گھر آنے کے بعد میں نے فریش ھو کر کھانا کھایا اور پڑھنے کے لیے عاصمہ کے گھر چلی گئی۔
دروازے پر پہنچی تو دروازہ کھلا تھا اور میں آرام سے اندر داخل ھو گئی مجھے سامنے کوئی نظر نہ آیا تو میں نے عاصمہ کے کمرے کا رخ کیا۔ جب میں عاصمہ کے ابو کے کمرے کے پاس پہنچی تو مجھے عجیب سی آواز آئی جیسے کسی کا گلا دبایا جا رہا ھو میں ڈر کے مارے وہاں رک گئی تھوڑا غور کیا تو آوازیں آنٹی اور انکل کے کمرے سے آ رہی تھیں۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کے دیکھا تو میرے ہوش اڑ گے۔۔۔۔
آنٹی نیچے بیٹھی تھی اور انکل کا کالا موٹا لن ان کے منہ میں تھا اور وہ مزے سے اسے چوس رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ دوستو یہ زندگی میں میرا پہلا سکس کا سین تھا جو میں دیکھ رہی تھی۔ افففف۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر دیکھتے دیکھتے میرا ہاتھ نہ جانے کب میری شلوار میں چلا گیا اور میں اپنی پھدی اکے دانے کو مسلنے لگی۔۔۔ آنٹیپورا لن اپنی تھوک سے گیلا کر کر بولی ۔۔۔۔۔ جان اب اور نا تڑپا اسکو اندر ڈال کے میری آگ بجھا۔۔۔۔
انکل آنٹی کے اوپر لیٹ کرآنٹی کے 42 کے ممے چوسنے لگے اور نیچے سے لن پھدی کے دانے پر پھیرنے لگے۔۔۔اس عمر میں بھی آنٹی کی سفید کلر کی پھدی جو بالوں سے بالکل پاک تھی۔ لگتا ایسا تھا کہ آنٹی نے سپیشل تیاری کی ھو۔۔۔۔۔۔انکل آنٹی کی دونوں ٹانگوں کو کھول کے لن کو پھدی کے منہ پر رکھ کے بولے ۔۔۔۔۔ جان اجازت ھے؟؟؟ تو آنٹی نے مستی بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ جان آپکو ہی تو اجازت ھے۔۔۔۔۔انکل نے یہ بات سنتے ھی پوری قوت سے جھٹکا مارا اور پورا لن آنٹی کی پھدی میں چلا گیا ۔۔۔۔۔اور آنٹی کی منہ سے مزے کی آآآآہہہہہہہہہہ نکل گئی۔۔۔۔۔ انکل نے آہستہ آہستہ جھٹکے مانے شروع کر دیے۔۔۔۔۔انکل ٹوپی تک لن نکال کے زور سے اندر ڈالتے تو آنٹی کی مزے سے آااہہہہہہہہہہ نکل جاتی ۔۔۔۔۔یہ سین بیس منٹ تک چلتا رہا اور آنٹی نے اپنی ٹانگیں انکل کی کمر کے گرد لپٹ دیں اور انکل کا گانڈ اٹھا اٹھا کر ساتھ دینے لگیں۔۔۔۔۔اچانک انکل نے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی ۔۔۔۔۔ اور انکل بولے جان میں ھونے والا ھوں۔۔۔۔آنٹی نے بھی فارغ ھونے کا اشارہ دے دیا۔۔۔۔ اور پھر دونوں ایک ھی وقت میں فارغ ھو گئے ۔۔۔۔۔ انکل نے لن نکالا تو آنٹی کی پھدی سےسفید مادہ باہر نکلنے لگا۔۔۔۔۔ اسی وقت کسی نے پیچھے سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ میرے منہ پر رکھا۔۔۔۔