ڈئیر کہانی لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ پیشہ ورانہ مصروفیات بھی ہوتی ہیں۔ کبھی اگر ان سے فرصت مل جائے تو میں لمبی اپڈیٹ دے دیتا ہوں ورنہ جتنا وقت ملا اور جتنی لکھی جا سکی وہ لکھ کر پوسٹ کر دی۔
یقین مانیں کہ ایسا ہوتا ہے کہ ادھر دس منٹ ملے اور میں نے چار پانچ لائنیں لکھ دیں،پھر کام میں لگ گیا،پھر کچھ وقت ملا تو کچھ لکھ دیا،یوں شام تک اگر دو چار صفحے بن گئے تو ٹھیک ورنہ اگلے دن مزید کچھ لکھ کر پوسٹ کیے۔
قارئین یہ جانتے ہوں گے ،اس وقت بھی پردیس کو اعزاز حاصل ہے کہ کم و بیش ۹۰۰ صفحات پر مشتمل ہے اور واحد سلسلہ ہے جو ہفتے میں سب سے زیادہ بار اپڈیٹ ہوتا ہے۔
باقی میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کہانی کو حقیقی انداز میں جاری رکھوں۔ اسی لیے جہاں سیکس سین بنتا ہو وہیں ایڈ کیا جاتا ہے اور جہاں اس کی ضرورت نہ ہو یا گنجائش نہ ہو وہ نہیں ڈالا جاتا۔
میرا وعدہ ہے کہ جلد ایک نیا باب شروع ہو گا،جمیل نے ایک بڑے دشمن اسلم قریشی کو بچھاڑ دیا ہے اب اس کا اصل امتحان شروع ہونے والا ہے جس کے لیے انٹیلی جنس اسے تیار کر رہی تھی۔