Update 007
مہوش اب پوری طرح ہوش میں آ چکی تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اپنی شلوار اوپر کر لی۔
میرے دماغ پر پہلے تو منی چڑھی ہوئی تھی اب تھوڑا ہوش بحال ہونے شروع ہوئے تو میری نظر نوشین کے ادھ ننگے جسم پر پڑی۔
نوشین کی جسم کا پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک کہ حصہ ننگا تھا۔
اُس کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں جس سے اسکی چھوٹے چھوٹے بالوں کے بیچ چوت کی لکیر تھی۔
اُس کی چُوت کے ہونٹ موٹے موٹے تھے۔ لکیر کے بیچ و بیچ اُسکی چوت کا دانہ کسی بادشاہ کے سر کے تاج کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔
دانے کے ٹھیک نیچے اُسکی چُوت کا سوراخ تھا جو بہت چھوٹا تھا۔اُسکی چُوت کے اَندر کی جھلی سرخ تھی جیسے اندر بہت سارا خون جمع ہو۔
پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک اس کا جسم بالکل بے داغ تھا۔
کہیں کسی تل کا نشان بھی نہیں تھا۔تیز تیز سانسیں لینے کی وجہ سے نوشین کے مممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔
نوشین کے مممے درمیانے سائز کے تھے۔
اور مہوش کے مممے کافی چھوٹے تھے۔ اُسے کوئی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کے ممّوں کا سائز بڑھتا نہیں تھا۔(اس نے مجھے بعد میں بتایا تھا اس بارے میں)۔
خیر میں نوشین کی چوت کو بارے غور سے دیکھ رہا تھا تبھی نوشین کے کچھ ہوش بحال ہوئے تو اسے سمجھ آیا کہ میں اسکی چوت کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ تو وہ بجلی کی رفتار سے اٹھی اور اپنی شلوار اوپر کر لی۔لکڑی کا تخت ہمارے کارناموں سے گندا ہو رہا تھا۔میں بھی جلدی سے اٹھا اور اپنی پینٹ ٹھیک کی۔
مہوش چپ چاپ کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
جب میں نے اور نوشین نے بھی کپڑے ٹھیک کر لیے تو مہوش واش روم چلو گئی۔نوشین اور میں وہیں چپ چاپ کھڑے تھے۔ دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر بولیں تو کیا بولیں۔
مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو میں نے خاموشی توڑنے کے لیے نوشین کی کپڑوں کے اوپر سے چوت کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ بہت پیاری ہو نوشین آپی۔ نوشین نے میری طرف دیکھا اور میر نظروں کی جانب دیکھا تو اسے سمجھ آ گیا کے میں اسکی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے کی بات کر رہا ہوں۔ نوشین نے پہلے مجھے دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنی آنکھوں کو نیچے کر لیا۔ اور آہستہ آواز میں کہا "کمینہ"۔
خیر میں نے اب اُن کے گھر میں زیادہ دیر رُکنا مناسب نہیں سمجھا اور نوشین سے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر اُن کے گھر سے نکل گیا۔
پورا دن بس اسی سوچ میں گزار گیا کے اگر قسمت مہربان ہو تو بندے کو بیٹھے بٹھائے دو خوبورت بہنوں کی چُوت ایک ساتھ بھی مل سکتی ہے۔ کہاں میں ایک آنٹی کی پھٹی ہوئی چوت کے پیچھے پاپڑ بیل رہا تھا اور کہاں بغیر کسی کوشش کے دو دو کنواری چوتیں وہ بھی ایک ساتھ مل گئی تھیں۔
میں رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے بستر پر لیٹا اپنی سوچ میں گم تھا کہ میرے موبائل کے میسج ٹیون بجی۔
میں نے فون اٹھا کر دیکھا تو نوشین کا میسج تھا۔
نوشین: سنو
میں: سناؤ
نوشین: آج جو ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا
میں: ایسا کیوں کہ رہی ہیں آپ؟
نوشین: وقاص تم تو لڑکے ہو تمہارا کچھ نہیں جائےگا لیکن ہم لڑکیاں ہیں اگر کسی کو یہ بات پتہ چلی تو ہمارے اپنے ماں باپ ہمیں جان سے مار دینگے۔
مجھے دونوں پھدیاں ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیں۔
میں: یار آپ بلاوجہ ڈر رہی ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ نہ آپ دونوں میں سے کوئی کسی کو بتائیگا اور نہ میں۔تو کسی کو پتہ چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
نوشین: نہیں یار گناہ زیادہ دن چھپا نہیں رہتا۔ تم سمجھ نہیں رہے۔ برا وقت کبھی بتا کے نہیں آتا۔
نوشین ٹھیک کہہ رہی تھی لیکن میرے دماغ پر تو پھدیاں سوار تھیں۔ وہ بھی دو دو خوبصرت اور کنواری۔
میں: یار تم فکر نہ کرو میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلےگا۔
بڑی مشکل سے اُسے منایا لیکن وہ بھی پکّی تھی۔ اس شرط پر مانی کے میں اس وقت تک اس کے گھر نہیں آؤنگا جب جب تک وہ خود نہ بلائے۔
خیر کل کے دن دو دیں پورے ہو رہے تھے اور اس بات کے کافی امکان تھے کے کنول آنٹی کی بہن اب اپنے گھر جا چکی ہونگی یہ کل چلی جائینگی۔ تو میرے لیے چوت کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
یہی ساری سوچیں ذہن میں رکھئے میں سو گیا۔