Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 23/02/24 in all areas

  1. خالق نے میری طرف ایک نظر ڈالی اور آہستہ آہستہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے کرکے خود کو بھی اور مجھے بھی جنسی تسکین دینے لگا، میری آنکھیں آہستہ آہستہ سرور میں بند ہونے والی تھی لیکن کلاس کے اندر بائیو کے ٹیچر کی موجودگی کی وجہ سے اپنی آنکھیں بند نہ کرسکا۔ میں نے خالق کو بھی روکنا مناسب نہ سمجھا۔ میں نے اپنا سر گھوما کر بائیو کلاس کی کھڑکی سے اندر کی طرف دیکھا تو وہاں بائیو سر اور وہ سٹوڈنٹ موجود نہ تھے۔ خالق سرگوشی کرتے ہوئے:سر چلے گئے نا! میں(لڑکھڑاتی آواز میں): ہاں۔۔۔ خالق(مسکراتے ہوئے): ایسے مارتے ہیں مُٹھ۔۔ (میری سمجھ میں خالق کی بات آرہی تھی، میں اس وقت انجانی کیفیت میں مبتلا اپنے خشک پڑتے گلے کو تر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ تبھی خالق کے لُنڈ نے اپنا پانی چھوڑنا شروع کردیا میں بڑے غور سے اس عمل کو دیکھ رہا تھا۔) خالق اپنی پینٹ کو چڑھا کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا خالق:۔ ویسے میری جان نے کافی تازہ بنا رکھا ہے اپنے شیر کو۔۔۔ جیسے ہی خالق کا مثبت کمنٹ کو میں نے سنا تو میری نظر میرے ہتھیار پر پہلی بار گئی۔ میں نے پہلی مرتبہ اپنے شیرکی طرف دیکھا جو تن کر خالق کے ہاتھ میں لہرا رہا تھا ۔خالق اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں: بس کر یار۔۔۔ چل یہاں سے۔۔۔ (خالق کے چہرے پر ہلکی سی حیرت کی لہر چھائی پھر خالق نے اُسی وقت میرے لنڈ پر اپنے منہ میں موجود تھوک کو پھینکا اور تیزی سے مٹھ لگانے لگا۔ خالق تو اپنے کام میں مصروف تھا لیکن مجھ سے مزید کھڑا رہنا محال ہوتا جارہا تھا۔ میں نے ایک منٹ تک خود کو روکے رکھا پھر خالق کو پیچھے کر کے وہاں سے نکل آیا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ میرا پانی کیوں نہیں نکلا جبکہ خالق کا پانی نکل چکا تھا۔ میں جب سکول سے نکل رہا تھا تب خالق نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔ جیسے ہی ہمیں تنہائی ملی اسی وقت خالق نے اپنی جیب سے ایک کالے رنگ کا شاپر نکال کر مجھے دیا۔ ’’اس میں ایک چیز ہے اسے تُو اپنے ہتھیار پر ملتے رہنا ایک نہ ایک دن تیرا بھی پانی نکل جائے گا۔ نہ بھی نکلے تُو بس اس چیز سے مزے کرتے رہنا اور ہاں۔۔۔ کسی کو دیکھانا مت۔۔۔ یہ نہ ہو کہ تیری امی تیرے ساتھ ساتھ مجھے بھی میرے گھر سے نکلوا دیں۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور گھر کے لیے نکل پڑا۔ گھر پر جب اکیلا تھا تب میں وہ شاپر نکالا اور ہاتھ ڈال کر وہ چیز نکالی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کی کپ شیپ کی درمیانی سائز کی برا تھی۔ سائز کا مجھے علم نہیں تھا کیونکہ اس برا پر ٹیگ نہیں تھا۔ اس برا سے ہلکی ہلکی بو آرہی تھی جو انسانی جسم کی ہوتی ہے۔میں دن کے ہوئے واقعے کو یاد کرتے کرتے آہستہ آہستہ اپنے کپڑے اپنے جسم سے اتارنے لگا۔ میں جب بلکل ننگا ہوگیا تب میں نے فرش پر لیٹنے کا فیصلہ کیا اور ویسا ہی کیا۔ خالق بتایا کرتا تھا کہ جب اس کی گرل فرینڈ کو جب بھی بیماری لگتی تھی تب وہ اپنی گرل فرینڈ کی برا اور پینٹی کا استعمال کرتا تھا۔ میں ان تمام باتوں کو یاد کررہا تھا اور اس برا کو سونگھتے ہوئے شہوت کی دنیا میں کھونے لگا۔ آہستہ آہستہ میرے لنڈ میں جان پڑنے لگی تھی۔ خیر،،، اس ساری کروائے کے دوران میں وہی کرتا رہا جو آج کل کے لڑکے باتھ روم یا پرائیویٹ روم میں کرتے ہیں۔ پھر جب ہوش آیا تو میں نے اس برا کو دوبارہ اسی شاپر میں ڈالا اور چھپا دیا۔ جب بھی موقع ملتا میں یہ کام لازمی کرتا۔ اس سارے کام میں میرا پانی نہیں نکلا۔ شاید میں اس وقت بالغ نہیں تھا۔آخری اردو پرچے والے دن میں نے خالق کو وہ برا واپس کردی۔ خالق نے مجھے روک لیا جب ہمیں سکول میں تنہائی ملی تو اسی وقت خالق نے اس برا کو شاپر سے نکال کر الٹ پلٹ کر دیکھا میں سمجھ گیا کہ خالق اپنی گرل فرینڈ کی برا پر کیا ڈھونڈ رہا ہے۔ خالق: ٹوائلٹ چل۔۔۔ وہیں چلتے ہیں۔۔۔ میں خالق کے پیچھے چل پڑا۔ خالق نے میری پینٹ سے میرے لنڈ کو آزاد کروایا جو کہ اسی خوشی میں کچھ نہ کچھ ہارڈ ہو چکا تھا۔ خالق میرے ہلتے ہوئےلنڈ کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ خالق نے مجھے ایک صاف جگہ پر بیٹھا دیا اور خود بھی میرے قریب بیٹھ کر میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر مسلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگا۔ جب میرا لنڈ تن کر تیار ہوگیا تب خالق نے اپنی گرل فرینڈ کی برا کو میرے لنڈ پر ایسے لپیٹا کہ میرا سارا لنڈ اس برا میں چھپ گیا۔خالق میرے لنڈ پر مٹھے لگائے جارہا تھا جبکہ مجھے مزے کے ساتھ ساتھ میرے لنڈ پر درد بھی ہونے لگا۔۔۔ خالق: یار۔۔۔ تیری عمر کتنی ہوگئی ہے؟ (سوچتے ہوئے)پھر بھی تیرا پانی نہیں نکل رہا۔ میں(خالق کی بات سن کر آہستہ سے بولا): تیرا کب نکلا تھا؟ خالق میری بات سن کر رک گیا۔خالق اس قدر اپنی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے لنڈ میں جو جان پڑی ہوئی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ میں عثمان کو اپنی کہانی سناؤ یا نہ سناؤ؟ خالق نے میرے لنڈ کو چھوڑ کر خاموشی سے ٹوائلٹ میں سے باہر چلا گیا ۔ میں نے اپنا یونیفارم ٹھیک کیا اور خالق کے ساتھ جا بیٹھا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.