Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

آغوش یار


Recommended Posts

نہیں ماں میں نے نہیں کرنی اس جاہل سے شادی میں ایم اے پاس وہ گیارہویں فیل اور ایک سرکاری محکمہ میں درجہ چہارم کا ملازم میں شادی کرونگی تو کسی ماسٹر ڈگری ہولڈر اور اچھی کمائی کرنے والے سے 

ماں :بیٹی جیسے تیرے خواب ہیں اگر ویسا لڑکا مل بھی جائے تو ہماری اتنی اوقات نہیں کہ ہم اس برابر جہیز دے سکیں لہذا تو یہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے 

میری شادی عمر سے ہو گی سہاگ رات کو مشکل مرحلہ سمجھ کر چپ ہو گی عمر اکلوتا تھا ماں دو سال پہلےچل بسی اور باپ بھی چھ ماہ پہلے دوران سروس ڈیٹھ ہو گیی اور عمر کو باپ کی جگہ پر ملازمت مل گئی تھی 

سیکس کے دوران میں ہمیشہ ایسے کہ جیسے کوئی بے جان کے ساتھ کر رہا ہے اور اسے کوئی رسپانس نہیں دیتی میں ہمیشہ عمر کے مرنے کی دعا کرتی کسی طریقے سے میری جان چھوڑ دی قصہ مختصر یہ کہ مجھے عمر کی شکل بالکل پسند نہیں تھی بات بات پر اسکی بےعزتی کرنا اور زلیل کرنا میرا معمول بن گیا شادی کے ڈیڑھ ماں بعد اس بات پر ناراض ہو کر عمر مجھے گھر کے اخراجات کے لیے مجھے پیسے بالکل نہیں دیتا مجھے نہیں رہنا اس جاہل گوار کے ساتھ مجھے اس سے طلاق چاہیے ماں نے کہا کہ بیٹا وہ دل سے سوچتا ہے دماغ سے نہیں لہذا کل اس کو بلا کر بات کرتے ہیں 

اگلے دن عمر آیا اور ابا نے کہا کہ عمر بیٹا اگر آپ عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار دے سکتے ہیں تو عاصمہ کو ساتھ لے جا سکتے ہو 

عمر: ٹھیک ہے انکل میں عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار گھر کے اخراجات کے لئے دینے کے لیے تیار ہوں اور میں پھر ایک بار گھر واپس آ گیی 

عمر اب مجھ ہر مہینے 40 ہزار دیتا لیکن میں اس کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کبھی کھانے میں نمک تیز کبھی مرچ تیز تو کبھی کھانے اچھے سے نہ پکانا اور اسے کبھی کھانا نہ دینا وہ خود فریج سے نکال کر گرم کر کے کھاتا تھا اور آتے ہی سو جاتا کہ جیسے مردہ ہو اور اب ہفتے میں ایک بار ہی سیکس کرتے تھے میں نے شکر ادا کیا کہ اچھا ہے 

ایک دن میں نے عمر سے کہا کہ مجھے آی فون چاہیے عمر نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا کہ میری جان میں تمہیں آی فون بھی لا دوں گا لیکن تم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکوں گا بہت محبت کرتا ہوں تم سے تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا 

مجھے ایک مہینے کے اندر آی فون چاہیے نہیں تو عدالت میں جا کر خلع داہر کر دوں گی عمر میرے قدموں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا 

کمبخت سے جیتنی نفرت کرتی ہوں اتنی ہی شدت سے محبت کرتا ہے کیسے جان چھڑواں اس سے 

دو دن بعد اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بازار جا رہی تھی کہ بس سٹینڈ کے قریب کیب خراب ہو گئی ایسے ہی میرا دھیان بس سٹینڈ کی طرف گیا تو میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا میں بے جان ہو گیی 

وہ عمر جس سے میں نفرت کرتی تھی 

جسے میں ان پڑھ جاہل گوار کہتی 

جیسے میں نے کبھی پیار سے کھانا نہیں دیا 

جیسے میں نے کبھی انسان نہیں سمجھا 

جس کا کبھی حال تک نہ پوچھا 

جیسے کبھی قبول نہیں کیا 

وہ سر پر بوجھ آٹھاے کسی بس کی چھت پر چڑھ رہا تھا اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے کپڑے ٹوٹی ہوئی چپل پسینے میں شرابور بس پر سامان لوڈ کرنے کے بعد اترا

میں مر کیوں نہ گیی وہ میرے لیے کیا کچھ کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی کی آواز سنائی دی کہ چل اوے یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کی چھت پر رکھ

عمر کو شاید بھوک لگی ہوئی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا سامان اٹھا کر ساتھ میں روٹی کھانے لگا

میں قربان جاؤں میرا عمر میرے لیے کس درد سے گزر رہا ہے میں آنکھوں میں آنسو لیے دیکھتی رہی کام ختم ہوا وہی ایک دوکان کے سامنے زمین پر بٹھ گیا اور روٹی کھانے لگا کتنی بے بسی کتنا درد عمر سارا دن وہاں کام کرنا رات کو میری جلی کٹی سننا وہ ایک حادثہ تھا یا قدرت کا کرشمہ کہ میرا دل بدل گیا اور وہاں سے گھر واپس لوٹ گیی اور خوب رو رو کر دل کا بوجھ ہلکا کیا پھر عمر کے پلاو بنایا اور واش روم میں گھس کر اپنے جسم کی صفائی کی اور ہلکا سا میک اپ کیا پھر اپنی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار عمر کے کپڑے پریس کیے 

آدھے گھنٹے بعد عمر گھر آیا تو میرا دل کیا کہ ابھی اسے اپنے سینے سے لگا کر سب دکھوں کو اپنے اندر سمیٹ لوں لیکن مینے اسے نہانے کا کہا اور خود اس کے لیے کھانا لگایا کھانے کے بعد وہ تھکاوٹ کے بستر پر نیم دراز ہو گیا اور میں اس کے قدموں میں جا بیٹھی کہ دل کیا اسکے قدم چوم لیے عمر نے حیران ہو کر کہا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا اور اگر پیسے چاہیے تو یہ لو میرا کلیجہ پھٹ پڑا رو رو کر عمر سے معافی مانگے لگی کہ مجھے نہیں چاہیے یہ کاغذ کے ٹکڑے مجھے میرا عمر چاہیے 

یہ کہتے ہوئے میں اسکے چہرے کو چومنے لگی ماتھے پر آنکھوں پر گالوں پر اسکے چہرے پر ہر جگہ اپنے ہونٹوں کہ مہریں ثبت کرنے لگی بے خودی کے عالم میں کب میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں کی قید میں تھے کبھی میرا اوپر والا ہونٹ چوستا تو کبھی نیچے والا اور ایک ہاتھ میری گردن پر اور دوسرا میری 36 کی چھاتی پر حرکت اور نیچے چوت میں بخارات کے قطرے بننا شروع ہو گئے کہ عمر نے میری قمیض کا دامن پکڑا تو میں نے ہاتھ اٹھا دیے اس نے میری قمیض اتار اب میں محض سرخ رنگ کی براہ تھی جو میری سفید چٹانوں کو قید کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے لیکن عمر کے ہاتھوں نے ان کو بھی آزادی دے دی اور اپنی زبان کو میری کلویج لاہن میں پھرنے لگا کہ بے خودی میں اسکا سر اپنی چھاتیوں پر دبانے لگی مزے سے مدہوش میرے وجود میں چھانے لگی کہ عمر نے مجھے نیچے لٹایا اور خود میرے اوپر آگیا اور میرے پیٹ چومنے لگا کہ مزے سے تڑپ اٹھی اور اپنا سر دائیں بائیں کرنے لگی اور اسکے ہاتھ میری شلوار کو نیچے کھنچے لگے میں نے اپنی گانڈ اٹھا کر اسے اجازت دی پھر عمر نے اپنے کپڑے اتارے صاف شفاف بدن خوبصورت صرف چھاتی کے عین درمیان ہاتھ کی ہتھیلی جتنے بال نیچے سات انچ کا لنڈ انتہائی شان مجھے گھور رہا تھا کہ اس میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی جھٹکے میں اس ظالم کو اندر کا راستہ دیکھا یا 

آآہہہہہہہہہہہہہہہ ظالم آرام سے کرو 

کہیں نہیں جا رہی میں 

میری جان آج پہلی بار تمہارا موڈ بنا ہے تو اس موقعے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہوں 

جانی آج کے بعد یہ راستہ ہر وقت تمہیں دستیاب ہو گا اور ہر وقت موڈ بھی ایسے ہی ملے گا 

آہہہہہہہ جانی اب آرام سے کرو 

آہہہہہہہہ آہہہہہہہ

آہہہہہہہہ 

عمر مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کرو گے آہہہہہہہہ

ہاں جان ہمیشہ ایسے ہی 

آہہہہہ میں قربان جاؤں اپنی  جان پر اور اپنی ٹانگوں کو کندھوں سے اتار کر اسکی کمر کے گرد لپیٹ لی 

ظالم کی  ہرچوٹ مجھے مزے کی نہی وادیوں میں دھکیل دیتی اور اسے خود کی طرف جھکَا کر والہانہ اسکے ہونٹ چوسنے لگی جیسے مدتوں کی پیاسی ہوں آہہہہہہہ 

عمر ایسے چودو مجھے جیسے آخری مرتبہ کر رہے ہو عمر میری جان آج مجھ پر خوب ظلم کرو عمرررررررررررررررررر

اسکے ساتھ ہی میری چوت نے پانی کا پھورا چھوڑ دیا اور میری سانسوں میں تیزی آئی ایسے جیسے میلوں بھاگ کر آہی ہوں 

 

 

 

 

 

 

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

On 2/7/2021 at 7:39 PM, Ch azaan said:

very nice dear nice start 

achi storie hy agar agy b chali to 

bohat maza aye ga 

please keep it up good work

سٹوری کی اپڈیٹ شاید لیٹ ہو جائے کیونکہ اگلے دو ہفتوں کے دوران میرے ہاں جڑواں بیٹوں کی ڈلیوری ہے 

Link to comment
9 hours ago, طاہر جنید said:

Story achhi hy kia isko Thora zyada lamba kia ja skta that?

جی جنید صاحب کہانی کی ابھی دو اپڈیٹ باقی ہیں لیکن پھلے ہی بتایا ہے کہ اپڈیٹ ذرا لیٹ ہو گی

Link to comment
  • 2 weeks later...
  • 2 weeks later...
×
×
  • Create New...