھ سے پوچھا ہاں جانی اب بتا کل رات کو کیا ہوا تھا۔۔۔میں نے کھسیاتے ہوئے اسے ساری سٹوری سنا دی۔۔۔چونکہ آفتاب بھی چدائی کا شوقین تھا۔۔۔اور میں اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اس لیے ہم دونوں آپس میں کھل کر بات کر رہے تھے۔۔۔باتیں کرتے کرتے اچانک میرے دل میں ایک خیال آیا۔۔۔میں نے آفتاب سے کہا یار رات کو وہ تم کہہ رہے تھے کہ یہاں کوئی ٹاپ سوسائٹی گرلز کا کوٹھی خانہ ہے۔۔۔ہاں نا یار بہت کمال کی جگہ ہے۔ایک سے ایک اعلیٰ۔۔۔کمال کی پوپٹ بچیاں ہیں وہاں۔آفتاب نے چسکے لے لے کر مجھے بتایا تو میرے دل میں کھلبلی مچنی شروع ہو گئی۔۔۔میں نے آفتاب کو کہا تو چل نا میرے بھائی ایک چکر لگاتے ہیں ویسے بھی کل رات میں کنوارہ ہی رہ گیا۔۔۔آفتاب کچھ سوچنے کے بعد اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔چل میری جان آج تو بھی پیسٹری کاٹ ہی لے۔۔۔ پھر کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا کہ آج تم پیسٹری کاٹ لو کل رات کو فاروق بھائی بھی کاٹ لیں گے۔۔۔اور اس کی بات سن کے میں بھی کِھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ ہم لوگ گھر سے نکلے اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑے۔۔۔کوئی تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ اسلام آباد جی نائن سیکٹر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔آفتاب تو وہاں کا رہنے والا تھا اس لیے اسے وہاں کا ہر راستہ ازبر تھا لیکن مجھے گلیوں کی بھول بلیوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم لوگ کس جگہ پر جا رہے ہیں۔۔۔اور جان کر کرتا بھی کیا۔۔۔میرے دماغ پر تو پھدی سوار تھی اور میں راولپنڈی صرف چار دن کیلئے ہی آیا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی آفتاب نے گاڑی ایک بہت پیاری کوٹھی کے گیٹ کے سامنے لیجا کر روک دی۔ہارن مارنے پر گیٹ کی چھوٹی کھڑکی سے ایک آدمی باہر نکلا اور گاڑی کے پاس آیا۔۔۔پاس آ کر جیسے ہی اس نے آفتاب کو دیکھا تو اس کے چہرے پر شناسائی کے تاثرات ابھرے اور وہ واپس اندر چلا گیا اور ایک منٹ بعد ہی کوٹھی کا مین گیٹ بنا کسی آواز کے کھل گیا۔۔۔ آفتاب گاڑی کو اندر لے گیا اور پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا۔۔۔میں بھی اس کی تلقید میں گاڑی سے باہر نکلا اور آفتاب مجھے ساتھ لیکر سیدھا کوٹھی کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اندر جا کر سامنے ہی گیسٹ روم میں ہم لوگ بیٹھ گئے۔۔۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آفتاب یہاں آتا جاتا رہتا ہے تبھی تو وہ سارے سسٹم کو جانتا تھا اور اتنے اطمینان سے ہم لوگ اندر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں بغلی دروازہ کھلا اور ایک تیس بتیس سال کی عورت اندر داخل ہوئی اور چلتی ہوئی ہمارے پاس آئی ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔حال احوال پوچھنے کے بعد وہ آفتاب سے مخاطب ہوئی۔۔۔ آج تو کافی دنوں بعد درشن دیے آپ نے اور یہ آپ کے ساتھ نیا پنچھی کون ہے۔۔۔میں کافی نروس تھا۔اور یہ چیز اس عورت کی نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔آفتاب صوفے پر پاؤں پھیلاتے ہوئے بولا کیا بتاؤں خانم گھر میں بھائی کی شادی ہے اور پچھلے بیس دن سے گھِن چکر بنا ہوا ہوں۔۔۔یہ سمیر قریشی ہے۔میرا کزن ہے۔دوست ہے۔جگر ہے۔۔۔باہر سے آیا ہے۔بیچارہ پرسوں سے میرے ساتھ خجل ہو رہا تھا تو سوچا چلو خانم کے پاس چلتے ہیں ایک تو دیدارِ خانم ہو جائے گا دوسرا تھوڑی تھکاوٹ بھی اتر جائے گی۔۔۔ خانم جو کہ یقیناً وہاں کی نائیکہ تھی۔مسکرا کر بولی بلکل ذہنی آسودگی ہی اصل تھکان ہوتی ہے۔۔۔تو پھر بلاؤ لڑکیوں کو تھکاوٹ سے بدن ٹوٹ رہا ہے آفتاب بے چینی سے بولا اور خانم مسکراتے ہوئے اٹھ کر بغلی دروازے کی طرف چل دی۔۔۔ میں بغور خانم کاجائزہ لے رہا تھا اس نے جینز کی پینٹ اور بغیر بازوؤں کے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ان کپڑوں میں اس کا جسم بہت سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے خانم کو یوں بھوکی نظروں سے دیکھتے پایا تو مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں یار اس کی طلب مت کرنا یہ خانم خود کسی کے ہاتھ نہیں آئی آج تک۔۔۔بس لڑکیوں سے دھندا کرواتی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ لڑکی ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہے۔۔۔ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ بغلی دروازہ پھر کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔اس کے پیچھے ایک لڑکی مشروبات کی ٹرے اٹھائے ہوئے وارد ہوئی۔خانم آ کر ہمارے سامنے ہی بیٹھ گئی جبکہ لڑکی نے ٹرے درمیان میں موجود ٹیبل پر رکھی اور ٹرے میں موجود بئیر گلاسوں میں ڈال کر ہمارے آگے سرو کر دی۔۔۔یہ لڑکی بھی قابلِ قبول تھی لیکن وہ رکی نہیں اور بئیر سرو کرنے کے بعد واپس اسی دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔خانم مسکراتے ہوئے اپنا گلاس اٹھا کر بولی لڑکیاں تیار ہو کر ابھی دس منٹ میں آتی ہیں اتنی دیر آپ لوگ شوق فرمائیں اور ہم دونوں نے اپنے اپنے گلاس اٹھا لئیے اور بئیر پینے لگے۔۔۔ ابھی بئیر کے گلاس ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغلی دروازہ دوبارہ کھلا اور چار لڑکیاں اندر داخل ہوئیں اور چلتی ہوئیں آ کر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں۔۔۔میں ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھا۔واقعی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔۔۔ آفتاب اور خانم بغور میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی میں نے لڑکیوں سے نظر ہٹا کر ان کی طرف دیکھا اور انہیں خود کو ایسے گھورتے پایا تو ایک دم کھسیا سا گیا۔۔۔خانم ہنستے ہوئے بولی لگتا ہے آپ پہلی دفعہ ایسی جگہ پر آئے ہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آفتاب نے فٹ سے جواب دیا۔۔۔ارے خانم جان یہ موصوف ابھی تک کنوارے ہیں۔۔۔لڑکی نام کی مخلوق کو ابھی تک ٹچ بھی نہیں کیا۔۔۔آفتاب کی بات سن کر خانم کی آنکھوں میں ایک لمحے کیلئے چمک سی ابھری اور فوراً ہی معدوم ہو گئی۔۔۔میں بھی چونکہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اس لئے صرف میں ہی اس لمحاتی چمک کو نوٹ کر پایا۔۔۔آفتاب نے میری پیٹھ پر ایک ہاتھ جماتے ہوئے کہا چل جانی نکال لے اپنا پیس ان میں سے جو تجھے پسند آئے۔۔۔میں ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے آفتاب کو دیکھنے لگا۔۔۔یہ ماحول میرے لیے بلکل نیا تھا۔تو تھوڑی جھجھک فطری تھی۔۔۔