ہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ،
جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . .
خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم
توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ،
یادوں کی راکھ ،
جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی
اجڑاتے ہے ،
کبھی کبھی آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . .
" کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ،
چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . "
میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . .
" جی بھائی . . . "
" شراب ،
سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . "
" جی بھائی . . . "
" اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . "
" جی بھائی . . . "
میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ،
جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . .
سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ،
اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . .
بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ،
اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ،
وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ،
کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . .
کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے
الگ تھا ،
لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے آئینگے ،
جب سے یہ سنا تھا ،
دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ،
ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ،
وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . .
پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ،
اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے
دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . .
" گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . "
ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ،
" یہ ،
یہ کیا کر رہے ہو. . . "
میں نے چلاتے ہوئے بولا . . .
" چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . .
بہت بھاری ہے . . . . "
" تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . "
" بالکل سہی سمجھے ،
اور میرا نام ہے اظہر. . . . "
" ارمان . . . "
میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ،
اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . .
آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ،
لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ،
اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ "
میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . "
" تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . "
کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ،
اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ،
لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . .
" جاؤں گا نہ . . . "
" نو بجے کالج شروع ہوتا ہے . . . "
" تو . . . . "
بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . .
" تو ،
تیار نہیں ھونا کیا ،
ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . "
" دیکھو ،
میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ،
جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . "
" لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . "
اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ،
آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . .
فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ،
تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ سکے ،
اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . .
لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور
وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . .
" یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . "
راستے میں،
میں نے اسے پوچھا . . .
" مکینیکل . . . "
کاشف نے جواب دیا ،
" میرا بھی مکینیکل . . . "
تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا "
مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں
بیٹھینگے . . . "
" روک روک . . . "
مجھے کاشف نے روکا ،
ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ،
یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . .
" کیا ہوا . . . "
" اُدھر دیکھ ،
کچھ سینیرز کھڑے ہے . . .
پیچھے کے راستے سے چلتے ہے . . . "
" تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . "
" مجھے سب معلوم ہے ،
چل آجا . . . "
ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . .
" تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . "
" ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ،
انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . "
جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ،
کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ،
یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . .
جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ،
جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ،
وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ،
جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . .
" کوئی فائدہ نہیں ہوا ، "
اظہر بولا "
وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ،
دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی ہے ،
ایسا میں نے کہی سنا تھا ،
لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ،
جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ،
ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . .
" یار ،
کیا مال ہے . . . "
میں نے اظہر سے کہا . . .
" چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ،
سن پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . "
" یار یہ لڑکیاں ہے ،
اتنا کیوں دَر رہا ہے . . .
گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی . . . "
میں نے مردانہ آواز میں بولا ،
" یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ،
لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . "
" اچھا کرنا کیا ہے ،
یہ بتا . . . "
" کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . "
" اوکے . . . "
میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو .
ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ،
اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا
تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ،
دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ،
ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے
اَرْمان پورا کروں . . .
لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . .
" اوئے ماں کے لال . . . "
ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . .
" شاید میرے کان بج رہے ہے . . . "
" نہیں بیٹا ،
یہ کان نہیں بج رہے ہے ،
یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . "
" تو اب کیا کرے ،
تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ،
کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . "
" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے
" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا،
بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . "
" جلدی بتا ،
کرنا کیا ہے . . . "
میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ،
اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ،
لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ،
تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . .
" بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . "
" ماں کے لاڈلو ،
سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . "
جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی
حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . .
" جی . . .
جی . . .
میم ،
آپ نے ہمیں بلایا . . . "
اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ،
میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . .
" تم ہٹو . . . "
اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . .
" اور چکنے کیا حال ہے . . . "
" جی ٹھیک. . . "
کانپتے ہوئے میں نے کہا ،
اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . .
" سگریٹ پئے گا . . . "
اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . .
میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ،
لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . .
میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ،
اور سگریٹ ،
شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ
لوں گا . . . .
" چلو سگریٹ جلاو . . . "
ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت
میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی بات آئی . . .
" ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . "
" جی بھائی . . . "
" میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . "
ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے
میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . .
" کیوں کمینے،
تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . "
ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی دے سکتی ہے ،
میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . .
تب اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . .
" تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . "
ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . .
" اب کلاس چلے . . . "
جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ،
لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ،
جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ،
لیکن اصلیت یہ تھی کہ یہ سب صرف ایک
دکھاوا تھا ،
میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . .
" وہ دیکھ اس چشمے والی کو ،
دیسی آم لگ رہی ہے ،
اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . "
شریف تو میں بھی نہیں تھا ،
لیکن اِس طرح سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ،
جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . .
لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . .
" فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . "
میں نے اظہر سے پوچھا ، . . .
" یار ،
میرا بھی آج پہلا دن ہے . . .
اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . "
فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ،
اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ،
میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ،
لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ،
اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ،
مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ،
جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ،
وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ،
ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . .
" کچھ بھی بول یار تنویر ،
لیکن کالج اچھا ہے ،
یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . "
پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ،
اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . .
" ارمان ،
ناٹ تنویر . . . "
" اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . "
" پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . "
میں بڑبڑایا اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . .
" گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . "
اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم اندر آئی ،
میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ،
5 ’ 8 " لگ بھگ قد،
ماڈلز والی کمر ،
گورا رنگ . . . .
اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ،
" بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی،
جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . "
اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . .
اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ،
جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . .
اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ،
اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ،
بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ،
کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ دس اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن
میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . .
" یہ میڈم کون ہے ،
اس کی ماں کی . . . "
اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا "
باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . "
"حوصلہ کر بھائی . . . "
اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . .
" میرا لنڈ حوصلہ کر ،
اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . "
" حویلی . . . . "
" تو بچہ ہے ابھی ،
منٹو کو پڑھ ،
یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . "
اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ،
یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ،
سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ،
یہ تو سچ تھا ،
لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو
بولنے لگے تھے کہ"
سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . "
سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . .
سَر كے ،
اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ،
جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ،
اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی شکلیں بنی ہوتی تھی ،
یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ،
لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ،
سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ،
انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ،
کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . .
" تمہارا نام کیا ہے . . . . "
" سنائی نہیں دیتا کیا . . . "
" یار تجھے بول رہی ہے ،
کھڑے ہو . . . "
اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . .
اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا گیا تھا ،
جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . .
" یس میم . . . "
میں اٹھ کھڑا ہوا ،
میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو
دیکھ کر ہوتی ہے ،
" پہلے ہی دن ،
پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . "
سچ بتاؤں ،
تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . .
" تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . "
سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا .