Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/06/22 in Posts

  1. محترم / محترمہ جہاں تک میں نے ڈاکٹر صاحب کی کہانیاں پڑھی ہیں ایک بھی کہانی نامکمل نہیں ملی۔ ہاں اپڈیٹ میں تاخیر ہو جاتی ہے مگر کہانی کو انہوں نے کبھی بھی ادھورا نہیں چھوڑا لہٰذا آپ آئندہ اپنے الفاظ پر غور کیجئے گا
  2. محترم ۔۔۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ نے فورم پر کتنے پیسے لگائے ہیں ؟؟؟ صرف 2 ڈالر ادا کرنے پر آپ فورم پر اتنی باتیں کر رہے ہیں اور جن کا آپ ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ ماہانہ ہزاروں روپے لے رہے ہیں۔ ریگولر پڑھنے والے ممبرز جانتے ہیں کہ جب اپڈیٹس آتی ہیں تو ایک دن میں کئی اپڈیٹس بھی پوسٹ ہونے لگتی ہیں ۔ اور فورم میں مکمل ناولز بھی موجود ہیں ۔ آپ بجائے انتظار کرنے کے وہ پڑھ لیں ۔
  3. ڈاکٹر صاحب مجھے معلوم ہے کہ آپ کتنے مصروف ہوتے ہیں۔ آپ کے اس فارم پر لکھنے کیلئے اپنے قیمتی وقت صرف کرتے ہیں اس پر میں آپ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکرگزار اور قدر دان ہوں! مہربانی کر کے اس کہانی کیلئے بھی اپنا تھوڑا سا وقت مہیا کر دیں ۔ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے اس کی بھی کوئی اپڈیٹ نئی آئی۔۔۔۔ بہت شکریہ
  4. bhai story toh pori kro pehla
  5. ارشد کے جانے کے بعدبھی میں نومی کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹی رہی میں نے اپنی ایک ٹانگ نومی کی دونوں ٹانگوں کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور آنکھیں بند کی ہوئی تھیں مزہ آیا مجھ سے چدائی کرانے کا؟‘ نومی نے مجھ سے لیٹے لیٹے سوال کیا ہوووووں‘ میں نے صرف ناک سے آواز نکال کر اس کی بات کا جواب دینے پر اکتفا کیا میں اس وقت آرام کے موڈ میں تھی اور چاہتی تھی کہ چپ چاپ لیٹی رہوں مجھے حقیقت میں اس وقت کافی سکون مل رہا تھا آدھے پونے گھنٹے کی لگاتار چدائی کے بعد میرا بولنے کا بالکل بھی موڈ نہیں تھا ہوووووں کیا صاف صاف کہو ناں‘ نومی نے پھر سے کہا ہاں آیا ہے‘ میں نے اسے جواب دیا کتنا ؟‘ اس نے ایک بار پھر مجھے کہالیکن اب میں خاموش رہی اور آنکھیں بند کئے لیٹی رہی پھر اس نے ایک دو بار مجھے بلانے کی کوشش کی لیکن میں خاموشی سے لیٹی رہی جس کے بعد وہ بھی خاموش ہوگیا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اس کے کھردرے ہاتھوں سے میرے جسم میں ایک بار پھر تھرتھلی مچلنے لگی لیکن میں نے اس کو کوئی ایسا سگنل نہیں دیا کہ میرے اندر کیا تحریک چل رہی ہے اور اس کو ایسا ہی ظاہر کیا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا لیکن وہ بھی پرانا کھلاڑی تھا اس نے اپنے ہاتھ جیسے ہی میرے رانوں پر پھیرنا شروع کئے میرے اندر ایک کرنٹ سا دوڑ گیا میں نے اس کا ہاتھ روک لیا کیا ہوا؟‘ اس نے پوچھا کچھ نہیں تھوڑی دیر ٹھہر جاو‘ میں نے اس کا ہاتھ اپنی ٹانگ سے ہٹاتے ہوئے اس کو جواب دیا جس پر وہ مسکرا دیا لیکن پھر بھی وہ میرے جسم کے اوپر والے حصے پر چھیڑ خانی کرتا رہا اور میں خاموشی سے مزے میں لیٹی رہی تقریباً آدھے ارشد ہاتھ میں ایک شاپر پکڑے بیڈ روم میں داخل ہوا اور اس کو ایک ٹیبل پر رکھ کر مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا اس کو پلیٹ میں ڈال کر لے آﺅ‘ ابے کتی کے بچے تم کو شرم نہیں آتی ابھی تمہاری رنڈی بیوی چدائی کرواکے بے حال پڑی ہے اور تم اس کو کھانا لگانے کا آرڈر کررہے ہو جاﺅ خود پلیٹ میں ڈال کرلے آﺅ‘ نومی نے اس کو چھاڑ پلاتے ہوئے کہا جس پر وہ منہ میں کچھ بولتے ہوئے شاپنگ بیگ پکڑے کچن کی طرف چل دیا اور چند منٹ بعد دوپلیٹوں میں مچھلی اور نان لے کر کمرے میں داخل ہوا اور پلیٹیں میز پر رکھ کر کرسیاں پاس کرنے لگا کسی حرامی کی اولاد کھانا ادھر لے آﺅ بیڈ پر تمہاری بیوی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اٹھ کر وہاں جائے ‘ نومی نے ایک بار پھر گندی زبان میں ارشد کو حکم دیا جس پر وہ پلیٹیں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا ‘ میں اور نومی اٹھ کر بیٹھ گئے جبکہ ارشد ابھی بیٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ نومی نے ایک بار پھر اسے کہا ”چل حرامی ہمارے لئے کوک بھی لے کر آ‘ ‘ نومی کی بات سن کر ارشد آگ بگولا ہوگیا لیکن زبان سے ایک لفظ نکالے بغیر ہی کمرے سے پھر نکل گیا اور تھوڑی دیر بعد کو ک اور گلاس لے آیا پھر بیڈ پر بیٹھ گیا اور ہم تینوں نے کھانا کھایا اور پھر نومی نے اسے کہا کہ چل برتن اٹھا کر کچن میں رکھ کے آ اور ارشد برتن لے کر کچن میں چلا گیا ڈارلنگ اب میں تیری گانڈ لینے والا ہوں‘ نومی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا میں نومی کی زبان سے گانڈ کا لفظ سنتے ہی کانپ اٹھی اور چلاتے ہوئے کہا ”نہیں نومی گانڈ نہیں پلیز بہت بڑا ہے تمہارا لن میری گانڈ پھٹ جائے گی پلیز ایسا مت کرنا‘ ڈرو مت ڈارلنگ تمہاری چوت بھی بہت چھوٹی تھی لیکن پھر بھی اتنا بڑا لن تم نے لے ہی لیا میں بڑے آرام سے تمہاری گانڈ لوں گا تم کو مزہ آئے گا‘ نومی نے مجھے پچکارتے ہوئے کہا کچھ نہیں ہوتا ڈارلنگ‘ ارشد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا میرا دل بہت ڈر رہا تھا اور جسم کانپنے لگا تھا کہ اب میری خیر نہیں ہے اچانک نومی نے ارشد کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس کو کہنے لگا چل اوئے تو میرا لن چوس‘ میں تمہارا لن چوسوں‘ ارشد نے اپنا منہ بگاڑتے ہوئے کہا جیسے کہ اسے نومی کی بات کا یقین ہی نہ آرہا ہو ہاں تم چوسو‘ تم نے ہی تو کہا تھا کہ تھری سم کرنا ہے اب تو اپنی رنڈی بیوی کی لینے کے قابل تو ہے نہیں اس لئے میرا لن چوس کر تھری سم میں شامل ہوجا‘ نومی نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا نہیں میں نہیں چوس سکتا تمہارا لن‘ ارشد نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا ارشد کی بات سنتے ہی نومی اٹھ کھڑا ہوا اور تڑاخ کی آواز کمرے میں گونج اٹھی ‘ نومی نے ارشد کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کردیا تھا ابھی وہ سنبھلابھی نہیں تھا کہ ایک بار پھر تڑاخ کی آواز آئی اور نومی نے ارشد کا سر پکڑ کر اپنے لن کے قریب کردیا‘ چل اس کو چوس مادر چود حرامی کی اولاد ‘ نومی کے اس روئےے کو دیکھ کر میں مزید ڈر گئی اور لیٹے لیٹے ہی کانپنے لگی میرا دل بلٹ ٹرین کی رفتار سے دھڑک رہا تھا ارشد نے نومی کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور مجھے دیکھنے لگا ادھر کیا دیکھ رہا ہے چل دھیان سے اپنا کام کر جو میں نے کہا ہے‘ نومی نے ارشد کا منہ اپنے لن کی طرف کرتے ہوئے کہا ارشد نے اس کاادھ کھڑا لن اپنے منہ میں ڈال لیا اور اس کو چوسنے لگااس وقت نومی بیڈ کے قریب فرش پر کھڑا ہوا تھا جبکہ ارشد اس کے سامنے گھوڑی بن کر اس کے لن کو منہ میں ڈالے چوس رہا تھا چل رنڈی تو بھی ادھر آجا اور تو اپنے کھسم کا لن چوس پورا تھری سم کریں‘ ارشد نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا میں اس کی آواز سن کو فوری طورپر بیڈ کے نیچے آگئی اور ارشد جو گھوڑی بنا ہوا تھا اس کے نیچے گھس کر اس کے لن کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگی نومی بار بار ارشد کی کمر پر ہلکے ہلکے تھپڑ مار رہا تھا اوئے حرامی تو بھی مجھے گانڈو ہی لگتا ہے تو تو مجھے اپنی رنڈی بیوی سے بھی زیادہ مزہ دے رہا ہے‘ نومی نے ارشد کو کہا تقریباً دس منٹ تک ایسے ہی رہنے کے بعد نومی نے ارشد کو لن اپنے منہ سے نکالنے کا حکم دیا اور ارشد نے یقینا شکر کیا ہوگا میں نے بھی ارشد کا لن منہ سے نکال دیا اور ارشد کھڑا ہوگیا جبکہ میں اسی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی نومی نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی طرف میرا منہ کیا میں نے دیکھا نومی کا لن پہلے سے بھی زیادہ اکڑا ہوا تھا نومی نے مجھے پکڑ کر کھڑا کیا اور مجھے بیڈ کے قریب کرکے اس نے مجھے اس طرح کھڑا کیا کہ میرے بازو بیڈ کے اوپر لگا کر اس نے مجھے گھوڑی بنا لیا اور پھر خود میرے پیچھے آکھڑا ہوا چل بھڑوے ادھر آ اور میرا لن پکڑ کر اپنی رنڈی بیوی کی گانڈ میں ڈال‘ نومی نے پھر ارشد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر ارشد فوری طورپر آگے بڑھا اور اس نے نومی کا لن پکڑ کر میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا چل اس کو اپنی بیوی کی گانڈ پر رگڑ ‘ نومی نے اس کو ایک اور حکم دیا جس پر اس نے نومی کا لن میری گانڈ پر رگڑنا شروع کردیا اس کے لن کی ٹوپی میری گانڈ پر جیسے جیسے رگڑ کھا رہی تھی میرے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی میں یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میرے جسم میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ میں یہاں سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹوں پھر ارشد نے نومی کے لن کی ٹوپی میری گانڈ کے سوراخ کے عین اوپر رکھ دی اور خود پیچھے ہٹ گیا نومی بھائی تھوڑا تیل لگا لو بیچاری کو بہت تکلیف ہوگی‘ ارشد نے ڈرتے ڈرتے نومی سے التجا کی چل پیچھے ہٹ بھڑوے کیا یہ تیری بہن ہے جو تجھے اتنی تکلیف ہورہی ہے اگر اتنا ہی ڈر لگ رہا تھا تو پہلے مجھے بلایا ہی کیوں تھا‘ نومی نے ایک بار پھر اپنی گندی زبان بولنا شروع کردی نومی بھیا پلیز تھوڑا سا تیل لگا لو بیچاری مرجائے گی‘ ارشد نے ایک بار پھر نومی کی منت کی چل پیچھے ہٹ ‘ مجھے اتنی دیر مزہ ہی نہیں آتا جب تک عورت تکلیف سے مرنے والی نہ ہوجائے‘مجھے عورتوں کی چیخیں سننے میں مزہ آتا ہے‘اسے جتنازیادہ درد ہوگا اتنا ہی چیخے گی اور مجھے اتنا ہی مزہ آئے گا اور میرا لن اتنی ہی بے رحمی سے اسے چودے گا‘ نومی نے ارشد کو ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا اس کی بات سن کر میرا پورا جسم ٹھنڈا ہوگیا اور میرے جسم کی دھڑکن مزید تیز ہوگئی لیکن اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی اب نومی نے ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑا اور دوسرا ہاتھ میری پیٹھ کے پیچھے سے آگے کی طرف لا کر پیٹ پر رکھ کر مجھے مضبوطی سے تھام لیااور اپنے لن پر دباو بڑھانے لگا لیکن میری گانڈ کا سوراخ بہت چھوٹا تھا اور اس میں بظاہر نومی کا لن جانا ناممکن دکھائی دے رہا تھا پھر بھی نومی اس کو زبردستی اندرکرنے کی کوشش کررہا تھا اب اس نے میرا ایک مما اپنے ہاتھ پکڑ کر اس کو زور زور سے دبانا شروع کردیا اس کو تو چھوڑ دو‘ میں تکلیف کے مارے اپنا مما اس کے ہاتھ سے چھڑانے لگی چل حرامی زادی اپنا ہاتھ پیچھے کر‘ نومی نے میری گانڈ پر ایک زور دار تھپڑ لگاتے ہوئے کہا جس سے میں تڑپ اٹھی لیکن اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور مزید کچھ نہ بولی نومی نے پھر میری گانڈ پر اپنے لن کا دباﺅ بڑھانا شروع کیا جس سے مجھے درد ہونے لگا کچھ دیر بعد درد کی شدت بڑھ گئی اور مجھے محسوس ہونے لگا کہ کوئی موٹا سا ڈنڈا میری گانڈ کے اندر گھسا جارہا ہے اورمیری گانڈ چھری سے چیری جارہی ہے اب میری چوت سے بھی پانی نکلنے لگا تھا پھر نومی نے ارشد کو اپنے پاس بلایا اور اسے کہا کہ اپنی رنڈی بیوی کی گانڈ مارنے کے لئے میری مدد کر تو اس طرح تھری سم بھی ہوجائے گااور تیری بیوی کی گانڈ میں میرا لن بھی چلا جائے گا ارشد نے میری کمر مضبوطی سے پکڑ لی اور نومی نے میری گانڈ میں اپنا لن پھر سے کھسانا شروع کردیا اب مجھے مزید درد ہونے لگا تھا مجھے لگا کہ اس کے لن کا کچھ حصہ میری گانڈ کے اندر چلا گیا ہے وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا اور میرے چوتڑوں پر ہلکے ہلکے سے تھپڑ مارنے لگا اس کے بعد اس نے ارشد سے کہا کہ چل اپنی بیوی کی چوت میں انگلی ڈال جس پر ارشد نے اسی حالت میں کھڑے کھڑے میری چوت میں اپنی انگلی ڈال کر اس کو اندر باہر کرنا شروع کردیا جس سے مجھے تھوڑا مزہ بھی آنے لگا جبکہ درد اسی شدت سے ہورہا تھا پھر چند سیکنڈ کے بعد نومی نے ارشد کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور اپنے لن کو تھوڑا سا پیچھے کر کے ایک زور دار جھٹکا دیا اور اس کا لن میری گانڈ کی مزید گہرائیوں تک چلا گیا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا نومی کے جھٹکے کے ساتھ ہی ارشد نے میری کمر پر اپنی گرفت بھی مضبوط کرلی تھی جس کے باعث میں بیڈ پر منہ کے بل گرنے سے بچ گئی تھی میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے نومی پلیز اس کو باہر نکالو میں مر جاﺅں گی پلیز اس کو نکالو مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے ‘ میں اپنے سر کو ادھر ادھر مارتے ہوئے چیخ رہی تھی لیکن نومی نے میری بات سنی ہی نہیں اور اپنے لن کو میری گانڈ کے اندر اسی حالت میں رکھ کر میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا اس کی ٹانگیں میرے چوتڑوں سے ساتھ نہیں لگ رہی تھیں جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کا پورا لن ابھی میری گانڈ میں نہیں گیا میں مسلسل چیخ رہی تھی جبکہ نومی کے کان پر جوں تک نہ رینگ رہی تھی میں نے خود کو آگے کرکے اس کا لن اپنی گانڈ سے نکالنے کی کوشش کی لیکن ارشد نے مجھے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا جس کی وجہ سے میں ہلنے کے قابل بھی نہ تھی چند لمحے رکنے کے بعد نومی نے پھر اپنے لن کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور ایک اور زور کا جھٹکا دیا اور اس کا لن میری گانڈ کو چیرتا پھاڑتا اور تباہی مچاتا جڑ تک اندر گھس گیا میں درد کی شدت سے رونے لگی تھی میں نے دو تین بار ارشد کو بھی کہا کہ مجھے چھوڑ دو لیکن اس نے بھی میری بات نہ سنی جبکہ نومی تو پہلے ہی کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا نومی پلیز اس کو باہر نکال لو یہ اژدھا مجھے مارڈالے گا مجھ پر رحم کرو تمہیں تمہاری ماں کی قسم ‘ میں مسلسل چیخ رہی تھی لیکن نومی نے میری بات نہ سنی اور اپنے لن کو میری گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا مجھے لگ رہا تھا کہ اس کا لن میری گانڈ سے اندر گھسا ہے اور ابھی اندر چیر پھاڑ کرتا ہوا پھدی کے راستے باہر نکل آئے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نومی کی حرکت جاری رہی جبکہ میں مسلسل چیخ رہی تھی میری چیخوں کے ساتھ ساتھ نومی کے جھٹکوں کی رفتار بھی بڑھتی جارہی تھی اور ارشد کی پکڑ بھی مزید مضبوط ہورہی تھی اب نومی پھر پہلے کی طرح بڑی برق رفتاری سے میری گانڈ کے اندر باہر کررہا تھا میری تکلیف کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی تھی میں مسلسل چیخ رہی تھی جبکہ نومی اپنے کام میں مگن تھا اس کو میری چیخوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی تقریباً پندرہ منٹ تک اسی رفتار سے چدائی کے بعد نومی نے اپنا پورا لن میری گانڈ کے اندر کیا اور ارشد کو پیچھے دھکیل کر میری کمر مضبوطی سے پکڑ لی اس کا لن میری گانڈ کے اندر جاتے ہی ہلکے ہلکے سے جھٹکے لینے لگا پھر ایک دو تین اس نے زور زور سے دو تین جھٹکے لئے اور اس کے لن سے نکلنے والا گرم لاوہ میرے پورے جسم میں پھیل گیا چند لمحے کے بعد نومی نے اپنا لن میری گانڈ سے نکال لیا اور مجھے چھوڑ دیا میں اسی لمحے منہ کے بل بیڈ پر گر گئی میری ٹانگیں بیڈ کے نیچے جبکہ دھڑ بیڈ کے اوپر تھا میرا جسم بالکل بے جان ہوچکا تھا جبکہ میری گانڈ سے اس کے لن سے نکلنے والا مادہ رس کر قطرہ قطرہ باہر آرہا تھا میں کچھ دیر تک ایسے ہی رہی نومی اور ارشد آپس میں کچھ بات چیت کررہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کیا باتیں کررہے ہیں چند منٹ بعد مجھے نومی اور ارشد دونوں نے پکڑ کر سیدھا کیا اور باتھ روم کے دروازے پر لاکھڑا کیا نومی یہاں مجھے چھوڑ کر واپس بیڈ پر جابیٹھا اور ارشد نے مجھے باتھ روم کے اندر کیا اور پانی سے میری گانڈ دھونے لگا جیسے ہی پانی میری گانڈ کو لگا مجھے ایک دم درد کی ٹیس سی اٹھی اور میں چلا اٹھی میں نے اپنا ایک ہاتھ گانڈ پر لگایا تو میری گانڈ کھلی ہوئی تھی اس کے اندر دو تین انگلیاں آسانی سے جاسکتی تھیں ارشد نے میری گانڈ دھو کر تولیے سے صاف کی اور اسی طرح میری گانڈ پر تولیہ رکھے ہوئے مجھے پکڑ کر باہر لاکر بیڈ پر لٹا دیا مجھے نہیں ہوش رہا کہ میں کہاں ہوں اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے جیسے بے ہوش ہوگئی ہوں مجھے ہوش اس وقت آیا جب ارشد مجھے مموں سے پکڑ کر ہلا رہا تھا میں نے آنکھ کھولی تو پوری ننگی بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور میرے جسم پر کمبل پڑا ہوا تھا میرا جسم بری طرح گرم تھا اور میں اپنے جسم میں بہت زیادہ کمزوری محسوس کررہی تھی ارشد ہاتھ میں دودھ کا گلا س پکڑے کھڑا تھا چلو جلد ی سے اٹھ کر کپڑے پہن لو‘ رام لال اور ارم آرہے ہیں‘ میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن مجھ سے اٹھا نہ گیا ارشد نے گلا س بیڈ کے پاس ٹیبل پر رکھا اور مجھے پکڑ کر سیدھا کیا مجھے اپنی گانڈ میں ابھی بھی تکلیف ہورہی تھی میں نے اپنے ہاتھ سے گانڈ کو چھوا تو اس کے اوپر تولیہ لگا ہوا تھا میں نے تولیہ باہر نکال کر دیکھا تو اس پر بہت سا خون لگا ہوا تھا میں نے تولیہ بیڈ کے نیچے پھینک دیا اور پھر اپنا ہاتھ گانڈ کی طرف لے گئی میری گانڈ سوجھی ہوئی تھی پھر میں نے محسوس کیا کہ میری چوت کے اندر بھی جلن ہورہی ہے میں نے اپنی چوت کو ہاتھ لگا یا تو وہ بھی سوجی ہوئی تھی گانڈ میں اتنی درد ہورہی تھی کہ مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا تھا خیر میں نے اٹھ کر کپڑے پہنے اور پھر بیڈ پر لیٹ گئی ارشد نے پکڑ کر مجھے سیدھا کیا اور دودھ کا گلاس میرے منہ کو لگا دیا میں نے دودھ پیا اور پھر لیٹ گئی کچھ دیر بعد ارم اور رام لال بھی آگئے ہائے میں مرجاﺅںکیا ہوگیا آشا تم کو ‘ ارم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا اور دوڑتے ہوئے میرے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا لیکن اس کو دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے میں نے اپنے چہرے کودوسری طرف موڑ لیا اس نے میرا چہرہ اپنی طرف کیا اور پھر مجھ سے پوچھنے لگی جبکہ رام لال بھی پریشان ہوگیا اور وہ بھی بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا میں کچھ نہ بولی تو دونوں نے ارشد سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ارشد نے ان کو تمام واقعہ سے آگاہ کیا لیکن اس نے رات کو ہونے والے واقعہ میں سے کئی ”راز کی باتیں“ چھپا لیں اور ان دونوں کو نہ بتائیں پھر دونوں ارشد کو کوسنے لگے میں آنکھیں بند کئے لیٹی رہی میری آنکھوں سے آنسو خود بخود نکل رہے تھے تھوڑی دیر کے بعد ارم نے کافی بنائی اور سب نے میرے پاس بیٹھ کر پی کافی پینے کے بعد رام لال نے مجھے چلنے کو کہا میں اٹھنے لگی تو ارم نے مجھے روک دیا اور کہنے لگی کہ تم دو تین دن ادھر ہی رہو ٹھیک ہوجاﺅ گی تو چلی جانا پھر ارشد نے رام لال سے بھی کہا کہ وہ دو تین دن ادھر ہی رہ جائے جس پر ہم دونوں مزید تین دن ادھر ہی رہے رام لال صبح سویرے آفس نکل جاتا اور شام کو ادھر ہی آجاتا ارم کو تو مینسز ہوئے تھے جبکہ میں ویسے ہی اس قابل نہ تھی کہ کچھ کرسکتی جس پر ان تین دنوں میں چاروں کپڑے اتار کر اکٹھے ایک ہی بیڈ پر لیٹتے رہے اور ایک دوسرے کے جسم سے چھیڑ خانی کرتے رہے لیکن اس دوران کسی نے باقاعدہ سیکس نہ کیا چوتھے روز صبح سویرے رام لال مجھے لے کر گھر آگیا اب کچھ حالات اور واقعات ارم کی زبانی جانتے ہیں میں اور رام لال آصف کو لے کر گاڑی میں لانگ ڈرائیو پر چلے گئے راستے میں ایک ہوٹل پر بیٹھ کر ہم لوگوں نے تھوڑی دیر گپ شپ کی اس دوران مجھے آصف بہت اچھا اور سلجھا ہوا لگا میرے دل میں خواہش پیدا ہوگئی کہ آصف کو بھی اس “گیم” میں شامل کرنا چاہئے تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد ہم لوگ گاڑی میں آبیٹھے اور چل پڑے میں گاڑی ڈرائیو کررہی تھی جبکہ رام لال میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا آصف بیک سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار عقبی شیشے سے آصف کی طرف دیکھ رہی تھی اور کچھ دیر بعد رام لال کو بھی دیکھ لیتی کہ اس کا دھیان کس طرف ہے جبکہ رام لال گاڑی میں میری طرف ہی دیکھ رہا تھا رام لال نے جیسے میرے دل کی بات بوجھ لی تھی راستے میں جاتے جاتے بار بار اشاروں میں مجھ سے آصف کے بارے میں پوچھتا جارہا تھا لیکن میں ہر بار مسکرا کر چپ رہتی کیوں نہ تینوں گھر چلیں وہاں جاکر گپ شپ کریں گے‘ رام لال نے راستے میں آصف سے پوچھا جیسے آپ کی مرضی‘ آصف نے جواب دیا اگر رات ہماری طرف ٹھہر جاﺅ تو کوئی حرج تو نہیں‘ رام لال نے آصف سے پوچھا نہیں کوئی حرج نہیں میں گھر میں فون کردیتا ہوں‘ آصف نے جواب دیا اور پھر اس نے اپنے موبائل سے کال کرکے اپنے گھر والوں کو کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ ہے اور رات اس کے پا س ہی ٹھہرے گا صبح گھر آجائے گا پھر فون رکھ کے رام لال کی طرف دیکھنے لگا رام لال نے مجھے گھر کی طرف موڑنے کے لئے کہا اور میں نے ایسا ہی کیا کچھ دیر بعد ہم لوگ گھر پہنچ گئے اور سیدھے بیڈ روم میں چلے گئے میں اس طرح سب سے آگے چل رہی تھی جیسے کہ یہ میرا اپنا گھر ہو مجھے اس گھر میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہورہی تھی اور نہ ہی مجھے غیر محرم مردوں کے ساتھ کسی غیر جگہ پر اکیلے جانے پر کوئی ڈر محسوس ہورہا تھا میں اپنی اس بے باکی پر خود بھی حیران تھی خیر ہم لوگ بیڈ روم میں چلے گئے بیڈ روم میں جاتے ہی میں نے برقعہ اتار دیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی رام لال بھی بیڈ پر آگیا جبکہ آصف پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
  6. ارم تم ٹی وی لگا کر دیکھو میں ٹوائلٹ سے ہوکر آتا ہوں‘ رام لال کمرے میں داخل ہوتے ہی باتھ روم کی طرف بڑھ گیا میں نے کمرے میں پڑا ٹی وی آن کیا ایک دو چینل بدلی کئے مگر وہی گھسے پٹے گانے‘ فلاپ فلمیں اور خبروں کے چینل تھے جن کو دیکھ دیکھ کر میں اکتا چکی تھیمیں نے ٹی وی بند کردیا اور صوفے پر بیٹھ گئی ٹی وی کیوں نہیں لگایا‘ رام لال نے ٹی وی بند دیکھ کر مجھ سے پوچھا ٹی وی پر کیا ہے وہی پرانے گھسے پٹے گانے‘ فلاپ فلمیں اور خبروں کے چینل اسے بند ہی رہنے دو‘ میں نے جواب دیا تم تھوڑا فریش ہوجاﺅ میںکوئی اچھی سی سی ڈی لگاتا ہوں‘ رام لال نے مجھے کہا اور میں اٹھ کر باتھ روم چلی گئی منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آئی تو ٹی وی پر بلیو فلم چل رہی تھی جس میں ایک نوعمر لڑکی ایک عمر رسیدہ شخص کے لن کو منہ میں ڈالے آگے پیچھے ہورہی تھی میں بلیو فلم دیکھ کر ٹھٹھک گئی کیا ہوا ادھر آﺅ تم کو فلاپ فلمیں اور گھسے پٹے گانے اچھے نہیں لگتے میں نے تمہاری پسند کی چیز لگا دی ہے رام لال جو سی ڈی لگا کر ٹی وی سے پیچھے ہٹ رہا تھا پکڑ کر مجھے بیڈ پر لے گیا اور ہم دونوں بیڈ پر بیٹھ گئے جیسے جیسے فلم دیکھ رہی تھی ویسے ویسے میرے اندر ایک آگ سی جل رہی تھی پہلے ہی ریسٹورنٹ میں پیش آنے والے واقعہ سے میں بہت اپ سیٹ ہوچکی تھی اور میرا دل کررہا تھا کہ کوئی جم کر میری چدائی کرے گھر آکر میرا دل بھی کیا کہ میں رام لال سے کہوں کہ دوسرے کام چھوڑو اور پہلے ”مطلب“کاکام کریں لیکن روائتی ہچکچاہٹ کی وجہ سے میں اس کو نہ کہہ سکی اوپر سے بلیو فلم نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور میرے اندر شہوت کی آگ مزید بھڑکنے لگی میں بلیو فلم میں اتنا مگن ہوگئی تھی کہ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ فلم کی ہیرﺅئن میں ہوں اور بڈھا اس لڑکی کو نہیں مجھے چود رہا ہے فلم دیکھتے دیکھتے رام لال نے اپنا ایک ہاتھ میرا کندھے پر رکھا اور میرا منہ اپنی طرف موڑ لیا اور میرے ہونٹوں پر کس کرنے لگا میں نے اپنے جسم کو مکمل طورپر ڈھیلا چھوڑ دیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیںوہ میرے ہونٹوں کو مسلسل چوس رہا تھا پھر اس نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میں نے اس کو چوسنا شروع کردیا مجھے اس کی زبان چوسنے میں عجیب سی لذت محسوس ہورہی تھی اچانک اس نے اپنی زبان میرے منہ سے نکال لی اور میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اس نے میری زبان چوسنا شروع کردی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ ٹی وی پر چل رہی فلم کی ہیروئن کی چدائی شروع ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ آہیں بھرنے لگی تھی جس سے میرا جوش مزید بڑھ گیا رام لال نے میری زبان چوسنا بند کی اور میری ٹی شرٹ میرے بدن سے اتار دی اور پھر مجھے لٹا کر میرا ٹراﺅزر بھی اتار دیا میں نے اپنی آنکھیں مسلسل بند کررکھی تھیں ٹی وی پر مسلسل بلیو فلم چل رہی تھی رام لال نے میرے اوپر جھک کر ایک بار پھر میرے ہونٹوں کی کسنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور اپنا منہ اوپر کر کے میرے مموں پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا میں مزنے سے آہیں بھر رہی تھی پھر اس نے میرے ایک ممے کے نپل پر اپنی زبان پھیرنا شروع کردی اور دوسرے ممے پر مسلسل اپنا ہاتھ پھیر رہا تھا اس نے پھر دوسرے ممے کے نپل کو چوسنا شروع کیا اس نے میرے نپل پر ہلکی سی کاٹی کردی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ایسا نہ کرو مجھے درد ہوتا ہے‘ میں نے ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھیں کھولیں اور پھر بند کردی رام لال نے میری بات کو کوئی ترجیح نہ دی اور اپنے کام میں مگن رہا وہ مما چوستے چوستے کبھی کبھی میرے ممے پر اپنے دانتوں سے کاٹ بھی لیتا جس سے مجھے درد کے ساتھ عجیب سا مزہ بھی آرہا تھا اس کے بعد اس نے اپنا چہرہ تھوڑا سا نیچے کیا اور میرے پیٹ پر کسنگ کرنے ہوئے اپنے ہونٹ میری ناف تک لے آیا اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگایہ بھی ایک عجیب سا مزہ تھا جس سے میں آج تک نا آشنا تھی اس کے بعد وہ اٹھ کر سیدھا ہوا اور میری ٹانگوں کو کھول کر ان کے درمیان میں آگیا میں سمجھی کہ اب چدائی شروع کرنے لگا ہے لیکن مجھے کیا معلوم کہ ”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں“ اس نے میری ٹانگوں کو مزید کھلا کیا اور تھوڑا سا جھک کر اپنی زبان کو میری پھدی کے ہونٹوں پر پھیرنے لگا مجھے ایسے لگا جیسے کہ کسی نے مجھے 440 وولٹ بجلی کا جھٹکا دیا ہو میں ایک دم سے پیچھے ہو گئی اور رام لال کا منہ میری پھدی سے دور ہوگیا میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھنے لگی تو اس نے میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا ہوا یہ سب کیا ہے‘ میں نے اس سے پوچھا کچھ نہیں تم بس انجوائے کرو‘ اس نے جواب دیا میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ ابھی تک رام لال نے جو بھی کچھ کہا ہے اس سے مجھے بہت زیادہ مزہ آیا ہے اب بھی دیکھتی ہوں کہ کیا مزہ آتا ہے یہ سوچ کر میں نے اپنی آنکھیں پھر سے بند کرلیں اور رام لال نے اپنی انگلیوں سے میری پھدی کے ہونٹوں کو چھوا اور پھر سے ان پر زبان پھیرنے لگا مجھے پہلے تو بہت عجیب سا فیل ہوا لیکن چند لمحوں میں ہی میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئی رام لال اب میری پھدی کے اندر اپنی زبان کو داخل کرکے اس کو اندر باہر کررہا تھا اور میں مزے سے اپنے سر کو بستر پر ادھر ادھر مار رہی تھی میں نے اپنے دونوں ہاتھوںسے رام لال کے سر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس کو اپنی پھدی کے اندر مزید دھکیل رہی تھی اچانک میرا جسم اکڑنے لگا اور پھر چند لمحے بعد میرے جسم کو دوتین جھٹکے لگے اور میرے پھدی نے پانی کا ایک چھینٹا مارا اور میں فارغ ہوگئی میری پھدی سے نکلنے والا پانی رام لال کے منہ پر ہی گرا تھا میرے فارغ ہوتے ہی رام لال میرے ساتھ آکر لیٹ گیا اور آہستہ سے مجھے کہنے لگا اب تمہاری باری ہے
  7. Part 2 اس سے آگے یہ کہانی آپ ارم کی زبانی سنیں گے پہلی بار سیکس کے بعد میں رام لال جی کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی میں نے پہلی بار اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ سیکس کیا تھا اور میں نے رئیل میں اس کو انجوائے کیا تھا ارشد کے ساتھ سیکس ایک روٹین بن کر رہ گیا تھا آج میری سیکس لائف میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی تھی جسے میں ابھی تک محسو س کررہی تھی اور شائد آئندہ بھی ساری عمر اس کو محسوس کرتی رہوں چند گھنٹے پہلے میں کافی زیادہ نروس تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میں ایسا کروںلیکن ارشد کی طرف سے علیحدگی کی دھمکیوں کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑا اس سے پہلے کبھی میرے ذہن میں خیال بھی نہیں آیا تھاکہ میں کسی اور کے ساتھ اس حد تک آگے جاوں گی لیکن آج میں نے اس کو بہت زیادہ انجوائے کیا تھا میں اس کی چھاتی کے بالوں سے کھیل رہی تھی اور مجھے ایک مرتبہ پھر سے اپنے جسم میں تناﺅ محسوس ہونے لگا میں نے رام لال کے لن کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا دوچار منٹ میں رام لال کا لن بھی تناﺅ میں آنے لگا میں تھوڑا شرما بھی رہی تھی کہ ارشد اور آشا بھی ہمارے ساتھ موجود تھے میں سوچ رہی تھی کہ میں نے دوبارہ سے خود رام لال کے ساتھ سیکس کے لئے اس کو تیار کیا تو ارشد کیا سوچے گا کہ پہلے تو یہ مانتی نہیں تھی اب خود کررہی ہے جب رام لال کے لن نے حرکت شروع کی تو آشا نے جو ارشد کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی ارشد کی توجہ ہماری طرف مبذول کروائی دیکھو دونوں پھر سے تیار ہورہے ہیں ‘آشا کی بات سن کر میراہاتھ چلتے چلتے رک گیا جبکہ دونوں ہنسنے لگے اور میں شرم سے پانی پانی ہوگئی میرا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہورہا تھا جبکہ کان بھی لال ہوگئے تھے مجھے شرمندہ ہوتے دیکھ کر آشا اٹھ بیٹھی اور کہنے ارشد آئیے ہم دونوں دوسرے کمرے میں چلتے ہیں ارم شائد گھبرا رہی ہے ان دونوں کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں جس پر ارشد بھی اٹھ گیا اور دونوں کمرے سے باہر چلے گئے ان دونوں کے کمرے سے چلے جانے کے بعد میں نے پھر سے رام لال کے لن کو مساج کرنا شروع کردیا جس پر رام لال کا لن پھر سے کھڑا ہوگیا ایک دم میرے ذہن میں خیال آیا کہ لن کو چوسنے میں بھی یقینا بہت مزہ آتا ہوگا میں بھی ایک بار کرکے دیکھتی ہوں ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ رام لال نے تھوڑا اوپر ہوکر مجھے کسنگ شروع کردی میں نے اپنا منہ تھوڑا پیچھے کیا اور کہا کہ لائٹ آف کردوں کیوں کیا ہوا کچھ نہیں تو لائٹ کیوں آف کرنی ہے ‘ رام لال نے استفسار کیا بس ایسے ہی مجھے شرم محسوس ہوتی ہے‘ میری بات سن کر رام لال تھوڑاسامسکرایا اور کہنے لگا کہ کردو میں اٹھی لائٹ اور کمرے کا دروازہ بند کرکے پھر آکر بیڈ پر لیٹ گئی میں نے پھر سے رام لال کا لن ہاتھ میں پکڑ کر اس کو سہلانا شروع کردیا اور سوچ رہی تھی کہ رام لال کا لن منہ میں لے کر چوسوںیا نہیں کہ رام لال نے مجھے کسنگ شروع کردی میں نے اپنی آنکھیں بند کردیں اور اس کا ساتھ دینے لگی پھر میں نے اپنا منہ تھوڑا سا پیچھے کیا اور رام لال کی گردن اور پھر کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگی پھر میں تھوڑا سا نیچے ہوئی اور رام لال کی چھاتی پر اپنا منہ لے آئی ابھی کچھ کرنے ہی والی تھی کہ کمرے کی لائٹ آن ہوگئی میں ایک دم پیچھے ہوگئی دیکھا تو ارشد اور آشا دروازے پر کھڑے ہنس رہے تھے میں نے شرم کے مارے اپنا منہ رام لال کی چھاتی میں چھپانے کی کوشش کی اور ایک ہاتھ سے بیڈ شیٹ اپنے اوپر لینے لگی تو ارشد بول پڑا رک کیوں گئی کرتی رہوں اب شرم کس بات کی ہے نہیں یار اب رہنے دو اب میرا بھی دل نہیں کررہا باقی کا پروگرام نیکسڈ میٹنگ پر رکھتے ہیں ‘ رام لال نے کہا نہیں اگر آپ لوگ کہو تو ہم کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں‘ ارشد نے کہا نہیں آپ لوگ آجاﺅ اب میرا من چائے پینے کو کررہا ہے‘ رام لال کہنے لگا آپ لوگ اپنا کام جاری رکھوآشا اور میں چائے تیار کرتے ہیں‘ ارشد نے کہا اور آشا کا بازو پکڑ کر کمرے کا دروازہ بند کرکے کچن کی طرف چل دیئے مگر میں نے ان کے جانے کے بعد پھر سے اپنا کام سٹارٹ کرنے کی بجائے اٹھ کر کپڑے پہننا شروع کردیئے کیا ہوا‘ رام لال نے مجھے کپڑے پہنتے دیکھ کر استفسار کیا کچھ نہیں اب اور کچھ نہیں کرنا میں بہت تھک گئی ہوں‘ میں نے جواب دیا میری بات سن کر رام لال بھی اٹھا اور کپڑے پہننے لگا میں کپڑے پہن کر باتھ روم چلی گئی اور فوری طورپر باتھ لے کر باہر آئی تو رام لال کمرے میں موجود نہیں تھا میں کمرے سے باہر نکلی تو مجھے ڈرائنگ روم سے بولنے کی آوازیں آئیں میں ڈرائنگ روم میں گئی تو وہاں ارشد اور آشا بالکل ننگے جبکہ رام لال کپڑے پہنے بیٹھا ہوا تھا میں بھی ان کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی اورچائے پینے لگی چائے کے بعد رام لال نے کہا کہ اب ہم لوگ چلتے ہیں جس پر آشا اور ارشد نے بھی کپڑے پہنے اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے جبکہ میں اور ارشد کمرے میں آکر لیٹ گئے کیوں انجوائے کیا‘ ارشد نے مجھ سے کہاتو میں جواب میں بالکل چپ رہی میں پوچھ رہا ہوں کہ انجوائے کیا یا نہیں ‘ ارشد نے میرا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو میں نے سر ہاں میں ہلا دیا جس پر ارشد مسکرا دیا اور پھر ہم لوگ سو گئے چار پانچ دن بعد ایک روز دوپہر کے وقت مجھے فون آیا میں نے فون اٹینڈ کیا تو دوسری طرف آشا تھی ہیلو ۔۔۔ارم ہاو آر یو آئی ایم فائن‘ اس دن تم نے کیسا فیل کیا اچھا فیل کیا اور تم نے صرف اچھا یا بہت اچھا ‘ میں نے تو بہت ہی اچھا فیل کیا تھا میں تو ایک بار پھر کرنے کا سوچ رہی ہوں ‘ میں اس کی بات سن کر چپ ہوگئی تو اس نے مجھے بتایا کہ رام لال نے مجھے کہا ہے کہ اب نیکسٹ پروگرام کب کا بنائیںاس لئے میں نے فون کیا ہے ‘ میں اب بھی خاموش تھی جس پر اس نے مجھے ایک بار پھر پوچھا تو میں نے کہا کہ ارشد سے بات کرلیں تو اس نے ٹھیک ہے کہ کر فون بند کردیا شام کو ارشد گھر آیا تو اس نے بتایا کہ رام لال اور آشا کا فون آیا تھا وہ دوبارہ پروگرام بنانے کا کہہ رہے تھے تو تم کیا کہتی ہو میں نے کہا جو مرضی کرلیں ‘ مجھے اس کی بات سن کر بہت خوشی ہورہی تھی اس نے کہا کہ دو دن بعد مجھے تین دن کے لئے اسلام آباد جانا ہے سوچ رہا ہوں کہ آشا کو ساتھ لے جاﺅں اور تم ان دنوں میں رام لال کے ساتھ وقت گزارنا ، میں نے اس کی بات کاکوئی جواب نہ دیا تو اس نے فوری طورپر رام لال کو فون ملادیا اور اس کو پروگرام سے آگاہ کردیا پھر شائد فون پر آشا تھی ارشد نے پھر سے اپنے پروگرام کے بارے میں بتایا تو دوسری طرف سے اوکے ہوگیا جس پر اس نے مزید دو تین منٹ بات کی اور فون بند کرکے مجھے کسنگ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ پروگرام فائنل ہوگیا ہے پرسوں ہم لوگ اسلام آباد کے لئے فلائی کرجائیں گے اور تم کل رام لال کو فون کر کے اپنا پروگرام سیٹ کرلینا اس کے بعد ہم لوگ بستر پر آگئے اور ہم دونوں نے ایک بھرپور قسم کا سیکس کیا لیکن مجھے وہ مزہ نہیں آیا جو رام لال کے ساتھ کرنے میں آیا تھا اگلے روز مجھے دوپہر کو رام لال کا فون آیا اور اس نے مجھے پوچھا کہ کیا پروگرام ہے تو میں نے اس سے کہا کہ جو مرضی آپ بنالیں تو کہنے لگا کہ پھر تین دن کے لئے تم میرے گھر آجانا میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے پھر دو چار ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد فون بند ہوگیا اگلے روز شام کو آشا اور رام لال ہمارے گھر آئے اور پھر ہم چاروں رام لال کی گاڑی میں آشا اورارشد کو ائیر پورٹ چھوڑ کر سیدھا رام لال کے گھر چلے گئے
  8. اس نے حامی بھر لی تو میں خوش ہوگیا اس رات ہم نے دو بھرپور سیشن کئے اور ہم دونوں کی گرم جوشی میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا سیکس کے بعد لیٹے لیٹے میں سوچنے لگا کہ اس کام کے لئے کس کو منتخب کیا جائے اب میرا امتحان تھا کسی بھی شخص کے ساتھ ایسی بات کرنے کا مطلب اپنی بدنامی تھا بہت سوچ بچار کے بعد اگلے روز میں نے ایک سیکسی سٹوریوں کی ویب سائٹ پر فرضی نام سے Gang Bng کے لئے جوڑوں کو دعوت دی تو کئی لوگوں نے مجھے کنٹیکٹ کیا میں نے آشا کے ساتھ مل کر کراچی کے ہی ایک بزنس مین ارشد کو منتخب کیا اور اس سے میل پر رابطہ کیا اگلے روز اس کا جواب آیا اور اس نے ملنے کو کہا میں نے پہلے اس سے کہا کہ وہ اپنی تصویریں مجھے SEND کرے تو اس نے اگلے روز مجھے اپنی اور اپنی بیوی کی تصویریں میل کردیں ان تصویروں میں چہرے واضح نہیں تھے اب اس نے بھی مجھ سے تصویرں مانگیں تو میں نے بھی اس کو چہرے دھندلے کرکے تصویریں میل کردیں اس کے بعد اس نے اپنا فون نمبر مجھے میل کیا میں نے بازار سے ایک نئی سم خریدیں اور اس سے اس کو فون کیا فون پر اس سے بات چیت ہوئی اور اگلے روز اس سے ہوٹل میں ملاقات کا وقت طے ہوگیا میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ میں لے کر آئے میں بھی لے آوں گا تو اس نے حامی بھر لی اگلے روز شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں ہم چاروں کی ملاقات ہوئی پہلے میں نے اپنی بیوی آشا کا ان دونوں سے تعارف کروایا اور پھر اس نے اپنی بیوی ارم کے بارے میں ہمیں بتایا ارم نے برقعہ پہن رکھا تھا اور اس کا رنگ صاف گورا چٹا ‘ قد درمیانہ تھا برقعے کی وجہ سے اس کی فگر نظر نہیں آرہے تھے میں نوٹ کررہا تھا کہ آشا اور ارم دونوں نگاہیں نیچی کئے بیٹھی تھیں جبکہ میں اور ارشد آپ میں ادھر ادھر کی باتیں کررہے تھے ارشد بار بار آشا کو دیکھ رہا تھا جبکہ میں ارم کو ‘ کھانے کے بعد ہم لوگوں نے طے کیا کہ کسی دوسرے ریسٹورنٹ میں جاکر چائے پی جائے اور ایک گاڑی میں دونوں خواتین جبکہ دوسری گاڑی میں ہم دونوں مرد جائیں گے آشا اورارم نے چپ چاپ ہاں میں سر ہلایا اور ایک گاڑی میں بیٹھ گئیں آشا ڈرائیونگ سیٹ پر جبکہ ارم اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی جبکہ دوسری گاڑی کو ارشد چلا رہا تھا اور میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا راسے میں ارشد نے بتایا کہ ارم بیڈ پر بہت سیکسی ہے لیکن Gang Bang کے لئے تیار نہیں تھی بڑی مشکل سے تیار کیا ہے میں نے بھی اسے بتایا کہ آشا بھی بڑی مشکل سے مانی ہے ہم لوگوں نے طے کیا کہ دو دن بعد ویک اینڈ ہے اس روز ہم لوگ ارشد کے گھر آئیں گے تھوڑی دیر بعد ہم لوگ ایک ہوٹل پر پہنچے جہاں ہم نے چائے پی اس دوران دونوں خواتین آپس میں کبھی کبھی ادھر ادھر کی بات کررہی تھیں اس کا مطلب تھا کہ گاڑی میں دونوں آپس میں کسی حد تک گھل مل گئی ہیں واپسی پر میں نے تجویز دی کہ آشا ارشد کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے گی اور ارم میرے ساتھ میری تجویز پر آشا نے غصے سے میری طرف دیکھا لیکن بولی کچھ نہ میں نے اس کو آنکھ سے اشارہ کیا تو وہ تھوڑا شانت ہوگئی جبکہ دوسری طرف ارم نے بھی ارشد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ہاں ہاں یہ ٹھیک رہے گا پروگرام کے مطابق پہلے ہم نے ارشد وغیرہ کے گھر جانا تھا اس کے بعد میں اور آشا اپنے گھر چلے جاتے میں پہلے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ارشد نے فرنٹ ڈور کھول کر ارم کو بیٹھنے کی دعوت دی ارم نے ایک بار پھر ارشد کی طرف دیکھا اور پھر جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی میں نے گاڑی چلا دی اور پیچھے ارشد کے ساتھ آشا گاڑی میں آرہی تھی راستے میں ارم مسلسل گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی اس کے دونوں ہاتھ اس کی گود میں تھے میں نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے اس کو کہا آپ بہت خوب صورت ہیں آشا کی نسبت آپ کا چہرہ بہت ہی خوب صورت ہے جی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک دم سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا میں نے کہا ہے کہ آپ بہت خوب صورت ہیں “ وہ میری بات سن کر خاموش رہی اور نیچے دیکھنے لگی میں نے اس کو پھر مخاطب کیا اور پوچھا کہ آپ کی گھر میں کیا مصروفیت ہے تو کہنے لگی کچھ خاص نہیں بس تھوڑا بہت گھر کا کام کاج کرکے ٹائم گزارتی ہوں آپ کی آشا کے ساتھ بات چیت ہوئی آپ کو کیسی لگی آشا اچھی ہے اور آپ بھی بہت اچھی ہیں وہ پھر خاموش ہوگئی اب میں نے اپنا ایک ہاتھا اس کے ہاتھ پر رکھ کر تھوڑا دبایا تو اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہورہا تھا اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن پھر مزاحمت ترک کردی وہ مسلسل اپنے پاوں کی طرف دیکھ رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو بھی اس نے نگاہیں نیچی ہی رکھیں میں گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا جبکہ میری گاڑی کے پیچھے پیچھے ارشد بھی آہستہ آہستہ آرہا تھا میں نے ایک دو بار ارم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی بھی جواب نہ دیا جس پر میں سمجھ گیا کہ ابھی شرمندگی سے چپ ہے خیر تھوڑی دیر بعد ارشد کا گھر آگیا میں نے ارم کو ڈراپ کیا اور آشا دوسری گاڑی سے اتر کر میرے ساتھ آبیٹھی راستے میں آشا چپ چپ رہی میں نے ایک دو بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا گھر جاکر بھی آشا چپ چاپ بیڈ پر جالیٹی میں نے اس کو بلایا تو کہنے لگی رام۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کچھ نہیں ہوگا میں تمہارے ساتھ ہوں نہیں رام۔۔۔ یہ سب غلط ہے مجھ سے نہیں ہوگا پلیز کچھ بھی غلط نہیں ہے میری بات سن کر آشا چپ ہوگئی میں نے اس کو تیار کرنا چاہا تو اس نے پہلے سرد مہری دکھائی لیکن پھر تیار ہوگئی اس رات میں نے اس کو کہا کہ وہ ارشد کو ذہن میں رکھ کر کرے تو وہ پہلے انکار کرنے لگی پھر مان گئی اور دوران سیکس ارشد کو پکارنے لگی اس رات بھی ہم لوگوں نے دو بھرپور سیشن کئے اور دو دن بعد میں آفس سے جلدی گھر آگیا اور آشا کو تیار ہونے کو کہا تو ایک بار پھر سے آشا نے کہا کہ اس سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا لیکن میرے اصرار پر چپ چاپ باتھ روم میں گھس گئی میں اسے یہ کہہ کر کہ بازار جارہا ہوں باہر نکل گیا جب واپس آیا تو آشا پنک کلر کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی اس نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور غضب ڈھا رہی تھی پہلے میرا دل کیا کہ پروگرام جائے بھاڑ میں پہلے میں آشا کے ساتھ کچھ کرلوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ بڑی مشکل سے مانی ہے کہیں آڑ نہ جائے میں نے اس سے پوچھا کہ چلیں تو کہنے لگی رام ایک بار پھر سوچ لو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ڈر کیسا میں بھی تو تمہارے ساتھ ہوں میری بات سن کر وہ چپ چاپ باہر کو چل دی اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ ارشد کے گھر پہنچ گئے گاڑی کے ہارن پر ارشد نے دروازہ کھولا اور ارم اس کے ساتھ کھڑی تھی ارم نے ریڈ کلر کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور قیامت ڈھا رہی تھی میں نے گاڑی پورچ میں پارک کی ارشد نے آشا کی طرف والا دروازہ کھولا اور آشا گاڑی سے باہر نکل آئی اس نے آشا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر ارم نے اسے گلے لگایا اور پھر میں ارشد اور ارم سے ملا ہم چاروں ڈرائنگ روم میں چلے آئے جہاں ایک صوفے پر میں اور آشا جبکہ سامنے والے پر ارشد بیٹھ گیا ارم چائے وغیرہ لینے کچن میں چلی گئی تھوڑی دیر بعد چائے اور بسکٹس وغیرہ لے کر آگئی اور سب کو چائے سرو کرنے کے بعد ارشد کے ساتھ بیٹھنے لگی تو ارشد نے اس کو کہا کہ سامنے رام جی کے ساتھ بیٹھ جاو اور آشا آپ میرے ساتھ ادھر صوفے پر آجاو “ اس نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میں نے بھی اس کی بات کی تائید کی ارم نے ارشد اور آشا نے میری طرف دیکھا اور پھر دونوں نے ایک دوسری کی جگہ لے لی چاروں نے مل کر چائے پی اور پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد ارشد نے آشا سے کہا کہ ہم دونوں تھوڑی دیر باہر تازہ ہوا کھالیں اتنی دیر رام جی ارم کے ساتھ باتیں کرتے ہیں آشا نے میری طرف دیکھا تو میں نے ہاں میں اشارہ کردیا آشا جھجکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ارشد نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال لیا اور دونوں باہر چلے گئے جبکہ ارم ان کو دیکھتی رہی ان کے جانے کے بعد میں نے ارم کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اس کو نزدیک کیا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور چہرہ اپنی طرف کرلیا ارم بدستور نگاہیں نیچی کئے ہوئے دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ اور کان شرم کے مارے سرخ ہورہے تھے میں نے اس کو ہونٹوں پر کس کیا پہلے اس نے اپنے ہونٹ بھنچ لئے لیکن میںنے کو کس کرتا رہا پھر اس نے اپنے ہونٹ ڈھیلے چھوڑ دیئے اور میں نے اس کا نیچے والا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کردیا اس کے ہونٹ بہت رسیلے تھے تھوڑی دیر بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کردیا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا اور کسنگ کرتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے گردن کے گرد لپیٹ دیئے اور اپنے ہاتھ بھی اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر اس کو کسنگ کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور وہ میری زبان کو چوسنے لگی چند منٹ کی کسنگ کی تھی کہ مجھے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی میں نے دیکھا تو دروازے پر ارشد ہنستے ہوئے ہمیں دیکھ رہا تھا جبکہ آشا اس کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی وہ دونوں بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے اور آپس میں کسنگ کرنے لگے ارشد کا ایک ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھا اور دوسرا اس کے گلے میں وہ ایک ہاتھ سے آشا کے ممے کو دبا رہا تھا میں بھی ارم کے ساتھ کسنگ کرنے لگا ارم نے ایک بار پھر میرا ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر میرا ساتھ دینے لگی چند منٹ کے بعد ارشد کھڑا ہوگیا اور اس نے آشا کو بھی بازو سے پکڑ کر کھڑا کرلیا اور اس کی قمیص اتارنے لگا آشا نے تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی لیکن پھر شانت ہوگئی اب آشا شلوار اور بریزئیر میں کھڑی تھی اس کے بعد ارشد نے آشا کے بریزئیر کی ہک بھی کھول دی اور بریزئیراتار کر صوفے پر پھینک دیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی پر رکھ لئے ارشد نے نیچے کی طرف جھک کر اس کی شلوار بھی آدھی سے زیادہ ٹانگوں سے نیچی کردی پھر اس نے اس کی دونوں ٹانگیں ایک ایک کرکے شلوار سے نکالیں آشا شرم سے سرخ ہورہی تھی ارشد نے آشاکو صوفے پر بٹھایا اور اس کے ایک ممے کو منہ میں لے کر چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے دوسرا مما دبانے لگا پھر اس نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا جبکہ میں اور ارم یہ سارا منظر اپنا کام چھوڑ کر دیکھ رہے تھے کچھ دیر بعد میں نے بھی ارم کو کھڑا کیا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا پہلے اس کی قمیص اتاری پھر برا اتار دیا اف کیا منظر تھا ارم کے ممے 38 سائز کے ہوں گے اور ایک دم ٹائٹ ‘ جبکہ اس کے مقابلے میں آشا کے ممے 34 سائز کے تھے اور وہ اس کی نسبت کم ٹائٹ تھے میں نے ایک بھرپور نظر ارم کے مموں پر ڈالی اور پھر اس کی شلوار اتار دی آشا کی پھدی بالوں سے پاک تھی ایسا لگ رہا تھا چند گھنٹے پہلے ہی اس نے نیچے سے بال صاف کئے تھے جبکہ آشا اپنی پھدی کے بال صاف نہیں کرتی تھی میں نے ارم کی بالوں سے بغیر پھدی پر ہاتھ پھیرا تو وہ اتنی چکنی تھی کہ میرا ہاتھ پھسلتا جارہا تھا اس کی پھدی سے ہلکا ہلکا سا پانی بھی نکل رہا تھا ارم ایک دم نیچے بیٹھ گئی اور اس نے اپنی ٹانگیں سکیڑ لیں اور اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ لئے میں بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک کس کی پھر اس کے ایک ممے کے پنک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا جبکہ دوسرے کے نپل کو اپنی انگلیوں میں پکڑ کر مسلنے لگا آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے آہ نکل گئی اس کے مموں کے نپلز سخت ہوتے جارہے تھے اور ہر لمحے یہ سختی بڑھتی جارہی تھی تھوڑی دیر بعد میں نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا تو ارم سسکاریاں بھرنے لگی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھے ہوئے تھے اور وہ میرے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے ارشد اور آشا کی طرف دیکھا تو آشا صوفے پر لیٹی ہوئی تھی اور ارشد اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کررہا تھا میں نے ان کی طرف سے نظر ہٹائی اور ارم کے ساتھ لگ گیا چند منٹ کے بعد ارشد نے آواز دی اور کہنے لگا کہ اب اندر بیڈ روم میں چلتے ہیں اس نے آشا کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا اور ساتھ لے کر چل پڑا اس کے پیچھے پیچھے میں اور ارم بھی چل پڑے بیڈ روم میں جاکر ارشد آشا کو چھوڑ کر ارم کے پاس آگیا اور اس کو ایک زور دار جپھی ڈالی اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا پھر چند سیکنڈ کے بعد اس سے علیحدہ ہوکر کہنے لگا ”انجوائے ٹونائٹ ویری مچ“ اور آشا کے پاس چلا گیا اور ارم کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا رام جی اور میں نے ابھی تک کپڑے پہنے ہوئے ہیں جس پر ارم نے جھجکتے جھجکتے میرے اور آشا نے ارشد کے کپڑے اتار دیئے ارشد کا رکن ایک عام سائز کا یعنی تقریباً5 انچ کے قریب ہوگا جبکہ میرا رکن 7 انچ سے بھی بڑا اور کافی زیادہ موٹا تھا ہم دونوں کے رکن پوری طرح کھڑے ہوئے تھے ارم کے علاوہ ارشد بھی میرے رکن کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے خیر ارشد نے آشا کو بیڈ پر لٹا دیا اور خود اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اس کی ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لپیٹ کر بیٹھ گئے اور ہمیں کہنے لگے کہ چلو آپ بھی آجاو اکٹھے ہی شروع کرتے ہیں میں نے بھی ارم کو جو ابھی تک میرے رکن کو حیرت سے دیکھ رہی تھی پکڑ کر بیڈ پر لٹایا اور اس کے ٹانگوں کو پھیلا کر اس کی بالوں سے پاک پھدی کے ہونٹ پھیلائے اور اپنا رکن اس کی پھدی پر فٹ کردیا ارشد نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا رام جی آپ کا رکن بہت بڑا ہے ذرا آرام سے میری بیوی کو تکلیف نہ ہو جس پر ارشد کے نیچے پڑی آشا مسکرانے لگی جبکہ ارم کے چہرے پر خوف تاری تھا ارشد نے آشا کے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے اپنا رکن آہستہ سے اس کے اندر کردیاآشا نے ایک آہ لی اور پھر اپنے دونوں ہاتھ ارشد کی کمر کے گرد لپیٹ کر اس کی کمر پر پھیرنے لگی میںان دونوں کی طرف اور ارم میرے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ارشد نے چند سکینڈ کے بعد اپنا رکن آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا اس کے دونوں ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھے پھر اچانک وہ رک گیا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا رام جی کیا ہوا آپ نہیں کررہے آپ بھی کرو یہ کہہ کر اس نے اپنا رکن پھر سے آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا جبکہ آشا نیچے سے اپنی پیٹھ کو اوپر کرکے اس کا ساتھ دینے لگی اس کے بعد میں نے ارم کے ہونٹوں پر ایک کس کی اور ہلکا سا زور لگا کر اپنا آدھا رکن ارم کی پھدی کے اندر کردیامیرا رکن بہت پھس کر اس کی پھدی میں گیا تھا ارم نے آہستہ سے آہ ہ ہ ہ ہ بھری اور آنکھیں بند کرلیں میں نے رک کر اس کے ہونٹوں پر ایک اور کس کی اور پھر سیدھا ہوکر اپنا رکن باہر لے آیا اس کے بعد میں نے تھوڑا زیادہ زور لگا کر جھٹکا دیا اور میرا رکن تھوڑا اور اندر چلا گیا لیکن پورا نہیں گیا تھا ارم نے ایک ہلکی سی چیخ ماری تو ارشد جو آشا کے ساتھ Bussy تھا رک کر دیکھنے لگا اور پھر مجھ سے اس نے کہا رام جی تھوڑا پیار سے پہلے پیار سے اندر کرلیں پھر جیسے مرضی کریں میں اپنی پیاری بیوی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا میں نے ایک لمحے کے لئے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا ارشد پھر سے Bussy ہوگیا تو میں نے اپنا رکن ایک بار پھر سے باہر نکالا اور پہلے کی نسبت تھوڑا اور زور سے جھٹکا دیا میرا رکن جڑ تک ارم کی پھدی میں چلا گیا ”ہائے میں ں ں ں ں ں مرررررررر گئی ی ی ی ی ی ی “ارم کے منہ سے تکلیف کے مارے چیخ نکل گئی اس نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا لئے اور نیچے سے گھسک گئی جس سے میرا لن اس کی پھدی سے باہر نکل گیا اس سے پہلے کہ میں اپنا لن اس کی پھدی پر پھر سے سیٹ کرتا اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتی سے لگا لیاارم کی چیخ سن کرارشد ہماری طرف متوجہ ہوگیا ”رام لال جی۔۔۔تھوڑا سا خیال کریں “ ارشد نے پھر سے مجھے التجا کی ”سوری۔۔لیکن میں تو آرام سے کررہا تھا اگر تکلیف ہوئی ہے تو معافی چاہتا ہوں اب آہستہ کروں گا “ ”اوکے“ ارشد نے کہا اور پھر سے آشا کو جھٹکے دینے لگا جبکہ آشا نیچے سے آہ ہ ہ ہ ہ اوئی ی ی ی ی ‘ آہ ہ ہ ہ ‘ تھوڑا اور اندر کرو نا‘ ہاں ں ںںںںں‘ ارشد تھوڑا اور ررررر‘ ہاںںںںں‘ چند سیکنڈ کے بعد ارم نے میری کمر پر اپنے ہاتھوں کی گرفت تھوڑا نرم کی تو میں نے پھر سے سیدھے ہوکر اپنا رکن اس کی پھدی پرتھوڑا سا رگڑا اور پھر اس کے دھانے پر سیٹ کیااور اس کو اشارے سے پوچھا کہ تیار ہے تو اس نے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا میں نے آہستہ آہستہ سے اپنے رکن پر دباو بڑھایا اور اس کو پورا پھدی کے اندر داخل کردیا اس کی پھدی اتنی گرم تھی کہ جیسے تندور ہو میں نے ارشد اور آشا کی طرف دھیان دیا تو وہ دونوں اپنے کام میں مست تھے آشا کی آنکھیں بند اور منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی جبکہ ارشد بھی ہر جھٹکے کے ساتھ اوں اوں ںںںں کی آواز نکال کر اپنے جھٹکے کو مزید تیز کرنے کی کوشش کرتا ان دونوں کی آوازوں سے میری شہوت بھی بڑھ رہی تھی میں نے ارم کے اوپر جھک کر اس کے رسیلے ہونٹوں کو ایک بار پھر سے کس کیا اور پھر کانوں کے قریب اپنا منہ لے جاکر سرگوشی کی ”کیا موڈ ہے “ ”ہووووووں“اس نے اپنا سر ہلاتے ہوئے منہ سے نکالا میں نے پھر سے خود کو سیدھا کیا اور اپنا رکن اس کی پھدی سے باہر نکال کر اس کو پہلے کی نسبت تھوڑا کم جھٹکے سے اندر کیا ”آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ ‘ارم نے مزے کی ایک سسکاری لی ”تھوڑا اور تیزی سے “ساتھ ہی آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی ”آئی ایم کمنگ گ گ گ گ گ“ارشد نے آشا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”چند سکینڈ اور“آشا بھی فارغ ہونے کے قریب تھی اس نے ارشد کو جواب دیا ”آخری جھٹکے پورے زور کے ساتھ “ ”ہاں اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ں ںں ںںں آہ ہ ہ ہ ہ ہ “ اور آشا بھی فارغ ہوگئی ساتھ ہی ارشد اس کے اوپر لیٹ گیا جبکہ دوسری طرف ابھی تک میں نے اپنا کام شروع بھی نہیں کیا تھا ”کیوں بھئی آپ کہاں تک پہنچے“ارشد نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا ”ہم تو ابھی سفر شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں“ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”مجھے لگتا ہے آپ اگلے ایک گھنٹے میں منزل پر پہنچو گے“ آشا جو ابھی تک ارشد کے نیچے لیٹی ہوئی تھی کھلکھلاتے ہوئے بولی ”سفر شروع ہوگیا تو منزل دور نہیںہے“ میں نے جواب دیا ”تو کرو شروع‘ لیکن آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔۔“ ارشد نے کہا ”کیا خیال ہے کریںسٹارٹ۔۔۔۔۔ میں نے ارم کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا ”ہوںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔۔ ارم نے سر ہلاتے ہوئے آواز نکالی ”آپ لوگ سٹارٹ کرو ہم تمہاری مدد کرتے ہیں“ آشا نے ارشد کے نیچے سے نکلتے ہوئے کہااور پھر وہ بیڈ پر اس طرح اوندھی لیٹ گئی کہ اس کا منہ ارم کی چھاتی کے قریب آگیا اور اس نے ارشد کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی لیٹ جائے اور اپنا منہ ارم کے منہ کے پاس لے جائے اور اس کی کسنگ شروع کرے ارشد نے ایسا ہی کیا اور وہ بھی اوندھا لیٹ گیا اور اس نے ارم کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر ان کو چوسنا شروع کردیا جبکہ آشا نے کہنیوں کے بل ہو کر ارم کا ایک مما اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی ”م م م م م م م م م م م م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے چند سیکنڈ بعد ہی ارم کا مما منہ سے نکال دیا ”مزہ آگیا۔۔۔۔۔۔“اس نے فقرہ کسا تو ارشد جو ارم کے ہونٹ چوس رہا تھا وہ بھی اپنا منہ علیحدہ کرکے ہنسنے لگا اور ارم بھی مسکرا دی میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور آہستہ سے اپنا رکن اس کی پھدی کے اندر کردیا س س س س س س س س س آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ارم نے یک دم اندر کو سانس لیا اور پھر میں نے جیسے ہی اپنا رکن باہر نکالا ارم نے باہر کو سانس لیا ”مزے ے ے ے ے ے کرووووووو۔۔۔۔۔۔آشا نے ارم کا مما منہ سے نکالتے ہوئے کہا ابھی تو تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے جواب دیا تکلیف ختم ہونے والی ہے پھر مزے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے ہنستے ہوئے کہا جانو و و و و و و و انجوائے ئے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔ارشد نے بھی لقمہ دیا میں نے پھر سے اپنا رکن اندر باہر کرنا شروع کیا دو تین بار اندر باہر کرنے سے میرا رکن جو پہلے بہت مشکل سے اندر جاتا تھا اب آسانی کے ساتھ حرکت کرنے لگا آشا نے پھر سے ارم کا مما منہ میں لے لیا جبکہ ارشد اس کے ہونٹ چوسنے لگا میں نے اپنے جھٹکوں میں تیزی کردی اب ارم جس کے منہ پر ارشد کا منہ تھا اس کے ناک سے آواز آرہی تھی جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ اب مزے میں ہے میں اپنی رفتار بتدریج بڑھا رہا تھا اچانک ارشد نے اپنے ہونٹ ارم کے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا میں نے اپنا کام جاری رکھا جبکہ آشا اس کو دیکھنے لگی کہ کیا کرنے لگا ہے ارشد نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھ دئےے اور جیسے ہی میں نے اپنا رکن باہر نکالا اور پھر جھٹکے سے اندر کرنے لگا ارشد نے مجھے پیچھے سے زور سے آگے کی طرف جھٹکا دیا میںنے بھی اپنی سپیڈ پہلے سے بڑھا دی تھی ارشد کے دھکا لگانے سے طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا اور میرا رکن بڑی تیزی سے اندر کو گیا ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔ارم کے منہ سے پھر چیخ نکل گئی اب رکنا نہیں رام لال جی۔۔۔۔ ارشد نے پیچھے سے آواز دی میرا رکن جتنی تیزی سے اندر کی طرف گیا تھا میں نے اسی تیزی سے اس کو باہر نکالا ارم نے نیچے سے کھسکنے کی کوشش کی لیکن آشا نے اس کے کولہے مضبوطی سے پکڑ لئے اور وہ نیچے سے ہل نہ سکی میں ابھی دوسرا جھٹکا مارنے کی تیاری میں تھا کہ ارشد نے پیچھے سے مجھے دھکا دیا اورساتھ میں میں نے بھی اپنا پورا زور لگایا ہائے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم پھر چیخی آشا نے اس کے کولہے مزید مضبوطی سے پکڑ لئے اور میرے جھٹکوں میں بھی تیزی آگئی لیکن جیسے جیسے جھٹکے تیز ہورہے تھے ارم کی ہائے میں نرمی آتی جارہی تھی چند جھٹکوں کے بعد اس نے تکلیف دہ آوازوں کی بجائے مزے کی سسکاریاں بھرنا شروع کردیںاس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھی اور اپنا نیچے والا ہونٹ کبھی کبھی اپنے دانتوں کے نیچے لے کر چباتی اور پھر جیسے ہی اپنا ہونٹ چھوڑتی ایک لمبی سی آہ لے کر اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیرنے لگتی ارشد جو میرے پیچھے کھڑا مجھے دھکے دے رہا تھا اس کا رکن بھی متحرک ہورہا تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اس کو پھر سے شہوت ہورہی ہے چند منٹ تک ایسے ہی سفر کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ ارم کی منزل قریب آرہی ہے اچانک اس کا جسم اکڑنے لگا اور پھر یک دم میرے نیچے لیٹے لیٹے اس کے جسم نے ہلکے ہلکے سے چار پانچ جھٹکے لئے اور پھر اس کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکل آیا میں نے اپنا سفر روک دیا لیکن میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی کے اندر تھا ارشد جو میرے پیچھے کھڑا تھا وہ بھی بیڈ کے اوپر آکر بیٹھ گیا اور چند سکینڈ کے بعد میں نے اپنا رکن ارم کی پھدی سے نکالا اور ارم نے بیڈ شیٹ سے اپنی پھدی کو صاف کیا میں اپنا رکن پھر سے اس کے اندر کرنے لگا تو ارشد بول پڑا ” اب سٹائل چینج کرلو “ میں ‘ آشا اور ارم اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے توا س نے کہا کہ بہتر ہے کہ اب رام لال جی نیچے لیٹ جائیں اور ارم ان کے اوپر آجائے ” مجھ میں اوپر آکر کرنے کی ہمت نہیں ہے“ ارم نے نیچے لیٹے لیٹے کہا ہمت کرو گی تو مزہ بھی آئے گا‘ ارشد نے جواب دیا میں بیڈ کے اوپر سیدھا لیٹ گیا اور ارم ناگواری سے اٹھ کر میرے اوپر آگئی ”آشا جی آپ بھی میرے اوپر آجاو“ارشد نے میرے پہلو میں سیدھے لیٹتے ہوئے آشا کو بازو سے پکڑ کر کہا آشا بھی شائد تیار ہوچکی تھی وہ فوری طورپر ارشد کے اوپر آ بیٹھی اور اس نے ارشد کے رکن کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلانا شروع کردیا میں نے دیکھا کہ ارشد کا رکن جس کے ختنے ہوئے ہوئے تھے سفید رنگ کا اور بالوں سے پاک تھا اس کے علاوہ بالکل سیدھا تھا اس کے رکن کے نیچے دونوں ٹٹے بھی سفید کلر کے تھے اس کے برعکس میرا رکن ارشد کی نسبت لمبا اور موٹا ضرور تھا لیکن کالے رنگ کا تھا اور ٹیڑھا بھی تھا شائد اوائل عمری میں مشت زنی کی وجہ سے ٹیڑھا ہوگیا تھا اس کے علاوہ میرے ٹٹے بھی کالے رنگ کے تھے اور رکن کے اوپر اور ٹٹوں پر بال بھی بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے خوب صورت بھی نہیں لگتا تھا جبکہ میرے رکن کے ختنے بھی نہیں ہوئے تھے یہ بھی اس کی بدصورتی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے ”دیکھو رام لال جی یہ کتنا خوب صورت دکھتا ہے “ آشا نے اپنے انگوٹھے اور انگلی کی انگوٹھی بنا کر ارشد کے لن کو جڑسے اوپر کرتے ہوئے کہا میرا دھیان جو پہلے ہی ارشد کے رکن کی طرف تھا اپنی بیوی کا تبصرہ سننے پر میرے ذہن میں جیلسی سی فیل ہونے لگی جبکہ ارم جو میرے رکن کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کے دہانے پر سیٹ کررہی تھی وہ بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئی جبکہ ارشد جو آنکھیں بند کئے نیچے لیٹا تھا آنکھیں کھول کر فخر سے مسکراتے ہوئے میری اور ارم کی طرف دیکھنے لگا آشا نے دو تین بار اپنی انگلیوں کی انگوٹھی سے ارشد کے رکن کو جڑ سے نوک تک سہلایا اور اس کا منہ ارشد کے رکن کے بالکل قریب تھا یقینا اس کو ارشد کے رکن سے نکلنے والے مادے کی بو بھی آرہی ہوگی اچانک اس نے اپنی انگلیاں اس کے رکن کی جڑ پر کیں مم مم م م م م ہ ہ ہ ہ ہ‘ آشا نے ارشد کے رکن کی نوک پر ایک ہلکی سی کس کردی میں حیران رہ گیا آج تک اس نے میرے رکن کو اس طرح کس نہیں کیا تھا اور آج میں ایک غیر مرد کے رکن کے ساتھ ایسا کررہی تھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن میں کچھ نہ بولا اور منہ دوسری طرف کرلیا جبکہ ارشد جو پہلے مسکرا رہا تھا اب ہلکا سا ہنس پڑا۔ م م م م م ہ ہ ہ ہ ہ آشا نے ایک اور کس کردی میں نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا اس نے میری طرف دیکھے بغیر اپنی زبان منہ سے نکالی اور ارشد کے رکن کی نوک پر پھیرنے لگی ارشد کا رکن جو پہلے ہی پوری طرح اکڑا ہوا تھا اس کی نوک مزید پھول گئی میں نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور ارم کے ممے پکڑ کر دبانے لگا ارم نے اپنے ایک ہاتھ سے میرا رکن جڑ سے پکڑا اور میرے اوپر بیٹھے بیٹھے اپنی پھدی پر پھیرنے لگی پھر اس نے میرے رکن کی نوک اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کی اور میرا رکن چھوڑ کر اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آرام سے پورا رکن اپنی پھدی کے اندر لے گئی اور میرے اوپر لیٹ کر دیوانوں کی طرح میرے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں مجھے اس کی پھدی بہت ٹائٹ محسوس ہورہی تھی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور پھر سیدھی ہوکر اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آہستہ سے اوپر کو ہوئی میرا رکن اس کی پھدی سے باہر نکلا اور پھر اس نے قدرے تیزے کے ساتھ نیچے کو حرکت کی میرا رکن پھر اس کی پھدی میں چلا گیا ”اس کو لالی پاپ کی طرح چوسو۔۔۔۔۔ارشد کی آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں نے ان کو دیکھنے کے لئے اپنا منہ دوسری طرف کرنا چاہا لیکن ارم جو میرے اوپر بیٹھی تھی اس نے میرا رکن اپنی پھدی کے اندر کیا اور اپنے ہاتھ میری چھاتی سے اٹھا کر میرے دونوں گالوں پر رکھ کر میرے اوپر ہوگئی اور میرے ہونٹ چومنے لگی میری نظر تو ارشد اور آشا کی طرف نہ جاسکی لیکن خیال ان کی طرف ہی تھا ہاں ں ں ں ں ں اس کو پورا اپنے منہ میں لے لو۔ ارشد کی آواز پھر میرے کانوں میں پڑی میں نے اپنا منہ ان کی طرف کرنے کی کوشش کی لیکن ارم نے اپنے ہاتھ میں میرا چہرہ لیا ہوا تھا اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی میں نے اس کو چوسنا شروع کردیا آ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہواوں میں اڑنے لگا ہوں “ ارشد پھر بولا اب میں نے ان کی طرف دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی ارم نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے رکن پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اس نے دوبارہ اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھے اور اوپر نیچے ہونے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اپنی انگلیوں سے اس کے مموں کے نپلز کو مسلنے لگا ارم کی سپیڈ بتدریج بڑھ رہی تھی وہ اوپر ہوتی تو میرے رکن کی نوک کا کچھ حصہ ہی اس کی پھدی کے اندر ہوتا جب وہ نیچے ہوتی تو جڑ تک اندر چلا جاتا وہ اوپر نیچے ہوتے ہوئے سسکاریاں بھی بھر رہی تھی جب وہ میرا رکن اپنے اندر لیتی تو ساتھ میں میرے چھاتی پر دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بھی لیتی پھر اوپر ہوتی تو چٹکیاں چھوڑ دیتی ”آج مزے کی ایک نئی دنیا میں آگیا ہوں۔۔۔ ارشد کی آواز پر میں نے اپنا منہ ان کی طرف کیا تو ارم رک گئی اور غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں نیچے آجاتی ہوں آپ ان کی طرف دیکھ لیں جب وہ کرلیں گے تو پھر ہم شروع کریں گے میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف کیا اور پھر سے اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیں ارم پھر سے اوپر نیچے ہونے لگی چند منٹ بعد اس نے پھر جھٹکے لئے اور فارغ ہونے لگی جب مکمل ہو کر آہستہ ہوئی تو میں نے اس کے مموں سے پکڑ کر اس کو تیز ہونے کا اشارہ کیا اور ساتھ میں کہا سپیڈ کم نہ کرنا میں بھی آرہا ہوں میرے اندر نہ فارغ ہوجانا۔۔۔۔۔۔اس نے التجا کی کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ میں نے جواب دیا تو وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگی اندر ہی فارغ ہوجاو۔۔۔۔۔۔۔ ارشد جو آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا نہیں رام لال جی ایسا نہ کرنا۔ ارم نے پھر کہا میں نے جو کہا وہی کرنا میں بھی تو آشا جی کے اندر ہی چھوٹا ہوں۔ارشد کاجواب سن کر ارم چپ ہوگئی اور اس نے پھر سے اوپر نیچے ہونا شروع کردیا آہ آہ آہ آہ ارم کی آوازیں اور ساتھ میں ایک دو تین اور میرے رکن نے جھٹکے لئے اور ساتھ میں اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا ارم مسلسل اوپر نیچے ہورہی تھی میرے رکن کی سختی ابھی تک برقرار تھی ارم نے اپنی حرکت کم کی اور پھر میرے اوپر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی اس کا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اس کے ہونٹ خشک ہوچکے تھے میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی میں ہی تھا اس نے اپنی ٹانگیں بھی سیدھی کرلیں اور میرے اوپر اوندھی لیٹی رہی میرا رکن ابھی بھی اس کے اندر تھا اب اس کی سختی کم ہونے لگی تھی اب تم لیٹو میں کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ارشد کی آواز آئی میں نے ان کی طرف نہ دیکھا اور ارم بھی اسی طرح لیٹی رہی ہم دونوں نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی میرے رکن سے نکلنے والا مادہ اور ارم کی پھدی سے خارج ہونے والا پانی مکس ہوکر میرے ٹٹوں پر سے ہوکر نیچے بیڈ پر جارہا تھا جس کے قطرے مجھے ٹھنڈے ٹھنڈے محسوس ہورہے تھے اور بیڈ شیٹ بھی گیلی ہوگئی تھی ہاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔۔ اور اندر کرو۔آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے ان کی طرف نہ دیکھا اپنی پوری زبان میری پھدی کے اندر کردو۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر کہا ہاں اور اندر ررررر۔۔۔۔۔۔۔ اور اندر۔۔۔۔۔۔۔ بس س س س س س۔۔۔۔۔۔ میں مرررررررر گئی ی ی ی ی۔۔۔۔ بس س س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔ آشا کی آوازوں سے میں ان کی طرف دیکھنے کو بے چین تھا لیکن جس طرف یہ دونوں لیٹے تھے اس طرف کے کندھے پر ارم کا سر تھا اس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر ان دونوں کی طرف دیکھا تو میں نے بھی گردن گھما کر ادھر کی آشا کے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ کے ساتھ لگے ہوئے تھے اور وہ اپنا سر ادھر ادھر مار رہی تھی جبکہ ارشد نظر نہیں آرہا تھا میں نے سر کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور دھیان کیا تو ارشد کا منہ آشا کی پھدی پر تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آشا کی ٹانگیں علیحدہ کررکھی تھی اور وحشیوں کی طرح اس کی پھدی چاٹ رہا تھا ام م م م م م م م۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے پھر نکلا ارشد نے تیزی سے منہ مارنا شروع کردیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بال پکڑ رکھے تھے بس س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گئی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ارشد نے اپنا منہ اوپر نہ اٹھایا آشا نے ادھر ادھر سر مارنا بندکردیا اور اس کے بال بھی ہاتھوں سے چھوڑ کر بیڈ پر ڈھیلے کردیئے اس کی ٹانگیں بھی ڈھیلی ہوگئیں ارشد نے منہ اوپر کیا اور بیڈ پر پڑا تولیہ لے کر اپنا منہ صاف کرنے لگا میں سمجھ گیا آشا کی پھدی سے نکلنے والا پانی ارشد کے منہ پر گرا ہے میں تھوڑا اور اوپر ہوا اور دیکھا آشا کی پھدی کے گرد گھنے بال گیلے ہوچکے تھے اخ خ خ خ تھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے نفرت سے بیڈ کی دوسری طرف تھوک دیا تم کو کیا معلوم سیکس کیا ہوتا ہے‘ ارشد نے ارم کو تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا میں نے آشا کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے ایک گال پر کچھ مادہ لگا ہوا تھا میں سمجھ گیا یہ مادہ ارشد کے رکن سے نکلا ہوا ہے ارشد کا رکن ڈھیلا پڑ گیا تھا اور سکڑ کر صرف دو اڑھائی انچ کا ہوگیا تھا میرا رکن ابھی تک ارم کی پھدی کے اندر تھا اور مکمل طورپر ڈھیلا ہوچکا تھا مگر ارم کی پھدی سے ابھی تک ہلکا ہلکا سا پانی نکل رہا تھا وہ پھر میرے اوپر لیٹ گئی چند سیکنڈ بعد اٹھی اور بیڈ پر میرے ساتھ میرے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی دوسری طرف ارشد اور آشا بھی لیٹے ہوئے تھے ارشد آشا کے مموں سے کھیل رہا تھا جبکہ آشا کے ہاتھ ارشد کے سر پر تھے اور وہ اپنی انگلیوں سے اس کی کنگھی کررہی تھی میں ارم کے ساتھ لیٹا ہوا تھا لیکن میرا ذہن کہیں اور تھا میں اپنی بیوی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ جس نے اپنے پتی کے رکن کو کبھی منہ میں نہیں لیا آج کسی غیر مرد کے رکن کو منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوس رہی تھی جبکہ ارم جو میری چھاتی پر ہاتھ پھیر رہی تھی وہ بھی خیالوں میں کھوئی ہوئی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.