Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 02/02/21 in Posts

  1. مٹی کا قرض اپنے آٹھ ماہ کے بیٹے کو سریلیک کھلا کر تحریم نے اپنی ساس کو پکڑایا اور کچن کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ ٹی وی پر چلتے پروگرام کو روک کر نیوز الرٹ چلا دیا گیا تھا۔ آجکل اس کے دل کو ویسے ہی دھڑکا لگا رہتا تھا۔ کچن میں جاتے جاتے تحریم نے پلٹ کر دیکھا اور اس سے پہلے کے نیوز کاسٹر کچھ کہتا اسکرین پر نظر آتی اپنے شوہر کی تصویر کے ساتھ لکھا "وزیرستان میں تیس سالا کیپٹن اسد خان شہید" دیکھ کر اسے لگا کہ پورا آسمان اس کے سر پر آگرا تھا۔ اس نے ایک دو بار آنکھیں میچ کر دوبارہ اسکرین پر نظر آتے منظر کی طرف دیکھا کہ شاید یہ اس کا وہم ہو۔ مگر ٹی وی اسکرین پر ایک طرف پاکستان آرمی کے یونیفارم میں ملبوس مسکراتا ہوا اور ایک طرف خون میں لت پت وہ اس کا شوہر ہی تھا۔ اس نے خالی خالی نگاہوں سے اپنی ساس اور بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر ٹی وی کی طرف۔ اسے سائیں سائیں کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ نہ اپنی ساس کے بین، نہ بیٹے کے چیخ چیخ کر رونے کی آواز اور نہ ہی نیوز کاسٹر کے ہلتے لبوں سے وہ کچھ سن پائی تھی۔ "تحریم اسد چلا گیا۔" اس کی ساس نے روتے ہوئے اسے جھنجوڑا تھا اور تحریم نے بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا۔ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل، گھر کا فون سب ایک ساتھ بج اٹھے تھے اور اسے ہر طرف ایک شور اٹھتا محسوس ہوا۔ قیامت کا شور، قیامت ہی تو آئی تھی ان کی زندگیوں میں۔ "کیپٹن اسد شہید؟" اس کے لبوں سے بڑبڑاہٹ کی صورت نکلا تھا۔ ہاتھ میں پکڑی پیالی کب ہاتھ سے چھوٹ کر چکنا چور ہوئی اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ شل ہوتی ٹانگوں کے ساتھ اس نے قریبی دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے ہی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوچکی تھی۔ *----------*----------*----------* "اجازت ہے؟" اپنے بیٹے علی کو ڈھیر سارا پیار کرکے وہ اس سے ہر دفعہ ایسے ہی اجازت مانگتا تھا، جیسے اگر وہ اجازت نہیں دے گی تو وہ واقعی رک جائے گا۔ تحریم بھی ہمیشہ ہی سر اثبات میں ہلا دیتی تھی۔ مگر اس دفعہ بات کچھ مختلف تھی۔ ملکی حالات پہلے اس نہج پر نہیں تھے۔ اس کی پوسٹنگ اکثر شہر سے باہر ہوتی تھی مگر اس دفعہ اسے وزیرستان بھیجا جارہا تھا اور تحریم نے رو رو کر اپنا حشر کرلیا تھا۔ اسد نے اسے کتنی مشکلوں سے سنبھالا تھا یہ وہی جانتا تھا۔ اب بھی بہت ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا تھا کہ کہیں تحریم کے آنسو اسے کمزور نہ بنادیں۔ مگر جانا تو اسے تھا ہی اور وہ ہمیشہ کی طرح بالکل تیار کھڑا، کندھے پر بیگ ٹانگے اس سے اجازت مانگ رہا تھا۔ "اسد کیا۔ ۔ کیا آپ منع نہیں کرسکتے؟ آپ کہیں نا کہ بے شک کہیں اور پوسٹنگ کردیں، مگر وزیرستان۔ وزیرستان کے حالات۔ اسد میرا دل نہیں مان رہا۔" وہ ایک بار پھر کئی دفعہ کی، کی گئی باتیں دوہراتے ہوئے بہت آس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ساتھ ہی آنکھوں سے پھر آنسو بہہ نکلے تھے۔ "تحریم، یہ تم کہہ رہی ہو؟ جس وقت وطن کو میری ضرورت ہے میں منع کردوں؟ پھر کیا فائدہ ایسے پیشے میں جانے کا جب انسان اپنی ذمہ داری ہی نہ نبھائے۔ ایسے نہیں کرتے۔ میں بہت پرسکون ہوں کہ آج ضرورت پڑنے پر ہم سب ساتھ کھڑے ہیں۔ میں کیسے اپنے ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ کر مزے سے گھر میں بیٹھ جاؤں؟ اور میں اکیلا تو نہیں جارہا، ہمارے ہی گھر سے آذر بھی تو جارہا ہے۔ تم نے دیکھا چچا، چچی نے اسے فوراً اجازت دے دی۔ اب جلدی مجھے بھی اجازت دیجیئے محترمہ، دیر ہورہی ہے۔" سنجیدگی سے کہتے کہتے اسد نے مسکرانے کی کوشش کی تھی۔ اور تحریم کا ہاتھ تھپتپا کر اس کی ہمت بندھائی۔ "مالک کی امان میں۔" وہ جانتی تھی اس کی کوئی دلیل اسد کو نہیں روک سکتی اس لیے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس نے کہا تھا اور اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے سر جھکا لیا۔ "تم تو بہت بہادر ہو نا تحریم۔ آنسو کمزوری کی نشانی ہوتے ہیں۔ رونا نہیں۔ وعدہ کرو روؤ گی نہیں اور میرے صاحبزادے کا بہت خیال رکھنا ہے۔ سن لیا نا۔" " اوکے جناب نہیں رورہی۔ اور آپ ہر دفعہ ایسے اجازت مانگتے ہیں جیسے میرے کہنے سے تو رک جائیں گے۔ ایسی اجازت کا فائدہ جب انسان کو اپنی مرضی ہی کرنی ہے۔" اس نے آنسو پونچھتے ہوئے نروٹھے پن سے کہا۔ "یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ چلو پھر یہ آخری بار۔ وعدہ اگلی دفعہ سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ مگر اس دفعہ تو اجازت مانگ چکا، تو پھر میں جاؤں؟" اس نے شرارت بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا۔ تحریم نے اداس مسکراہٹ کے ساتھ سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ وعدے کا اتنا پکا ہوگا کہ واقعی دوبارہ اجازت نہیں مانگے گا۔ اگلی دفعہ کیا، وہ جو ہر بار اس سے بڑے مان سے "اجازت ہے" کہتا تھا۔ اتنے لمبے سفر پر جانے سے پہلے اس سے ایک لفظ تک نہیں کہے گا۔ جاری ہے*----------*----------*----------*
  2. قسط نمبر 12 تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو کمرے میں کومل داخل ہوئی۔ کومل کی عمر تقریبا22/23سال ہے اور ہماری فیکٹری کے منیجر کی بیٹی ہے کومل چھوٹی ماں کی کافی اچھی دوست ہے۔ اور اکثر چھوٹی ماں پاس آتی رہتی ہے۔ کومل واقع ہی کومل تھی تیز دودھیا رنگ جس میں ہلکاسا گلابی پن پتلے ہونٹ لمبی گردن قد اس کا تقریبا5فٹ 4انچ کے پاس ہوگا مموں کا سائز 36تھا اور پتلی کمر کے نیچے ہلکی سی باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ۔ تھوڑی ماڈرن تھی اور پڑھی لکھی تھی کل ملا کر دیکھنے کی چیز تھی اس وقت اس نے ایک ڈارک گرین کلر کی شلور قیض پہن رکھی تھی۔ اس بار تو چھوٹی ماں نے سچ میں سراپرائس کردیا۔ اس کو دیکھتے ہی میرے جسم میں ہل چل ہونے لگ پڑی تھی۔ کومل آہستہ سے آگے آئی اور ہلکی سی آواز میں بولی مجھے سدرہ(چھوٹی ماں) نے بھیجا ہے۔ میں بولا بیٹھ جاؤ تو وہ بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ کومل لڑکی ہے پہل کبھی نہیں کرے گی یہ بات مجھے ناز نے اچھی طرح سمجھا دی تھی۔میں نے پوچھا کیا حال ہے اور آج کل کیا کررہی ہو بولی کہ آج کل فارغ ہوں اور اب آپ کا آفس جوائن کروں گی۔میں نے بولا اچھی بات ہے۔ میں نے اس سے پوچھا صرف ایک سوال کروں گا بس کہ کیا تم اپنی مرضی سے آئی ہو میرے روم میں یا کوئی زبردستی ہوئی ہے تم کے ساتھ کسی قسم کا لالچ دیا گیا ہے۔سچ بتانا باقی میں سنھبال لوں گا۔ ایک بار تو اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا پھر آہستہ سے بولی ایسی کوئی بات نہیں میں کسی لالچ میں نہیں آئی سدرہ نے مجھے بولا تو میں اس کو منع نہیں کرپائی۔اس کی اور میری دوستی ہی ایسی ہے۔میں بولا ٹھیک تم کو کسی قسم کا کوئی اعتراض تو نہیں بولی نہیں میں اپنی مرضی سے آپ کے روم میں آئی ہوں۔ میں کنفرم کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں سردار تھا ہر قدم پھونک کر رکھنا تھا ویسے چھوٹی ماں نے سب چھان پھٹک کر ہی بھیجا ہوگالیکن میں پھر بھی کوئی رسک نہ لینا چاہتا تھا۔ میں بولا پھر اتنی دور کیوں بیٹھی ہوپھر وہ اٹھی اور میرے پاس آگئی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اوراس کا ہاتھ پکڑ لیا بیڈ سے اٹھا کر کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا وہ میرے گلے لگ گئی میں نے اس کے منہ کو پکڑا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پررکھ دیے جس کے لیے مجھے تھوڑا سر نیچے کرنا پڑا کیونکہ اس کا قد چھوٹا تھا اس کے ہونٹ کمال کے تھے نرم و نازک وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی اور میرے ہونٹو ں کو کسی ایکپرٹ کی طرح زور زور سے چوس رہی تھی میں نے اس کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیے اور کسنگ جاری رکھی کوئی بھی ہونٹ چھوڑنے کو تیا رنہ تھا۔ آخر جب سانس پھولنے لگی تواس نے ہونٹ الگ کرلیے ایسی کسنگ کا مزا تو ناز نے بھی نہیں دیا تھا۔ میں نے اس کی قمیض پکڑی اور اتاردی ساتھ ہی برا بھی اتار دی اس کے 36سائز کے ممے اچھل کر باہر آگئے جیسے کسی نے زبردستی قید میں رکھا تھا اس کے ممے بڑے نرم تھے جیسے روئی ہو اس پر ہلکے پنکش نپل تھے جو مٹر کے دانے کے جتنے تھے۔ میں نے کومل کو اٹھاکر بیڈپر پھینکا اپنی شرٹ اتار کر اس پر سوار ہوگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا ایک ہاتھ سے مسلتا اور دوسے کو منہ میں بھرتا جتنا ہوتا اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں میں نے 15منٹ اس کے ممے چوس چوس کر اور ہلکے ہلکے کاٹ کر لال کردیے تھے ان پر ہلکے ہلکے نشان تھے کاٹنے کے میرا دل نہیں بھر رہا تھا اس کے ممے تھے ہی ایسے پھر میں نیچے آنا شروع ہوا اس کے پیٹ پر چومنا شروع کردیا اور ناف میں زبان گھسا کر جب چاٹا مارا تو اس کا جسم اکڑا اور اس نے پانی چھوڑ دیا شاہد یہ اس کا ویک پوائنٹ تھا۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ بولی مزا آگیا ایسا مزا پہلی بار آیا ہے اس کا مطلب تھاکہ کومل کنواری نہ تھی پہلے بھی چدوا چکی ہے تب ہی شاہد چھوٹی ماں کے بولنے پر مان گئی تھی۔ بولی اب میری باری ہے تم کو مزا دینے کی مجھے دھکا دے دیا میں لیٹ گیا۔ وہ میرے اوپر آگئی اور میرے ہونٹ چوسنے لگ پڑی پھر میرے سینہ کو چوسنا شروع کردیا میں نپلز پر زبان پھیری تو میری تو جیسے مزے سے جان ہی نکلنے والی ہوگئی پھر وہ نیچے آئی ابھی تک اس نے میرے لن کو نہیں پکڑا تھا اب اس نے میرا لن کو ٹراؤزر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا لیکن جیسے ہی پکڑا حیرانی سے فوراً چھوڑ دیا اور جلدی سے ٹراؤزر نیچے کیا تو میرا لن پھنکاراتا باہر آیا اس نے پہلے تو ہاتھ میں پکڑا اور زور سے دبایا کہ شاہد اصلی نہیں ہے پھر اس کے منہ سے نکلا اتنا بڑا اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی اس کو میرا لوڑا بہت پسند آیا ہے۔اس نے فوراً میرے لن پر تھوک پھینکا اس پر مل دیا پھر اس کو منہ میں بھر لیا جتنا ہوسکتا تھا اور اس کو چوسنا شروع کردیا موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زبان سے رگڑ تو نہ لگاپائی لیکن اس نے ایسا چوسا کہ مزے سے میرے آنکھیں بند ہوگئی اور منہ سے سسکاریا ں اور مزے کے مارے آوازیں نکل رہی تھیں وہ کبھی میرا لن منہ میں ڈال کر چوستی کبھی ہاتھ چلاتی کبھی میرے ٹٹوں کو چوستی۔ مجھے لگا یہ ناز تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں لگتا ہے اس کا کام ہی چدوانا ہے۔ لن چوس چوس کر جب تھک گئی تومیرالن منہ نکالااور بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے میرا منہ تھک گیا ہے میں بولا پچپن کی محنت ہے اس کے ساتھ ہی میں نے اس کے پکڑ کر لٹا لیا ا ور اس پر ٹوٹ پڑا ہونٹ چوسے پھر اس کے مموں کو کچھ دیر چوسا پھر اس کی شلوار اتار ی اس نے گانڈ اٹھا کر شلوار کو پاؤں سے نکالا۔ اس کی پھدی بالکل صاف تھی جیسے ابھی صاف کرکے آئی ہواس کی پھدی سے مست قسم کی خوشبو آرہی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھی پھدی پرٹوٹ پڑا اور ایک انگلی اس کی پھدی میں داخل کر کے آگے پیچھے کرنے لگا اور ساتھ میں اس کا دانہ چوسنے لگا تو اس کی آواز سسکیوں کی جگہ چیخوں میں بدل گئی اس کو بہت مزا آرہا تھا میرا یہ وار وہ سہ نہ پائی اور جلدہی پانی چھوڑ دیا جو میں نے پی لیا پہلی بار جب ناز کا پانی پیا تھا تو عجیب سا لگا تھا اب کومل کا پیا ہے تو بہت مزا آیا اس کی پھدی کو چاٹ کر صاف کردیا۔کومل بولی میں تو تم کو مزے کروانے آیا تھی تم نے مجھے ہی مست کردیا ہے میں نے بولا اصلی مزا تو ااب آئے گا اور اپنا لن اس کے منہ کی طرف کردیا اس نے منہ میں لیا اور تھوڑا ساچوسا پھر اس پر تھوک پھینک دیا پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آیا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر لیں بولی آہستہ کرنا اتنا بڑا کبھی نہیں لیا میں نے۔ میں نے لن اس کی پھدی پر رکھا اور پھیرا تو اس کی سسکی نکل گئی بولی اب ڈال دو انتظار نہیں ہورہا۔ میں نے بھی لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہلکا دھکا مارا جس سے میرا لن تین انچ تک اندر چلا گیا ا س کی ہلکی سی چیخ نکل گئی میں رک گیا پھر ایک دھکا مار اتو میرا آدھا لن اس کے اندر چلا گیا اس نے ایک زور دار چیخ ماری میں رک گیا اور اس کے اوپر جھگ گیا اور اس کے مموں کو منہ میں بھر لیا چوسنے لگ پڑا تھوڑی دیر بعد اس نے گانڈ ہلائی تو میں نے بھی آہستہ سے باہر نکال کر ہلکے دھکے لگانے شروع کردیے سپیڈ سلو رکھی۔اس کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں اس کی پھدی ناز کی پھدی سے ٹائٹ تھی لیکن اتنی ٹائٹ نہ تھی اب کومل بھی میراساتھ دے رہی تھی میں نے آدھے لن سے ہی چدائی جاری رکھی 10منٹ کے بعد اس کے جسم نے اکڑنا شروع کیا میں نے اس کے ہونٹو ں کو منہ میں بھر لیا اس کے اوپر لیٹ گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں نے لن سارا باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رکھی اور ایک زور دار دھکا مارا جس سے میرا سارا لن اس کے اندر جڑ تک گھس گیا اس نے زور سے چیخ ماری جو کہ میرے منہ میں ہی رہ گئی اس نے جھٹکے کھانے شروع کردیے۔ میں اس کے اوپر لیٹا رہا کومل کی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے اس کے آنسو کو چاٹ کر صاف کیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد کومل نارمل ہوگئی میں نے آہستہ سے لن باہر نکالا اور اندر ڈال دیا جس سے کومل کی سسکاری نکل گئی۔ کومل بولی میری جان نکال دی تم نے کوئی ایسا بھی کوئی کرتا ہے میں بولا کیا کرتا پورا تو ڈالنا ہی تھا۔ بولی تو آرام سے ڈالتے نہ میں نے کہا اب سارا چلا گیا ہے بولی سچ میں بولا ہاں بولی مجھے یقین نہیں ہورہا میں نے کہا چیک کرلو اس نے ہاتھ نیچے لے جا کر دیکھا بولی واہ میں اب آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کردیے تھے۔ کومل بولی آہستہ اف آرام سے کرو پھر بولنے لگ پڑی مزا آرہا ہے تیز کرو میں نے بھی رفتار بڑھا دی جتنا ہوسکتا تھا اتنی تیزی سے دھکے لگانے لگ پڑا اس کی سسکیاں بلند ہوچکی تھیں پھراس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا میرے لن پر گرم گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نے دھکے جاری رکھے تو کومل نے چیخنا شروع کردیا۔ لیکن میں نہ رکا میری رفتا ر طوفانی ہوچکی تھی کومل نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کوقابو رکھا اور دھکے جاری رکھے پھر آخری جھٹکا مارا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ میرے لن سے پچکاریاں نکل نکل کر اس کے پھدی کو بھر رہیں تھیں جب آخری قطرہ نکل گیا تو میں اس کے اوپر اٹھ گیا تو پھدی سے اس کااور میرا پانی اور تھوڑی سی لالی نکل نکل کر نیچھے گر رہی تھی۔ اور اس کی پھدی کھل بند ہو رہی تھی۔ میں سائیڈ لیٹ گیا سانس بحال کیا اٹھا اور کومل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھو ں جاری تھے میں جلدی اٹھا فریج سے جوس نکال اور اس کی طرف بڑھا اور اس کو اٹھا کر پلایا اور اس کو سوری بولا تو بولی تم نے مجھے زندگی کا مزا دے دیا سوری کیوں بول رہے ہو بول مجھے تو بہت مزا آیا ایسی چدائی کبھی زندگی میں نہیں ہوئی میں بولا تو تم رو کیو رہی ہو بولی انسان ہوں درد تو ہوتی ہے تم نے تو میرا اندر ہلا کررکھ دیا ہے بہت درد ہوا لیکن اس درد میں جو مزا ملا اس کو کبھی نہیں بھولوں گی تم کی جو تعریف سنی ہے اس سے بڑھ کر پایا میں بولا ہیں میری تعریف کس نے کر دی بولی سدرہ نے کی ہے میں بولا انہوں نے کب دیکھا بولی ان کو ناز نے بتایا تھا تم کے لن کے بارے تم کے سٹیمنے کے بارے میں تم کی چدائی کے بارے میں جب سدرہ نے مجھے سے بتایا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ان کے سامنے خواہش کی تم سے چدنے کی میر ی ان کی دوستی ایسی ہے کہ وہ منع نہ کرسکیں۔ مجھے اب معلوم ہوا اصل بات کیا تھی خیر میں نے بھی جوس پیا۔ میں نے بولا چلو دوسرا روانڈ سٹارٹ کرتے ہیں بولی نہیں ابھی کچھ دیر رک جاؤ تم کو برداشت کرنا اتنا آسان بھی نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔ وہ اٹھی اور لنگڑاتی ہوئی باتھ روم گئی فریش ہونے پھر میں گیا واش روم وہ نہا رہی تھی میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کو اپنی طرف پلٹ کر کسنگ کرنا شروع کردی وہ بھی میر ا ساتھ دینے لگ پڑی پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا اس نے سسکنا شروع کردیا پھر میں نے اس کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف سے کیا جو کہ کھڑا ہوچکا تھا اور جھٹکے لگارہا تھا میں کموڈ پر بیٹھ گیا تو کومل نے لن منہ لیا اور چوسنا شروع کردیا اس کا چوپاکمال کا تھا مجھے بہت مزا آرہا تھا میں نے اس کے منہ میں دھکے لگانے شروع کردیے جس سے اس کی رال بہ رہی تھی اور اس کے منہ سے گھو گھو کی آواز نکل رہی تھی۔ میں نے لن اس کی منہ میں دبایا جتنا جاسکتا تھا اور روک لیا دو چار سیکنڈ روکا پھر نکالا تو اس کی کھانسی نکل گئی میں رک گیا پھر اس کو میں نے گھوڑی بنا دیا کومل کموڈ پکڑ کر جھگ گئی میں نے لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک جاندار دھکا مارا میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی پھدی میں چلا گیا اس منہ سے چیخ نکلی میں نے ساتھ ہی دوسرا دھکا مارا میرا پوا لن اس کے اندر تھا پھر میں نے تیز رفتار دھکے لگانے شروع کردیے اس کی چیخے نکل رہی تھی میں نے کوئی پرواہ نہ کی پھر مجھے لن پر گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نہیں رکا وہ نیچے گرنی لگی میں نے اسے کو پلٹا کر گود میں اٹھا لیا اور لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اور اس کو چودتا چودتا کمرے میں لے گیا اس کوبیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھدی میں ہی رکھا اور چودنا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد پھر اس کا پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا میں نے لن نکال لیا لن پہلے ہی اس کے پانی سے چکنا ہوچکا تھا میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور ایک زور سے دھکا مار اجتنی میری جان سے لن اس کی گانڈ چیرتا ہوا جڑ تک گھس گیا اس نے ایسی چیخ ماری کے بس میں اور لیٹ گئی نے اس کو قابو کر لیا اور اس کو چودنا نہ چوڑا وہ نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن مجھے پتہ لگ چکا تھا اس کو رف چدائی پسند تھی اس لیے میں رکا نہیں اس کو چودتا رہا وہ چیختی رہی کہ میری پھدی مار لو گانڈسے نکال لو تم کا بہت بڑا ہے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور گانڈ مارتا رہا پھر کچھ دیر گزری تو کومل کو بھی گانڈ مروانے میں مزا آنے لگ پڑا اور اس نے بھی گانڈ کو اٹھا نا شروع کردیا لیکن کچھ دیر بعد پھر پانی نکال چکی تھی 45منٹ ہو چکے تھے گانڈ مارتے ہوئے کومل نیچے دم سادھے لیٹی پڑی تھی اور سسک رہی تھی پھر مجھے بھی اپنا وقت قریب محسوس ہوا میں نے بھی رفتا ر طوفانی کرتے ہوئے دھکے لگانا شروع کردیا 5منٹ بعد میرے لن نے اس کی گانڈ بھرنا شروع کردی جب لن خالی ہوا تو اس کے اوپر سے اترا میں اس وقت پسینے سے بھیگ چکا تھا حالانکہ کے ائیر کنڈیشن چل رہا تھا جیسے ہی لن اس کی گانڈ سے نکلا تو پھک کی آواز آئی اور اس کی گانڈ میں بڑا ہول بنا ہوا تھا اور میرا مال اور خون اس کی گانڈ سے باہر نکل نکل کر نیچے بیڈ پر گررہے تھے۔ پھر میں اٹھا اس کو اٹھا کر واش روم لے گیا خود بھی نہایا اس کو بھی صاف کیا کومل ابھی تک کچھ نہ بولی تھی پھر اس کو صوفے پر بیٹھا کیونکہ بیڈ پر اس کا اور میرے مال سے شیٹ بھری ہوئی تھی میں نے فریج کھو لا اور ایک ملک شیک نکال جگ اور دو گلاس لیے اور کومل کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا گلاس میں جوس ڈال کر اس کو دیا اس نے خاموشی سے پی لیا میں بولا سوری یار لگتا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن تم کی مست گانڈ دیکھی تو نہیں رہا گیا بولی کوئی بات نہیں جب تم سے چدنے کا شوق ہوا ہے تو گانڈ مروانے سے کیا ڈرنا میرا پورا جسم درد کررہا ہے لیکن جو مزا آیا و ہ بیان سے باہر ہے میں سوچ رہا تھا عجب پاگل لڑکی ہے اتنی بری طرح چدی ہے پھر بھی اس کو مزا آیا پھر مجھے ناز کی باز یاد آئی لڑکی جتنا زبردست چدے گی اتنا ہی اس کو مزا آئے گا۔ بولی اب تو تم کی غلا م بن چکی ہوں کبھی کبھی مجھے بھی خیرات دے دیا کرنا میں بولا کیسی بات کرتی ہوجو مزا تم نے مجھے دیا ہے وہ میں بھلا بھول سکتان ہوں اور تم جیسا نشیلا جسم بھلا میں بھول سکتا ہوں بولی اب دوستی پکی میں نے بولا ابھی بھی کوئی گجائش ہے پکی دوستی بولی بس پھر دیکھتے جاؤ یہ دوست تم کے لیے کیا کیا کرتی ہے میں بولا اچھا جی۔ اسی طرح کی باتیں چلتی رہی پھر بولی میں چلتی ہوں صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو جم جانے کا ٹائم ہوگیا تھا وہ اٹھی اور لڑکھڑا کر گرپڑی بولی بہت ہی ظالم ہو بے حال کردیا لیکن مزا آیامیں نے ایسی چودائی تو خوابوں میں بھی نہیں سوچی تھی۔جیسے تیسے کر کے باہر نکل گئی میں بھی اٹھ کر جم چلا گیا۔
  3. اس نے آنکھیں کھولیں تو تائی امی اس کے اوپر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔ اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تو ہاتھ میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ "یہ کیا کیا بیٹا؟" تائی نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پاس بیٹھے تایا ابو بھی اٹھ کر اس کی طرف آگئے تھے۔ "مجھے تم سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی تحریم۔ جان سے زیادہ عزیز کیا ہوتا ہے؟ اگر خدانخواستہ تمہیں یا علی کو کچھ ہوجاتا تو ہمارے پاس بچتا ہی کیا۔ اسد پہلے ہی ۔ ۔ ۔ اب ہم میں مزید کوئی غم سہنے کی ہمت نہیں ہے۔" تایا ابو نے اس سے ناراضگی سے کہا تھا۔ اور تحریم نے شرمندگی سے نظریں جھکالی تھیں۔ "میں کیا کرتی تایا ابو! میں نے دے تو دیا تھا موبائل، پیسے سب۔ مگر۔ ۔ ۔مگر میں اسد کی دی ہوئی چوڑیاں کیسے دے دیتی۔ اور تایا ابو یہ سب اس طرح کب تک کرتے رہیں گے۔ یہ بھی تو مسلمان ہیں، یہ بھی تو پاکستانی ہیں۔ پھر اتنا فرق کیسے آگیا ان کی سوچ میں جو اپنے لیے ہر چیز قربان کرسکتے ہیں اور ان میں جو سب بچانے کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیتے ہیں؟" تحریم کو روتے دیکھ کر انہوں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔ "تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا۔ مگر اس طرح اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پتا نہیں ان جیسوں کی کیا مجبوریاں ہیں جو ان سے یہ سب کرواتی ہیں۔ شاید ان کا اللہ پر سے ایمان اٹھ گیا ہے۔ یا شاید محنت کرنے کے بجائے یہ راستہ بہت آسان لگتا ہے۔" انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ اسی وقت آذر، تایا اور چھوٹی تائی کو لے آیا تھا۔ ان دونوں نے بھی تحریم کو اس کی بے وقوفی پر ڈپٹا تھا۔ "میں تمہیں بعد میں ڈانٹوں گا۔ پہلے ذرا ٹھیک ہو لو۔" آذر نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ بھی چڑ گئی تھی۔ "سب مجھے ڈانٹے جارہے ہیں۔ جبکہ میں بہت خوش ہوں کہ میں اس سے ڈری نہیں۔ آپ سب ہی تو کہتے ہیں بہادر بنوں۔ میں بہت بہادر ہوں۔ بالکل اسد کی طرح۔ ایک شہید کی بیوہ کو ڈرنا بھی نہیں چاہیے۔" یہ کہتے کہتے اس نے آنکھیں جھپک جھپک کر اپنے آنسؤوں کو بہت مشکل سے روکا تھا۔ اتنے دن میں اس نے پہلی دفعہ ایسی بات کی تھی۔ مگر شہید کی بیوہ کہنے پر تائی امی بے ساختہ روپڑی تھیں اور باقی سب بھی بالکل خاموش ہوگئے تھے۔ "تائی امی! آپ مت روئیں۔ شہیدوں کی مائیں کب روتی ہیں؟ آپ تو بہت بہادر ہیں۔ اسد تو ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ میری ماں بہت بہادر ہے۔" اس نے اپنے پاس بیٹھی تائی امی کو چپ کراتے ہوئے کہا تھا۔ "کیسے بہادر بنوں میں۔ مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب۔ میں ماں ہوں۔ اور ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کیسے سہہ سکتی ہے۔" انہوں نے بے بسی سے کہا تھا تحریم بھی تھک کر چپ ہوگئی تھی۔ باقی سب بھی افسردگی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ تحریم کو اسی دن ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ گھر آکر بھی ان سب نے بہت دیر تک اسد کی باتیں کی تھیں۔ اور یہ ایک طرح سے سب کے لیے اچھا ہی تھا۔ جس حقیقت سے وہ سب اتنے دنوں سے نظریں چرارہے تھے آج کھل کر رولیے تھے۔ *----------*----------*----------* وہ علی کو سلانے کی کوشش کررہی تھی جب دروازہ ناک ہوا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے تایا کھڑے تھے۔ "تایا ابو آپ؟ آئیں۔ سب خیریت ہے نا؟" سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آنے تک تھکن کی وجہ سے وہ اس کے کمرے میں بہت ہی کم آتے تھے۔ اس لیے انہیں اس وقت وہاں دیکھ کر وہ تھوڑی پریشان ہوگئی تھی۔ "سب خیریت ہے بیٹا۔ ہم بس اپنے علی کو دیکھنے آگئے۔ مگر لگتا ہے یہ تو سورہا ہے" وہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ اور اسے بھی اپنے پاس بٹھالیا تھا۔ "جی ابھی سویا ہے۔" اس نے کہتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ جو سامنے دیکھ رہے تھے جہاں اسد کی تصویر لگی تھی۔ انہیں لگا اسد مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ان کے چہرے پر بھی ایک اداس مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی۔ "بیٹا، اب تو اسد کی برسی بھی ہوچکی۔" انہوں نے بڑی دقت سے بولنا شروع کیا تھا۔ "جانے والے تو چلے جاتے ہیں مگر زندگی ان پر ختم نہیں ہوسکتی۔ میں اور تمہاری تائی نے سوچا ہے کہ اب تمہارے لیے بھی کچھ فیصلہ کیا جائے۔" انہوں نے اپنی بات ابھی ختم نہیں کی تھی کہ تحریم بیچ میں بول پڑی۔ "کیسا فیصلہ تایا ابو؟ اور جانے والے۔ شہید تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تایا ابو۔ وہ ہمارے آس پاس ہیں۔ پھر آپ اس طرح کیوں کہہ رہے ہیں۔" اس نے ناراضگی سے کہا تھا۔ "شہید ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں بیٹا، مگر زندگی کا نام گزرتے رہنا ہے۔ اور اسے گزارنے کے لیے مضبوط سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسد تمہارا مضبوط سہارا تھا۔ مگر اب اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ وہ ہم میں نہیں ہے۔" انہوں نے تمہید باندھی تھی۔ اور تحریم بے بسی سے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ وہ یہ سب سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ اور جیسے تایا اس وقت ان ساری تکلیف دہ حقیقتوں کو اس کے سامنے کھول کر رکھ دینے کا ارادہ کرکے آئے تھے۔ وہی جانتی تھی کہ ان کے منہ سے یہ سب سن کر اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی۔ "تایا ابو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پہلے ماں باپ اور بہن اور اب اسد۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ "بیٹا یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کو ہی آزماتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر کیوں کا کیا سوال؟ وہ ہم سے بہت بہتر جانتا ہے۔ اور اسد کی شہادت تو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔" انہوں نے اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ اور تحریم خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ "اسد نے آذر سے ایک وعدہ لیا تھا۔" انہوں نے گلہ کھنکارتے ہوئے کہا۔ تحریم نے بے ساختہ سر اٹھاکر ان کی طرف دیکھا تھا۔ "ک۔ ۔۔ک کیسا وعدہ تایا ابو؟" اس کی آواز ہلک میں اٹکنے لگی تھی۔ "تحریم اس نے آذر سے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تحریم سے پوچھنا کیا وہ اسد کی آخری خواہش پوری کرنے کو تیار ہے؟" انہوں نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔ اور تحریم منہ ہاتھوں میں چھپا کر روپڑی تھی۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لپٹالیا۔ "بیٹا آذر نے مجھے سب بتایا ہے۔ وہ چاہتا تھا تمہیں کچھ اور وقت دیا جائے۔ مگر آج میں اور تمہاری تائی نے تمہاری شادی کا ذکر کیا تو اس نے کہہ دیا کہ تحریم اسی گھر میں رہے گی۔ جیسے پہلے رہتی تھی، کیونکہ اسد کی بھی یہی خواہش تھی۔" انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے بتایا۔ "تایا ابو کیا میں اسد کی بیوہ، آپ کے بھائی کی بیٹی کے رشتے سے اس گھر میں نہیں رہ سکتی؟" اس نے شکایتی انداز میں کہا تھا۔ "بیٹا یہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم خود سوچو۔ اب تمہاری ذمہ داری ہم پر ہے اور ہماری زندگیوں کا کیا بھروسہ؟ میرے دل پر بہت بوجھ ہے تحریم اور میں تمہارا اور علی کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں۔ شادی تو تمہیں کرنی ہے۔ پھر آذر سے اچھا اوپشن کہاں ملے گا؟ ہماری آنکھوں کے سامنے رہوگے تم دونوں۔ میرے اور تمہاری تائی کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے؟" "مجھے کچھ وقت دیں تایا ابو۔ ابھی تو میں اسد کے غم کو جھیلنا سیکھی ہوں اور آپ لوگ ایک اور مشکل میں ڈال رہے ہیں۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ دروازہ کھول کر تائی بھی وہیں آگئی تھیں۔ اور اس رات ان دونوں نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا۔ ان کی باتیں بھی ٹھیک تھیں۔ مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا۔ *----------*----------*----------* "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" ہر بار اسد کی یہ بات اسے بے بس کردیتی تھی۔ اس نے تحریم سے آخری دفعہ مانگا بھی تو کیا۔ تحریم نے تھک کر ڈائری بند کی اور اٹھ کر اسد کی تصویر کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ "اسد میں نے آپ کو پہلے کبھی مایوس کیا تھا جو اب کرتی۔ مگر اسد اس دفعہ آپ نا انصافی کرگئے! مجھ سے اپنی یادوں کے ساتھ جینے کا حق بھی چھین لیا۔ تایا تائی نے جتنا میرے لیے کیا ہے میں صرف ان کی خاطر مانی ہوں۔ مگر اسد آپ نے میرے لیے بہت مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔" تایا تائی نے اسے پورے چھ ماہ کا وقت دیا تھا اور اب چھ ماہ بعد اس کے رضا مندی ظاہر کرنے پر ان لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تائی امی کھڑی تھیں۔ وہ بھی اس کے قریب آگئی تھیں۔ "بہت اچھی لگ رہی ہے ہماری بیٹی۔" پتا نہیں کتنے عرصے بعد اس نے ایسے کپڑے پہنے تھے۔ ورنہ اس نے تو اپنی طرف بالکل توجہ دینا چھوڑ دی تھی۔ یہ سوٹ بھی وہ جاکر لائی تھیں۔ انہوں نے ہلکے کام کے سوٹ میں ملبوس تحریم کو دیکھا۔ اور اس کی پیشانی چوم لی۔ پھر اسد کی تصویر کی طرف اداسی سے دیکھتے ہوئے مسکرائیں تھیں۔ "آج اسد بہت خوش ہوگا تحریم۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا تھا۔ اور محبت کرنے والے اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر خود بھی سکون میں نہیں رہتے۔ تم نے اسد اور ہماری خواہش کا احترام کرکے ہمارا مان رکھ لیا۔" انہوں نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔ اور بہت سی دعائیں دیتے ہوئے اسے باہر لے آئی تھیں جہاں چند لوگوں کی موجودگی میں اس کا اور آذر کا نکاح ہوا تھا۔ سب کے سامنے وہ بہت ضبط کرتی رہی۔ مگر کمرے میں آتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ آذر جانتا تھا اس وقت اسے حوصلے کی ضرورت ہے اسی لیے اس کے پیچھے آگیا تھا۔ اپنے کندھے پر دباؤ محسوس کرکے وہ پلٹی اور آذر کو وہاں دیکھ کر گھبراگئی تھی۔ جیسے اسد کی تصویر کے سامنے روتے ہوئے اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔ "تحریم، اسد سے صرف تمہارا رشتہ نہیں تھا۔ ہم سب کے لیے بھی اس صدمے کو برداشت کرنا بہت مشکل عمل تھا۔ مگر زندگی کا نام چلتے رہنا ہے۔ اسد نے جب مجھ سے تمہیں اپنانے کا وعدہ لیا اس وقت میرا ردعمل بھی ایسا ہی تھا۔ مگر میں ایک ایسے انسان کو کیسے نا امید جانے دیتا جس نے ساری زندگی ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا تھا۔ میں تمہیں اور وقت دینا چاہتا تھا۔ مگر کچھ ماہ پہلے جو تم نے بازار میں بے وقوفی کہ تھی اس سے ڈر گیا۔ تمہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی اور ان حالات میں تمہیں کوئی اپنا ہی سمیٹ سکتا تھا" آذر خاموش ہوا تو تحریم بول پڑی تھی۔ "میں جانتی ہوں آپ نے مجبوری میں دوستی کا حق نبھایا ہے مگر اس طرح آپ کی زندگی بھی تو خراب ہوگئی۔" اس نے شرمندگی سے کہتے ہوئے سرجھکا لیا تھا۔ "میری زندگی کیسے خراب ہوئی تحریم؟ شادی تو مجھے کرنی تھی۔ پھر جس کام سے اتنے لوگوں کو خوشیاں ملی ہیں اس سے میں بہت پرسکون ہوگیا ہوں۔ تمہیں یا علی کو کہیں اور جاتے دیکھنا ہم سب کیسے برداشت کرسکتے تھے؟ ہم سب ایک دوسرے کے اتنے عادی ہیں کہ یہ ایک اور بڑا صدمہ بن جاتا۔ اب ہم میں کوئی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے یہ سب کرنے پر کسی نے مجبور کیا ہے۔ میں نے اسد سے وعدہ ضرور کیا تھا مگر تمہیں اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ اپنایا ہے۔ اور اب ہم میں سے کوئی بھی تمہیں روتا ہوا نہ دیکھے۔" اس نے کہتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے تھے اور تحریم ہلکی پھلی ہوکر مسکرادی تھی۔ اسی وقت علی بھی بھاگتا ہوا آیا تو آذر نے اسے گود میں اٹھالیا تھا۔ علی کے پیچھے آتے تایا نے ان تینوں کے مسکراتے چہروں کی طرف دیکھا اور ان کی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی۔ *----------*----------*----------* ختم شد
  4. دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں ڈھلنے لگے۔ سب کو دکھانے کے لیے تحریم نے اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا۔ تایا تائی کے لیے بھی یہ بہت بڑا صدمہ تھا اور وہ ان کے سامنے رو کر انہیں اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے سب کے سامنے رونا چھوڑدیا تھا مگر اس کی جامد چپ اب بھی نہ ٹوٹی تھی۔ تایا ابو اور چھوٹے تایا بھی ریٹائرڈ آرمی افسر تھے اس لیے ان کا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرتا تھا۔ تحریم ان دونوں کے سب سے چھوٹے بھائی کی بیٹی تھی۔ اس سے بڑی بہن اور ماں باپ ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ خوش قسمتی سے تحریم زخمی ہونے کے باجود بچ گئی تھی اور گیارہ سالہ تحریم کو تائی امی نے اسی دن اپنی بیٹی بنالیا تھا کہ ان کا صرف ایک بیٹا اسد ہی تھا۔ چھوٹی تائی کا بڑا بیٹا آذر، اسد کی عمر کا ہی تھا اور اس سے چھوٹی بیٹی تحریم کے برابر کی تھی۔ تحریم کو ان سب سے اتنی محبت ملی تھی کہ ماں باپ اور بہن کے چھن جانے کا دکھ بہت حد تک کم ہوگیا تھا۔ مگر اب اسد کی جدائی نے جیسے اسے ایک بار پھر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ گھر میں ہر وقت سناٹا چھایا رہتا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا یہاں کوئی رہتا بھی ہے۔ تحریم اپنے خیالوں میں گم اور تائی امی بھی چپ چاپ کسی نا کسی کام میں لگی رہتی تھیں۔ مگر ہر دفعہ فون کی اور گھر کی بیل بجنے پر وہ چونک کر دیکھا کرتی تھیں اور ہر دفعہ مایوسی سے پھر اپنے کام میں مگن ہوجاتی تھیں۔ پتہ نہیں انہیں اب کس کا انتظار تھا۔ شروع شروع میں آذر نے کوشش کرکے چھٹیاں لے لی تھیں تاکہ وہ سب بالکل تنہا نہ رہ جائیں۔ تب پھر بھی آذر سب کو باتوں میں لگائے رکھتا تھا۔ علی کو بھی باہر گھما لاتا تھا مگر پچھلے ماہ اس کی پوسٹنگ بھی دوسرے شہر ہوگئی تھی۔ تب سے گھر میں خاموشی چھائی رہتی تھی۔ جانے سے ایک دن پہلے آذر کچن کے سامنے سے گزرتا ہوا وہیں رک گیا تھا۔ تحریم کچن میں کھڑی علی کے لیے کچھ بنارہی تھی اور ساتھ ساتھ آنسو بھی بہہ رہے تھے۔ "تحریم تمہاری ایک امانت ہے میرے پاس۔ میں لے کر آتا ہوں۔" اس نے بغیر کسی تمہید کے کچن کے دروازے کے پاس رک کر کہا تھا اور اہنے کمرے میں چلاگیا۔ تحریم یہی سوچتی رہی کہ اس کی کونسی امانت؟ چند منٹ بعد آذر ہاتھ میں ایک ڈائری لیے واپس آیا تھا۔ "میں اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ یہ تمہیں دوں۔ مگر تمہاری کنڈیشن ایسی نہیں تھی اور میری بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ اب اتنے دن گزر چکے ہیں۔ اپنے آپ کو سنبھالو تحریم، اپنا نہیں تو علی کا ہی سوچو۔ وہ مسلسل اگنور ہونے کی وجہ سے بہت چڑچڑا ہوگیا ہے۔" آذر نے ڈائری تحریم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ "یہ کیا ہے؟" اس نے نا سمجھی سے ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ "اسد کی ڈائری ہے۔ وہ جب سے وزیرستان آیا تھا روز اس میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا تھا۔ اور آخری دن۔" آذر کو اپنی بات جاری رکھنا مشکل لگ رہا تھا۔ "آخری دن اسد نے اس میں لکھنے کے بعد مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ یہ مجھے تم تک پہنچانی ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ اس میں کیا لکھا کرتا تھا۔ اور نہ ہی میں ابھی تمہیں دینا چاہتا تھا۔ مگر اسد سے کیے ہوئے وعدے نے مجبور کردیا۔" اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔ تحریم نے خاموشی سے ڈائری پر ہاتھ پھیرا اور اس پر گرے اپنے آنسو کو دوپٹے کے کونے سے صاف کرنے لگی۔ "اب سنو۔ یہ میں نے دے تو دی ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کہ تم دن رات رو رو کر اپنی طبیعت پھر خراب کرلو۔ میں اسی لیے ابھی نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ بہادر بنو تحریم، اگر تم ہی ہمت ہار دو گی تو سوچو تایا تائی کا کیا ہوگا۔" اس نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا اور وہ خاموشی سے بیٹھی سنتی رہی تھی۔ *----------*----------*----------* اس نے کمرے میں آتے ہی ڈائری کھولی تھی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ پہلے صفحے پر نظر دوڑائی اور پڑھتی چلی گئی۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا ماں! دعا کرنا کہ کبھی تیرا یہ بیٹا خاکی وردی پہنے سینے پہ تمغے سجائے مجاہدوں کا سا نور لیے تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو، اور میری ماں میری ماں یہ سن کر ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اُس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے، کہ شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا اس دن کا انتظار کرنا، جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی، اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے اشو کے دریا کا نیلا پانی، اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔ اور پھر اس دن کے بعد، میرا انتظار نہ کرنا، کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر، سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر میری ماں۔ ۔ ۔ آج بھی میرا انتظار کرتی ہے، گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے، میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ خاکی وردی میں جانے والے لوٹ کر کب آتے ہیں؟ میں اکثر ماں سے کہتا تھا یاد رکھنا! اس دھرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تھے، مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ہیں۔ ۔ ۔ میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔ مجھے مٹی میں ملنے والے اس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔ اور میری ماں یہ سن کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا اور دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا میرا وعدہ مت بھلانا، کہ جنگ کے اس میدان میں انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا اور ساری گولیاں سینے پہ کھائے گا اور میری ماں یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا، اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی، اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا، تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟ ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں! ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور میری ماںـ ـ ـ میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ اور دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے سنو۔ ۔ ۔! تم میری ماں سے کہنا وہ رویا نہ کرے ۔ ۔ ۔ آنسؤوں نے سب کچھ اتنا دھندلا کردیا تھا کہ بہت دیر تک اس سے آگے تحریم سے کچھ پڑھا ہی نہیں گیا۔ اسے لگا کہ وہ بہت خودغرض ہے۔ اب تک صرف اپنے غم اور اپنی تکلیف کا سوچتی رہی۔ تائی امی اور تایا ابو کے چہروں پر چھائی اداسی اسے نظر کیوں نہ آئی؟ غم تو سب کا برابر تھا۔ دکھ تو سب جھیل رہے تھے پھر سب اس کی دل جوئی میں کیوں لگے ہیں؟ تائی کی آنکھوں میں بھی تو ہر وقت آنسو چمکا کرتے تھے۔ وہ اب بھی قیمہ نہیں پکاتی تھیں، اسد کو پسند جو نہیں تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اب بھی آٹھ پلیٹیں رکھتی تھیں اور ہمیشہ ایک خالی کرسی کے آگے ایک پلیٹ رکھی ہوتی تھی۔ تحریم نے ایک دو دفعہ نوٹ کیا مگر اس کے اپنے اندر بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ ٹیبل پر اسد کی جگہ پلیٹ نہ رکھے۔ وہ خود غیر محسوس طور پر کھانا نکالنے کے بعد اپنے برابر والے کے آگے رکھ دیتی تھی۔ جہاں کتنے ہی دن سے کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ وہ دونوں غیر محسوس طریقے سے اسد کی جدائی کو ماننا نہیں چاہتی تھیں۔ گھر کے باقی افراد نے بھی یہ محسوس کیا تھا۔ مگر شاید وقت کے ساتھ اس غم کے مدھم ہوجانے کا انتظار کررہے تھے۔ مگر کب تک؟ تحریم کو لگا کہ وہ اتنے مہینوں سے صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔ لیکن اب اسے سب کا سوچنا تھا۔ اسد نے اس سے بھی تو کتنی دفعہ سب کا خیال رکھنے کا وعدہ لیا تھا۔ وہ پوری رات تحریم نے ڈائری پڑھتے گزاری تھی۔ ہر لفظ کو پڑھتے وہ بارہا تڑپی تھی۔ جب آنسو پونچھتے نظر اٹھاتی سامنے ہی اسد کی تصویر پر نظر پڑتی۔ اسے لگتا وہ اس کے سامنے کھڑا یہ سب کہہ رہا تھا۔ اور وہ پھر پڑھنے لگتی۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے اس کے آنسو تھم گئے تھے۔ آخری سطریں اس نے ایک، دو۔ ۔ ۔بے شمار بار پڑھیں اور بے یقینی سے اگلا صفحہ پلٹا جہاں بس اتنا لکھا تھا۔ "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" جاری ہے*----------*----------*----------*

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.