Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 24/09/20 in Posts

  1. قسط نمبر2:۔ دوستوں یہاں سے کہانی سکپ کرتا ہوں سیدھے وہاں چلتے ہیں جہا ں میری ٹریننگ ختم ہوئی اور میں گھر جانے کے لیے تیار تھا۔ میرے استاد کرنل صاحب نے ایک نصیحت کی تھی کہ دماغ کو ٹھنڈا رکھوگے کبھی بھی ہارو گے نہیں جہاں تم نے جلد بازی اور گرم دماغ سے کام لیا وہاں تم ہار جاؤگے باقی تم اب ہر طرح تیار ہو۔ ان پندہ ماہ میں میرا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ تھا کیوں کہ ہم جنگلات میں ٹریننگ کرتے تھے۔ میں کبھی اپنی بہن نمرہ سے اور باقی سب سے اتناعرصہ جدا نہ رہا تھا لیکن روزانہ ٹریننگ 20گھنٹوں کی ٹریننگ نے مجھے سب کچھ بھلا رکھا تھا لیکن جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا تو سب کی یا د آئی وہ ماں کا اپنے ہاتھ سے کھانہ کھیلانا، چھوٹی ماں کی گود میں سر رکھنا، نمرہ کے ساتھ مستی کرنا سب یا د آنا شروع ہوگیا۔ جب گھر پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا سب گھر والے اکھٹے تھے اور کچھ رشتہ دار بھی تھے۔میں سب سے ملا لیکن مجھے نمرہ نظر نہ آئی میری بے چین نظریں نمرہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن وہ نظر نہ آئی میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب سے تم گئے ہو وہ بیمار رہنے لگی ہے اپنے کمرہ میں ہوگی میں وہاں بھاگا نمر ہ کے کمرہ میں وہا ں دیکھا تو نمرہ لیٹی پڑی تھی لیکن وہ نمرہ نہ تھی جس کو میں یہاں چھوڑ گیا تھا بہت بیمار لگ رہی تھی اور جیسے میں کمرہ میں گیا تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی میں تڑپ گیا میری جان مجھ سے بات نہ کرے ایسا تو کبھی نہ تھا میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے صرف اتنا کہا کہ افی تم مجھے کیوں چھوڑ گئے تھے پھر ہم دونوں رونے لگ پڑے میں نے اس کو کھینچ کر گلے لگایا اور کافی دیر اس کو اپنے آپ سے چپکائے رکھا پھر باقی گھر والے بھی آگئے تو چھوٹی امی نے کہا کہ تم کے جانے کا اتنا اثر لیا کہ اتنا بیمار ہوگئی چل پھر بھی نہ سکتی ہے میں نے بولا اب میں آگیا ہوں نہ اب یہ ٹھیک ہوجائے گی جلد ہی۔ پھر سب کو دھیان آیا کہ میرے میں کتنا چینج آگیا ہے ان پندہ ماہ میں میرا قد تو پہلے ہی 6فٹ تھا اور باڈی مضبوط تھی لیکن اب میرے باڈی کی الگ ہی لک تھی بھرا جسم 6پیک مضبوط بازو اور لمبی مضبو ط ٹانگیں سرخ و سفید رنگ لمبے اور گھنے بال جو کہ ایک خاص ترتیب میں تھے۔ اس وقت میں ٹراؤز ر میں تھا۔ اور فٹنگ والی شرٹ پہن رکھی تھی جو کہ میری باڈی سے چپک رہی تھی جس وجہ سے میری باڈی نمایا ں لگ رہی تھی اور الگ ہی لک دے رہی تھی۔ امی نے بولا میرا بیٹابہت پیارا لگ رہا کسی کی نظر نہ لگے۔پھر رات کو جشن منایا گیا نیاز بانٹی گئی اور صدقے کے بکرے ذیبہ کیے گیے۔ اب مقابلہ کا دن قریب آرہا تھا تو میرا زیادہ تر وقت ٹریننگ میں ہی گزرتا تھا اب نمرہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی اس کے چہرہ پر زندگی کی رونک لوٹ آئی تھی جب میں ٹریننگ سے فری ہوتا تو زیادہ وقت ہم ساتھ گزارتے آخر وہ دن بھی آگیا جس کا لوگ 25سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بڑے میدان میں انتظام کیا گیا اور انتظام سابقہ سربراہ کی طرف سے ہوتا جو نیا سربراہ ہوتا اس پر اپنی دستار رکھ کر اس کو سارے اختیار سونپتا۔سب سے پہلے جو لوگ اہل تھے ان کی چھانٹی کی گئی جو کہ کیوں بڑے خاندانوں کے لوگ ہی حصہ لے سکتے تھے اور ان کی عمر اور باقی سب چیزوں کی پڑیا ل کی گئی تو مقابلے پر 51امیدوار بنے۔ اب ان کے درمیان تین مقابلہ جات ہونے تھے 1۔ نشانہ بازی 2۔ تیراکی 3۔لڑائی۔ مقابلے شروع ہوچکے تھے سب سے پہلے نشانہ بازی کا مقابلہ ہوا جس میں پہلے نمبر پر آیا تھا میری بچپن سے ہوئی ٹریننگ اور ماہر استاتذہ بہت کام آیا۔ دو سرا مقابلہ تیراکی کا ہوا جس میں تیسری نمبر پر آیا پہلے ان مقابلوں کا مقصد تھا کہ آخری مقابلہ میں کم امیدوار ہوں اب 20 امیدوار رہ گئے تھے جن کے درمیان مقابلہ ہونا باقی تھا ایک سابقہ سربراہ کا بیٹا شیر خان بھی تھا جو کہ تیراکی میں پہلے نمبر پر اور نشانہ بازی میں دوسرے نمبرپرآیا تھا اور وہ بھی اچھا اور طاقتور امیدوار تھا۔ ا سکے اور میرے نمبروں میں 2نمبر کا فرق تھا۔ پھر دوسرے دن مقابلہ شروع ہوئے اور میں جیتتا رہا اب آخری مقابلہ میرا اورشیر خان کا تھا جو کہ دوسرے دن ہونا تھا۔ گھر واپس آیا تو سب نے بہت مبارک دی نمرہ میرے گلے لگی۔ سب بہت خوش تھے۔ میرے جسم پر کافی ضربات آئیں تھیں کیونکہ مقابل بھی پتہ نہیں کیسی کیسی تیار ی کے ساتھ آئے تھے۔ لیکن مجھے ان ضربات کا کوئی اثر نہ تھا میرا جسم پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔ اگر یہ ضربات کسی دوسرے کو لگتی تو وہ شاہد زندہ بھی نہ رہتا۔ لیکن مجھے اتنا مسئلہ نہ تھا۔ میں سونے چلاگیا صبح اُٹھا نماز پڑھی اور اپنے لیے دعا کی۔ اور سکون سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگ پڑا کیونکہ کچھ دیر میں مقابلہ تھا۔ میرا حریف بھی بہت طاقتور تھا گھر میں سب سے ملا اور دعا لی سب نے بولا کہ ہم تب تک دعا کریں گیں جب تک تم جیت نہیں جاتے میری سب بہنیں اور دونوں مائیں تھیں۔ ہم جلوس کی شکل میں میدان میں گئے اور میں نے سجدے میں گر کر د عا کی میرے ابو نے کہا بیٹا آج مجھے یہ خوشی دے دے پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ میں کہا ابومیں اپنی پوری کوشش کروں گاابو بولے کوشش نہیں تم نے جیتنا ہے میں تم کا مقابلہ نہیں دیکھوں گامجھے جیت کا ڈھول سننا ہے۔ (یہ روایت تھی کہ جس خاندان کا امیدار جیتتا اس کی ایک خاص دھن بجائی جاتی) پھر میں اور شیر خان مقابلہ میں اُترے وہ واقع شیر خان تھالیکن میں نے بھی بتادیا کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں شروع شروع میں تو لوگوں میں جوش خروش رہا لیکن ہمارے لڑائی لمبی ہوتی گئی۔ ہمیں لڑتے ہوئے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن آخر شیر خان غصہ میں آگیا اور یہی اس کی غلطی تھی آخر مجھے موقع مل ہی گیا اس نے مجھے راؤنڈ ہاوس کک ماری لیکن میں پہلے ہی پہلو کے بل ہوگیا میں نے اس کو گھوم کر نی لاک لگایا جو کہ میرا سپیشل تھا اس سے موت تو چھڑا سکتی تھی لیکن اور کوئی نہیں شیر خان نے بہت کوشش کی لیکن آخر کا ر اس کو ہار ماننا پڑی اور میں جیت گیا پہلے تو سب پر سکتہ ہوگیا کیونکہ شاہد کسی کو امید نہیں تھی کہ شیر خان ہارے گا۔ لیکن میں جیت گیا اور سجدے میں گرگیا اور رو رو کر شکر ادا کیا ادھر بہت شور و غل تھا آواز سنائی نہ دے رہی تھی فائرنگ آتش بازی ڈھول پتہ نہیں ابونے کیا کیا انتظام کیا ہوا تھا سب نے مجھے کندھوں پر اُٹھالیا اور میرے ارد گرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگ گئے۔ آج رات میری دستار بندی تھی اور جشن تھا میں جلوس کی شکل میں حویلی پہنچے ہمار ا ڈیرہ جس کو ہمارے علاقہ میں بیٹھک بولتے ہیں گھر سے ساتھ ہی ہے اور تین کنال پر مشتمل ہے جس میں گھاس کے تین لان ہیں اور کئی کمرے ہیں مہمانوں کے لیے اور بیٹھنے کے لیے چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور کرسیاں بنی ہوئی ہیں درمیان میں جگہ خالی ہے۔ وہاں پر ڈھول پر ناچ ہو رہا تھا فائرنگ ہورہی تھی ہر طرف جشن کا ماحول تھا میں کچھ دیر کے لیے رخصت لے کر حویلی گیا اور جیسے ہی حویلی داخل ہوا سب میری طرف دوڑے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے سب نے بہت بہت مبارک باد دی۔ قسط نمبر3:۔ رات اسی بڑے میدان میں سب جمع تھے اور جشن کا سماں تھا مجھے کسی طرح دلہے کی طرح سجایا گیا تھا مطلب بہت بہترین لباس خوچی پٹھانوں کا خاص لباس ہے پہنایا گیا اور تیار کیا گیا۔ بہت بڑا مجمع تھا کیونکہ 25گاؤں کے لوگ اکٹھے تھے۔ پھر میری دستا ر بندی شروع ہوئی اور سابقہ سربروہوں نے میرے والد سے دستار لے کر میرے سر بر رکھی اور جیسے ہی رکھے بہت شور ہوا بہت فائرنگ ہوئی۔ پھر بڑے خاندانوں نے تحائف دیے۔ میرے والد نے ایک بہت ہی خوبصورت خنجر جس کی دستہ سونے کا اور میٹل پلاٹینم تھا جس سے لوہے کو بھی کات سکتے ہیں اور اس کی دھار اتنی تیز تھی کہ گلے پر رکھنے کی دیر ہے گلہ الگ۔ اور سابقہ سردار نے ایک بہت ہی خوبصورت پسٹل دیا جو کہ اس نے شیر خان کے لیے رکھا تھا لیکن جیت میں گیا تو اس نے کہا کہ یہ تحفہ سردار کے لیے رکھا تھا اب آپ سردار ہیں تو تحفہ آپ کا ہوا۔ اسی طرح رات تک تقریب جاری ہی اور جشن رہا ناچ گانا چلتا رہا اور بہت سے رقاسائیں ناچتی رہی۔ آخر کار میں اپنے ابو کے ساتھ واپس حویلی آگیا کیونکہ تین دن سے مقابلہ جات کی وجہ سے تھگ گیا تھا اور شیر خان کے ساتھ مقابلہ نے تھکا دیا تھا وہ واقع شیر تھا۔ لیکن میں بھی شیر کی سواری کر ہی ڈالی۔ جیسے ہی حویلی داخل ہوا وہاں کا ماحول بھی جشن کا تھا سب رشتہ دار عورتیں ناچ گا رہی تھی اور جشن چل رہا تھا۔ وہاں پر بھی مجھے بیٹھایا گیا اور سیپشل رقس پیش کیا گیا۔ پھر سب نے مجھے تحفے دیے۔ میرے چچا نے مجھے پراڈو کی چابی دی۔ میری امی نے مجھے ایک لاکٹ دیا جس میں ہیروں سے۔۔۔۔لکھا تھا جو میں نے چوم کر گلے میں ڈال لیا۔ چھوٹی امی نے مجھے آئی فون دیا۔ نور آپی نے مجھے ایک لیپ ٹاپ دیا۔ عائشہ نے مجھے ایک گولڈ واچ گفٹ کی۔ نمرہ نے مجھے ایک ہیوی بائیک کی چابی دی۔ آخر کار میں تھک ہا ر کر تین بجے کمرے میں پہنچا ا ور سوگیا۔ صبح اٹھا اورصرف دو گھنٹے ہی سو پایا تھا کیونکہ بچپن سے عادت تھی جلدی اٹھنے کی پھر جم میں گیا کیونکہ اس کے بغیر تو ایک دن بھی نہیں رہا جاتا اب بچپن کی عادت ہے پھر اب میں سردار بن گیا تھا تو اپنے آپ کو فٹ رکھتا اور بھی ضروری تھا بچپن سے ابو اور میں مل کر ہی اٹھتے اور جم جاتے پھر شوٹنگ پریکٹس کرتے ہیں پھر سوئمنگ کرتے اور پھر گھر جاتے۔ آج بھی یہی کیا۔ میرے ابو مجھ سے بہت خوش تھے۔ کیونکہ ان کا خواب میں نے پورا کردیا تھا۔ ابو نے کہا کہ آج سے تم اپنی مرضی کی زندگی جیو ہر پابندی ختم ہے جو قسم دی ہوئی تھی وہ بھی ختم اب تم ہرقسم کی پابند ی سے آزاد ہو جیسے چاہو مرضی کرو۔ آج رات ایک تحفہ میری طرف سے ہے سردار بننے کی خوشی میں اور وہ تم کو وہ تعلیم دے گی جس سے تم عورت سے کبھی مات نہیں کھاؤ گے میں نے سرجھکا لیا اور وہ ہنس پڑے بولے اسی لیے یہ تعلیم ضروری ہے کہ تم عورت سے بھی آشنا ہوجاؤ۔ خیر ناشتے کی ٹیبل سب موجود تھے اور سب ہی مجھ سے ٹریٹ مانگ رہے تھے۔ تو میں نے بولا آپ لوگ پروگرام بنا لو جہاں بولوگے لے چلوں گا۔ دوستوں ایک بات اور بتاتاچلوں کے شروع میں سٹوری کی ٹیمپو تیز رکھی ہے تاکہ بیگ گراؤنڈ آپ کی سمجھ میں آجائے اب سٹوری نارمل چلے گی۔ دن میں بیٹھک میں ہی رہا جوہ کے گھر سے ساتھ ہی ہے وہاں سارا دن مہمان آتے رہے اور مبارک با د دیتے رہے جن میں اس علاقہ کے ایم این اے، وزیر، اور پولیس آفسران بھی شامل تھے کیونکہ میں اب سردار تھا اور 25گاؤں کا سربراہ تھا جن کی آباد 15سے 20لاکھ تھی جو میرے ایک اشارے پر کچھ پر کر سکتے تھے۔ خیر رات ہوگئی میں حویلی واپس آگیا اور کھانے کی ٹیبل پر سب میرا انتظار کرر ہے تھے ہم سب نے کھانہ کھایا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں ابھی کمرے میں ہی پہنچا تھا کہ نمرہ میرے کمرے میں آگئی وہ ایسے ہی آجاتی تھی کبھی ناک نہیں کرتی تھی۔ بولی افی تم جب سے آئے ہو میرے ساتھ وقت نہیں گزار رہے میں نے کہا یا ایسی کوئی بات نہیں تم کے سامنے ہی ہے کہ جب سے آیا ہوں مجھے وقت ہی نہیں ملا اب وقت ہی وقت ہے تم کے ساتھ ہی گزاروں گا۔ بولی افی اب تو تم پر لاکھوں لڑکیاں مرے گی میں نے بولا کیوں میں زہر ہوں جو مجھ پر مریں گے وہ ہنس پڑی اور بولی نہیں یار اب تم سردار ہو اور ویسے بھی تم بہادر،خوبصورت او ر ایک آئیڈئل بن چکے ہو تو لڑکیاں تم پر مریں گی ہی میں نے کہا اور تم نے کون سے لڑکیوں کو میرے پاس آنے دینا ہے جیسے پہلے نہیں آنے دیا کیا مجھے پتہ نہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کو تم میرے پاس نہیں آنے دیتی تھی تو نمو نے کچھ نہ کہا اور ہنس دی بولی اب تم کہاں رکو گے وہ تو تم ابو کی قسم کی وجہ سے روکے ہوئے تھے میں نے بولا اب میرا بنتا بھی ہے اتنے سال تو انتظار کیا محنت کی اور پھل کھانے کی باری ہے بولی افی کہیں پھل کھاتے کھاتے مجھ سے دور تو نہیں ہوجاؤ گے میں نے بولا یا کیسی باتیں کرتی ہو ایسا ہوسکتا ہے کہ تم سے دور ہوجاؤں بولی میں تو بہن ہوں اب تم مجھے کہاں گھاس ڈالو گے کہاں وقت دو گے ا ب تو رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگو گے میں نے بولا نمو تم مجھے ایسا سمجھتی ہو بولی نہیں میں تم کو بچپن سے جانتی ہوں تم ایسے نہیں ہو لیکن تم کو آج کل کی لڑکیوں کا پتہ نہیں ہے وہ ایسے گھماتی ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا میں نے بولا تو تم میری گارڈ ہو نا مجھے کس کا ڈر میں سب گاؤں کا گارڈ اور کھوالا ہوں تم میری گارڈ ہو تو نمو ہنس پڑی پھر بولی اچھا میں چلتی ہوں رات بہت ہوگئی ہے اب تم اچھے بچوں کی طرح سوجاؤ میں بھی جاتی ہوں اور ہاں گارڈ والی بات یاد رکھنا تم نے ہی مجھے اپنا گارڈ بنایا ہے میں نے بولا یاد رہے گا قسط نمبر4:۔ وہ چلی گئی اور میں سونے کی تیاری کرنے لگا تھوڑی دیر بعد میرے کمرے میں گلناز آئی وہ ہماری ہیڈ ملازمہ ہے مطلب گھر میں جتنی بھی عورتیں اور لڑکیا ں ملازم ہیں ان کی ہیڈ تھی اور سب کی کنٹرولر تھی اس کی عمر تقریباً35سال تھی لیکن لگتی وہ 25کی تھی بھرا بھرا جسم لمبا قد بھاری سینہ باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ پتلی کمر غرض کے چلتا پھرتا آئٹم بمب تھی۔بولی چھوٹے صاحب مجھے بڑے صاحب نے آپ کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔تو میں بولا کون سی خدمت اس وقت تم نے کرنی ہے میں تو اب سونے لگا تھا وہ جی وہ صاحب نے بولا آپ کو تعلیم دینی ہے میں بولا اچھا تو تم میری ٹیچر ہو جو مجھے عورت کی تعلیم دے گی وہ بولی جی مجھے بڑے صاحب نے ڈیوٹی دی ہے کہ میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں اور آپ کو مرد بناؤں میں نے بولا کیا میں مرد نہیں ہوں بولی آپ مرد ہو لیکن لڑکے ہو مرد تو میں آج کی رات آپ کو بناؤں گی میں بولا ٹھیک ہے مجھے بتاؤ میں کیا کروں پھر میں بولا تم کو کیسے پتہ کہ میں ابھی تک لڑ کا ہوں مرد نہیں بنا کنوارہ ہوں بولی میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک تو آپ کو قسم دی گئی تھی دوسرا آپ کی نظروں میں کبھی بھی حوس نہیں دیکھی حالانکہ گھر میں ایک سے ایک ملازمہ ہیں اور گاؤں کی لڑلیاں بھی ایک سے ایک ہیں لیکن آپ کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں بولا ابھی میں جس حالت میں کھڑی ہوں کوئی دوسرا ہوتا تو مجھے آتے ہی مجھ پر ٹوٹ پڑتا واقع ہی میں نے کبھی کچھ نہیں کیا صرف ٹریننگ پر دھیان ہی دیا تھا کبھی کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا نہ خیال آیا اور وہ اس وقت فل آئٹم بنی کھڑی تھی اس نے سلک کا فل فٹنگ والا جوڑا پہنا تھا جس سے اس کے جسم کے تمام حصے نمایاں تھے ایک ایک کٹ واضح نظر آرہا تھالیکن میں نے دھیان ہی نہیں دیا میں اس کو دیکھ رہا تھا تو گلناز بولی میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں گی آپ کو اتنا ماہر بنادوں گی کہ آپ عورت کے دل کی ہربات آپ جان سکتے ہیں اس کی خواہش کیا ہے کیسے پوری کرسکتے ہیں وہ آپ سے کیا چاہتی ہے آپ کیسے جان سکتے ہیں۔ عورت کو سکون کیسے دیا جاتا اور کیسے تڑپایا جاتا ہے کیسے اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گلناز کو میں اب ناز لکھوں گا کیوں کہ ہم اسے ناز ہی کہتے تھے۔ میں شرمانے لگ گیا کیونکہ پہلی بار کسی عورت سے ایسی باتیں سن رہا تھا تو ناز بولی تم کی یہی شرم تو اُتارنی ہے بولی جس نی کی شرم اس کے پھوٹے کرم شرمانا نہیں اگر تم شرماؤ کے کچھ بھی نہیں کرپاؤ گے لڑکیاں اس کو پسند کرتی ہیں جو شرماتا نہیں شرمانا تو لڑکیوں کا کام ہے اور صاحب جی آپ شرمانے لگے میں نے بولا تم اب میری ٹیچر ہو مجھے صاحب جی مت بولو تم مجھے افی کہہ سکتی ہو۔ ہم م م م کیا بولی فریش ہونا ہے یا ہوچکے ہو میں بولا ہوچکا ہوں۔ بولی آؤ تم کو عورت سے روشنا س کراؤں اور تم کو مرد بناؤں میں جھجھک رہا تھا اس نے میرا ہاتھ پکڑا تو میرے جسم میں کرنٹ دوڑنا شروع ہوگیا یہ نہیں کہ پہلی بار کسی عورت یا لڑکی نے ہاتھ پکڑا تھا امی نے نمرہ نے چھوٹی ماں نے کئی بار پکڑا ان کے گلے بھی لگا پر یہ کچھ اور ہی تھا ناز بولی لگتا ہے مجھے پہل کرنی پڑے گی اور تم کی شرم اُتانی پڑے گی میں بولا جی صرف اتنا ہی کہہ پایا۔ اس نے مجھے گلے لگا یا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میرے جسم میں سنسنی شروع ہوچکی تھی ایسا پہلی بار ہو رہا تھا اس نے میرے گالوں کو چومنا شروع کردیا میرے پورے منہ کو چومنا شروع کردیا میں اس وقت لوز ٹراؤزر میں تھا اور بنیان پہنی ہوئی تھی کیوکہ رات کا میرا یہی لباس تھااس نے میرے میرے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا بولی واہ کیا سینہ ہے کمال کی باڈی ہے میں حیران تھا کہ اس کا قد پانچ فٹ سے کچھ اوپر ہے اور وہ میرے برابر کیسے ہے نیچے دیکھا تھا تو وہ چھوٹی ٹولی پر کھڑی تھی کیونکہ میرا قدچھ فٹ تین انچ تھا۔ اس نے میری بنیان اتارنا شروع کردی اور میری بنیان اتار دی اب میں صرف ٹراؤزرمیں تھا میں نے بھی آہستہ سے ہاتھ اس کے کمر پر رکھ لیے اور پھیرنا شروع کردیے جیسے ہی ہاتھی اس کی کمر پر لگے تو اس نے مجھے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ میرے ہاتھ اس نے پکڑ کر اپنی باہر کو نکلی ہوئی گانڈپر رکھ دیے او ر میرے سنیے اور بازؤوں کو چومنا شروع کردیا پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن کچھ دیر بعد میں بھی اس کا ساتھ دینا ناز میرے نیچے والے ہونٹوں کو چوسنا شروع کرچکی تھی اور میں نے اس کے اوپر والے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا اور میں نے ناز کی گانڈ پر پکڑ سخت کرد ی میرے ہاتھ اب لوہا بن چکے تھے تو ناز نے میرے ہونٹ چھوڑے اور بولی افی آرام سے تم کے ہاتھ بہت سخت ہیں آرام سے اور پیار سے دباؤ میں نے بولا سوری سب پہلی دفعہ ہے نا تو تھوڑا مسئلہ تو گا بولی کوئی بات نہیں سب سیکھ جاؤ گے۔ میں نے پکڑ اب ڈھیلی کر دی تھی۔ اور آرام سے ناز کی گانڈ مسل رہا تھا نیچے میرا لن اب سر اٹھا رہا تھا ناز نے میرے سینے سے ہوتے ہوئے نیچے میرے پیٹ کی طرف آنا شروع کردیا اور اور میرے پیٹ کو چومنا شروع کردیا تھا اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھے ہوئے تھے مجھے یہ سب بہت عجیب لگ ر ہا تھا سب پہلی بار ہورہا تھا۔ ناز نے میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے تو ایکدم مجھے کرنٹ لگا پہلی بار تھا کسی عورت کے سینہ پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔ میں نے ناز کے سینے کو مسلنا شروع کردیا اور پھر ناز کی قمیض کو اتارنا شروع کردیا لیکن وہ بہت تنگ تھی اس کے مموں کے پاس آکر پھنس گئی تو ناز بولی روکو میں خود اُتارتی ہوں اس طرح پھاڑ دو گے میں واپس کیسے جاؤں گی تو میں رک گیا ناز نے قمیض سے پہلے ایک مما نکالا اور پھر دو سرا نکالااور قمیض کو سرسے باہر نکالا اور قمیض اتار دی جیسے ہی میری نظر اس کے سینہ پر مموں پر پڑی تو ایکدم ساخت ہوگیا اس نے بلیک کلر کی برا پہنی تھی اور اس میں سے اس کے 38سائز کے ممے جو کہ سائز مجھے اس نے بعد میں بتایا تھا باہر آنے کو بیتاب تھے میں فوراً کسی چھوٹے بچے کی طرح ان پر جھپٹ پڑا اور ہاتھوں سے مسلنا شروع کردیا اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہوگئی بولی آرام سے میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی تم کے ہاتھ بھی بہت سخت ہیں اس طرح تو کوئی لڑکی تم کے ساتھ راضی نہیں ہوگی پیار سے کرو عورت کو جتنا مزا دو گے اتنی ہی تمہارے غلام بنے گی اس کو درد دو گے تو وہ تم سے دور بھاگے گی میں بولا پہلی بار ہے اس لیے شاہد ایسا ہوا آئندہ احتیاط کروں گا بولی میں تم کی ٹیچر ہوں میں تم کو سکھانا چاہتی ہوں اس لیے بار بار ٹوک رہی ہوں تاکہ تم ایکس پرٹ بن جاؤ۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسلنا شروع کردیا لیکن اب کی بار آرام سے اور پیار سے بولی ان سے کھیلو گے میں بولا ہاں تو اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر برا کی ہک کھول دی اور ممے اچھل کر باہر آگئے میں ان کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلناشروع کردیا اس کے منہ سے سکاریاں نکلنا شروع ہوچکی تھیں ڈر گیا شاہد کے در د ہورہا ہے ہاتھ ہٹالیے تونا ز بولی ہاتھ کیوں ہٹالیے بولا تم کو درد ہورہا تھابولی یہ درد نہیں یہی تو مزا ہے جب عورتوں کو مزا آتا ہے تو منہ سے ایسی ہی آوازیں نکالتی تھیں۔دوستوں مجھے پتہ نہ تھا کیونکہ نہ تو کبھی چودائی کی تھی نہ دیکھی تھی۔پھر میں نے دوبارہ ناز کے خربوزے سائز مموں کو مسلنا شروع کردیا کبھی ایک پکڑتا کبھی دوسرا پکڑتا اور مسلتا میں ناز کے مموں میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ نیچے میرا لن فل کھڑا تھا میں اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا میرے ٹراؤزر کے سامنے بڑا سا تمبو بنا ہوا تھا جب ناز نے ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لن پر ہاتھ رکھا تو ایک بار تو پیچھے ہٹ کر میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے ٹراؤزر نیچے کر کے ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا میر ا لن فل کھڑا تھا اور پتھر بنا ہوا تھا اور اوپر نیچے جھٹکے کھا رہا تھا ناز کی آنکھو ں میں عجیب سی چمک تھی چہرہ سرخ ہو رہا تھا اس نے بازو جب میرے لن کے ساتھ لگایا ناپنے کے لیے تو اس کی بازو میں اورمیرے لن میں اور اس کے بازو میں کوئی فرق نہ تھا میرا لن تقریباً11انچ لمبا اور 4انچ موٹا تھا بولی اتنا بڑا کیسے ہوگیا پھر چونکی اور بولی ہاں جس تیل سے تم کی جسم کی مالش ہوتی تھی اس نے اس کی نشوونما اچھی کی ہے بچپن سے جو تیل کی مالش ہوتی تھی پورے جسم پر ہوتی تھی لن پر بھی ہوتی تھی اپنے ہاتھ کو میرے لن پر آگے پیچھے کیا تو میں پاگل ہونے والا ہوگیا تھا عجیب سا مزا تھا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا بولی یہ تو میرا کباڑا کر دے گا میرے ہاتھ ابھی اس کے مموں پر ہی تھے بولی ان سے کھیلوں جتنا کھیلو گے عورت کو اتنا مزا آئے گا ان کو چوسو،ہلکے ہلکے کاٹو میں نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اس کا ہاتھ میرے لن پر آگے پیچھے ہورہا تھا اور میں اس کے مموں کو چوس رہا تھا بولی میں تھک گئی ہوں بیڈ پر چلتے ہیں تو ہم بیڈ پر آگئے میں فل ننگا تھا اس نے پاجامہ پہنا ہوا تھا اوپر سے ننگی تھی وہ لیٹ گئی اورمجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا میں پھر اوپر آگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا لیکن پیار سے کبھی ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا کبھی چوستا کبھی کاٹتا اور ناز مزے سے سسکتی اور عجیب عجیب آوازیں نکالتی پھر اچانک اس کی سسکیوں میں اور آوزوں میں تیزی آتی گئی پھر ایک بار اچھلی اور پرسکون ہوتی گئی میں ایسے ہی اس کے مموں سے کھیل رہا تھا لیکن وہ ایسے پڑی تھی جیسے مردہ پڑے ہوتے ہیں بولی رک جاؤمیں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہوچکی ہوں تم نے میرے مموں ایسا کھیلا کے برداشت نہ کرسکی سب سمجھ جاؤ گے اور سیکھ جاؤ گے۔ جیسے تم لڑکے فارغ ہوتے ہو ویسے ہی عورتیں بھی فارغ ہوتی ہیں جس سے سکون حاصل ہوتا ہے عورت فارغ نہ ہو یا مرد فارغ نہ ہو تو کیسا سکون اسی سکون کے لیے تو دنیا مرتی ہے۔ اب مجھے میرے لن میں جو کہ کافی دیر سے اکڑا ہوا تھا درد ہونا شروع ہوچکی تھی میں نے ناز کو بتایا تو بولی اب میں اس کا علاج کرتی ہوں پھر اُٹھ کر مجھے بولا لیٹ جاؤ میں حکم مانتے ہوئے لیٹ گیا اس نے پہلے تو میرے لن پر تھوک پھینکا پھر ہاتھ سے میرے لن پر ملا پھر میرے لن کو چوم لیا جب ناز نے چوما تو مجھے کرنٹ لگا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی پھر اس نے میرے ٹوپے کو منہ میں لینے کی کوشش کی کیونکہ میرا لن موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں صرف ٹوپا بھی پورا نہ جاسکا لیکن میرے لیے یہ مزا نیا تھا ناز بولی ہر لڑکی منہ میں نہیں لیتی میں تو تم کو ہر مزے سے روشناس کروانا چاہتی ہوں یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سردار کو میں مرد بناؤ گی اور اس کا کنوارہ پن ختم کروں گی پھر اس نے پورا منہ کھول کر جتنا ہوسکتا تھا منہ میں لے کر آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کیونکہ چوس تو سکتی نہیں تھی موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھر تھوڑی دیر منہ میں لینے کے بعد اٹھی اور شلوار اتاردی اور پوری ننگی ہوگئی زندگی میں پہلی بار میں نے ایک عورت کو پورا ننگا دیکھا تھا میری عجیب حالت تھی لن تھا کہ جھٹکے پر جھٹکے لے رہا تھا بولی کیا دیکھ رہے ہو میں بولا پہلی بار کسی کو ننگا دیکھا ہے اس نے بولا آؤ میں تم کو دوسرے جہاں کی سیر کراؤں تم نے عورت کا اوپر والا جسم تو دیکھ لیا اور سیر کر لی اب نیچے والی سیر بھی کراؤں جس کے لیے دنیا پاگل ہے اور جس سے دنیا بڑھی ہے اور قائم ہے۔ اس کی پھدی کلین شو تھی ہلکی سے پنکش تھی لیکن اس کے ہونٹ تھوڑے کھلے تھے بولی ویسے یہ تم سے زیادتی ہے کہ تم کنوارے ہو اور میں کنواری نہیں ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا کنواری لڑکی سے جو کچھ کرنا ہے تم نے کرنا ہے لیکن چدی ہوئی تم کو مزادے گی اور لے گی اور میری عمر کی پکی عورت تم کو اصل مزا دے گی۔ ویسے تم کے ہتھیار کے حساب سے تو تم کو تقریباً سب ہی کنواری لگیں گیں۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ لیے بولی جس طرح سے میرے مموں سے کھیلے ہو اسی طرح اس سے بھی کھیلو پھر اس میں گھوڑا دڑاؤ۔ پھر میں نے ناز کی پھدی پر ہاتھ رکھا تو میرے ہاتھ پر سفید اور گاڑھا لیس دار پانی لگ گیا جو کہ ناز نے بتایا تھا کہ یہ عورت کا پانی ہوتا ہے پھر میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی پھیری تو اس نے سسکاری بھر ی میری انگلی اس کے پھدی کے پانی سے تر ہوچکی تھی میں انگلی پھر رہا تھا کہ میری انگلی نے ایک سوراخ پایا اور میں نے دباؤ ڈالا تو اند ر چلی گئی ناز بولی کیس لگا میں بولا انکوکھا مزا ہے یہ تو پھر بولی اب تم بھی مجھے پیار کروں جیسے میں نے کیا ہے اپنے منہ سے تمارے ہتھیار پر مجھے کوفت ہوئی لیکن مجھے سب سیکھنا تھا تو زبان نکال کر میں نے پھدی کو چوما اور سونگھا تو عجیب سی خوشبو آئی پھر زبان جیسے ہی ناز کی پھدی سے ٹچ ہوئی تو ناز ایک دم سسکی اور مجھے ضائقہ نمکین سالگا اور عجیب سا لگا پھر میں نے برابر زبان چلانا شروع کردی جیسے جیسے ناز بتاتی گئی وہ بے خود سی ہوگئی تھی پھر کچھ دیر بعد اس کا جسم اکڑ گیا میں اب سمجھ گیا تھا کہ پھر فارغ ہوگئی ہے لیکن میں نے اس کی پھدی کو چاٹنا جاری رکھا کیوں کہ میری استاد نے مجھے ابھی تک نہیں روکا تھا جب فری ہوئی تو فوارا میرے منہ میں گیا جو میں پی گیا اب مجھے اچھا لگ رہا تھا میں نے نا ز سے بولا یا ر میرے اس میں بہت درد ہو رہی ہے بولی کس میں میں آہستہ سے بولا لن میں بولی شرمانا چھوڑ دو تو کامیاب رہو گے میں بولا آہستہ آہستہ اتار دوں گا آج پہلی بار ہے تم جیسی استا د ملی ہے تو جلد ہی سب سیکھ جاؤں گا۔ بولی فکر نہ کروں تم کو اتنا ماہر کردوں گی کہ تم ایک ماہر کھلاڑی بن جاؤ گے جیسے کہ تم دوسری چیزوں میں ہو۔ تو بولا میرے لن میں درد ہوگئی ہے۔ بولی اس کا قصور نہیں ہے تم اتنی دیر سے ہارڈ ہو مطلب تم کا اتنی دیر سے کھڑا ہے تو ددر تو کرے گا اب تم کا گھوڑا سواری کرنے چاہتا ہے تاکہ اپنی منزل پر پہنچ جائے آؤ تم کو سواری کرواؤں۔ بولی کوئی آئل ہے میں نے بولاہاں ناریل کا تیل پڑا ہے بولی لے آؤ میں گیا اور تیل لے آیا اس نے بولا اچھی طرح سے اپنے لن پر لگاؤ میں نے لگا لیا اور پھر بولی تم نیچے لیٹ جاؤ تم اناڑی ہو کہیں مجھے مار ہی نہ دو جیسا تم کا ہتھیار ہے۔ میں لیٹ گیا اور وہ میرے اوپر آگئی پھر میرے ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا او ر میرے لن کو پکڑ کر اپنی گیلی پھدی کے منہ پر رکھ لیا اور اس پر پھیرنے لگی مجھے بہت مزا آرہا تھا میں ہواؤں میں اُڑ رہا تھا ایسا مزا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن کسی تنگ جگہ میں جا رہا ہے میں نے ناز کے منہ سے سی سی سی سنی بولی بہت موٹا ہے لیکن وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی تھوڑا تھوڑا کر کے میرا آدھا لن اپنی پھدی میں ڈال لیا اور رک گئی پھر اوپر ہوئی اور پھر نیچے آئی جب نیچے آئی تو میں نے نیچے سے جھٹکا مارا جھٹکا زور کا تھا اس کی اور میری چیخ ایک ساتھ نکلی لیکن ناز کی چیخ اتنی زور دار تھی کہ میں ڈر گیا تھا اگر میرا کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو شاہد پورے علاقہ میں اس کی چیخ سنی جاتی مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا لن کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہوا ہے۔ ناز میرے اوپرلیٹی ہانپ رہی تھی اور میرا پورا لن ناز کی پھدی میں گھس چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ناز نازمل ہوئی اور غصے سے میری طرف دیکھامیں شرمندہ سا منہ بنا کر نیچے کرلیا۔ میں نے بولا ناز سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے اتنا مزا آیا تھا کہ جوش میں آکر جھکا مار بیٹھا ناز بولی شکر کرو کوئی جوان لڑکی نہیں تھی ورنہ اس کا کام تمام ہوجاتا۔ میں بہت شرمندہ تھا کہ واقع مجھ سے غلطی ہوئی۔ ناز بولی تم کا ہتھیار بہت موٹا اور لمبا ہے اگر تم ایسے کسی کے ساتھ کرو گے تو کوئی بھی تم کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔میں نے دوبارہ معافی مانگی ناز نے بولا کوئی بات نہیں مجھے ہی بتانا چاہیے تھا کہ جھٹکا نہ مارنا تم کے لیے تو یہ سب نیا تھا۔ میرا لن اب ناز کی پھدی میں بری طرح غصہ ہوا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی گرم بھٹی میں ہے اور کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہو اہے۔ اب ناز نے بڑے آرام سے آہستہ آہستہ باہر نکالا ساتھ سی سی کرتی جارہی تھی بولی تم نے میری بینڈ بجادی ہے جب میرا لن باہر نکلا تو اس پر خون لگا ہوا تھا بولی دیکھ لو میرے ساتھ تم نے کیا کیا ہے۔ میں خاموش رہا پھر اس نے مجھ کو کس کی کہتی کوئی بات نہیں معاف کیا خیر اس نے پھر سے تیل لگایا اور اوپر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ پورا اندر لے لیا ساتھ میں کسنگ جاری رکھی بولی میرے مموں سے کھیلو اس طرح مجھے درد کم ہوگا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے ناز کے خربوزے سائز کے مموں سے کھلینا شروع کردیا۔ اب ناز اوپر نیچے ہوتی رہی آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے پانی کی وجہ سے اور آئل کی وجہ سے پھدی میں جگہ بن گئی تھی اب وہ پورا لن اند ر لیتی اور پھر ٹوپی اندر کھ کر باقی باہر نکالتی پھر اند ر لیتی اس کا سانس پھول رہا تھا اور میں مزے کی گہرائیوں میں تھا۔ پھر مجھے ناز کی پھدی کا گرم گرم پانی اپنے لن کے ساتھ محسوس ہواور ناز میرے اوپر گر گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کچھ دیر بعد بولی کیسا لگا میں بولا ایس لگ رہاتھا کہ آسمانوں پر اُ ڑ رہا ہوں بولی میں تین بار فارغ ہو چکی ہوں لیکن ابھی تک تم کا ایک بار بھی نہیں ہو ا اسے کیا پتہ تھا تمام مقابلے میں نے سٹیمنے کی وجہ سے جیتے تھے پھر وہ نیچے لیٹ گئی بولی اوپر آؤ میں اس کو پکڑا میرا لن اس کی پھدی کے اندر ہی رہا اور میں گھوم گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں اس کے اوپر بولی اب آہستہ آہستہ گھسے مارو میں نے سلوسپیڈ میں گھسے مارنے شروع کردیے جب میں ا سکے اند ر کرتا تو اس کی سسکی نکل جاتی اب وہ جوش میں آگئی او ر بولی تیز دھکے مارو میں نے سپیڈ تیز کردی اس نے ٹانگے اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دی میں نے ٹانگوں کو پکڑلیا اور سپیڈ سے دھکے مارنے لگ پڑا جب میں دھکا مارتا تو وہ اپنی گانڈ پیچھے کرتی جس سے دھک دھک کی آواز آتی اب میں طوفانی دھکے مارنے شروع کردیے تھے تو ناز نے چیخنا شروع کردیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی اسکوپوری طرح قابو کر کے دھکامارتا جارہا تھا اچانک ناز کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور گرم گرم پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا۔ لیکن میں نے اسی رفتار سے چودائی جاری رکھی۔ ناز اب بے جان ہوگئی تھی اور شاہد بے ہوش ہوگئی تھی جب ناز بے ہوش ہوئی تو میں نے لن باہر نکال لیا اور ٹیبل پر پڑے پانی سے چھنٹے مارے تو ناز کو ہوش آیا اور جیسے ہی میرے لن پر نظر پڑی تو سہم گئی بولی شاہد میری زندگی کی آخری رات ہے تم مجھے جان سے مار کر چھوڑو گے میں نے بولا میں نے کیا کیا ہے بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے جیسے میں ہورہی ہوں میں نے بولا مجھے کیا پتہ بولی تم کا کتنا سٹمینا ہے میں نے کہا پہلی بار ہے مجھے کیا پتہ بولی کچھ محسوس ہورہا میں نے کہا ہونے لگتا ہے لیکن تم روک دیتی ہو۔ بولی اب جو بھی ہو جب تک فارغ نہ ہو رکنا نہیں میں نے کہا تم بے ہوش ہوگئی تھی تو میں ڈر گیا تھا بولی مجھے کچھ نہیں ہوتا زیادہ سے زیادہ بے ہوش ہی ہوں گی میں بولا ٹھیک ہے پھر وہ گھوڑی بنی میں اس کے پیچھے آگیا اور اپنا لن اس کے پھدی کے منہ پر رکھا جو کہ اب سوج چکی تھی اور ایک جاندار دھکا مارا تو ناز چیخ پڑی پھر میں لگاتار دھکے پر دھکا رتا رہا اور آخر کار مجھے میری جان لن کی طرف آتی محسوس ہوئی میں نے ناز کو بولا مجھے کچھ ہورہا ہے ناز بولی تم قریب آرہے ہو لگے رہو میں پورے زور سے دھکے لگارہا تھا پھر مجھے ناز کی پھدی کا پانی محسوس ہوا ساتھ مجھے بھی محسو س ہوا تو ناز نے جلدی سے پلٹی کھائی اور منہ کر کے بیٹھ گئی بولی میرے منہ پر فارغ ہونا پہلا پانی میں پینا چاہتی ہوں پھر میرے لن سے پہلی فوار نکلی جو کہ سدھے اس کے منہ پرپڑی پھر تو برسات شروع ہوگئی جو کہ ناز کے جسم کو بھیگو گئی اور میں جب آخری قطرہ بھی نکل گیا تو وہی بیڈ پر گر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ پڑا۔
  2. o janb abi new new aap nay Ye story start ki hai,,,thora maza to aanay do,, thora tajasus to bharnay do,,,,abi starting say hi aisi conditions to na rakho,,,,,,Zafar Sir nay baja farmaya hai,,,Agar wo apni story main ye condition rakhe to samaj bi aati hai,,,Baqi agay aap ki marzi.
  3. 31 to 34 path ‘’han oye..budmash ho tum log?’’ Police wale humen seedha thane le aye the aur ab hum inspector k samne bethe the Me: larae unho ne shuru ki Inspector: wo dono hospital mein hn…agar mer jate to?ma parcha/FIR kaatne lga hn tum dono k khilaf ‘’acha to yeh hn wo dono’’ 1 admi andar dakhil hua aur shayed wo un dono larkon mein se kisi ka baap tha Inspector: g ch sb yehi hn Wo usay dekh k adab se bola Ch: kaato parcha …abi…aur chhitrol kro in achi khasi Ch humen ghoor k bola Hashoo ne meri taraf dekha Me: ap mera mobile den muje 1 call krni ha Un logon ne hamare mobile usi waqt le liye the Inspector: acha g?kise call kro ge?bnd kro inhe hawalaat mein Wo tanziya andaz mein bola aur 1 sipahi ko hukum dia Me: pata chal jaye ga ap ko Ch: krne do call ise…ma b to dekhun is k pichhlon ko Inspector ne daraz mein se mera mobile muje pakra dia Humen thane mein kafi der hogae thi aur bua aur baba ki bohat si miscalls thn Ma ne baba ka number milaya ‘’ faizi ?kahan ha tu?’’ Baba call pick krte he bole Me: baba meri larae hogae thi aur yeh log muje thane mein le aye hn..kehte hn… Baba: ma yahan sheher mein he hn 5 mint mein aya…tera pata krne aya tha…inho ne tuje mara to nai? Unho ne meri baat kaati Me: kehte hn chhitrol b krni ha aur FIR.. Inspector ne mere hath se mobile le k call kaat di Insp: bs oye bohat hogya Phir us ne sipahi ko humen bnd krne ka kaha ‘’chhittar paren ge ab’’ Hawalaat ki taraf jate hue hashoo bola Me: baba ane wale hn ge Ma ne usay hosla dia Thane k gate se andar dakhil ho k bara sa sehan tha aur sehan k 1 taraf he hawalaat thn Sipahi ne hawalaat ka darwaza khola ‘’oye…ruk ja wahin’’ Hum ne mur k dekha to baba aur akram gari se utar rahe the aur yeh awaz baba ki thi Baba: teri jurrat kese hui mere bete ko bnd krne ki Un ka chehra ghusse se surkh ho raha tha Sipahi bechara bud hawas hogya Sipahi: janab…yeh apka beta…insp sb ne…kaha tha Baba: tum log ao mere sath Baba ne mera hath pakra aur inspector k kamre mein le gye Baba: tu bnd kre ga mere bete ko? Insp apni seat se khara hogya Insp: ap ka beta?is ne nai btaya…nai to ma…ap bethen na ‘’ap ka beta mere bete ko jaan se maar deta aj’’ Ch beech mein bola Baba: acha to tumhare kehne pe yeh sb ho raha tha…yahan he betha hn ma…koi hath lga k dikhaye mere bete ko….chal insp tu FIR kaat Insp: kesi baten krte hn ap?ap le jayen bche ko..ch s bap chup kren Baba ch ki taraf mure Baba: aur han ch…mera beta kbi pehel nai krta larae mein…apni aulaad ko samjha k ayenda is ki taraf ankh b utha k na dekhe koi…warna…chal faizi Baba humen le k wahan se nikal aye ‘’kya chakkar ha in logon k sath?’’ Raste mein baba ne puchha Ma baba k samne rehan ka nam nai lena chahta tha kyu k is se baat aur barhti aur hina tk ja pohnchti Aur ma nai chahta tha k khandaan mein yeh baat phele k meri aur rehan ki larae ki wajah khandan ki he 1 larki thi Me: baba college mein hote hn…macth k doraan phadda hogya Mere jhoot pe hashoo ne muje qurbaan jane wali nazron se dekha Ghar ja k bua se b bohat daant pari aur bari mushkil se unhe razi kia Bua ne muje kuch cheezen di k phuppo k ghar college se wapsi pe de aun Sobia se last time gaon mein he mila tha aur is baat ko b kafi din ho chuke the Gate sobia ne he khola aur muje dekh k us k chehre pe muskurahat agae Me: phuppo kahan hn? Ma idhar udhar dekha Sobia: wo mamoo (mere chacha) ki taraf gae hn..ma call krti hn unhe wo ajayen gi Wo shayed abi naha k ayi thi aur pink color k dress mein wo qayamat dha rai thi Ma drawing room mein beth gya aur sobia juice le ayi Sobia: who..tum…itne din aye nai Wo sofa ki dosri side pe beth gae Me: late hojaun to bua pareshan ho jati hn Ma us ki taraf dekhe bgher bola Sobia: acha 1 kam kro ge? Me: han bolo Sobia: mere kamre ki tubelight nai chal rai thi to dosri mangwayi ha…who lga do ge? Me: chalo ma lga deta hn Wo muje apne kamre mein le ayi Ma 1 stool pe charha aur tubelight lga di Sobia stool k bilkul pas khari thi isliye jb ma niche utra to mera jisam us k jisam k sath touch hogya Us ne peche hone ki koshish nai ki thi Ma ne us k chehre ki taraf dekha to us ki ankhon mein laal doary ter rai the Sobia: tumhe meri yaad nai ati na? Wo thora aur qareeb hui Tez sanson se us k mamme ooper niche ho rai the Phir achanak us ne muje hug kr lia Aur 1 bar phir muje apna faisala badalna para aur ma ne b kass k us k narm o mulaim jisam apne sath bhench lia Sobia: muje kiss kro Us ne chahra ooper uthaya to ma ne apne hont us k honton pe rkh diye Sobia ne apne hont khole aur apni zuban mere honton mein dakhil kr di Mere hath us ki kamar aur gaand pe harkat kr rai the aur sath he ma us ki zuban aur hont choos raha tha Sobia apna hath niche le k gae aur meri jeans k ooper se mere lun ko rub krne lgi Sobia: ise… bahir nikalo Muje 1 bar phir herani hui k yeh masoom aur nazuk si larki kitni garam ha Me: phuppo.. Sobia: ma ne unhe call nai ki abi…abbu med le k so rai hn Wo jldi se boli Ma thora peche hua aur jeans ki zip niche kr k underwear mein se apna tana hua lun bahir nikal lia Sobia:hunhmmm…. Mere lun ko hawas bhari nazron se dekhte hue us ne usay hath mein le lia Sobia k narm hath mein aa k mere lun ne jhatka lia Ma apna hath us ki shalwar mein le gya aur us ki phuddi ko touch kia jo k pehle se he geeli thi Sobia: ahhhh…siiiiiiii Me: nangi ho jao na Sobia: tum b…. Yeh keh k wo apne kapre utarne lgi Kuch lamhon mein hum dono 1 dosre k samne nange khare the Ma ne sobia ko us k bed k kinare pe bithaya to wo peche ko lait gae jb k us k paon abi tk carpet pe he the Ma khara khara he us k ooper jhuka aur us k nipple ko honton mein le lia Sobia: aaahhhhh…. Us k pink nipple ko apne honton mein le k chooste hue ma us pe apni zuban b rub kr raha tha Sobia: ooohhhh…faiziiiiii… Wo ankhen bnd kia apna sir dayen bayen patak rai thi Phir ma us k mamme ko Charon taraf se chatne lga Sobia: dosre ko b kro na 15 16 saal ki us larki ne apna dosra mamma jo k tennis baal se thora he bara tha pakar k mere honton se lgaya Ab ma us k dosre nipple ko choos raha tha aur jld he ma ne us ka dosra mamma b chaat chaat k geela kr dia Kuch der baad ma seedha hua aur us ka hath khech k usay betha dia Ma us k samne khara tha aur mera tane hue lun ka rukh sobia k chehre ki taraf tha Me: mere lun ko b yaad krti ho? Sobia ne sharma k chehra niche kia aur sir han mein hilaya Me: ise pakro Sobia ne hath barha k mera lun muthi mein le lia Me: ise chaato ..charon taraf se Pehle sobia ne mera lun ooper ki aur niche wale hisse ko niche se le kr ooper tk chaata Me: aaahhhh.. Phir wo mere lun ko Charon taraf se chatne lgi Apne lun pe us ki gulabi zuban ka lams muje pagal kr raha tha Me: aaahhhh…ab munh mein le k chooso Sobia ne apne hont khol aur mera lun ahista ahista us k munh mein jane lga Agle he lamhe sobia apne hont mere lun k gird lapaite hue sir agay peche kr k usay choos rai thi Ma hath niche le ja k us k mamme masalne lga to wo aur b shiddat se mera lun choosne lgi Ma apna lun sobia k munh se andar bahir hote hue dekh raha tha jo k us k thook se geela ho chuka tha Apna lun us k munh se nikal k ma ne usay peche litaya aur us k paon utha k bed k kinare pe rkh diye Sobia ki safaid balon se pak phuddi k jure hue lips mere samne agye Me: jb us din ma ne tumhari phuddi ko chaata tha to maza aya tha? Ma niche carpet pe beth k us ki phuddi k lips mein finger niche se ooper krte hue bola Sobia: ooohhh…han…bohat.. Us ne apni gaand ooper kr k niche ki Me: abi kya kru? Ma ne us ki phuddi k dane ko rub kia Sobia: pyar kro..chaato… Me: kahan? Sobia: niche kahan? Sobia: yahan Us ne apni phuddi pe ungli rkhi Me: nam lo na Sobia: meri..phuddi..ko Wo ankhen bnd kiye tez tez saans le rai thi Apne angoothon ki madad se ma ne us ki phuddi k lips khole aur ander wale hisse pe zuban rkh di Sobia: aaaahhhh….ufffffff….. Us ki gaand ooper ko uchhli Ma ne apni zuban sakhti se us ki phuddi k sorakh pe dabayi aur usay us ki phuddi k dane tk le gya Sobia: mmmmmm….aaaaahhhhh…..sssiiiiii Ma us k ghutne us k ammon ki taraf le gya to us ki phuddi aur b ubhar k samne agae Ab meri zuban sobia ki phuddi k her hisse pe dor rai thi Us ki phuddi k lips ko chooste hue honton se nikalne k baad ma ne apni zuban niche le k aya aur zuban k nok us ki gaand k sorakh pe dabayi Jese he ma ne us ki gaand k sorakh ko chaatna shuru kia who bin pani macchli k tarapne lgi Ma usay discharge krna chahta tha kyu k time kafi hogya tha Sobia k phuddi k daane ko honton mein le k chooste hue ma usay apni zuban se ragarne lga Sobia: uuuffff….ssiiiii…. Wo apni gaand ooper kr k apni phuddi mere honton pe daba rai thi Phir achanak wo peche hui aur bed k ooper ho k lait gae Sobia: mere…ooper…ao Wo hampti hui boli aur apni tangen bend kr k thighs khol di Ma abi b usay chodna nai chahta tha Sobia: ao na Wo besabri se boli aur ma bed pe charh k us ki thighs k darmyan agya Ma ne socha k usay ooper se he discharge kr du ga aur khud b hojaun ga Apna lun hath mein le k ma usay sobia ki phuddi k lips mein ooper niche ragarne lga Sobia b apni gaand ooper niche kr rai thi Sobia: faiziiiii…andar daalo…. Me: nai.. Sobia: dalo… Us ne mera lun hath mein le k apni phuddi k sorakh pe rkha Me: pain ho gi Sobia: ma bardash kru gi…tum daalo andar Ma ne apna lun us ki phuddi k sorakh pe dabaya Sobia: uuufffffff Jese he mere lun ki cap us ki phuddi mein gae us ne siski le k bed sheet ko hathon mein bhench lia Sobia; rukna nai… Ma apna lun us ki tight phuddi mein utarne lga aur sobia ne apne hont sakhti se bnd kiye hue the Phir mera lun us ki seel se takraya Ma us k ooper jhuka aur us k honton ko chooste hua 1 dhakka mara to mera lun us ki seel ko cheerta hua agay tk chala gya Us ki awazen mere honton ki waja se dub gae thn Ma ne chehra peche kia to us ki ankhon se ansoo nikal rai the Me: sobia… Sobia: kro na faizi… Ma ahista ahista apna lun us ki phuddi se andar bahir krne lga Sobia: ah..ah…hmmm…oooohhhh Kuch mint baad usay b maza ane lga aur wo apni gaand ooper niche krne lgi Ma dhakkon mein tezi le aya Sobia:aaahhhh…ab…maza b aa raha ha…sssiiiii Us k mammon ko hathon mein le k masalte hue ma tezi se usay chodne lga Sobia ki phuddi itni tight thi k muje lg raha tha k mere lun kko us ne muthi mein pakra hua ha Taqreeban 10 mint baad sobia ka jisam kampne aur akarne lga aur us ne apni tangen meri kamar k gird lapait li Sobia: ooohhhh…aaaahhhh…..ayiiiiiiiiiiiiiiiiii Us ka jisam ooper ho k niche hua aur us ki phuddi ne pani chhor dia Ma ne b apna lun bahir nikala aur pani ki pichkarin us ki phuddi aur pait pe gira di Ab us ki phuddi k pani mein khoon b shamil tha Saansen bahaal hone k baad wo uthi aur bed se utar k side table se apna mobile utha k phuppo ko call ki Sobia: ammi faizi aya ha khala ne kuch chezen bhijwae hn Phone rkh k us ne meri taraf dekha aur sharmeeli muskurahat k sath boli Sobia: ma washroom se ho k ayi…ammi 10 15 mint mein aa rai hn Apne kapre utha k wo nagi ki washroom kki taraf chal pari aur saf pata chal raha tha k usay chalne mein mushkil ho rai ha Ghar pohncha to tooba bhabi aur Afzal bhai aye hue the Bhabi bua k pas kitchen mein chali gae Afzal: suna ha phadda hua tera koi Me: g Afzal: hmm…ma tuje ab b mashwara du ga k us se bch k reh Me: us se kis se? Ma apna ghussa zabt kr k bola kyu k muje pata tha k who rehan ki baat kr raha ha Afzal: mera matlab ha un logon se bch k rehna Us ne apni baat bdli Ghussa muje is baat pe aya tha k agar rehan Afzal ka cousin tha to ma b koi gher nai Afzal ka cousin he tha lekin wo hamesha ki rehan ki side leta tha Aur ma ne us din un logon ki baten b sun li thn apne bare mein Me: ma dekh lu ga sb ko Afzal: zara dhayan se Wo meri ankhon mein dekh k bola aur bua ko bta k der ape baba k pas chala gya ‘’faizi meri baat ghor se sun’’ bhabi foran he mere pas aa k beth gae Me: g bolen Bhabi: ma ne tuj se 1 kam pehle kaha tha aur dosre ka kaha tha k shadi k baad btaun gi Me: g muje yaad ha…afzal bhai k chakkar ha 1 larki k sath…yeh sheher us k pas jate hn aksar Afzal k lehje aur baton ne muje aur b ghussa dila dia tha so ma ne bhabi ko bta dia Bhabi: theek ha..ab dosra kam me: g btayen bhabi: muje saboot chahiye me: lekin.. bhabi: ma tumhe haqeeqat btati hn…mera 1 cousin ha jis se meri shadi is waja se nai ho ski k wo UK chala gya tha aur mere ghar wale muje itni door bhejna nai chahte the…ab wo wapis agya ha…sirf mere liye….muje is jahannum se nikalna ha faizi…mere pas sabot ho ga to muje is se talaaq lene mein asani ho gi..plz faizi mera yeh kam kr do bhabi ne mera hath pakra aur rone lgi me: arrey royen to nai bua kya sochen gi..ma krta hn kuch ma jldi se bola aur dil mein ma soch raha tha k ab muje kya krna chahiye

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.