Leaderboard
-
Sadia Skr
Junior Writers19Likes1,052Posts -
Shehnaz nni
Previous Writers16Likes133Posts -
ثقلین شاہ
Previous Members10Likes143Posts -
Haider514
Previous Members8Likes62Posts
Popular Content
Showing most liked content on 18/08/24 in all areas
-
ایڈورٹائزنگ پالیسی 2022-2025
1 likeفورم ایڈز پالیسی جیسا کہ جنوری 2022 میں اعلان کیا گیا تھا، فورم پر ممبرز کے لیے ایڈز پالیسی لاگو کی گئی تھی۔ پچھلے دو سالوں تک یہ پالیسی ٹیسٹ بنیادوں پر رہی اور اکثر اشتہارات کو آف کر دیا جاتا تھا۔ گزشتہ دو دنوں میں تمام ممبرز گروپس پر اشتہارات کو مکمل طور پر فعال کیا گیا، اور اب انہیں گروپس کے حساب سے محدود کر دیا گیا ہے۔ بہت سے ممبرز میں ان ایڈز کو لے کر بے چینی اور کنفیوژن پائی جاتی ہے، اس لیے تمام ممبرز درج ذیل اپڈیٹ کو نوٹ کر لیں: ٭📌 نان کلاؤڈ ممبرز کے لیے ایڈز پالیسی تمام فری ممبرز کو فورم کے کسی بھی سیکشن یا تھریڈ کے لنک پر ہر 5 کلکس کے بعد ایک ٹائمر ایڈ شو ہو گا، جو 10 سیکنڈ بعد خودکار طور پر بند ہو جائے گا۔ ٭📌 کلاؤڈ ممبرز کے لیے ایڈز پالیسی کلاؤڈ جونیئر، کلاؤڈ بیسک، کلاؤڈ بیسک پلس، اور کلاؤڈ پریمیم ممبرز کو ہر 10 کلکس کے بعد ایک ایڈ شو ہو گا، جو 10 سیکنڈ میں آٹو بند ہو جائے گا۔ ٭📌 کلاؤڈ پلاٹینم ممبرز کے لیے اسپیشل ایڈز پالیسی ہر 20 کلکس کے بعد صرف 5 سیکنڈ کا ایک ایڈ شو ہو گا، جو خودکار طور پر 5 سیکنڈ میں بند ہو جائے گا۔ کلاؤڈ ممبرز کو فری ممبرز کے مقابلے میں 75% کم ایڈز شو ہوں گے۔ تمام کلاؤڈ ممبرز کو فورم پیج کے آخر میں موجود "براؤزنگ پیکج" ٹیب سے اپنا براؤزنگ پیکج مینوئلی اپڈیٹ کرنا ہو گا۔ کلاؤڈ ممبرز کے لیے "برونز براؤزنگ پیکج" دستیاب ہے، براہ کرم اسے اپڈیٹ کریں۔ مزید دی گئی تصویر دیکھیں۔ ایڈ فری پریمیم براؤزنگ ایڈ فری پریمیم براؤزنگ کے لیئے آپ کو پریمیم براؤزنگ کی سبسکرپشن لینا ہو گی ۔ جسے یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ Premium Browsing Subscription (Ads Free) - Premium Subscription Features - URDU FUN CLUB Premium Browsing Subscription (50٪ OFF)1 like
-
College Kills Episode 04 Now Available
1 like
-
We are bf and gf we need one girl and boy for roleplay
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 likeاس کے بَعْد صرف یہ ہوا کہ میری غصے میں بند مٹھیاں ڈھیلی پڑ گئی ، اور وہ سینیر جس نے میری گانڈ پر اپنے جوتے كے نشان چھاپے تھے وہ مجھے گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا . . . . " میں نے اسے مارا کیوں نہیں ، کیا میں ڈرپوک . . . . نہیں . . . " آج زندگی كے اٹھارہ سال گزر جانے كے بَعْد ایک اور سچ سے سامنا کرنا پڑ رہا تھا . . . . آج تک اسکول میں صرف چھوٹی موٹی لڑائیاں ہوئی تھی ، جس میں میں ہر بار پورے جوش و خروش سے حصہ لیتا تھا . . . . اور اپنی اے گریڈ اسٹڈی كے لیے ہر بار بچ بھی جاتا تھا . . . . اسکول میں اکثر سب یہی بولتے کہ میں بہت بہادر ہوں ، لیکن آج کنویں کا مینڈک سمندر میں آیا تھا ، جس کا مقابلہ بڑے بڑے کچھوے اور بڑی بڑی مچھلیوں سے تھا . . . . . . " چل اپنے روم میں چلتے ہے . . . . " اظہر نے میرا بیگ اُٹھا کر مجھے پکڑتے ہوئے کہا . . . . میں چُپ رہا ، چہرہ غصے سے اب بھی لال تھا . . . . . " چل ، بھول جا سب . . . " مجھے زبردستی اظہر نے کھینچا ، جس کی وجہ سے میں اس پر جھلا اٹھا . . . . " ابے یار چھوڑ " " بھار میں جا . . . " غصہ میں وہ بھی تھا ، اس لئے وہ بھی مجھ پر چلایا اور میرا بیگ میرے ہاتھ میں پکڑا کر وہاں سے ہاسٹل کی طرف چلا گیا . . . . . . " اس کمینے نے لاتیں مجھے ماری ہے اور غصہ یہ ہو رہا ہے . . . . " اظہر کو ہاسٹل کی طرف جاتے ہوئے میں دیکھ رہا تھا . . . . کچھ دیر پہلے جو ہوا ، وہ سب دیکھ کر شاید اظہر کو بھی غصہ آیا تھا . . . " سوری . . . . " جب اظہر نے دروازہ کھولا تو میں نے اسے کہا . . . . جس کے جواب میں وہ ٹھنڈا ہوتے ہوئے بولا " سوری سے کام نہیں چلے گا ، میں تو گانڈ ماروں گا . . . . " " چل یار ، دور ہٹ . . . میں تو تجھے پہلی بار دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ تو لونڈے باز ہے . . . " اندر آ کر میں نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور بستر پر لیٹ گیا ، ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک چھوٹے قد کا لڑکا اظہر كے پاس آیا ، اس کی آنکھوں میں لگا چشمہ اسے ایک ہونہار طالب علم کا سرٹیفیکٹ دے رہا تھا . . . . وہ سیدھے میرے پاس آیا اور مجھ سے ہاتھ ملایا وہ بھی بنا کچھ کہے . . . . . اور پھر سیدھے جا کر اظہر كے پاس بیٹھ گیا . . . " پاگل لگتا ہے . . . " اسے دیکھ کر میں نے کہا . . . . اظہر كے پاس جا کر وہ بات کرنے لگا ، اور اظہر سے بات کرنے كے دوران وہ اپنا چشمہ اترتا اور میری طرف کچھ دیر تک دیکھ کر پھر اپنا چشمہ اپنی آنکھوں میں لگا کر اظہر سے بات کرنے لگتا . . . . . . . " سن یار ارمان . . . یہ منظور ہے میرے ہی شہر کا ہے . . . . " اس چھوٹی سی ہائیٹ والے لڑکے کا نام منظور تھا ، جس کے نام کی ایسی تیسی اظہر نے پہلے ہی کر دی تھی . . . . " منو " اظہر اسے اسی نام سے بلاتا تھا . . . . " اس لڑکی کا نام کیا ہے ، جو سی ایس میں ہے . . . " منو نے ایک بار پھر اپنا چشمہ اتار کر میری طرف دیکھا اور پھر چشمے پر پھوک مار کر اظہر کی چادر سے چشمے کو صاف کرنے لگا . . . . " سارہ . . . . " اظہر بولا . . . سارہ کا نام سنتے ہی ساری تھکن دور ہوگئی ، میں اُٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھ کر بولا " کیا ہوا . . . " " منو کو سارہ سے محبّت ہوگئی ہے . . . " " اسے اور سارہ سے محبّت" منظور کی طرف دیکھ کر میں نے بولا . . . ( کمینے، اپنی شکل دیکھی ہے ، کہاں وہ اور کہاں تو ) " اس کے پاس اس کا موبائل نمبر بھی ہے . . . " یہ سن کر مجھے جھٹکا لگا ، ویسے تو سارہ کا نمبر پتہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی ، اس کی کلاس میں جو بھی اس کے زیادہ قریب ہو اس سے سارہ کا نمبر لیا جا سکتا ہے . . . . لیکن مجھے جھٹکا اس لئے لگا کیوںکہ منو سارہ كے معاملے میں مجھ سے زیادہ سنجیدہ تھا . . . . میں اسے چھپکے سے گھورنے کا سوا اور کچھ نہیں کرسکتا تھا، وہی منو نے اس کا نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کرکے رکھا تھا . . . . . " اسے کال کرتا ہوں . . . " اظہر سے اس نے کہا اور اپنا موبائل نکال لیا . . . . میں نے اپنی اٹھارہ سالا زندگی میں بہت سے محبّت کرنے والے جوڑے دیکھے تھے ، لیکن اُن میں سے صرف ایک یا دو جوڑے ہی ایک دوسرے كے لیے پرفیکٹ تھے . . . . ورنہ ایک سے بڑھ کر ایک لنگور کو انگور لیکر گھومتے دیکھا ہے ، جسے دیکھ کر اکثر میرا کلیجہ جل اٹھتا ہے اور صرف اک جملہ منہ سے نکلتا ہے " ہم مر گئے ہے کیا ، جو اِس گانڈو كے ساتھ گھوم رہی ہو . . . . " اور اسی دَر سے کہی سارہ كے ساتھ یہ منو سیٹ نہ ہو جائے ، میں اپنے بستر سے اٹھا اور منظور كے ہاتھ سے اس کا موبائل چھین لیا . . . . " ابے یار اس نے تیرے موبائل نمبر کی رپورٹ پی ٹی اے والوں سے کر دی تو . . . . " اسے ڈراتے ہوئے میں نے بولا . . . . " کوئی بات نہیں سم میرے نام پر نہیں ہے . . ." " آج کل لوکیشن ٹریس ہو جاتی ہے ، اور ویسے بھی وہ کسی نہ کسی سے سیٹ ھوگی تو کیوں اپنا بیلنس فالتو میں برباد کر رہا ہے . . . . " " بَعْد کی بَعْد میں دیکھیں گے . . . " میرے ہاتھ سے موبائل لیکر اظہر نے موبائل منو کو تھما دیا اور بولا " تو کال کر . . . " " یہ کمینہ اظہر ، میرے ساتھ ہے یا اس کے ساتھ " " تو نے کچھ بولا کیا . . . " اظہر نے میری طرف دیکھ کر مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں، میں نے کچھ نہیں بولا . . . . میں کیوں بولوں گا کچھ . . . سارہ میری بیوی ہے کیا ، جو مجھے اس کی فکر ھوگی . . . . " میرا اتنا کہنا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی . . . " یار دروازہ کھول . . . " اظہر نے مجھ سے بولا ، . . . میں نے پورا دروازہ کھولا بھی نہیں تھا کہ اچانک ایک زوردار تھپڑ میرے گال اور کان پر پڑا ، میں ششدر رہ گیا اس وقت اور کان پر ہاتھ رکھا کر وہی کھڑا رہا . . . اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ روم كے اندر کون آیا تھا ، جس نے ابھی ابھی میرا گال لال کیا تھا یہ وہی شخص تھا جس سے میری ملاقات ہاسٹل كے باہر ہوئی تھی . . . . . " چل ہٹ سائڈ پر ہو . . . " میں اِس وقت دروازے اور روم كے درمیان میں کھڑا تھا ، اس لئے اس نے مجھے دھکا دیتے ہوئے کہا اور سیدھے جا کر میرے بستر پر بیٹھ گیا ، جو حالات میرے تھے ، وہی حالات منو اور اظہر کے بھی تھے ، وہ دونوں بستر سے کھڑے ہو گئے تھے . . . . . " نیچے بیٹھ وہی زمین پر . . . " میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا " شکل یاد ہے میری یا بھول گیا . . . " " یاد ہے . . جاری ہے . . . . " ہاں تو ہمیشہ یاد رکھنا ، یہ تیرے باپ کی شکل ہے . . . " اس نے جیسے ہی یہ بولا ، پورا جسم غصے سے لال پیلا ہوگیا ، اس وقت مجھے اپنے بھائی كے کہے ہوئے الفاظ یاد نہ آئے ہوتے تو قسم سے اس کمینے کو بہت مرتا . . . . . . " مجھ سے آنکھیں ملاۓ گا . . . " بستر پر لیٹتے ہوئے کمرے كے دیوار کی طرف اشارہ کیا " اس دیوار کو دیکھ رہا ہے . . . میں نے اسی دیوار پر تیرے جیسے ہی ایک چوتیے کا سَر پکڑ کر دے مارا تھا ، کمینہ چار مہینے کوما میں پڑا تھا . . . . پولیس بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ، کیونکہ اسے کوئی گواہ ہی نہیں ملا جو یہ بولتا کی وہ سب میں نے کیا تھا، اور سن ہم بھائی کی پارٹی کے لوگ ہے. . . . " " تو یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہو . . . . " خون میرا بھی گرم تھا ، اس لئے میں نے بول دیا . . . جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سیئنر جو کچھ دیر پہلے میرے بستر پر لیٹا ہوا تھا وہ اچانک سے اٹھ کھڑا ہوا اور غصے سے اپنے ڈانٹ پیستے ہوئے میرے پاس آیا . . . . " سوری سر ، اسے چھوڑ دو ، پاگل ہے وہ . . . " اظہر نے اس سیئنر کو پکڑا . . . . " سمجھا دے اِس لڑکے کو ورنہ یہی جان سے مار دوں گا . . . . " " ٹھیک ہے ، میں اسے سمجھا دوں گا . . . . " " جا ایک گلاس پانی لا . . . " اظہر وہاں سے پانی لینے چلا گیا اور ادھر کمرے میں خاموشی چھائی رہی ، اظہرکچھ دیر میں ہی واپس آ گیا ، لیکن اس کے ہاتھ خالی تھے . . . . " سر ، وہ وہاں کا گلاس شاید کسی لڑکے نے اپنے کمرے میں رکھا ہوا ہے ، میں بوتل میں آپ کے لیے پانی لاتا ہوں . . . . " اندر گھوستے ہی اظہر بولا اور بوتل لیکر وہاں سے پانی لینے چلا گیا . . . . . " تو ادھر آ . . . " اظہر كے جانے كے بَعْد اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور سگریٹ پینے كے لیے پوچھا . . . . " میں نہیں پیتا . . . " جلدی سے میں نے بنا ایک پل گنواے جواب دیا ، وہ سیئنر آگے کچھ بولتا اس سے پہلے ہی اظہر بھاگتے ہوئے بوتل میں پانی بھر کر لے آیا اور اسے دے دیا . . . . اس نے بوتل میں منہ لگا کر ایک گھوٹ پانی پیا اور پھر بوتل میری طرف بڑھا دی . . . " ریلکس ہو جا ، اور لے پانی پی . . . " " مجھے پیاس نہیں ہے . . . " خون میرا اب بھی گرم تھا . . . . " پی لے پانی ، کیونکہ اس کے بَعْد میں جو کرنے والا ہوں اس سے تیرا گلا سُوکھ جائیگا . . . " اس کی بات کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اپنے کاندھے اچکاتے ہوا بولا " تیری مرضی . . . . " اس نے اپنے جیب سے سگریٹ کی پیکٹ نکالی اور منظور کو اپنے پاس بلایا اور کمرے میں جلنے والے بلب کو بند کرنے كے لیے کہا . . . . " واپس آن کر جا کے . . . " اندھیرے میں دھواں اڑاتے ہوئے اس نے منو سے دوبارہ بلب کو آن کرنے كے لیے کہا اور جب منو نے دوبارہ بلب کو آن کر دیا تو وہ بولا . . . . " اب تو سو بار بلب کو آن کرنے كے بَعْد بستر پر آکر بیٹھ جانا اور پھر اُٹھ کر بلب کو اوف کر دینا . . . چل شروع ہو جا . . . . " منظور کی پہلے سے ہی سیٹی گم تھی ، وہ کیا بولتا . . . بنا کچھ بولے وہ اظہر كے بیڈ سے بورڈ تک دو سو چکر مارنے لگا . . . . . . " لے پی . . . " اون اوف ہوتے ہوئے بلب كے درمیان میں اس نے مجھے ایک سگریٹ دیا . . . . " میری عادت نہیں ہے . . . " " اس لیے تو پلا رہا ہو ، انجینئر صاحب . . . جب تک نشہ واشہ نہیں کروگے تو انجینئر کیسے بنو گے . . . . " مجبورً مجھے سگریٹ کو منہ سے لگانا پڑا ، بھائی كی طرف سے دی گئی نصیحت میں یہ بھی تھا کہ میں سگریٹ اور شراب سے دور رہو ، لیکن میں اس وقت یہ سب نہیں کرتا تو ان کے طرف سے دی گئی دوسری نصیحت ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لڑائی جھگڑا بھی مت کرنا ، وہ ٹوٹ جاتی . . . . . " دھواں اندر لے . . . منہ میں رکھ کر تو پہلی دوسری کلاس كے لڑکے بھی سگریٹ پی لیتے ہے . . . " میں نے ویسے ہی کیا ، سگریٹ كے دھویں کو اندر لیا . . . سگریٹ كے کش کو اندر کیا کھینچا ، پورا کا پورا کلیجہ جیسے باہر آ گیا ، اور میں کھاسنے لگا " ایک کش اور مار . . . " میں نے پھر کش اندر لیا اور نتیجہ وہی پہلے جیسے ہی رہا . . . " ایک کش اور . . . " تیسری بار ہمت تو نہیں ہو رہی تھی ، لیکن اس وقت کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں . . . منو اب بھی بلب کو آن اوف کرنے میں لگا ہوا تھا . . . . " تیرے کتنے رائونڈ ہوئے بے . . " " نوے . . . . " ہانپتے ہوئے منو نے جواب دیا ، " بیٹا ابھی تو آدھے بھی نہیں ہوئے ، . . . چل شروع ہو جا . . . " چوتھی بار بھی میں نے سگریٹ كے دھویں کو اپنے سینے میں گھسایا اور اِس بار کھاسنے كے ساتھ ساتھ میری آنکھوں سے آنسو بھی نکل گئے اور سَر بھی گھومنے لگا . . . . " آج كے لیے اتنا ہی کافی ہے ، کل پھر ملیں گے تب تک تنظیم میں آنے کا سوچ لینا. . . . " اس کا روم سے باہر جانا تھا کہ میں اور منو بستر پر لیٹ کر ہانپنے لگے . . . . . " گانڈ . . . . گانڈ . . . . " منو بس اتنا بول سکا اور حانپنے لگا ، " کیا گانڈ گانڈ کر رہا ہے . . . " " گانڈ مار لی کمینے نے ، چکر آ رہا ہے ، پانی . . . . پانی . . . " وہ پھر سے ہانپنے لگا . . . . " ادھر تو پورا سَر ہی گھوم رہا ہے . . . . " اپنا سَر پکڑ کر میں نے بولا . . . " سگریٹ کا اثر زیادہ دیر تک نہیں رہتا ، بے فکر ’ بے فکر رہ . . . " " گانڈ پھٹ گئی ہے ، تو جا جلدی سے پانی لا . . . " اظہر كے وہاں سے جانے كے بَعْد میں نے منو کی طرف رخ کیا ، وہ اپنا سَر چھت کی طرف کیے ہوئے ہانپ رہا تھا . . . . " کیوں بیٹا ، کیا حال ہے . . . مزہ آیا . . " " بہت مزہ آیا ، دوبارہ کرنے کا دل کر رہا ہے . . . . " " جب سے کالج میں آیا ہو ، بہن چود سب مار کر چلے جاتے ہے ، اب سحرش میڈم کو ہی لے لو ، آج لیب میں کمینی نے میرا ہاتھ اپنی پھدی سے ہی ٹچ کروا دیا . . . . " " کیا . . . . " اس نے جیسے ہی یہ سنا اس کی ساری تھکن دور ہوگئی اور وہ میرے پاس آ کر بولا " سحرش میم كے بہت چرچے ہے کالج میں ، ذرا سنبھل کر . . . ایک بار جس کو نظر میں رکھ لیتی ہے نہ ، اسے چود کر سوری اس سے چودوا کر ہی دم لیتی ہے . . . . کمینی کے چال چلن ٹھیک نہیں ہے . . . " " تجھے کیسے پتہ . . . " " میرا ایک دوست سیکنڈ ایئر میں ہے ، اسی نے بتایا سحرش میم كے چال چلن كے بارے میں ، اس نے یہ بھی بتایا کہ اسی وجہ سے اس کو اخری سال کالج سے نکالنے والے بھی تھے . . . لیکن پھر سحرش میڈم اور اس کے درمیان . . . . . لیکن تو فکر مت کر ، تجھے وہ چھوڑ دے گی . . . " " ایسے کیسے چھوڑ دے گی . . . " " تیرے میں وہ بات ہی نہیں ہے ، وہ انہی لڑکوں كے ساتھ سیٹنگ کرتی ہے جو ہینڈسم ہو . . . " " کمینہ خود تو باورچی لگتا ہے اور مجھے بول رہا ہے ، چل دفع ہو یہاں سے . . . " جاری ہے . . . . . اس وقت منو كے اوپر میرا پورا دماغ خراب ہو رہا تھا . . . کمینہ مجھے بول کیسے سکتا ہے کہ سحرش میڈم مجھ سے سیٹ نہیں ہوسکتی . . . . اظہر جب کافی دیر گزر جانے کے باوجود پانی لیکر نہیں آیا تو ہم دونوں بھی باہر نکلے ، میں نے یہ سوچا کہ شاید کہ ہاسٹل میں ہمارے روم كے باہر باقی لڑکے گروپ کی شکل میں موجود ہوں گیں اور ہم سے پوچھے گے کہ بھائی لوگوں نے ہماری تنظیم سازی کیسے کی. . . لیکن اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا ، اور جب آس پاس كے روم سے جانی پہچانی آوازیں جیسے کہ تھپڑ ، گلیاں وغیرہ وغیرہ . . . آئی تو میں سمجھ گیا کہ یہ سب برداشت کرنے والا میں اکیلا نہیں ہوں . . . . اور سب سے زیادہ سکون مجھے اِس بات سے مل رہا تھا کہ اب کوئی مجھے یہ نہیں کہے گا کہ میں ڈرپوک ہوں ، کیوںکہ اس وقت تو سبھی ڈرپوک تھے . . . . . . " کہاں مر گیا تھا . . . " واٹر کولر کی طرف جاتے ہوئے ہمیں اظہر ملا لیکن اس کے ہاتھ میں پانی کا بوتل نہیں تھی ، اور وہ ہانپ بھی رہا تھا . . . . " کچھ سینیر نے پکڑ لیا تھا . . . " اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہانپتے ہوئے وہ بولا "جا میرے لیے پانی لیکر آ . . . . " " بوتل تو آپ لے گئے تھے . . . " " واٹر کولر كے پاس جو گلاس رکھا ھوگا ، اسی میں لے آ . . . . " اور لڑکھڑاتے ہوئے اظہر روم کی طرف نکل گیا . . . . . میری اور منو کی حالت تو پھر بھی ٹھیک تھی ، لیکن اظہر بستر پر لیٹا الٹی سانسیں بھر رہا تھا . . . . . " یار گرلز ہاسٹل میں کیسے تنظیم سازی کے راضی ھوگی لڑکیاں. . . " منو ویسے شکل سے تو حرامی دکھتا تھا ، لیکن اندازیں بہت اچھے لگاتا تھا ، . . . . . " میرے خیال سے سینیر گرلز ، جونئیر گرلز کو اپنے بوائے فرینڈ دیکھا کر اپنی چوت چٹواتی ہوگی . . . " منو كے ان سنہری الفاظوں نے میرا اور اظہر کا روم روم کھڑا کر دیا . . . . . " پاگل ہے کیا ، ایسا تھوڑی ہوتا ہے . . . " میں نے ایسا اس لئے کہا تاکہ منو اپنے شوخ دماغ سے اور بھی ایسے خیالات کا اظہار کرے ، جس سے ہمارا روم روم مزید نکھر جائے . . . . . " یار کسی پرائیویٹ کالج میں تو سینیر لڑکیاں ، بوائے فرینڈ دیکھا رہی تھی . . . . لیکن پھر پولیس کیس بن گیا . . " فرسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہونے كے ناتے مجھے ویسے اچھی باتیں کرنی چاہئے تھی ، لیکن میرا ٹھرکی دماغ اس وقت اپنے عروج پر تھا ، . . . " جس کالج میں یہ ہوا ، اس وقت وہاں فرسٹ ایئر كے لڑکے بھی موجود تھے کیا . . . " میں نے سوال کیا اور بےصبری سے جواب کا انتظار کرنے لگا . . . . " تیرا مطلب ، جب فرسٹ ایئر کی لڑکیوں کو بوائے فرینڈ دیکھائے جا رہے تھے تب . . . " " ہاں . . . ہاں ، اسی وقت . . . " " پتہ نہیں " " کمینے نے یقین بھی کر دیا " " میں تو گرلز ہاسٹل جاؤں گا . . . " اظہر کی سانس سیدھی چلنے لگی تو وہ بھی ہماری باتوں میں شامل ہوتے ہوئے بولا . . . . " کیا کرے گا وہاں جا کر سینیرز کی پھدی چاٹے گا . . . . " " نہیں یار، سننے میں آیا ہے کی کچھ لڑکے ہمیشہ گرلز ہاسٹل میں اپنی سیٹنگ سے ملنے جلنے جاتے رہتے ہے . . . . تو کیوں نہ ہم لوگ بھی چلے . . ارمان تو کیا بولتا ہے . . . " " کالج میں جا کر پڑھائی کرنی بے ، چھانے بازی میں مصروف مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " "جی بھائی . . . " " یار کدھر مر گیا . . . " میرے کاندھوں کو زور سے ہلاتے ہوئے اظہر نے مجھ سے دوبارہ پوچھا . . . جس کی وجہ سے میں نے فوراً نہ کر دی اور پلان یہ بنا کہ موقع ملتے ہی اظہر اور منو گرلز ہاسٹل میں جائینگے اور میں یہی روم میں پڑا پڑا مکھیاں ماروں گا . . . . . اگلے دن ہم پھر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر جا رہے تھے ، لیکن آج منو بھی ہمارے ساتھ تھا ، وہ 5 چڑیلیں آج بھی گیٹ كے باہر کھڑی تھی . . . . . " مر گئے . . . " " مرد بن یار ، ان لڑکیوں سے کیا ڈرتا ہے . . . " منو سینہ تان كے آگے چلتا ہوا بولا . . . " اوئے چوتیے . . . " ان پانچ چڑیلوں میں سے ایک نے منو کو آواز ڈی " ادھر آ چھوٹی دنیا . . . " پہلے پہل تو منظور کو یقین نہیں ہوا اور وہ وہی کھڑا ہوکر پیچھے کی طرف دیکھ کر یقین کرنے لگا کہ انہوں نے اسے ہی چوتیا اور چھوٹی دنیا کہا . . . لیکن جب اُن میں سے ایک نے دوبارہ چھوٹی دنیا کہا تو منو کو یقین ہوگیا کہ وہ لڑکیاں اسے ہی بلا رہی ہے . . . . . " کیوں تجھے سنائی نہیں دیتا . . . " منو کی آنکھوں میں لگے چشمے کو نکال کر اُن میں سے ایک نے کہا، آج وہاں ان پانچ لڑکیوں کے ساتھ سات سال سے انجینیئرنگ کرنے والے کاشف کی بچی بھی تھی . . . . " ایک مشرقی لڑکی کو اِس طرح سے بات کرنا زیب نہیں دیتا . . . . " منو نے بری شکل بنا کر کہا اور یہ سنتے ہی وہ پانچوں لڑکیاں ہنس پڑی ہنسی تو مجھے اور اظہر کو بھی آئی لیکن ہم دونوں نے جیسے تیسے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا . . . . . " میرا نام سمیرہ ہے . . . " کاشف کی بچی نے اپنا ہاتھ منو کی طرف بھراتے ہوئے مسکرا کر کہا ، . . . " مجھے منو کہتے ہے . . . " سمیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر منو نے جواب دیا " سمیرہ ، وہ دونوں میرے دوست ہے . . . اظہر اور ارمان . . . " سمیرہ نے پہلے اظہر کو دیکھا اور پھر اس کی نظر مجھ سے ملی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی " یہ تو وہی چوتیا ہے ، جس کے منہ پر میں نے سموسہ تھوپا تھا . . . . " " تیری ماں کی " میں نے دل میں ایک بار پھر اسے گالی دی . . . . منو نے ان لڑکیوں سے کچھ دیر اور بات کی اور جس انداز سے وہ پانچوں لڑکیاں منو سے بات کر رہی تھی اس سے میرے دِل میں ایک دَر پیدا ہو گیا کہ کہی یہ سارہ کو سیٹ نہ کر لے . . . . . " وہ آئی ہے کیا . . . " اپنی کلاس میں گھسنے سے پہلے میں سارہ کی کلاس میں داخل ہوا ، اور پچھلے کچھ دنوں کی طرح آج بھی اظہر كے دوست نے نہ میں سَر ہلا دیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ میں وہاں سے اپنے کلاس میں آیا ، ویسے آج کا فرسٹ پیریڈ تو راحیلہ میڈم کا تھا ، لیکن اس کی جگه سحرش میڈم آئی تھی اور میں سمجھ گیا تھا کہ اِس پورے پیریڈ کو اپنا سَر جھکا کر گزارنا ہے . . . . جاری ہے . . . . ارمان ، اسٹینڈ اپ . . . . " سحرش میڈم نے مجھے آواز دی ، لیکن کیوں . . . نہ تو میں نے پوری کلاس میں کچھ بولا اور نہ ہی کسی سے بات کی ، . . . اس کلاس میں اس وقت سب سے خاموش بچہ میں ہی تھا ، پھر مجھے کیوں کھڑا کیا " جے وی ایم کیا ہے ؟ " اپنی جگہ پر میں ٹھیک طرح سے کھڑا بھی نہیں ہو سکا تھا کہ انہوں نے سوال کر دیا. . . . سحرش میڈم كے اِس سوال کا جواب دینا تو دور کی بات تھی میں نے تو یہ لفظ ہی پہلی بار سنا تھا . . . . . " چُپ کیوں ہو جواب بتاؤ ، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو بتایا تھا . . . . " " میم ، وہ میں بھول گیا . . . . ایک بار دوبارہ بتا دیں . . . " کچھ دیر تک سحرش میڈم کو دیکھا ، پھر سامنے کی دیوار کو دیکھا ، اور جب کچھ نہیں سوجھا تو کچھ دیر اِس انتظار میں چپ چاپ کھڑا رہا کہ شاید میرے دائیں بائیں بیٹھے شوکت اور اظہر میں سے کوئی دھیرے سے بول دے ، . . . لیکن جب کوئی سہارا نہیں ملا تو سحرش میڈم كے آگے میں نے سرنڈر کر دیا . . . . . " جاوا ورچل مشین . . . . اب یاد رکھنا . . . " مسکراتے ہوے انہوں نے کہا ، مجھے جواب انہوں اِس اندازِ میں بتایا جیسے کہ میٹرکس مووی انہوں نے بنائی ہو . . . . " ابھی بیٹھ جاؤ . . . " غرور بھری آواز میں وہ بولی . . . اس کے بَعْد انہوں نے اپنا لیکچر دوبارہ شروع کر دیا ، آدھی کلاس غور سے سن رہی رہی تھی اور آدھی کلاس سحرش میڈم کی طرف دیکھ کر اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے . . . . " ابھی میں کچھ معمولی سے سوالات کرنے جا رہی ہوں . . . . " " ارمان . . . . " " یس میم . . . " ایک بار پھر قربانی کا بکرا میں ہی بنا . . . " کچھ نارمل سوالات پُوچھ رہی ہوں تم سے ، امید ہے کہ مجھے جواب ملیں گے . . . " " میں کوشش کروں گا . . . " " ونڈوز ایکس پی کیا ہے . . . " " مطلب . . . " " مطلب کی تمہارے خیال سے ونڈوز ایکس پی کیا ہے ؟ " " وہ تو اوپریٹنگ سسٹم ہے ، ll بس اتنا ہی معلوم ہے . . . " " سہی ، اچھا یہ بتاؤ ، کمپیوٹر یوز کرتے ہو . . . " سامنے کی کرسی پر اپنی گول مٹول گانڈ کو ٹکا کر اگلا سوال کیا . . . " بلکل کرتا ہوں . . . " " تو بتاؤ کہ کسی بھی ڈاکومینٹ کو پرنٹ کرنے كے لیے شارٹ کٹ طریقہ کیا ہے . . . . " " کنٹرول + پی . . . . " ادھر ایک طرف میں نے جواب دیا اور وہی دوسری طرف اپنے بڑے بھائی کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا ، کیونکہ انہی كے بدولت ہی میں نے اِس سوال کا جواب دیا تھا . . . . . سحرش میڈم كے دو سوالوں کا جواب کیا دیا ، انہوں نے مجھے کمپیوٹر کی دُنیا کا گاڈ فادر سمجھ لیا اور پھر ایک كے بَعْد ایک سوال پوچھتی گئی ، اور میں ہر بار یہی بولتا " سوری میم . . . . " سی ایس سبجیکٹ کا کوئی تھیوری ایگزام نہیں تھا ، یہ سبجیکٹ مکمل پریکٹیکل بیسڈ تھا اور جس سبجیکٹ کا صرف پریکٹیکل ہو تو اس کا پریکٹیکل ایگزام والے دن كے علاوہ کسی اور دن پڑھنا ہماری نظر میں گناہ تھا ، اور یہ گناہ میں کیسے کرتا ، اس لیے سحرش میڈم كے باقی سوالات پر صرف دو لفظ منہ سے نکلے " سوری میم . . . " " پڑھنا سٹارٹ کر دو ، ورنہ فیل کر دوں گی . . . بیٹھ جاؤ . . . " انہوں نے فیل کرنے کی دھمکی دے کر بیٹھ جانے کا کیا بولا ، میرا دل ہی بیٹھ گیا ، اور میں چُپ چاپ کسی لوٹے پیٹے انسان کی طرح بیٹھ گیا . . . . . " ارمان ، سحرش میڈم پر ٹرائی کر ، یہ سیٹ ہوجائے گی . . . " سحرش میڈم كے کلاس سے جانے كے بَعْد اظہر نے بولا " اسے سیٹ کر کیا کروں گا ، کمینی چودتے وقت آئی ٹی پی کا فل فوم پوچھ رہی ہوگی " " یار اس سے اچھا مال نہیں ملے گا ، " " سارہ ڈارلنگ ہے نہ . . . . " " اپنے ارمانوں پر قابو رکھو بیٹا ارمان ، ورنہ . . . . . " " ورنہ . . . . " " یہ پھر آ گئی . . . " اظہر كا اِس طرح سے اچانک ٹاپک تبدیل کرنے سے میں چونکا " کیا ہوا . . . " " یہ صائمہ ، پھیر آ گئی سامنے . . . " میں نے سامنے کی طرف نظر گھمائی تو دیکھا کہ سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی ، جو کالج كے پہلے دن ہی نخرے دکھاتی ہوئی انٹرودکشن کلاس چلا رہی تھی ، اظہر ویسے تو کلاس کی کسی لڑکی کو گالی نہیں دیتا تھا ، لیکن صائمہ کو دیکھتے ہی اس کا دماغ گرم ہو جاتا اور اس کے منہ سے صائمہ كے لیے پیار بھرے الفاظ نکل جاتے . . . . . . " اتنے دن ہوگئے ہے اور ہم سب ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے . . . . " منہ بناتے ہوئے وہ بولی . . . . صائمہ نہ زیادہ موٹی تھی اور نہ ہی زیادہ پتلی . . . لیکن اس کا چہرہ اور اس کی عادتیں ڈھنگ کی ہوتی تو شاید ہم کچھ سوچتے. . . . پیریڈ خالی جا رہا تھا اور انٹرودکشن کا دور آگے بڑھتے ہوئے اظہر تک آیا . . . . " اب تمہاری باری . . . . " اظہر کی طرف انگلی دکھاتے ہوئے صائمہ بولی . . . . اپنے اظہر بھائی جوش میں آ گئے اور سینہ چوڑا کرتے ہوے کھڑے ہو کر بولے کہ جس کو بھی میرے بارے میں جاننا ہے وہ میں آکر مجھ سے ڈابے پر مل لے . . . . " کیا . . . " ناک چڑاتے ہوئے صائمہ بولی ، . . . " حویلی میں ملنا پھر بتاؤں گا ، "کیا . . . . " " یہ تو بہت بدتمیز ہے . . . " اِس وقت میری دونوں آنکھیں دونوں طرف دیکھ رہی تھی ، میں کبھی صائمہ کا چہرہ دیکھتا تو کبھی اظہر کا اور مجھے نہ جانے کیا سوجا میں نے اظہر كے کان میں دھیرے سے بولا . . . " تیرے لیے پرفیکٹ ہے . . . " " زندگی بھر مٹھ مار لوں گا ، لیکن اسے نہیں چودوں گا . . . . " اظہر تو صائمہ کو دھمکی دے کر چُپ ہوگیا ، جاری ہے . . . . لیکن اب اگلا نمبر میرا تھا ، اس وقت مجھے بھی کھڑے ہو کر اظہر کی طرح بول دینا چاہئیے تھا کہ " جس کو بھی میرے بارے میں جاننا ہے وہ حویلی میں آ کر ملے ، . . . . " لیکن مجھ میں اس وقت اتنی ہمت نہیں تھی ، سب کے سامنے جانے سے دِل گھبرا رہا تھا ، لیکن پھر بھی میں اٹھا اور جیسے تیسے میرے قدم آگے بڑھے ، میں اندر ہی اندر کانپنے لگا . . . . " ہیلو ، دوستو . . . میں ’ میں ارمان . . . " ایک کمزور سی آواز میرے منہ سے نکلی . . . جسے سامنے والے بینچ پر بیٹھے اسٹوڈنٹ ہی سن پائے ہوں گے . . . . . " پلیز زور سے بولو . . . . " صائمہ پھر بولی . . . . اس وقت صائمہ کا چہرہ دیکھ کر دل کر رہا تھا کہ اپنا جوتا اتار کر سیدھے اس کے منہ پہ دے ماروں ، . . . اور ٹھیک اسی وقت سول سبجیکٹ والی میم اندر داخل ہوئی اور آتے ہی مجھے پر برسنا شروع ہوگئی . . . . " یہاں کیا کر رہے ہو کھڑے ہو کر . . . . " " و . . . و . . . وہ وہ کچھ نہیں ، بس اپنا تعارف کروا رہا تھا اور کچھ نہیں . . . ." " جاؤ ، اپنی جگہ پر جا کر بیٹھو . . . " " دیکھ یار وہ سلطان میرانی پورے کوری ڈور میں گھوم رہا ہے . . . " اپنے رجسٹر میں لکھتے ہوے اظہر نے بتایا . . . " یار فورمل ڈریس تو میں نے نہیں پہنا ہے . . . کمینہ پھر مسلہ کرے گا " " ایک پلان ہے . . . . " سامنے بورڈ پر جو کچھ لکھا ہوا تھا اسے چھاپتے ہوئے اظہر بولا " بریک ٹائم میں کالج سے باہر چلے تو بچا جا سکتا ہے ، اور بریک جیسے ہی ختم ھوگا وآپس آ جائینگے . . . . " " بہترین آئیڈیا ہے . . . . " اسی دوران سول والی میم بورڈ پر کچھ لکھنے كے لیے گھومی ، اور ان کی بڑی بڑی گانڈ ہمارے سامنے تھی . . . . ویسے تو سول والی میم کی عمر 45 سال سے زیادہ ہی تھی اور انہیں سامنے سے دیکھ کر کوئی غلط خیالات اپنے دل میں نہ لائے ، لیکن پیچھے سے کوئی انہیں دیکھے تو پھر . . . . . . . . " اوئے ، کمینے اس کو تو چھوڑ دے " میری نظر پوری طرح سے سول والی میم كے گانڈ پر جمی ہوئی تھی . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے ایسے ری ایکٹ کرنے لگا جیسے میں نے کچھ کیا ہی نہ ہو ، لیکن اظہر مجھ سے زیادہ کمینہ تھا " یار اسے کیوں گھور رہا ہے ، اسے تو سب لوگ ممی بولتے ہے . . . . " " ممی " " شوکت بول رہا تھا کہ یہ بہت پیار سے پڑھاتی ہے . . . مطلب کے ایک سوال کو چاھے جتنی بار بھی پُوچھ لو ، ہمیشہ جواب ہی دیتی ہے . . . پروفیسر ہے یہ یہاں لیکن اِس بات کا اسے بلکل بھی غرور نہیں ہے . . . " اس پوری کلاس میں میں نے اور اظہر نے بہت باتیں اور مستی کی ، سول والی میم نے ہمیں کئی بار بات کرتے ہوئے اور ہستے ہوئے بھی دیکھا ، لیکن وہ ہر بار اگنور کر دیتی . . . . سول والی میم سَچ میں ممی تھی پچھلے کچھ دنوں کی طرح میں آج بھی بریک ٹائم میں سارہ كی کلاس میں داخل ہوا اِس آس میں کہ شاید وہ لیٹ آئی ھوگی ، لیکن جواب اک بار پھر نہ میں سَر ہلا کر اظہر كے دوست نے دیا . . . . اس کے بعد میں اور اظہر بائیک اسٹینڈ پر آئے ، میں نے شوکت سے بائیک کی چابی مانگ لی تھی ، بائیک اسٹینڈ پر جہاں ایک طرف اظہر، شوکت کی بائیک نکال رہا تھا وہی میں دوسری طرف اس جگہ کو دیکھ رہا تھا ، جہاں کچھ دن پہلے میں نے سارہ کو پہلی بار دیکھا تھا . . . . اس کی کار آج وہاں نہیں کھڑی تھی اور نہ ہی سارہ اس دن کی طرح وہاں موجود تھی ، لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں مجھے محبت سی ہو گئی تھی اس جگہ سے ، میں اس طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اظہر نے ہارن مارا . . . . " اوئے ادھر پیشاب مت کر ، باہر کر لینا . . . . " " یار میں . . . . " آگے کیا بولوں کچھ سمجھ نہیں آیا اس لئے میں اتنا ہی بول کر چپ چاپ بائیک پر بیٹھ گیا . . . . " دو پلیٹ سموسہ دینا چچا. . . " کالج كے مین بِلڈنگ سے دو کلو میٹر دور کالج کا مین گیٹ تھا اور اسی كے آس پاس بنی دوکانوں میں سے ایک دکان پر بیٹھ کر میں نے دو پلیٹ سموسے کا آرڈر دیا . . . . " ایک پلیٹ بنا كر دینا . . . مطلب نمکین ، سلاد ، تھیکی میٹھی چٹنی سب ڈال دینا . . . . اور ہاں تھوڑا دہی بھی ڈال دینا . . . " اظہر نے اپنی فرمائش جھاڑ دی ، جسے سن کر میں نے کہا . . . " جب اتنا کچھ ڈلوا رہا ہے تو تھوڑی زمین کی مٹی بھی ڈلوا لے. . . " " وہ تیرے لیے چھوڑی ہے . . . . " " تھینکس . . . " پیٹ پوجا کرنے كے بعد اظہر نے اپنے جیب سے سو کا نوٹ نکال کر ٹیبل پر ایسے پھینکا جیسے تاش کھیلنے والا حکم کا یکا پھینکتا ہے . . . . . " میں آج بھی پھینکے ہوئے پیسے نہیں اٹھاتا . . . . " " ٹھیک ہے . . . " اس سو كے نوٹ کو اٹھاتے ہوئے اظہر نے کہا " تو ہی دے دے میرا بِل . . . " " نہیں بے میں تو ایسے ہی ڈائیلوگ مار رہا تھا . . . . " اور میں نے اس کے ہاتھ سے سو کا نوٹ چھین لیا . . . . . بریک ختم ہونے میں جب کچھ دیر ہی رہ گئی تھی تب میں اور اظہر کلاس کی طرف پہنچے ، ہم دونوں اس وقت خود کو چالاک سمجھ کر بہت خوش ہو رہے تھے کہ بریک ٹائم میں ہونے والی تنظیم سازی سے ہم دونوں بچ گئے ، لیکن ہماری چالاکی اس وقت دم توڑ گئی جب بائیک اسٹینڈ پر سینیرز نے ہمیں پکڑ لیا . . . . . " ارمان اور اظہر . . . . " سینیرز كے پوچھنے پر میں نے ہم دونوں کا نام بتایا . . . . . " تیرا کیا نام ہے . . . " " ارمان . . . . " ابھی میں نے اپنا نام ہی بتایا تھا کہ ہاسٹل والا وہ سینیر سلطان میرانی وہاں آ دھمکا جس نے کل سے مجھے پریشان کر رکھا تھا ، اس نے پہلے اپنے دوستو سے ہاتھ ملایا اور پھر مجھے دیکھ کر اپنے دوستو سے بولا . . . " اور جوان کیا حال چل ہے . . . " " سب ٹھیک . . . . " میرا اتنا کہنا تھا کہ اس نے کس کر ایک تھپڑ مجھے مار دیا ، اور اس کے باقی دوست ھسنے لگے . . . . . " کتنی بار سمجھایا کی آنکھیں مت ملایا کر . . . لیکن تیرے دماغ میں بات گھوستی ہی نہیں . . . . " خون کا گھوٹ پی کر میں نے اپنی آنکھیں نیچے کی ، اور جب سارے سینیرز نے مجھے گھیر لیا تو میں سمجھ گیا کہ میرے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے کچھ بہت ہی برا . . . . جس کی میں نے توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . ملک پاکستان کے قانون میں صاف الفاظ میں لکھا ہوا تھا کہ کسی طالب علم کو تنظیم سازی کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی وہ کسی طالب علم کو زبردستی تنظیم میں شامل کر سکتا ہے لیکن یہاں بائیک اسٹینڈ پر سب کچھ غلط ہو رہا تھا . . . . . مجھ سے جانے کیا دشمنی تھی کہ وہ ہاسٹل والا سینیر ہاتھ دھو كے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اس وقت میں وہاں بلکل اکیلا تھا . . . . کچھ دیر پہلے اظہر نے چھوڑوانے کی کوشش کی تھی ، لیکن جب اظہر کی روک ٹوک سے سینیر زیادہ پریشان ہوگئے تو انہوں نے ایک تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا اور اسے وہاں سے چلتا کیا اور مجھے اپنی بائیک پر بیٹھا کر وہاں سے دور کالج کے گراؤنڈ پر لے آئے . . . . . " بائیک سے اُترے گا ، یا اتار کر پھینکوں . . . " اس وقت مجھے لگا کہ کاش میرے پاس کوئی سپر پاور یا کچھ ایسا ھونا چاہئے تھا جسے میں ان کی گانڈ پھاڑ سکتا . . . . لیکن میں ایک نارمل اسٹوڈنٹ تھا جس نے پہلے سال ہی اتنا شاندار کالج پایا تھا . . . . . . . " مجھے یہاں کیوں لائے ہو سر . . . " بائیک سے اتر کر میں بولا . . . . میرے سوال کرنے سے وہ اور بھی بھڑک جائینگے یہ میں جانتا تھا ، لیکن وہاں چُپ کھڑا بھی تو نہیں ہو سکتا تھا . . . . اس لئے میں نے ان سے یہاں لانے کا مقصد پوچھا اور جیسے کہ میرا یقین تھا مجھے جواب میں ایک تھپڑ ملا اور ساتھ ہی ساتھ میرے پیٹھ پر ایک لات اور نتیجہ یہ ہوا کہ میں سیدھے گراؤنڈ پر بکھر گیا . . . . . " ایسا تو سب کے ساتھ ہوتا ھوگا . . . " یہ سوچتے ہوئے میں اٹھا ، اور اپنے چہرے کی دھول صاف کرنے لگا . . گراؤنڈ کالج سے تھوڑی دور تھا اور جب کالج لگا ہو تو اُدھر ایک دو اسٹوڈنٹ ہی آتے تھے ، لیکن اس دن جب میں اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دھول صاف کر رہا تھا تو مجھے دو تین بائیکس کی آوازیں سنائی دی جو وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی اور پھر وہ بائیک گراؤنڈ میں آ کر کھڑی ہو گئی ، ان بائیکس پر لڑکیاں بھی تھی اور وہ لڑکیاں وہی چڑیل تھی جو اکثر کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑی ہو کر گلیاں بکتی تھی . . . . . " سات سال سے انجینئرنگ کرنے والے اس گدھے کو بھی بلا لو، بس اسی کی کمی ہے . . . . " یہ میں نے خود سے کہا . . . . ایک نارمل پڑھنے والا اسٹوڈنٹ جب ایسی سچویشن میں پھنستا ہے تو وہ اکثر گھبرایا ہوا ہوتا ہے اور کچھ کا تو پیشاب تک نکل جاتا ہے ، لیکن میں تھوڑا عجیب ردعمل دے رہا تھا اور اندر ہی اندر مذاق کرے جا رہا تھا . . . . . . " یہ تو وہی کینٹین والا ہے . . " ایک اور بائیک آکر وہاں کھڑی ہوگئی اور اس بائیک پر وہی 7 سال سے انجینئرنگ کرنے والا کاشف سوار تھا . . . . . کاشف بائیک سے اترا تو دوسرے سینیر نے اسے ایک سگریٹ دی اور سر کہہ کر اسے سلام بھی کیا . . . . . . . " گڈ آفٹر نون سر . . . " اِرادَہ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی میں نے کاشف سے بولا ، کیا پتہ کمینہ خوش ہو جائے اور مجھے بچا لے . . . . " یہاں کیوں بلایا چھوٹے . . . " اسی ہاسٹل والے سینیر سے کاشف نے پوچھا ، جو مجھ سے نہ جانے کس جنم کا بدلہ لے رہا تھا . . . . . " یہ وہی لڑکا ہے سر ، جو بہت اکڑ رہا تھا . . . آج پکڑ میں آیا ہے . . . . " " ادھر آ . . . " کاشف نے اپنی دونوں انگلیوں سے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا . . . " نام کیا ہے . . . " " ارمان . . . . . فرسٹ ایئر . . . . سبجیکٹ میکنیکل . . . . . " میں نے سب کچھ ایک بار میں ہی بتا دیا کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ اس کا اگلا سوال یہی ھوگا . . . . " یہ تو بڑا سمارٹ بندہ ہے چھوٹے . . . . " " کچھ نہیں سر ، آپ دیکھو ابھی اس کی اسمارٹنیس نکالتا ہوں . . . . " پھر اس چھوٹو نے مجھے وہی بیٹھنے كے لیے کہا . . . . " اٹھ . . . . " جب میں بیٹھا تب اس نے کہا . . . میں کھڑا ہو گیا تو اس نے پھر بیٹھ بولا . . . . پوری عزت کا جنازہ نکال دیا ، وہ سب سینیر لڑکیاں اپنا پیٹ پکڑ پکڑ کر قہقے لگا رہی تھی اور ادھر اٹھاک بیٹھک کر کے میری سانسیں پھول رہی تھی . . . . . " سب سے بڑا چوتیا ہے یہ . . . . میں نے آج تک اسے بڑا بیوقوف نہیں دیکھا . . ." سمیرہ نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ، میرا پورا جسم اس وقت پسینے سے بھرا پڑا تھا ، ٹانگیں دَرْد کر رہی تھی . . . . اور اسی دوران وہ گھڑی بھی آئی جب میں بلکل بیٹھا رہ گیا . . . . دوبارہ اٹھنے کی ہمت ہی نہیں بچی تھی . . . . " اٹھ . . . . . ، " کاشف نے سمیرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اپنے جوتے سے وہاں دھول کو میرے چہرے پر اڑاتا ہوا بولا . . . . " اب . . . . ہمت . . . . . . نہیں ہے . . " زور زور سے سانسیں لیتے ہوئے میں نے جواب دیا اور ایک نظارہ دیکھا کہ کاشف اور سمیرہ كے ہونٹ ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے تھے . . . . . " دیکھو سر ، یہ نہیں اٹھ رہا . . . " " اٹھ . . . " کاشف غصے سے بولا " اٹھ جا ورنہ ننگا کرکے بھاگواؤں گا. . . . " " ہاتھ لگا كے دیکھ تیری ماں چود دوں گا. . . " غصے میں آ کر میں نے بول تو دیا ، لیکن اگلے ہی پل جب مجھے خیال آیا کہ میں نے کیا بولا ہے تو میں کچھ دیر كے لیے سن ہوگیا اور سمجھ گیا کہ میری زندگی کا سب سے برا دن آج کا ہونے والا ہے . . . . . " بیلٹ نکل ، اس کو اس کی اوقات دکھاتا ہو . . . " سمیرہ کو پیچھے کرکے کاشف میرے پاس آیا اور اپنے بڑے بڑے مضبوط ہاتھوں سے میرے گالوں کو پکڑ کر دباتے ہوئے اپنے دوستو سے بولا " بیلٹ دو . . . " " سر ، چھوڑ دو اسے . . . . مر جائیگا یہ . . . " " مرنے دے " " ارے سر چھوڑ دو . . . " باقی سینیرز نے کاشف کو مجھ سے دور کیا اور پھر میرے پاس آئے . . . " چل پُش اپ کر . . . " " مجھ سے نہیں ہو سکے گے . . . " " تیرا باپ بھی کرے گا ، کاشف کی آواز آئی ، ان لوگوں نے معلوم نہیں کیا پلان بنایا تھا کہ سبھی نے مجھے گھیر لیا اور پھر پُش اپ کرنے كے لیے کہنے لگے . . . . . " ایک بات اپنے دماغ میں ڈال دے ، تو ذرا بھی روکا تو وہی کھینچ کر ایک ایک لات سب ماریںگے . . . چل اب شروع ہو جا . . . . " وہ لوگ حد پار کر رہے تھے اور میں اس وقت یہی سوچ رہا تھا کہ کیا میں کل کا سورج دیکھ پاؤںگا ؟ اور میں کل کا سورج دکھوں گا بھی تو کس حال میں ؟ اس وقت مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کل میں کالج میں رہوں گا یا کسی اسپتال میں اپنے پورے جسم پر پٹی بندوا کر پڑا رہوں گا ؟ میں نے پُش اپ کرنا شروع کر دیے لیکن اسی وقت کسی نے میرے پینٹ کا بیلٹ اتارنے کی کوشش کی اور میں وہی روک گیا اور خود کو زمین سے لپٹا دیا. . . . " یہ آپ لوگ . . . . " میں کہہ بھی نہیں پایا تھا کہ میری کمر پر کس کر کئی لاتیں ایک ساتھ پڑی ، پورا جسم دَرْد سے کانپ اٹھا اور آخر میں میرے آنکھ سے آنسو نکالنے لگے . . . . دھول مٹی میرے پورے جسم سے چپکی ہوئی تھی ، . . . جب لڑکوں كی لاتوں کی بارش تھمی تو ان لڑکیوں نے اپنی نوک والی سینڈل سے میری کمر پر دستک دی اور وہ وقت ایسا تھا جسے میں آج بھی نہیں بھلا سکتا . . . . اس دن نہ جانے کتنے دنوں بَعْد میں رویا تھا . . . . . . . . " چل پھر شروع ہو جا اور یاد رکھنا ، اِس بار مت روکنا . . . . " میں نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ زمین سے لگاۓ اور پھر پُش اپ مارنے لگا ، اِس بار ایک لڑکے نے اپنے ہاتھ سے میرے پینٹ میں لگے بیلٹ کو نکالا اور پینٹ کا بٹن کھول دیا . . . . . لیکن میں نہیں روکا کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ روکنے کا مطلب پھر سے وہی مار كھانا . . . . پورا جسم سے بہتے ہوے پسینے سے زمین پر میری چھاپ بنی ہوئی تھی . . . . . جب میں پُش اپ کر رہا تھا تو اسی وقت سمیرہ نے میری پینٹ کو نیچے کھسکا دیا اور کھلکھلا كے ہنسنے لگی . . . . . " روکنا مت بے . . . " اس کے بَعْد انہوں نے میرے کمر سے نیچے كے سارے کپڑے اتار دیئے اور میں تھک ہار کر وہی لیٹ کر رونے لگا . . . . وہ سب بہت دیر تک وہی کھڑے ہنستے رہے ، مجھے گلیاں دیتے رہے اور پھر جب ان کا دل بھر گیا تو وہ وہاں سے چلے گئے . . . . . . . . یہ سب کالج كے اندر ہوتا تو شاید آج وہ سب جیل میں ہوتے ، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا . . . . اور کالج كے باہر جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ داری کالج کی نہیں ہوتی . . . . میں گراؤنڈ سے اُٹھ کر اپنے ہاسٹل کی طرف چلا ، اس وقت میں اندر سے ٹوٹ چکا تھا . . . روتے روتے آنسو ختم ہو گئے تھے ، آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھی . . . . . گراؤنڈ سے نکال کر میں سیدھے ہاسٹل کی طرف بڑھا ، روم کا دروازہ پہلے سے ہی آدھا کھلا ہوا تھا ، جسے پورا کھول کر میں اندر داخل ہوا . . . . " کیا ہوا . . . . " گھبرائی ہوئی آواز میں اظہر نے پوچھا لیکن میں نے کچھ نہیں بولا یا پھر کہے کہ مجھ میں کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں تھی ، اس وقت میں کچھ بولتا تو یقینً میں رو جاتا . . . اس لئے میں اسی حالت میں سیدھے جا کر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لی . . . . پورا جسم درد اور ان لڑکیوں كے سینڈل كے زخموں سے جل رہا تھا . . . . " یہ کیا ہو گیا ، . . . وہ بھی میرے ساتھ . . . . " اس وقت نہ تو مجھے سارہ کا خیال تھا اور نا ہی سحرش میم کا . . . . اس وقت میں یہ بھی بھول گیا تھا میرے بھائی نے گھر چھوڑنے سے پہلے کچھ نصیحت کی تھی ، دِل اور دماغ میں تھا تو صرف بدلہ . . . . میں کچھ بڑا دھماکہ کرنا چاہتا تھا جس کے لپیٹ میں آج گراؤنڈ میں موجود سب لوگ آ جائے . . . . " کل سب کی ماں چود دوں گا ، پھر جو ھوگا دیکھا جائیگا . . . . . " کمر بہت زور سے درد کر رہی تھی، لیکن پھر بھی میں اُٹھ کر بیٹھ گیا . . . . " تو آرام کر ارمان . . . " " بہت برداشت کر لیا ان سب کو ، تو دیکھ میں کل ان کی کیسے لیتا ہو . . . . " کھڑے ہو کر میں نے کہا اور اپنی شرٹ اتارنے لگا ، . . . " یار کس چیز سے مارا ہے تجھے . . . " " وہ پانچوں لڑکیاں سینڈل پہن کر میرے اوپر ناچ رہی تھی ، کمینی رنڈیاں. . . . " غصے سے کانپتے ہوئے میں نے بولا اور نہانے كے لیے وہاں سے سیدھے باتھ روم کی طرف چلا گیا . . . . . اس رات کوئی سینیر ہاسٹل میں نہیں آیا اور اس دن مجھے ہاسٹل میں سب سے عجیب جو بات لگی وہ یہ تھی کہ منو اس دن رات بھر کسی سے فون میں بات کرتا رہا ، وہ کسی جوگار کی بات کر رہا تھا . . . . . اس رات نیند مجھ سے کوسو دور تھی ، میں بس یہی چاہ رہا تھا کہ جلدی سے جلدی صبح ہو اور میں اس سے ملوں . . . . " قسم سے سن کر دکھ ہوا . . . . " ہر روز کی طرح کاشف آج بھی مجھ سے پہلے اٹھا اور چاۓ بنانے كے لیے گیس آن کرتے ہوئے بولا . . . . " لا دودھ کا ڈبہ پکڑا . . . . " " اظہر ، اُدھر دودھ کا ڈبہ رکھا ہوا ہے ، لا دے . . . " اظہر سے میں نے دودھ کا ڈبہ مانگا تھا لیکن اس نے مجھے شراب کی بوتل پکڑا دی اور تو اور وہ بولا کہ ایک اک کپ چاۓ میرے لیے بھی بنا دے . . . . " اُلو ، مجھے ہنی سنگھ سمجھ رکھا ہے کیا ، جو چپس میں شراب ڈال کے کھا جاؤں اور پھر دونوں ہاتھ اوپر کر کے گانا گاؤں، . . . " " مطلب . . . " سَر کجھاتے ہوے اس نے کہا. . . " مطلب کہ چاۓ دودھ سے بنتی ہے شراب سے نہیں . . . . " " اوہ سوری ! میرا دھیان ہی نہیں تھا. . . . " اس کے بَعْد اظہر نے دودھ کا ڈبہ مجھے پکڑایا اور میں نے کاشف کو ، ، چاۓ بناتے ہوئے کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . . " تو پھر اس سے اگلے دن کچھ دھماکہ کیا ، یا اک بار پھر ان سے مار کھائی. . . " " اس سے اگلے دن . . . " میں اس وقت تھوڑا اور سونا چاہتا تھا ، لیکن کاشف کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی آگے جاننے کی ، اس لئے مجھے اپنی یادوں كے سمندر میں ایک بار پھر تیرنا پڑا . . . . . . " آج کیا بولے گا ان سے ، وہ سب تو روز کی طرح آج بھی وہاں کھڑی ہے . . . . " میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے کچھ ہی دوری پر کھڑے تھے . . . . . ویسے تو ایک پڑھنے والے اسٹوڈنٹ کو گالیاں نہیں بکنی چاہئے خاص کر لڑکیوں کو . . . . لیکن کل انہوں نے جو کچھ بھی میرے ساتھ کیا تھا اس نے میرے ساری اچھائیوں کو ختم کر دیا تھا . . . . " سگریٹ کیسے پیتے ہے ، جلدی سے بتا . . . " " بلکل آسان . . . چھوٹا کش لینا اور پھر دھویں کو اندر کھینچ لینا . . . . . " " لا سگریٹ دے ، ٹرائی کرتا ہو . . . " " وہ تو نہیں ہے . . . . " " چل کوئی بات نہیں آجا . . . " کالر کو میں نے اوپر کیا اور ان لڑکیوں کی طرف بڑھا . . . . . پیٹھ اور کمر میں بہت درد تھا ، اس لئے ہاسٹل سے نکالتے وقت میں تھوڑا جھک کر اور لنگڑا کر چل رہا تھا . . . لیکن اس وقت میں نے خود کو سیدھا کیا اور بے فکر ہو کر ان کی طرف آیا . . . . . جیسے جیسے میں ان کی طرف بڑھ رہا تھا کل کے دن کا ہر اک لمحہ میری آنکھوں كے سامنے آ رہا تھا . . . . . . " گڈ مارننگ . . . . " " ہوں ں ں ں . . . . " ان پانچوں لڑکیوں کی نظر مجھ پر پڑی اور سمیرہ نے کہا " کل والا سبق بھول گیا کیا ، جو آج پھر آ گیا . . . " مسکراتے ہوئے میں نے سمیرہ كے چہرے کو دیکھا اور پھر جان بوجھ کر اپنی نظریں اس کی چھاتیوں پر گاڑ دی . . . .1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . . . . دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ، ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . . " یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . " " نو میم . . . " اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ، اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . . " نام کیا ہے تمہارا . . . " " ارمان . . . . " " کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . ذرا سب کو بتاؤ . . . " " سوری میم ، دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " یہ تو میں نے میم سے کہا ، لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ، کبھی آگے سے تو کبھی پیچھے سے . . . . " " سٹ ڈاؤن ، اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . " اپنا منہ لٹکاے ، میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ، جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . . " اب چُپ ہو جا . . . " غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . . " وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " سحرش میم ، میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول دیا . . . . " تُم بھی کھڑے ہو . . . " اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ، اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . . " کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . " " وہ میم ، بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، پُوچھ رہا تھا . . . " جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا . . . " " میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ، اور اگلی کلاس میں آؤ ، تو ذرا خیال سے ، کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ، اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا رہا ، . . . لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ، اور پھر اس نے آخری بار پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . . پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ، لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . . مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ، اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . . " آؤ بیٹا ارمان ، کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . " " چُپ ہوجا کمینے ، ورنہ یہی مار دونگا ، دماغ مت خراب کر . . . " " او تیری ، سوری یار . . . تجھے برا لگا ہو تو . . . " اظہر بولا . . . اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . . " شوکت . . . " اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . . شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ، اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، شوکت کو دیکھ کر ایک بار پھر میں نے خود سے کہا کہ " میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " بھائی ، اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " مجھے نصیحت دینے لگا وہ . دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ، لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ، اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . . لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . . وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ، اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ، کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے میں . . . . " گڈ مارننگ فرینڈ . . . مائی نیم اِس صائمہ . . . . " " تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، سن تو سب نے لیا تھا ، لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں میں روئی ڈال كے آئے ہو ، سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ، لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . . " یہ تو چودے گی ، کمینی چپ . . . " " گانڈ پر لات مار کر بٹھاؤ اس کو . . . " پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ، میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا " اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . " اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ، یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . . اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، ( بی ایم آئی ) ، لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ، ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ، پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . . پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ، اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ، کچھ سمجھ نہیں آیا تو ، ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . . " کیا ہوا ، . . . " " یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . " " تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے " " مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . " اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ، لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت جلد اترنے والا تھا ، یہ میں نہیں جانتا تھا جاری ہے . . . . اس کو دیکھ ، خود کو حور سمجھ رہی ہے . . . " اظہر نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . . " میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ، وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ، جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . . شوکت اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ، اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . . " کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . " میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا اسے لکھتے ہوئے بولا . . . . "میرا لنڈ لائن ، اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ، جو اسے لائن ماریں گے . . . اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . " ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا " بھوک لگی ہے یار ، چل کینٹین سے آتے ہے . . . " اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . . " چل آجا ، کینٹین اُدھر ہے . . . " ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ، جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ، جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ، لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . . " چُپ چاپ ، ایک کرسی پکڑ لے ، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . " میں اس وقت کچھ نہیں بولا ، اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . . " اس کو دیکھ . . . " اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . . " اسکا نام کاشف ہے ، کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا ہے . . . " جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ، وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ عمر کا لگ رہا تھا ، اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا تھا . . . . " یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . " اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . " " اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . " تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ، جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ، یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . . " بہن چود ، یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . " پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ، پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے بَعْد تھوڑا سکون آیا ، " بند ہے میری جان ، تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . " " یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . " ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ، مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ، کچھ ایسے بھی تھے ، جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ، ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ، وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ، جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . . " کس سبجیکٹ کا ہے . . . " میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ، لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . . " مکینیکل ، فرسٹ ایئر . . . " وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ، " مجھے جانتا ہے . . . " " ہ. . ہ . . ہاں . . " گلا ایک بار پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . . " پانی بَعْد میں پینا ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . " وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . . " ابے بول ، چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . " اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . . " آنکھیں نیچے کر . . . " کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ، اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے جھکا دیا . . گیم شروع ہو چکا تھا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . . میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ کر بولا " بیٹا ، اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . " کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ، اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ، دِل کر رہا تھا ، کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا ٹھپر ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ، لیکن غصے کو پینا پڑا ، میں انہیں دیکھنے كے سوا اور کچھ نہیں کر سکا . . . . . وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . . تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ، جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ، " اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . " اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . . " یار ، یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . " " اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ، کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . " " لے یار ایک اور گلاس بنا . . . " اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . . " رات ہو گئی کیا . . . " میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن سَر گھوم رہا تھا ، اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . . " ابھی دن ہے . . . دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . " کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا " آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . " " کینٹین كے بَعْد . . . " جاری ہے . . . . . مجھ سے اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ، لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ، میں بری طرح غصے میں تھا ، اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . . " اب تو ہی کھا اسے . . . " میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ، اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . . " ارمان ، رک نہ یار ، . . . " اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا " بھول جا . . . " " اس لڑکی کا کیا نام ہے ، بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . " " اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . " یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ، پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . . " دور ہٹ ، میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . . " ایک بات بتا ، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ . . . " مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . " اچھی تو ہے ، اس لیے تو اس کا نام پوچھا " " تو بھائی ، اسے بھول جا ، ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . " " وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا بھاگوں. . . ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے " اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ، اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . . ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں پر ہی تھا . . . . . " کہاں گئے تھے یار . . . " شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . . " کینٹین . . . " اظہر نے جواب دیا . . . " کینٹین " اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . . " کیا ہوا . . . " اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . . " تنظیم سازی ہوئی ، تم دونوں کی . . . " تنظیم سازی . . . . یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ اسے کیا بولا جائے . . . " نہیں . . . کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . " " آج تو بچ گئے ، لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . " " تو کیا ہوا ، پھٹتی ہے کیا . . . " یہ لفظ میں نے ایسے کہا ، جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . . " دیکھو بھائی ، مشورہ دینا میرا کام تھا . . . " شوکت بولا " ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز ڈھوندتے ہے ہمیں . . . " " تِین جگہ پکی ہے ، پہلی کینٹین ، دوسری بس اسٹاپ اور تیسرا ہاسٹل . . . . " ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ، اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . . اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ، کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . . " آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں " تو بھی بول لے کچھ . . . " کاشف نے مجھے کونی ماری . . . . " میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ، وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . " " کاشف. . . " یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . . وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . . " میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . " میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . . " یار ، ایسے مت بولا کر ، کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . " شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . . " ڈرتا ہوں کیا ، " " دیکھ ، زیادہ شیر مت بن، ورنہ پول کھل جاے گا . . . " اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . . کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ ہمارے کالج میں برسوں سے چلی آ رہی تھی . . . . 1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ، تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . " 2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ، اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . . اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . . جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ، ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ، لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . . اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . . " کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . " سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . . میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ، جو بَعْد میں ہمارے یہاں " راحیلہ رانی " كے نام سے مشہور ہوئی کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا لگ رہا تھا ، جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . . " تھک گیا یار . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ، " چل گراؤنڈ چلتے ہے ، شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر . . . . . " گانڈ مروائے لڑکیاں . . . مجھے تو نیند آ رہی ہے . . . " " ٹھیک ہے تو سو ، میں آتا ہوں . . . " میں زیادہ تھکا ہوا تھا ، اس لئے جلدی نیند آ گئی ، اور جب میری آنکھ کھلی تو اظہر مجھے اٹھا رہا تھا . . . . " کیا ہوا بے . . . " " یار رات كے آٹھ بج گئے . . . " " تو . . . " میں نے سوچا کچھ کام ھوگا . " تو کیا . . . . . رات كے آٹھ بجے کوئی سوتا ہے کیا . . . " " اب تو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے کتنے بجے کیا کرنا ہے . . . " " ٹائم پاس نہیں ہو رہا تھا ، تو سوچا تجھے اُٹھا کر گپ شپ مار لوں . . . ." " ٹائم پاس نہیں ہو رہا ہے تو جا کر مٹھ مار لے . . . " اور میں پھر سے چادر اورھے گہری نیند میں چلا گیا . . . . . پرانی عادت اتنی جلدی نہیں بدلتی ، جب میں اسکول میں تھا تب اکثر صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتا تھا ، اور اسی کی بدولت مجھے بہت ہی اچھا کالج ملا تھا . . . اس دن بھی میں نے چار بجے کا آلارم سیٹ کیا اور جیسا کہ پہلے ہوتا تھا ، دوسرے دن میری آنکھ آلارم کی وجہ سے صبح چار بجے کھل گئی ، لائٹ آن کی اور کاشف کی طرف دیکھا . . . کاشف آدھا بستر پر تھا اور آدھا بستر كے باہر ہی جھول رہا تھا . . . . " کیا خاک پڑھوں . . . کل تو سب سَر كے اوپر سے گزر گیا تھا . . . " بکس اور نوٹ بک کھول کر میں نے ڈھیر ساری گالیاں دی . . . . کچھ دیر تک ٹرائی کرنے كے بَعْد بھی جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ، میں نے لائٹس اوف کی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا . . . . میری پرانی عادت كے بدولت نیند تو آنے سے رہی ، اس لئے میں کچھ سوچنے لگا . . . جیسے کہ کس ٹائم پر کس سبجیکٹ کو پڑھنا ہے تاکہ دماغ میں سہی طرح سے بیٹھ جاۓ ، پھر جیسے ہی میرے دماغ میں سی ایس سبجیکٹ کا خیال آیا تو سب سے پہلے میری بند آنکھوں كے سامنے سحرش میڈم کا حَسِین چہرہ اور اس کا حَسِین جسم لہرا گیا . . . . وہ میرے سامنے نہیں تھی ، لیکن میں انہیں پورا دیکھ سکتا تھا ، . . . اور اِسی خیالات میں ڈوبتے ہوئے میرا ہاتھ میرے پینٹ کی طرف بڑھا اور پینٹ کی زپ کھول کر میرا ہاتھ نہ چاہتے ہوے بھی میرے کھڑے لنڈ پر چلنا شروع ہوگیا صبح صبح ہی کام ہو گیا ، اس کے بَعْد جو آنکھ لگی تو وہ سیدھے صبح كےآٹھ بجے کھلی . . . . آج كے دن کالج میں کوئی ایسی آنے والی تھی ، جسے نہیں آنا چاہئے تھا ، اس دن بھی میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر گئے اور سیدھے اپنی کلاس كے اندر دستک دی . . . . شوکت پہلے سے ہی آ چکا تھا . . . " چل باہر سے آتے ہے . . . " میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ شوکت نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے مجھ سے بولا . . . . " کیوں . . . . کیا ہوا ؟ " " لگتا ہے ، بائیک کی چابی بائیک میں ہی لگی رہ گئی ہے . . . " اس نے گھبراہٹ میں جواب دیا . . . میں نے سوچا ، اظہر کو اس کے ساتھ بھیج دوں، لیکن اظہر تو پیچھے کسی سے جان پہچان بنا رہا تھا اس لئے مجھے ہی اس کے ساتھ جانا پڑا . . . . " بائیک میں لگی ہے چابی . . . " بائیک میں چابی لگی دیکھ کر شوکت نے سکھ کا سانس لیا. . . ہم دونوں ابھی بائیک اسٹینڈ پر ہی کھڑے تھے کہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک کار نے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف متوجہ کیا. . . . کار دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اندر بیٹھا ہوا شخص کی حیثیت کتنی زیادہ ہے . . . . " کوئی وڈیرے کا لڑکا ھوگا. . . " میں نے سوچا ، لیکن میری سوچ مجھے تب دھوکہ دے گئی ، جب اس چم چماتی کار سے لڑکے کی جگہ ایک لڑکی باہر آئی ، . . . لڑکی کیا پوری ماڈرن قسم کی ہیروئن تھی وہ ، سر سے لیکر اس کے سینڈل تک اس کی دولت اور اس کی ماڈرن زمانے كے رنگ میں رنگی اس کی شخصیت کی پہچان کرا رہی تھی . . . . پہلے تو میں نے اس لڑکی کو پورا اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا اور بَعْد میں میرے نظر اپنے آپ اس جگہ پر اٹک سی گئی ، جو ایک لڑکی میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، . . . اور ایسی حَرْکَت کرنے والا میں وہاں اکیلا نہیں تھا ، وہاں کھڑے تقریباً سبھی لڑکوں کا یہی حال تھا ، سب اپنی پسندیدہ جگہ دیکھ کر لالچا رہے تھے . . . . . " یہ کون ہے . . . " میں نے شوکت سے پوچھا تو اس نے جواب میں کاندھے اچکا کر نہ کر دیا . . . . ویسے تو اس کالج میں بہت ساری خوبصورت لڑکیاں تھی ، لیکن وہ لڑکی جو ابھی ابھی کار سے باہر آئی تھی ، وہ اُن میں سے سب سے الگ لگی مجھے . . . ایسا مجھے کیوں لگا اس کا وجہ آج تک میں نہیں جان پایا . . . . . . اسے دیکھ کر میں اور شوکت وہی کھڑے رہ گئے ، ہمارے قدم زمین پر اور آنکھیں اس لڑکی پر ہی جمی ہوئی تھی . . . . اس کے ساتھ کار سے ایک اور بھی لڑکی باہر نکلی ، جو اس کی قریبی فرینڈ ھوگی ، ایسا میں نے سوچا . . . . " سارہ. . . . " اس لڑکی کی فرینڈ نے پہلی بار اس ماڈرن لڑکی کا نام پکارا . . . . . " سارہ . . . . " میں نے بھی دِل ہی دِل میں یہ نام لیا ، اور بہت خوش بھی ہوا اور میرے ارمان اسے دیکھ کر باہر آئے " اس کو تو پٹانا پڑیگا . . . " " کیا . . . ؟ " شوکت بولا . . . " کچھ نہیں ، چل کلاس شروع ہوگئی ھوگی . . . " برسوں سے کچھ لفظ ، کچھ الفاظ بڑی مشکل اور شدت سے لکھ رکھے تھے میں نے کسی كے لیے ، جو میرے لیے خاص ہو اور آج سارہ کو دیکھ کر وہ الفاظ میرے دِل سے باہر آنے كے لیے مچل رہے تھے . . . . . . "میں اکثر کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں ، بہت سے چہرے مجھے دکھائی دیتے ہے لیکن ایک چہرہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ، میرے دل میں رہتا ہے. . . . . . " وہ چہرہ میری محبّت ہے . . . . . . . . جاری ہے . . . . " باہر . . . باہر ، بلکل باہر . . . " راحیلہ میڈم نے مجھ سے کہا ، جب میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو " یہ کیا تمہارا گھر ہے . . . " " سوری میم . . . " نظریں جھکا کر معصوم بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے بولا . . . لیکن میری اس معصومیت کا راحیلہ رانی پر کوئی اثر نہیں ہوا ، اور اوپر سے اس نے دھمکی بھی دے دی کہ میں نے اسے بحث کی تو وہ آنے والے تین دن تک حاضری نہیں لگاۓ گی . . . کل سے یہ سب کچھ میرے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا ، پہلے کبھی بھی کسی نے کلاس سے باہر نہیں بھیجا تھا ، اس لئے مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ ، ٹائم پاس کیسے کروں ، اس وقت کالج میں گھوم بھی نہیں سکتا تھا ، کیا پتہ کوئی سینیر پکڑ کر تنظیم سازی نہ کر لے . . . . دِل کر رہا تھا کہ راحیلہ میم کے بال پکڑوں اور گھسیٹ کر اسے کلاس سے باہر کر دوں. . . . " اندر آ جاؤ ، اور اگلی بار وقت کا خیال رکھنا . . . " راحیلہ رانی نے میری طرف دیکھا ، شاید میری جھوٹی معصومیت اور بھولے پن کو انہوں نے اصلی سمجھ لیا تھا . . . . جب کلاس كے اندر آیا تو ایک بار پھر پوری کلاس مجھے گھور رہی تھی ، کچھ مجھ پر ہنس بھی رہے تھے اور کلیجہ تب جل گیا تب دیکھا کہ اظہر بھی ہنس رہا ہے . . . . " اور بیٹا ، کہاں گھوم رہا تھے تم دونوں . . . " میں اظہر كے لیفٹ سائڈ میں بیٹھا اور شوکت رائٹ سائڈ میں بیٹھ گیا . . . " کہی نہیں یار ، بائیک اسٹینڈ تک گئے تھے . . . " شوکت بولا " ٹائم سے واپس بھی آ جاتے اگر وہ لڑکی نہیں دکھی ہوتی تو . . . . " " کون سی لڑکی ، جلدی بتا . . . " میم کو شک نہ ہو اس لئے ہم تینوں اپنے رجسٹر میں سامنے بورڈ پر لکھا ہوا سب کچھ چھاپ رہے تھے ، اور دھیمی آواز میں گپیں بھی لڑا رہے تھے . . . . . " پتا نہیں کون ہے ، لیکن ہے ایکدم پٹاخہ . . . . اس کے سامنے تو سحرش میڈم بھی کچھ نہیں ہے . . . " سامنے بورڈ کی طرف دیکھ کر میں نے بولا ، . . . ایک دو بار راحیلہ رانی سے میری نظر بھی ملی ، تب میں نے اپنا سَر اوپر نیچے کرکے اسے احساس کروایا کہ مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ، میں تو اس وقت صرف اور صرف سارہ كے بارے میں سوچ رہا تھا ، اس وقت میں صرف اور صرف سارہ كے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا . . . . " کتنا اچھا ہوتا ، یار اِس راحیلہ کی جگہ وہ سارہ ہمیں میتھس پڑھاتی . . . . " دِل كے ارمانوں نے اک بار پھر گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ، اور ان گھنٹیوں کو کسی نے بہت زور سے بجایا . . . . " میم . . . " کلاس كے دروازے کی طرف سے کسی کی آواز آئی . . . . اور جب نظریں اس طرف گھومائی تو بس وہی جم کر رہ گئی ، دروازے پر سارہ کھڑی تھی . . . " یس . . . " میتھ والی میم نے سارہ سے کہا . . . " یہ بھی اسی کلاس میں پڑھے گی ، " خوش تو بہت ہوا تھا ، بینچ پر کود کود کر ڈانس کرنا چاہتا تھا ، اظہر اور شوکت سے کہنا چاہتا تھا کہ " تم لوگ یہاں سے اَٹھ جاؤ کمینوں ، وہ یہاں بیٹھے گی . . . " لیکن افسوس تب ہوا جب وہ بولی کہ . . . . " میم سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کون سی ہے . . . " کوری ڈور میں سب سے پہلی کلاس ہماری ہی تھی ، اس لئے وہ شاید ہمارے کلاس میں اپنی کلاس پوچھنے آئی تھی ، سوچا کے رَو رَو کر اسے اِس بات کا احساس ڈالاؤں کہ میں کتنا دُکھی ہوں ، اس کے یوں جانے سے ، اظہر میرے اندر کی بے چینی کو سمجھ گیا اور بولا . . . " اوئے ، یہ ڈرامہ بند کر ، اور اپنی توجہ کا مرکز صرف سحرش میڈم کو بنا " سارہ تو اپنی کلاس میں چلی گئی ، لیکن اس کا عکس میرے دِل پر رہ گیا تھا ، اور سارہ کا عکس صرف مجھ پر ہی نہیں پڑا تھا ، اور بہت سے لوگ تھے ، جن کا دِل سارہ كے اِس طرح سے جانے كی وجہ سے اُداس تھا . . . . اظہر اور شوکت بھی اسی لسٹ میں تھے . . . . . " وہ میری بچی ہے ، اس کو دیکھنا بھی مت . . . " سارہ كے جانے كے بَعْد میں نے پھر سے بورڈ پر نظریں گاڑ دی اور جو کچھ بھی راحیلہ رانی لکھ رہی تھی ، میں اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے ان دونوں سے بولا . . . . " سیٹ تو مجھ سے ہی ھوگی . . . " شوکت نے کہا . . . " گانڈ مروا لو سب لڑکیوں سے ، سحرش کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، سارہ کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، کسی اور لڑکی کو بھی دیکھو گے تو وہ بھی تم دونوں کی ہی بچی ہوگی ، میں یہاں صرف ہلانے آیا ہوں ہے نہ " میں اور شوکت ہنس پڑے ، اور ایک بار پھر راحیلہ میم نے اپنی ظالمانہ نظروں سے ہم دونوں کو گھورنے لگی ، راحیلہ میم كے اِس طرح سے دیکھنے كی وجہ سے میں اور شوکت چُپ ہو گئے اور ایکدم سریس اسٹوڈنٹ بن کر سامنے ڈیسک پر رکھی بکس كے صفحات الٹنے لگے . . . . . " چل آجا کینٹین سے آتے ہے . . . " بریک میں اظہر نے مجھ سے کینٹین چلنے كے لیے کہا ، اور میری آنکھوں كے سامنے وہ نظارہ چاہ گیا جب کاشف کی بچی نے میرے چہرے سے پیار کر رہی تھی . . . . میں نے اظہر کو صاف منع کر دیا کہ میں کینٹین کی طرف نہیں جاؤنگا ، اور پھر میں اپنے ہی کلاس كے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ، جہاں کچھ لڑکے کھڑے ہوکر بات کر رہے تھے ، میں کھڑا تو اپنے کلاس میں تھا لیکن آنکھیں سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کی طرف ٹکی ہوئی تھی ، . . . میں اس وقت وہاں کھڑا اس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ خوبصورت سارہ اپنی کلاس سے باہر نکل کر آئے اور میری آنکھوں کو سکون ملے . . . . خدا نے جیسے میری دل کی بات سن لی ہو ، سارہ اپنے اسی فرینڈ كے ساتھ کلاس سے باہر نکلی اور باہر کھڑے سب لوگ مچل اٹھے ، سب لوگ سارہ کو دیکھ رہے تھے . . . . . ہماری کلاسز فرسٹ فلور پہ تھی اور کوری ڈور كے دونوں طرف سے نیچے جانے كے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھی . . . . سارہ اپنے فرینڈ كے ساتھ ہماری طرف آنے لگی ، . . . میں یہ جانتا تھا کہ وہ میرے لیے تو اِس طرف نہیں آ رہی ہے ، لیکن پھر بھی دھڑکنیں تیز ہو گئی ، اور وہ جب میرے سامنے سے گزری تو میری زبان لڑکھڑائی " آئی . . . . . " بس اتنا ہی بول سکا میں سارہ کو دیکھ کر ، اور آواز بھی اتنی دھیمی تھی کہ میرے ساتھ کھڑے میری کلاس والے بھی اس آواز کا نہ سن سکے . . . . میں پہلے بھی حیران ہوا کرتا تھا اور اب بھی حیران ہوا کرتا ہوں ، کہ اظہر کیسے جان جاتا ہے کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے . . . . " مطلب . . . . " زمین پر لیٹے کاشف نے سگریٹ كا دھواں اڑاتے ہوئے مجھ سے پوچھا . . . " مطلب کہ. . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا ، کمینہ شراب کی بوتل لیے باتھ روم سے باہر آ رہا تھا " اظہر کی ایک خاصیت ہے ، وہ کسی کی بھی شکل دیکھ کر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ، وہ شخص کس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے . . . . " " ایسا ہے کیا . . . " جاری ہے . . . . . " ہاں یار ، . . " " پھر تو . . . " یہ بولتے ہوئے کاشف زمین پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھا . . . . " یہ کمینہ باتھ روم میں بوتل لے کر کیوں گیا تھا ؟ " " میری عادت ہے . . . " میرے پاس بیٹھتے ہوئے کاشف کی طرف دیکھ کر اظہر نے جواب دیا . . . " بڑی عجیب عادت ہے یار ، اچھا ہوا کھانے کی پلیٹ لیکر باتھ روم جانے کی عادت نہیں ہے ، ورنہ ایک طرف سے مٹیریل باہر نکلتا تو دوسری طرف سے اندر جاتا . . . . " کاشف زور زور سے ہنسنے لگانے لگا اور مجھ سے بولا " تو کیوں روک گیا بے ، آگے بتا کیا ہوا . . . . " اُس دن بریک ٹائم میں جب میں نے دھیمی آواز میں " آئی " بولا تھا ، تب اظہر میرے برابر میں ہی کھڑا تھا ، اور جب سارہ ہماری آنکھوں كے سامنے سے گزری تو وہاں ایک اظہر ہی ایسا لڑکا تھا جو سارہ کی جگہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میرے چہرے كے بدلتے رنگ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ میرے اندر ابھی کیا چل رہا ہے . . . . . . " چل آجا . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر اظہر بولا . . . " کہاں آجا یار. . . " " چل سارہ سے تیری بات کراتا ہوں . . . " یہ سنتے ہی میں نے جلدی اس کا ہاتھ دور کیا اور بولا " تجھے ایسا کیوں لگا کہ میں سارہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ؟ " " اب بیٹا ہم کو گنتی گننا نہ سکھاؤ . . . جب سے تو نے اسے دیکھا ہے ، تیرے چہرے پر لالی چھائی ہوئی ہے . . . " " ہٹ یار . . . . ایسی درجنوں لڑکیوں کو میں روز دیکھتا ہوں ، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان سے بات کروں . . . . " " ابھی ان درجنوں لڑکیوں کو چھوڑ اور اس طرف دیکھ . . . " دوسری طرف سے سارہ اپنی زلف لہراتی ہوئے وآپس آ رہی تھی ، اُس وقت دِل میں ارمان اٹھا کہ کاش سارہ سیدھے میرے پاس آئے اور مجھے بولے کہ " ہیلو ہینڈسم ، تمہارا نام کیا ہے . . . " دِل میں ارمان جاگے کہ وہ مجھے دیکھے اور مجھے دیکھتے ہی اسے مجھ سے محبّت ہو جائے ، وہ قریب آتی گئی اور میرے منہ سے " آئی . . . . . . " لفظ اک بار پھر باہر آیا ، لیکن جب وہ اپنے کلاس کی طرف گئی تو یہ " آئی . . . . " لفظ وآپس اندر چلا گیا . . . . " دِل توڑ دیا اس نے اُس طرف جا کر . . . " اپنے سینے میں ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے مزاخیہ اندازِ میں میں نے بولا . . . . " یار ، اظہر کچھ جوگار کرنا . . . . اسے ایک بار دل بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں . . . . " " چل آجا پھر . . . " اظہر نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا . . . " کمینے ہاتھ چھوڑ ، چھوٹا بچہ ہوں کیا ، جو بات بات پر ہاتھ پکڑ لیتا ہے . . . " " پیار ہے پگلے . . . " " اِس پیار کو تھوڑا کم کر " سی ایس سبجیکٹ میں اظہر کا ایک دوست تھا ، جس کے پاس جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے . . . . جہاں اظہر اپنے دوست سے بات کرنے لگا وہی میں چپکے سے سارہ کو تکنے لگا . . . . ایسا نہیں تھا کہ میں نے سارہ سے پہلے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی ، لیکن جو کشش اس میں تھی وہ آج تک مجھے کسی بھی لڑکی میں محسوس نہیں ہوئی تھی ، اُس وقت اس کی مقناطیسی کشش مجھ پر غالب آ رہی تھی ، جو مجھے مدہوش کرنے کے لئے کافی تھی. . . . . اسی دوران پہلی بار اس نے مجھے دیکھا لیکن میری نظری یکایک دوسری طرف ہو گئی ، دِل کی دھڑکنوں نے اک بار پھر سے بھرنے لگی . . . . . " کیا ہوا بے . . . " مجھے دوسری طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر اظہر نے پوچھا . . . " کچھ نہیں ، بس اس نے مجھے دیکھ لیا . . . . " " تو ، یہی تو موقع تھا ، آنْکھ مار دیتا اسے اسی وقت . . . " " پھٹتی ہے میری ان سب کاموں سے . . . " " لو تب تو وہ سیٹ ہوگئی تیرے سے . . . . " اظہر نے سارہ کی طرف دیکھا . . . " سن ارمان ، سارہ تجھے ہی دیکھ رہی ہے . . . . " " کیا . . . . " دِل ایک بار پھر زور سے دھڑکا . . . اور میں نے سارہ کی طرف دیکھا ، اظہر سچ بول رہا تھا وہ میرے طرف ہی دیکھ رہی تھی . . . اُس وقت مجھے ایسا لگا جیسے کہ وقت ٹھہر گیا ہو ، اُس وقت مجھے ایسا لگا کہ وہاں اُس کلاس روم میں میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے . . . . " تم دونوں تو ایک دوسرے آنکھیں چار کر رہے ہو لیکن . . . . . " اظہر بولا اور بولنے كے فوراً بَعْد میرے کاندھے کو پکڑ کر زور سے ہلایا " بریک ٹائم ختم ہوا میرے لال ، اب اپنی کلاس کی طرف چلے یا اِس بار بھی یہی ارادہ ہے کہ اگلا پیریڈ کا ٹیچر تجھے باہر نکال دے . . . . " "بریک ختم ہو گیا . . . " " بلکل اور تو پچھلے بیس منٹ سے اس کو گھورے جا رہا ہے بنا پلکیں جھپکائے. . . . " اظہر اور میں سارہ کی کلاس سے باہر آئے ، کلاس تو شروع ہوچکی تھی لیکن ٹیچر ابھی تک لاپتا تھا . . . . . اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میں کچھ دیر پہلے جو کچھ بھی ہوا ، اس کو یاد کرنے لگا اور ہاتھوں میں پین پکڑ کر ڈیسک پر اسکا نام لکھنے لگا . . . . . " سارہ . . . . . " اِس نام کو سامنے والی ڈیسک پر پین سے لکھنے كے بَعْد میں اسے اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگا ، وہ نام میں نے نارمل پین سے لکھا تھا ، اُس نارمل پین كے نارمل سیاحی سے لکھا تھا ، لیکن جو چار الفاظ وہاں ابھرے تھے ، وہ میرے لیے نارمل نہیں تھا ، . . . ان چار الفاظوں سے ایک لگائو سا ہوگیا تھا . . . . لیکن اُس وقت میں یہ بھول گیا تھا کہ میری ساتھ میرا سب سے کمینہ اور خاص دوست اظہر بیٹھا ہے ، جو مجھے ایک پل كے لیے بھی چین سے سانس لینے نہیں دیگا . . . . میری اِس حرکت وہ مجھ پر چلایا . . . " ابے یہ کیا کر رہا ہے . . . " اس کے اِس طرح سے اچانک بولنے سے میرا دھیان ٹوٹا اور جن چار الفاظوں سے مجھے لگاؤ تھا ، انہیں میں مٹانے کی کوشش کرنے لگا . . . . لیکن سیاحی سُوکھ چکی تھی ، اس لئے نام مٹنا تھوڑا مشکل تھا . . . . . . " ہاتھ ہٹا . . . " " نہیں . . . " میں نے سارہ كے نام كے آگے ایسے ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا جیسے کی میرا ہاتھ ہٹاتے ہی میری عزت لٹنے والی ہو . . . . " دیکھ ارمان ، مجھے دیکھا دے کہ کیا لکھا ہے ڈیسک پر تو نے ، ورنہ پوری کلاس کو بتا دوں گا . . . . " " تیری تو " کیا کرتا ، مجبوری مجھے ہاتھ ہٹانا ہی پڑا . . . " تیری رائٹنگ تو بہت اچھی ہے . . . " یہ بول کر اظہر پیچھے موڑا تو میں نے وآپس سارہ كے نام کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا . . . " بوتل ہے . . . " اظہر نے پیچھے بیٹھے کسی لڑکے سے بولا . . . جاری ہے . . . . " پانی کی بوتل" نہیں شراب کی بوتل . . . . یار کلاس میں ہو تو پانی کی بوتل ہی مانگوں گا نہ. . . . " " تو سہی سے بول نہ . . . . " اظہر نے جس سے پانی کا بوتل مانگا تھا وہ بولا . . . " ابے گھونچو اس طرح تو کیا خاک انجینئر بنے گا ، کمینے نے میٹرک کا ایگزام پکا نقل سے پاس کیا ھوگا . . . اب لا دے بوتل " اس کے ہاتھ سے بوتل لیکر اظہر نے پانی کی کچھ بوندے ڈیسک پر ڈالی اور سارہ کا نام مٹا کر مجھ سے بولا . . . " یہ عاشقی کا جو بھوت سوار ہے نہ، اس کو سنبھل کر رکھ ورنہ لینے كے دینے پڑ جائینگے . . . . " " کمینے تو مجھے ڈرا رہا ہے . . . " " یہی تو پیار ہے پگلے " ہفتے میں تین دن ہمارا لیب کا ہوتا تھا ، اور ہر ایک لیب دو دو پیریڈز كے برابر تھا ، ہم سب اپنے باقی كے کام لیب کلاس میں ہی نپٹا لیتے تھے ، شروع كے آدھے گھنٹے میں لیب والے سر آ کر ہمیں ایکسپیریمینٹ اور اکوپمنٹ کو کیسے یوز کرنا ہے ، یہ بتا کر اپنی سیٹ پر برجمان ہو جاتے اور اس کے بَعْد کا پورا وقت ہم ایس ایم ایس بھیجنے میں ، اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے میں استمعال کرتے تھے ، ہمارے کالج كے ٹیچرز کی ایک بہت ہی خراب عادت یہ تھی کہ وہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر یا تو حاضری کٹ کر دیتے تھے ، یا پھر سیدھے کلاس سے باہر ہی بھاگا دیتے تھے . . . اس دن فیزکس کا لیب تھا اور لیب میں، میں سی ایس کا اسائنمنٹ کر رہا تھا اور اِس کام میں اظہر بھی باخوبی میرا ساتھ دے رہا تھا کہ اچانک صدیقی سر کی آواز پوری لیبارٹری میں گونجی . . . . " جو اسٹوڈنٹ ریڈنگ اور فائنل رزلٹ دکھائیں گا ، میں اسی کو آج کا حاضری دوں گا . . . . " " لگ گئے لوڑے . . . . " ایک دَرْد بھری غصے سے بھرپور آواز میں اظہر نے دھیمی سی آواز میں بولا . . . . " اب کیا کرے . . . " " پتا نہیں . . . " اس وقت مجھے اپنے اسکول كے دنوں کی یاد آ گئی ، جب میں لیب سے اکثر پاس آؤٹ ہوچکے اسٹوڈنٹ کی کاپی چھپا کر چھاپ دیا کرتا تھا . . . . . " ہم دونوں کو پریکٹیکل کا مینول نہیں ملا ہے نہ . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . ہم دونوں کا رول نمبر آگے پیچھے تھا ، اس لئے ایکسپیریمینٹ بھی سیم تھا . . . . " صدیقی دے رہا تھا ، لیکن میں نے لیا ہی نہیں . . . . اور ویسے بھی اس کو ریڈنگ دکھانی ہے . . . ." " تو روک میں کچھ کرتا ہوں . . . " یہ کام میں پہلے بھی بہت بار کر چکا تھا ، اس لئے دَر تو نہیں لگ رہا تھا لیکن پھر بھی تھوڑی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی . . . . " سر ، ہمارے پاس مینول نہیں ہے . . . " لیب والے سر كے پاس کھڑے ہوکر میں نے معصومیت سے بولا . . . اس کے بَعْد صدیقی نے کئی باتیں کی ، ہمارا رول نمبر پوچھا ، اور اس کے بَعْد اس نے ایکسپیریمنٹس كے بارے میں مجھ سے پوچھا . . . . اس وقت تو ایکسپیریمینٹ کا اوبجیکٹ کیا ہے مجھے یہ تک نہیں معلوم تھا تو پھر اسکا پرنسپل کیسے بتاتا . . . . . . " سر ، یہاں کوئی پرانا رجسٹر مل جاتا تو تھوڑا آئیڈیا مل جاتا . . . . " اپنے منصوبے کے تحت میں نے سر سے کہا. . . جہاں صدیقی بیٹھا ہوا تھا ، وہاں سے بائیں طرف ایک چھوٹا سا روم تھا . . . اس نے پہلے پانچ منٹ تک میری شکل دیکھی اور پھر مجھے اندر جانے كے لیے کہا . . . . " وہ اندر بیٹھی ہوئی ہے ، ان سے مانگ لو . . . . " " تھینک یو سر . . . . " آدھا کام تو کر لیا تھا ، بس آدھا کام اور باقی تھا ، پہلے میں نے سوچا کہ اندر جس روم میں میں جا رہا تھا وہاں کوئی صدیقی کی عمر کا ہی ٹیچر ھوگا ، یعنی کہ 40 سے 45 تک کی عمر کا ، لیکن جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا میری آنکھیں باہر آ گئی یہ دیکھ کر کہ اندر سحرش میڈم بیٹھی ہوئی ہے . . . . . . " میم ، وہ پرانے پریکٹیکل رجسٹر چاہئے تھے . . . . " اس روم كو چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے میں نے بولا . . . . " سر سے پوچھا ہے . . . " وہ ٹیبل پر ایسے بیٹھی تھی ، جیسے کہ وہ اِس کالج کی پرنسپل ہو . . . . " جی میم ، انہوں نے ہی کہا ہے کہ میں اندر جا کر اپنا کام کر سکتا ہوں . . . " میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا . . . . " کیسا کام . . . " کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے انہوں نے میری طرف نگاہ ڈالی . . . . " وہی والا . . . . . " میں نے بولا ، فلرٹ کرنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ، میں اکثر موقع ملنے پر یہ سب کر دیا کرتا تھا پر افسوس کہ آج تک کسی لڑکی نے میرے ارمانوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا . . . . . . " میکنیکل فرسٹ ایئر رائٹ . . . . " میں نے ہاں میں سَر ہلایا تو سحرش میڈم نے ایک طرف اشارہ کر دیا . . . جہاں پاس آؤٹ اسٹوڈنٹ کے پریکٹیکل رجسٹر جمع کیے ہوئے تھے ، میں وہاں پہنچھا ایک دو رجسٹرز کو کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگا ، لیکن اِس دوران میرا دھیان صرف اور صرف سحرش میم پر تھا کہ وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہی ہے . . . . سحرش میم اِس وقت اپنے موبائل میں مصروف تھی ، اور یہی میرے لیے سنہری موقع تھا . . . میں نے چپکے سے ایک پریکٹیکل رجسٹر کو اپنے شرٹ كے نیچے پیٹ كے پاس پھنسا لیا اور اس کے بعد کچھ دیر تک میں وہی کھڑا رہا . . . . " ٹھیک ہے میم ، میں چلتا ہوں . . . . " مجھے پوری امید تھی کہ سحرش میڈم نے مجھے نہیں دیکھا تھا ، اور میں اپنے اس کارنامے پر خود کو داد دیتا ہوا وہاں سے جا ہی رہا تھا کہ سحرش میڈم نے پیچھی سے آواز دی . . . " رکو . . . " " جی میم . . . " دِل میں گھبراہٹ ایک بار پھر پیدا ہونا شروع ہوگئی . . . . " تم کیا سمجھتے ہو کہ کالج کا اسٹاف بیوقوف ہے . . . " " مطلب . . . ؟ " " مطلب یہ کہ . . . " وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر میرے پاس آئی اور سیدھا میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی " یہ تمھارے سکس پیکس اتنے مضبوط ہے یا لیب کا رجسٹر چوڑی کرکے لے جا رہے ہو . . . ." اس کے بعد بولنے کی میری ہمت نہیں ہوئی ، میں کسی مجرم کی طرح وہاں کھڑا سحرش میڈم كے اگلے ایکشن کا انتظار کر رہا تھا . . . . " تمہاری اطلاع كے لیے عرض کر دوں کہ میں یہی سے پاس آؤٹ ہوں اور مجھے معلوم ہے یہ معملات . . . اس لئے میرے سامنے ہوشیار بننے کی کوشش مت کرنا . . . " یہ بولتے ہوئے انہوں نے پریکٹیکل رجسٹر نکال لیا اور بولی " تمھارے جانے كے بَعْد صدیقی سر یہاں آئینگے اور وہ مجھ سے پوچھے گے کہ اس لڑکے نے کہی کچھ اٹھا تو نہیں لیا ، اور پھر جب تم باہر جاؤ گے تو تمہاری چیکنگ بھی ھوگی . . . . " " بہن چودوں نے ہیرا چھپا رکھا ہے کیا یہاں . . . " " تم نے کچھ بولا . . . " " سوری میم ، . . . " " اب جاؤ . . . " اس کے بعد چند ہی لمحوں میں سحرش میڈم نے وہ حرکت کی جس کی وجہ سے میرا دِل لیفٹ سائڈ سے رائٹ سائڈ میں شفٹ ہونے لگا تھا ، ہزار واٹ کا جھٹکا لگا جب سحرش میڈم نے مجھے . . . . انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدھا اپنی پھدی سے ٹچ کر دیا اور بولی " پسند آیا ہو تو دوبارہ بتانا . . . . . جاری ہے . . . . میں ، اس روم سے باہر نکلا ، وہاں سے آنے كے بَعْد میری سیٹی گم ہوگئی تھی ، ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ کسی نے میرے ہاتھ میں کچھ دیر پہلے بجلی کا ننگا تار پکڑا دیا ہو . . . . . . . " کیا ہوا ؟ لے آیا پریکٹیکل رجسٹر ؟ " مجھے اپنے ساتھ چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " ابھی کچھ دیر بات مت کر ، صدمے میں ہوں . . . . " " کیا ہوا . . . . کسی نے چوڑی کرتے ہوئے دیکھ لیا کیا ؟ " " میری چوڑی پکڑی بھی گئی اور اس کی سزا بھی دے دی گئی . . . " میں اب بھی صدمے میں تھا . . . . . " آخر ہوا کیا . . . " " کچھ نہیں ، اب میں ٹھیک ہوں . . . " میرے دِل دماغ میں ، میرے خیالوں میں جی ہاں صرف وہی نظارہ گھوم رہا تھا ، جب سحرش میم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ہاتھ کو اپنی چوت سے ٹچ کر دیا تھا . . . . " کاش میں وہاں کچھ دیر مزید روک جاتا . . ." میں بڑبڑایا . . . " ایسا کیا دیکھ لیا تو نے . . . " " کچھ نہیں . . . " سحرش میڈم نے جو کیا اس پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ، کوئی بھی عورت بنا جان پہچان كے ایسے کیسے کر سکتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کی شکایت کر سکتا ہوں ، شاید میں نے ہی سحرش میڈم کو حوصلہ دیا تھا ایسا کرنے كے لیے . . . نہ میں ڈبل میننگ میں ان سے بات کرتا اور نہ ہی وہ میرا ہاتھ پکڑتی اور نہ ہی . . . ابھی تک جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا تھا وہ سب ناقابل یقین تھا ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک عورت كے پیچھے پاگل ہو جاؤںگا اور نہ ہی میں نے یہ سوچا تھا کہ شروعات كے کچھ دنوں میں ہی مجھے وہ چودنے کو مل جائیگی . . . . . . اس دن كے بَعْد سحرش میڈم سے جیسے میں نظر ہی نہیں ملا پا رہا تھا ، وہ جب تک کلاس میں رہتی میں اپنا سَر جھکائے رہتا اور چپکے سے ان کی طرف دیکھتا تو وہ دھیمی دھیمی مسکراتی نظر آتی . . . . " میں کتنا شرمیلا ہوں . . . " مجھے زندگی كے اٹھارہ سال بیت جانے كے بَعْد یہ پتہ چلا کہ ، میں بھی ان لڑکوں میں سے ہوں ، جن کی لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی . . . . . سارہ کچھ دنوں سے کالج نہیں آئی تھی ، میں جب بھی اس کے کلاس میں جا کر اظہر كے دوست سے پوچھتا تو وہ نہ میں سَر ہلا دیتا ، . . . دِل بےچین رہتا تھا اس کے بغیر ، روزانہ بریک ٹائم میں میں اظہر کو لیکر اس کی کلاس میں اس کے دوست كے پاس جاتا تھا اور جہاں وہ بیٹھا کرتی تھی ، اس جگہ کو اِس آس میں دیکھتا تھا کہ شاید وہ لیٹ آئی ہو ، لیکن ہر دن اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہی وہاں بیٹھی ہوئی ملتی اور ہر دن میں اس کے کلاس سے اداس ہی چلا آتا تھا . . . . ابھی تک تو میں بہت سی ناقابل یقین واقعیات کو برداشت کر چکا تھا ، لیکن ان سب کے علاوہ بھی کچھ اور تھا جو کہ میری زندگی میں پہلی بار ہونے والا تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ مجھے اِس بات کی بھنک تک نہیں تھی . . . . کچھ دن گزرنے كے بَعْد میری کچھ اور لڑکوں سے دوستی ہوگئی اور روزانہ کی طرح ہم آج بھی بریک کے اوقات میں اپنی کلاس كے باہر کھڑے آس پاس سے گزرنے والی لڑکیوں کا مزہ لے رہے تھے . . . . . سارہ كے لیے میری دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی، میں اب ہر خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اسی خیال میں ڈوب جاتا کہ میں اسے اپنے ہاسٹل كے روم میں چود رہا ہوں ، ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی مجھ میں سحرش میڈم کی اس حرکت سے . . . . " سب لائن میں کھڑے ہو . . . " کسی نے گلا پھاڑ کر کہا ، اور جب میری نظر اس طرف پڑی تو دیکھا کہ دو سینیرز ہمیں لائن میں کھڑے ہونے كے لیے کہہ رہے تھے . . . . . ان کا کہنا تھا کہ ہم سب لائن میں کھڑے ہو گیں . . . . " آنکھ نیچے کر بھڑوے. . . اپنے باپ سے آنکھ ملاتا ہے . . . " کسی ایک کو اس نے تھپر مارا . . . . " کیا ہے بیٹا ، سلام نہیں کرتے تم لوگ سینیرز کو . . . گانڈ میں ڈنڈا ڈال كے یاد دلانا پڑیگا کیا . . . ." ان دونوں میں سے ایک نے بیگ تانگ رکھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ بریک كے بَعْد وہ بینک لوٹنے كے پروگرام میں تھے اور دوسرا اپنے ہتھلیوں کو رگڑ رہا تھا . . . . " چلو ادھر آ جاؤ اور کلاس میں جتنے لڑکے ہے انہیں بھی بلاؤ . . . " جس نے بیگ تانگ رکھا تھا وہ بولا . . . کلاس میں جتنے لڑکے تھے ان سب کو بلا لیا گیا ، میں دِل ہی دِل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ کہی سے کوئی ٹیچر آ جائے . . . . لیکن کوئی نہیں آیا ، سب اپنا پیٹ پوجا کرنے میں لگے ہوئے تھے . . . . . " تیرا نام کیا ہے . . . . " مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے وہ بولا . . . . " جی . . جی . . جی . . . " میں ہکلایا . . . سچ تو یہ تھا کہ وہاں کھڑے ہر لڑکے کی بری طرح سے پھٹ چکی تھی . . . " نام کیا ہے انجینئر صاحب آپ کا . . . " " ارمان . . . " میں نے ایک پل كے لیے اس کی طرف دیکھا اور جواب دے کر وآپس اپنی گردن نیچے کر لی . . . . " دِل كے ارمان آنسوں میں بہہ گئے . . . . " وہ گانا گاتے ہوئے میرے پاس آیا اور بیلٹ كے قریب سے پینٹ کو پکڑ کر زور سے ہلاتا ہوا بولا " یہاں کیا کرنے آتا ہے . . . " " پڑھنے . . . " " تو پھر کل سے فورمل ڈریس میں آیا کر ، ورنہ یہی سے نیچے پھینک دوں گا . . . سمجھا " " جی . . . جی . . . جی سر . . . " ( تیرا باپ دیگا پیسہ فورمل ڈریس خریدنے کا ، سالے چوتیے . . . ) " چل ریلکس ہو جا . . . " بیلٹ چھوڑ کر میرا کندھا سہلاتے ہوئے وہ بولا " میرا نام جانتا ہے . . . . " " نہیں . . . . " " میں ہوں سلطان میرانی. . . . سمجھا ، کل سے اسٹوڈنٹ کی طرح دیکھنا . . . " ان دو چوتیوں کو میں اکیلا ہی نظر آیا تھا کیا جو میری عزت کی ماں بہن ایک کر کے چلے گئے ، ان کے جانے كے بَعْد پتہ چلا کہ وہ دونوں مائننگ سبجیکٹ كے تھے . . . . . " یہ تو مائننگ كے تھے ، اس کا مطلب مکینیکل والے بھی کچھ دنوں میں اپنا دیدار کا شرف دینگے . . . " ہر کالج میں الگ الگ قانون چلتا ہے ، ہمارے یہاں تنظیم سازی تب ہوتی تھی ، جب کچھ ہفتے نکل جاتے تھے . . . شہر میں رہنے والے تو پھر بھی بچ جاتے تھے ، لیکن ہاسٹل والوں کی ایسی تیسی ہو جاتی تھی . . . . اس دن بریک كے بَعْد ہم سب کے من میں یہی سوال گھوم رہا تھا کہ ان سب سے کیسے بچا جائے ، اور اس دن كے باقی كے پیریڈز اسی خوف میں نکل گئے ، . . . میں اور اظہر کالج کی چُھٹّی كے بَعْد ہاسٹل کی طرف ہی جا رہے تھے کہ ہاسٹل سے تھوڑی دور پر ایک ہجوم دیکھائی دیا . . . . . " سن وہ دیکھ ، وہی لوگ ہوں گے . . . " اظہر وہی روک گیا اور مجھ سے بولا " اِس رستے سے مت جا ، سامنے سینیرز کھڑے ہے . . . . " ہم دونوں دوسرے رستے سے جانے كے لیے پیچھے مڑے ہی تھے کہ کسی سینیر نے ہمیں دیکھ لیا اور اُدھر آنے كے لیے کہا ، جہاں ہجوم جمع تھا . . . . " واپس کہاں جا رہے تھے سر . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ایک نے بولا . . . " وہ موبائل رہ گیا ہے ، کلاس میں . . . " " اچھا . . . " اس نے میرا بیگ ایک جھٹکے سے کھینچا اور بیگ کی چین کھول کر پورا سامان راستے میں ہی الٹا کر بیگ میرے ہاتھ میں تھما دیا . . . . " اپنا سامان اٹھا اور دفع ہوجا یہاں سے . . . " میں نے ایک ہاتھ میں اپنا بیگ پکڑ کر اپنی بکس اور رجسٹر کو اٹھانے كے لیے جھکا ہی تھا کی اس سینیر نے میری گانڈ پر زور سے ایک لات ماری اور میں وہی منہ كے بَل گرا . . . . " بیوقوف سمجھ كر رکھا ہے . . . " پیچھے سے اس کی آواز آئی ، میری ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہوچکی تھی ، اور اس وقت وہ وہاں اکیلے ہوتا تو اس کو اتنا مارتا کہ تنظیم کا نام لکھنا تک بھول جاتا وہ ، لیکن میں اٹھتا اس سے پہلے ہی اس کے کچھ اور دوست آ گئے ، اور اس کو پکڑ کر بولے کہ . . . " ابھی نہیں ، بَعْد میں دیکھ لینگے ان دونوں کو . . . " جس کے جواب میں وہ چلایا کہ " کمینہ جھوٹ بولتا ہے ، تو روک آج رات تیری دھولائی کرتے ہے ، بھاگ کمینے. . . "1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 likeہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ، جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . . خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ، یادوں کی راکھ ، جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی اجڑاتے ہے ، کبھی کبھی آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . . " کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ، چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . . " جی بھائی . . . " " شراب ، سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . " " جی بھائی . . . " " اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . " " جی بھائی . . . " میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ، جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . . سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ، اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . . بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ، اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ، وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ، کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . . کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے الگ تھا ، لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے آئینگے ، جب سے یہ سنا تھا ، دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ، ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ، وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . . پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ، اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . . " گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . " ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ، " یہ ، یہ کیا کر رہے ہو. . . " میں نے چلاتے ہوئے بولا . . . " چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . . بہت بھاری ہے . . . . " " تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . " " بالکل سہی سمجھے ، اور میرا نام ہے اظہر. . . . " " ارمان . . . " میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ، اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . . آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ، لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ، اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ " میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . " کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ، اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ، لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . . " جاؤں گا نہ . . . " " نو بجے کالج شروع ہوتا ہے . . . " " تو . . . . " بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . . " تو ، تیار نہیں ھونا کیا ، ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . " " دیکھو ، میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ، جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . " " لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . " اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ، آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . . فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ، تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ سکے ، اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . . لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . . " یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . " راستے میں، میں نے اسے پوچھا . . . " مکینیکل . . . " کاشف نے جواب دیا ، " میرا بھی مکینیکل . . . " تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا " مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں بیٹھینگے . . . " " روک روک . . . " مجھے کاشف نے روکا ، ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ، یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . . " کیا ہوا . . . " " اُدھر دیکھ ، کچھ سینیرز کھڑے ہے . . . پیچھے کے راستے سے چلتے ہے . . . " " تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . " " مجھے سب معلوم ہے ، چل آجا . . . " ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . . " تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . " " ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ، انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . " جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ، کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ، یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . . جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ، جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ، وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ، جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . . " کوئی فائدہ نہیں ہوا ، " اظہر بولا " وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ، دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی ہے ، ایسا میں نے کہی سنا تھا ، لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ، جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ، ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . . " یار ، کیا مال ہے . . . " میں نے اظہر سے کہا . . . " چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ، سن پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . " " یار یہ لڑکیاں ہے ، اتنا کیوں دَر رہا ہے . . . گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی . . . " میں نے مردانہ آواز میں بولا ، " یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ، لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . " " اچھا کرنا کیا ہے ، یہ بتا . . . " " کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . " " اوکے . . . " میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو . ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ، اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ، دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ، ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے اَرْمان پورا کروں . . . لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . . " اوئے ماں کے لال . . . " ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . . " شاید میرے کان بج رہے ہے . . . " " نہیں بیٹا ، یہ کان نہیں بج رہے ہے ، یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . " " تو اب کیا کرے ، تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ، کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . " " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا، بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . " " جلدی بتا ، کرنا کیا ہے . . . " میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ، اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ، لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ، تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . . " بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . " " ماں کے لاڈلو ، سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . " جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . . " جی . . . جی . . . میم ، آپ نے ہمیں بلایا . . . " اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ، میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . . " تم ہٹو . . . " اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . . " اور چکنے کیا حال ہے . . . " " جی ٹھیک. . . " کانپتے ہوئے میں نے کہا ، اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . . " سگریٹ پئے گا . . . " اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . . میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ، لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . . میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ، اور سگریٹ ، شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ لوں گا . . . . " چلو سگریٹ جلاو . . . " ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی بات آئی . . . " ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . " " جی بھائی . . . " " میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . " ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . . " کیوں کمینے، تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . " ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی دے سکتی ہے ، میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . . تب اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . . " تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . " ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . . " اب کلاس چلے . . . " جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ، لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ، جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ، لیکن اصلیت یہ تھی کہ یہ سب صرف ایک دکھاوا تھا ، میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . . " وہ دیکھ اس چشمے والی کو ، دیسی آم لگ رہی ہے ، اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . " شریف تو میں بھی نہیں تھا ، لیکن اِس طرح سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ، جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . . لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . . " فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . " میں نے اظہر سے پوچھا ، . . . " یار ، میرا بھی آج پہلا دن ہے . . . اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . " فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ، اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ، میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ، لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ، اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ، مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ، جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ، وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ، ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . . " کچھ بھی بول یار تنویر ، لیکن کالج اچھا ہے ، یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . " پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ، اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . . " ارمان ، ناٹ تنویر . . . " " اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . " " پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . " میں بڑبڑایا اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . . " گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . " اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم اندر آئی ، میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ، 5 ’ 8 " لگ بھگ قد، ماڈلز والی کمر ، گورا رنگ . . . . اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ، " بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی، جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . " اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . . اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ، جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . . اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ، اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ، بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ، کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ دس اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . . " یہ میڈم کون ہے ، اس کی ماں کی . . . " اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا " باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . " "حوصلہ کر بھائی . . . " اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . . " میرا لنڈ حوصلہ کر ، اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . " " حویلی . . . . " " تو بچہ ہے ابھی ، منٹو کو پڑھ ، یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . " اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ، یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ، سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ، یہ تو سچ تھا ، لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو بولنے لگے تھے کہ" سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . " سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . . سَر كے ، اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ، جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ، اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی شکلیں بنی ہوتی تھی ، یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ، لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ، سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ، انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ، کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . . " تمہارا نام کیا ہے . . . . " " سنائی نہیں دیتا کیا . . . " " یار تجھے بول رہی ہے ، کھڑے ہو . . . " اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . . اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا گیا تھا ، جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . . " یس میم . . . " میں اٹھ کھڑا ہوا ، میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو دیکھ کر ہوتی ہے ، " پہلے ہی دن ، پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . " سچ بتاؤں ، تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . . " تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا .1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 likeسعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . " سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . " " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" لنڈ . . . . " " بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد چوت ، جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . " سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ، جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ، انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی سعدیہ كے ساتھ تھا . . . . " میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ، اور اس کی رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . . یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ سعدیہ حیران رہ گئی . . . اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . " " تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے . . . " میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ، سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . وووہ ہ ہ ہ. . . . . " سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ، وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ، میں وہ سب کچھ کروں ، جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . . میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ، اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . . میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . اوئی ی ی ی ی " اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ، اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . . میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . . اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . . میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے اندر باہر کرنے لگا ، . . . کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے آگے پیچھی کرتی . . . . میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی ، اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار بہت زور سے مسئلہ ، اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری سسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا ، لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ، ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ، اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . . " ش ش ش ش . . . یہ کیا کر رہے ہو . . . " سعدیہ بولی . . . " کچھ نہیں ، بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . " اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ، اس لئے وہ تیار نہ تھی ، اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ، وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . . سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو نکلنے کی بھی کوشش کی ، لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ، اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . . سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ، جو مجھے اور مزید جوشیلا کر تھی ، سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . . میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ، اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ، جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا ، سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ، اس کا گورا جسم ، درد اور مستی سے لال پیلا ہو رہا تھا " میں . . . اب . . . آہ ہ ہ ہ . . . . ارمان . . . آئی لوو یو . . . . س س س س س . . . . یس س س س . . . . . " سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ، اب میں نے اس کے گالوں کو زور سے سہلایا اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . . وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ، اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . . میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . . ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . . پھر اس نے ایسا کچھ کہا ، جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . . " دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . . دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . " سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ، جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے لیے کہا . . . سعدیہ ، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ، میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر تک دھنسا تھا . . . . میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی " تم نے ابھی جو کہا ، اس کا مطلب کیا ہوا . . . " " میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . " جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . . " میں مذاق کر رہی تھی . . . " وہ بولی " اصل میں ، بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . " " گڈ ، لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . " میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . . " میں جاننا چاہتی تھی کہ ، تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، اور ہستی ہوئی بولی . . . " اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ، یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . " میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ، اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . . " میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ، میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ، جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ، تو وہ بہت اُداس ہوئے ، کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . . سعدیہ پلیز مت جاؤ ، میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ، تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ، کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ، ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . " " بے فکر رہو ، میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . " میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ، میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . . میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی . . . . تمہیں ، اک بات بتاؤں . . . آہ ہ ہ ہ . . . " " ہاں بولو . . . " " ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا پڑا . . . . تھوڑا آرام سے ڈالو ، ابھی ابھی فارغ ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . " " اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . " میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ، سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . . " پلیز اسٹاپ . . . . " " اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . " " اِس گاڑی کو ابھی روکو ، رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . " اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی " تمہیں کیا ، تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ، یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی ہوں . . . اٹھو ابھی . . . " دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ، لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ، اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ، اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . . " اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . " وہ ایک بار پھر مسکرائی ، اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم كے طرف بڑھی . . . . دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں، لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . . جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . . جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . . میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ، دو تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ، سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ، وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ، ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . . شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ، شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ، کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ، کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . . لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ، وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . . شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . . سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ، جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ، پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . . میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ، اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . . " ارمان ، ذرا اوپر تو آنا . . . . " " کون . . . " آواز سن کر میں بھوکلایا ، لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . . " اسی نے بلایا ھوگا . . . " میں نے خود سے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ، مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ، اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" ارمان . . . ارمان . . . اٹھ ، ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . " کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال دی . . . . " ٹائم کتنا ہوا ہے . . . " آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ، اور گھڑی پر نظر گھمائی ، صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . . بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . . کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ، جہاں ہم رہتے تھے ، وہ ایک پوش علاقہ تھا ، جس کا نام گلشن حدید تھا جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا ، . . . اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . . میرے ساتھ کیا ہوا ، میں نے ایسا کیا کیا ، جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ، یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . . کاشف پریس میں کام کرتا تھا ، اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . . " اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ، ٹائم نہیں بچا ہے . . . . " میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . " اور پی رات بھر شراب، کمینے خود کو دیکھ ، کیا حالت بنا رکھی ہے . . . " " اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . " میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . . " اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . " کاشف بولتے بولتے روک گیا ، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . . وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . . " وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . " " کون . . . " میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . . " سعدیہ . . . " " سعدیہ . . . . " میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ، تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . . " کیا بول رہی تھی وہ . . . " " مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ، ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے . . . " " اوکے . . . . " سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ پڑے . . . . . سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . . سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ہر گلی ، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . . اِس علاقے میں میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ، یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . . وہ جب بھی ، جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . . دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ، اسے بات کرنا بند کر دوں ، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . . کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ، جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ." کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . . ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . . میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی کال پھر آنے لگی . . . " ہیلو . . . " میں نے کال ریسیو کی . . . " گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . . " " اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ، اس کی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . . " " اوہ ہو . . . تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . . گھر بلکل خالی ہے . . . . " " ٹھیک ہے ، رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . " کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . . " كھانا ، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . " " ٹھیک ہے ، میں آ جاؤںگا . . . " سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . . میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ " ریلکس بھڑوے ، جو کچھ بھی ہوا ، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل ، فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ، اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . " لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . . یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل پلانٹ میں میں کام کرتا تھا ، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . . بلو شرٹ . . . " ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں آیا . . . کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . . " چل ، ہاتھ منہ دھو لے . . . شراب پیتے ہے . . . " ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . . " میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . " " ارے واہ. . . مطلب آج پوری رات ، لیو میچ ہونے والا ہے . . . " " لیو میچ تو ھوگا ، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . " " کمینے ، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . . میں مر گیا تھا کیا . . " شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف نے کہا " ارمان ، ایک کام کر . . . تو سعدیہ سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . " " مشورہ اچھا ہے ، لیکن مجھے پسند نہیں . . . " " تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ، زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . " کاشف غصے میں بولا . . . . " میں چلتا ہوں . . . " یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . . سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ، یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا تھا . . . . وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ، تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ، جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . . " آ جاؤ . . . " سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . . " صبر کرو تھوڑی دیر . . . . " میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ، میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . . میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی " تم ڈاکٹر ہو . . . " اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں ، میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . . " میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . . " ارمان ، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . " " چدائی . . . " میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ، اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . . سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ، اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . . میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ، اِس وقت میرے ہاتھ اس کی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے ، میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . دھتھ . . . " وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . . " نائس براہ ، کافی اچھا لگ رہا ہے ، تم پر . . . . " اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان یہ براہ ، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . " " کیوںکہ اِس براہ كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے " اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ، ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ، لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . . سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا . . . " منع کیا نہ . . . آہ ہ ہ اوں " سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی " کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے مت دبایا کرو . . . " میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . . میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . . میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ، وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . . " جلدی . . . . . پلیز . . . میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’ . . . . . " میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . . اس کی آواز کانپ رہی تھی . . . جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . . میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ، کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . . " تم جانتے ہو ، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .1 like