Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 23/02/21 in all areas

  1. نہیں ماں میں نے نہیں کرنی اس جاہل سے شادی میں ایم اے پاس وہ گیارہویں فیل اور ایک سرکاری محکمہ میں درجہ چہارم کا ملازم میں شادی کرونگی تو کسی ماسٹر ڈگری ہولڈر اور اچھی کمائی کرنے والے سے ماں :بیٹی جیسے تیرے خواب ہیں اگر ویسا لڑکا مل بھی جائے تو ہماری اتنی اوقات نہیں کہ ہم اس برابر جہیز دے سکیں لہذا تو یہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے میری شادی عمر سے ہو گی سہاگ رات کو مشکل مرحلہ سمجھ کر چپ ہو گی عمر اکلوتا تھا ماں دو سال پہلےچل بسی اور باپ بھی چھ ماہ پہلے دوران سروس ڈیٹھ ہو گیی اور عمر کو باپ کی جگہ پر ملازمت مل گئی تھی سیکس کے دوران میں ہمیشہ ایسے کہ جیسے کوئی بے جان کے ساتھ کر رہا ہے اور اسے کوئی رسپانس نہیں دیتی میں ہمیشہ عمر کے مرنے کی دعا کرتی کسی طریقے سے میری جان چھوڑ دی قصہ مختصر یہ کہ مجھے عمر کی شکل بالکل پسند نہیں تھی بات بات پر اسکی بےعزتی کرنا اور زلیل کرنا میرا معمول بن گیا شادی کے ڈیڑھ ماں بعد اس بات پر ناراض ہو کر عمر مجھے گھر کے اخراجات کے لیے مجھے پیسے بالکل نہیں دیتا مجھے نہیں رہنا اس جاہل گوار کے ساتھ مجھے اس سے طلاق چاہیے ماں نے کہا کہ بیٹا وہ دل سے سوچتا ہے دماغ سے نہیں لہذا کل اس کو بلا کر بات کرتے ہیں اگلے دن عمر آیا اور ابا نے کہا کہ عمر بیٹا اگر آپ عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار دے سکتے ہیں تو عاصمہ کو ساتھ لے جا سکتے ہو عمر: ٹھیک ہے انکل میں عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار گھر کے اخراجات کے لئے دینے کے لیے تیار ہوں اور میں پھر ایک بار گھر واپس آ گیی عمر اب مجھ ہر مہینے 40 ہزار دیتا لیکن میں اس کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کبھی کھانے میں نمک تیز کبھی مرچ تیز تو کبھی کھانے اچھے سے نہ پکانا اور اسے کبھی کھانا نہ دینا وہ خود فریج سے نکال کر گرم کر کے کھاتا تھا اور آتے ہی سو جاتا کہ جیسے مردہ ہو اور اب ہفتے میں ایک بار ہی سیکس کرتے تھے میں نے شکر ادا کیا کہ اچھا ہے ایک دن میں نے عمر سے کہا کہ مجھے آی فون چاہیے عمر نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا کہ میری جان میں تمہیں آی فون بھی لا دوں گا لیکن تم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکوں گا بہت محبت کرتا ہوں تم سے تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا مجھے ایک مہینے کے اندر آی فون چاہیے نہیں تو عدالت میں جا کر خلع داہر کر دوں گی عمر میرے قدموں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا کمبخت سے جیتنی نفرت کرتی ہوں اتنی ہی شدت سے محبت کرتا ہے کیسے جان چھڑواں اس سے دو دن بعد اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بازار جا رہی تھی کہ بس سٹینڈ کے قریب کیب خراب ہو گئی ایسے ہی میرا دھیان بس سٹینڈ کی طرف گیا تو میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا میں بے جان ہو گیی وہ عمر جس سے میں نفرت کرتی تھی جسے میں ان پڑھ جاہل گوار کہتی جیسے میں نے کبھی پیار سے کھانا نہیں دیا جیسے میں نے کبھی انسان نہیں سمجھا جس کا کبھی حال تک نہ پوچھا جیسے کبھی قبول نہیں کیا وہ سر پر بوجھ آٹھاے کسی بس کی چھت پر چڑھ رہا تھا اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے کپڑے ٹوٹی ہوئی چپل پسینے میں شرابور بس پر سامان لوڈ کرنے کے بعد اترا میں مر کیوں نہ گیی وہ میرے لیے کیا کچھ کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی کی آواز سنائی دی کہ چل اوے یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کی چھت پر رکھ عمر کو شاید بھوک لگی ہوئی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا سامان اٹھا کر ساتھ میں روٹی کھانے لگا میں قربان جاؤں میرا عمر میرے لیے کس درد سے گزر رہا ہے میں آنکھوں میں آنسو لیے دیکھتی رہی کام ختم ہوا وہی ایک دوکان کے سامنے زمین پر بٹھ گیا اور روٹی کھانے لگا کتنی بے بسی کتنا درد عمر سارا دن وہاں کام کرنا رات کو میری جلی کٹی سننا وہ ایک حادثہ تھا یا قدرت کا کرشمہ کہ میرا دل بدل گیا اور وہاں سے گھر واپس لوٹ گیی اور خوب رو رو کر دل کا بوجھ ہلکا کیا پھر عمر کے پلاو بنایا اور واش روم میں گھس کر اپنے جسم کی صفائی کی اور ہلکا سا میک اپ کیا پھر اپنی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار عمر کے کپڑے پریس کیے آدھے گھنٹے بعد عمر گھر آیا تو میرا دل کیا کہ ابھی اسے اپنے سینے سے لگا کر سب دکھوں کو اپنے اندر سمیٹ لوں لیکن مینے اسے نہانے کا کہا اور خود اس کے لیے کھانا لگایا کھانے کے بعد وہ تھکاوٹ کے بستر پر نیم دراز ہو گیا اور میں اس کے قدموں میں جا بیٹھی کہ دل کیا اسکے قدم چوم لیے عمر نے حیران ہو کر کہا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا اور اگر پیسے چاہیے تو یہ لو میرا کلیجہ پھٹ پڑا رو رو کر عمر سے معافی مانگے لگی کہ مجھے نہیں چاہیے یہ کاغذ کے ٹکڑے مجھے میرا عمر چاہیے یہ کہتے ہوئے میں اسکے چہرے کو چومنے لگی ماتھے پر آنکھوں پر گالوں پر اسکے چہرے پر ہر جگہ اپنے ہونٹوں کہ مہریں ثبت کرنے لگی بے خودی کے عالم میں کب میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں کی قید میں تھے کبھی میرا اوپر والا ہونٹ چوستا تو کبھی نیچے والا اور ایک ہاتھ میری گردن پر اور دوسرا میری 36 کی چھاتی پر حرکت اور نیچے چوت میں بخارات کے قطرے بننا شروع ہو گئے کہ عمر نے میری قمیض کا دامن پکڑا تو میں نے ہاتھ اٹھا دیے اس نے میری قمیض اتار اب میں محض سرخ رنگ کی براہ تھی جو میری سفید چٹانوں کو قید کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے لیکن عمر کے ہاتھوں نے ان کو بھی آزادی دے دی اور اپنی زبان کو میری کلویج لاہن میں پھرنے لگا کہ بے خودی میں اسکا سر اپنی چھاتیوں پر دبانے لگی مزے سے مدہوش میرے وجود میں چھانے لگی کہ عمر نے مجھے نیچے لٹایا اور خود میرے اوپر آگیا اور میرے پیٹ چومنے لگا کہ مزے سے تڑپ اٹھی اور اپنا سر دائیں بائیں کرنے لگی اور اسکے ہاتھ میری شلوار کو نیچے کھنچے لگے میں نے اپنی گانڈ اٹھا کر اسے اجازت دی پھر عمر نے اپنے کپڑے اتارے صاف شفاف بدن خوبصورت صرف چھاتی کے عین درمیان ہاتھ کی ہتھیلی جتنے بال نیچے سات انچ کا لنڈ انتہائی شان مجھے گھور رہا تھا کہ اس میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی جھٹکے میں اس ظالم کو اندر کا راستہ دیکھا یا آآہہہہہہہہہہہہہہہ ظالم آرام سے کرو کہیں نہیں جا رہی میں میری جان آج پہلی بار تمہارا موڈ بنا ہے تو اس موقعے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہوں جانی آج کے بعد یہ راستہ ہر وقت تمہیں دستیاب ہو گا اور ہر وقت موڈ بھی ایسے ہی ملے گا آہہہہہہہ جانی اب آرام سے کرو آہہہہہہہہ آہہہہہہہ آہہہہہہہہ عمر مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کرو گے آہہہہہہہہ ہاں جان ہمیشہ ایسے ہی آہہہہہ میں قربان جاؤں اپنی جان پر اور اپنی ٹانگوں کو کندھوں سے اتار کر اسکی کمر کے گرد لپیٹ لی ظالم کی ہرچوٹ مجھے مزے کی نہی وادیوں میں دھکیل دیتی اور اسے خود کی طرف جھکَا کر والہانہ اسکے ہونٹ چوسنے لگی جیسے مدتوں کی پیاسی ہوں آہہہہہہہ عمر ایسے چودو مجھے جیسے آخری مرتبہ کر رہے ہو عمر میری جان آج مجھ پر خوب ظلم کرو عمرررررررررررررررررر اسکے ساتھ ہی میری چوت نے پانی کا پھورا چھوڑ دیا اور میری سانسوں میں تیزی آئی ایسے جیسے میلوں بھاگ کر آہی ہوں
  2. 1 like
    ڈکیٹ صفحہ1 پہلی_بار_ایک_منفرد اور بولڈ ناول ایک واردات محبت کی واردات بن گئ Nawaab_Zada_Shahid_writer میرا_نام_مناہل_چوہدری ھے میری شکل و صورت پاکستانی سنگر فادیہ شبروز جیسی ھے میں سمارٹ جسم کی مالک ھوں اور میرا فگر بتیس ھے میں جوانی میں کسی تیسری آنکھ کا شکار نہیں ھوئی تھی مگر آپ کو معلوم ھوگا وقت سب کچھ بدل بھی دیتاھے.. میں نے اپنے آپ کو بہت فٹ رکھا ھوا تھا کیونکہ شرو ع سے ھی میری توجہ فٹنس پر مرکوز رہی تھی میری فٹنس کا راز رات کو بہت کم کھاتی تھی اور واک لازمی کیا کرتی سونے سے پہلے اکثر شباب کے قدر دان مجھ پر لائن مارتے تھے میرا نام بھی مناہل تھاکسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھلا کب گھاس ڈالتی میں ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﺗﻮﮌ ﻟﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ۔ ﻧﻮ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﭼﻠﻮ ﮐﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺳﻤﺠﮭﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﺷُﺪﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻮ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﮯ ﯾﺎ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺘﯽ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﻠﺘﯽ ﺟُﻠﺘﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺑُﺮﮮ ﺑُﺮﮮ ﺍﻟﻘﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺗﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞِ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ 22 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 3 ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮ ﭼُﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮐُﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺟﺎﺏ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﻨﮉﺳﻢ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﻧﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐُﻞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﮩﻞ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔُﺬﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮨﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﻤﻞ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﻠﺐ ﮐﮯ ﻣُﻄﺎﺑﻖ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻣِﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔُﺬﺍﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮯ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﻧﮧ ﻃﻠﺐ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮭﺎ۔ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﺑﺪﻻ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺧُﻔﯿﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ۔ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﯾﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﮈﯾﮍﮪ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻓﺘﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﺟﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯽ ﺗﻮ , ﯾﮩﯿﮟ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ , ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﮐﯽ ﻧﺎﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺁ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﯾﮑﺪﻡ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺳﺎﻥ ﺧﻄﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻟﺮﺯ ﺍُﭨﮭﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﭨﮏ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﻮﻝ ﻧﮧ ﭘﺎﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﻠﻮ ﺍُﭨﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻮ۔ ﻭﮨﯽ ﻏﺼﯿﻠﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﮭﺮ ﺳُﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ۔ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻠﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﭨﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳُﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﯽ " ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻮﮌﺍ ( ﭨﺮﯾﮕﺮ ) ﮐﮭﯿﻨﭽﻮﮞ،؟ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮩﺖ ﺑُﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮈﺭﺍﺋﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮐﻮ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻻ ﭼُﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﮐُﻞ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻼ ﺳﻮﯾﺎ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐُﭽﮫ ﻣﺪﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻘﺎﺏ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﮩﻤﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮨﯽ ﻣﺎﺅﻑ ﮨﻮ ﭼُﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﮨﻢ ﻟُﭩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻟُﭩﺘﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻮ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﻟﯿﮉﺭ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺳُﺴﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺯﯾﻮﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﮬﻤﮑﺎ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭﯼ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻓﺎﺋﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺟﻮ ﮐﮯ ﺷﺎﺋﯿﺪ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺗﮭﭙﮏ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺳُﻼ ﺩﯾﺘﯽ، ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮔﮭﻮﻣﺎ , ﺗﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ؟ ﭼﻞ .. ﭼﻞ ﺍُﭨﮫ ﺍﺳﮯ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻢ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍُﺳﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺟﮭﺮﺟﮭﺮﯼ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﯾﻮﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺱ ﺳُﺴﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻻ ﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ " ﺍﺳﮯ ﭼُﭗ ﮐﺮﺍ ﻭﺭﻧﮧ " ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﻏُﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ۔ " ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ " ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳُﻼ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺳُﻼ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ " ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ " ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﻧﯿﭽﮯ ﻓﺮﯾﺞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ " ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮈﺍﮐﻮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏُﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺅ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻧﻨﮕﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺅﮞ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻣﻤﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﭼُﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻮﺭ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﮈﻭﺏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻧﯿﭽﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻤﯿﺾ ﮨﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻮﺭﮮ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻤّﺎ ﺍﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮈﺍﮐﻮ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﭨﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ اچانک مجھے لگا جیسے وہ میرے قریب کھڑا ہے میں نے سر اٹھایا تو وہ واقعی میرے ساتھ کھڑا تھا۔اگرچہ وہ نقاب پہنے تھا لیکن اس کی ننگی آنکھوں سے مجھے واضح ہوس ٹپکتی نظر آئی۔ اس سے پہلے کے میری چیخ نکلتی اس کا ہاتھ میرے منہ پر تھا۔ "اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتی ہو تو جیسے میں کہوں کرتی رہو اور ذرا بھی آواز نکلی تو سمجھ لو تمہارے بیٹے کی آواز ہمیشہ کیلئے بند کر دوں گا۔" اس کا منہ میرے کان کے قریب تھا۔ لفظوں کی ادائیگی کے ساتھ مجھے اس کی گرم سانسیں بھی اپنی گردن پر محسوس ہوئیں۔ ایک لمحے میں ہزاروں خیالات میرے دماغ میں ابھرے لیکن ہر سوچ دم توڑ گئی کیونکہ میرے بیٹے کی زندگی میرے عمل سے وابستہ تھی اور اس کی زندگی میرے لیئے ہر چیز سے اہم تھی۔ میں نے خود کو حالات کے حوالے کر دیا۔ اس نے میرے بیٹے کو میرے ہاتھوں سے لے کر بیڈ کے قریب پڑے جھولے میں ڈال دیا۔ میں بُت بنی بیٹھی تھی کہ مجھے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس ہوا، میں ایکدم سے سمٹ گئی۔ خوف سے میرا بدن لرز رہا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ میں چیخنا چاہتی تھی۔ اپنی مدد کیلئے زور زور سے پُکارنا چاہتی تھی لیکن میرے بیٹے کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ جو مجھے کوئی بھی ایسا قدم اُٹھانے سے باز رکھ رہا تھا۔ میں نے دونوں گھُٹنے سکیڑ کر اپنی چھاتی سے لگا لیئے۔ مجھے اس ڈاکو کا یوں میرے پیٹ پر ہاتھ لگانا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اُس کو اس حرکت پر اتنے تھپڑ مارتی کے وہ دوبارہ سے کبھی یوں کسی کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ کرتا۔ لیکن اس نے میرے بیٹے کی زندگی کی دھمکی دے کر مجھے بےبس کر دیا تھا۔ "مجھے تُمہارا تعاون درکار ہے، کیونکہ میں ارادہ کر چکا ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، چاہے مجھے زبردستی کیوں نہ کرنی پڑے، اور زبردستی کے دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی جان سے جا سکتا ہے تُم یا تُمہارا بیٹا۔" وہ تنبیہہ کرنے کے انداز سے بات کر رہا تھا۔ میں نے کانپتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور اُسے اس کے ارادوں سے باز رکھنے کی آخری کوشش کی لیکن اُس کی حالت جنون کی سی ہو گئی تھی وہ مجھے مسلنے لگا اس کا ہاتھ میرے جسم پر پھسل رہا تھا اور میں سمٹ رہی تھی۔ وہ میرے پیٹ اور میرے مموں کو اپنے ہاتھ سے مسل رہا تھا۔ میں بچاؤ کے لیئے ہاتھ پاؤں تو مار رہی تھی لیکن منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ شائید اس ڈر سے کے اگر میری آواز نکل گئی تو وہ کہیں بھڑک کر میرے بیٹے کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ وہ مسلسل میرے جسم کو نوچ رہا تھا۔ آخر میری مزاحمت دم توڑ گئی۔ مجھے ڈھیلا پڑتا دیکھ کر اس نے بندوق ایک طرف رکھی اور دونوں ہاتھ میرے مموں پر رکھ دیئے۔ وہ کسی وحشی درندے کی طرح میرے اوپر چڑھ آیا۔ میں مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ میری قمیض کے اندر ڈال دیئے اور اپنی انگلیوں سے میری نپلز کو چھیڑنے لگا۔ کسی بھی لڑکی اور عورت کو اگر سب سے زیادہ کسی چیز کا خوف ہوتا ہے تو وہ اس کی عزت جانے کا۔ اس کے بچاؤ کیلئے کوئی بھی لڑکی یا عورت اپنی جان تک گنوا سکتی ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن اگر یقین ہو جائے کے وہ کسی صورت اپنی عزت نہیں بچا پائے گی تو اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی یا عورت ماں ہو تو اس کیلئے اولاد ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ اور ایسے بہت سے قصے آپ نے بھی سُنے ہونگے جب کسی لڑکی یا عورت نے اولاد کیلئے اپنی عزت تک گنوا دی ہو۔ میں بھی اگر عام لڑکی ہوتی تو شائید مر جاتی لیکن کسی ڈاکو کے ہاتھوں یوں عزت نہ گنواتی لیکن میں ایک ماں تھی اور اس ڈاکو نے مجھے میرے بیٹے کی زندگی کی مجھے دھمکی دی تھی۔ یہی وجہ تھی کے وہ میرے جسم کو بھنبھوڑ لینا چاہتا تھا اور میں اسے روک نہیں پا رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب بچاؤ ناممکن ہے اور یہی وجہ تھی کے مجھے خوف بھی نہیں رہا تھا۔خوف تب تک ہی رہتا ہے جب تک بچاؤ کی کوئی صورت نظر آتی رہے لیکن مجھے کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان لمحوں میں جب میں خوف کی حدود سے نکل رہی تھی ایک مرد میرے بدن سے لذت لے رہا تھا۔ یعنی خوف کا اختتام لذت کی شروعات پر تھا۔ اور میں بھی اس ڈکیت کے ساتھ لذت کے اس گہرے سمندر میں غرق ہونے لگی۔ اس کا میری نپلز کو مسلنا مجھے میٹھے درد کے ساتھ لذت بھی دے رہا تھا۔ میرے گول مٹول خوبصورت ممّے تن گئے۔نپلز اکڑ کر سخت ہو گئے۔بدن میں جیسے سرور چھانے لگا۔ مجھ پر مستی چھانے لگی تھی جس کا اظہار میں نے اس ڈاکو کی کمر پر ہاتھ پھیر کر کیا۔ میرے ہاتھ بھی اب اس کی کمر پر گردش کر رہے تھے۔وہ مجھے پر جھکا ہوا تھا اس طرح کا ردِعمل دیکھ کر وہ پورا میرے اوپر لیٹ گیا جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھانے لگا۔ میری عجیب حالت ہو رہی تھی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ میں اس کے لن کو محسوس کرنے کیلئے اپنی گانڈ ہلا رہی تھی۔ جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا۔ میں نے ہاتھ اس کے نقاب پر ڈال کر اس کا نقاب اتارنا چاہا تو اس نے فوراً میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور میرا بازو موڑ کر میرے ہاتھ کو میرے سر تک لے گیا پھر اس نے دوسرے ہاتھ کو بھی ویسے ہی موڑ کر میرے سر کے پیچھے کر دیا۔ اور میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیئے۔ وہ نقاب پہنے ہوئے ہی میرے مموں پر کاٹ رہا تھا۔ اس کے یوں کاٹنے سے مجھے درد تو ہو رہی تھی لیکن جو لذت مل رہی تھی اس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کا جنون میرے لیئے نیا تھا۔ میرے شوہر سیکس کے دوران کبھی ایسی جنونی کیفیت میں نہیں گئے تھے۔ ان کی میرے بدن سے چھیڑ چھاڑ بڑی شائستہ ہوتی تھی۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر اور بڑے سنبھل سنبھل کر ہاتھ لگاتے تھے۔اُن کا کسنگ کرنے کا انداز بھی بڑا سوفٹ تھا۔ وہ سیکس کے دوران مجھ سے ایسے برتاؤ کرتے جیسے میں کانچ کی بنی ہوں اور اُن کی بے احتیاطی سے کہیں ٹوٹ نہ جاؤں۔ لیکن اس ڈاکو کا انداز بالکل بے رحمانہ تھا۔ اس کے ہاتھ بےدردی سے مجھے مسل رہی تھے۔ وہ اب میرے گالوں اور ہونٹوں پر کاٹ رہا تھا۔لیکن یہ کاٹنا کسی حد تک پیٹ اور ممّوں پر کاٹنے کی نسبت تھوڑا سوفٹ تھا۔ میں اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرنا چاہتی تھی لیکن اس کا نقاب ایسا نہیں ہونے دے رہا تھا۔ مجھے نقاب سے اُلجھن ہونے لگی تو میں نے اسے کہہ دیا کہ مجھے اس کے نقاب سے الجھن ہو رہی ہے۔ اسے لگا شائید میں اس کا نقاب اُتروا کر صرف اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں تو اُس نے نقاب اُتارنے سے انکار کر دیا۔ لیکن میرے چہرے پر بیچینی اور الجھن کے تاثرات دیکھ کر اس نے نقاب اُتار پھینکا۔وہ ایک مضبوط جسم کا مالک تھا اور چہرے مہرے سے بھی ایک خوبرو جوان تھا ۔ نقاب اُتارتے ہی وہ مجھے بڑی بے رحمی سے چومنے چاٹنے لگا۔ اُسے بھی شائید نقاب میں مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اسی لیئے اُس نے نقاب اُتار پھینکا تھا۔اسکے نین نقش چوڑیاں فلم کے ہیرو معمررانا جیسے تھے اور سینہ چوڑا جیسے میرے وجود کا لمس پا کر دراز ھوا تھا میرا دل کیا کہ میں اسکا نام پوچھ لو مگر شرم آڑے آ گئ‎ ‎ اُس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے لگتے ہی جیسے دھماکہ ہوا اور آگ جیسے بھڑک اُٹھی۔اس کے دونوں ہاتھ میرے ممّوں کا مساج کر رہے تھے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.