Leaderboard
-
devilspell
Active Members14Likes102Posts -
Geegenious
Active Members9Likes177Posts -
rameez
Darmat Members6Likes50Posts -
Gujjar*123
Active Members3Likes473Posts
Popular Content
Showing most liked content on 02/08/23 in all areas
-
آپ بیتی
2 likesUpdate 012 ابھی ہم کچھ سوچ ہی رہے تھے تھے کہ کیا کریں ایسے میں تیسری بار دروازے پر دستک ہوئی اس بار دستک کچھ زیادہ ہی دور سے ہوئی تھی صاف پتہ چل رہا تھا کہ دستک دینے والا سخت غصے میں ہے میں نے اپنی نظروں کے زاویے کو آگے پیچھے کر نا شروع کر دیا ایسے میری نظر بائیں طرف والی دیوار پر پڑی یہ دیوار کوئی تین سے چار فٹ کی ہوگی مہوش کے گھر کی یہ دیوار کافی چھوٹی تھی اس دیوار کے بالکل ساتھ ہیں میرے گھر کی دیوار تھی میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی میں بھاگتا ہوا گیا اور اس چھوٹی دیوار پر چڑھ گیا اس دیوار پر پوری طرح چڑھنے کے بعد میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار سے نکلی ایک بڑی سی آر سی سی کی بیم کی طرف پہنچ گیا میں نے فورا اس پر اپنا ہاتھ رکھا لکھا اور پوری طاقت سے اپنے آپ کو اوپر اٹھایا دراصل مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا اور اکثر کسی کے گھر گیند چلے جانے پر ہم میں سے ہی کسی دوست کو چپ چاپ چھت پہ چڑھ کے اتارنا ہوتی تھی اس طرح گیند اتار کے مجھے دیواروں پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو چکی تھی میں نے بین پہ پتھر رکھ کر اپنے آپ کو اٹھایا اور اپنی ٹانگ دیوار سے باہر نکلے سیمنٹ کے او پر رکھ کے ہلکا سا سہارا لیا اتنا میرے لئے کافی تھا کہ میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار کے اوپری اس سے پر جا سکے میں نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھا کر دیوار کے اوپری حصے کو پکڑ لیا اور پھر اپنا بایاں ہاتھ بھی رکھ دیا پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے پورے بدن کو اٹھا کے اپنے آپ کو دیوار پر چڑھانے میں کامیاب ہوگیا نوشین اور مہوش حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں اوپری دیوار پہ چڑھنے کے بعد اب میرے لئے کوئی مشکل باقی نہیں رہی تھی کیونکہ اس دیوار سے اترنے کے بعد ہی میرے گھر کے اوپری منزل کا صحن تھا میں صحن میں اترا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا میں دبے پاؤں اپنے کمرے میں آیا میرا کمرہ اوپری منزل پر ہی تھا اس لیے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی کمرے میں آ کے میں نے چپ چاپ دروازہ بند کیا اب میں خطرے سے باہر تھا لیکن گانڈ پھر بھی پھٹی پڑی تھی پتہ نہیں مہوش اور نوشین نے منا کو کیسے سنبھال ہوگا خیر میں دل میں سوچنے لگا کہ اب تو میرے باپ کی توبہ جو میں کسی چوت کے پیچھے بھاگوں لیکن ہم سب جانتے ہیں ہیں کہ یہ بات صرف تھوڑی دیر تک کی ہوتی ہے جہاں خطرہ ٹلا اور دماغ تھوڑا ہلکا ہوا وہیں لنڈ کو چوت کی لگ جاتی ہے میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھوڑی دیر تک تو کمرے میں بیٹھا ڈراؤنے خیالات کو سوچتا رہا ایسا لگتا تھا کہ ابھی گھر کا دروازہ بجے گا اور منا گھر میں گھس آئے گا اور مجھے مارتا وہ گھر سے لے کے جائے گا لیکن کافی وقت گزرنے کے بعد بھی ایسا کچھ نہ ہوا جب تقریبا دو گھنٹے گزر گئے تو مجھے تھوڑا سکون ہوا موبائل پر ابھی تک مہوش یا نوشین میں سے کسی کا میسج نہیں آیا تھا پہلے میں نے سوچا کہ میسج کروں اور پوچھوں کے کیا بنا پھر میں نے سوچا کہ وہ لوگ خود ہی میسج کریں گی یہ سوچ کر میں نیچے چلا گیا نچلی منزل پر سب نارمل تھا امی بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی اچانک مجھے دیکھ کر چونکی اور کہا بیٹا تم تو باہر گئے تھے تھے میں نے جواب پہلے سے سوچا ہوا تھا میں نے کہا مجھے تو آئے ہوئے کافی دیر ہوگئی آپ اس وقت اندر ہو نگی شاید میرے جواب سے امی تھوڑی مطمئن ہو گئیں اور سر جھٹک کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں میں واپس اوپر آیا واپس آکر موبائل دیکھا تو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا2 likes
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 001 ہیلو دوستو یہ کہانی میری اپنی کہانی ہے بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے جو بھی تجربات کیے ان سب کو ایک کہانی میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کہانی میں جو بھی واقعات ہونگے و سب کچھ مرچ مصالحے کے ساتھ ہیں لیکن ہیں سب سچے۔ اس کہانی میں کرداروں کے نام غلط ہونگے کیونکہ میں نہیں چاہتا اگر کوئی میرا جاننے والا اس کہانی کو پڑھ لیے تو مجھے پہچان جائے۔ سب سے پہلے تو آپ مجھ سے مل لیں۔ میرا نام وقاص ہے۔ شکل سے خوبصورت اور قد کاٹھ درمیانہ ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ آگے چل کر کہانی کے دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاؤنگا۔ یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میں دس سال کا تھا۔ سیکس کے بارے میں مجھے اسکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وجہ میرے چند دوست تھے۔ ہر انسان کی طرح مجھے بھی سیکس میں بہت دلچسپی تھی۔ اس وقت چائنا کے فونز نہیں آئے تھے۔ تو اگر کسی کو بلیو فلم دیکھنی ہو تو dvd یا cd پلیئر پر دیکھنا پڑتا تھا۔ اور ایسا موقع تبھی ہاتھ لگتا تھا جب گھر میں کوئی نہ ہو۔ میںنے اَپنی زندگی کی بلیو فلم اس وقت دیکھی تھی جب میرے لن سے منی بھی نہیں آتی تھی۔ خیر زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور میں نے اپنی جوانی میں قدم رکھا۔ ہماری گلی میں ایک آنٹی ہوا کرتی تھیں۔ جن کا نام کنول تھا ۔ کنول آنٹی ویسے تو شادی شدہ اور بچوں والی عورت تھیں۔لیکن خوبصوتی میں اُن کے آگے جوان لڑکی بھی پھیکی پر جائے۔ آنٹی کا جسم بلکل کسی جوان لڑکی کی طرح کا تھا۔کوئی بھی انکو دیکھے تو دھوکہ کہا جائے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔ کنول آنٹی کے تین بچے تھے اور تینوں بیٹیاں۔ آنٹی کے شوہر فیکٹری میں ملازم تھے۔ کنول آنٹی کے بہنوئی رحمت بھی ہماری ہی گلی میں رہتے تھے کرائے کے گھر میں۔ آنٹی کا ہمارے گھر اور ہمارا آنٹی کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مجھے آنٹی اتنی اچھی لگتی تھیں کے میں اپنے گھر سے زیادہ وقت اُن کے گھر میں گزارتا تھا۔ آنٹی بھی مُجھسے بہت پیار کرتی تھیں۔میں آنٹی کے گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے بازار سے سامان لے انا۔ٹینکی کی صفائی کر دینا وغیرہ کر دیا کرتا تھا۔ آنٹی k بہنوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکثر آنٹی کے گھر ہے ہوتے تھے۔ کبھی لڈو تو کبھی شطرنج کھیلتے رہتے تھے۔ میں جب جاتا تو میں بھی کھیل میں شامل ہو جاتا۔ رحمت انکل کو میں رحمت بھائی کہتا تھا حالانکہ ہماری عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔وجہ یہ تھی k رحمت انکل بہت فرینک تھے کسی بھی بات کا بڑا نہیں مانتے تھے اور سیکس کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے تھے۔ مجھے آنٹی بہت پسند تھیں اور میں انہیں چودنا چاہتا تھا۔ لیکن ڈر بھی لگتا تھا کہ اگر آنٹی برا مان گئیں اور میرے گھر میں بتا دیا تو میرے ابو مجھے جان سے مار دینگے۔ ایک دن آنٹی کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اسے گُدگُدی کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر آنٹی کے پاس چھپ گئی میں بھی بھاگ کے آنٹی کے پاس گیا اور اس کی پکڑنے لگا کے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے جان بوجھ کے آنٹی کی بیٹی کے ہاتھ کے بجائے اونٹنی کا دایاں تھن پکڑ لیا اور زور سے دبا کے چھوڑ دیا۔ اور ایسا بن گیا کے یہ غلطی سے ہوا ہے۔ آنٹی نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے نظریں نیچے کر لیں۔ اور پھر گھر آ گیا۔ ایک دن میں اسکول سے آ کے اپنے معمول k مطابق آنٹی کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو میں عادت کے مطابق دروازے کی جھرری سے اندر جھانکنے لگا۔اور مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا کے رحمت اُنکل اپنی شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے دروازہ کھولنے کا رہے تھے۔ پھر انکل نے دروازہ کھولا اور میں اندر گیا تو گھر میں انکل اور آنٹی کے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی آنٹی کی بیٹیاں کہیں گئی ہوئی تھیں۔اب میں اتنا بچہ بھی نہیں تھا جو یہ نہ سمجھ سکوں کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا چل رہا تھا۔ خیر میں نے یہ بات اپنے تک ہی رکھی اور انکل اور آنٹی پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ کچھ دیں ایسے ہی گذرے اور رحمت انکل نے اپنا گھر تبدیل کر لیا اور ہمارے علاقے سے دور چلے گئے۔ انکل کو گئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کے میں اسی طرح آنٹی کے گھر میں بیٹھا آنٹی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔آنٹی کی بیٹیاں میرے گھر پر تھیں۔ میں: آنٹی ایک بات کہوں؟ آنٹی: ہاں بول میں: رہنے دیں آپ برا ماں جائینگی آنٹی: ارے آج تک تیری کسی بات کا برا مانا ہے میں نے؟ میں: آنٹی آپ رحمت انکل کے ساتھ اکیلے میں کیا کرتی تھیں؟ آنٹی کے چہرے کا رنگ اچانک سے اُڈ گیا۔ آنٹی:کیا مطلب؟ میں: مُجھے سب پتہ ہے آنٹی،آپ فکر نہ کریں میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤنگا۔ آنٹی کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئیں۔ آنٹی: وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتائیگا۔ میں: پکہ وعدہ آنٹی۔ آنٹی نے میرے گال پر ایک کس کی۔ آنٹی: لیکن تُجھے پتہ کیسے چلا؟ میں نے آنٹی کو چند دیں پہلے کی ساری بات بتا دی۔ آنٹی: یار یہ رحمت بھی چُوتیہ ہے ایک نمبر کا۔ میں: آنٹی ایک اور بات پوچھوں؟ انٹی: ہاں وہ بھی پوچھ لے۔ میں: اونٹنی آپ نے ایسا کام کیوں کیا؟ آنٹی: تُجھے تو پتہ ہے تیرے انکل کا صبح سویرے كام پر جاتے ہے تو رات کو دیر سے آتے ہیں۔ اور تھکن کی وجہ سے آتے ہی سو جاتے ہیں۔ میں: تو آنٹی اب آپ کیا کرینگی؟ اب تو رحمت انکل بھی چلے گئے۔ آنٹی: کرینگے کچھ یہ ایسے ہی رہ لینگے۔ میرا دل کر رہا تھا کہ کاش آنٹی مجھے کہہ دیں کہ اب سے تو مجھے چود لیا کرنا۔لیکن آنٹی نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeکنٹین والی لڑکی دوستو یہ اس فورم پر میری پہلی کہانی ہے بلکہ زندگی کی پہلی کہانی ہے ۔ میں اس کہانی کا راوی اس کہانی کے مرکزی کردار سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ہوی مجھے اس کی زندگی کے واقعات اتنے دلچپسپ لگے کے میں نے انہیں آپ لوگوں کے لیے تحریری شکل دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس لیے اگر اس کہانی میں کوی تکنیکی خامی اور کوتاہی ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں ۔ اب کہانی کو اس کے مرکزی کردار کی زبانی شروع کرتے ہیں ۔ میرا نام صندل ہے اور میری عمر اس وقت چون برس ہے ۔میری کہانی کا آغاز آج سے تقریبا چالیس برس پہلے ہوا۔ میرے والد اسلام آباد کے ایک سرکاری گرلز اسکول میں مالی تھے ہم پانچ بہن بھاءی تھے تین بہنیں اور دو بھاءی۔ اسلام آباد کے ہر اسکول میں پہلے وسیع قطعہ اراضی بھی ہوتا تھا اور کھلی جگہ ہوتی تھی ۔ اسکول میں پہلے سے دو کوارٹر تھے جن میں ایک چوکیدار چاچا کے پاس تھا اور دوسرا ڈرایور کے پاس تھا۔ ابو نے پرنسپل میڈم سے بات کی تو انہوں نے ترس کھا کر ابو کو کہا کہ تم اسکول کی دیوار کے ساتھ جنگل کی طرف دو کمرے بنالو،ابو نے وہاں جگہ بنالی اور اپنی فیملی یعنی امی اور ہم سب کو بنوں کے ایک گاوں سے اسلام آباد لے آے ۔ پرنسپل بھی پٹھان تھیں اور ابو بھی پٹھان اس لیے وہ ہمارا بہت خیال کرتی تھیں ۔ جب امی یہاں آییں تو میں اس وقت دس سال کی تھی اور بہن بھاءیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ ابو نے مجھے اسی اسکول میں داخل کرادیا ۔ جب میں نے آٹھویں جماعت پاس کی تو میری عمر چودہ برس تھی اسی سال میرے والد کا انتقال ہوگیا ۔ اور ہماری زندگی میں ایک بھونچال آگیا ۔ میری امی بالکل ان پڑھ تھیں انکا کوی بھاءی بہن نہیں تھا ابو کے بھاءی بھی انکے خلاف تھے تو ہمارے گاوں جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو تا تھا ۔ اس موقع پر پرنسپل میڈم سعدیہ خٹک نے میری امی کو کہا کہ تم لوگ اس کمرے میں رہو اور تم میرے گھر میں کام کرلیا کرو تمہیں مہینے کے پیسے اور راشن دے دیا کروں گی ۔ امی تیار ہو گیءی ۔ابو کی وفتا چونکہ سروس کے دوران ہوی تھی اس لیے ہمیں پچیس ہزار روپے ملے جو اس وقت بہت مناسب رقم تھی امی نے میڈم سعدیہ کے کہنے وہ رقم بنک میں جمع کرادی۔ میرا اب پڑھای میں بالکل دل نہیں لگتا تھا ۔ پرنسپل میڈم نے مجھے اسکول کی کنٹین میں کام دلوادیا۔ امی کو بھی تسلی تھی کہ اسکول کے اندر ہر کام ہے اور اسکول بھی لڑکیوں کا ہے ، میری تنخواہ اس وقت تین سو روپے تھی ۔حیران نہ ہوں انیس سو اسی میں تین سو ایک بڑی رقم تھی جب آٹا ۲روپے کلو تھا ۔ کنٹین کو ایک پینتیس سالہ بیوہ رقیہ باجی چلاتی تھیں ،میں صبح چھ بجے کنٹین پہنچتی ، کنٹین کی صفاءی کرتی تمام برتن ترتیب سے لگاتی اور تلنے والے تمام آیٹم جیسے سموسے اور پکوڑے وغیرہ بھی رقیہ باجی کو دیتی اور ٹیچرز کو اسٹاف روم میں چاے بھی دے کر آتی ۔ مجھے تین ماہ گزر گیے تھے اور رقیہ باجی میرے کام سے بہت خوش تھیں امی بھی خوش تھیں کا میرے لاے ہوے اور میڈم سعدیہ کی طرف سے امی کو ملنے والی تنخواہ سے ہمارا گزارا ہو رہا تھا اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو نوبت نہیں آتی تھی ۔ رقیہ باجی کا تعلق جھنگ سے تھا اور وہ بہت اچھی عادت کی تھیں انکے میاں کا پانچ سال پہلے انتقال ہوچکا تھا ، اگر آپ نے بھارتی اداکارہ نندتا داس دیکیھی ہوءی ہے تو بس سمجھ لیں کہ رقیہ باجی بالکل اس کی کاپی تھیں سانولی اور بہت نمکین ۔ جبکہ میڈم سعدیہ ایک مکمل پٹھانی تھیں سبز آنکھیں گورا رنگ اور بھرا ہوا جسم ۔ میری امی امینہ کا رنگ بھی گورا تھا اور آنکھیں بھوری اور جسم پانچ بچوں کے بعد بھی بے ڈول نہیں ہو ا تھا تاہم بھرا بھرا تھا ۔ میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی جب یہ سب کچھ شروع ہوا میرا جسم دبلا تھا، آنکھیں براون تھیں اور بال بھی براون ۔ میرے ممے اسکوایش کی گیند سے ذرا بڑے تھے، میری رنگت بہت گوری تھی جیسی پٹھان لڑکیو ں کی ہوتی ہے ۔ ایک دن مجھے پرنسپل میڈم نے کہا کہ میرے کمرے میں آکر مجھ سے ملو ۔ جمب میں انکے کمرے میں گءی تو انہوں نے کہا کہ صندل تمہاری امی کی خواہش ہے کہ تم پڑھ لکھ کر استانی بنو یہی تمہارے باپ کی بھی خواہش تھی اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ہے تم کنٹین سے فارغ ہو کر چھٹی کے بعد نویں کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ لایبریری میں ہونے والی دو گھنٹے کی ایکسٹرا کلاس میں جایا کرو گی میں تمہارا میٹرک کا پرایوٹ داخلہ بھیج دونگی ۔ پھر بڑی رازداری سے کہنے لگی تم اور تمہاری ماں میرے گھر کے فرد میں تم لوگوں پر مکمل اعتماد کرتی ہوں اس لیے اگر تم اسکول میں کوءی بھی غلط حرکت یا کام دیکھو یا کسی کو میرے خلاف سازش کرتے دیکھو تو مجھے آکر بتاو اسی طرح کی کافی دیر باتیں کرتی رہیں اور پھر مجھے زبردستی ۱۰روپے بھی دیے۔ میں واپس کنٹین آی تاکہ رقیہ باجی کو بتادوں کہ میں چھٹی کے فوری بعد چلی جایا کرونگی تو میں نے دیکھا کہ کنٹین کا دروازہ بند تھا جو ایک خلاف معمول بات تھی چھٹی کے بعد بھی رقیہ باجی کو درواہ بند کرنے اور تمام کام سمیٹنے میں آدھا گھنٹا لگتا تھا ، میں دروازے کے قریب گءی تو مجھے رقیہ باجی کے باتیں کرنے کی آواز آءی ، میں تجسس میں مبتلا ہوگءی کہ یہ رقیہ باجی اس وقت کس سے بات کر رہی ہیں ، میں دروازے کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑی ہوگی لیکن کچھ سناءی نہیں دیا ۔ پھر میں کنٹین کی بیک ساییڈ پر گءی اور وہاں ایک بڑی کھڑکی اس اندر جھانکا اور اندر کا منظر دیکھنے کے بعد میری جان نکل گءی ۔ اندر رقیہ باجی دسویں جماعت کی طالبہ عایزہ کے ساتھ کسنگ کرہی تھی ، عایزہ کا تعلق کشمیر سے تھا اور بڑی گوری چٹی لڑکی تھی عایزہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی مگر اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ابھی کچھ دن پہلے رقیہ باجی نے اس تاکید تھی کہ اگر اس نے پانے ادھار پیسے نہ ادا کیے تو وہ پرنسپل میڈم کو اس کی شکایت لگادیں گی اب وہ ہی عایزہ رقیہ باجی کے ساتھ کنٹین میں اکیلی موجود تھی ۔ رقیہ باجی عایزہ کو چوم رہی تھیں اور انکا ایک ہاتھ عایزہ کی کمر کو سہلا رہا تھا ۔عایزہ نے اس وقت اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا ۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔ رقیہ باجی نے اب عایزہ کی آنکھوں کو چومنا شروع کردیا اور ہاتھ اس کی قمیض کے اندر ڈال دیا ، رقیہ باجی نے پھر عایزہ کو کہا کہ بے بی قمیض اتار دو عایزہ یہ سن کر ایک دم چونک گءی اور ہلکلاتے ہوے کہنے لگی ، باجی آپ نے تو کہا کہ صرف کسنگ کریں گے اور آپ میرا ادھار معاف کردیں گی ۔ رقیہ باجی مسکراتے ہوے کہنے لگی ہاں صرف کسنگ مگر تمہارے بوبز پر یہ سنتے ہی میری نطر عایزہ کے مموں پر گءی اسکے بوبز بڑے تو نہیں تھے مگر بہت متناسب تھے ۔ عایزہ نے انکار میں سر ہلادیا تو رقیہ باجی نے کہا کہ پریشان نہ ہو صرف پانچ منٹ لگیں گے پھر تم لایبرری والی ایکسٹرا کلاس میں چلی جانا۔ عایزہ نے کہا نہیں مجھے جانے دیں میں آپکے پیسے اتار دوں گی ۔ رقیہ باجی کے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھرے مگر ایک چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوے کہنے لگیں اچھا بابا جیسی تمہاری مرضی ، پھر وہ اٹھ کر پیسوں کے بکس کی طرف گییں اور وہاں سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور پھر عایزہ کے پاس آکر کہنے لگیں چلو تمہارا سب ادھار معاف اور یہ دس روپے بھی تمہارے میں صرف تمہارے مموں پر ۲ منٹ کسنگ کروں گی پھر تم چلی جانا ۔ عایزہ دس روپے کے نوٹ کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تھی تھی کہ رقیہ باجی نے دس کا نوٹ اس کے بیگ میں ڈالا اور عایزہ کو کنٹین میں پرانے صوفے پر بٹھادیا۔ جونہی عایزہ صوفے پر بیٹھی رقیہ باجی نے کوی لمحہ ضایع کیے بغیر اسکی قیمض اتار دی جونہی قمیص اتری توعایزہ کے گورے گورے بازو عریاں ہوگءے ۔ اور اندر سے ایک میلی سفید بنیان نکل آی۔ رقیہ باجی نے بنیان کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ عایزہ پھر بدک گءی اور کہا کہ بیان نہ اتاریں ، رقیہ باجی کے چپرے کو دیکھ کر میں اندازہ کرسکتی تھی کہ انہیں شدید غصہ آرہا ہے مگر وہ ایک پرانی کھلاڑی لگتی تھیں انہوں نے کہ بنیان اتار نہیں رہی پگلی اوپر کر رہی ہوں دیکھو ابھی تک کسنگ ہو بھی جاتی تمہی دیر کر رہی ہو ۔ یہ سن کر عایزہ چپ ہوگءی۔ رقیہ باجی باجی کے بنیان کو اوپر کیا تو عایزہ کے گلابی ممے انکے سامنے آگیے ۔ رقیہ باجی کے ہونٹوں سے ایک بااختیار سیٹی نکل گءی اور انہوں نے عایزہ کے داییں ممے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا ۔ ادھر مجھے بھی اپنی ٹانگوں کے درمیان نمی محسوس ہونی شروع ہوگءی۔ رقیہ باجی کو ممے چوستے ہوءے ابھی کچھ ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ عایزہ کی آنکھیں بند ہوگییں ۔ پھر اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنی شرو ع ہوگییں ، صاف دکھای دے رہا تھا کہ عایزہ کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا ہے ۔صوفے پر ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ صوفے کی ہتھی پر جہاں بیٹھتے ہوءے بازو ٹکایا جاتا ہے وہاں عاٰیزہ نے سر رکھا ہوا تھا اسکی ایک ٹانگ رقیہ باجی کی گود میں تھی اور دوسری صوفے کی پشت کے ساتھ تھی ۔ ابھی رقیہ باجی کو ممی چوستے ہوءے مشکل سے دو منٹ ہی گذررے ہونگے کہ انہوں نے اپنی قمیض اتار دی اور اتنی ہی جلدہ سے اپنے برا کا ہک کھول دیا ۔ جتنی دیر انہوں نے یہ کارواءی کرنے کے لیے عایزہ کے مموں سے اپنا منہ ہٹایا تو عایزہ نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ بھی رقیہ باجی کو نیم برہنہ دیکھ کر دنگ رہ گءی ۔ میں نے بھی پہلی بار رقیہ باجی کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ رقیہ باجی کے مموں کا سایز بیالس ہوگا اور وہ بالکل چاکلیٹی رنگ کے تھے انکا اور عایزہ کا بالکل بلیک اینڈ وایٹ کا امتزاج لگ رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ عایزہ کوءی سوال کرتی رقیہ باجی نے پھر اسکے مموں پر کسنگ شروع کردی ، عایزہ کو یقینا مزہ آرہا تھا کیونکہ اب اس نے مزاحمت بالکل ترک کردی تھی اور اب اسکے منہ سے صرف لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں ، رقیہ باجی نے اب عایزہ کر پیٹ پر کسنگ شروع کر دی تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ عایزہ لذت کی وادیوں میں اتر چکی تھی ۔ رقیہ باجی نے عایزہ کیے پیٹ کو چومتے ہوءے اپنی زبان اسکی ناف میں گاڑ دی تو عایزہ کی ہلکی سی چیخ نکل گءی ۔ اب رقیہ باجی نے ایک خطرناک کھیل شروع کیا انہوں نے عایزہ کے مموں کو دوبارہ چوسنا شروع کیا اور اپنے ہاتھ سے عایزہ کی چوت کو شلوار کے اوپر سے مسلنا شروع کردیا ، عایزہ کے جسم نے لذت سے جھٹکے لینا شروع کیے تو رقیہ باجی نے اسکا ازار بند ڈھیلا کرنا شروع کردیا اور اتنی جگہ بنالی کے انکا ہاتھ اندر چلاگیا اب انہوں نے شلوار کو تھوڑا سا نیچے کردیا تو انہیں عایزہ کی پھدی نظر آی جومیں نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن میں رقیہ باجی کے ہاتھ کی حرکتیں دیکھ سکتی تھی اب رقیہ باجی نے اپنا ایک مما عایزہ کے منہ کے بالکل قریب کردیا ۔پہلے تو عایزہ اپنا منہ دور لے جاتی لیکن جب رقیہ باجی نے اسکی چوت پر اپنی انگلی نچای تو اس نے بے خود ہو کر رقیہ باجی کا مما اپنے منہ میں لے کر اسے چوسنا شروع کردیا ۔ شاہد عایزہ کے جوان ہونٹوں کی طاقت تھی یا مزے کا عالم کہ رقیہ باجی کے منہ سے بھی ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنے لگی تھیں ۔ پھردو منٹ بعد رقیہ باجی نے اپنے ممے عایزہ کے منی سے نکالے اور اپنے ہونٹ اسکی پھدہی پر رکھ کر وہاں کسن شروع کر دی اب تو عایزہ کو اپنا ہوش ہی نہ رہا ور اس منہ سے نکنلے والی آوازیں خاصی بلند ہوگییں اور اس نے رقیہ باجی کا سر زور سے پکڑ کر اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا کچھ ہی منٹ میں عایزہ نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ڈسچارج ہوگءی۔ مگر صرف عایزہ ہی فارغ نہیں ہوی تھی میں بھی فارغ ہوگی تھی۔ ابھی عایزہ اور رقیہ باجی دونوں ننگی صوفے پر پڑی ہانپ رہی تھیں کہ مجھے اسکول اور کنٹین کے درمیان خالی پلاٹ پر آوزیں سناءی دیں میں نے مڑ کر دیکھا تو پرنسپل میڈم اسلامیات کی ٹیچر کے ساتھ کنٹین کی طرف آرہی تھیں اور تیزی سے کنٹین کے قریب آرہی تھیں مجھے جلدی کوءی فیصلہ کرنا تھا میں نے جلدی سے کنٹین کی کھڑکی سے رقیہ باجی کو آواز دی اور کہا باجی دروازہ جلدی کھولو خطرہ ۔،۔۔۔۔۔۔ جاری ہے Canteen wali larki 2.inp1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 013 عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ایسے ہی دن گزرتے رہے میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں دن گزر گیا میں سو گیا اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو میں نے رپلائی کیا گھر پر میسج آیا میرے گھر آؤ میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا میں گھر کے اندر پہنچا اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟ میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا میں سیدھا نوشین سے چپک گیا نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی میں آگے بڑھا اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 011 میں کمرے میں لیٹا سوچ رہا تھا کہ اب کل کیا ہوگا مہوش نے اچانک ہی کہیں میرے اندر کے سیکس کو بھڑکا دیا تھا میں تھوڑی دیر پڑھائی کی اور پھر سو گیا صبح اتوار تھا تو مجھے اسکول جانے کی بھی فکر نہیں تھی صبح اٹھا ناشتہ وغیرہ اور گھر کے دیگر کام کیے دس بجے کے قریب مہوش کا میسج آیا جلدی سے گھر آؤ او اس کے ساتھ ہی ایک مس کال بھی آئی مسڈ کال شاید اس لیے تھی کہ میسج دیر سے نہ پڑھوں میں جلدی سے اس کے گھر پہنچا جب دروازے پر دستک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا میں بے دھڑک اندر گھس گیا میں ان کے گھر میں ایسے ہی جاتا تھا اور اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا تھا اندر پہنچا تو صحن میں ہی مہوش موبائل ہاتھ میں لیے پریشانی سے پھیل رہی تھی مجھے دیکھ کر ایک کمینی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی وہ میرے قریب آئی اور آتے ہیں میرا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیا میں اس کے ہونٹ چوسنے لگا ساتھ ساتھ میں اپنا ہاتھ بھی اس کی کمر پر پھیر رہا تھا ایسے ہی ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے چوستے میں اپنا ہاتھ نیچے لے جانے لگا اب میرا ہاتھ اس کی گانڈ پر تھا جس کی پہاڑیوں کو میں دھیرے دھیرے دبا رہا تھا میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا اور باہر نکلنے کے لیے مجھ سے بھیک مانگ رہا تھا مہوش نے کس توڑی اور مجھ سے الگ ہوئی میں نے مہوش کی طرف دیکھا مہوش کی نظر میرے لنڈ کی طرف تھی جو جنس کی ٹائٹ پینٹ ہونے کے باوجود اپنے وجود کا بتا رہا تھا اچانک کمرے کے دروازے سے نوشین باہر آئی اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اس کی نظر بھی میری پینٹ پر پڑی اور اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی میں پھر سے آگے بڑھا اور مہوش کو اپنی باہوں میں بھر لیا میں ابھی مہوش کی باہوں کہ ہی مزے لے رہا تھا کہ نوشین چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیے اب پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ مہوش میری باہوں میں تھی میری تھوڑی اس کے کندھے پر تھی اور مہوش کے بالکل پیچھے نوشین کھڑی تھی اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھے میں مزے سے نوشین کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ مہوش کی کمر پر گھوم رہے تھے میں اپنے ہاتھوں کو نیچے لے جانے لگا اور مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں پر لے آیا میں نے مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں کو زور سے دبایا مہوش کی ہلکی سی سسکی نکل گی نوشین اب دستور میرے ہونٹ چوسے جا رہی تھی وقت مجھ پر بہت مہربان ہو چلا تھا ایک ساتھ دو دو خوبصورت اور کنواری چوت مجھے مل گئی تھی تھی لیکن یہ خوشی کچھ ہی دیر کی تھی اچانک دروازے پر دستک ہوئی مہوش اور نوشین دونوں مجھ سے جھٹکے سے الگ ہوئی دروازے کے نیچے والی جری سے مردانہ چپل نظر آ رہی تھی ہو نہ ہو یہ ضرور میں بھی اور نوشین کا چھوٹا بھائی منا تھا اس کا اصل نام تو مجھے نہیں پتا لیکن سب اسے منا ہی کہتے تھے کیونکہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا ان دونوں کا چھوٹا بھائی بھی مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا کام کاج تو کچھ نہیں کرتا تھا آپ پورے علاقے میں لڑائی جھگڑے اس کے مشہور تھے میری بھی اس سے گانڈ پھٹتی تھی وہ بھی مجھے پسند نہیں کرتا تھا نہ ہی اس کو میرا اپنے گھر آنا جانا اچھا لگتا تھا ایسے میں اگر وہ مجھے اپنے گھر میں اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ اکیلا دیکھ لیتا تو لازمی کوئی بڑا فساد کھڑا کر دیتا اور اس کے فساد تو شروع ہی ہاتھا پائی سے ہوتے تھے مجھے دروازے پر اپنی موت نظر آرہی تھی وہی لنڈ جو تھوڑی دیر پہلے دو دو چوت ملنے کی خوشی پر اچھل کود کر رہا تھا تھا آپ کسی میت کی طرح پڑا تھا ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کرے دروازہ پھر زور سے بجا مہوش اور نوشین کے بھی چہرے سفید ہو چکے تھے بے شک وہ دونوں منا سے بڑی تھی لیکن پھر بھی اس سے ڈرتی تھیں میں جو تھوڑی دیر پہلے اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا سوچ رہا تھا کہ واقعی میرے نصیب میں کوئی رنڈی ناچ رہی ہے ایک تو پورے ڈیڑھ مہینے کے بعد کچھ موقع لگا تھا اوپر سے اس میں بھی یہ منا گیا اپنی بہن کا رشتہ دینے1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 010 آنٹی کی موت کے بعد میں بہت اداس رہنے لگا تھا اب ذرا بھی دل نہیں کرتا تھا سیکس کرنے کا دن گزرتے گئے آنٹی کی موت کو اب چالیس دن ہو چکے تھے اس دوران کئی بار میرا مہوش سے سامنا ہوا وہ میری طرف دیکھتی لیکن میں ہمیشہ نظر نیچے کر کے گزر جاتا شاید میں ڈپریشن کا شکار رہنے لگا تھا آنٹی کی موت نے مجھے اندر تک ہلا ڈالا تھا ایسے ہی چند دن اور گزر گئے ایک دن میں گھر میں بیٹھا اپنی پڑھائی کرنے میں مصروف تھا اچانک میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا سامنے مہوش کھڑی تھی میں دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا تو مہوش اندر آ گئی اس نے آج پنک کلر کی قمیض اور سفید رنگ کی شلوار پہنی تھی اس کے ساتھ دوپٹہ بھی پنک کلر کا تھا تھا اس سوٹ میں مہوش بلاشبہ بہت پیاری لگ رہی تھی میں تھوڑی دیر تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا مہوش نے مجھے ایسے دیکھتے دیکھا دیکھا تو شرما کے اپنا چہرہ نیچے کرلیا مجھے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نظر آئی میں جس کے ہاتھ میں اس کا فون تھا وہ مجھے اپنا فون دکھانے لگی لگی اس وقت اسمارٹ فونز مارکیٹ میں آنا شروع ہوئے تھے کیوں کہ میرے پاس لیپ ٹاپ تھا جس میں میں پڑھائی کرتا تھا تھا اس کے ساتھ ہی گھر پہ وائی فائی بھی لگا ہوا تھا فون دکھانے کے بعد میں اس نے مجھ سے وائی فائی کا پاس ورڈ مانگا ویسے تو میں اپنا وائی فائی کا پاسورڈ کسی کو بھی نہیں دیتا تھا لیکن اس وقت مہوش کو دیکھ کر انکار نہیں کر سکا میں نے مہوش کے موبائل میں وائی فائی کا پاسورڈ ڈال دیا مہوش کو اس حال میں دیکھ کے میری کئی دنوں سے سوئی ہوئی سیکس کی بھوک آج پھر جاگ اٹھی ابھی مہوش اپنا موبائل ھی چیک کر رہی تھی کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا ویسے تو مہوش مجھ سے کافی بڑی تھی اور جسم میں بھی مجھ سے زیادہ صحت مند تھی لیکن اس اچانک حملے سے وہ سنبھل نہیں پائی اور زور سے مجھ سے ٹکرائی ہم دونوں گرتے گرتے بچے مہوش اس نے پہلے تو حیرت سے مجھے دیکھا لکھا لیکن میری آنکھوں میں شرارت دیکھ کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی مہوش نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تم کو کیا ہو گیا چانک جیسے تم مجھے دیکھتے بھی نہیں ہو اور آج گھر آئی ہوں تو کچھ زیادہ ہی فری ہو رہے ہو میں نے کہا تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو مہوش ہلکے سے غصے کے ساتھ مسکراہٹ سے مجھے دیکھنے لگی مہوش اب بھی مجھ سے چپک کے کھڑی تھی میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کے اس کے پیٹ پر رکھ دیا میں نے اپنا ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی رکھا تھا مہوش نے پہلے مجھے مجھے اور پھر دروازے کی جانب دیکھا حالانکہ میرا کمرہ اوپری منزل پہ تھا اور بہت کم ہی کوئی اوپر میرے کمرے میں آتا تھا لیکن پھر بھی لڑکی تو لڑکی ہے اس نے فورا میرا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹایا اور مجھے کہا اپنا نمبر دو مجھے اچانک سے یاد آیا کہ میں نے آج تک کبھی مہوش کو اپنا نمبر نہیں دیا تھا ایسا نہیں تھا کہ میں دینا نہیں چاہتا بس ایسا اتفاق بھی ہوا نہیں میں نے فورا اسے اپنا نمبر دے دیا اور اس نے میرا نمبر پر مس بیل ماردی مہوش نے مجھے کہا کہا کہ میں تو پیسے واپس میسج کروں گی اور جلدی سے میرے گال پر ایک کس کر کے چلی گئی اور میں اس کے پیچھے اس کی ہلتی ہوئی گانڈ کو دیکھتا رہا تھوڑی دیر بعد ہی مجھے مہوش کے نمبر سے میسج آیا کہ کیا کر رہے ہو میں نے کہا تمہارا کیا بھگت رہا ہوں اس کا میسج آیا کیا مطلب میں نے کہا تمہیں دیکھنے سے ایک چیز سخت ہوگئی ہے اسے نرم کر رہا ہوں اس کا میسج آیا ہٹ بے غیرت میں نے اس سے نوشین کا نمبر مانگا تھا اس نے مجھے بھیج دیا1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 009 ہوم ورک کرنے کے بعد میں تھوڑی دیر سو گیا۔ شاید دو یا تین گھنٹے ہی سویا ہونگا کہ مجھے کچھ شور کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے بستر سے اٹھ کر آواز پر غور کیا تا کہ سمجھ سکوں کے اس شور کی وجہ کیا ہے۔لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ صرف اتنا پتہ چل رہا تھا کہ جس کی بھی ی آواز ہے وہ رو رہی ہے۔ میں نے آٹھ کے منہ دھویا اور اور اپنے کمرے سے باہر آگیا۔ میرا گھر دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جس میں نیچے میرے والدین اور بہن بھائیوں کا کمرہ ہے اور اوپر صرف دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میں اس گناہ گار شخص نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ایک کمرہ خالی ہے جسے ہم عموماً سٹور روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خیر میں منہ دھو کر نیچے پہنچا تو ہماری گلی کی ہی ایک خاتون ہمارے گھر میں رو رہی تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھی میری امی کے بھی آنسو رواں تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ھوا کیا ہے۔ امی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میرے گلے لگ کے اور زور سے رونے لگیں۔اب تک مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ بات کوئی معمولی نہیں ہے۔ میں نے فوراً امی کو اپنے آپ سے الگ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہوا آپ لوگ رو کیوں رہی ہیں؟ امی: بیٹا جب تو سو رہا تھا تو کنول تُجھے بلانے ائی تھی۔ میں کنول آنٹی کا نام سن کر اور زیادہ تشویش میں پڑ گیا۔ میں: کیوں بلانے آئیں تھیں کنول آنٹی؟ امی: اسے اپنے گھر کے لیے آٹا منگوانا تھا۔ میں: پھر؟ امی: میں تیرے کمرے میں آئی تو تو سو رہا تھا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کے تو سو رہا ہے ابھی۔ میں: یار امی اٹھا دیتیں نہ مجھ کو۔ خیر پھر کیا ہوا؟ امی: بیٹا مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ ایسا ہو جائیگا۔ میں: کیسا ہو جائیگا؟ کیا ہو گیا امی بتائیں۔ امی میری یہ بات سن کر اور زور سے رونے لگیں۔ میں: اف امی کچھ تو بتائیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔ امی: بیٹا وہ شاید خود ہی آٹا لینے چلی گئی تھی اور راستے میں روڈ کراس کرتے وقت ایک ٹرک اسکو۔۔۔۔ اتنا کہہ کر امی پھر سے رونے لگیں اور یہ سننے کے بعد میرے بھی اعصاب جواب دے گئی اور دماغ بلکل سن سا ہو گیا۔ میں اسے ہی جلدی نے گھر سے باہر نکلا تو گلی میں کافی رش تھا تقریباً ہر کوئی ہی اپنے گھر سے باہر نکلا ہوا کنول آنٹی کے گھر کے باہر بھی بھیڑ جمع تھی۔میں بھی تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا۔ ایسے میں مجھے میری گلی کا دوست ارسلان نظر آیا تو میںنے اُسے آواز دی اس نے میری طرف دیکھا اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا میری طرف آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آنٹی کہاں ہیں ابھی؟ ارسلان نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا تُجھے نہیں پتہ اُنکا انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہتھوڑا کھینچ کر میرے سر پر مار دیا ہو۔ تھوڑی دیر میں خاموشی سے ارسلان کی شکل دیکھتا رہا۔ شاید میں بولنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔لیکن الفاظ کا چناؤ تو دماغ کرتا ہے اور میرا دماغ تو جیسے سکتے کی حالت میں تھا۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد میں ارسلان سے پوچھا کہ کب ہوا انتقال۔ ارسلان: ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی گلی کے آدمی کے پاس کنول آنٹی کے شوہر کا فون آیا تھا۔ تب ہی پتہ چلا سبکو۔ میں: ایکسڈنٹ کہاں ہوا؟ ارسلان: مین روڈ پر میں: مجھے لے کر چل وہاں۔ ارسلان: ہاں چل میں اور ارسلان حادثے کی جگہ پر پہنچے۔ ہمارے سامنے ایک ٹرک کھڑا تھا جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ غالباً وہاں موجود عوام نے ٹرک کو جلا دیا تھا۔ ارسلان نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور ٹرک سے کود کر فوراً بھاگ گیا تھا۔اور کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا دو ٹرکوں کی آپس میں ریس لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ خیر میں اُداس دیو اور نم آنکھوں کے ساتھ ٹرک کو دیکھنے لگا۔ٹرک کے نیچے بیچ و بیچ بہت سارا خون پڑا تھا۔ یہ خون بھی آنٹی ہی کا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر اور بھی رونا آنے لگا۔ ارسلان نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ایک امبولنس بلوائی گئی جس میں ڈال کر آنٹی کی قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے انکی موت کی تصدیق کر دی۔ ابھی آنٹی کو ایدھی سینٹر لے جایا گیا ہے۔ اس کے بعد عشا کے بعد انکی تدفین ہے۔ میں یہ ساری باتیں سن کر اپنا سر پکڑ کر فوٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔ یقین ہے نہیں ہو رہا تھا کے تین گھنٹے کی نیند میں اتنا سب کچھ ہو گیا۔ کسی طرح سے وقت گزرا اور آنٹی کی تدفین کر دی گئی۔ سب اپنے گھر واپس آ گئے اور سب کے لیے کنول آنٹی ماضی کا حصّہ ہو گئیں سوائے میرے۔ میرے دل میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا نم آنکھوں سے بس یہی سوچ رہا تھا کہ شاید اب آنکھ کھل جائے اور یہ سب ایک خواب ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا میں اسے ہی آنسو بہاتے بہاتے سو گیا۔ دل میں ایک غم تھا تو صرف ایک بات کا کہ آنٹی کو اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔1 like
-
آپ بیتی
1 likeupdate 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ اس دن کے سیکس کے بعد سے اب تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔آنٹی نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔ میں سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں جا کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور اب اُنکے ہاتھ میں دو کپ تھے۔جس میں سے ایک اُنہوں نے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے کپ پکڑا اور چائے پینے لگا۔ لیکن مجھے مجھے جلدی تھی کے کب ہم دونوں اپنے کپڑے اتار کر ننگا ناچ شروع کریں۔ مینے جلدی سے چائے ختم کی تب تک آنٹی بھی اپنی چائے ختم کر چکی تھیں۔میں نے اپنا کپ پلنگ کے نیچے رکھا اور جھٹ سے آنٹی کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اور کسنگ شروع کر دی۔ آنٹی بھی برابر کا ساتھ دے رہی تھیں۔میرے ہاتھ آنٹی کے جسم پر رینگ رہے تھے۔میں آنٹی کی پیٹھ کو سہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنٹی کو اپنی بانہوں میں دبا رہا تھا جس سے آنٹی کے ممّے میرے سینے میں گڑھ رہے تھے۔میں اپنے ہاتھ نیچے کر آنٹی کی گانڈ کو پکڑ لیا اور زور زور سے دبانے لگا لیکن مجھے تھوڑی ہی دیر میں احساس ہوا کہ آنٹی نے شلوار کے اندر پینٹی پہنی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کہیں آنٹی منسس میں تو نہیں۔یہ سوچ میں اپنا ہاتھ آگے لے آیا اور آنٹی کی چُوت کی جگہ کو چیک کیا تو واقعی میرے نصیب میں رنڈی ناچ رہی تھی۔آنٹی کے پیریڈز چل رہے تھے۔اور مجھے ہاتھ سے آنٹی کا پیڈ صاف محسوس ہو رہا تھا۔ آنٹی بھی میری اس حرکت سے سمجھ گئیں کے میں جان چکا ہوں کے دال نہیں گلے گی آج۔ اور میرے چہرے پر مایوسی بھی چھا گئی تھی جو آنٹی نے نوٹ کر لی تھی۔ آنٹی نے پھیر سے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔اور جھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور میری بیلٹ کھولنے لگیں۔ آنٹی نے پہلے بیلٹ پھیر میری جینز کا بٹن اور اور پھر زپ کھول کر میری پینٹ نیچے کر دی اور میرے انڈرویئر کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی میرا لںڈ جو کسنگ کے دوران فل کھڑا تھا اور پیریڈز کا پتہ چل کے اب نیم کھڑا ہو گیا تھا و پھیر سے اپنی فل پاور میں آنے لگا۔ آنٹی نے میرا انڈرویئر نیچے کیا اور میرے لن کو ہاتھ میں لے کر مٹھ لگانی شروع کر دی۔مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔میری آنکھیں مزے سے بند ہو گئیں۔تھوڑی دیر بعد مجھے اپنے لن پر کچھ گیلا محسوس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو آنٹی میرا لن زبان سے چاٹ رہی تھیں۔یہ دیکھتے ہی مجھ پر شہوت کا ایک زبردست وار ہوا اور میرے لن نے زور کا جھٹکا لیا اور آنٹی میرے لن کو ایسے جھٹکے لیتے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ آنٹی نے دیر نہ کرتے ہوئے اپنا من کھولا اور لن منہ میں لے لیا۔زندگی میں پہلی بار کوئی عورت میرے لن کو چوس رہی تھی۔ عورت اس لیے لکھا کیوں کے اس سے پہلے بھی ایک بار میں گلی کے بچے کو دس روپے کا لالچ دے کر اپنا لن چسوا چکا تھا۔ مزا تو اس وقت بھی آیا تھا لیکن آنٹی کے چوسنے کی بات هی کچھ اور تھی۔ آنٹی مزے سے میرا آدھا لن منہ میں کے کر اندر باہر کر رہی تھیں اور میں کسی اور ہی دنیا کی سیر کرنے رہا تھا۔اسی مزے میں مینے آنٹی کے سر کو پکڑ لیا اور خود لن کو اندر باہر کرنے لگا۔آنٹی نے یہ دیکھ کر اپنے منہ کو ڈھیلا چھوڑ دیا تا کہ میں آرام سے اُن کے منہ کو چود سکون۔ میں نے بھی تیزی سے آنٹی کے من کو چودنا شروع کر دیا۔ جب میرا آدھے سے زیادہ لن آنٹی کے منہ میں چلا جاتا تو آنٹی کو کھانسی آجاتی۔آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا تا کہ میں اپنا لن آدھے سے زیادہ اُنکے منہ میں نہ ڈال سکوں۔ میں دس منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے من کو چودتا رہا۔اور فارغ ہونے کے قریب آ گیا۔میری سسکیاں نکلنے لگیں جسے سن کر آنٹی سمجھ گئیں کے میں اب جھڑنے والا ہوں تو آنٹی نے میرے لن کو منہ سے نکالا اور زور زور سے ہلانے لگیں۔ میرا لن بھی یہ وار برداشت نہ کر سکا اور میں فارغ ہو گیا۔ آنٹی میرے سامنے سے ہٹ گئیں تھیں اس وجہ سے میرے لن سے نکلنے والی منی کی دھار زمین پر جا گری ورنہ آنٹی اگر سامنے سے نہ ہٹی ہوتیں تو میری منی آنٹی کے منہ پر ہی گرتی۔ فارغ ہونے کے بعد آنٹی اٹھیں اور سیدھا واشروم چلی گئیں اور ہاتھ منہ دھو کر اور کلی کر کے آ گئیں۔واپس آتے وقت اُنکے ہاتھ میں ایک گندا کپڑا تھا جس سے اُنہوں نے زمین پر گری میری منی کی صاف کر دیا۔ میں پلنگ پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا اور میری پینٹ اب بھی میرے گھٹنوں پر تھی اور لن مرجھایا ہوا تھا۔ آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے واشروم جانے کا کہا میں اٹھ کو واشروم گیا اور اپنی حالت درست کر کے واپس آ گیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ آنٹی پہلے سے ہی پلنگ پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھ رہیں تھیں۔ میری طرف دیکھ کر آنٹی نے پیاری سی مسکراہٹ دی اور کہا۔ آنٹی: مزا آیا؟ میں: ہاں بہت لیکن پہلے جیسا نہیں۔ آنٹی مسکرائیں اور کہ وہ مزا بھی جلد مل جائیگا۔ میں تھوڑی دیر آنٹی کے گھر بیٹھ کر واپس اپنے گھر آ گیا اور اپنا اسکول کا ہوم ورک کرنے لگا۔1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 007 مہوش اب پوری طرح ہوش میں آ چکی تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اپنی شلوار اوپر کر لی۔ میرے دماغ پر پہلے تو منی چڑھی ہوئی تھی اب تھوڑا ہوش بحال ہونے شروع ہوئے تو میری نظر نوشین کے ادھ ننگے جسم پر پڑی۔ نوشین کی جسم کا پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک کہ حصہ ننگا تھا۔ اُس کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں جس سے اسکی چھوٹے چھوٹے بالوں کے بیچ چوت کی لکیر تھی۔ اُس کی چُوت کے ہونٹ موٹے موٹے تھے۔ لکیر کے بیچ و بیچ اُسکی چوت کا دانہ کسی بادشاہ کے سر کے تاج کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔ دانے کے ٹھیک نیچے اُسکی چُوت کا سوراخ تھا جو بہت چھوٹا تھا۔اُسکی چُوت کے اَندر کی جھلی سرخ تھی جیسے اندر بہت سارا خون جمع ہو۔ پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک اس کا جسم بالکل بے داغ تھا۔ کہیں کسی تل کا نشان بھی نہیں تھا۔تیز تیز سانسیں لینے کی وجہ سے نوشین کے مممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ نوشین کے مممے درمیانے سائز کے تھے۔ اور مہوش کے مممے کافی چھوٹے تھے۔ اُسے کوئی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کے ممّوں کا سائز بڑھتا نہیں تھا۔(اس نے مجھے بعد میں بتایا تھا اس بارے میں)۔ خیر میں نوشین کی چوت کو بارے غور سے دیکھ رہا تھا تبھی نوشین کے کچھ ہوش بحال ہوئے تو اسے سمجھ آیا کہ میں اسکی چوت کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ تو وہ بجلی کی رفتار سے اٹھی اور اپنی شلوار اوپر کر لی۔لکڑی کا تخت ہمارے کارناموں سے گندا ہو رہا تھا۔میں بھی جلدی سے اٹھا اور اپنی پینٹ ٹھیک کی۔ مہوش چپ چاپ کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ جب میں نے اور نوشین نے بھی کپڑے ٹھیک کر لیے تو مہوش واش روم چلو گئی۔نوشین اور میں وہیں چپ چاپ کھڑے تھے۔ دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر بولیں تو کیا بولیں۔ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو میں نے خاموشی توڑنے کے لیے نوشین کی کپڑوں کے اوپر سے چوت کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ بہت پیاری ہو نوشین آپی۔ نوشین نے میری طرف دیکھا اور میر نظروں کی جانب دیکھا تو اسے سمجھ آ گیا کے میں اسکی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے کی بات کر رہا ہوں۔ نوشین نے پہلے مجھے دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنی آنکھوں کو نیچے کر لیا۔ اور آہستہ آواز میں کہا "کمینہ"۔ خیر میں نے اب اُن کے گھر میں زیادہ دیر رُکنا مناسب نہیں سمجھا اور نوشین سے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر اُن کے گھر سے نکل گیا۔ پورا دن بس اسی سوچ میں گزار گیا کے اگر قسمت مہربان ہو تو بندے کو بیٹھے بٹھائے دو خوبورت بہنوں کی چُوت ایک ساتھ بھی مل سکتی ہے۔ کہاں میں ایک آنٹی کی پھٹی ہوئی چوت کے پیچھے پاپڑ بیل رہا تھا اور کہاں بغیر کسی کوشش کے دو دو کنواری چوتیں وہ بھی ایک ساتھ مل گئی تھیں۔ میں رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے بستر پر لیٹا اپنی سوچ میں گم تھا کہ میرے موبائل کے میسج ٹیون بجی۔ میں نے فون اٹھا کر دیکھا تو نوشین کا میسج تھا۔ نوشین: سنو میں: سناؤ نوشین: آج جو ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا میں: ایسا کیوں کہ رہی ہیں آپ؟ نوشین: وقاص تم تو لڑکے ہو تمہارا کچھ نہیں جائےگا لیکن ہم لڑکیاں ہیں اگر کسی کو یہ بات پتہ چلی تو ہمارے اپنے ماں باپ ہمیں جان سے مار دینگے۔ مجھے دونوں پھدیاں ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیں۔ میں: یار آپ بلاوجہ ڈر رہی ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ نہ آپ دونوں میں سے کوئی کسی کو بتائیگا اور نہ میں۔تو کسی کو پتہ چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نوشین: نہیں یار گناہ زیادہ دن چھپا نہیں رہتا۔ تم سمجھ نہیں رہے۔ برا وقت کبھی بتا کے نہیں آتا۔ نوشین ٹھیک کہہ رہی تھی لیکن میرے دماغ پر تو پھدیاں سوار تھیں۔ وہ بھی دو دو خوبصرت اور کنواری۔ میں: یار تم فکر نہ کرو میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلےگا۔ بڑی مشکل سے اُسے منایا لیکن وہ بھی پکّی تھی۔ اس شرط پر مانی کے میں اس وقت تک اس کے گھر نہیں آؤنگا جب جب تک وہ خود نہ بلائے۔ خیر کل کے دن دو دیں پورے ہو رہے تھے اور اس بات کے کافی امکان تھے کے کنول آنٹی کی بہن اب اپنے گھر جا چکی ہونگی یہ کل چلی جائینگی۔ تو میرے لیے چوت کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ یہی ساری سوچیں ذہن میں رکھئے میں سو گیا۔1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 006 میں نے ٹھوڑی دیر دوستوں میں وقت گزارا اور گھر آ گیا۔ اُس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا اگلے دن اسکول سے آ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کریں اب کیونکہ آنٹی کے گھر تو انکی بہن نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔ اور مہوش اور نوشین سے مجھے سامنا کرتے ڈر لگ رہا تھا۔ خیر میں نے سوچا کہ باہر نکل کر دیکھتا ہوں۔ جب میں گھر سے باہر نکلا تو نوشین اپنے گھر k دروازے پر ہی کھڑی تھی۔ مجھے دیکھ کر اس نے گلی میں آگے پیچھے دیکھا اور مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ مجھے آج نوشین کا اس طرح گلی میں دیکھنا کچھ عجیب سا لگا کیونکہ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ خیر میں نوشین کے پاس پہنچا تو اس نے فوراً دروازے سے دور ہو کر مجھے اندر آنے کی جگہ دی۔ میں بنا کوئی سوال کیا اندر داخل ہو گیا۔ اندر داخل ہو کر مجھے مہوش کچن میں برتن دھوتی نظر آئی۔ چند ہی لمحوں کے بعد مہوش کی نظر بھی مجھ پر پڑ گئی۔ اس نے دو سیکنڈز کے لیے میری طرف دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں لگ گئی۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں غصّہ تو نہیں البتہ شرم ضرور نظر آئی۔ میں نے نوشین سے آنٹی (نوشین کی امی) کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ مہرین کے سسرال گئی ہیں اور رات تک آئینگی۔ میں اور نوشین کچن کی دیوار کے ساتھ لگے لکڑی کے تخت پر بیٹھ گئے۔اس تخت پر بیٹھنے سے مہوش بھی ہماری ساری باتیں بہ آسانی سن سکتی تھی۔ پہلے کچھ دیر میں اور نوشین اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے اور مہوش بھی ہماری باتیں سنتے سنتے اپنے کام میں لگی رہی۔ جب باتیں ختم ہوئیں تو مہوش نے ہلکے سے کھانسی کی آواز نکالی تو نوشین نے اس کی طرف دیکھا اور مُجھسے کہا کہ وقاص تم نے کل والی بات کسی کو بتائی تو نہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے لیکن میں نے پھر بھی کہا کہ کونسی بات؟ نوشین: وہی جو کل ہوا تھا مہوش کے ساتھ۔ میں: نہیں میں کیوں بتاؤنگا کسی کو؟ نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے سر پر رکھ دیا اور بولی کہ میری قسم کھا کے بولو کہ تم نے کسی کی نہیں بتایا۔ میں: ہاں تمہاری قسم میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ یہ سن کر مہوش اور نوشین دونوں کے چہرے پر خوشی دیکھنے لگی۔ نوشین: وقاص تم تو جانتے ہو کہ ہم لڑکیاں ہیں اور ایسی بات اگر کسی کی بھی پتہ چلی تو کوئی بھی ہم سے شادی نہیں کریگا۔ میں: میں جانتا ہوں یہ بات اور آپ بے فکر رہیں آپکا راز ہمیشہ میرے سینے میں قید رہیگا۔ نوشین نے آگے بڑھ کر میرے بائیں گال کو چوم لیا۔ اب مہوش کا کام بھی ختم ہو گیا تھا وہ کچن سے باہر نکلی اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئی اور کہا کہ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ میں: اس میں احسان کی کوئی بات نہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کے کل آپکو ہوا کیا تھا۔ مہوش:تُجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیا ہوا تھا؟ میں: نہیں حالانکہ مجھے ھر بات کا علم تھا لیکن نے اُن دونوں کو سکس کے موضوع پر لانا چاہتا تھا اور اِس کے لیے مجھے اس سے زیادہ اچھی ترکیب سوجھ نہیں رہی تھی۔ مہوش:اب زیادہ بچا نہ بن۔ میں: مجھے سچ میں نہیں پتہ۔ نوشین: اسے سب پتہ ہے یہ ہم دونوں کو بیوقوف بنا رہا ہے اگر اسے نہیں پتہ تو اس کے موبائل میں وہ والی ویڈیوز کیا کر رہی تھیں۔ میں: وہ تو میرے دوست کا میموری کارڈ ہے۔میں نے اس موبائل خرید تے وقت چیک کرنے کے لئے لیا تھا لیکن غلطی سے میرے ہی موبائل میں لگا رہ گیا۔ نوشین: ابھی کہاں ہے وہ میموری کارڈ؟ میں: میرے پاس ہی ہے کیوں؟ نوشین نے ایک نظر مہوش کی طرف دیکھا اور مُجھسے کہا کہ دکھا مجھے میں نے موبائل نکال کر اس کو دے دیا اور کہا کہ اس ہی میں لگا ہوا ہے ابھی۔ نوشین نے مجھسے موبائل لے کر اپنے پاس رکھا اور کہا کہ جب لڑکی گرم ہو جاتی ہے تو اس کی پیشاب کی جگہ سے پانی آنے لگتا ہے۔ میں: تو یعنی مہوش باجی کل گرم ہو گئی تھیں۔ مہوش نے نظر اٹھا کہ میری طرح دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں: اچھا تو آپ وہ ویڈیوز دیکھ کر گرم ہو گئی تھیں۔ مہوش نے ایک بار پھر سر کو ہاں میں ہلایا۔ میں:تو مطلب اگر کوئی بھی لڑکی ایسی ویڈیوز دیکھ لے تو اس کے پانی آنے لگے گا۔ نوشین:ہاں کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔ یہ سن کر میں چپ ہو گیا کیوں کہ ابھی ذہن میں اور کوئی بات نہیں آ رہی تھی۔ مجھے چپ ہوتے دیکھ کر نوشین نے کہا کہ ایک وعدہ کریگا ہم سے؟ میں: کیسا وعدہ؟ نوشین: ہماری کوئی بھی بات کسی کو بھی نہیں بتائیگا میں: ویسے اس کی ضرورت نہیں لیکن میں پھیر بھی وعدہ کرتا ہوں۔ نوشین: میں تیرے موبائل میں ویڈیو دیکھ لوں؟ نوشین کی بات پر میں اور مہوش دونوں نے ایک ساتھ اُسے بے یقینی سے دیکھا۔ ہمارا اس طرح کا ریکشن دیکھ کر کر نوشین نے مہوش کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ یہ اب کسی کو بھی نہیں بتائیگا۔ نوشین کی بات سن کر مہوش خاموش ہو گئی تو نوشین نے فوراً میرا موبائل اٹھایا اور ایک ویڈیو چلا دی۔ ویڈیو کی آواز تھوڑی زیادہ تھی تھی اس لیے میں نے فوراً اس k ہاتھ سے موبائل لے کر آواز کو بند کر دیا اور موبائل اسے واپس کر دیا۔ نوشین نے ویڈیو کو فل سکرین پر کیا اور موبائل کو ٹیڑھا کر کے مہوش کی طرف کر دیا تا کہ وہ دونوں آرام سے دیکھ سکیں۔ اب وہ دونوں ویڈیو دیکھ رہی تھی اور میں ان دونوں کے سامنے چوتیوں کی طرح بیٹھا تھا۔ تبھی شاید نوشین کو میرا احساس ہوا اور اس نے مہوش سے تھوڑا دور ہو کر بیچ میں میرے لیے جگہ بنا دی۔ میں اُن دونوں کے بیچ میں جا کے بیٹھ گیا۔ ویڈیو میں ایک کالا حبشی ایک خوبصورت حسینہ کو بہت بے دردی سے چود رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد نوشین بولی کے پتہ نہیں کیا کھاتے ہیں یہ حبشی لوگ۔ میں: کیوں؟ میرا سوال سن کر نوشین اور مہوش نے میری طرف دیکھا اور پھیر ایک دوسرے کو دیکھا اور زور زور سے ہنسنے لگیں۔ اُن دونوں کے اس طرح ہنسنے پر مجھے بھی سمجھ آ گیا کہ میں نے کیا بونگی ماری ہے لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لن کی لمبائی کی وجہ سے کہہ رہی ہیں؟ میرے منہ سے لن کا لفظ سن کر دونوں کو سانپ سونگھ گیا۔ مہوش فوراً بولی یہ کتنی گندی باتیں کر رہا ہے۔ میں: تو لن کو لن نہ بولوں تو اور کیا بولوں؟ نوشین:ہم لوگ تو اسے ڈنڈا کہتے ہیں۔ میں:اچھا اور چوت کو کیا کہتے ہیں؟ نوشین: رانی میں: اچھا اور گانڈ کو؟ نوشین: اس کو کچھ نہیں بس کولہے کہتے ہیں میں: اور مموں کو؟ نوشین: دودھ،اور اب بس سب کچھ آج ہی پوچھ لیگا کیا اب ویڈیو دیکھنے دے۔ اور پھر سے ہم تینوں ویڈیو دیکھنے لگے اب حبشی حسینہ کو گھوڑی بنا کر چود رہا تھا۔ اور حسینہ کو چوت حمبشی کے موٹے لن سے چد چد کر کافی کھل گئی تھی۔ مہوش: یار کتنی بے دردی سے کر رہا ہے مجھے تو اس کو دیکھ کر ہی تکلیف ہو رہی ہے میں: لیکن اس کو مزہ بھی کتنا آ رہا ہے۔ میں نے یہ کہتے ہوئے مہوش کی طرف دیکھا تو اس کا ہاتھ اُسکی چُوت پر تھا میرے دیکھتے ہی اُسنے فوراً اپنا ہاتھ ہٹا لیا تو میں نے مسکرا کر اسکو آنکھ ماری اور آہستہ سے کہا کہ کر لیں اور دوبارہ ویڈیو دیکھنے لگا اور تھوڑی دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ مہوش کا ہاتھ دوبارہ اُسکی چُوت پر آ گیا ہے۔ اب میں نے نوشین کی طرف دیکھا تو اس کی حالت بھی مہوش جیسی ہی تھی۔ لیکن اس نے اب تک اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے بھی میری طرف دیکھا تو میں نے اسے آنکھ کے اشارے سے مہوش کو دیکھنے کا کہا اس نے مہوش کی طرف دیکھا جس کا سارا دہان ویڈیو کی طرف تھا اور اُسکا ہاتھ شلوار کے اندر گھسا ہوا تھا اور شلوار کے اوپر سے ہی مسلسل اس کے ہاتھ حرکت محسوس ہو رہی تھی۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اپنی چوت کو رگڑ رہی ہے۔ نوشین نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا تو میں نے کہا آپ بھی کر لو کیوں برداشت کر رہی ہو میری بات سن کر نوشین نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور جلدی سے اپنا ہاتھ اپنی شلوار میں ڈال دیا۔ اب میرا لنڈ بھی مجھے آوازیں دے رہا تھا کہ اُس کے بارے میں بھی کچھ سوچ جائے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے جینز کی پینٹ پہنی تھی جس کے نیچے انڈرویئر بھی تھا تو میرے پاس نوشین اور مہوش کی طرح شلوار میں ہاتھ ڈال کر مجھے لینے والا آپشن نہیں تھا۔ میں ابھی اسی پریشانی میں تھا کہ نشین نے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھوں کے اشارے میں پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ میں نے اپنی نظریں اپنے لن کی طرف کر لیں جس سے اس نے بھی میرے لن کی جانب دیکھا اور سمجھ گئی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ نوشین میری حالت دیکھ کر مسکرانے لگی۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے کچھ ایسا کیا جس کا شاید میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ نوشین نے اپنا ہاتھ جو شلوار کے اندر تھا و نکالا اور دوسرا ہاتھ شلوار میں ڈال لیا اور جو ہاتھ شلوار سے نکالا تھا اس سے پینٹ کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی۔ شاید اس نے میرے اشارے کا مطلب یہ سمجھا تھا کہ میں اسے اپنا لن سہلانے کا کہہ رہا ہوں۔ لیکن جب تک مجھے سمجھ اتی میں مزے کی وادیوں میں گم ہو چکا تھا۔ اب مجھمے کافی ہمت آچکی تھی۔ایک ہاتھ سے میں نے موبائل پکڑا ہوا تھا اور میرا ایک ہاتھ فارغ تھا تو میں نے بھی ہمت کر کے اپنا ہاتھ نوشین کی شلوار کی طرف لے گیا۔ نوشین میرے ہاتھ کی حرکت کی دیکھتے ہوئے میرے اگلے لائحہ عمل کو سمجھ گئی تھی اس لئےاس نے اپنے ہاتھ شلوار کی الاسٹک والی جگہ کو کھینچ کر میرے ہاتھ کو اندر جانے کا راستہ دے دیا۔ جیسے ہی میں نے اپنا ہاتھ نوشین کی شلوار کے اندر ڈالا تو مجھے اس کی چُوت کے اوپر باریک باریک بال محسوس ہوئے۔ میں ہاتھ کو اور نیچے لے گیا اب میرے ہاتھ ٹھیک اس کی چُوت کے اوپر تھا۔ اور اس کی چُوت کا دانہ میری بیچ والی انگلی پر ٹچ ہو رہا تھا۔ میں نے دانے کو زور سے دبایا تو نوشین کے منہ سے سسکی نکل گئی جو مہوش نی بھی سن لی اس نوشین کی طرف دیکھا تو نوشین کی سسکی کی وجہ سمجھ آ گئی۔ مہوش نے فوراً اپنا ہاتھ شلوار سے نکال کر میرے ہاتھ سے موبائل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ میں اسے بھی وہی مزہ دوں جو اُسکی بڑی بہن کو دے رہا ہوں۔ میں نے اپنا دوسرا ہاتھ جو اب مہوش کے موبائل لے لینے سے فارغ ہوگیا تھا فوراً مہوش کی شلوار میں ڈال دیا۔ اب حالت یہ تھی کہ میرے دونوں ہاتھ شلوار کے اندر سے دونوں بہنوں کی چوتوں کو مسل رہے تھے۔ نوشین کا ایک ہاتھ میرے لن کو پینٹ کے اوپر سے سہلا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ فارغ تھا۔ مہوش نے ایک ہاتھ سے میرا موبائل پکڑا ہوا تھا اور اُسکا بھی دوسرا ہاتھ فارغ تھا۔ میں پانی دونوں ہاتھوں کی بیچ والی انگلیوں سے دونوں بہنوں کی چُوت k دانوں کو رگڑ رہا تھا۔ اور اُن دونوں کا مزے سے برا حال تھا اور دونوں کے من سے لگا تار سسکیاں جاری تھیں۔ مجھے نوشین سے اپنا لن مسلوانے میں زیادہ مزہ نہیں کا رہ تھا کیوں کہ میں نے تنگ جینز پہنی ہوئی تھی اور اس وقت کو کوس رہا تھا جب نے نے آج یہ پہنی تھی۔ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ نوشین نے اپنا ہاتھ میرے لن سے ہٹا کر میری بیلٹ کھولنے لگی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے بھی اپنی گانڈ پینٹ نیچے کرنے میں اس کا مکمل ساتھ دیا۔ اس نے میری پینٹ اور انڈرویئر نیچے کر دیا اور میرا کھڑا لن ننگا آن دونوں بہنوں کی آنکھوں کے سامنے آ گیا نوشین نے بغیر کسی دیر کے میرا لن پکڑ لیا اور زور زور سے اوپر نیچے کرنے لگی۔ مجھے بہت مزا آ رہا تھا اور اسی مزے میں میں بھی دونوں بہنوں کی چُوت رگڑ رہا تھا۔ پھر میں نے اپنی دونوں ہاتھوں کی بیچ والی انگلی کا رخ دونوں بہنوں کی چوتوں کے سوراخ کی جانب کیا اور تھوڑی دیر سوراخوں پر اُنگلیاں پھیر کر انگلیوں کو اندر ڈالنے لگا۔دونوں کی چُوت بہُت زیادہ گیلی ہو رہی تھی اس لیے انگلی کے اندر جانے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی۔ اُنگلیاں اندر ڈالنے کے بعد دونوں بہنوں کی سسکیاں مزید تیز ہو گئی تھیں۔ اور اب وہ دونوں خود خود ہی اپنی چوت کو میری انگلی کے گرد حرکت دے کر مزہ لے رہی تھیں۔ میں نے اپنی انگلیوں کی ان کی چُوت سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا پہلے سپیڈ سلو رکھی لیکن دھیرے دھیرے بڑھادی۔ اب ایک مسئلہ تھا وہ یہ کہ میرا ہاتھ شلوار اندر ہونے کی وجہ سے اٹک رہا تھا اور میں مزید سپیڈ میں اپنے ہاتھ کو حرکت نہیں دے پا رہا تھا۔ میں نے سوچا k موقع اچھا ہے تو میں نے دونوں بہنوں کی شلوار سے ہاتھ نکالا اور پہلے نوشین کی طرف دونوں ہاتھ لے جا کر اسکی شلوار نیچے کرنے لگا نوشین نے پہلے تو میرا ساتھ نہیں دیا لیکن میں پوری جان سے اسکی شلوار نیچے کر رہا تھا تو آخرکار نوشین نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا میں نے اسکی شلوار جلدی سے نیچے کر کے اس کے گھٹنوں تک کر دی۔ لیکن مجھے ابھی تک اسکی چوت کا دیدار نہیں ہوا تھا کیوں اُسکی قمیض نے اسکی چوت کو ڈھنکا ہوا تھا۔ میں نے اس بات پر توجہ نہ دیتے ہوئے اپنا رخ مہوش کی جانب کیا وہی عمل اُس کے ساتھ بھی دہرایا جو اُسکی بہن کے ساتھ کیا تھا۔ تھوڑی سی مشقت کے بعد اس نے بھی مجھے اپنی شلوار اتارنے دی کیونکہ اس نے نوشین کو بھی ننگی حالات میں دیکھ لیا تھا تو اسے بھی ہوسلا ہو گیا تھا۔ اب میں نے دوبارہ اپنے ہاتھ اُن کی چُوت کی جانب کیے اور دونوں کی قمیض چوت کے اوپر سے ہٹا دی۔ دونوں کی پیاری پیاری چوت میری نظروں کے سامنے آ گئی۔ نوشین کی چوت پر ہلکے ہلکے بال تھے لیکن مہوش کی چوت بلکل صاف تھی۔ میرے ہاتھوں کو اپنی چُوت کی جانب بڑھتے دیکھ کر دونوں نے اپنی ٹانگیں کھول دیں جس سے انکی چوت مزید واضح ہو گئی۔ میں نے پھر سے اپنی انگلیاں دونوں کی چوت میں ڈال دیں۔ ویڈیو کب ختم ہوئی ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتہ چلا تھا۔ اب میں اُن دونوں بہنوں کی چُوت نے زور زور سے انگلی کر رہا تھا اور اور نوشین میرے لن کو پکڑ کے زور زور سے ہلا رہی تھی۔ ہم تینوں ایک الگ ہی دنیا میں تھے۔ اب مہوش نے بھی میرے لن کو پکڑ لیا تھا اور دونوں بہنیں مل کر میرے لن کی زور زور سے مٹھ مار رہی تھیں۔ ایسے ہی کرتے کرتے پہلے مہوش نے زوردار چیخ ماری اور اس k جسم میں جھٹکے لگنے لگے اور اس نے میرے لن کو چھوڑ دیا اور اپنی چوت جس کے اندر پہلے سے میری انگلی تیزی سے اندر باہر ہو رہی تھی کے دانے کو اپنے ہاتھ سے زور زور سے مسلنے لگی۔ اس کے جسم میں جھٹکے لگنے لگے۔ اور وہ ایسے ہی فارغ ہو گئی اور اس کی چُوت سے ایک فووارا چھوٹا اور وہ تخت پر ہی لے کر کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔میرے ہاتھ کی انگلیوں بھی اب اسکی چوت سے نکل گئی تھی۔ابھی مہوش اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی کہ نوشین کو بھی جھٹکے لگنے لگے اور اس نے میرے لن کو زور سے دبایا اور مزید تیزی سے مٹھ مارنے لگی۔ میں بھی قریب تھا تو میں بھی اس کے ساتھ ہی فارغ ہو گیا میرے لن سے اور نوشین کی چُوت سے ایک ساتھ فوّوارا چھوٹا۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کو چھوڑ کر تخت پر ڈھے گئے۔ مہوش اب سانس بحال کر کے ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی اور ہم دونوں تیز تیز سانسیں لے رہے تھے۔1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 005 مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹیک لگا کے ایسے بیٹھ گئی تھی کے اس کا چہرہ ہماری طرف تھا . مہوش اب ہم سے دور جا کے میرا موبائل چلا رہی تھی اور نوشین مجھ سے باتیں کر رہی تھی . نوشین سے باتوں کے دوران میرا ذہن بار بار مہوش کی طرف جا رہا تھا کے کہیں وہ بلو فلم نا دیکھ لے جو میرے موبائل کے میموری کارڈ میں ہیں مہوش زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور اِس طرح بیٹھنے سے اس کی دونوں ٹانگین اور گانڈ زمین پر تھے لیکن ٹانگوں کے بیچ میں گیپ تھا جس اس کی شلوار کی رومالی والا حصہ صاف دِکھ رہا تھا کیوں کے اس کی قمیض اس کے گھٹنوں پر تھی . مہوش نے اورنج کلر کی شلوار اور وائٹ کلر کی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر اورنج کلر کے خوبصورت پھول بنے ہوئے تھے . ابھی میں نوشین سے باتیں ہی کر رہا تھا کے کچھ ایسا ہوا جس سے میرے ہوش ہی اڑ گئے ہوا یہ کے نوشین سے باتیں کرنے کے دوران ہی جب میری نظر مہوش پر پری تو اسکی شلوار کا رومالی والا حصہ تھوڑا سا گیلا ہو رہا تھا اب تک تو مجھے بھی سمجھ آ چکی تھی کے لڑکیوں کی چوت سے پانی آنے کا مطلب ہوتا ہے کے وہ کافی گرم ہو گئی ہے اور یہ منظر دیکھتے ہی مجھے سمجھ آ گیا کے ضرور مہوش میرے موبائل میں بلو فلم دیکھ رہی ہے یہ منظر دیکھ کر ڈر بھی لگا اور ساتھ ساتھ لنڈ نے بھی شلوار میں حرکت شروع کر دی مہوش اِس بات سے بے خبر کے اس کی ساری پول کھل چکی ہے مزے سے بلو فلم دیکھنے میں مگن تھی نوشین اِس وقت ایسی کھڑی تھی کے اس کا چہرہ میری طرف تھا اور پیٹھ مہوش کی طرف اِس لیے اسے مہوش کی حرکت کا پتہ نہیں تھا میری نظر بار بار مہوش کی طرف جا رہی تھی کبھی میں اس کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی اسکی رومالی کو جس کا گیلاپن اب دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا اور میرا لنڈ اب شلوار کے اندر ہی جھٹکے مار رہا تھا اورنج کلر کی باریک شلوار جیسے جیسے گیلی ہو رہی تھی ویسی ویسی مہوش کی چوت واضح ہو رہی تھی ایسی میں میری نظر اسکی چوت پر ٹک گئی اور لاکھ کوشش کے بعد بھی میں اپنی نظر وہاں سے ہٹا نہیں سکا اور شاید یہی میری غلطی تھی نوشین نے باتیں کرنے کے دوران مجھے دیکھا تو میری نظروں کو اک ہی جگہ دیکھا تو اس نے بھی میری نظر کی سمت میں دیکھا اور اک ہی سیکنڈ میں اسے سمجھ آ گیا کے میں کیوں اتنی دلچسپی سے مہوش کی طرف دیکھ رہا ہوں نوشین نے فوراً مہوش کو آواز لگائی مہوش نے اس کی طرف دیکھا تو نوشین نے آنکھوں کا اشارہ اسکی شلوار کی رومالی کی طرف کیا مہوش کے کچھ سمجھ نہیں آیا اور اس نے نوشین کی بات کو سمجھنے کے لیے اپنا سیدھا ہاتھ اپنی چوت والی جگہ پر رکھا تو وہاں کا گیلاپن محسوس ہوتے ہی مہوش کو ساری بات سمجھ آ گئی اور وہ ویسی ہی موبائل زمین پر رکھ کر کمرے میں بھاگی اور دروازہ بند کر لیا میں اور نوشین دونوں چھپ کھڑے تھے شاید ہم دونوں ہی یہی سوچ رہے تھے کے کیا بولیں ایسی میں نوشین کو میرے موبائل کا خیال آیا اور اس نے جا کر میرا موبائل اٹھا لیا یہاں بھی میرے نصیب میں برائی تھی کے مہوش کو موبائل پر ویڈیو بند کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا جلدی میں اور وہ ویڈیو ابھی تک فون میں چل رہی تھی نوشین نے فون اٹھا کر دیکھا اور دیکھتے ہی پہلے تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا اور پِھر اسکی آنکھیں وہی جم گئیں اور 2 3 سیکنڈ کے بعد شاید اسے میری موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے فوراً موبائل مجھے پکڑا دیا میں نے ویڈیو بند کی اور موبائل جیب میں ڈال لیا ہم دونوں پِھر سے چُپ چاپ کھڑے ہو گئے میری گانڈ کسی ڈھول کی طرح پھٹی ہوئی تھی نوشین سے تو میں کافی بار الٹی سیدھی حرکتیں کر چکا تھا جیسے گانڈ پر ہاتھ پھیرنا اور اس کے بوبس کو بائیک چلاتے وقت اپنی پیٹھ پر محسوس کرنا جس میں نوشین بھی میرا برابر کا ساتھ دیتی تھی لیکن یہاں ڈر اِس بات کا تھا مہوش نے آج تک مجھ سے کوئی غلط بات نہیں کی تھی لیکن اِس ڈر کے ساتھ ہی اک بات کی تسلّی بھی تھی کے مہوش خود بھی اِس جرم میں میرے ساتھ برابر کی شریک تھی اگر میرے موبائل میں بلو فلم تھی تو مزے لے کر تو وہ بھی دیکھ رہی تھی اور اسکو کتنا مزہ آ رہا تھا اِس بات کا ثبوت اسکی گیلی شلوار کی رومالی تھی اب کافی دیر ہو چکی تھی اور مہوش کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہی تھی شاید اب اسے ہمارا سامنا کرنے میں شرم آ رہی تھی نوشین نے جب دیکھا کے کافی دیر ہو گئی ہے تو اس نے جا کر کمرے کے دروازے پر دستک دی دستک کے کچھ دیر کے بعد مہوش نے دروازہ کھول دیا نوشین اندر جانے کے بجائے میرے پاس آئی اور مجھے کہا کے وقاص ابھی تم جاؤ بعد میں آ جانا میں نے بھی سر ہلایا اور ان کے گھر سے باہر نکل گیا1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 004 جب میں گھر آیا تو دماغ میں زور زور سے گھانتیان بج رہی تھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا آج تک جس چدائی کے بارے میں صرف سوچتا تھا ، وہ میں کر کے آ گیا تھا بار بار آنٹی کی مست گول گول گانڈ اور آنٹی کی بالوں سے پاک چوت نظروں کے سامنے آ رہی تھی یہی سوچتے ہوئے اک بار پِھر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا آج تو مٹھ مارنے کا بھی دِل نہیں کر رہا تھا کیوں کے جب اک بار بریانی کا ذائقہ مل جائے تو ڈال روتی کس کو اچھی لگتی ہے یہی سوچتے ہوئے ذہن میں خیال آیا کے کیوں نا دوبارہ آنٹی کے گھر جا کر اک بار پِھر ان کی چوت ماری جائے لیکن پِھر ٹائم دیکھا تو خود اپنا اِرادَہ ترک کر دیا کیوں کے اب آنٹی کی بیتیان ان کے گھر پر ہونگی خیر كھانا وغیرہ کھا کے کسی طرح میں سو گیا اور صبح اسکول چلا گیا اسکول سے واپس آ کر جلدی سے كھانا زہر مار کیا اور اور کپڑے بَدَل کر سیدھا آنٹی کے گھر پوچھ گیا دروازے پر دستک دی تو آنٹی کی بھانجی نے دروازہ کھولا جس سے مجھے پتہ چلا کے آنٹی کے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں آنٹی کی بہن پاس کے ہی علاقے میں رہتی تھیں اور ماحینیی میں اک بار ان کے گھر ٹپک پڑتی تھیں اور 2 3 دن رک کر واپس جاتی تھیں میں دِل ہی دِل میں آنٹی کی بہن کو گالیاں دیتا ہوا گھر کی طرف واپس چل دیا گھر آ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا حالت ایسی تھی کے سامنے اگر بکری بھی آجائے تو اسے بھی چھوڑ دوں تھوڑی دیر ایسی ہی لیتا رہا پِھر اکتا کر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل گیا ابھی گلی میں ہی تھا کے مجھے مہوش باجی مسکراتی ہوئی اپنے دروازے پر کھڑی نظر آئیں مہوش باجی کا گھر ہمارے برابر سے برابر والا تھا مہوش باجی کو ملا کر ٹوٹل 3 بیحنین تھیں سب سے بڑی مہرین اس سے چھوٹی نوشین اور سب سے چھوٹی مہوش مہوش باجی کے ابو کی فیکٹری میں میلازیم تھے وہ صبح کام پر جاتے اور شام کو گھر آتے مہوش باجی اور انکی دونوں بہنوں کی عمریں کافی زیادہ ہونے کے باوجود ان کی شادی نہیں ہو پا رہی تھی ابھی حال ہی میں کسی طرح انکی سب سے بڑی بہن مہرین کی شادی ہوئی تھی مہرین باجی تھوڑی غصے کی تیز ٹائپ کی تھیں لیکن باقی دونوں بیحنین ان کی اُلٹ بچہ ہونے کی وجہ سے میرا ان کے گھر بھی انا جانا لگا رہتا تھا اکثر میری موجودگی میں نوشین اور مہوش دوپٹہ بھی نہیں لیتی تھیں ان کے گھر بیٹھ کر میرا اچھا ٹائم پاس ہو جاتا تھا نوشین یا مہوش دونوں میں سے جب بھی کوئی مجھ سے بات کرتی تو انکی بات دھیرے دھیرے اک ہی طرف آ جاتی جو کے یہ ہوتی کے فلاں کا فلاں کے ساتھ چکر چل رہا ہے وہ دونوں ہی شادی نا ہونے کی وجہ سے اپنے اندر کے طوفان کو دبا کے بیٹھی تھیں ایسا نہیں تھا کے وہ خوبصورت نہیں تھیں خوسورتی میں تو ان دونوں بہنوں کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن انکی شادی میں دیر ہونے کی وجہ انکی بڑی بہن مہرین تھی جو شکل صورت بہت معمولی سی تھی رنگ صاف تھا لیکن کشش ذرا بھی نہیں تھی اور عمر کافی زیادہ تھی جس کی وجہ سے جب بھی ان کے گھر رشتے والے آتے تو مہرین کے بجائے نوشین یا مہوش کو پسند کر کے چلے جاتے ان کا امی ابو کی ضد تھی کے پہلے بڑی کی شادی ہوگی پِھر چھوٹی کی جیسے تیسی کر ان کی شادی ہو گئی جب مہرین باجی شادی ہو رہی تھی تو ان کے گھر کے کافی سارے کام میں کر دیا کرتا تھا کیوں کے ان کا کوئی بھائی نہیں تھا اکثر تینوں بہنوں میں سے کسی کو مارکیٹ لے جانا یا مارکیٹ سے سامان لا کر دینا انکل کے پاس اک بائیک تھی لیکن وہ اپنی فیکٹری کی بس سے کام پر جاتے تھے اِس لیے بائیک زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھی اور اسی بائیک پر میں ان کے گھر کے کام کیا کرتا تھا اکثر نوشین یا مہوش میرے ساتھ بائیک پر مارکیٹ جایا کرتی تھیں میں اکثر نوٹ کرتا تھا کے نوشین بائیک پر بیٹھ کر مجھ سے دور ہو کر بیٹھی تھی لیکن جب ہم گھر سے دور نکل جاتے تو وہ مجھ سے چپک جاتی اور اپنے بوبس میری پیٹھ پر دبا دیتی اسی طرح اکثر جان بوجھ کر میں نوشین کی گند پر ہاتھ پھیر دیتا تھا اور انجان بن جاتا تھا نوشین بھی اِس بات کا کوئی رد عمل نہیں دیتی تھی جس دن مہرین باجی کی شادی کی تاریخ فکس ہوئی تھی اس دن نوشین نے مجھ سے کہا کے گلی میں سب کے گھر مٹھائی بانتنی ہے تم میرے ساتھ چلو اور مجھے لے کر اک اک کر کے سب کے گھر مٹھائی دینے لگی مجھے اسی طرح اک بات ذہن میں آئی اور جب بھی نوشین کسی کے گھر مٹھائی کے لیے دروازے پر دستک دے کر داوازا کھلنے کا انتظار کر رہی ہوتی تو میں اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر دیتا ہماری گلی ٹوٹل 13 یا 14 گھر تھے . ہر دروازے کے آگے جب نوشین داسکتاک دیتی تو جب تک دروازہ نہیں کھلتا میں اس کی گند پر ہاتھ پھایرتا رہتا لیکن ہاتھ اتنا ہلکا رکھتا کے نوشین کو محسوس نا ہو کے میں ایسا جان بوجھ کے کر رہا ہوں بلکہ ایسا لگے کے قریب کھڑا ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھ ٹچ ہو رہا ہے یہ تو تھے مہوش کے گھر کا سابقہ احوال ، اب آج کے دن میں واپس آتے ہیں جب مہوش دروازے پر کھڑی مسکرا رہی ہے میں اس پاس پوحچا اور سلام کیا تو اس نے جواب دے کر کہا کے کہاں جا رہا ہے ؟ میں : کہیں نہیں بس بور ہو رہا تھا تو سوچا کہیں باہر وقت ضائع کر لوں مہوش : اچھا تو گھر میں آ ہم لوگ باتیں کرتے ہیں میں : ٹھیک ہے اور ان کے گھر میں چلا گیا گھر میں جا کر پتہ چلا کے آنٹی مارکیٹ گئی ہوئی ہیں اور نوشین اور مہوش گھر میں اکیلی ہیں میں نے اس وقت نیا چائنا کا موبائل لیا تھا جس پر میسیج کی ٹون باجی تو میں نے موبائل نکالا میسیج تو سم کی کمپنی کی طرف سے تھا لیکن موبائل دیکھ کر مہوش بولی کے تو نے یہ موبائل کب لیا اور میرے ہاتھ سے موبائل لے کر دیکھنے لگی اب میرے گانڈ پھٹنے لگی تھی کیوں کے میں نے 3 دن پہلے اپنا 2 گب کا میموری بلو فلموں سے بحاروایا تھا مجھے دَر تھا کے مہوش نے اگر وہ فلم چلا دی تو پتہ نہیں کیا ہو گا1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 003 یہ میرا پہلا سیکس ایکسپیرینس تھا اِس لیے اب مجھ سے اور زیادہ صبر نہیں ہو رہا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے دَر بھی لگ رہا تھا کے کہیں سارا کام ہی نا بگڑ جائے میرا لنڈ کسی روڈ کی طرح کھڑا تھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ہوا تھا میں نے اب اپنے لنڈ کو آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ سے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا آنٹی اب اپنی ٹانگوں کو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور کبھی ٹائیٹ کر لیتین اب بار میرے برداشت سے باہر ہو گئی تھی لنڈ کی حالت ایسی تھی کے اگر مجھے کوئی دیوار ملتی تو اس میں بھی سوراخ کر دیتا میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے مموں اور گند سے ھٹائے اور آنٹی کی قمیض کے اندر ڈال دیئے اور آنٹی کے پیٹ پر تھوڑی دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد اک ہاتھ مموں پر لے گیا جہاں آنٹی کے برا میں قید ممے میرے ہاتھوں کا انتظار کر رہے تھے اور اک آنٹی کی لاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کرنے لگا شلوار میں ہاتھ ڈالتے ہی میری انگلیاں آنٹی کے چھوٹے چھوٹے بالوں سے ٹکرائیں میں نے کچھ دیر بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ہاتھوں کو مزید نیچے آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا جب میں نے آنٹی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو کچھ گیلا محسوس ہوا مجھے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کے لڑکی جب گرم ہوتی ہے تو اس کی چوت سے پانی نکلتا ہے اِس لیے مجھے لگا کے آنٹی کا شاید پیشاب نکل گیا ہے خیر میں نے اِس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور تھوڑی دیر آنٹی کی چوت کو نرم ہاتھوں سے مساج کرنے کے بعد آنٹی کی شلوار نیچے کر دی آنٹی کی لاسٹک والی شلوار ان کے گھٹنوں تک آ گئی آنٹی نے اِس بار بھی کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اُلٹا اپنے ہاتھوں سے میری شلوار کا زارباند کھول نے لگیں آنٹی کی اِس حرکت کو دیکھ کر اب میرا سارا دَر ختم ہو گیا تھا میں نے آنٹی کی قمیض کو اتارنے کے لیے اوپر کیا تو آنٹی نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی ابھی میں آنٹی کی قمیض اوپر کر ہی رہا تھا کے آنٹی کے گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی آنٹی نے فوراً اپنے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی میں نے بھی فوراً اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور اپنی قسمت کو گلیاں دیتا ہوا دروازے کے پاس چلا گیا جب دروازہ کھولا تو آنٹی کی بڑی بیٹی تھی جو میرے گھر سے اپنے گھر آئی تھی جب وہ اندر آ گئی تو میں اس کے ساتھ اندر جانے کے بجائے سیدھا اپنے گھر چلا لنڈ تو میرا پہلے ہی مُرجھا چکا تھا لیکن چین اب بھی کسی کروٹ نہیں مل رہا تھا میں نے گھر جاتے ہی باتھ روم میں جا کر مٹھ ماری مٹھ مرنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو میں آج کی ادھوری چدائی کے بڑے میں سوچنے لگا اور کل کے بارے میں پلان بنانے لگا اب مجھے کل ہر حال میں آنٹی کو چھوڑنا تھا میں سونے کے لیا لیتا لیکن نیند آنے کا نام ہی کہاں لے بار بار ذہن میں آنٹی کو کس اور ان کے ساتھ ہوئی ادھوری چدائی کے خیالات ذہن آ رہے تھے خیر کسی طرح سے رات کٹی اور اب اگلے دن میرا پِھر سے آنٹی کے گھر جانے کا وقت آ ہی گیا کل کی نسبت آج میری زیادہ گند پھٹ رہی تھی کے آنٹی پتہ نہیں کیا بولیں کل جو ہوا اس کا بارے میں اک طرف سے یہ تسلّی بھی تھی کے آنٹی کل خود بھی تو میرا ساتھ دے رہی تھیں لیکن جب دِل میں چور ہو تو دَر تو لگتا ہی ہے میں ان ہی سوچوں کے ساتھ آنٹی کے گھر پوحچا اور دروازے پر دستک دی آنٹی نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا اور مجھے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئیں آنٹی کے چہرے پر ہمیشہ اک پیاری سی مسکراہٹ رہتی تھی جو آج غائب تھی میں بھی اندر چلا گیا اور جاتے وقت دروازہ بند کر دیا جب آنٹی کے کمرے میں پہنچا تو آنٹی اپنے بیڈ پر لیتی ہوئی تھیں میں بیڈ پر آنٹی کے پاس ہی بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کے کیا بولوں ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کے آنٹی اچانک سے اٹھیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ ڈائی اور میرے نیچلے ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا مجھے بھی اب سمجھ آ گیا تھا کے لائن کلیئر ہے اور میں کل کی طرح دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے فوراً آنٹی کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور آنٹی کی چوت کو زور زور سے اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا آنٹی کی چوت آج بھی پانی چور رہی تھی اور میں آج بھی یہی سمجھ رہا تھا کے آنٹی کا پیشاب نکل گیا ہے میں نے اب دیر نا کرتے ہوئے آنٹی کی شلوار نیچے کر دی اور آنٹی نے اپنی ٹانگوں کو اٹھتے ہوئے اک اک کر کے اپنے دونوں پاؤں شلوار سے نکل ڈائی میں نے آنٹی کی قمیض کو اٹھایا تو آنٹی نے ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی اور میں نے آنٹی کی قمیض بھی ان کا جسم سے الگ کر دی اب آنٹی صرف برا میں میرے سامنے کھڑی تھیں کل کی نسبت آج آنٹی کی چوت پر اک بھی بال نہیں تھا میں نے آنٹی کے مموں کو آنٹی کے اسکن کلر کے برا کے اوپر سے کچھ دیر دبایا اور پِھر برا بھی اُتَر دیا آنٹی کے بارے بارے ممے بالکل ننگی حالت میں میرے سامنے تھے جس عورت کو میں صرف خیالوں میں سوچ کر مٹھ مارا کرتا تھا آج میرے سامنے ننگی کھڑی تھی آنٹی کے مموں پر لائٹ برائون کلر کے نپلز دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً آنٹی کا اک نپل منہ میں لیا اور دوسرا اک ہاتھ سے دابانے لگا آنٹی پیار سے میرے سَر کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھیں آنٹی کے دونوں مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے اترے اور آنٹی کو بیڈ پر لٹا کر انکی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آنٹی کو چوت کے ہونٹوں کو کھول کر دیکھنے لگا آنٹی آنکھیں بند کیے لیتی رہیں میں نے چوت کے اندر دیکھا تو انکی ملائم سفید بے داغ چوت کے اندر لال رنگی کی اک جھلی نظر آئی اس کے اوپر اک دانہ جیسا کچھ تھا میں نے دیر نا کرتے ہوئے اپنے لنڈ کو آنٹی کی چوت پر سیٹ کیا اور پوری جان سے دھکہ لگا دیا آنٹی کے منہ سے اک زوردار آہ نکلی اور میں مزے کی انتہا تک پھنچ گیا آنٹی کی چوت کافی گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا پورا لنڈ اک ہی بار میں آنٹی کی چوت میں گھاس گیا تھا اِس کے بعد میں نے بغیر رکے زور زور سے آنٹی کی چوت مارنی شروع کر دی اور اور آنٹی نے آہیں بھرنا شروع کر دن مجھے اپنا لنڈ کسی گرم بھٹی میں محسوس ہو رہا تھا میں بنا رکے آنٹی کی چوت مرتا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی رانوں میں درد ہوتا محسوس ہوا مستقل اک ہی پوزیشن سے چودتے ہوئے میری رانوں میں درد ہو گیا تھا میں رک گیا تو آنٹی نے آنکھیں کھول کے میری طرف دیکھا اور سمجھ گئیں کے میں کیوں رکا ہواں آنٹی فوراً اٹھیں اور میرے سامنے گھوڑی بن گئیں میں نے بھی دیر نا کرتے ہوئے فوراً اپنا لنڈ آنٹی کی چوت میں ڈال دیا اور چھوڑنا شروع کر دیا اِس اسٹائل میں مجھے کچھ زیادہ ہی مزہ آ رہا تھا کیوں کے آنٹی کی چوت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ لگ رہی تھی اور انکی گند کا سوراخ بھی میرے آنکھوں کے سامنے تھا میں زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں پایا اور آنٹی کے چوت میں فارغ ہو گیا فارغ ہوتا ہی میں بیڈ پر لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو آنٹی کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی کچھ دیر یوں ہی لیتا رہنے کے بعد میں اپنے کپڑے پہن کر اپنے گھر چلا گیا میں نے آنٹی کو چود دیا تھا اور اِس چُدائی کی دوران ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی1 like
-
آپ بیتی
1 likeUpdate 002 میں بھجی دِل کا ساتھ اپنے گھر واپس آ گیا . لیکن میرے ذہن میں بس یہی چل رہا تھا کے کیسے آنٹی کو اپنے ساتھ سیکس کے لیے رضی کروں . اگلے دن پِھر میں آنٹی کے گھر لڈو کھیل رہا تھا کے آنٹی جیت گئیں اور مجھے کہنے لگیں . آنٹی : تو مجھ سے کبھی نہیں جیت سکتا ، تو ابھی بچہ ہے . میں : آپ شرط لگائیں پِھر دیکھیں کے آپکو کیسے ہراتا ہوں . آنٹی : تو پِھر بھی نہیں جیت سکتا میں : تو پِھر لگا لیں شرط آنٹی : ٹھیک ہے لیکن شرط کس چیز کی ؟ میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ابھی تو کچھ ذہن میں نہیں آ رہا ، ایسا کرتے ہیں کے جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی بھی بات منوا سکتا ہے آنٹی نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے بولیں کے ٹھیک ہے . اس کے بعد ہمارا گیم شروع ہوا اور میں نے اپنی پوری گانڈ کا زور لگا دیا جیتنے کے لیے اور بالآخر جیت ہی گیا . جیتنے کا بعد میں نے آنٹی کو کہا کے اب میری شرط پوری کریں میں جیت گیا ہوں . آنٹی : ہاں بول کیا بات منوانی ہے تجھے . پہلے تو میں نے سوچا کے سیدھا بول دوں کے چوت چاہیے آپکی لیکن تھا تو میں بچہ ہی گانڈ میں اتنا دو نہیں تھا اس وقت . اِس لیے سوچا کے پہلے چیک کروں کے لائن کلیئر ہے کے نہیں کسی ماہان آدمی نے کہا ہے کے شروعات ہمیشہ چھوٹی کرو اور خواب بڑے رکھو میں نے یہی سوچتے ہوئے اک فیصلہ کیا اور آنٹی کو کہا میں : آنٹی مجھے آپ سے اک کس چائیے اور سیدھا آنٹی کے چہرے کو دیکھا تو نا مجھے آنٹی کے چہرے پر حیرانی نظر آئی اور نا ہی غصہ بلکہ آنٹی نے اک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ میرے گال پر ہلکا تھپڑ لگایا اور کہا کے آنٹی : بہت شیطان ہو گیا ہے تو ، اب مذاق چھوڑ اور بتا کیا چاہیے میں : ( ڈرتے ہوئے ) آنٹی ابھی تو بتایا ، میں مذاق نہیں کر رہا آنٹی : چل نکل یہاں سے میں کوئی کس نہیں دونگی تجھے آنٹی کے چہرے پر ذرا بھی غصہ نہیں تھا جس سے میری ہمت اور بڑھ رہی تھی میں : لیکن آنٹی یہ غلط بات ہے آپ شرط ہاری ہیں آنٹی : اچھا ٹھیک ہے لیکن گال پر میں نے سوچا کے اگر ابھی ہمت نہیں کی تو کبھی نہیں کر پاؤنگا . میں : نہیں مجھے آپ کے ہونٹوں پر کس چاہیے آنٹی نے 2 سیکنڈ کے لیے مجھے دیکھا اور کہا آنٹی : اچھا اپنی آنکھیں بند کر میرا تو دِل خوشی سے ناچنے لگا کے آنٹی کس کے لیے مان گئیں میں نے جلدی سے آنکھیں بند کر لین . کچھ دیر کے انتظار کے بعد مجھے اپنے ہونٹوں پر کچھ محسوس ہوا اور فوراً ہی واپس ہٹ گیا . یہ کس شاید دُنیا کی سب سے چھوٹی کس تھی جو اک سیکنڈ کے ہزار حصوں میں سے کسی اک حصے میں ہوئی تھی آنٹی : اب خوش ؟ میں : آپ اسے کس کہتی ہیں ؟ آنٹی : تو ؟ میں : اپنے شوہر کو بھی ایسی ہی کس کرتی ہیں کیا ؟ آنٹی : بس اب . . تجھے کس چاہیے تھی میں نے دے دی میں : یہ کس نہیں تھی یہ تو کس کے نام پر دھبہ تھا آنٹی میری بات سن کر ہنسنے لگیں . مجھ میں پتہ نہیں کہاں سے ہمت آئی اور میں نے آنٹی کو ہنستے ہوئے دیکھا تو لائن کلیئر سمجھ کر آنٹی کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ ڈائی . آنٹی کو میرے اِس حملے پر ذرا بھی بچنے کا موقع نہیں ملا اور جب تک ان کو سمجھ آیا کے کیا ہوا ہے میں آنٹی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے چکا تھا آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور مجھے خود سے دور کرنے لگیں میں نے پِھر پورا زور لگا کے آنٹی کے سر کو پکڑ کے رکھا اور کس جاری رکھی . آنٹی کا نیچے والا ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھا اور میں مستقل اپنی زبان کو آنٹی کے منہ میں ڈال نے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنٹی نے اپنے دانتوں کو مضبوطی سے بند کیا ہوا تھا . کچھ دیر تک یہی کھیل جاری رہی رہا . آنٹی مجھ سے الگ ہونے کی کوشش میں لگی رہیں اور میں آنٹی کے نیچے والے ہونٹ کو چوسنے میں لگا رہا اور پِھر جب آنٹی نے دیکھا کے اب کوئی رستہ نہیں تو انہوں نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنا منہ کھول کے میری زبان کو اندر جانے کا موقع دے دیا اب ہماری کس زور و شور سے جاری تھی کچھ دیر ایسی ہی کس کے بعد ہم دونوں کی سانس پھولنے لگی اور ہم سانس لینے کے لیے الگ ہو گئے میں نے آنٹی کی چیریی کو دیکھا تو شرم سے سرخ ہو رہا تھا جب مجھے اپنی سانس بحال ہوتی محسوس ہوئی تو میں نے پِھر سے آنٹی کو پکڑا پِھر سے کس شروع کر دی اور کس شروع کرتے ہی اپنی زبان اپنی کے منہ میں ڈال دی اِس بار آنٹی نے کسی قسم کی مخالفت نہیں کی اور اپنی زبان کو میری زبان سے گھیسنے لگیں میں نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے اپنا سیدھا ہاتھ آنٹی کے اک ممے پر رکھ دیا اور قمیض اور بریزر کے اوپر سی ہی دبانے لگا آنٹی نے پِھر کوئی مخالفت نہیں کی یہ دیکھتے ہوئے میں نے کچھ کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ آنٹی کی قمیض اور شلوار کے اوپر سے انکی گند پر رکھ دیا آنٹی نے پِھر کسی بات پر دھیان نا دیتے ہوئے کس جاری رکھی اور میں نے اب آنٹی کی گانڈ کو دھیرے دھیرے دبانا شروع کر دیا1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeمیڈم عفیفہ کہنے لگیں یار ہم لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں،۰۲ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی اور میں اسلام آباد آگئی۔ میری تعلیمی قابلیت اس وقت ایف اے تھی اور میرے میاں وزارت تعلیم میں اسسٹنت تھے۔ میرے میاں نے مجھے شادی کے بعد بی اے کروایا اور پھر بی ایڈ بھی کروایا۔ ۸ سال بعد میرے میاں نے محکمانہ ترقی کا امتحان دیا اور سییکشن آفیسر ہوگئے اور ہمیں یہ والا گھر مل گیا۔ اس وقت بندے کم تھے اور اسلام آباد میں نوکریاں زیادہ تھیں میرے میاں نے مجھے ٹیچر کروادیا۔ بعد میں ہمیں یہ بڑا مکان مل گیا۔ جب میں ۵۳ سال کی تھی یعنی میری شادی کے ۵۱ سال بعد میرے میاں کی ڈیتھ ہوگئی، اس وقت کچھ رشتہ داروں نے مدد کی اور یہ مکان مجھے مل گیا۔ میاں کے انتقال کے ۳برس بعد تک تو مجھے زندگی کی صحیح سمجھ ہی نہیں آئی۔ لیکن بعد میں ہر رات کو میاں کی کمی کھلنے لگی۔ مگر میں نے بڑے صبر سے کام لیا۔ ۳ سال بعد لاہور میں ایک شادی تھی میں بچوں کو لے کر امی کے گھر چلی گئی۔ بیوہ ہونے کے بعد میرا اچھی طرح سے تیار ہونے کو دل نہیں کرتا تھا لکین میری بھابی نے مجھے ضد کرکے تیار کردیا۔ ہم مہندی کی تقریب میں پہنچے تو وہاں میری ایک کزن فرخندہ مجھے ملی وہ میری بڑی اچھی دوست بھی تھی اس نے مجھے اپنے بیٹے سے ملوایا جو کوئی ۶۱ سال کا تھا۔ شانی نام تھا اس کا، اور میرے فیورٹ ہیرو وحید مراد کی کاپی تھا۔ اس کی عادت بھی بہت اچھی تھی اور پورے فنکشن میں اس نے ہنسا ہنسا کر میرا برا حال کردیا۔ اور ہماری اچھی خاصی بے تکلفی ہوگئی۔ برات والے دن جب ہم سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تو مجھے بچوں کو تیار کروانے میں دیر ہوگئی۔ جب میں باہر نکلی تو عورتوں والی پہلی بس نکل چکی تھی، جس گاڑی میں امی جارہی تھیں تینوں بچوں کو انہوں نے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اور پھر ایک چھوٹی کوسٹر آئی جس میں کافی سامان تھا اس میں سامان کے بعد پیچھے والی بڑی سیٹ خالی تھی امی نے کہا تو اور شانی اس میں آجاو۔ میں نے بھابی کی طرف دیکھا تو کہنے لگیں ہاں ہاں کوئی بات نہیں شانی اپنا بچہ ہے اس کے ساتھ آجاو۔ میں مجبورا بیٹھ گئی چار گھنٹے کا سفر تھا میں اور شانی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اب بس میں ڈرائیور کے علاوہ ہم دونوں ہی تھے اور ڈرائیور بھی ہمیں سامان کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر تک تو ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر میں نے وہ سوال کردیا جس سے ایک سارا موضوع ہی بدل گیا۔ میں نے کہا کہ شانی تیری منگنی ہوئی کہ نہیں اس نے کہا کہ نہیں بھابی ابھی کہاں ابھی تو فرسٹ ائر میں آیا ہوں، میں نے کہا کوئی بات نہیں تو اتنا پیارا ہے تجھے تو کوئی ھی اپنی بیٹی دے دیگا۔ اس نے کہا واقعی کیا میں پیارا ہوں میں نے کہا اور نہیں تو کی۔ اس نے کہا اچھا جی کیا چیز ہے میری۔ میں نے کہا تیری آنکھیں، ہیرو کٹ بال تری ناک ہر چیز، اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا بھابی آپکی ۳چیزیں بھی بہت پیاری ہیں۔ میں نے کہا اچھا جی وہ کونسی کہنے لگا آپکی آنکھیں، آپکے ہونٹ اور یہ کیوٹ سے گال اور ہاں آپکے بال بھی۔ میں نے کہا بے شرم بھابی کو ایسے دیھتے ہیں کیا، اس نے کہا بھابی ہیں توبی اتنی پیاری۔ ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ مجھے سردی لگنی شروع ہوگئی میں نے کہا شانی کمبل لانا بھول گئے ہم، اس نے کہا ٹھریں بھابی میں ڈرائیور سے پتا کرتا ہوں وہ آگے گیا اور ۲ منٹ بعد ایک چھوٹا سے کمبل لے کہ آگیا میں نے کہا اس سے کیا ہوگا کہنے لگا بھابی آپ اوڑھ لو میری خیر ہے میں گزارا کرلوں گا۔ میں کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی لیکن ۵منٹ بعد میں نے دیکھا کہ شانی کو سردی لگ رہی ہے مگر وہ ضبط کرکے بیٹھا ہوا ہے میں نے کہا کہ شانی بیٹا سردی لگ جائے گی اچھا ادھر پاس ہوجاو کمبل میں ہاتھ تو ڈال لو وہ میرے بالکل قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ کمبل میں ڈال لیے۔ پھر اس نے میرے یاتھ پکڑلیے میرے ہاتھ ٹھنڈے تھے جبکہ شانی کے ہاتھ بالکل گرم تھے میں نے کہا یہ کیا کرہے ہو اس نے کہا آپ کے ہاتھ گرم کرہا ہوں شانی کے ہاتھوں پر بڑے گھنے مردانہ بال تھے اور مججھے ایسے ہاتھ بہت پسند تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے اپنی ایک ٹانک کو میری ٹانگ کے ساتھ جوڑ دیا چونکہ میری سیٹ بالکل کھڑکی کے ساتھ اس لیے میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکی، اور خاموش رہی۔ لیکن چونکہ میاں کے بعد یہ میرا اپنے جسم پر پہلا مردانہ لمس تھا اس لئے میرے جسم میں ایک لذت انگیر جھرجھری دوڑ گئی تو شانی نے کہا کیا ہو ا میں نے کہا کچھ نہیں اور میں نے ہاتھ چھڑا لیے اور کہا کہ بس گرم ہوگئے ہیں، تو شانی اپنے ہاتھ میری گود میں رکھ دئے اور کہا لیکن مجھے سردی لگ رہی ہے میں نے آپ کے ہاتھ گرم کئے اب آپ میرے ہاتھ گرم کردو۔ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میری گود میں رکھد دئے، ہم کچھ دیر بالکل خاموش بیٹھے رہے پھر شانی بولا بھابی آپ واقعی میں بہت پیاری ہیں میں نے کہا کیا بھابی بھابی لگا رکھی ہے میں خالہ ہوں تیری، تیری ماں کی کزن ہوں اور تو میرے بیٹے سے بھی چھوٹا ہے۔ میرا یہ تیز لہجہ سن کر وہ ایک دم گبھرا سا گیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ باہر نکال لئے ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ منہ پھلا کہ بیٹھا ہوا تھا اور بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا اور صندل جان مجھے اس پر بے تحاشہ پیار آگیا۔ میں نے کہا اوئے ہوئے بچہ ناراض ہوگیا۔ یہ کہہ کر میں نے اس کے سرخ گال پر ایک چٹکی لی اور اسے کہا اچھا لا میں تیرے ہاتھ گرم کردوں وہ قریب ہو کر ایک دم میرے گلے لگ گیا اور مھجے اپنی بانہوں میں جکڑ کر کہنے لگا۔ تھینک یو سو مچ آپ بہت سویٹ ہو اور یہ کہہ کر مجھے چوم لیا، ہائے یار میرے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میں نے کہا شانی یہ کیا کر رہے ہو پیچھے ہٹو لیکن اس نے پورے ۳ منٹ تک مجھے چمٹائے رکھا۔ اور میری ساری سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ پھر اس مے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے دوستی کرو گی، میں نے کہا جی نہیں بالکل نہیں۔ تو اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا قسم سے میری کوئی دوست نہیں پلیz کہ صندل میں اس وقت بالکل پگھل چکی تھی لیکن یہ بات تو نہیں سمجھے گی۔ کیونکہ تو ابھی مرد کے پیار سے آشنا نہیں اور تیرا ابھی سیکس کا پہلا تجربہ ہے۔ پھر اس نے میرے جواب کا انتظار کئے بعگیر اپنے ہاتھ کو کمبل کے نیچے سے میرے مموں پر پھیرنا شروع کردیا۔ اف اس کا لمس اتنا پیارا تھا کہ میں بتا نہیں سکتی۔ پھر اس نے میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میرا پیٹ سہلانا شروع کردیا۔ اب میرے منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی اور وہ سمجھ گیا کہ میں گرم ہو چکی ہوں۔ اس نے قمیض اوپر کی اور اور پھر برا تک پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے میرے دونوں ممون کو باری باری سہلا نا اور دبان شروع کردیا اور پانا دوسرا ہاتھ میری شلوار میں گھسا دیا کیونکہ شادی کے فنکشن کی وجہ سے میں نے غراراہ ٹائپ شلوار پہنی ہوئی تھی اس کا ہاتھ اند جا کر سیدھا میری پھدی سے ٹکرایا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی۔ شانی بولا خالہ جی آپ جتنی پیار ہو اتنی ہی گرم بھی ہو، میں نے سن کر شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔ کچھ دیر میرے ممے دبانے اور چوت سہلانے کے بعد اس نے اپنی زپ کھولی اور انڈر وئر نیچے کرکیے اپنا لن باہر نکال لیا۔ میں نے کہا شانی نہ کر پلیز ڈرائیور دیکھ لے گا، اس نے کہا آپ چیک کر لو سامان کی وجہ سے وہ ہمیں نظر نہیں آرہا وہ ہمیں کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اس نے میرا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا اف ایک بڑا بالکل جوان لن اتنے لمبے عرصے کے بعد میرے ہاتھ میں تھا میں نے تو اپنے اوپر قابو کھودیا اور کہا شانی اتنا بڑا؟ سردی کے دن تھے بس میں اندھیرا ہو چکا تھا اور آس پاس بھی کوئی نہ تھا میں نے دل میں کہا عفو ہمت کرے۔ میں نے شانی کی طرف دیکھا اور اس کے لن کو مٹھی میں پکڑ کر مسلنے لگی اس کا بھی لذت سے برا حال ہوگیا۔ پھر ہم دونوں نے کسنگ شروع کردی اس کے ہونٹوں کا رس بہت میٹھا تھا کنوار ے جوان ہونٹ۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر مجھے سیٹ پہ لٹا دیا اور کہا ہیاں سے کسی کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ میرے اوپر جھک گیا۔ اور میں زبان نکال کر اس کے گال چاٹنے لگی۔۔۔۔اور پھر اس کے گال چاٹتے چاٹتے میں اپنی زبان کو اس کے کان کے قریب لے گئی۔۔۔۔اور اس کے کان کی لو کو چاٹ کر اس کے کان میں سر گوشی کی اور۔۔۔ اسے کہنے لگی شانی تم نے میری ساری ریاضت ختم کردی۔ میری سرگوشی سن کر شانی کے جذبات بھی مزید بھڑک اْٹھے اور اس نے بھی مجھے چما دیا اور وہ بھی سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔ مجھے بھی تمہاری چوت چاہیئے میری جان اس کی بات سن کر پھر سے میری چوت کْھل بند ہونے لگی۔اور شانی کا لن سہلاتے سہلاتے میرا جی مچلنے لگا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ سرکتا ہوا میری چوت کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور اس نے میری چوت کو اپنی مٹھی میں لیا۔۔۔اور اسے دبا کر بولا۔۔۔۔ اْف جانآپ کے نیچے تو آگ لگی ہوئی ہے۔ شانی بس کے فرش پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور میرے چوتڑ پکڑ کو مجھے تھوڑا اوپر اْٹھنے کو کہا۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی ہپس اوپر کی۔۔۔۔۔شانی نے میری شلوار اتار دی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ بڑے غور سے میری ننگی رانوں کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے باری باری میری دونوں رانوں کو چوما۔۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اپنے منہ کو میری رانوں کے بیچ میں لے آیا۔۔اور زبان نکال کر میری نرم رانوں کو چاٹنے لگا۔۔۔۔ اس کی زبان کا لمس پاتے ہی میں نے ہلکا ہلکا کراہنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر رانوں سے ہوتی ہوئی اس کی زبان میری چوت کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔ اور۔۔اور۔۔۔ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد اس کی زبان میری گرم پھدی سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ شروع کر دیا۔۔۔۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ شانی کے اس کام سے مجھے کتنا مزہ مل رہا تھا۔۔۔ اور اس کی زبان کے نیچے کس طرح سے میں تڑپ رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری پھدی نے دوبارہ سے رسنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس نے میری چوت کے ہونٹوں کو اپنے منہ سے نکالا اور دوبارہ سے میری پھدی سے رسنے والے جوس کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے اس کام سے بہت مزہ مل رہا تھا لیکن عین اس وقت میری پھدی نے لن کے لیئے تڑپنا شروع کر دیا۔۔ تب میں سیٹ سے ا وپر اْٹھی اور اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ اب بس کر دو۔۔۔۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور پھر سے اپنی زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔اس نے مجھے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔اور میں سیٹ پر ہی گھوڑی بن گئی۔۔ اب وہ میرے پیچھے آیا اور۔۔اپنی لن کی نوک کو میری چوت کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔اس کے لن کی نوک کر میری چوت پر رکھتے ہی میرے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔۔ جسے سن کر وہ کہنے لگا کیا ہوا بھابی جان۔ابھی تو میں نے اپنے لن کو اندر ڈالا ہی نہیں تو میں جسے اس وقت لن کو اپنے اندر لینے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔۔۔ پیچھے مْڑ کر اس کی طرف دیکھااور کہا جلدی کر نہ یار میری بات سن کر اس نے ایک زبردست گھسا مارا۔۔۔جس سے اس کے پورے کا پورا لن میری چوت میں اتر گیا۔۔۔ اور اس کیساتھ ہی میرے منہ سے بلند آواز میں۔۔۔۔ چیخ نکلی۔۔۔اوئی ماں۔۔۔۔۔ مر گئی میں۔ لیکن شکر ہے اس گاڑی کا ڈیک فل آن تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے لن کو میری چوت میں ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ جب بھی زور کا گھسہ مارتا۔۔۔ تو اس کا لن میری چوت کے پتہ نہیں کس کونے میں لگتا کہ جسے کھا کر میری میری چوت پانی پانی ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ۔آپ ہی آپ میرے منہ سے۔۔۔ نہایت سیکسی۔۔۔زبردست اور دل کش قسم کی سسکیان برآمد ہونا شروع ہو جاتیں۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے گھسوں کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔ اور اس کے ہر گھسے سے میں خود کو ہواؤں میں اْڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بار بار میرے منہ سے ہیجان سے بھر پور اور شہوت انگیز طریقے سے اس کا نام نکلنے لگا۔شانی شانی میری جان شانی۔ پھر ہم دونوں ایک ساتھ ہی فارغ ہوگئے۔ پھر ہم دونوں نے اپنے سانس درست کیے اور پھر کپڑے صحیح کرے کے بیٹھ گئے مجھ پر تو اتنی غنودگی طاری تھی کہ میں فورا سوگئی۔ ایک گھنٹہ بعد آنکھ کھلی تو گاڑی ایک ریستوران نے باہر رکی ہوئی تھی میں نے دیکھا گاڑی میں نہ ڈرائیور تھا نہ شانی میں گبھر کر نیچے اتری تو دیکھا کا بارات کی گاڑی بھی وہیں پر تھی ہم سب لوگ ایک ریستوران پر اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر میری امی آگئیں اور کہنے لگیں عفو سفر کیا رہا میں نے شرما کر امی بہت سکون سے گزرا میں تو سو ہی گئی تھی۔ امی کہا چل اب گاڑی میں جگہ بن گئی آگے میرے ساتھ ہی جانا یوں میں امی کے ساتھ بیٹھ گئی اور جاتے ہوئے شانی کو منہ چڑا دیا۔ز1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeکنٹین والی لڑکی قسط 5 میڈم عفیفہ پہلے تو حیرانی سے مجھے دیکھتی رہیں اور پھر کہنے لگیں صندل تو یہاں کیا کر رہی ہے۔ عائزہ بھی الف ننگی میز پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی۔ میڈم عفیفہ بھی بالکل ننگی تھیں اور ان کے کپڑے اس فرش پر پڑے تھے جس پر میں گری تھی۔ میں نے میڈم عفیفہ کو جواب دیا میڈم میں کلاس میں گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا تو میں نے سوچا کہ آپ یہاں ہوں گی اس لئے آپ کو دیکھنے ادھر آگئی (میں جان بوجھ کر بشری کا ذکر گول کرگئی کہ میڈم اس بے چاری پر غصے نہ ہوں) میڈم نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے گھورنے لگیں، مجھے ان کی نگاہوں سے خوف آرہا تھا۔ جیسا کہ میں دوسری قسط میں بتا چکی ہوں کہ میڈم عفیفہ تقریباً وائس پرنسبل تھیں میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور انکا غصہ پورے اسکول میں بہت مشہور تھا چونکہ ہمارا اسکول 12ویں جماعت تک یعنی ہائر اسکینڈری تھا اس لئے وہاں فرسٹ اور سیکنڈ ایر کی طالبات بھی تھیں وہ بھی میڈم عفیفہ کے غصے سے ڈرتی تھیں۔ میڈم عفیفہ کے میاں کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ میں میڈم کے گھورنے سے بہت نروس ہو رہی تھی، میڈم نے اپنی کڑک دار آواز میں پوچھا تو نے بک شیلف کے پیچھے سے کیا دیکھا، میں کچھ نہ بولی بلکہ سر جھکا کر کھڑی رہی۔ میڈم نے پھر غصے سے پوچھا گشتی منہ میں زبان نہیں ہے کیا کہ تیری ماں کو بلا کر بتاوں کہ تیری بیٹی یہاں جمیز بونڈ بن کر دوسروں کی ٹوہ لے رہی ہے۔ بول کیا دیکھا، میڈم کے اس طرح تیسری بار پوچھنے پر منہ سے نکل گیا جی وہ میں نے دیکھا کہ آپ عائزہ کو پیار کررہی ہیں۔ اور لائیبریری میں گرمی کی وجہ سے آپ نے کپڑے اتار دیے ہیں۔ میرا آخری جملہ سن کر میڈم کی ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگی ارے واہ تو بہت چالاک نکلی یہ بہانہ تو میری سمجھ میں بھی کبھی نہیں آیا۔ آگے آ، میں میڈم کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، میڈم نے میرے ہونٹوں کو چٹکی سے لے کر مسل دیا میری سی نکل گئی پھر میڈم نے میرے گالوں کو چوم لیا اور پھر کہا تو تو بڑی نمکین ہے۔ اس تمام گفتگو کے دوران عائزہ بڑی خاموشی سے ساری باتیں سن رہی تھی۔ میڈم نے اسے کہا کیوں ری تو کیا یہاں ولیمے میں آئی نیچے اتر میز سے۔ عائزہ اتر کر میرے ساتھ کھڑی ہوگئی، پھر میڈم عفیفہ نے اسے کہا جا لایبریری کی کنڈی لگادے یہ نہ ہو کوئی اور تیسرا ٹپک پڑےجب تک عائزہ آئی میڈم میرے مموں پر ہاتھ پھرتی رہیں، عائزہ کے آنے کے میڈم نے مجھ سے پوچھا کہ جب میں عائزہ کو پیار کر ہی تھی تو تجھے کیسے لگا، میں خامو ش کھڑی رہی میڈم نے پھر غصے سے کہا بولتی کیوں نہیں۔ دوستو سچی بات یہ ہے کہ مجھے پتہ تھا کہ میڈم نے مجھے ایسے تو چھوڑنا نہیں بدلہ پر بھی اتر سکتی تھی، پھر میرے دل میں وہ خیال اور حکمت عملی آئی جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ میں خاموش کھڑی تھی میڈم نے اپنی ننگی لات آگے بڑھائی اور اپنے پیر سے میری پھدی کو اپنے پیر کے انگوٹھے سے مسل دیا اور کہا جواب دے، میری ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ لیکن تب تک میں نے اپنی حکمت عملی تشکیل دے لی تھی۔ میں نے بڑی شرمیلی آواز میں کہا کہ جی اچھا لگ رہا تھا۔ میڈم نے کہا کہ واہ تو بڑی گرم ہے، کیوں اچھا لگ رہا تھا کیا عائزہ اچھی لگتی ہے تجھے۔ میں نے نفی میں سر ہلادیا میڈم کے چہرے پر شدید حیرانی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے کہا اچھا پھر کیوں مزا آرہا تھا میں نے بڑی آہستہ آواز میں کہا کہ میڈم مجھے آپ اچھی لگتی ہیں بہت زیادہ۔ میڈم عفیفہ کے چہرے کا تو رنگ ہی بدل گیا انہوں نے مجھے اور قریب کرلیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اور کہا سچ کہہ رہی ہے، میں نے بھی دل کڑا کر کہا جی میڈم اور پھر ایک خیال برق کی طر ح میرے دماغ میں کوندا میں نے کہا کہ میڈم لاسٹ فنکشن والے دن سے آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ جب آپ نے سفید لان کا سوٹ اور شیفون کا ملٹی کلر ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ میڈم کا چہرہ تو گلنار ہوگیا اور انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا اچھا تو جانو اب تک بتایا کیوں نہیں، میں نے کہا شرم آتی تھی میڈم نے پھر مجھے بازوں میں بھینچ لیا۔ پھر ان کو کچھ خیال آیا انہوں عائزہ کو کہا کپڑے تو پہن لے کہ وہ بھی میں پہناوں۔ عائزہ نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ پھر میں نے میڈم کو کہا کہ میڈم 3بج گئے کوئی یہاں نہ آجائے۔ میڈم عفیفہ نے یہ بات سن کر کہا ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہے تو 2منٹ یہاں ٹھیر، پھر میڈم کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئیں، وہاں سے کپڑے پہن کر آیئں تو کہنے لگیں عائزہ اب تو نکل اور دیکھ اپنی زبان بند رکھنا۔ اس کے جانے کے بعد کہنے لگیں صندل تو میری جان ہے اور میری پکی جگر ہے۔ تو جمعے والے دن میرے گھر چکر لگانا میں تیری امی سے خود بات کرلوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میڈم پھر میں نے ایک ایسا کام کیا جس کی مجھے خود بھی امید نہ تھی میں نے آگے بڑھ کر میڈم کی آنکھوں کو کس کردیا، میڈم تو نہال ہوگئیں اور کہا ہائے ظالم ایسے کرے گی تو میں رات تیرے ساتھ یہیں گزار دوں گی۔ اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں باہر نکل آئے اور بڑے صیح وقت پر نکل آئے کیونکہ سامنے سے پی ٹی ٹچر میم رفعت آرہی تھیں، انہوں نے میڈم عفیفہ کو سلام کیا اور پاس کھڑی ہوگئیں، میڈم عفیفہ نے میری طرف دیکھ کر پیاری بچی ہے ، تب تک میں آگے نکل آئی۔ ہے۔۔ میڈم عفیفہ نے کہا ہاںکہا تم جاو اور دیکھو محنت کرو گی تو اپنی ماں اور مرحوم باپ کو خواب پورا کرسکوگی۔ میں نے کہا جی میڈم اور میں چل پڑی مجھے میڈم رفعت کی آواز آئی بہت اچھی اور ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور آج کے سارے ماجرے پر غور کرتی رہی اور آگے کی پلاننگ کرتی رہی، میں نے یہ بات ٹھان لی تھی کہ ہر حالت میں میڈم عفیفہ کو قابو کرنا ہے اور اب زندگی دب کر نہیں گزارنی۔ اس طرح کی باتیں سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی۔ اگلے دن کنٹین میں آدھی تفریح کے بعد میں اور رقیہ باجی جب کام کے پریشر سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں بلا کم و کاست ساری داستان سنا دی، میرا خیال تھا کہ باجی پریشان ہوجائیں گی۔ لیکن رقیہ باجی کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا انہوں نے کہا کہ اگر میڈم عفیفہ نے عائزہ کے ساتھ سیکس نہ کیا ہوتا تو یہ خطرے کی بات تھی لیکن اب وہ کوئی وار نہیں کرے گی بلکہ تعلقات کی کوئی راہ نکالے گی تو پریشان نہ ہو میری بنو تو بس جمعے کا انتظار کر پھر ہم آگے کی سوچیں گے۔ ویسے عفیفہ طاقتور اور بہت گرم عورت ہے تیرے کڑاکے نکال دے گی لیکن تو نے ایک ایسا وار کیا ہے وہ بچ نہیں سکتی۔ میں کہا باجی وہ کیا۔ انہوں نے کہا میری بنو آج تک میڈم عفیفہ نے جس لڑکی کے ساتھ بھی سیکس کیا ہوگا وہ زبردستی کا سودا ہوگا، لیکن تونے پیار کی وہ چھڑی گھمائی کہ وہ پاگل ہوگئی ہوگی اور اب وہ تجھے بہت عزیز رکھے گی کونہ عورت سب سے زیادہ پیار اس سے کرتی ہے جو اس کو چاہتا ہے ۔ بس اب تو ذرا سنبھل کر چلنا، میں نے کہا کہ رقیہ باجی بس اب رہنمائی کرتی رہنا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں میں کوئی ٹریفک پولیس ہوں کہ راستہ دکھاتی رہوں۔ اسی طرح ہنسی مذاق میں دن کٹ گیا اور پھر ٹھیک دو دن بعد جمعہ آگیا۔ جمعے کے دن میڈم عفیفہ ایک ٹیکسی پر ہمارے گھر آگئیں وہ اسکول کے قریب رہتی تھیں انہوں انے امی سے بات کی ہوئی تھئی کہ کچھ پڑھائی کے لیے صندل کو لے کر جانا ہے امی بھی حیران تھیں کہ اتنی سخت عورت ہم پر مہربان کیسے ہوگئی، پھر میں میڈم کے ساتھ انکے گھر پہنچ گئی۔ جب میڈم نے بیل بجائی تو ایک بہت پیاری سی لڑکی نے دروازہ کھولا۔ اس لڑکی کی عمر کوئی 25سال تھی لیکن کین وہ لگتی 18سال کی تھی اس نے چارد نما حجاب سے چہرے کو کور کیا ہو تھا اور اسکی آنکھیں ہلکی سبز تھیں ناک ستواں اور بڑی کیوٹ سی سمائل اسکے چہرے پر تھی۔ میڈم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور مجھے کہا یہ کہ صندل یہ میری بہو شازیہ ہے۔اور شازی یہ میری سٹوڈنٹ صندل ہے بہت اچھی بچی ہے میں نے کل تمہیں بتایا تھا نا اسکے بارے میں شازیہ نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جی جی آپ نے بتایا تھا۔ ہم لوگ اندر آگئے، میڈم کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تو تھوڑی دیر بعد شازیہ جوس کے دو گلاس لے آئی اور پھر اس نے میڈم کو کہا امی میں نے آپ کو بتایا تھا نہ آج جانے کا میڈم نے کہا ہاں ہاں بتایا تھا مگر کیسے جاو گی۔ شازیہ نے کہا جی عمیر آرہا ہے مجھے لینے کے لیے اور گڈو کو وہ صبح ہی لے گیا تھا، میڈم نے مجھے کہا کہ آج اس نے پنی امی کے گھر جانا ہے وہ یہیں جی ایٹ میں رہتی ہیں، پھر کہنے لگی گڈو اس کا بیٹا اور میرا پوتا ہے ابھی کلاس ون میں ہے۔ ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ داروزے پر بیل بجی شازیہ دروازے پر گئی تو واپسی پر اس کے ساتھ ایک اٹھارہ انیس سالہ نوجوان تھا جو اس کا بھائی اشعر تھا۔ اشعر ایک معصوم شکل کا خوبصورت لڑکا تھا جس کی شکل آج کے زمانے کے ہیرو شاہد کپور کی طرح تھی اس نے اپنی بہن کو کہا کہ بیگ لے آو تو چلتے ہیں پھر اس نے میڈم عفیفہ کے آگے سلام کے لیے سر کو جھکا یا تو میڈم نے اس کو گلے سے لگا لیا اور پھر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا ماشااللہ ہیرو لگ رہا ہے، اشعر کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔ .یں نے کہا کہ میڈم آپکے گھر میں اور کون کون ہے۔ میڈم نے کہا کہ ایک بیٹی کی ابھی شادی ہوئی ہے وہ کراچی میں رہتی ہے اور دوسرا بیٹا فوج میں ہے ابھی پی ایم اے میں اتنی دیر میں شازیہ آگئی اور دونوں بہیں بھائی میڈم کی اجازت لے کر چلے گئے۔ میڈم نے کہا کہ میں دروازے بند کرکے آتی ہوں پھر میڈم دروازہ لاک کرے کے آگئیںکیڈٹ ہے۔ میں نے کہا تو شازیہ کیا شام کو آئے گی۔ میڈم نے کہا ہاں وہ شام تک اپنی امی کے گھر رکے گی اور میں نے تمہاری امی کو بتادیا تھا کہ تم شام تک میرے پاس رکو گی۔ یہ کہہ کر میڈم نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور اسی طرح اٹھائے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئیں۔ میڈم کو جی سکس فور میں ایک ای ٹائپ مکان ملا ہوا تھا جس کے کمرے بڑے بڑے تھے۔ کمرے میں جا کر میڈم نے مجھے گود سے اتارا اور کہا کہ میں زرا کپڑے بدل کر آتی ہوں تو میرا انتظار کر۔ یہ کہہ کر میڈم باتھ روم میں چلی گئی تو مجھے شاور کا پانی گرنے کی آواز آنے لگی۔ پھر تین منٹ بعد میڈم باہر نکلیں تو کیا غضب کی لگ رہی تھیں میڈم نے ایک کالی نیکر اور سفید ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بال گیلے تھے اور کھلے ہوئے تھے۔ کچھ تو ویس بھی وہ بہت سیکسی لگ رہی تھیں کچھ میں بے بھی مبہوت ہونے کی اداکاری کی اور ٹک ٹک میڈم کو دیکھتی رہی، میڈم پر اس کا بڑا اثر ہوا اور میرے قریب آکے کہنے لگیں جگر کیا دیکھ رہی ہے اب نظر لگائے گی کیا، میں نے کہا آپ تو ہو ہی اتنی پیاری میں کیا کروں، یہ سن کر میڈم عفیفہ جیسی گھاگ عورت بھی جذباتی ہوگئی اور مجھے کہنے لگی سچ میں میں تجھے اتنی پیاری لگتی ہوں میں نے کہا آپکی قسم، یہ سن کر میڈم نے مجھے خود سے لپٹا لیا اور میرے چہرے پر بوسوں کی بارش کردی جب یہ بارش تھی تو میڈم نے کہا کہ میں بال سکھا لوں تو اتنی دیر میں نہالے۔ میڈم نے الماری سے ایک تولیہ نکال کر مجھے دیا اور میں باتھ روم چلی گئی واہ کیا باتھ روم تھا ہمارے باتھ روم سے تین گنا بڑا اور اس میں شاور بھی تھا میں کبھی شاور سے نہیں نہائی تھی ہمارے باتھ روم میں تو صرف بالٹی تھی۔ میں نے نہانے کے لئے کپڑے اتارے اور شاور کا گرم پانی کھول کر نیچے کھڑی ہوگئی اف کیا مزیدار نہانا تھا مزا آگیا۔ ابھی میں نہا رہی تھی کہ میڈم نے دروازے پر دستک دی اور کہا جگر جو کپڑے اتارے ہیں وہ دیدے، میں بے دروازے کی اوٹ سے انہیں اتارے ہوئے کپڑے پکڑا دئے۔ جب میں نہا کر فارغ ہوئی تو میں نے میڈم کے بتائے ہوئے کپڑے تلاش کیے جو کہیں نہ ملے پھر ایک سائیڈ پر ایک کالی نائٹی نظر آئی جو میرے گھٹنوں تک ہی آتی تھی۔ میں مجبورا وہ ہی پہن کر باہر نکل آئی۔ مجھے دیکھ کر میڈم کے منہ سے ایک سیٹی نکل گئی۔ میڈم نے مجھے پھر گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹادیا۔میڈم نے پھر بڑے ہی رومینٹک لہجے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تم یقین نہیں کرو گیصندل جب سے میں نے تمہارے مموں کو دیکھا ہے مجھے یہ بہت اچھی لگے ہیں نہ یہ زیادہ بڑے ہیں نہ چھوٹے ان کا سائز قیامت ہے قیامت بالکل کچے امرود جیسا۔ اپنے مموں کی تعریف سن کر سرخ ہوتا ہوا ثمینہ کا چہرہ جزبات کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔پھر انہوں نے نے براہِ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا جان میری اگر تم ناراض نہ ہو تو میں کیا ان کو دیکھ سکتی ہوں؟ اور میرے جواب کا انتظار کیئے بغیر میری نائٹی کا واحد بٹن کھول دیا اور پھر۔۔۔۔ برا ہٹا کرمیرے مموں کو بالکل برہنہ کردیا میری چھاتیاں کافی گوری اور گول تھیں ان گول گول چھاتیوں پر ہلکے براؤن رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو اس وقت اکڑے ہوئے تھے۔میڈم میری طرف دیکھ رہی تھیں اور بہت گرم ہو گئی تھیں پھر انہوں نے ایکممے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ میں لے لیا۔اور اسے چوسنے لگیں۔ ممے کو منہ میں ڈالنے کی دیر تھی کہمیں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور نپل چوسنے کو انجوائے کرنے لگی، اس کے ساتھ ہی میرے منہ سے لذت آمیز ہلکی ہلکی کراہیں نکلنے لگیں۔۔اْف۔ف۔ میم۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ میری کراہیں سن کرمیم نے نپل کو اپنے منہ سے ہٹایا۔۔۔۔اورمیری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ صندل تمہیں مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔ تومیں نے آنکھیں کھول کرکہا جی میڈم مجھے بہت مزہ آرہا ہے آپ ایسے ہی چوستی جاؤ اور میڈم کچھ اور جوش اور خوشی سے میرے دونوں مموں کو چوسنے لگ گئیں میرے مموں کوچوستے چوستے اب میڈم نے اپنا ایک ہاتھ میری رانوں کی طرف لے گئیں۔۔۔ انکا ہاتھمیری رانوں کی طرف بڑھا۔۔۔ایک دفعہ پھر میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی میڈم آئی لو یو۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے جوش میں آ گئی اور بڑی ہی سیکسی آواز میں کہنے لگی۔ تو میرا جگر کا ٹوٹا ہے صندل تو پہلی لڑکی ہے جس نے میرا پیار میں بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پھدی کی طرف جانے والی۔۔۔۔ اپنی انگلیوں کو جو اس وقت میری سڈول ننگی رانوں پر رینگ رہیں تھیں کے لیئے میری دونوں ٹانگوں کو کچھ مزید کھول دیا میڈم کی آنکھیں اس وقت بالکل لال ہوچکی تھیں اور ان میں ہوس کے سرخ ڈورے تیررہے تھے میڈم نے میرے ادھ کھلے ہونٹوں کو اپنے سیکسی ہونٹوں کو میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگی کچھ ہی دیر میں انہوں نے اپنی زبان سے میرے ہونٹوں پر دستک دینی شروع کر دی یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ کھولا اور انکی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااوران کی زبان کو چوسنے لگی۔۔ پھر کچھ دیر بعدمیری پھدی پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔اس پھدی کو پہلے بھی کسی نے چاٹا ہے یا میری پہلی دفعہ ہے تو میں شرماتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں میم یہ پہلی دفعہ ہے (میں نے رقیہ باجی والا قصہ نہ میڈم کو سنایا تھا نہ سنانے کا ارادہ تھا) میڈم نے کہا کہ واہ سیل بند پھدی کا اپنا مزہ ہے اس اپنی انگلی کو میری ننگی چوت پر پھیرتے ہوئے بولیواہ واہ ریشم کی طرح نرم ہے۔ وہ چوت چیک کرنے لگی۔آج میری چوت کلین شیو تھی۔۔۔ چوت کے دونوں لب اندر کی طر ف مْڑے ہوئے تھے اور پھدی کی لکیر کے عین اوپر ایک موٹا سا پھولا ہوا دانہ تھا۔۔۔۔۔۔ انہوں نے میری کلین شیو پھدی پر ہاتھ پھیرا اور اپنی ایک انگلی چوت کے اندر داخل کر دی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ہی میری چوت پر جھکی اوراس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگی۔جیسے ہی انہوں نے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیا۔۔۔۔ میں سسکی لیتے ہوئے کہنے لگی میم جی میری پھدی۔۔۔ کو زور سے چوسیں۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ پہلے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیئے ہلکے ہلکے چوس رہی تھیں اب انہوں نے اس دانے کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوئے چوت کو چوسنے کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔۔ ان کی اس حرکت سے میں تڑپنے لگی تھوڑی دی اس طرح کرنے کے بعد انہوں اپنی قمیض اتار دی اور اپنا انار کے سائز کا ممہ میرے منہ کے آگے کردیا اور اور کہنے لگیں اس کو چوس، میں اس وقت مستی کے عالم میں تھی میں نے بھی انکے ممے چوسنے شروع کردئے باجی کے ممے گندمی رنگ کے تھے اور ابھی مجھے چوستے ہوئے 2منٹ ہی ہوئے تھے کہ میم نے بھی ہلکی ہلکی چیخیں مارنی شروع کر دیں اور ساتھ ساتھ میرے چوتڑوں پر ہلکا ہلکا مساج شروع کردیا، پھر میڈم نے اپنی نیکر اتار دی تھوڑی دیر بعد میم نے ٹانگیں کھول دی اور ر میرے سر کو۔۔اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگی اب تمہاری باری۔ ویسے شائد میں کبھی یہ کام نہ کرتی لیکن سچی میں اس قدر گرم ہوگئی تھی کہ میں اسی طرح ان کی چوت کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد۔۔۔۔ میڈم نے نے اپنی پھدی کے دونوں لبوں کو کھول کر کہا صندل جان ادھر زبان ڈالواس کی یہ بات سن کر میں نے پھدی کے کھولے ہوئے لبوں پر نظرڈالی تو ان کی چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان والی جگہ آف وائیٹ پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نینائٹی کے کونے سے ان کی چوت کے درمیان لگے آف وائیٹ پانی کو صاف کیا اور پھر چوت کی دیواروں کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ ایسا کرتے ہی مزے اور جوش کے ماریان کے منہ سے ہیجان خیز آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں اور وہ مستی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ صندل میرے شونا اور زور سے اور زور سے میری جان میرے جگر اور یوں میں ان کی پھدی کو مزید جوش سے چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ میرے اس طرح چوت چاٹنے سے وہ بے قرار ہو گئیں اور۔۔۔ میرا سر پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگیہائے اتنا مزا، کبھی کسی نے دل سے نہیں کیا یہ کام صندل تونے میری خواہش پوری کردی ہائے میری پھدی۔۔۔اور میں نے محسوس کیا کہ ایسا کہتے ہوئے ان پر کپکی طاری تھی۔۔۔۔ اور وہ بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی ہائے میری پھدی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہا۔ ور پھر اس کے ساتھ ہی کانپتے ہوئے اس کی چوت نے ڈھیر سارا پانی چھوڑا اور پھر ٹھیک 10سیکنڈ بعد میری چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا۔ کافی دیر تک تو ہم دونوں اسی طرح بے سدھ پڑے رہے، مزے کا عالم تھا مجھے بھی رقیہ باجی کے ساتھ کئے گئے سیکس سے 10گنا مزہ آیا تھا۔ پھر تقریباً پورے ایک گھنٹے بعد میڈم نے میرے بالوں میں بڑے پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کہا صندل جان چل اٹھ نہاتے ہیں۔ پھر میں نے اور میڈم نے اکٹھے شاور لیا اور خوب مستیاں کرتے رہے۔ پھر میڈم نے لنچ کے لیء سالن گرم کیا جو شازیہ صبح جاتے ہی بناگئی تھی، لنچ کرکے ہم بستر پر لیٹ گئے۔ میں آپکو بتاچکی ہوں کے میں نے طے کرلیا تھا کہ اب فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہے میں نے بستر کے سرہانے پر بنی بیک سے ٹیک لگالی اور میڈم کو کہا کہ عفو جی میری گود میں سر رکھ لو۔ میڈم نے پہلے تو عفو کہنے پر مجھے بڑے غور سے دیکھا اور اور پھر کہنے لگیں۔ بڑا اچھا لگا بڑے عرصے بعد کسی کا یوں پیار سے پکارنا۔ جب وہ میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئیں تو میں انکے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں۔ کافی دیر ہم خالص زنانہ گفتگو کرتے رہے رشتہ داروں کے بارے اور دیگر اسی طرح کے موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔ پھر میں نے کہا عفو جان ایک بات پوچھوں، میڈم نے کہا ہائے جب تو عفو جان کہتی ہے نا میرا دل کرتا ہے تجھے اپنے اندر چھپالوں۔ تو پوچھ جو تیرا دل کرے، میں نے کہا کہ لڑکیوں سے اس طرح کی دوستی کب سے شروع کی تو اس نے چونک کر کہا ارے یہ کیا سوال کردیا میں نے کہا سوری عفو جان اگر آپ کو برا لگا ہو۔ میڈم نے ایک دم سر اٹھا کر میری آنکھوں پر ایک ڈیپ کس کیا۔ اور کہا کہ صندل میری جان میں نے کئی لڑکیوں سے سیکس کیا ہے لیکین سب کے ساتھ ایک طرح کی زبردستی تھی مگر پیار صرف تیرے ساتھ ہوا میں تجھے سب کچھ بتاوں گی۔1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeکنٹین والی لڑکی قسط ۴ تھوڑی دیر بعد خرم چلا گیا پھر میں نے اور امی نے مل کر کھانا بنایا، چھوٹے بہن بھائی کھانا کھانے کے فوری بعد سوگئے۔ میں اور امی کچھ دیر باتیں کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں امی مجھ سے آنکھیں چراتی رہیں شائد انہیں احساس جرم ہورہا تھا، لیکن کبھی کبھی انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی آجاتی۔ کوئی آدھی رات کا وقت تھا میں نیند کے خمار میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنی چارپائی سے جھانکا تو امی کے بستر سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی میں نے اٹھ کر 10واٹ کا بلب جلالیا۔ امی ایک دم چپ ہوگئیں ۔ میں امی کے پاس گئی اور انکے لحاف میں گھس گئی اور انکے چہرے پر پیا ر کیا اور کہا کہ مورے ولے جاڑے (امی کیوں رو رہی ہو) امی نے کہا کچھ نہیں بس آج تیرے ابو کی یاد بہت آرہی ہے۔ میں نے کہا امی ابو کی یاد تو اب مستقل آئے گی اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتے۔میرے دل میں امی کے خلاف سارے جذبات ختم ہوگئے۔ میں نے کہا لیکن امی جان آپ نے بڑی ہمت سے اس ساری صورتحال کا مقابلہ کیا ہے آپ نے ہم بہن بھائیوں کو صحیح طریقے سے سنبھالا ہے اور ۔۔ کا شکر ہے کہ ہمیں کوئی مالی محتاجی نہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امی نے اپنے آنسو پونچھے اور مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ لیا اور کہنے لگیں بیٹا توصحیح کہہ رہی ہے ہمارا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن میری بچی تو ابھی چھوٹی ہے تجھے اندازہ نہیں عورتوں کو تحفظ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کتنی ضروریات صر ف مرد ہی پوری کرسکتے ہیں۔ اگریہ بات امی نے میرے رقیہ باجی کے ساتھ پیار کرنے سے پہلے کہی ہوتی تو واقعی مجھے اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی لیکن اب میں اس بات کو کچھ کچھ سمجھ سکتی تھی۔ پھر میں نے امی بڑی معصومیت سے پوچھا امی خرم نے اتنی دیر میں اسٹور دیکھا کیا زیادہ سامان رکھنا ہے۔ امی میرا سوال سن کر ایک دم چونک سی گئی اور مجھے غور سے دیکھا شاید وہ اندازہ کرنا چارہی تھیں کہ میں شام والے واقعے کے بارے کتنا جانتی تھیں لیکن میں نے کوئی تاثرات نہیں دیے۔ امی نے کہا نہیں اتنی دیر بھی نہیں لگی بس وہ اسٹور کی لمبائی ناپ رہا تھا، میں نے دل میں کہا مجھے معلوم ہے ہے کہ وہ کیا ناپ رہا تھا اور اوپر سے کہا جی امی، پھر امی رقیہ باجی، کنٹین کی نوکری اور پرنسپل میڈم کے بارے باتیں کرنے لگیں اور ہم لوگ باتیں کرتے کرتے سوگئے۔ صبح کنٹین پر پہنچی تو رقیہ باجی کافی مصروف نظر آرہی تھیں میں نے کہا کہ خیر آپ نے صبح صبح اتنا کام کرلیا کہنے لگیں کل شام میڈم کا ڈرئیوار آیا تھا کہ آج کوئی مہمان آئیں گے میڈم کے۔اس لیئے ایکسٹرا سموسے اور سینڈویچز چاہیئے۔ دوسرے اسکولوں کی کچھ ٹیچرز بھی آرہی ہیں۔ بس اب جلدی سے کام پر لگ جا۔ پھر تفریح تک کام کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی، چھٹی تک رقیہ باجی خاصی تھک گئی تھیں اس لیے کوئی چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کی اور خاموشی سے کنٹین بند کرکے گھر چلی گئیں۔ میں بھی ان کلاسز کی طرف چلی گئی جس کی ہدایت مجھے میڈم سعدیہ نے کی تھی تاکہ میں میٹرک کرسکوں ۔ جب میں کلا س پہنچی تو مجھے بشری ملی جو آٹھویں میں میری کلاس فیلو تھی، میں نے کہا کلاس ہورہی ہے تو اس نے کہا کہ آج کلاس نہیں ہوئی کیونکہ پرنسپل کے دوسرے اسکولوں سے مہمان آئے تھے۔ تو لائیبریری چلی جا میڈم عفیفہ وہاں گئی ہیں 10منٹ پہلے تو بس انکو بتادے تاکہ انکو پتہ رہے کہ توکلاس میں آئی تھی اور پڑھائی میں سنجیدہ ہے۔ میں جب لائیبریری پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا میں جب واپس جانے لگی تو مجھے کونے میں پڑے بک شیلفوں کے پیچھے سے کسی کے بولنے کی آواز آئی میں دبے قدموں سے چلتی وہاں تک پہنچی تو آوازیں اور صاف سنائی دینے لگیں، میں نے بک شیلفوں کے پیچھے جھانکا تو وہاں 15*15کی جگہ تھی اور ایک اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکی اور ایک برقعہ پہنے ٹیچر کھڑی تھی، میں نے پوزشین بدلی تو مجھے دونوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے۔ میڈم عفیفہ اور عائزہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرہے تھے۔ میڈم کے چہرے پر نہایت سختی کے تاثرات تھے انہوں نے عائزہ کو کوگھورتے ہوئے کہا لگتا ہے تم سیدھی طرح نہیں بتاو گی کہ تم اس دن کنٹین کے اند کیا کرہی تھی لگتا ہے تمہاری امی کو بلانا پڑے گا۔ یہ سن کر میری تو جان نکل گئی کیوں کہ میں نے رقیہ باجی کو آواز لگا کر ہوشیار کیا تھا جو عائزہ نے بھی سنی تھی اگر اس نے میرا نام بھی لگادیا تو میں بھی پھنس جاوں گی۔ جوں جوں عائزہ بات کو ٹال رہی تھی میڈم عفیفہ کے چہرے پر درشتگی بڑھ رہی تھی انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تو جا صبح تیری امی کو بلاتے ہیں۔ یہ سن کر عائزہ رونے لگی۔ پھر اس نے کہا میڈم میری امی کو نہ بتانا وہ مجھے اسکول سے اٹھا کر گھر بٹھا لیں گی، میں مرجاونگی۔ وعدہ کریں مجھے معاف کردیں گی میڈم عفیفہ نے کہا منظور ہے اب بتا کیا قصہ ہے۔ عائزہ نے میڈم کو ساری بات بتادی اور شکر ہے میرا کہیں نام نہیں لیا۔ جب میڈم نے یہ ساری بات سن لی تو کہا کہ چل وعدہ میں تیری امی کو نہیں بتاونگی لیکن مجھے تیرا معائنہ کرنا ہوگا کہ تیرے ساتھ اس کاروائی میں تیرے جسم پر کوئی داغ تو نہیں لگ گیا یا تجھے کوئی بیماری ہونے کاڈر تو نہیں ۔ عائزہ یہ انوکھی شرط سن کر حیران ہوگئی، مجھے بھی بہت حیرانی ہوئی، لیکن میں میڈم عفیفہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر وہ ہی چمک تھی جو کنٹین کے کاونٹر کسی خوبصورت بچی کو دیکھتے ہوئے رقیہ باجی کے چہرے پر آجاتی تھی۔ میڈم عفیفہ نے بھی اپنا برقعہ اتار دیا اور برقعہ اترتے ہی انکا چست لباس سامنے آگیا، انکی چست قمیض میں انکے بڑے ممے نمایاں تھے۔ میڈم نے کہا عائزہ جلدی کر ان کے اس طرح گھرکنے پر عائزہ نے جلدی سے قمیض اتاردی اور کھڑی ہوگئی یہ میں پہلے بتاچکی ہوں کہ رقیہ باجی کے ساتھ سکیس کرنے والے دن بھی عائزہ نے بنیا ن پہنی تھی اور وہ برا ۔ میڈم عفیفہ جیسی نفیس اور شستہ لہجے والی زبان والی عورت کہ منہ سے گالی سن کر میں اور عائزہ دونوں دنگ رہ گئے اور عائزہ نے جلدی سے اپنی بنیان اتار دی۔ میڈم عفیفہ آگے بڑھیں اور اس سے پہلے کہ عائزہ سنبھلتی انہوں نے عائزہ کی شلوار بھی نیچے کو کھینچ دی۔ اب عائزہ بالکل ننگی انکے سامنے کھڑی تھی عایزہ کا خوبصورت بدن کر میڈم عفیفہ کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی سیٹی نکل گئی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ عائزہ ایک سیکسی جسم کی مالک تھا، گورا رنگ کیوٹ سے ممے پتلی کمر لمبے بال اور اسکی چوت سیاہ بالوں میں گھری ہوئی تھی بال کم تھے لیکن تھے ضرور، پھدی کلین شیو نہیں تھی۔ میڈم نے کہا کہ تم بہت گرم ہو میری جان۔۔ میڈم نے اس کو گلے سے لگلیا اور پھرانکی زبان عائزہ کے گالو ں سے ہوتی ہوئی اس کے ہونٹوں پر پہنچی اور پھر انہوں تو اس کچی کلی کے ہونٹوں کو اپنی زبان کے ساتھ ہلکا سا ٹچ کیا پھر اس کے نرم ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی اس کے ساتھ ہی عائزہ بھی گرم ہو گئی اور اس نے میڈم کی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااور اسے چوسنے لگی۔ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میڈم نے عائزہ کی چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں دبانے لگی۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک زبان چوستی رہیں۔ عائزہ نے لایئبریری کے دروازے کی طرف دیکھا تو میڈم نے اس کے گال کی پپی لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میری جان اس وقت یہاں کوئی نہیں آئے گا یہ بات کہتے ہی میڈم نے نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ بھی ننگی ہو گئیں۔ میڈم کے ممے بڑے تھے کم از کم بیالس کے، ان کا رنگ گندمی تھا اور جسم بہت بھر بھرا تھا وہ موٹی تو نہیں تھی مگر پتلی تو بلکل نہیں تھی۔ انکی ٹانگوں پر ہلکے ہلکے بال تھے اور پھدی بالکل کلین شیو تھی انکے کندھے مظبوط تھے اور پیٹ نکلا ہو نہیں تھا اب دونوں آگے بڑھیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ گئیں میڈم عفیفہ اپنی بھاری چھاتیوں کو عائزہ کی چھوٹی چھاتیوں سے رگڑتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنی دیر کیوں لگائی مجھے ملنے میں سیکسی گڑیا اور اس کے ساتھ ہی میڈم عائزہ کی گردن کو بے تحاشہ چومنے لگی۔۔۔ پھر گردن سے ہوتی ہوئی وہ عائزہ کی چھاتیوں پر آئی اور انہیں چوسنے لگی۔۔۔ پھر وہ عائزہ کے پیٹ پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے آئی اوراسکی پھدی پر آ کر رْک گئی میڈم اس کام کی بہت ماہر کھلاڑی لگ رہی تھی اس نے عائزہ کو بہت جلد گرم کردیا تھا ۔میڈم نے پھر عائزہ کو اپنے بازوں میں اٹھاکر کر کونے میں پڑی میز پر لٹادیا پھر اس کی چوت پر جھک گئی اور زبان نکال کر چوت چاٹنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دو انگلیوں کو بھی عائزہ کی چوت کے اندر باہر کرنے لگی۔ چوت چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اسکی چوت نے ڈھیر ساری منی اگل دی عائزہ کے چھوٹنے کے کچھ دیر بعد تک بھی وہ اسکی پھدی میں انگلی مارتی رہی پھر اس نے عائزہ چوت کو ایک بوسہ دیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ میز پر لیٹ گئی۔ ۲ منٹ کے بعد میڈم نے کروٹ لی اور مشنری سٹائل میں لیٹی ہوئی عائزہ کے گلابی نپلز کو اپنی انگلیوں میں پکڑ لیا۔۔اس کی بھاری چھاتیوں پر نپلز کا سرکل بلکل چھوٹا اور گول دائرے کی شکل میں تھا چنانچہ میڈم نے بھی اسی دائیرے پر سرکل کی شکل میں زبان پھیرنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی ایک انگلی نیچے اس کے دانے پر لے گئیں اور اسے مسلنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بولی عائزہ مزہ آ رہا ہے عائزہ کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا بس آہ اوئی جیسی آوازیں نکلاتی رہی۔ میڈم نے اس کے مموں سے منہ نکال کر اس کی ٹانگوں کو مزید کھول کر اس کی چوت دیکھنے لگیں۔ اس کی چوت بہت موٹی اور لب اندر کی طرف مْڑ کر آپس میں جْڑے ہوئے تھے۔۔۔اور دور سے پھدی کی لکیر ایسے نظر آ رہی تھی کہ جیسے دو پہاڑی ٹیلوں کے درمیان تھوڑی بڑی سی دراڑ پڑی ہو۔۔۔۔ اور عائزہ کی اس دراڑ سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھامیڈم نے اسکی پھدی کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر پہلے تو اس کی نرم پھدی پر جی بھر کے ہاتھ پھیرا کہ جس پرہلکے ہلکے بال تھے پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آئی اور اس کی پھدی پر جھک کر اس کی چوت کو چاٹنے لگی۔ اس چوت چاٹائی سے عائزہ دھیرے دھیرے کراہنے لگی اور میری حالت بھی یہ سین دیکھ کر بہت خراب ہوگئی ۔ پھر کچھ دیر بعد میڈم نے میز پر لیٹ کر عائزہ کو اپنے اوپر لٹالیا اور اپنی پھدی اسکی پھدی سے رگڑنے لگیں ۲ منٹ مستقل اس رگڑائی کے بعد پہلے عائزہ نے جھٹکے مارنے شروع کئے اور پھر میڈم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ان کی کی چوت نے بھی ڈھیروں پانی چھوڑ دیا میں بے بھی اپنا ہاتھ شلوار میں ڈالا ہو ا تھا اور اپنی پھدی کو مسل رہی تھی مجھے اس ایسا لگا کہ میں بھی ڈسچارج ہو رہی ہوں میرا ہاتھ بک شیلف پہ تھا اور سارا زور بھی اسی پہ تھا ادھر میں ڈسچارج ہوئی ادھر بک شیلف گر گیا اور میں سیدھی دوسری طرف جا گری جہاں میز پر میڈم عفیفہ اور عائزہ ننگے پڑے ہوئے تھے۔ میڈم اور عائزہ بک شلیف گرنے کے ہلکے دھماکے سے چونک گئے اور مجھے سامنے گرے دیکھ کر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے۔1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeکنٹین والی لڑکی قسط نمبر ۳ میں کچھ دیر اپنا سانس بحال کرتی رہی لذت آمیز تھکن سے میرا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا، جونہی میری بے ترتیب سانسیں درست ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ میری قمیض اور بنیان اتری ہوئی ہے اور شلوار بھی گھٹنوں تک آگئی ہے اور رقیہ باجی اپنی شلوار پہن چکی تھیں لیکن انکا سینہ ابھی تک عریاں تھا۔ میں نے دیکھا کہ رقیہ باجی مسکرا رہی ہیں اور اور انکی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں مجھے بہت شرم آئی۔ پھر رقیہ باجی نے کھونٹی سے میری قمیض اور بنیان اتار کر مجھے دی اور کہا میری جان کیا اس طرح رہوگی میں نے پھر شرم سے سر جھکا لیا۔ رقیہ باجی نے ایک بار پھر مجھے چوم کر کہا کہ تم شرماتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رقیہ باجی کو کہا کہ آج مجھے جلدی جانا ہے اگر آپ اجازت دے دیں۔ رقیہ باجی ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں نہانے کی اتنی جلدی ہے میری جان کو، پھر مسکرا کر کہنے لگیں اچھا جا، لیکن کل ٹائم پر پہنچ جانا۔ دوستو میں اپنے گھر تک 5منٹ کے مختصر فاصلے میں بھی پسینہ پسینہ ہوگئی۔ دل کا چور جو تھا ہر وقت یہ خیال آتا تھا کہ جو بھی لڑکی یا عورت مجھے دیکھتی مجھے خیال آتا ہے کہ جیسے اسے سب خبر ہے۔ گھر پہنچ کر سکون آیا، اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ امی پرنسپل میڈم کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھیں اور تمام چھوٹے بہن بھائی ابھی اسکول میں ہی تھے۔ میں نے جلدی سے پہلے شلوار دھوکر دھوپ میں ڈالی اور پھر نہانے چلی گئی جتنی دیر میں نہا کر آئی تو شلوار سوکھ چکی تھی میں نے شکر ادا کیا کہ امی کے آنے سے پہلے شلوار سوکھ گئی تھی کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا اور امی یا بہنوں سے کوئی بھی چیز چھپانی مشکل تھی۔ ایک بجے چھوٹے بہن بھائی واپس آگئے اور 2بجے امی واپس آگئی۔ امی کو ہمیشہ ڈرائیور چاچا سرکاری سوزوکی ڈبے میں واپس چھوڑنے آتا تھا اس کا نام شفیق تھا اور ایبٹ آباد کا رہنے والا تھا اسکی عمر 50سال کی تھی اور وہ بابا کا دوست تھا اور انکے مرنے کے بعد ہمارا بہت خیال کرتاتھا۔ شفیق چاچا اسکو کے بالک ساتھ اور ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر سرکاری کوارٹر میں رہتا تھا۔ اسکی بیوی صغریٰ چاچی بھی بہت اچھے دل کی عورت تھی اور میری امی کی واحد دوست تھی۔ شفیق چاچا نے مجھے دیکھا تو پہلے امی کو گاڑی تھیلا اتار کردیا جو شائد میڈم سعدیہ نے امی کو دیا تھا پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا بیٹا اگلے مہینے عائشہ (شفیق چاچاکی بیٹی) کی شادی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے، میں نے کہا کہ چاچا امی کہاں کہیں جانے دیتی ہے، تو شفیق چاچا ہنس کر بولا بیٹا یہ کہیں اور نہیں تمہارے گھر کی شاردی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے۔ میں نے تمہاری امی سے بات کرلی ہے میں نے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ رات کو جب میں سونے کے لیے اپنی چارپائی پر لیٹی تو رقیہ باجی کے ساتھ گزارا ہوئے دن کا ایک ایک پل یاد آنے لگا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ میں نے یہ سب کچھ کر لیا ہے کیونکہ اس وقت تک میری زندگی کے کسی بھی دریچے سے سیکس کی ہوا تک نہیں آتی تھی۔ آج جو بچیاں 15سال کی ہیں وہ ہماری زندگی کا تصور تک نہیں کرسکتیں، نہ موبائل نہ کمپیوٹر نہ ہی انٹر نیٹ اور نہ ہی کیبل۔ صرف پی ٹی وی اور ہمارے گھر میں وہ بھی نہیں تھا تو میرا جنسی تلذذ کا تجربہ مکمل طور پر خالص تھا اس میں کسی خارجی عوامل کا دخل نہیں تھا۔ اگلے چند دن بغیر کسی اہم واقعے کے گذر گئے رقیہ باجی نے بھی صرف ہلکی ہلکی چیٖھڑ چھاڑ پر اتفاق کیا کونکہ وہ بہت محتاط تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ کہیں پرنسپل میڈم اچانک چھاپہ نہ ماردیں اور پرنسپل میڈم سے رقیہ باجی کی جان نکلتی تھی۔ پہلے تجربے کے بعد میری طلب میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ لیکن سچی بات ہے کہ ڈر بھی بہت لگتا تھا۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے بعد میری زندگی میں سیکس ایسے داخل ہو ا کہ آج تک نہیں نکلا۔ اگر کوئی اسلام آباد کو میرا ہم عمر یہ اسٹوری پڑھ رہا ہے تو اسے یاد ہوگا کہ اسلام آباد میں 80اور90 کی دہائی میں لوڈ شیڈنگ صر ف سردیوں کے مہینے میں ہوتی تھی اور اسکی وجہ راوال اور سملی ڈیم میں پانی کی کمی ہونا تھی۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی شام کو ہم سب لوگ گھر پہ تھے دونوں بہنیں اور بھائی سرای کی وجہ سے دورے کمرے میں لحاف میں دبکے پڑے تھے اور میں اور امی ایک کمرے میں تھے کہ رات کو 6بجے دروازے پر دستک ہوئی جی ہاں 1980میں دسمبر شام کے 6بجے کا مطلب رات ہی تھا۔ امی کی ٹانگ میں شام سے درد تھا اور بستر میں لیٹی ہوئی تھی کیونکہ میں اس کی ٹانگیں دبا رہی تھی دونوں بھائی چھوٹے تھے تو انہیں دروازہ کھولنے سے منع کیا تھا۔ دستک کی آواز سن کر امی نے مجھے کہا کہ پوچھو کون ہے میں دروازے کے پاس جا کر بولی کون ہے، باہر سے ایک مردانہ آواز آئی جی میں خرم ہوں، میں نے کہا کہ کون خرم تو اس نے کہا جی میں شفیق ڈرائیور کا بیٹا، مجھے امینہ خالہ سے ملنا ہے۔ میں نے امی کو بتایا تو انہوں نے پہلے حیرت کا اظہار کیا اور پھر ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں ہا ں آج صغری نے کہا کہ وہ خرم کو بیھجے گی اسٹور دیکھنے۔ ہمارا گھر چونکہ اسکول کی دیوار کے ساتھ پرنسپل میڈم کے کہنے پر بنایا گیا تھا تو کمرے تو صرف 2تھے مگر بابا نے اسٹور اچھا بڑا بنایا تھا تاکہ بعد میں اسکو بھی کمرا بناسکیں لیکن زندگی نے ان کو مہلت نہ دی۔ خرم وہ ہی اسٹور دیکھنے آیا تھا تاکہ اگلے ماہ اسکی بہن عائیشہ کی شادی کو کچھ سامان وہاں رکھا جاسکے۔ میں نے امی کی بات سن کر دروازہ کھول دیا اور سے کہا کہ وہ اندر آجائے۔ ہمارے گھر میں دروازے کے ساتھ ہی کچا صحن تھا خرم جونہی اندر آیا تو ایکدم لڑکھڑا گیا میں نے فورا اس کو تھام لیا جونہی میں نے اسکو پکڑا اس نے بھی فوا مجھے پکڑ لیا پھر 10سیکنڈ میں وہ سنبھل گیا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا لیکن اس لمحات لمس سے میرے پورے جسم میں سنسنسی دوڑ گئی۔ ہم اندر کمرے میں داخل ہوئے تو خرم نے امی کے پاس جا کر سر کو نیچے جھکایا تو امی نے اس کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا کہ اتنے اندھیرے میں کیوں آگیا بیٹا، خرم نے کہا خالہ جب گھر سے چلا تھا تو بجلی تھی یہاں پہنچا تو چلی گئی پہلے سوچا کہ واپس چلا جاوں لیکن پھر سوچا کہ اسٹور تو بعد میں بھی دیکھ سکتا ہوں لیکن وہ بام آپ کو دینا ضروری تھا جو امی نے آپکی ٹانگوں کے درد کے لیے بھجوایا ہے، امی یہ سن کر صغری چاچی کو دعائیں دینے لگے اور مجھے کہا کہ بھائی کو کرسی لادے میں نے پاس پڑا موڑھا آگے رکھ دیا اور خود امی کے ساتھ چارپائی پہ بیٹھ گئی۔ کمرے مں لالٹین جل رہی تھی اور خرم بالکل اس کی روشنی تلے بیٹھا ہو ا تھا۔ تب میں اس کو پہلی بار دیکھا۔ خرم کی ستواں ناک تھی اور بڑی بھوری آنکھیں، اس کا رنگ سرخ و سفید تھا اور ہونٹوں پر باریک سی براون مونچھیں اس کا قد بھی خاصا لمبا تھا ، اسنے پہلے بام نکال کر امی کو دیا، پھر جیب سے ایک تھرمامیٹر نکالا او امی کو کہا کہ میری امی نے کہا تھا کہ آپ کا ٹمپریچر لے کر آنا ہے۔ امی نے کہا کہ صغری تو وہم کرتی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن خرم نے امی کی ایک نہ سنی اور تھرما میٹر امی کے منہ میں ڈال دیا۔ خرم لاکھ امی کی دوست کا بیٹا تھا لیکن تھا تو مرد اور امی کو بیوہ ہوئے 4برس گزر چکے تھے امی اس کے اتنے قریب آنے پر جھینپ گئیں۔ میں نے بھی امی کو پہلی بار کسی غیر مرد یا جوان لڑکے سے بغیر پردہ کے بات کرتے دیکھا تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی بات عجیب نہیں لگ رہی تھی امی کا ٹمپریچر بالکل نارمل تھا، خرم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا بڑے عرصے بعد ہمارے گھر میں ایک مردانہ آواز گونج رہی تھی اور مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 10منٹ کے بعد لائٹ آگئی۔ امی نے کہا کہ صندل جا بھائی کو اسٹور دکھا دے۔ میں خرم کو لے کر باہر نکلی تو صحن عبور کرکے ہم اسٹور پہنچ گئے۔ جب میں نے اسٹور کا بلب جلانے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے میں نے خرم کو کہا کہ تم رکو میں اندر سے لالٹین لے کر آتی ہوں، میں دوبارہ اندر آئی تو امی نے کہا کہ اب کیا ہوا میں نے کہا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے امی نے کہا کہ تو ٹھہر اندھیرے میں تیرا جانا مناسب .اور مجھے کہا کہ جلدی سے ایک کپ چائے بنادے اس کے لیے، میں کچن چلی گئی اور اسٹور کی طرف، جب میں نے چائے کا پانی رکھا اور کپ دھو کے رکھے تو دیکھا کہ چائے کی پتی نہیں ہے میں نے سوچا امی سے پوچھتی ہوں کہ قہوہ بنادوں؟ میں اسٹور کی طرف گئی تو مجھے اندر سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آنے لگیں، میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی اور درز سے اند جھانکا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں نے دیکھا کے خرم نے امی کو پیچھے سے جکڑا ہو ا ہے اور امی اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زور لگار رہی ہیں میرے دل میں آیا کہ ابھی اندر گھسوں اور خرم کو 2تھپڑ لگادوں لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ امی نے خرم کو کہا کہ شرم کرو میں تمہاری خالہ ہوں تمہاری امی کی دوست ہوں اور یہ کیا حرکت کر رہے ہو۔ خرم نے امی کا گال کو چومتے ہوئے کہا کہا کہ آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہو آپ بہت خوبصورت ہو میں کافی دن سے آپ کو یہ کہنا چارہا تھا لیکن موقع نہیں ملا۔ امی نے اپنی گلابی اردو میں خرم سے کہا بچہ باز آجاو، ہم تمہاری امی کی عمر کا عورت ہے امارا5بچہ ہے شرم کر لو اب مجھے چھوڑ دہ ابھی صندل آجائے گا امرا کتنا بے عزتی ہوگا جوان بیٹی کے سامنے۔ خرم امی کی ساری باتیں سنی ان سنی کرتا رہا پھر اس نے امی کا چہرہ اپنی طرف کیا اور کہا کہ اچھا میں چھوڑ دوں گا لیکن آپ میری دو باتیں سن لو ورنہ پھر جو مرضی ہو میں نہیں ڈرتا اچھا ہے سب کو پتہ چل جائے۔ امی تھی تو ایک گھریلو عورت اس کی باتوں میں آگئی۔ امی نے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر خرم کو کہا بولو اس نے امی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم ہے جو میں پوچھوں اس کا سچ سچ جواب دینا ہے یہ کہ کر اس امی کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور امی کے ہاتھ لالٹین لے کر ایک کنڈے کے ساتھ ٹانگ دی۔ اب لالٹین کی روشنی امی کے منہ پر پڑ رہی تھی اور خرم بالک ان کے سامنے کھڑا تھا خرم نے دونوں ہاتھ امی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور اس کا جسم تقریباً امی کے جسم کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا۔ خرم نے امی سے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے امی نے ایک سیکنڈ سوچا اور کہا 34سال خرم نے کہا یہ تو کچھ عمر نہیں۔ پھر خرم نے کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم سچ سچ بتانا میری شکل کیسی ہے امی نے کوئی جواب نہیں دیا خرم نے کہا امینے جلدی کرو بچے آجائیں گے جب اس نے امینے کہا تو میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر بالکل سرخی دوڑ گئی کیونکہ بابا پیار سے امی کو امینے کہتے تھے۔ امی نے کہا تم بہت خوبصورت ہو بیٹا تمہیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی،پھر میں نے دیکھا کہ نیم تاریکی میں خرم نے اپنا نچلا دھڑ امی کے ساتھ پیوست کردیا۔ میں نے دیکھا کہ امی کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکل گئی، خرم نے کہا کہ امینے تم بہت خوبصورت ہو میں نے اپنی زندگی میں تم سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی۔ امی کا رنگ پہلے ہی سرخ تھا مزید گلنار ہوگیا۔ خوبصورتی کی تعریف دنیا کی ہر عورت کی کمزوری ہے خرم نے نے پھر امی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور امی کی دونوں آنکھیں چوم لیں۔ میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر اب مزاحمت کم ہو رہی تھی کہ خرم نے بڑی آہستگی سے امی کے دونوں ممے قمیض کے اوپر سے دبانے شروع کردئے اور امی کو کہا کہ تم اتنی پیاری اور جوان ہو مرد کے بغیر کیسے زندگی گزاروگی امی نے کہا کہ میرے 5بچے ہیں اور ہمارے علاقے میں بچوں والی بیوہ شادی نہیں کرتی۔ لیکن اب کی امی کی آواز اور لہجے سے غصہ بالکل غایب ہوچکا تھا۔ خرم نے امی کی ناک سے اپنی ناک رگڑی اور کہا امینے جان آئی لو یو۔ امی نے سر جھکا کر کہا بے شرم اب جاو تم نے میرا سارا محنت ختم کر دیا ہے امی کے منہ سے یہ سن کر خرم نے امی کو زور سے جپھی ڈال دی۔خرم نیامیکو جپھی ڈالی ھوئی تھی اور خرم امی کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر چوس رھے تھے اور امی کی آگے سے قمیض اوپرکردی تھی اب امی کے دونوں بڑے بڑے گول مٹول چٹے سفید چھتیس سائز کے ممے بریزئیر سے آزاد تھے اور امی کی آنکھیں شرم سے مکمل طور پر بند تھیں۔ خرم کا ایک ھاتھامی کے ایک مْمے پر تھا اور دوسرا ھاتھ امی کی بْنڈ پر رکھا ہو تھا وہ اسے اوپر نیچے پھیر رہا تھا۔خرم مسلسلامی کے ہونٹ چوس رہا تھا پھرخرم نے امی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کیے تو میں نے دیکھا کہ امی کی آنکھیں ابھی بند تھیں بند تھی اور وہ شائد 4سال بد ہونے والے اس جنسی مزے میں کھوئی ھوئی تھی اب خرم نے کی گالوں کو چومنا شروع کردیاوہ کبھیامی کے گالوں کو چومتا تو کبھی ان کے گال کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتا۔امی کا رنگ تو پہلے ھی چٹا سفید تھا اب بلکل سیب کی طرح لال ہوچکا تھا۔خرم نے اب زبان کا رخ امی کے کان کی لو کی طرف کیا جیسے جیسیخرم کی زبان امی کے کان کی لو سے ھوتی ھوئی کان کے پیچھے کی طرف جاتی تو وہ ایک جھرجھری سی لیتی اور اپنی پھدی والے حصہ کو خرم کے لن والے حصہ کے ساتھ جوڑ دیتی اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتی پھر خرم نے تھوڑا نیچے ھوتے ہوئے امی کا نپل منہ میں لے کر اس چوسناشر وع کر دیا۔خر م مسلسل اپنی زبان سے نپل چوس رہا تھا۔ خرم اب اپنا ایک ھاتھامی کے پیٹ پر پھیر رہا تھا اور کبھی اپنی انگلی انکی ناف کے سوارخ میں پھیرنے لگ جاتا۔ پھر خرم نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ امی کی پھدی پر شلوار کے اوپر پھیرنا شروع کر دیا اور امی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔امی کا ھاتھ مسلسل خرم کے بالوں کو مٹھی میں لیے ھوے تھا۔ پھر خرم نے اپنا ھاتھ امی کے ازاربند پر رکھ لیا اور انگلیوں سیاسکا سرا تلاش کرنے لگ گیا۔ امی نے ایک دم کہا نہیں نہیں بس کو اب کوئی آجائے گا، خرم نے یہ بات بھانپ لی کہ ا امی کو جنسی عمل پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ کسی کے آنے کا ڈر ہے تو وہ اور شہر ہوگیا۔ اس نے امی کو کہا امینے جان ابھی کوئی نہیں آتا اور کہا کہ آپ آواز لگاو کہ صندل چائے کمرے میں رکھ دو ہم وہیں آرہے ہیں۔ امی بھی اس کے ایسے ٹرانس میں تھی کہ انہوں نے آواز لگائی صندل بیٹا چائے کمرے میں رکھ دینا میں پیٹی ہٹوا کر آرہی ہوں۔ میں نے دروازے سے ذرا دور جا کر آواز لگائی جی امی پہلے چولہا تھوڑا خراب تھا اب دوبارہ پانی رکھا ہے 15منٹ لگے گیں، میں دربارہ کچن آئی اور نئے سرے سے چائے کا پانی رکھا اور دہ بارہ اسٹور روم کی طرف چلی گئی۔ اس وقت تک خرم امی کی شلوار اتار چکا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اب امی کی گوری گوری موٹی بھری بھری ننگی ٹانگیں اور گولڈن رنگ کے بالوں میں ڈھکی انکی پھولی ھوی پْھدی تھی یہ سین دیکھتے ھی میرا ھاتھ خود ھی اپنیپھدی پر چلا گیا جو پتہ نھی کتنی گرم تھی اور میں نے اس مسلنا شروع کردیا۔ خرم نے اپنا ایک ھاتھامی کی پھدی پر رکھا ہو ا تھا اور ھاتھ کی درمیانی انگلی کو پھدی کے اوپر نیچیکر رہا تھا امی اب بہت گرم ہوچکی تھی اور اپنے ھاتھ سے خرم کے ہاتھ کو اپنی پھدی پر دبارہی تھی۔ اب امی اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کرخرم کے کے ھاتھ کو آگے پیچھے جانے کا راستہ دے رھی تھی۔ اچانک امی کی آنکھیں نیم بند ھونے لگ گئی اور منہ اور انہوں نے تیز آواز میں سسکیا ں بھرنی شروع کردین۔ خرم نے اپنے ھاتھ کی سپیڈ اور تیز کردی اچانک امی نے اپنی دونوں ٹانگوں کوخرم کے ھاتھ سمیت ذور سے آپس میں بھینچ لیا اور نیچے کی طرف جھکتی گئی اتنا جھکتی گئی کہ نیچے ھی پاوں کے بل پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی خرم بھی امی کے ساتھ ہی جھک گیا۔ پھر امی کے جسم نے ایک زور سے جھٹکا لیا اور ایک دم پرسکون ہوگیا۔ اب امی اور خرم دو منٹ یونہی لیٹے رہے اور پھر امی جلد ہی اٹھ گئی اور کہا جلدی کرو صندل آگئی ہوگی میں بھی جلدی سے کچن چلی گئی اور جتنی دیر میں امی اور خرم کپڑے پہن کر آتے میں بھی قہوہ لے آئی۔ امی نے کمرے میں آتے ہی صفائیاں دینی شروع کردین کہ مشکل سے جگہ نکل آئی ہے اور کل پر سوں خرم آکر سامان رکھ دے گا۔ امی اور خرم ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے، اور سچی بات ہے کہ مجھے امی پہ تو غصہ آرہا تھا لیکن خرم اور پیارا لگ رہا تھا۔ نہیں یہ کہہ کر امی ہمت کرکے اٹھیں اور لالٹین اٹھا کر اسٹور کی طرف چل دیں1 like
-
کنٹین والی لڑکی
1 likeکینٹین والی لڑکی قسط 2 رمیز حیدر میری آواز سنتے ہی رقیہ باجی اپنے کپڑے ٹھیک کرے ہوئے کھڑکی کی طرف آیئیں اور مجھے کنہے لگیں کیا ہو ا، میں نے کہا کہ پرنسپل صاحبہ آرہی ہیں یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ ایک دم زرد پڑگیا اس نے اپنے تمام کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا اور جلد ہی ایک تولیا گیلا کرے کے اپنے منہ پر پھیرا اور اسی تولیے سے جلدی عائزہ کا منہ بھی صاف کرنے لگیں۔ابھی رقیہ باجی نے تولیہ رکھا ہی تھا کہ پرنسپل میڈم اور ا سلامیات والی میڈم عفیفہ کنٹین کے اندر داخل ہوگئیں۔ پرنسپل میڈم سعدیہ کو دیکھتے ہی ہم تینوں نے سلام کیا۔ میڈم سعدیہ نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور بڑی حیرانی سے عائزہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں تم یہاں کیا کر رہی ہو، عائزہ ابھی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے کہا کہ میڈم یہ اپنا کھانا گرم کراوانے آئی تھی۔ میڈم سعدیہ نے کہا رقیہ تمہیں معلوم نہیں کنٹین کے اندر لڑکیوں کا داخلہ سختی سے منع ہے۔ رقیہ باجی نے نظریں جھکا کر کر کہا میڈم میں معافی چاہتی ہوں، آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔ جب میڈم سعدیہ اور رقیہ باجی کے درمیان یہ بات ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ میڈم عفیفہ بڑی گہری نظروں سے عائزہ کا جائزہ لے رہی تھیں اور انکی تمام توجہ عایزہ کے یونیفارم پر آئی شکنوں پر تھی۔ عائزہ نے بھی انکی نظریں محسوس کرلیں تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ میڈم عفیفہ سے آنکھیں چرا رہی تھی۔ ہ میڈم عفیفہ کی عمر 45سال کے لگ بھگ تھی انکا جسم صحت مند تھا اور گندمی رنگت کی حامل تھیں وہ میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور ہر مشورے میں شامل ہوتی تھیں کئی لڑکیوں کو سزا یا سخت ڈانٹ کے لیے میڈم سعدیہ میڈم عفیفہ کے حوالے کردیتی تھیں ۔ میڈم سعدیہ اوررقیہ باجی کی گفتگو کا رخ اب دیگر معاملات کی طرف مڑ گیا تھا وہ کنٹین کی صفائی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر بات کر رہی تھیں۔ میڈم سعدیہ واپس جانے کے لیے مڑیں اور عائزہ سے پوچھا تم نے کھانا کھالیا عائزہ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ج جی میڈم۔ میڈم سعدیہ نے اس کہا کہ تم اپنی کلاس میں جاو اور آئیندہ کھان کنٹین کے باہر سے دیا کرو عائزہ ہاں میں سر ہلاکہ اوکے میم کہتی ہوئی فوراًباہر چلی گئی۔ پھر میڈم سعدیہ نے میری امی کا پوچھا اور کہا کہ وہ آج بیماری کی وجہ سے کام پر نہیں آئی اس کی ٹانگ کا درد کیسا ہے میں نے کہا جی بہتر ہے پھر دونوں کنٹین سے باہر نکل کر لیب کی طرف مڑگئیں۔ انکے جاتے ہی رقیہ باجی نے کہا آج تو نے بڑے ٹائم پر آواز لگائی، لیکن ایک منٹ رک، یہ تونے خطرہ خطرہ کیوں کہا، میں خاموش کھڑی رہی۔ رقیہ باجی یہی واسل درشتگی سے دوبارہ پوچھا تو میں نے کہا کہ میں آدھے گھنٹے سے کھڑکی میں کھڑی تھی، یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ پیلا پڑگیا اور وہ دھم سے صوفے پر بیٹھ گئی، 2منٹ تک مکمل سناٹا رہا۔ پھر رقیہ باجی نے مجھے پاس بلا کر صوفے پر بٹھایا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر رونے لگی اور بار بار کہہ رہی تھی صندل مجھے معاف کردو میں بہک گئی تھی۔ میں نے انکے آنسو پوچھے اور کہا کوئی بات نہیں، پھر رقیہ باجی کہنے لگیں میرے میاں ے انتقال کو کتنے برس بیت گئے بعض اوقات خود پر قابو نہیں رہتا لیکن تو یہ بات ابھی نہیں سمجھے گی جب تیری شادی ہوگی تو تجھے ان معاملات کا پتہ چلے گا انکی یہ بات سن کر میں شرما گئی اور میر ا چہرہ بالکل سرخ ہو گیا۔ رقیہ باجی نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر میری آنکھوں کو چوم لیا اور کہنے لگی میری بنو شرماتی ہوئی کتنی خوبصورت لگتی ہے، میں اور شرماگئی، رقیہ باجی نے ایک دم مجھے گلے سے لگا لیا اور کہا میری جان وعدہ کر یہ میرا راز کبھی کسی کے آگے نہیں کھولے گی۔ سچی بات تھی کہ رقیہ باجی کا رویہ پہلے دن سے میرے ساتھ بہت اچھا تھا اور مجھے اس نوکری کی وجہ سے بڑی سہولت تھی میں نے کہا کہ میں وعدہ کرتی ہوں باجی کسی کو نہیں بتاونگی۔ یہ سن کر رقیہ باجی نے ایک بار پھر میری آنکھوں کو چوم لیا اور میرا ہاتھ زور سے دبایا۔ اور مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ اْس کے اس طرح گلے لگانے سے میرے سینے کے ساتھ اس کے موٹے ممے میری چھاتیوں کے ساتھ پریس ہو گئے۔ اسے سینے سے سینہ لگانے سے مجھے ایک نئی ایک نئی چیز محسوس ہوئی۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ ہمارے اسکول کی جمعدارنی مارتھاکنٹین کی صفائی کرنے آگئی، میں اس سے جھاڑو مر وا کر فارغ ہوئی تھی کہ 3بج گئے میں نے رقیہ باجی سے کہا کہ میں اب جاوں امی انتظار کر رہی ہوں گی ویسے بھی انکی طبعیت خراب ہے۔ رقیہ باجی نے کہا اوکے۔ جب میں رات کو سنے کے لیے لیٹی تو پھر سارا منظر میری آنکھوں میں پھرنے لگا اور مجھے لگا کہ میں دوبارہ ڈسچارج ہو رہی ہوں پھر بڑے مزے کی نیند آئی۔ اگلے دن جمعرات تھی جلدی چھٹی ہوگئی۔ جمعے کو چھٹی کے دن میں نے بہن کے ساتھ مل کر کپڑے دھوئے امی کو دوائی دی۔ ہفتے کے دن جب میں کام پر پہنچی تو رقیہ باجی کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی اور خوش لگ رہی تھیں میں نے تھوڑی دیر بعد پو چھا باجی کیا بات ہے آج بڑی خوش لگ رہی ہیں کہیں عائزہ تو نہیں آرہی آج دو بارہ، تو رقیہ باجی چپ کر ایسی کوئی بات نہیں تو کیا اب بلیک میل کرے گی کیا، میں نے کہا کہ نہیں باجی میں تو مزاق کر رہی تھی۔ چھٹی کے بعد جب ہم کام سمیٹ رہے تھے تو میں نے نوٹ کیا کہ رقیہ باجی میرے بالکل ساتھ ساتھ چپک کر کام کر رہی تھیں اور بہانے بہانے سے میرے جسم بالخصوص میرے چوتڑوں کو ہاتھ لگا رہی تھیں، کچھ دیر تک تو میں نے برداشت کیا پھر میں نے کہا رقیہ باجی یہ آج آپ کیا کر رہی ہو تو انہوں نے ایک دم کام سے ہاتھ روک دئے اور میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں صندل جان اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو، میں نے کہا کہ پہلے تو کبھی آپ نے یہ بات نہیں کی اب کیا ہوا ہے آپ کو، رقیہ باجی کہنے لگیں پہلے میں تم سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتی رہی لیکن اس دن تم نے مجھے اور عائزہ کو دیکھ لیا تھا اب ہمارے درمیان پہلے والا تکلف نہیں رہا۔ ابھی میں کوئی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے دروازہ بند کرد یا اور مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ باجی نے اپنے مموں کو بڑی زور سے میرے ساتھ پریس کیا اور پھر اپنی بڑی سی چھاتیوں کو میری چھاتیوں پر رگڑنے لگی۔۔ اس کے اس طرح چھاتی رگڑنے سے میرے اندر ایک انجانی سا کرنٹ دوڑنے لگیا۔ اور میں مزے سے بے حال ہو کر تیزی سے سانس لینے لگی۔۔ میری یہ حالت دیکھ کرباجی نے اپنی چھاتیوں کو میری چھاتیوں کے ساتھ رگڑتے ہوئے کہا صندل جان تمہیں مزہ آ رہا ہے، میری آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور میرے منہ سے ہلکی سی جی نکلی۔ اسے سن کر باجی نے میرے ایک گال کو چوما۔۔۔ اور کہنے لگی صندل۔۔ اس طرح چھاتیاں رگڑنے سیمجھے تمہارے چھوٹے چھوٹے ممیبھی بڑا مزہ دے رہے ہیں۔ تو میں نے ویسے ہی مستی سے اس سے پوچھا وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگی وہ ایسیمیری جان میری کیوٹ چھوٹی پر ی کہ میرے بڑے بڑے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے ممے آپس میں ٹکرا کر ہم دونوں کے جسموں میں آگ لگا رہے ہیں، پھر باجی رقیہ نے اپنی قمیض اتار کر کرسی پہ رکھ دی۔۔اور میری طرف دیکھا۔میں بڑے غور سیان کی ننگی چھاتیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اور میں نے ابھی تک اپنی قمیض کو نہ اتارا تھا، مھے یوں کھڑے دیکھ کر انہوں نے مجھے غصے سے کہا کہ تم بھی اتارو نہ قمیض، میں انکی آواز سے ایک دم سے چونک پڑی باجی میری طرف دیکھ کر بولی سچ کہہ رہی ہوں صندل جانو۔۔۔۔ تمہارے سینے پر لگی یہ چھوٹی چھوٹی چھاتیں دیکھنے کا بڑا دل کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھی۔۔۔۔اور اس نے میری قمیض اتار کر کنٹین میں لگی کھونیٹوں پر ٹانگ دی۔میں برا نہیں پہنتی تھی لیکن بنیان لازمی پہنتی تھی رقیہ باجی نے فوراً بنیان بھی اتار دی اور میری ننگی چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ اور انہیں ہولے ہولے دبانے لگی۔۔۔ مجھے اپنی چھاتیوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس بہت ہی اچھا رہا تھا اور مزے کے مارے بے اختیار میرے منہ سے۔۔۔ہائے۔۔ہائے کی آوازیں نکل رہیں تھیں جسے سن کر وہ بھی مست ہو گئی۔۔اور میری چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو دباتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ مزہ آ رہا ہے تو میں نے ایک گرم آہ بھرتے ہوئے کہا جی باجی بہت زیادہ۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں جان تمہاری چھاتیوں کو پکڑنے سے مجھے بھی بڑا مزہ آ رہا ہے آج تک ان کو دور سے ہی دیکھا تھا،اور پھر بڑی مستی سے میری چھاتیں کو دبانے لگی، کچھ دیر تک وہ میری چھاتیوں کو دباتی رہی، پھر اچانک ہی مجھ پر شہوت نے اتنا غلبہپالیا کہ میں نے شرم کو بالئے طاق رکھ ہاتھ بڑھا کر انکے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگی چونکہ یہ مری پہلی بار تھی تو میں نیان کے مموں کو کچھ زیادہ ہی زور سے دبا دیا تھا۔۔تبھی میں نے رقیہ باجی کی ہلکی سی چیخ سنی اور وہ کہنے لگی آرام سے میری جان لیکن چونکہ اس وقت مجھ پر پوری طرح سے شہوت سوار تھی اس لیئے میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دیاور انکے سانولے فل سائز مموں کو اپنی مْٹھی میں پکڑ کر مسلسل دباتی رہی۔۔۔ کچھ دیر تک تو وہ مجھے آرام سے دبانے کو کہتی رہیں۔ پھرانکو زیادہ مزہ آنے لگا کیونکہ وہ پرانی کھلاڑی تھیں اور اس دفعہ جب میں نے ان کی چھاتیوں کو دبایا تو وہ میرے ساتھ چمٹ گئیں اور مجھے ہیجان انگیز آواز میں کہنے لگیں ظالم مادیا ہے تو تو بڑی گرم نکلی میری گوری محبوبہ۔ واقعی جب میں نے دیکھا تو میر جسم بالکل گورا تھا اور باجی کا گیرا سانولہ تو بڑا دلفریب امتزاج لگ رتھا بڑا جان لیوا۔ باجی نے اپنی بات کہتے ہی اپنے نچلے دھڑ کو میرے ساتھ جوڑ لیا اور میری ران کے ساتھ اپنی پھدی کو جوڑ کر رگڑنے لگی۔۔ اْف اس وقت ان کی چوت بہت گرم ہو رہی تھی اور اس کی چوت کا میری ران کے ساتھ جْڑنا تھا کہ۔۔ خود میرے اپنے اندر۔۔۔ خاص طور پر میری چوت میں بھی ایک ہلچل مچنا شروع ہو گئی۔اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میری دونوں رانوں کے بیچ والے حصے میں آگ لگا دی ہو میں نے اس مزے سے مجبور ہوکر کر باجی کا ہاتھ پکڑا اور شلوار کے اوپر سے ہی اپنی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔باجی نے اپنے ہاتھ پہ جیسے ہی میری چوت کو محسوس کیا تو اس نے ایک دم سے میری چوت کو اپنی مْٹھی میں۔پکڑا اور اسے دبانے لگیں۔۔۔۔ اس کے یوں دبانے سے میرے منہ سے ہلکی ہلکی چیخں نکلنے لگیں۔ا ور میں نے ایک ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا۔ باجی اپنی چوت کو میری ران پر رگڑتے ہوئے کہنے لگیں صندل جان آئی لو یو مجھے اس کا جواب تو نہیں آیا فوری طور پر مگر میں نے باجی کی آنکھوں کو چوم لیا، اس سارے عمل کے کیساتھ ساتھ کی باجی پھدی کو میری پھدی کے ساتھ جوڑ دیا اور اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی سسکیاں اور ہلکی چیخیں باجی کی بھی نکل رہی تھیں پھر باجی کو خود سیدھی لیٹ گئیں اور مجھے اپنے اوپر لٹالیا باجی نے اپنے ممے بالکل میرے منہ کے آگے کردئے میں انکا اشارہ نہ سمجھی تو انہوں نے میرا منہ پکڑ کر اپنے ایک ممے پر رکھ دیا میں نے بباکی سے ان کا سانولا بڑا سا مما چوسنا شروع کر دیا تو انے جسم نے لذت کے مارے ایک جھر جھری لی اور مجھے اور زور سے چمٹا لیا اور ساتھ ہی ہی میری شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے چوتڑوں پر پیھرنے لگی تھوڑی دیر میں میرا ازاربند ڈھیلا ہو گیا اور باجی کا ہاتھ زیادہ اندر گھس گیا ۔۔ تھوڑے ہی وقت میں دوسری باجی میری ننگی پھدی کو اپنی مْٹھی میں لیئے مسلسل بھینچ رہی تھی اور میں باجی کے ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ انکی پھدی کو زور سے کجارہی تھی کہ باجی نے اپنی ایک انگلی میری گیلی چوت پر پھرنا شروع کردی اف میرا تو لذت سے برا حال ہوگیا۔ ابھی ہم دونوں دیوانہ وار اپنے اس جنسی عمل میں مشغول تھیں کہ کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں کے سانس چڑھنے لگے۔۔۔۔اورمیرے منہ سے بے ربط قسم کی باتیں نکلنے لگیں۔۔۔۔سس۔۔سس۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔۔۔ اْف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔اوہ۔۔اوہ ہ ہ۔ اور پھر جلد ہی میری چوت میں لگی آگ سرد ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اور پھر ہم دونوں کی پھدیوں میں پانی آتے ہی باجی نے میری چوت اور میں نیانکی چوت سے ہاتھ اٹھالیے۔ اور جھٹکے مارتے ہوئے اپنی اپنی پھدیوں سے پانی چھوڑنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اور۔۔ پھر جب ہماری پھدیوں سے پانی نکلنا رْک گیا۔۔۔ تو باجی مجھ سے الگ ہو گئی۔۔اور صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ جبکہ میری حالت بھی ان سے الگ نہ تھی۔1 like
-
Badshah
1 likeUpdate 20 Takrebn 1 ghanty bad hi wo aa gaya us k sath 4 or log thy jin mai 3 larky or aik larki thi Ali.kahan hy wo Mainy usy andr kamry ki taraf eshra kr dia wo jaldi sy andr bhag gaya ham sab bhi us k pichy gay andr wo dono galy mily hovy thy or ali ki ankh mai anso thy Larka mujh dakh k.bhaiya ya uncle na boht achy hain enhon ny mujhy chocolate bhi di khana bhi dia or mara bhi nhi or mujhy khilony bhi lay dia hain ya dakho (wo apny khilony dikhany laga) Ali.Qasim mera bacha ab bhaiya aa gay hain na ab ap ko kuch nhi ho ga main hon na (mujh sy)tumhra boht boht sukria tum ny mujhy meri zindgi wapis la di hy Main.koi bat nhi wesy bhi mujhy bhi tum sy matlab tha ab agr main tum ko phly hi btaa deta to shayad tum mujhy apna dushman bhi smjh sakty thy Ali.Qasim beta ap apny khilonon k sath khailo main ap k is bhaiya sy bat kr lon Qasim. ok bhaiya Us k bad ham kamry sy bahir aa gay Larki.tum ko ya mila kaha ham ny har jaga esy tlash kia tha hamyn to nhi mila Main.bas kismat smjho Ali.phr bhi kuch pata to chaly itny salon mai ham ko pata nhi chala tum ko kesy mila Main.acha aik bat btao tumry pass kitny ghar hain Ali.aik hi hy Main.or tum kitny arsy sy wahan nhi gay Ali.7 din sy Main.or ghar k pichy kitny arsy sy nhi gay Ali.jab sy qasim gum hova hy Main.ya tumhry apny ghar mai tha Ali.kia matlab Main.tumhry ghar k pichy jo teh khana hy wahin tha Larka.per wahan kesy matlab wahan hi Q Main.imran janta tha k tum apny bhai ko sab jaga talash kro gy per apny hi ghar mai kabhi nhi Larka 2.hmm esi lia aj tak ham ko wo kabhi nhi mila Ali.ab ya btao k tum ham sy kia chahty ho tum ny mujhy meri zindgi wapis di hy main tumhri ghulami krny ko bhi tayar hon Main.mujhy tum sy ghulami nhi karwani bas mujhy imran ki barbadi chyiea or us k bad us ki mout Ali.tum imran ko Q marna chaty ho Main.hy aik waja us ny mery kisi karebi ko mara hy usi ka badla lena hy mujhy Larki.tumhry kon sy karebi ko us ny mara hy Main.hy aik tum log bhi janty ho gy usy Larka 3.kon hy wo jisy ham bhi janty hain Main.atif Ali.kiaaaa atif ko imran ny mara hy Main.Q tum ko nhi pata Ali.nhi ham ko bas ya pata hy k atif mar chuka hy per usi ny mara hy ya pata nhi tha Main.khair wo sab choro bas ya btao k mera sath do gy k nhi Ali.bilkul badla to us sy mujhy bhi lena hy Main.acha tum ko to mai janta hon en ka intro to krwao Ali.ya hy alina tech expert Larka2.asif explosive expert Larka 3.salem sniper Larka4.aslam fighter Main.ok nice to meet u all Sab. me too Ali.acha ab ya btao krna kia hy (salem sy) tum Qasim ko lay jao Main.meri mano to rehny do Salem.kia matlab Main.dakho ab tak to imran ko pata chal chuka ho ga k Qasim us k pass ab nhi hy or ab mazeed us ki jan khtry mai aa jay gi mujhy imran janta nhi hy to yahan wo zaida safe hy baki tumhri marzi Ali.han tum thek keh rahy ho Main.mainy yahin pass mai aik ghar dakha hy us mai 3 room hain bas aik do din tak wo lay lon ga phr tum 4ron (alina,asif,salem or aslam) tum bhi wahin reh lena es sy tum Qasim ko bhi protect kr pao gy or agy kia krna hy wo bhi soch layn gy btao kia kehty ho Aslam.han thek hy wesy aik bat btao Main.kia Aslam.tum itna sab kesy soch lety ho Main.sochna parta hy khair wo sab choro abhi rest kro or ali mery khyal sy abhi tum ko jana chyiea agr tum zaida dair yahan rahy to imran ko tum per shak ho jay ga or hmary agly kam k lia us ka tum per yaken hona lazmi hy or han usy kabhi pata na chalny dena k Qasim ab tumhry pass hy Ali.han thek kehty ho main chalta hon bad mai milon ga Us k jany k bad mainy un 4ron ko bhi rest krny ka kaha esy hi 3 din nikal gay or mainy wo ghar bhi ly lia es mai kuch paisy ali ny bhi dia wo ghar leny k lia phr ham ny rat k time us ghar mai shift kia Qasim ko din mai koi bhi dakh sakta tha Wait 4 next1 like