Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 18/02/21 in all areas

  1. ہر انسان کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ان چاہے اور انجانے میں اس سے سرزد ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا جو میں آپ لوگوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے تو اپنے تعارف کرا دوں۔میں نرسنگ کا سٹوڈنٹ ہوں اور ملتان شہر میں رہائش پذیر ہوں۔اب اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔ سیکس کی دنیا سے میں اس وقت روشناس ہوا جب ابھی میں تقریباً گیارہ سال کا تھا۔ میں دینی تعلیم کے حصول کیلیے مدرسے جای کرتا تھا جب سکول سے واپس آتا تھا۔ مدرسی میں بہت ہی اچھے دوست بن گئے تھے ور زندگی آرام و سکون سے گزر رہی تھی۔ میرا ایک ساتھی طالب جس کا نام وحید تھا قد کا سانولا چٹا اور بہت ہی خوبصورت لڑکا تھا۔اس کی حرکتیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی لڑکی ہو۔ کریمیں اور بلیچ بھی لگاتا تھا۔ اس نے تعلیم مکمل کر لی ا تھی اور اب اس کا آخری سال چل رہا تھا۔ مساجد میں پڑھے لوگ جانتے ہیں کہ جمعرات کے دن معمول سے ہٹ کر جلد چھٹی دے دی جاتی اور سب اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے تھے۔چند لڑکے صفائی کیلیے رکا کرتے تھے اور ان میں وہ لڑکا بھی شامل ہوتا تھا۔ خیر میں بھی گھر چلا جاتا اور یہ سب ایک سال سے جاری تھا۔ ایک دن چھٹی کے وقت کچھ لڑکے آپس میں بیٹھ کر گفتگو کر رہے تھے اور میں کھیل رہا تھا۔اچنک میرے کانوں میں آوز پڑی کہ استاد اور وحید کا کوئی چکر ہے تبھی تو استاد اسے روک لیتا ہے اور سب کو چھٹی دے دیتا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے کن کھڑغہو گئے اور میں ان کی باتیں سننے کی کوشش میں لگ گیا۔ مجھے شک ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے مگر وہاں تو سری دال ہی کالی تھی۔خیر جتنا میں نے سنا اس نے میرا تجسس بھرا دیا اور میں ان لڑکوں میں سے یک سے دوستی بڑھانے شروع کر دی جس کا نام نادر تھا۔ دن گزرتے گئے اور ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ ب وہ مجھ سے ہر بات شئیر کرتا تھا۔مجھے اپنا پلان کمیں ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یک دن باتوں ہی باتوں میں میں اس سے پوچھا کہ اک بات بتاؤں تمہیں اس نے بولا کہو۔ میں نے کہا لگتا ہے وحید کسی سے گانڈ مرتا ہے کیوں کہ دن بدن اس کی گانڈ موٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا پاگل آہستہ بولو کوئی سن لے گا۔ میں نے کہا بتاؤ تو سہی کیا بات ہے۔ تب اس نے بولنا شروع کیا ۔ آگے کی کہانی اس کی زبانی سناتا ہوں۔ یہ تمہارے آنے سے پہلے کی بات ہے کہ اس وقت وحید نیا نیا آیا تھا۔ شروع میں استاد اس پر بہت توجہ دیتے تھے اور اس کی غلطیوں کو معاف کر دیتے تھے۔ اس سے اس کو شہ ملنا شروع ہو گئی اور وہ سب سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے گرمیوں جب سب سو رہے تھے تو اس نے ایک لڑکے سے لڑائی شروع کر دی اور اسے بہت مارا۔ اس لڑکے نے استاد کے کمرے میں جا کر شکایت لگائی تو استاد نے اسے کمرے بلا لیا۔ انہوں نے دونوں کی بات سنی اور وحید کو کن پکڑ دیے۔تھوڑی دیر بعد استاد نے دوسرے لڑکے کو جانے دیا اور وحید کو کھڑا کر دیا۔ تم کیوں کر وقت لڑتے رہتے ہو استاد نے پوچھا۔ سر میں تو بس مزاق کر رہا تھا اور اس نے آپ کو بتا دیا وحید نے جواب دیا۔ تمہاری شرارتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور اب تمہارا علاج کرنا لازمی ہے ۔ یہ کہ کر انہوں نے ڈنڈا اٹھایا اور اسے مارنے لگے ۔ وہ روتے ہوئے استانی آج معاف کر دیں آئندہ نہیں کروں گا۔استاد نہیں آج تمہارا دماغ درست کر کے چھوڑوں گا۔ استانی آپ کو کہو گے میں کروں گا آج معاف کر دو۔ ٹھیک ہے اب جیسا میں کہوں ویسا کرنا ہے تمہیں۔ ٹھیک ہے استاجی۔ میں نیند کر چکا تھا اور کچھ دیر میں دو بارہ کلاس لگنی تھی تو میں تھا اور منہ ہاتھ دھونے کیلیے نلکے کی طرف گیا جو کہ استاد کے کمرے کے پیچھے بنا ہوا تھا۔میں واپس آ رہا تھا کہ میں نے اک آواز سنی جو کہ چیخ سے مشابہہ تھی۔۔۔غور کیا تو استاد کے کمرے سے سنائی دی۔ بد قسمتی یا خوش قسمتی سے کھڑکی بند نہیں تھی اور میں اندر دیکھ سکتا تھا۔جیسے ہی میں نے اندر جھانکا میرا سانس اوپر کا نیچے رہ گیا اور میرے منھ سے نکلا اس تواڈی بہن نون۔۔۔۔
  2. 1 like
    update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ اس دن کے سیکس کے بعد سے اب تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔آنٹی نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔ میں سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں جا کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور اب اُنکے ہاتھ میں دو کپ تھے۔جس میں سے ایک اُنہوں نے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے کپ پکڑا اور چائے پینے لگا۔ لیکن مجھے مجھے جلدی تھی کے کب ہم دونوں اپنے کپڑے اتار کر ننگا ناچ شروع کریں۔ مینے جلدی سے چائے ختم کی تب تک آنٹی بھی اپنی چائے ختم کر چکی تھیں۔میں نے اپنا کپ پلنگ کے نیچے رکھا اور جھٹ سے آنٹی کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اور کسنگ شروع کر دی۔ آنٹی بھی برابر کا ساتھ دے رہی تھیں۔میرے ہاتھ آنٹی کے جسم پر رینگ رہے تھے۔میں آنٹی کی پیٹھ کو سہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنٹی کو اپنی بانہوں میں دبا رہا تھا جس سے آنٹی کے ممّے میرے سینے میں گڑھ رہے تھے۔میں اپنے ہاتھ نیچے کر آنٹی کی گانڈ کو پکڑ لیا اور زور زور سے دبانے لگا لیکن مجھے تھوڑی ہی دیر میں احساس ہوا کہ آنٹی نے شلوار کے اندر پینٹی پہنی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کہیں آنٹی منسس میں تو نہیں۔یہ سوچ میں اپنا ہاتھ آگے لے آیا اور آنٹی کی چُوت کی جگہ کو چیک کیا تو واقعی میرے نصیب میں رنڈی ناچ رہی تھی۔آنٹی کے پیریڈز چل رہے تھے۔اور مجھے ہاتھ سے آنٹی کا پیڈ صاف محسوس ہو رہا تھا۔ آنٹی بھی میری اس حرکت سے سمجھ گئیں کے میں جان چکا ہوں کے دال نہیں گلے گی آج۔ اور میرے چہرے پر مایوسی بھی چھا گئی تھی جو آنٹی نے نوٹ کر لی تھی۔ آنٹی نے پھیر سے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔اور جھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور میری بیلٹ کھولنے لگیں۔ آنٹی نے پہلے بیلٹ پھیر میری جینز کا بٹن اور اور پھر زپ کھول کر میری پینٹ نیچے کر دی اور میرے انڈرویئر کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی میرا لںڈ جو کسنگ کے دوران فل کھڑا تھا اور پیریڈز کا پتہ چل کے اب نیم کھڑا ہو گیا تھا و پھیر سے اپنی فل پاور میں آنے لگا۔ آنٹی نے میرا انڈرویئر نیچے کیا اور میرے لن کو ہاتھ میں لے کر مٹھ لگانی شروع کر دی۔مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔میری آنکھیں مزے سے بند ہو گئیں۔تھوڑی دیر بعد مجھے اپنے لن پر کچھ گیلا محسوس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو آنٹی میرا لن زبان سے چاٹ رہی تھیں۔یہ دیکھتے ہی مجھ پر شہوت کا ایک زبردست وار ہوا اور میرے لن نے زور کا جھٹکا لیا اور آنٹی میرے لن کو ایسے جھٹکے لیتے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ آنٹی نے دیر نہ کرتے ہوئے اپنا من کھولا اور لن منہ میں لے لیا۔زندگی میں پہلی بار کوئی عورت میرے لن کو چوس رہی تھی۔ عورت اس لیے لکھا کیوں کے اس سے پہلے بھی ایک بار میں گلی کے بچے کو دس روپے کا لالچ دے کر اپنا لن چسوا چکا تھا۔ مزا تو اس وقت بھی آیا تھا لیکن آنٹی کے چوسنے کی بات هی کچھ اور تھی۔ آنٹی مزے سے میرا آدھا لن منہ میں کے کر اندر باہر کر رہی تھیں اور میں کسی اور ہی دنیا کی سیر کرنے رہا تھا۔اسی مزے میں مینے آنٹی کے سر کو پکڑ لیا اور خود لن کو اندر باہر کرنے لگا۔آنٹی نے یہ دیکھ کر اپنے منہ کو ڈھیلا چھوڑ دیا تا کہ میں آرام سے اُن کے منہ کو چود سکون۔ میں نے بھی تیزی سے آنٹی کے من کو چودنا شروع کر دیا۔ جب میرا آدھے سے زیادہ لن آنٹی کے منہ میں چلا جاتا تو آنٹی کو کھانسی آجاتی۔آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا تا کہ میں اپنا لن آدھے سے زیادہ اُنکے منہ میں نہ ڈال سکوں۔ میں دس منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے من کو چودتا رہا۔اور فارغ ہونے کے قریب آ گیا۔میری سسکیاں نکلنے لگیں جسے سن کر آنٹی سمجھ گئیں کے میں اب جھڑنے والا ہوں تو آنٹی نے میرے لن کو منہ سے نکالا اور زور زور سے ہلانے لگیں۔ میرا لن بھی یہ وار برداشت نہ کر سکا اور میں فارغ ہو گیا۔ آنٹی میرے سامنے سے ہٹ گئیں تھیں اس وجہ سے میرے لن سے نکلنے والی منی کی دھار زمین پر جا گری ورنہ آنٹی اگر سامنے سے نہ ہٹی ہوتیں تو میری منی آنٹی کے منہ پر ہی گرتی۔ فارغ ہونے کے بعد آنٹی اٹھیں اور سیدھا واشروم چلی گئیں اور ہاتھ منہ دھو کر اور کلی کر کے آ گئیں۔واپس آتے وقت اُنکے ہاتھ میں ایک گندا کپڑا تھا جس سے اُنہوں نے زمین پر گری میری منی کی صاف کر دیا۔ میں پلنگ پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا اور میری پینٹ اب بھی میرے گھٹنوں پر تھی اور لن مرجھایا ہوا تھا۔ آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے واشروم جانے کا کہا میں اٹھ کو واشروم گیا اور اپنی حالت درست کر کے واپس آ گیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ آنٹی پہلے سے ہی پلنگ پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھ رہیں تھیں۔ میری طرف دیکھ کر آنٹی نے پیاری سی مسکراہٹ دی اور کہا۔ آنٹی: مزا آیا؟ میں: ہاں بہت لیکن پہلے جیسا نہیں۔ آنٹی مسکرائیں اور کہ وہ مزا بھی جلد مل جائیگا۔ میں تھوڑی دیر آنٹی کے گھر بیٹھ کر واپس اپنے گھر آ گیا اور اپنا اسکول کا ہوم ورک کرنے لگا۔
  3. ہمیں فورم کی ممبرشپ سے ہونے والی آمدنی سے اتنا موصول نہیں ہو پاتا ۔جتنا کہ ہم فورم پر خرچ کرتے ہیں۔ہر لحاظ سے فورم کا فائدہ ممبرز کو ہی ہے۔پیڈ ممبرز تو ممبرشپ کے لیئے پے کرتے ہیں۔مگر ہم فورم کے اخراجات پے بھی کرتے ہیں ۔اور الٹا اس پر محنت بھی کرتے ہیں۔تاکہ آپ سب ممبرز کو کچھ اچھا مل سکے۔مقصد صرف تفریح ہے۔فورم سے کمانا ہمارا مقصد نہیں۔
  4. dr sb u r grate qasam sa bohat maza aya samag nahe a rahe ma kase shukria ada karo zabardast bohat he alla

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.