Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus Launched ×
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

دوستو آج میں آپ سے جوسٹوری شیئر کرنے لگی ھوں وہ میری دوست عاصمہ کی ھے۔ 

دوستو امید ھے آپ کو میری کہانی پسند آئے گی۔ اس کہانی کی اپڈیٹس ایک ہفتے میں دو بار کی جائے گی ۔منگل اور ہفتہ کو۔

دوستو کسی بھی فورم پر یہ میری پہلی کہانی ھے اس لیے خامیوں کو نظرانداز کر کے  تعمیری انداز میں اصلاح کریں اور آپکے تعاون کی طلبگار رہوں گی ۔ شکریہ 

EPISODE 01  Tuesday January 12, 2021

عاصمہ کا تعارف

عاصمہ کا تعلق آرائیں فیملی سے ھے جو اس وقت  فیصل ٹاون لاہور میں مقیم ھے۔ عاصمہ کے ابو کا نام چوھدری بشیر ھے جو گورنمنٹ ادارے کے ملازم ھیں۔ عاصمہ دو بہنیں ھیں جن میں عاصمہ بڑی ھے جس کی عمر چوبیس سال ھے اس سے چھوٹی بہن نادیہ ھے جس کی عمر اکیس سال ھے۔ انکا کوئی بھائی نہیں ۔دوستو عاصمہ بہت خوبصورت لڑکی ھے ۔اسکا قد تقریبا 5 فٹ 6 انچ ھے۔ سفید رنگت اور بہت خوبصورت نقوش کی مالک۔ اسکی  چھاتی 36 انچ ھے اور کمر 30 انچ کی۔ نادیہ بھی عاصمہ سے کچھ کم نہیں اسکا قد عاصمہ سے صرف 3 انچ کم ھے۔ اسکی چھاتی 32 کی اور کمر 28 ھے۔

یہ کہانی آٹھ سال پہلے شروع ھوئی جب 2013 میں عاصمہ کے ابو کا تبادلہ لاھور ھوا اور عاصمہ لوگ ھمارے محلے میں رہنے کیلیے آئے۔ عاصمہ کے ابو انتہائی شریف النفس اور شفیق انسان ھیں۔ عاصمہ کی والدہ شمیم بیگم ایک گھریلو خاتون ھیں۔ کیونکہ یہ فیملی ہمارے ساتھ والے گھر میں شفٹ ھوئی تھی اس لیے چند دونوں میں انکے اور  ھمارے گھر والوں کا ایک اچھا تعلق بن گیا۔ اس وقت میں آٹھوں کلاس پاس کر کے نویں کلاس میں گئ تھی۔کیونکہ عاصمہ میری ھم عمر اور کلاس فیلو بھی تھی اس لیے عاصمہ کے ابو نے عاصمہ کو میرے سکول میں داخلہ دلوایا۔ تاکہ نادیہ اور عاصمہ کو سکول آنے جانے میں پریشانی نہ ھو۔ 

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

On 1/12/2021 at 11:31 PM, Sara555 said:

دوستو آج میں آپ سے جوسٹوری شیئر کرنے لگی ھوں وہ میری دوست عاصمہ کی ھے۔ 

دوستو امید ھے آپ کو میری کہانی پسند آئے گی۔ اس کہانی کی اپڈیٹس ایک ہفتے میں دو بار کی جائے گی ۔منگل اور ہفتہ کو۔

دوستو کسی بھی فورم پر یہ میری پہلی کہانی ھے اس لیے خامیوں کو نظرانداز کر کے  تعمیری انداز میں اصلاح کریں اور آپکے تعاون کی طلبگار رہوں گی ۔ شکریہ 

EPISODE 01  Tuesday January 12, 2021

عاصمہ کا تعارف

عاصمہ کا تعلق آرائیں فیملی سے ھے جو اس وقت  فیصل ٹاون لاہور میں مقیم ھے۔ عاصمہ کے ابو کا نام چوھدری بشیر ھے جو گورنمنٹ ادارے کے ملازم ھیں۔ عاصمہ دو بہنیں ھیں جن میں عاصمہ بڑی ھے جس کی عمر چوبیس سال ھے اس سے چھوٹی بہن نادیہ ھے جس کی عمر اکیس سال ھے۔ انکا کوئی بھائی نہیں ۔دوستو عاصمہ بہت خوبصورت لڑکی ھے ۔اسکا قد تقریبا 5 فٹ 6 انچ ھے۔ سفید رنگت اور بہت خوبصورت نقوش کی مالک۔ اسکی  چھاتی 36 انچ ھے اور کمر 30 انچ کی۔ نادیہ بھی عاصمہ سے کچھ کم نہیں اسکا قد عاصمہ سے صرف 3 انچ کم ھے۔ اسکی چھاتی 32 کی اور کمر 28 ھے۔

یہ کہانی آٹھ سال پہلے شروع ھوئی جب 2013 میں عاصمہ کے ابو کا تبادلہ لاھور ھوا اور عاصمہ لوگ ھمارے محلے میں رہنے کیلیے آئے۔ عاصمہ کے ابو انتہائی شریف النفس اور شفیق انسان ھیں۔ عاصمہ کی والدہ شمیم بیگم ایک گھریلو خاتون ھیں۔ کیونکہ یہ فیملی ہمارے ساتھ والے گھر میں شفٹ ھوئی تھی اس لیے چند دونوں میں انکے اور  ھمارے گھر والوں کا ایک اچھا تعلق بن گیا۔ اس وقت میں آٹھوں کلاس پاس کر کے نویں کلاس میں گئ تھی۔کیونکہ عاصمہ میری ھم عمر اور کلاس فیلو بھی تھی اس لیے عاصمہ کے ابو نے عاصمہ کو میرے سکول میں داخلہ دلوایا۔ تاکہ نادیہ اور عاصمہ کو سکول آنے جانے میں پریشانی نہ ھو۔ 

 

On 1/16/2021 at 1:40 AM, Sara555 said:

Dear Admin need your help .... i have written this story in ms word. Now i want to paste text in this area but i can not do so..... can u please help me??

Hi guys i am a very good story writer main file upload nahi kar paa raha na hi text copy past kar paa raha hun kindly koi guide karey ga plz

Link to comment
On 1/16/2021 at 1:40 AM, Sara555 said:

Dear Admin need your help .... i have written this story in ms word. Now i want to paste text in this area but i can not do so..... can u please help me??

hi how are you?

would u plz share ms file with me
ill send it back to you in image format for uploading.

Link to comment

گھر آنے کے بعد میں نے فریش ھو کر کھانا کھایا اور  پڑھنے کے لیے عاصمہ کے گھر چلی گئی۔

دروازے پر پہنچی تو دروازہ کھلا تھا اور میں آرام سے اندر داخل ھو گئی مجھے سامنے کوئی نظر نہ آیا تو میں نے عاصمہ کے کمرے کا رخ کیا۔ جب میں عاصمہ کے ابو کے کمرے کے پاس پہنچی تو مجھے عجیب سی آواز آئی جیسے کسی کا گلا دبایا جا رہا ھو میں ڈر کے مارے وہاں رک گئی تھوڑا غور کیا تو آوازیں آنٹی اور انکل کے کمرے سے آ رہی تھیں۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کے دیکھا تو میرے ہوش اڑ گے۔۔۔۔

آنٹی نیچے بیٹھی تھی اور انکل کا کالا موٹا لن ان کے منہ میں تھا اور وہ مزے سے اسے چوس رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ دوستو یہ زندگی میں میرا پہلا سکس کا سین تھا جو میں دیکھ رہی تھی۔ افففف۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر دیکھتے دیکھتے میرا ہاتھ نہ جانے کب میری شلوار میں چلا گیا اور میں اپنی پھدی اکے دانے کو مسلنے لگی۔۔۔ آنٹیپورا لن اپنی تھوک سے گیلا کر کر بولی ۔۔۔۔۔ جان اب اور نا تڑپا اسکو اندر ڈال کے میری آگ بجھا۔۔۔۔

انکل آنٹی کے اوپر لیٹ کرآنٹی کے 42 کے ممے چوسنے لگے اور نیچے سے لن پھدی کے دانے پر پھیرنے لگے۔۔۔اس عمر میں بھی آنٹی کی سفید کلر کی پھدی جو بالوں سے بالکل پاک تھی۔ لگتا ایسا تھا کہ آنٹی نے سپیشل تیاری کی ھو۔۔۔۔۔۔انکل آنٹی کی دونوں ٹانگوں کو کھول کے لن کو پھدی کے منہ پر رکھ کے بولے ۔۔۔۔۔ جان اجازت ھے؟؟؟ تو آنٹی نے مستی بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ جان آپکو ہی تو اجازت ھے۔۔۔۔۔انکل نے یہ بات سنتے ھی پوری قوت سے جھٹکا مارا اور پورا لن آنٹی کی پھدی میں چلا گیا ۔۔۔۔۔اور آنٹی کی منہ سے مزے کی آآآآہہہہہہہہہہ نکل گئی۔۔۔۔۔ انکل نے آہستہ آہستہ جھٹکے مانے شروع کر دیے۔۔۔۔۔انکل ٹوپی تک لن نکال کے زور سے اندر ڈالتے تو آنٹی کی مزے سے آااہہہہہہہہہہ نکل جاتی ۔۔۔۔۔یہ سین بیس منٹ تک چلتا رہا اور آنٹی نے اپنی ٹانگیں انکل کی کمر کے گرد لپٹ دیں اور انکل کا گانڈ اٹھا اٹھا کر ساتھ دینے لگیں۔۔۔۔۔اچانک انکل نے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی ۔۔۔۔۔  اور انکل بولے جان میں ھونے والا ھوں۔۔۔۔آنٹی نے بھی فارغ ھونے کا اشارہ دے دیا۔۔۔۔ اور پھر دونوں ایک ھی وقت میں فارغ ھو گئے ۔۔۔۔۔ انکل نے لن نکالا تو آنٹی کی پھدی سےسفید  مادہ باہر نکلنے لگا۔۔۔۔۔ اسی وقت کسی نے پیچھے سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ میرے منہ پر رکھا۔۔۔۔

 

Link to comment

عاصمہ نے مجھے پیچھے کرتے  ہوئے اپنے کمرے میں لے گئ۔شکر ھے عاصمہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ورنہ انکل آنٹی نے میری چیخ سن لینی تھی۔وہ مجھے کھینچتے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئی۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے ہوش آیا ڈر کے مارے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔عاصمہ نے ہنستے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولی کیا ھوا؟؟؟؟ اتناڈری ہوئی کیوں ھو؟؟ اور ساتھ ہی میرے مموں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ پہلی دفعہ ایسا سین دیکھا ھے تم نے۔۔۔۔ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔بولی آو میں تمھیں کچھ دیکھاتی ھوں۔۔۔۔امی ابو اکثر اسی ٹائم کرتے ھیں میں اور میری بہن نے کئی دفعہ یہ چدائی دیکھی ھے۔۔۔اتنے میں ہم کمپیوٹر کے سامنے آ گئے ۔

عاصمہ نے کمپیوٹر آن کیا۔ اور ایک مووی چلا دی ۔۔۔۔۔  ساتھ ہی سپیکروں کی آواز بند کرکے کمرے کی کنڈی لگا کے میرے ساتھ آکے بیٹھ گئی۔ 

Link to comment
  • 4 weeks later...
×
×
  • Create New...