Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/06/23 in all areas

  1. 1 like
    Update 013 عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ایسے ہی دن گزرتے رہے میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں دن گزر گیا میں سو گیا اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو میں نے رپلائی کیا گھر پر میسج آیا میرے گھر آؤ میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا میں گھر کے اندر پہنچا اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟ میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا میں سیدھا نوشین سے چپک گیا نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی میں آگے بڑھا اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ
  2. 1 like
    Update 012 ابھی ہم کچھ سوچ ہی رہے تھے تھے کہ کیا کریں ایسے میں تیسری بار دروازے پر دستک ہوئی اس بار دستک کچھ زیادہ ہی دور سے ہوئی تھی صاف پتہ چل رہا تھا کہ دستک دینے والا سخت غصے میں ہے میں نے اپنی نظروں کے زاویے کو آگے پیچھے کر نا شروع کر دیا ایسے میری نظر بائیں طرف والی دیوار پر پڑی یہ دیوار کوئی تین سے چار فٹ کی ہوگی مہوش کے گھر کی یہ دیوار کافی چھوٹی تھی اس دیوار کے بالکل ساتھ ہیں میرے گھر کی دیوار تھی میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی میں بھاگتا ہوا گیا اور اس چھوٹی دیوار پر چڑھ گیا اس دیوار پر پوری طرح چڑھنے کے بعد میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار سے نکلی ایک بڑی سی آر سی سی کی بیم کی طرف پہنچ گیا میں نے فورا اس پر اپنا ہاتھ رکھا لکھا اور پوری طاقت سے اپنے آپ کو اوپر اٹھایا دراصل مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا اور اکثر کسی کے گھر گیند چلے جانے پر ہم میں سے ہی کسی دوست کو چپ چاپ چھت پہ چڑھ کے اتارنا ہوتی تھی اس طرح گیند اتار کے مجھے دیواروں پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو چکی تھی میں نے بین پہ پتھر رکھ کر اپنے آپ کو اٹھایا اور اپنی ٹانگ دیوار سے باہر نکلے سیمنٹ کے او پر رکھ کے ہلکا سا سہارا لیا اتنا میرے لئے کافی تھا کہ میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار کے اوپری اس سے پر جا سکے میں نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھا کر دیوار کے اوپری حصے کو پکڑ لیا اور پھر اپنا بایاں ہاتھ بھی رکھ دیا پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے پورے بدن کو اٹھا کے اپنے آپ کو دیوار پر چڑھانے میں کامیاب ہوگیا نوشین اور مہوش حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں اوپری دیوار پہ چڑھنے کے بعد اب میرے لئے کوئی مشکل باقی نہیں رہی تھی کیونکہ اس دیوار سے اترنے کے بعد ہی میرے گھر کے اوپری منزل کا صحن تھا میں صحن میں اترا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا میں دبے پاؤں اپنے کمرے میں آیا میرا کمرہ اوپری منزل پر ہی تھا اس لیے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی کمرے میں آ کے میں نے چپ چاپ دروازہ بند کیا اب میں خطرے سے باہر تھا لیکن گانڈ پھر بھی پھٹی پڑی تھی پتہ نہیں مہوش اور نوشین نے منا کو کیسے سنبھال ہوگا خیر میں دل میں سوچنے لگا کہ اب تو میرے باپ کی توبہ جو میں کسی چوت کے پیچھے بھاگوں لیکن ہم سب جانتے ہیں ہیں کہ یہ بات صرف تھوڑی دیر تک کی ہوتی ہے جہاں خطرہ ٹلا اور دماغ تھوڑا ہلکا ہوا وہیں لنڈ کو چوت کی لگ جاتی ہے میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھوڑی دیر تک تو کمرے میں بیٹھا ڈراؤنے خیالات کو سوچتا رہا ایسا لگتا تھا کہ ابھی گھر کا دروازہ بجے گا اور منا گھر میں گھس آئے گا اور مجھے مارتا وہ گھر سے لے کے جائے گا لیکن کافی وقت گزرنے کے بعد بھی ایسا کچھ نہ ہوا جب تقریبا دو گھنٹے گزر گئے تو مجھے تھوڑا سکون ہوا موبائل پر ابھی تک مہوش یا نوشین میں سے کسی کا میسج نہیں آیا تھا پہلے میں نے سوچا کہ میسج کروں اور پوچھوں کے کیا بنا پھر میں نے سوچا کہ وہ لوگ خود ہی میسج کریں گی یہ سوچ کر میں نیچے چلا گیا نچلی منزل پر سب نارمل تھا امی بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی اچانک مجھے دیکھ کر چونکی اور کہا بیٹا تم تو باہر گئے تھے تھے میں نے جواب پہلے سے سوچا ہوا تھا میں نے کہا مجھے تو آئے ہوئے کافی دیر ہوگئی آپ اس وقت اندر ہو نگی شاید میرے جواب سے امی تھوڑی مطمئن ہو گئیں اور سر جھٹک کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں میں واپس اوپر آیا واپس آکر موبائل دیکھا تو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا
  3. 1 like
    Update 011 میں کمرے میں لیٹا سوچ رہا تھا کہ اب کل کیا ہوگا مہوش نے اچانک ہی کہیں میرے اندر کے سیکس کو بھڑکا دیا تھا میں تھوڑی دیر پڑھائی کی اور پھر سو گیا صبح اتوار تھا تو مجھے اسکول جانے کی بھی فکر نہیں تھی صبح اٹھا ناشتہ وغیرہ اور گھر کے دیگر کام کیے دس بجے کے قریب مہوش کا میسج آیا جلدی سے گھر آؤ او اس کے ساتھ ہی ایک مس کال بھی آئی مسڈ کال شاید اس لیے تھی کہ میسج دیر سے نہ پڑھوں میں جلدی سے اس کے گھر پہنچا جب دروازے پر دستک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا میں بے دھڑک اندر گھس گیا میں ان کے گھر میں ایسے ہی جاتا تھا اور اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا تھا اندر پہنچا تو صحن میں ہی مہوش موبائل ہاتھ میں لیے پریشانی سے پھیل رہی تھی مجھے دیکھ کر ایک کمینی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی وہ میرے قریب آئی اور آتے ہیں میرا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیا میں اس کے ہونٹ چوسنے لگا ساتھ ساتھ میں اپنا ہاتھ بھی اس کی کمر پر پھیر رہا تھا ایسے ہی ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے چوستے میں اپنا ہاتھ نیچے لے جانے لگا اب میرا ہاتھ اس کی گانڈ پر تھا جس کی پہاڑیوں کو میں دھیرے دھیرے دبا رہا تھا میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا اور باہر نکلنے کے لیے مجھ سے بھیک مانگ رہا تھا مہوش نے کس توڑی اور مجھ سے الگ ہوئی میں نے مہوش کی طرف دیکھا مہوش کی نظر میرے لنڈ کی طرف تھی جو جنس کی ٹائٹ پینٹ ہونے کے باوجود اپنے وجود کا بتا رہا تھا اچانک کمرے کے دروازے سے نوشین باہر آئی اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اس کی نظر بھی میری پینٹ پر پڑی اور اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی میں پھر سے آگے بڑھا اور مہوش کو اپنی باہوں میں بھر لیا میں ابھی مہوش کی باہوں کہ ہی مزے لے رہا تھا کہ نوشین چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیے اب پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ مہوش میری باہوں میں تھی میری تھوڑی اس کے کندھے پر تھی اور مہوش کے بالکل پیچھے نوشین کھڑی تھی اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھے میں مزے سے نوشین کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ مہوش کی کمر پر گھوم رہے تھے میں اپنے ہاتھوں کو نیچے لے جانے لگا اور مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں پر لے آیا میں نے مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں کو زور سے دبایا مہوش کی ہلکی سی سسکی نکل گی نوشین اب دستور میرے ہونٹ چوسے جا رہی تھی وقت مجھ پر بہت مہربان ہو چلا تھا ایک ساتھ دو دو خوبصورت اور کنواری چوت مجھے مل گئی تھی تھی لیکن یہ خوشی کچھ ہی دیر کی تھی اچانک دروازے پر دستک ہوئی مہوش اور نوشین دونوں مجھ سے جھٹکے سے الگ ہوئی دروازے کے نیچے والی جری سے مردانہ چپل نظر آ رہی تھی ہو نہ ہو یہ ضرور میں بھی اور نوشین کا چھوٹا بھائی منا تھا اس کا اصل نام تو مجھے نہیں پتا لیکن سب اسے منا ہی کہتے تھے کیونکہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا ان دونوں کا چھوٹا بھائی بھی مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا کام کاج تو کچھ نہیں کرتا تھا آپ پورے علاقے میں لڑائی جھگڑے اس کے مشہور تھے میری بھی اس سے گانڈ پھٹتی تھی وہ بھی مجھے پسند نہیں کرتا تھا نہ ہی اس کو میرا اپنے گھر آنا جانا اچھا لگتا تھا ایسے میں اگر وہ مجھے اپنے گھر میں اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ اکیلا دیکھ لیتا تو لازمی کوئی بڑا فساد کھڑا کر دیتا اور اس کے فساد تو شروع ہی ہاتھا پائی سے ہوتے تھے مجھے دروازے پر اپنی موت نظر آرہی تھی وہی لنڈ جو تھوڑی دیر پہلے دو دو چوت ملنے کی خوشی پر اچھل کود کر رہا تھا تھا آپ کسی میت کی طرح پڑا تھا ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کرے دروازہ پھر زور سے بجا مہوش اور نوشین کے بھی چہرے سفید ہو چکے تھے بے شک وہ دونوں منا سے بڑی تھی لیکن پھر بھی اس سے ڈرتی تھیں میں جو تھوڑی دیر پہلے اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا سوچ رہا تھا کہ واقعی میرے نصیب میں کوئی رنڈی ناچ رہی ہے ایک تو پورے ڈیڑھ مہینے کے بعد کچھ موقع لگا تھا اوپر سے اس میں بھی یہ منا گیا اپنی بہن کا رشتہ دینے
  4. 1 like
    Update 010 آنٹی کی موت کے بعد میں بہت اداس رہنے لگا تھا اب ذرا بھی دل نہیں کرتا تھا سیکس کرنے کا دن گزرتے گئے آنٹی کی موت کو اب چالیس دن ہو چکے تھے اس دوران کئی بار میرا مہوش سے سامنا ہوا وہ میری طرف دیکھتی لیکن میں ہمیشہ نظر نیچے کر کے گزر جاتا شاید میں ڈپریشن کا شکار رہنے لگا تھا آنٹی کی موت نے مجھے اندر تک ہلا ڈالا تھا ایسے ہی چند دن اور گزر گئے ایک دن میں گھر میں بیٹھا اپنی پڑھائی کرنے میں مصروف تھا اچانک میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا سامنے مہوش کھڑی تھی میں دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا تو مہوش اندر آ گئی اس نے آج پنک کلر کی قمیض اور سفید رنگ کی شلوار پہنی تھی اس کے ساتھ دوپٹہ بھی پنک کلر کا تھا تھا اس سوٹ میں مہوش بلاشبہ بہت پیاری لگ رہی تھی میں تھوڑی دیر تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا مہوش نے مجھے ایسے دیکھتے دیکھا دیکھا تو شرما کے اپنا چہرہ نیچے کرلیا مجھے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نظر آئی میں جس کے ہاتھ میں اس کا فون تھا وہ مجھے اپنا فون دکھانے لگی لگی اس وقت اسمارٹ فونز مارکیٹ میں آنا شروع ہوئے تھے کیوں کہ میرے پاس لیپ ٹاپ تھا جس میں میں پڑھائی کرتا تھا تھا اس کے ساتھ ہی گھر پہ وائی فائی بھی لگا ہوا تھا فون دکھانے کے بعد میں اس نے مجھ سے وائی فائی کا پاس ورڈ مانگا ویسے تو میں اپنا وائی فائی کا پاسورڈ کسی کو بھی نہیں دیتا تھا لیکن اس وقت مہوش کو دیکھ کر انکار نہیں کر سکا میں نے مہوش کے موبائل میں وائی فائی کا پاسورڈ ڈال دیا مہوش کو اس حال میں دیکھ کے میری کئی دنوں سے سوئی ہوئی سیکس کی بھوک آج پھر جاگ اٹھی ابھی مہوش اپنا موبائل ھی چیک کر رہی تھی کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا ویسے تو مہوش مجھ سے کافی بڑی تھی اور جسم میں بھی مجھ سے زیادہ صحت مند تھی لیکن اس اچانک حملے سے وہ سنبھل نہیں پائی اور زور سے مجھ سے ٹکرائی ہم دونوں گرتے گرتے بچے مہوش اس نے پہلے تو حیرت سے مجھے دیکھا لکھا لیکن میری آنکھوں میں شرارت دیکھ کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی مہوش نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تم کو کیا ہو گیا چانک جیسے تم مجھے دیکھتے بھی نہیں ہو اور آج گھر آئی ہوں تو کچھ زیادہ ہی فری ہو رہے ہو میں نے کہا تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو مہوش ہلکے سے غصے کے ساتھ مسکراہٹ سے مجھے دیکھنے لگی مہوش اب بھی مجھ سے چپک کے کھڑی تھی میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کے اس کے پیٹ پر رکھ دیا میں نے اپنا ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی رکھا تھا مہوش نے پہلے مجھے مجھے اور پھر دروازے کی جانب دیکھا حالانکہ میرا کمرہ اوپری منزل پہ تھا اور بہت کم ہی کوئی اوپر میرے کمرے میں آتا تھا لیکن پھر بھی لڑکی تو لڑکی ہے اس نے فورا میرا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹایا اور مجھے کہا اپنا نمبر دو مجھے اچانک سے یاد آیا کہ میں نے آج تک کبھی مہوش کو اپنا نمبر نہیں دیا تھا ایسا نہیں تھا کہ میں دینا نہیں چاہتا بس ایسا اتفاق بھی ہوا نہیں میں نے فورا اسے اپنا نمبر دے دیا اور اس نے میرا نمبر پر مس بیل ماردی مہوش نے مجھے کہا کہا کہ میں تو پیسے واپس میسج کروں گی اور جلدی سے میرے گال پر ایک کس کر کے چلی گئی اور میں اس کے پیچھے اس کی ہلتی ہوئی گانڈ کو دیکھتا رہا تھوڑی دیر بعد ہی مجھے مہوش کے نمبر سے میسج آیا کہ کیا کر رہے ہو میں نے کہا تمہارا کیا بھگت رہا ہوں اس کا میسج آیا کیا مطلب میں نے کہا تمہیں دیکھنے سے ایک چیز سخت ہوگئی ہے اسے نرم کر رہا ہوں اس کا میسج آیا ہٹ بے غیرت میں نے اس سے نوشین کا نمبر مانگا تھا اس نے مجھے بھیج دیا
  5. 1 like
    Update 009 ہوم ورک کرنے کے بعد میں تھوڑی دیر سو گیا۔ شاید دو یا تین گھنٹے ہی سویا ہونگا کہ مجھے کچھ شور کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے بستر سے اٹھ کر آواز پر غور کیا تا کہ سمجھ سکوں کے اس شور کی وجہ کیا ہے۔لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ صرف اتنا پتہ چل رہا تھا کہ جس کی بھی ی آواز ہے وہ رو رہی ہے۔ میں نے آٹھ کے منہ دھویا اور اور اپنے کمرے سے باہر آگیا۔ میرا گھر دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جس میں نیچے میرے والدین اور بہن بھائیوں کا کمرہ ہے اور اوپر صرف دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میں اس گناہ گار شخص نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ایک کمرہ خالی ہے جسے ہم عموماً سٹور روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خیر میں منہ دھو کر نیچے پہنچا تو ہماری گلی کی ہی ایک خاتون ہمارے گھر میں رو رہی تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھی میری امی کے بھی آنسو رواں تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ھوا کیا ہے۔ امی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میرے گلے لگ کے اور زور سے رونے لگیں۔اب تک مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ بات کوئی معمولی نہیں ہے۔ میں نے فوراً امی کو اپنے آپ سے الگ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہوا آپ لوگ رو کیوں رہی ہیں؟ امی: بیٹا جب تو سو رہا تھا تو کنول تُجھے بلانے ائی تھی۔ میں کنول آنٹی کا نام سن کر اور زیادہ تشویش میں پڑ گیا۔ میں: کیوں بلانے آئیں تھیں کنول آنٹی؟ امی: اسے اپنے گھر کے لیے آٹا منگوانا تھا۔ میں: پھر؟ امی: میں تیرے کمرے میں آئی تو تو سو رہا تھا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کے تو سو رہا ہے ابھی۔ میں: یار امی اٹھا دیتیں نہ مجھ کو۔ خیر پھر کیا ہوا؟ امی: بیٹا مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ ایسا ہو جائیگا۔ میں: کیسا ہو جائیگا؟ کیا ہو گیا امی بتائیں۔ امی میری یہ بات سن کر اور زور سے رونے لگیں۔ میں: اف امی کچھ تو بتائیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔ امی: بیٹا وہ شاید خود ہی آٹا لینے چلی گئی تھی اور راستے میں روڈ کراس کرتے وقت ایک ٹرک اسکو۔۔۔۔ اتنا کہہ کر امی پھر سے رونے لگیں اور یہ سننے کے بعد میرے بھی اعصاب جواب دے گئی اور دماغ بلکل سن سا ہو گیا۔ میں اسے ہی جلدی نے گھر سے باہر نکلا تو گلی میں کافی رش تھا تقریباً ہر کوئی ہی اپنے گھر سے باہر نکلا ہوا کنول آنٹی کے گھر کے باہر بھی بھیڑ جمع تھی۔میں بھی تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا۔ ایسے میں مجھے میری گلی کا دوست ارسلان نظر آیا تو میںنے اُسے آواز دی اس نے میری طرف دیکھا اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا میری طرف آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آنٹی کہاں ہیں ابھی؟ ارسلان نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا تُجھے نہیں پتہ اُنکا انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہتھوڑا کھینچ کر میرے سر پر مار دیا ہو۔ تھوڑی دیر میں خاموشی سے ارسلان کی شکل دیکھتا رہا۔ شاید میں بولنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔لیکن الفاظ کا چناؤ تو دماغ کرتا ہے اور میرا دماغ تو جیسے سکتے کی حالت میں تھا۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد میں ارسلان سے پوچھا کہ کب ہوا انتقال۔ ارسلان: ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی گلی کے آدمی کے پاس کنول آنٹی کے شوہر کا فون آیا تھا۔ تب ہی پتہ چلا سبکو۔ میں: ایکسڈنٹ کہاں ہوا؟ ارسلان: مین روڈ پر میں: مجھے لے کر چل وہاں۔ ارسلان: ہاں چل میں اور ارسلان حادثے کی جگہ پر پہنچے۔ ہمارے سامنے ایک ٹرک کھڑا تھا جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ غالباً وہاں موجود عوام نے ٹرک کو جلا دیا تھا۔ ارسلان نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور ٹرک سے کود کر فوراً بھاگ گیا تھا۔اور کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا دو ٹرکوں کی آپس میں ریس لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ خیر میں اُداس دیو اور نم آنکھوں کے ساتھ ٹرک کو دیکھنے لگا۔ٹرک کے نیچے بیچ و بیچ بہت سارا خون پڑا تھا۔ یہ خون بھی آنٹی ہی کا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر اور بھی رونا آنے لگا۔ ارسلان نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ایک امبولنس بلوائی گئی جس میں ڈال کر آنٹی کی قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے انکی موت کی تصدیق کر دی۔ ابھی آنٹی کو ایدھی سینٹر لے جایا گیا ہے۔ اس کے بعد عشا کے بعد انکی تدفین ہے۔ میں یہ ساری باتیں سن کر اپنا سر پکڑ کر فوٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔ یقین ہے نہیں ہو رہا تھا کے تین گھنٹے کی نیند میں اتنا سب کچھ ہو گیا۔ کسی طرح سے وقت گزرا اور آنٹی کی تدفین کر دی گئی۔ سب اپنے گھر واپس آ گئے اور سب کے لیے کنول آنٹی ماضی کا حصّہ ہو گئیں سوائے میرے۔ میرے دل میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا نم آنکھوں سے بس یہی سوچ رہا تھا کہ شاید اب آنکھ کھل جائے اور یہ سب ایک خواب ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا میں اسے ہی آنسو بہاتے بہاتے سو گیا۔ دل میں ایک غم تھا تو صرف ایک بات کا کہ آنٹی کو اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔
  6. 1 like
    Update 007 مہوش اب پوری طرح ہوش میں آ چکی تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اپنی شلوار اوپر کر لی۔ میرے دماغ پر پہلے تو منی چڑھی ہوئی تھی اب تھوڑا ہوش بحال ہونے شروع ہوئے تو میری نظر نوشین کے ادھ ننگے جسم پر پڑی۔ نوشین کی جسم کا پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک کہ حصہ ننگا تھا۔ اُس کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں جس سے اسکی چھوٹے چھوٹے بالوں کے بیچ چوت کی لکیر تھی۔ اُس کی چُوت کے ہونٹ موٹے موٹے تھے۔ لکیر کے بیچ و بیچ اُسکی چوت کا دانہ کسی بادشاہ کے سر کے تاج کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔ دانے کے ٹھیک نیچے اُسکی چُوت کا سوراخ تھا جو بہت چھوٹا تھا۔اُسکی چُوت کے اَندر کی جھلی سرخ تھی جیسے اندر بہت سارا خون جمع ہو۔ پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک اس کا جسم بالکل بے داغ تھا۔ کہیں کسی تل کا نشان بھی نہیں تھا۔تیز تیز سانسیں لینے کی وجہ سے نوشین کے مممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ نوشین کے مممے درمیانے سائز کے تھے۔ اور مہوش کے مممے کافی چھوٹے تھے۔ اُسے کوئی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کے ممّوں کا سائز بڑھتا نہیں تھا۔(اس نے مجھے بعد میں بتایا تھا اس بارے میں)۔ خیر میں نوشین کی چوت کو بارے غور سے دیکھ رہا تھا تبھی نوشین کے کچھ ہوش بحال ہوئے تو اسے سمجھ آیا کہ میں اسکی چوت کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ تو وہ بجلی کی رفتار سے اٹھی اور اپنی شلوار اوپر کر لی۔لکڑی کا تخت ہمارے کارناموں سے گندا ہو رہا تھا۔میں بھی جلدی سے اٹھا اور اپنی پینٹ ٹھیک کی۔ مہوش چپ چاپ کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ جب میں نے اور نوشین نے بھی کپڑے ٹھیک کر لیے تو مہوش واش روم چلو گئی۔نوشین اور میں وہیں چپ چاپ کھڑے تھے۔ دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر بولیں تو کیا بولیں۔ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو میں نے خاموشی توڑنے کے لیے نوشین کی کپڑوں کے اوپر سے چوت کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ بہت پیاری ہو نوشین آپی۔ نوشین نے میری طرف دیکھا اور میر نظروں کی جانب دیکھا تو اسے سمجھ آ گیا کے میں اسکی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے کی بات کر رہا ہوں۔ نوشین نے پہلے مجھے دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنی آنکھوں کو نیچے کر لیا۔ اور آہستہ آواز میں کہا "کمینہ"۔ خیر میں نے اب اُن کے گھر میں زیادہ دیر رُکنا مناسب نہیں سمجھا اور نوشین سے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر اُن کے گھر سے نکل گیا۔ پورا دن بس اسی سوچ میں گزار گیا کے اگر قسمت مہربان ہو تو بندے کو بیٹھے بٹھائے دو خوبورت بہنوں کی چُوت ایک ساتھ بھی مل سکتی ہے۔ کہاں میں ایک آنٹی کی پھٹی ہوئی چوت کے پیچھے پاپڑ بیل رہا تھا اور کہاں بغیر کسی کوشش کے دو دو کنواری چوتیں وہ بھی ایک ساتھ مل گئی تھیں۔ میں رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے بستر پر لیٹا اپنی سوچ میں گم تھا کہ میرے موبائل کے میسج ٹیون بجی۔ میں نے فون اٹھا کر دیکھا تو نوشین کا میسج تھا۔ نوشین: سنو میں: سناؤ نوشین: آج جو ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا میں: ایسا کیوں کہ رہی ہیں آپ؟ نوشین: وقاص تم تو لڑکے ہو تمہارا کچھ نہیں جائےگا لیکن ہم لڑکیاں ہیں اگر کسی کو یہ بات پتہ چلی تو ہمارے اپنے ماں باپ ہمیں جان سے مار دینگے۔ مجھے دونوں پھدیاں ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیں۔ میں: یار آپ بلاوجہ ڈر رہی ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ نہ آپ دونوں میں سے کوئی کسی کو بتائیگا اور نہ میں۔تو کسی کو پتہ چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نوشین: نہیں یار گناہ زیادہ دن چھپا نہیں رہتا۔ تم سمجھ نہیں رہے۔ برا وقت کبھی بتا کے نہیں آتا۔ نوشین ٹھیک کہہ رہی تھی لیکن میرے دماغ پر تو پھدیاں سوار تھیں۔ وہ بھی دو دو خوبصرت اور کنواری۔ میں: یار تم فکر نہ کرو میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلےگا۔ بڑی مشکل سے اُسے منایا لیکن وہ بھی پکّی تھی۔ اس شرط پر مانی کے میں اس وقت تک اس کے گھر نہیں آؤنگا جب جب تک وہ خود نہ بلائے۔ خیر کل کے دن دو دیں پورے ہو رہے تھے اور اس بات کے کافی امکان تھے کے کنول آنٹی کی بہن اب اپنے گھر جا چکی ہونگی یہ کل چلی جائینگی۔ تو میرے لیے چوت کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ یہی ساری سوچیں ذہن میں رکھئے میں سو گیا۔
  7. 1 like
    Update 006 میں نے ٹھوڑی دیر دوستوں میں وقت گزارا اور گھر آ گیا۔ اُس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا اگلے دن اسکول سے آ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کریں اب کیونکہ آنٹی کے گھر تو انکی بہن نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔ اور مہوش اور نوشین سے مجھے سامنا کرتے ڈر لگ رہا تھا۔ خیر میں نے سوچا کہ باہر نکل کر دیکھتا ہوں۔ جب میں گھر سے باہر نکلا تو نوشین اپنے گھر k دروازے پر ہی کھڑی تھی۔ مجھے دیکھ کر اس نے گلی میں آگے پیچھے دیکھا اور مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ مجھے آج نوشین کا اس طرح گلی میں دیکھنا کچھ عجیب سا لگا کیونکہ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ خیر میں نوشین کے پاس پہنچا تو اس نے فوراً دروازے سے دور ہو کر مجھے اندر آنے کی جگہ دی۔ میں بنا کوئی سوال کیا اندر داخل ہو گیا۔ اندر داخل ہو کر مجھے مہوش کچن میں برتن دھوتی نظر آئی۔ چند ہی لمحوں کے بعد مہوش کی نظر بھی مجھ پر پڑ گئی۔ اس نے دو سیکنڈز کے لیے میری طرف دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں لگ گئی۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں غصّہ تو نہیں البتہ شرم ضرور نظر آئی۔ میں نے نوشین سے آنٹی (نوشین کی امی) کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ مہرین کے سسرال گئی ہیں اور رات تک آئینگی۔ میں اور نوشین کچن کی دیوار کے ساتھ لگے لکڑی کے تخت پر بیٹھ گئے۔اس تخت پر بیٹھنے سے مہوش بھی ہماری ساری باتیں بہ آسانی سن سکتی تھی۔ پہلے کچھ دیر میں اور نوشین اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے اور مہوش بھی ہماری باتیں سنتے سنتے اپنے کام میں لگی رہی۔ جب باتیں ختم ہوئیں تو مہوش نے ہلکے سے کھانسی کی آواز نکالی تو نوشین نے اس کی طرف دیکھا اور مُجھسے کہا کہ وقاص تم نے کل والی بات کسی کو بتائی تو نہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے لیکن میں نے پھر بھی کہا کہ کونسی بات؟ نوشین: وہی جو کل ہوا تھا مہوش کے ساتھ۔ میں: نہیں میں کیوں بتاؤنگا کسی کو؟ نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے سر پر رکھ دیا اور بولی کہ میری قسم کھا کے بولو کہ تم نے کسی کی نہیں بتایا۔ میں: ہاں تمہاری قسم میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ یہ سن کر مہوش اور نوشین دونوں کے چہرے پر خوشی دیکھنے لگی۔ نوشین: وقاص تم تو جانتے ہو کہ ہم لڑکیاں ہیں اور ایسی بات اگر کسی کی بھی پتہ چلی تو کوئی بھی ہم سے شادی نہیں کریگا۔ میں: میں جانتا ہوں یہ بات اور آپ بے فکر رہیں آپکا راز ہمیشہ میرے سینے میں قید رہیگا۔ نوشین نے آگے بڑھ کر میرے بائیں گال کو چوم لیا۔ اب مہوش کا کام بھی ختم ہو گیا تھا وہ کچن سے باہر نکلی اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئی اور کہا کہ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ میں: اس میں احسان کی کوئی بات نہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کے کل آپکو ہوا کیا تھا۔ مہوش:تُجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیا ہوا تھا؟ میں: نہیں حالانکہ مجھے ھر بات کا علم تھا لیکن نے اُن دونوں کو سکس کے موضوع پر لانا چاہتا تھا اور اِس کے لیے مجھے اس سے زیادہ اچھی ترکیب سوجھ نہیں رہی تھی۔ مہوش:اب زیادہ بچا نہ بن۔ میں: مجھے سچ میں نہیں پتہ۔ نوشین: اسے سب پتہ ہے یہ ہم دونوں کو بیوقوف بنا رہا ہے اگر اسے نہیں پتہ تو اس کے موبائل میں وہ والی ویڈیوز کیا کر رہی تھیں۔ میں: وہ تو میرے دوست کا میموری کارڈ ہے۔میں نے اس موبائل خرید تے وقت چیک کرنے کے لئے لیا تھا لیکن غلطی سے میرے ہی موبائل میں لگا رہ گیا۔ نوشین: ابھی کہاں ہے وہ میموری کارڈ؟ میں: میرے پاس ہی ہے کیوں؟ نوشین نے ایک نظر مہوش کی طرف دیکھا اور مُجھسے کہا کہ دکھا مجھے میں نے موبائل نکال کر اس کو دے دیا اور کہا کہ اس ہی میں لگا ہوا ہے ابھی۔ نوشین نے مجھسے موبائل لے کر اپنے پاس رکھا اور کہا کہ جب لڑکی گرم ہو جاتی ہے تو اس کی پیشاب کی جگہ سے پانی آنے لگتا ہے۔ میں: تو یعنی مہوش باجی کل گرم ہو گئی تھیں۔ مہوش نے نظر اٹھا کہ میری طرح دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں: اچھا تو آپ وہ ویڈیوز دیکھ کر گرم ہو گئی تھیں۔ مہوش نے ایک بار پھر سر کو ہاں میں ہلایا۔ میں:تو مطلب اگر کوئی بھی لڑکی ایسی ویڈیوز دیکھ لے تو اس کے پانی آنے لگے گا۔ نوشین:ہاں کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔ یہ سن کر میں چپ ہو گیا کیوں کہ ابھی ذہن میں اور کوئی بات نہیں آ رہی تھی۔ مجھے چپ ہوتے دیکھ کر نوشین نے کہا کہ ایک وعدہ کریگا ہم سے؟ میں: کیسا وعدہ؟ نوشین: ہماری کوئی بھی بات کسی کو بھی نہیں بتائیگا میں: ویسے اس کی ضرورت نہیں لیکن میں پھیر بھی وعدہ کرتا ہوں۔ نوشین: میں تیرے موبائل میں ویڈیو دیکھ لوں؟ نوشین کی بات پر میں اور مہوش دونوں نے ایک ساتھ اُسے بے یقینی سے دیکھا۔ ہمارا اس طرح کا ریکشن دیکھ کر کر نوشین نے مہوش کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ یہ اب کسی کو بھی نہیں بتائیگا۔ نوشین کی بات سن کر مہوش خاموش ہو گئی تو نوشین نے فوراً میرا موبائل اٹھایا اور ایک ویڈیو چلا دی۔ ویڈیو کی آواز تھوڑی زیادہ تھی تھی اس لیے میں نے فوراً اس k ہاتھ سے موبائل لے کر آواز کو بند کر دیا اور موبائل اسے واپس کر دیا۔ نوشین نے ویڈیو کو فل سکرین پر کیا اور موبائل کو ٹیڑھا کر کے مہوش کی طرف کر دیا تا کہ وہ دونوں آرام سے دیکھ سکیں۔ اب وہ دونوں ویڈیو دیکھ رہی تھی اور میں ان دونوں کے سامنے چوتیوں کی طرح بیٹھا تھا۔ تبھی شاید نوشین کو میرا احساس ہوا اور اس نے مہوش سے تھوڑا دور ہو کر بیچ میں میرے لیے جگہ بنا دی۔ میں اُن دونوں کے بیچ میں جا کے بیٹھ گیا۔ ویڈیو میں ایک کالا حبشی ایک خوبصورت حسینہ کو بہت بے دردی سے چود رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد نوشین بولی کے پتہ نہیں کیا کھاتے ہیں یہ حبشی لوگ۔ میں: کیوں؟ میرا سوال سن کر نوشین اور مہوش نے میری طرف دیکھا اور پھیر ایک دوسرے کو دیکھا اور زور زور سے ہنسنے لگیں۔ اُن دونوں کے اس طرح ہنسنے پر مجھے بھی سمجھ آ گیا کہ میں نے کیا بونگی ماری ہے لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لن کی لمبائی کی وجہ سے کہہ رہی ہیں؟ میرے منہ سے لن کا لفظ سن کر دونوں کو سانپ سونگھ گیا۔ مہوش فوراً بولی یہ کتنی گندی باتیں کر رہا ہے۔ میں: تو لن کو لن نہ بولوں تو اور کیا بولوں؟ نوشین:ہم لوگ تو اسے ڈنڈا کہتے ہیں۔ میں:اچھا اور چوت کو کیا کہتے ہیں؟ نوشین: رانی میں: اچھا اور گانڈ کو؟ نوشین: اس کو کچھ نہیں بس کولہے کہتے ہیں میں: اور مموں کو؟ نوشین: دودھ،اور اب بس سب کچھ آج ہی پوچھ لیگا کیا اب ویڈیو دیکھنے دے۔ اور پھر سے ہم تینوں ویڈیو دیکھنے لگے اب حبشی حسینہ کو گھوڑی بنا کر چود رہا تھا۔ اور حسینہ کو چوت حمبشی کے موٹے لن سے چد چد کر کافی کھل گئی تھی۔ مہوش: یار کتنی بے دردی سے کر رہا ہے مجھے تو اس کو دیکھ کر ہی تکلیف ہو رہی ہے میں: لیکن اس کو مزہ بھی کتنا آ رہا ہے۔ میں نے یہ کہتے ہوئے مہوش کی طرف دیکھا تو اس کا ہاتھ اُسکی چُوت پر تھا میرے دیکھتے ہی اُسنے فوراً اپنا ہاتھ ہٹا لیا تو میں نے مسکرا کر اسکو آنکھ ماری اور آہستہ سے کہا کہ کر لیں اور دوبارہ ویڈیو دیکھنے لگا اور تھوڑی دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ مہوش کا ہاتھ دوبارہ اُسکی چُوت پر آ گیا ہے۔ اب میں نے نوشین کی طرف دیکھا تو اس کی حالت بھی مہوش جیسی ہی تھی۔ لیکن اس نے اب تک اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے بھی میری طرف دیکھا تو میں نے اسے آنکھ کے اشارے سے مہوش کو دیکھنے کا کہا اس نے مہوش کی طرف دیکھا جس کا سارا دہان ویڈیو کی طرف تھا اور اُسکا ہاتھ شلوار کے اندر گھسا ہوا تھا اور شلوار کے اوپر سے ہی مسلسل اس کے ہاتھ حرکت محسوس ہو رہی تھی۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اپنی چوت کو رگڑ رہی ہے۔ نوشین نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا تو میں نے کہا آپ بھی کر لو کیوں برداشت کر رہی ہو میری بات سن کر نوشین نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور جلدی سے اپنا ہاتھ اپنی شلوار میں ڈال دیا۔ اب میرا لنڈ بھی مجھے آوازیں دے رہا تھا کہ اُس کے بارے میں بھی کچھ سوچ جائے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں نے جینز کی پینٹ پہنی تھی جس کے نیچے انڈرویئر بھی تھا تو میرے پاس نوشین اور مہوش کی طرح شلوار میں ہاتھ ڈال کر مجھے لینے والا آپشن نہیں تھا۔ میں ابھی اسی پریشانی میں تھا کہ نشین نے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھوں کے اشارے میں پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ میں نے اپنی نظریں اپنے لن کی طرف کر لیں جس سے اس نے بھی میرے لن کی جانب دیکھا اور سمجھ گئی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ نوشین میری حالت دیکھ کر مسکرانے لگی۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے کچھ ایسا کیا جس کا شاید میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ نوشین نے اپنا ہاتھ جو شلوار کے اندر تھا و نکالا اور دوسرا ہاتھ شلوار میں ڈال لیا اور جو ہاتھ شلوار سے نکالا تھا اس سے پینٹ کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی۔ شاید اس نے میرے اشارے کا مطلب یہ سمجھا تھا کہ میں اسے اپنا لن سہلانے کا کہہ رہا ہوں۔ لیکن جب تک مجھے سمجھ اتی میں مزے کی وادیوں میں گم ہو چکا تھا۔ اب مجھمے کافی ہمت آچکی تھی۔ایک ہاتھ سے میں نے موبائل پکڑا ہوا تھا اور میرا ایک ہاتھ فارغ تھا تو میں نے بھی ہمت کر کے اپنا ہاتھ نوشین کی شلوار کی طرف لے گیا۔ نوشین میرے ہاتھ کی حرکت کی دیکھتے ہوئے میرے اگلے لائحہ عمل کو سمجھ گئی تھی اس لئےاس نے اپنے ہاتھ شلوار کی الاسٹک والی جگہ کو کھینچ کر میرے ہاتھ کو اندر جانے کا راستہ دے دیا۔ جیسے ہی میں نے اپنا ہاتھ نوشین کی شلوار کے اندر ڈالا تو مجھے اس کی چُوت کے اوپر باریک باریک بال محسوس ہوئے۔ میں ہاتھ کو اور نیچے لے گیا اب میرے ہاتھ ٹھیک اس کی چُوت کے اوپر تھا۔ اور اس کی چُوت کا دانہ میری بیچ والی انگلی پر ٹچ ہو رہا تھا۔ میں نے دانے کو زور سے دبایا تو نوشین کے منہ سے سسکی نکل گئی جو مہوش نی بھی سن لی اس نوشین کی طرف دیکھا تو نوشین کی سسکی کی وجہ سمجھ آ گئی۔ مہوش نے فوراً اپنا ہاتھ شلوار سے نکال کر میرے ہاتھ سے موبائل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ میں اسے بھی وہی مزہ دوں جو اُسکی بڑی بہن کو دے رہا ہوں۔ میں نے اپنا دوسرا ہاتھ جو اب مہوش کے موبائل لے لینے سے فارغ ہوگیا تھا فوراً مہوش کی شلوار میں ڈال دیا۔ اب حالت یہ تھی کہ میرے دونوں ہاتھ شلوار کے اندر سے دونوں بہنوں کی چوتوں کو مسل رہے تھے۔ نوشین کا ایک ہاتھ میرے لن کو پینٹ کے اوپر سے سہلا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ فارغ تھا۔ مہوش نے ایک ہاتھ سے میرا موبائل پکڑا ہوا تھا اور اُسکا بھی دوسرا ہاتھ فارغ تھا۔ میں پانی دونوں ہاتھوں کی بیچ والی انگلیوں سے دونوں بہنوں کی چُوت k دانوں کو رگڑ رہا تھا۔ اور اُن دونوں کا مزے سے برا حال تھا اور دونوں کے من سے لگا تار سسکیاں جاری تھیں۔ مجھے نوشین سے اپنا لن مسلوانے میں زیادہ مزہ نہیں کا رہ تھا کیوں کہ میں نے تنگ جینز پہنی ہوئی تھی اور اس وقت کو کوس رہا تھا جب نے نے آج یہ پہنی تھی۔ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ نوشین نے اپنا ہاتھ میرے لن سے ہٹا کر میری بیلٹ کھولنے لگی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے بھی اپنی گانڈ پینٹ نیچے کرنے میں اس کا مکمل ساتھ دیا۔ اس نے میری پینٹ اور انڈرویئر نیچے کر دیا اور میرا کھڑا لن ننگا آن دونوں بہنوں کی آنکھوں کے سامنے آ گیا نوشین نے بغیر کسی دیر کے میرا لن پکڑ لیا اور زور زور سے اوپر نیچے کرنے لگی۔ مجھے بہت مزا آ رہا تھا اور اسی مزے میں میں بھی دونوں بہنوں کی چُوت رگڑ رہا تھا۔ پھر میں نے اپنی دونوں ہاتھوں کی بیچ والی انگلی کا رخ دونوں بہنوں کی چوتوں کے سوراخ کی جانب کیا اور تھوڑی دیر سوراخوں پر اُنگلیاں پھیر کر انگلیوں کو اندر ڈالنے لگا۔دونوں کی چُوت بہُت زیادہ گیلی ہو رہی تھی اس لیے انگلی کے اندر جانے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی۔ اُنگلیاں اندر ڈالنے کے بعد دونوں بہنوں کی سسکیاں مزید تیز ہو گئی تھیں۔ اور اب وہ دونوں خود خود ہی اپنی چوت کو میری انگلی کے گرد حرکت دے کر مزہ لے رہی تھیں۔ میں نے اپنی انگلیوں کی ان کی چُوت سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا پہلے سپیڈ سلو رکھی لیکن دھیرے دھیرے بڑھادی۔ اب ایک مسئلہ تھا وہ یہ کہ میرا ہاتھ شلوار اندر ہونے کی وجہ سے اٹک رہا تھا اور میں مزید سپیڈ میں اپنے ہاتھ کو حرکت نہیں دے پا رہا تھا۔ میں نے سوچا k موقع اچھا ہے تو میں نے دونوں بہنوں کی شلوار سے ہاتھ نکالا اور پہلے نوشین کی طرف دونوں ہاتھ لے جا کر اسکی شلوار نیچے کرنے لگا نوشین نے پہلے تو میرا ساتھ نہیں دیا لیکن میں پوری جان سے اسکی شلوار نیچے کر رہا تھا تو آخرکار نوشین نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا میں نے اسکی شلوار جلدی سے نیچے کر کے اس کے گھٹنوں تک کر دی۔ لیکن مجھے ابھی تک اسکی چوت کا دیدار نہیں ہوا تھا کیوں اُسکی قمیض نے اسکی چوت کو ڈھنکا ہوا تھا۔ میں نے اس بات پر توجہ نہ دیتے ہوئے اپنا رخ مہوش کی جانب کیا وہی عمل اُس کے ساتھ بھی دہرایا جو اُسکی بہن کے ساتھ کیا تھا۔ تھوڑی سی مشقت کے بعد اس نے بھی مجھے اپنی شلوار اتارنے دی کیونکہ اس نے نوشین کو بھی ننگی حالات میں دیکھ لیا تھا تو اسے بھی ہوسلا ہو گیا تھا۔ اب میں نے دوبارہ اپنے ہاتھ اُن کی چُوت کی جانب کیے اور دونوں کی قمیض چوت کے اوپر سے ہٹا دی۔ دونوں کی پیاری پیاری چوت میری نظروں کے سامنے آ گئی۔ نوشین کی چوت پر ہلکے ہلکے بال تھے لیکن مہوش کی چوت بلکل صاف تھی۔ میرے ہاتھوں کو اپنی چُوت کی جانب بڑھتے دیکھ کر دونوں نے اپنی ٹانگیں کھول دیں جس سے انکی چوت مزید واضح ہو گئی۔ میں نے پھر سے اپنی انگلیاں دونوں کی چوت میں ڈال دیں۔ ویڈیو کب ختم ہوئی ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتہ چلا تھا۔ اب میں اُن دونوں بہنوں کی چُوت نے زور زور سے انگلی کر رہا تھا اور اور نوشین میرے لن کو پکڑ کے زور زور سے ہلا رہی تھی۔ ہم تینوں ایک الگ ہی دنیا میں تھے۔ اب مہوش نے بھی میرے لن کو پکڑ لیا تھا اور دونوں بہنیں مل کر میرے لن کی زور زور سے مٹھ مار رہی تھیں۔ ایسے ہی کرتے کرتے پہلے مہوش نے زوردار چیخ ماری اور اس k جسم میں جھٹکے لگنے لگے اور اس نے میرے لن کو چھوڑ دیا اور اپنی چوت جس کے اندر پہلے سے میری انگلی تیزی سے اندر باہر ہو رہی تھی کے دانے کو اپنے ہاتھ سے زور زور سے مسلنے لگی۔ اس کے جسم میں جھٹکے لگنے لگے۔ اور وہ ایسے ہی فارغ ہو گئی اور اس کی چُوت سے ایک فووارا چھوٹا اور وہ تخت پر ہی لے کر کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔میرے ہاتھ کی انگلیوں بھی اب اسکی چوت سے نکل گئی تھی۔ابھی مہوش اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی کہ نوشین کو بھی جھٹکے لگنے لگے اور اس نے میرے لن کو زور سے دبایا اور مزید تیزی سے مٹھ مارنے لگی۔ میں بھی قریب تھا تو میں بھی اس کے ساتھ ہی فارغ ہو گیا میرے لن سے اور نوشین کی چُوت سے ایک ساتھ فوّوارا چھوٹا۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کو چھوڑ کر تخت پر ڈھے گئے۔ مہوش اب سانس بحال کر کے ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی اور ہم دونوں تیز تیز سانسیں لے رہے تھے۔
  8. 1 like
    Update 005 مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹیک لگا کے ایسے بیٹھ گئی تھی کے اس کا چہرہ ہماری طرف تھا . مہوش اب ہم سے دور جا کے میرا موبائل چلا رہی تھی اور نوشین مجھ سے باتیں کر رہی تھی . نوشین سے باتوں کے دوران میرا ذہن بار بار مہوش کی طرف جا رہا تھا کے کہیں وہ بلو فلم نا دیکھ لے جو میرے موبائل کے میموری کارڈ میں ہیں مہوش زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور اِس طرح بیٹھنے سے اس کی دونوں ٹانگین اور گانڈ زمین پر تھے لیکن ٹانگوں کے بیچ میں گیپ تھا جس اس کی شلوار کی رومالی والا حصہ صاف دِکھ رہا تھا کیوں کے اس کی قمیض اس کے گھٹنوں پر تھی . مہوش نے اورنج کلر کی شلوار اور وائٹ کلر کی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر اورنج کلر کے خوبصورت پھول بنے ہوئے تھے . ابھی میں نوشین سے باتیں ہی کر رہا تھا کے کچھ ایسا ہوا جس سے میرے ہوش ہی اڑ گئے ہوا یہ کے نوشین سے باتیں کرنے کے دوران ہی جب میری نظر مہوش پر پری تو اسکی شلوار کا رومالی والا حصہ تھوڑا سا گیلا ہو رہا تھا اب تک تو مجھے بھی سمجھ آ چکی تھی کے لڑکیوں کی چوت سے پانی آنے کا مطلب ہوتا ہے کے وہ کافی گرم ہو گئی ہے اور یہ منظر دیکھتے ہی مجھے سمجھ آ گیا کے ضرور مہوش میرے موبائل میں بلو فلم دیکھ رہی ہے یہ منظر دیکھ کر ڈر بھی لگا اور ساتھ ساتھ لنڈ نے بھی شلوار میں حرکت شروع کر دی مہوش اِس بات سے بے خبر کے اس کی ساری پول کھل چکی ہے مزے سے بلو فلم دیکھنے میں مگن تھی نوشین اِس وقت ایسی کھڑی تھی کے اس کا چہرہ میری طرف تھا اور پیٹھ مہوش کی طرف اِس لیے اسے مہوش کی حرکت کا پتہ نہیں تھا میری نظر بار بار مہوش کی طرف جا رہی تھی کبھی میں اس کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی اسکی رومالی کو جس کا گیلاپن اب دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا اور میرا لنڈ اب شلوار کے اندر ہی جھٹکے مار رہا تھا اورنج کلر کی باریک شلوار جیسے جیسے گیلی ہو رہی تھی ویسی ویسی مہوش کی چوت واضح ہو رہی تھی ایسی میں میری نظر اسکی چوت پر ٹک گئی اور لاکھ کوشش کے بعد بھی میں اپنی نظر وہاں سے ہٹا نہیں سکا اور شاید یہی میری غلطی تھی نوشین نے باتیں کرنے کے دوران مجھے دیکھا تو میری نظروں کو اک ہی جگہ دیکھا تو اس نے بھی میری نظر کی سمت میں دیکھا اور اک ہی سیکنڈ میں اسے سمجھ آ گیا کے میں کیوں اتنی دلچسپی سے مہوش کی طرف دیکھ رہا ہوں نوشین نے فوراً مہوش کو آواز لگائی مہوش نے اس کی طرف دیکھا تو نوشین نے آنکھوں کا اشارہ اسکی شلوار کی رومالی کی طرف کیا مہوش کے کچھ سمجھ نہیں آیا اور اس نے نوشین کی بات کو سمجھنے کے لیے اپنا سیدھا ہاتھ اپنی چوت والی جگہ پر رکھا تو وہاں کا گیلاپن محسوس ہوتے ہی مہوش کو ساری بات سمجھ آ گئی اور وہ ویسی ہی موبائل زمین پر رکھ کر کمرے میں بھاگی اور دروازہ بند کر لیا میں اور نوشین دونوں چھپ کھڑے تھے شاید ہم دونوں ہی یہی سوچ رہے تھے کے کیا بولیں ایسی میں نوشین کو میرے موبائل کا خیال آیا اور اس نے جا کر میرا موبائل اٹھا لیا یہاں بھی میرے نصیب میں برائی تھی کے مہوش کو موبائل پر ویڈیو بند کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا جلدی میں اور وہ ویڈیو ابھی تک فون میں چل رہی تھی نوشین نے فون اٹھا کر دیکھا اور دیکھتے ہی پہلے تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا اور پِھر اسکی آنکھیں وہی جم گئیں اور 2 3 سیکنڈ کے بعد شاید اسے میری موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے فوراً موبائل مجھے پکڑا دیا میں نے ویڈیو بند کی اور موبائل جیب میں ڈال لیا ہم دونوں پِھر سے چُپ چاپ کھڑے ہو گئے میری گانڈ کسی ڈھول کی طرح پھٹی ہوئی تھی نوشین سے تو میں کافی بار الٹی سیدھی حرکتیں کر چکا تھا جیسے گانڈ پر ہاتھ پھیرنا اور اس کے بوبس کو بائیک چلاتے وقت اپنی پیٹھ پر محسوس کرنا جس میں نوشین بھی میرا برابر کا ساتھ دیتی تھی لیکن یہاں ڈر اِس بات کا تھا مہوش نے آج تک مجھ سے کوئی غلط بات نہیں کی تھی لیکن اِس ڈر کے ساتھ ہی اک بات کی تسلّی بھی تھی کے مہوش خود بھی اِس جرم میں میرے ساتھ برابر کی شریک تھی اگر میرے موبائل میں بلو فلم تھی تو مزے لے کر تو وہ بھی دیکھ رہی تھی اور اسکو کتنا مزہ آ رہا تھا اِس بات کا ثبوت اسکی گیلی شلوار کی رومالی تھی اب کافی دیر ہو چکی تھی اور مہوش کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہی تھی شاید اب اسے ہمارا سامنا کرنے میں شرم آ رہی تھی نوشین نے جب دیکھا کے کافی دیر ہو گئی ہے تو اس نے جا کر کمرے کے دروازے پر دستک دی دستک کے کچھ دیر کے بعد مہوش نے دروازہ کھول دیا نوشین اندر جانے کے بجائے میرے پاس آئی اور مجھے کہا کے وقاص ابھی تم جاؤ بعد میں آ جانا میں نے بھی سر ہلایا اور ان کے گھر سے باہر نکل گیا
  9. 1 like
    Update 003 یہ میرا پہلا سیکس ایکسپیرینس تھا اِس لیے اب مجھ سے اور زیادہ صبر نہیں ہو رہا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے دَر بھی لگ رہا تھا کے کہیں سارا کام ہی نا بگڑ جائے میرا لنڈ کسی روڈ کی طرح کھڑا تھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ہوا تھا میں نے اب اپنے لنڈ کو آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ سے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا آنٹی اب اپنی ٹانگوں کو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور کبھی ٹائیٹ کر لیتین اب بار میرے برداشت سے باہر ہو گئی تھی لنڈ کی حالت ایسی تھی کے اگر مجھے کوئی دیوار ملتی تو اس میں بھی سوراخ کر دیتا میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے مموں اور گند سے ھٹائے اور آنٹی کی قمیض کے اندر ڈال دیئے اور آنٹی کے پیٹ پر تھوڑی دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد اک ہاتھ مموں پر لے گیا جہاں آنٹی کے برا میں قید ممے میرے ہاتھوں کا انتظار کر رہے تھے اور اک آنٹی کی لاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کرنے لگا شلوار میں ہاتھ ڈالتے ہی میری انگلیاں آنٹی کے چھوٹے چھوٹے بالوں سے ٹکرائیں میں نے کچھ دیر بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ہاتھوں کو مزید نیچے آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا جب میں نے آنٹی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو کچھ گیلا محسوس ہوا مجھے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کے لڑکی جب گرم ہوتی ہے تو اس کی چوت سے پانی نکلتا ہے اِس لیے مجھے لگا کے آنٹی کا شاید پیشاب نکل گیا ہے خیر میں نے اِس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور تھوڑی دیر آنٹی کی چوت کو نرم ہاتھوں سے مساج کرنے کے بعد آنٹی کی شلوار نیچے کر دی آنٹی کی لاسٹک والی شلوار ان کے گھٹنوں تک آ گئی آنٹی نے اِس بار بھی کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اُلٹا اپنے ہاتھوں سے میری شلوار کا زارباند کھول نے لگیں آنٹی کی اِس حرکت کو دیکھ کر اب میرا سارا دَر ختم ہو گیا تھا میں نے آنٹی کی قمیض کو اتارنے کے لیے اوپر کیا تو آنٹی نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی ابھی میں آنٹی کی قمیض اوپر کر ہی رہا تھا کے آنٹی کے گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی آنٹی نے فوراً اپنے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی میں نے بھی فوراً اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور اپنی قسمت کو گلیاں دیتا ہوا دروازے کے پاس چلا گیا جب دروازہ کھولا تو آنٹی کی بڑی بیٹی تھی جو میرے گھر سے اپنے گھر آئی تھی جب وہ اندر آ گئی تو میں اس کے ساتھ اندر جانے کے بجائے سیدھا اپنے گھر چلا لنڈ تو میرا پہلے ہی مُرجھا چکا تھا لیکن چین اب بھی کسی کروٹ نہیں مل رہا تھا میں نے گھر جاتے ہی باتھ روم میں جا کر مٹھ ماری مٹھ مرنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو میں آج کی ادھوری چدائی کے بڑے میں سوچنے لگا اور کل کے بارے میں پلان بنانے لگا اب مجھے کل ہر حال میں آنٹی کو چھوڑنا تھا میں سونے کے لیا لیتا لیکن نیند آنے کا نام ہی کہاں لے بار بار ذہن میں آنٹی کو کس اور ان کے ساتھ ہوئی ادھوری چدائی کے خیالات ذہن آ رہے تھے خیر کسی طرح سے رات کٹی اور اب اگلے دن میرا پِھر سے آنٹی کے گھر جانے کا وقت آ ہی گیا کل کی نسبت آج میری زیادہ گند پھٹ رہی تھی کے آنٹی پتہ نہیں کیا بولیں کل جو ہوا اس کا بارے میں اک طرف سے یہ تسلّی بھی تھی کے آنٹی کل خود بھی تو میرا ساتھ دے رہی تھیں لیکن جب دِل میں چور ہو تو دَر تو لگتا ہی ہے میں ان ہی سوچوں کے ساتھ آنٹی کے گھر پوحچا اور دروازے پر دستک دی آنٹی نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا اور مجھے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئیں آنٹی کے چہرے پر ہمیشہ اک پیاری سی مسکراہٹ رہتی تھی جو آج غائب تھی میں بھی اندر چلا گیا اور جاتے وقت دروازہ بند کر دیا جب آنٹی کے کمرے میں پہنچا تو آنٹی اپنے بیڈ پر لیتی ہوئی تھیں میں بیڈ پر آنٹی کے پاس ہی بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کے کیا بولوں ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کے آنٹی اچانک سے اٹھیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ ڈائی اور میرے نیچلے ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا مجھے بھی اب سمجھ آ گیا تھا کے لائن کلیئر ہے اور میں کل کی طرح دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے فوراً آنٹی کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور آنٹی کی چوت کو زور زور سے اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا آنٹی کی چوت آج بھی پانی چور رہی تھی اور میں آج بھی یہی سمجھ رہا تھا کے آنٹی کا پیشاب نکل گیا ہے میں نے اب دیر نا کرتے ہوئے آنٹی کی شلوار نیچے کر دی اور آنٹی نے اپنی ٹانگوں کو اٹھتے ہوئے اک اک کر کے اپنے دونوں پاؤں شلوار سے نکل ڈائی میں نے آنٹی کی قمیض کو اٹھایا تو آنٹی نے ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی اور میں نے آنٹی کی قمیض بھی ان کا جسم سے الگ کر دی اب آنٹی صرف برا میں میرے سامنے کھڑی تھیں کل کی نسبت آج آنٹی کی چوت پر اک بھی بال نہیں تھا میں نے آنٹی کے مموں کو آنٹی کے اسکن کلر کے برا کے اوپر سے کچھ دیر دبایا اور پِھر برا بھی اُتَر دیا آنٹی کے بارے بارے ممے بالکل ننگی حالت میں میرے سامنے تھے جس عورت کو میں صرف خیالوں میں سوچ کر مٹھ مارا کرتا تھا آج میرے سامنے ننگی کھڑی تھی آنٹی کے مموں پر لائٹ برائون کلر کے نپلز دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً آنٹی کا اک نپل منہ میں لیا اور دوسرا اک ہاتھ سے دابانے لگا آنٹی پیار سے میرے سَر کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھیں آنٹی کے دونوں مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے اترے اور آنٹی کو بیڈ پر لٹا کر انکی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آنٹی کو چوت کے ہونٹوں کو کھول کر دیکھنے لگا آنٹی آنکھیں بند کیے لیتی رہیں میں نے چوت کے اندر دیکھا تو انکی ملائم سفید بے داغ چوت کے اندر لال رنگی کی اک جھلی نظر آئی اس کے اوپر اک دانہ جیسا کچھ تھا میں نے دیر نا کرتے ہوئے اپنے لنڈ کو آنٹی کی چوت پر سیٹ کیا اور پوری جان سے دھکہ لگا دیا آنٹی کے منہ سے اک زوردار آہ نکلی اور میں مزے کی انتہا تک پھنچ گیا آنٹی کی چوت کافی گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا پورا لنڈ اک ہی بار میں آنٹی کی چوت میں گھاس گیا تھا اِس کے بعد میں نے بغیر رکے زور زور سے آنٹی کی چوت مارنی شروع کر دی اور اور آنٹی نے آہیں بھرنا شروع کر دن مجھے اپنا لنڈ کسی گرم بھٹی میں محسوس ہو رہا تھا میں بنا رکے آنٹی کی چوت مرتا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی رانوں میں درد ہوتا محسوس ہوا مستقل اک ہی پوزیشن سے چودتے ہوئے میری رانوں میں درد ہو گیا تھا میں رک گیا تو آنٹی نے آنکھیں کھول کے میری طرف دیکھا اور سمجھ گئیں کے میں کیوں رکا ہواں آنٹی فوراً اٹھیں اور میرے سامنے گھوڑی بن گئیں میں نے بھی دیر نا کرتے ہوئے فوراً اپنا لنڈ آنٹی کی چوت میں ڈال دیا اور چھوڑنا شروع کر دیا اِس اسٹائل میں مجھے کچھ زیادہ ہی مزہ آ رہا تھا کیوں کے آنٹی کی چوت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ لگ رہی تھی اور انکی گند کا سوراخ بھی میرے آنکھوں کے سامنے تھا میں زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں پایا اور آنٹی کے چوت میں فارغ ہو گیا فارغ ہوتا ہی میں بیڈ پر لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو آنٹی کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی کچھ دیر یوں ہی لیتا رہنے کے بعد میں اپنے کپڑے پہن کر اپنے گھر چلا گیا میں نے آنٹی کو چود دیا تھا اور اِس چُدائی کی دوران ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی
  10. Yar next part kab upload kar rahy ho

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.