Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 14/12/22 in all areas

  1. میری ممااپنے وقت کی بڑی مشہور پورن سٹار تھیں اور گھر میں مما، میں اور مماکے بوائے فرینڈ رہتے تھے۔رات کو ہم تینوں پول میں اکٹھے ہی نہاتے اور پھر مما اور انکل(مما کے بوائے فرینڈ) چھت پرسونے کے لیے چلے جاتے ۔ہم ایک بڑے گرم اور مرطوب ٹروپیکل جزیرے پر رہتے تھےجہاںساحل سمندر پر برہنہ جسم فراوانی سے نظر آتے تھے۔مما اور انکل رات کو چھت پر سیکس کرتے تھے تو اکثر میں بھی مکمل طور پر برہنہ ہو کر ان کے پاس چلی جاتی تھی ۔میرا عریاں بدن دیکھ کر انکل کا اکثر بے قابو ہو جاتا تھااور ان کی مما کو چودنے کی سپیڈ بھی بڑھ جاتی تھی ایک دن میں سو کر اٹھی تو انکل ننگے ہی میرے کمرے میں آگئے ۔ انہوں نے کیمرا پکڑا ہوا تھا اور ان کا لن فل ٹائٹ اوپر نیچے ہل رہا تھا ۔انکل کہنے لگے اٹھو چھت پر چلتے ہیں بارش میں تمہارا فوٹو شوٹ کرتے ہیں آج ۔ انکل ابھی تو کوئی اچھا ڈریس بھی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔میں نے مایوس سی آواز میں کہا تو انکل کہنے لگے کہ ڈریس کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی تو میں انکل کا مطلب سمجھ کر شرماتی ہوئی ہنسنے لگی ۔ ، اس دن میں صرف پینٹی پہن کر سوئی تھی انکل کی بات سن کر میں نے پینٹی اتاری اور بالکل ننگی ہی چھت پر چلی گئی۔۔انکل اپنا ٹائٹ لن ہلاتے ہوئے میرے پیچھے آنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر قارئین کو یہ آغاز پسند آیا ہو تو کمنٹ کریں تاکہ اس دن کی مکمل روداد آپ تک پہنچ سکے میں آگے بھی اپنی برہنہ پن اورجنسی اخلاط سے بھرپور شب و روز کی ڈائیری آپ سے شئیر کرتی رہوں گی
  2. ریاض کی سعودیا عرب کے شہر جدہ میں 5 ورکشاپس ہیں اور مختلف دوکانیں ہیں ریاض کی عمر 39 سال ہے اور اس کی بیوی نسرین کی عنر 31 سال ہے اور ان کی ایک بیٹی ہے 2 سال کی ریاض کے پاکستان میں 3 چکر لگے شادی سے اب تک 3 چکر پاکستان لگے تھے ریاض کی ایک بہن اور بہنوئی ان کے مکان میں ہی رہتے ہیں ریاض ہی ان کا ہر طرح کا خرچا برداشت کرتا ہے کیونکہ ریاض کا بہنوئی کچھ نہیں کرتا نسرین ایک وفادار بیوی تھی جو ریاض کی جدائی اور اپنی نند کی جلی کٹی باتیں برداشت کرتی تھی ریاض کی بہن پہلے بھی نسرین کی شکایتیں لگاتی تھی لیکن ریاض بس ڈانٹ دیتا نسرین کو اور نسرین کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع نہیں ملتا تھا ریاض نے اپنی شادی کی سالگرپر ایک سونے کا ہار بھیجا جو بہت خوبصورت تھا نسرین نے یہ ریاض کی بہن کو نا دیکھایا کچھ دن بعد ریاض نے اپنی بہن کو فون کیا جس میں اس نے اس ہار کا ذکر کیا تو اس کو بہت غصہ آیا ہے اگلے دن نسرین کے پاس جب ریاض کے چچا زاد بھائی کی بیوی بیٹھی تھی ریاض کی بہن نے آتے ہی بہانے سے لڑنا شروع کر دیا اور جب ریاض کی چچا زاد بھائی کی بیوی نے لڑائی ختم کروا دی لیکن ریاض کی بہن کا غصہ ٹھنڈا نا یوا اس نے اپنے بھائی جو فون پر نسرین کے بارے میں غلط باتیں بتائی جس پر ریاض کو شدید غصہ آیا اور رہی سہی کثر اس کے بہنوئی نے نکلا دی ریاض نے نسرین کو فون کیا اور فون پر طلاق دیدی اور کہا کے گھر چھوڑ دو. میرا نام عمر ہے میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں ابوکا ہاڈوئیر کی دوکان ہے اچھا خاصہ کاروبار ہےمیں سکول میں 9 کلاس میں ہوں سکول کے بعد وڈیو گیمز اور موویز کا شوق ہے دو دن ہوگے ہیں چاچی نسرین ہمارے گھر رہ رہی ہیں بہت پریشان ہے ہر وقت ماما اُن کو دلاسے دیتی ہے. طلاق دکے بعد نسرین ریاض کے چچا زاد بھائی کے گھر آئی اِن کو ساری بات بتائی پہلے بھی یہ سب جانتے تھے وقار ریاض کے چچا زاد نے ریاض فون کیا اور اس کو پاکستان بلایا ریاض پاکستان آگیا اور یہاں آنے کے بعد اس کا ساری صورتحال جب بتائی تو اس نے اپنا سر پیٹ لیا کے اپنی بہن کے کہنے پر اس نے اپنا گھر برباد کر لیا آخر کار مولوی سے فتوی لیا طلاق ہوگی ہے اب لڑکی دوسری جگہ شادی کرے اور اس مرد سے ملاپ ہو پھر طلاق ہو مطلب حلالہ کروانا پڑھے گا ریاض نے پہلے بھی حلالہ کا سنا تھا کے بعض افراد نکاح حلالہ تو کر لیتے ہیں پر طلاق نہیں دیتے ریاض نے وقار سے سارا مشورہ کیا تو وقار نے اس کو کہا توبتاؤں کیا کرنا ہے ریاض نے کہا کوئی ایسا ہو جو قابلِ اعتماد ہو وقار نے ریاض کو کہا کے میرا بیٹا ہی ہے معصوم ہے جیسا کہو گے مان لے گا اور وہ بالغ بھی ہونے والا ہے اس سے حمل ہونے کا بھی خطرہ نہیں ہے ریاض کو یہ بات پسند آگی. چاچی نسرین کے آنے کے کچھ دن بعد چاچو ریاض بھی ہمارے گھر آگے وہ ابو کے ساتھ دو تین دن گھومتے رہے آج صبح ابو نے مجھے بلایا اور کہا عمر تمہاری شادی ہونی ہے چاچی نسرین کے ساتھ کچھ دن کے لیے اس کے بعد تم نے اِن کو طلاق دیدینی ہے میں نے پوچھا ابو یہ سب کیا ہے چاچی تو چاچو ریاض کی بیوی ہیں تو ابو نے بتایا کے اُن کی طلاق ہوگی ہے اور دوبارہ شادی کے لیے لازم ہے نسرین سے کوئی اور شادی کرے میں میں اب کیا بولتا ابو نے مجھے کہا کے شام کو ابو کے دوست جاوید چاچو کے پاس جاؤں میں انہوں نے مجھ سے کچھ باتیں کرنی ہیں اور ابھی میں چاچو جاوید کے گھر گیا چاچو کا ایک بیٹا مجھ سے بڑا ہے اور ایک میرا ہم عمر ہے ہم دوست ہیں آپس میں چاچو کے گھر پہنچا تو چاچو مجھے اپنے کمرے میں لے گے اور بیٹھا دیا پھر انہوں نے کہا بیٹا شادی کا پتہ ہے کیا میں نے کہا نکاح ہوتا ہے بس اور لڑکی لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے تو انکل نے کہا نہیں بلکہ عورت اور مرد ایک اپنے جسم کے مخصوص حصے ملتے ہیں اور یہ سب لازمی ہوتا ہے اور تمہاری شادی ہے تم نے بھی کرنا ہے اس کے بعد وہاں چاچو جاوید کا بیٹا ارسلان میرا دوست آگیا اس سے باتیں کی اور وہاں سے گھر آگیا شام کو کھانا کھایا اور باہر گھومنے نکل آیا ارسلان کے ساتھ ارسلان کا ایک ہمسایا تھا وہ کچھ دن قبل ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا ہم نے اس کا خوب مذاق اُڑایا کافی دیر باتیں کرنے کے بعد ہم نے اس سے پوچھا کی ہوا تو اس نے کہا کے یار گولی کھائی تھی جس کا اثر نہیں اُتر رہا تھا اور دیر ہوگی لڑکی کے گھر والے جاگ گے اور پکڑا گیا ہم ہنسنے لگ گے گولی کا سن کے میں نے اس کو کہا مجھ بھی دو گولی تو اس نے کہا کیا کرنی ہے تو میں نے کہا تو دے تم کو اس سے کیا اس نے مجھے کہا وہ گھر ہیں اور کل لےلینا میں ارسلان کے ساتھ وڈیو گیمیں کھیلنے چلا گیا رات میں واپس آیا تو ماما نے مجھے دود دیا اور کہا سارا ختم کرو میں نے دودھ پیا کافی کچھ مکس تھا لیکن پی کے سو گیا اگلے دن اُٹھا تو ناشتہ کیا اور ارسلان کے پاس چلا گیا وہاں اس کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلنے لگ گیا تین گھنٹے کھیلنے کے بعد ارسلان کو تین گیم ہارائی اور گھر آگیا پسینے سے شرابور تھا ابو نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ لے گے بیرونی کمرے میں وہاں مولوی اور کچھ افراد بیٹھے تھے مجھے بیٹھایا اور ابو نے مولوی صاحب سے کہا شروع کریں مولوی نے نکاح شروع کیا نکاح کے بعد جو چند افراد تھے انہوں نے کہانا کھایا اور چلے گے میں اندر آیا اور امی کو کپڑو کا بولا تو امی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کے نسرین اب تمہاری چاچی نہیں تمہاری بیوی ہے اس کو کہو میں نے مما کو کہا ماما وہ مجھ سے اتنی بڑھی ہیں اب تک ان کو چاچی کہتا آیا ہوں اب ایک دم سے یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا ماما میری بات سن کے خاموش ہوگی پھر بولی چلو کوئی بات نہیں لیکن وہ اب تمہاری بیوی ہے میں کمرے میں گیا تو دیکھا نسرین اپنے کپڑے بیگ سے نکال رہی تھی میں نے اپنی نیکر شرٹ لی اور نہانے چلا گیا نہا کر واپس آیا تو امی نے نسرین کو کچھ کہا اور واپس چلی گی میں صوفے پر لیٹ گیا تھکا تھا نسرین میرے پاس آئی اور پہلے تو اپنی انگلیاں مروڑتی رہی پھر بولی کے عمر آپ کو پتہ ہی ہے جو بھی ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن ہم بڑوں کی غلطیوں کی سزا آپ کو مل رہی ہے غلطی تو میری بھی نہیں اور میں اپنی صفائی دینا بھی نہیں چاہتی یہ بڑوں کا معاملہ تھا لیکن آپ کو اس معاملے میں گھسیٹنا بہت غلط ہے اس لیے جیسے بھی ہے ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑھے گا. میں نے جواب دیا آپ کو کیا یہ سب بہت آسان لگتا ہے؟؟ مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا اور ہوتا بھی کیسے یہ مجھ سے بڑھی تھی سنجیدہ خاتون تھی خاندان میں میں بس سلام دعا کی حد تک تھا اور اب یہ سب بہت مشکل لگتا تھا. نسرین بولی چلو آپ وہ سب نا کریں لیکن دوست تو بن کے رہ سکتے ہیں؟؟
  3. بیوٹی کوئن رینا کے ساتھ گزاری ایک رات میں نے کمرے میں گھستے ہی میں نے دیکھا زیرو کے بلب میں بیڈ پر رینا اور اس کا شوہر گہری نیند میں سورہے ہیں۔ رینا ریڈ رنگ کی نائٹی میں ملبوس تھی اور وہ اس وقت اپنے شوہر کے سینے سے لگی سورہی تھی۔ اگلے ہی لمحے میں نے رینا کے شوہر کو منہ پر بیہوشی کا اسپرے کیا اسپرے کرتے ہی وہ بیہوش ہوگیا۔ اور ہلکا سا اسپرے رینا کے منہ پر بھی کیا۔ تاکہ وہ پوری طرح بیہوش نا ہو اور مگر اس کا دماغ صحیح طرح کام نا کرے۔ میں نے آگے بڑھ کر رینا کے شوہر کو رینا سے الگ کیا جو رینا کو اپنے سے چیپکا کر بیہوش پڑا تھا۔ میں نے اس کے شوہر کو اس کی بیوی رینا سے الگ کرنے کہ بعد بیڈ سے اٹھاکر نیچے زمین پر لیٹا دیا۔ اور خود جاکر اس کی بیوی رینا کے برابر میں لیٹ گیا۔ لیٹتے کے ساتھ میں نے رینا کو اپنے سینے سے چیپکا لیا رینا کو چپکاتے ہی میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ اور میرا لنڈ ایک دم تن گیا۔ اب میں نے نیم بیہوش رینا کے نرم و نازک گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔ اور رینا کے ہونٹوں کا میٹھا رس پینے لگا۔ رینا کے ہونٹ بھی حرکت میں آگئے اور وہ میرے ہونٹوں کو چوس رہی تھی ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹوں کی پیاس بجھا رہے تھے۔ اب میرا ہاتھ رینا کے چہرے پر تھا میں اس کے نرم چہرے پر یاتھ پھیر رہا تھا اس کے ہونٹوں اس کی گردن کو چھو رہا تھا اب میں نے اپنے ہاتھ رینا کے سینے پر رکھ دیئے اور رینا کے مموں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ رینا شاید ہوش میں آچکی تھی مگر وہ مجھے اپنا شوہر ہی سمجھ رہی تھی کیونکہ کمرے میں اندھیرا تھا صرف زیرو کا بلب ہی جل رہا تھا۔ اور ہلکا سا نشہ باقی تھا جس کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہیں پارہی تھی۔ اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے رینا کی نائٹی کی ڈور کھول دی اور اس کا بریزر بھی اتار دیا رینا اب بلکل ننگی میرے ساتھ میرے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ میں اس کے گورے گورے بڑے مموں اور گلابی نیپلز کو دیکھ کر پاگل ہوگیا تھا۔ اگلے ہی لمحے میں نے رینا کے نیپلز منہ میں لے لئے اور ان کو چوسنے لگا۔ رینا کے نیپلز کھڑے ہوچکے تھے اور میں ان کو مسلسل چوستا جارہا تھا۔ رینا کی سسکیاں شروع ہوچکی تھی اور وہ آہ۔۔۔۔اوچ۔۔۔ کی آوزیں نکال رہی تھی۔ میں نے اپنی پینٹ اتاری اور شرٹ بھی اتار دی اور اپنا لنڈ رینا کے ہاتھ میں دیدیا رینا کے ہاتھ میں آتے ہی میرا لنڈ اور سخت ہوگیا۔ رینا میرے لنڈ کو مسلنے لگی۔ میرا لنڈ فولاد کی طرح سخت ہوچکا تھا۔ اب میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنا لنڈ رینا کے منہ میں ڈال دیا میرا موٹا اور لمبا لنڈ رینا کے منہ میں چلاگیا اور رینا اس کو اپنے ہونٹوں سے چومنے لگی اور زبان سے چوسنے چاٹنے لگی۔ مسلسل 5 منٹ تک رینا میرے لنڈ کو کسی قلفی کی طرح چوستی رہی اس کے بعد میں نے رینا کو سیدھا لیٹایا اور خود رینا کے خوبصورت جسم کو اپنی زبان سے چاٹبےگا۔ اس کے ہونٹوں گردن سے ہوتا ہوا میں رینا کے پورے جسم کو چاٹتا رہا۔ رینا فل گرم ہوچکی تھی۔ وہ بار بار میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیکر مسلنے لگتی۔ اب میں نے دیر نہیں کی اور رینا کے اوپر چڑھ گیا اور اس کی چھاتیوں کو دوبارہ چوسنے لگا۔ اور اس کے بعد میں نے اپنا لنڈ پکڑ کر رینا کی جوسی چوت میں ڈال دیا۔ جیسے ہی میرا لنڈ رینا کی چوت میں گیا رینا کی ایک چیخ بلند ہوئئ مگر دوسرے ہی لمحے وہ بھی مزے لینے لگی میرا لنڈ پوری رفتار سے رینا کی چوت مار رہا تھا اور تیزی سے اندر باہر ہوکر رینا کو چود رہا تھا۔ مسلسل 10 منٹ تک میں رینا کو چودتا رہا ۔ رینا مجھے اپنا شوہر سمجھتے ہوئے مجھ سے پوری طرح چدوا رہی تھی۔اس دوران رینا کی چوت کا پانی دو دفعہ نکلا اور رینا کو دو دفعہ میں نے فارغ کیا۔ مگر خود فارغ نا ہوسکا میں پوری شدت سے رینا کو چود رہا تھا۔ اور رینا کے نرم اور گرم جسم کو چود کر اس کا خوب مزہ لے رہا تھا۔ اور پھر دس منٹ بعد میرے لنڈ کا پانی نکلنے لگا تو میں نے اہنی ساری منی رینا کی چوت میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنی ساری منی رینا کی چوت میں بھردی۔ رینا کی چوت میری دودھ جیسی سفید اور گاڑھی منی بڑی مقدار میں رینا کی چوت کو بھر چکی تھی. جب میں رینا کو چود کر فارغ ہوا تو رینا کے اوپر سے ہٹ کر ایک سائیڈ پر لیٹ گیا۔ اور رینا کو اہنے سینے سے چیپکا کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہا۔ میرے اس عمل سے رینا کو نیند آگئی اور وہ مجھ سے چیپک کر ہی سوگئی۔ رینا کے سونے کہ بعد میں اٹھا اور نیچے پڑے ہوئے اس کے شوہر کے کپڑے اتار کر اس کو ننگا کیا اور اس کو اٹھاکر رینا کے برابر میں رکھ دیا۔ اور جانے کے تیاری کرنے لگا۔ اتنے میں میری نظر پھر ایک دفعہ بستر پر سوئی بلکل ننگی رینا پر پڑی اور میں خود کو روک نا سکا اور پھر ایک بار رینا کے اوپر چڑھ گیا اس بار بستر پر رینا کا بیہوش شوہر بھی موجود تھا مگر میں اس کی موجودگی میں ہی رینا پڑھ چڑھ گیا اور اس کے گلابی ہونٹوں اس کی گردن کو چاٹنے لگا۔ اس کی چھاتیوں کو دباتا ہواچمیں اس کے نیپلز کو منہ میں لیکر چوسنے لگا۔ رینا کی چھاتیوں کا دودھ پینے کے بعد میں اس کے گالوں اور ہونٹوں کر کسنگ کرنے لگا۔ اب میرا لنڈ دوبارہ رینا کی گرم چوت میں جانے کے لئے تن کر ایک دم تیار ہوگیا اور اس دوران میں نے اپنا موٹا لمبا لنڈ ایک بار پھر رینا کی چوت میں ڈال دیا اور اندر باہر کرکے رینا کو چودنے لگا۔ رینا آنکھیں بند کرے میرے نیچے لیٹی تھی اور اچھل اچھل کر مجھے دے رہی تھی تقریبا دس منٹ بعد رینا کی چوت سے اس کا پانی ٹپکنے لگا اور پھر فارغ ہوگئی اور ساتھ میں نے پھر ایک بار اہنی گرم سفید گاڑھی منی رینا کی چوت میں بھردی۔ رینا کو دوسری بار چودنے کے بعد میں تیزی سے اٹھا کپڑے پہنے اور باہر نکل گیا۔ مزے کی بات یہ کہ میں نے رینا کو ایک ہی رات میں دو دفعہ چود دیا مگر اس کو معلوم ہی نہیں چل سکا کہ وہ اہنے شوہر سے نہیں مجھ سے چودوارہی تھی۔ دس ماہ بعد مجھے خبر ملی کے رینا نے بچے کو جنم دیا ہے۔ اور اس کا شوہر اس خوشی میں مٹھائیاں بانٹ رہا ہے۔ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی کہ جس بچے کو وہ اپنا بچہ سمجھ رہا ہے دراصل وہ میرا اور رینا کا بچہ ہے۔
  4. رینا میری پہلی اور آخری محبت تھی مگر حیرت انگیز بات ہے میں نے اس کو پہلی بار اس کی شادی کے موقع پر ہی دیکھا اور میں نے اس کو اس کی شادی کہ بعد ہی چاہا۔ کاش رینا اپنی شادی سے پہلے مجھے مل جاتی تو میں اس کو پانے کے لئے دنیا ایک کردیتا زندگی کی ہر خوشی اس کے قدموں میں ڈال دیتا مگر میری بدقسمتی تھی جو مجھے وہ اپنی شادی سے قبل نہیں مل سکی۔ رینا کی دودھ جیسی رنگت اس کی خوبصورت رنگیلی اور نشئی آنکھوں۔ اس کے نرم و نازک خوبصورت ہونٹوں نے مجھے گھائل کردیا۔ اور جب اس کے خوبصورت نرم و نازک گلابی ہونٹ مسکراتے تو رینا قیامت ڈھاتی تھی۔ شادی کہ بعد وہ اب تک دو بچوں کی ماں بن چکی ہے۔ مگر آج بھی وہ اتنی ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ہے۔ کے ہاتھ لگاو تو میلی ہوجائے گی۔ اس کی شادی کہ بعد رینا کے شوہر نے ہزاروں بار اس کو ہاتھ لگایا ہوگا۔ اس کی دودھ سے بھی گدار چھاتیوں کو مسلا ہوگا۔ اب کو دبا دبا کر چوسا ہوگا اس کے ساتھ ہم بستری کری ہوگی اس کے خوبصورت میٹھے رس سے بھرے ہونٹوں کا رس پیا ہوگا مگر اس کے ہونٹ آج بھی رس سے بھرے ہوئے ہیں رینا کے ہونٹوں کا رس زرا بھی کم نہیں ہوا۔ اور ویسے ہی اس کی چھاتیاں دودھ سے بھری اور پوری طرح تنی ہوئی ہیں۔ اور نہ ہی رینا کا خوبصورت اور سفید جسم میلہ ہوا اس کا جسم آج بھی دودھ جیسا سفید نرم و گداز ہے۔ میں تو رینا کو تصور کرکے اس کو سوچ کر ہی اپنے ہوش و حواس کھودیتا ہوں۔ اندازہ لگائیں اس کا شوہر کتنا خوش قسمت انسان ہوگا جو خوبصورت رینا کو اپنے بستر پر پاکر اس کو چومتا اور چاٹتا ہوگا۔ کئی سال گزر گئے مگر میں اس کے تصور اور اس کے سحر سے باہر نہیں نکل پایا۔ کہتے ہیں جس کو آپ سوچتے ہیں جو آپکے دل و دماغ پر حاوی ہوتا ہے اس کے آپ کو خواب بھی آتے ہیں اور شائد اس ہی لئے رینا اکثر میرے خوابوں میں میرے بستر پر میرے ساتھ ہوتی ہے۔ جب میں اور رینا ایک دوسرے کے ہونٹوں کا ذائقہ چکھ رہے ہوتے ایک دوسرے کے ہونٹوں کی پیاس بجھارہے ہوتے ہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں اگر آپ ایک بار میری جان رینا کو دیکھ لیں گے تو دیکھتے کے ساتھ ہی آپ کے ہتیار میں تناو آجائے گا اور وہ تن کر رینا کی شان میں کھڑا ہوجائے گا۔ آپ کے کمینٹس کا انتیظار رہے گا۔
  5. ہیں اتنی بڑی اپڈیٹ وہ بھی اتنے تھوڑے ٹائم میں بہت عمدہ بہترین اپڈیٹ وجی کمال کر گئے Bro

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.