" لنڈ . . . . "
" بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد چوت ،
جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . "
سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ،
جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ،
انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی
سعدیہ كے ساتھ تھا . . . .
" میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ،
اور اس کی رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . .
یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ
سعدیہ حیران رہ گئی . . .
اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . .
" بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . "
" تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے . . . "
میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ،
سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . .
" آہ ہ ہ ہ . . . .
وووہ ہ ہ ہ. . . . . "
سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ،
وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ،
میں وہ سب کچھ کروں ،
جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . .
میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ،
اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . .
میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . .
" آہ ہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . .
اوئی ی ی ی ی "
اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ،
اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . .
میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . .
اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . .
میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے
اندر باہر کرنے لگا ، . . .
کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے
آگے پیچھی کرتی . . . .
میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی ،
اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار بہت زور سے مسئلہ ،
اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری سسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا ،
لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ،
ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ،
اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . .
" ش ش ش ش . . .
یہ کیا کر رہے ہو . . . "
سعدیہ بولی . . .
" کچھ نہیں ،
بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . "
اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں
میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ،
اس لئے وہ تیار نہ تھی ،
اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ،
وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ،
لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . .
سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو
نکلنے کی بھی کوشش کی ،
لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو
پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ،
اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . .
سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ،
جو مجھے اور مزید جوشیلا کر تھی ،
سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . .
میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ،
اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ،
جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر
ڈال دیا ،
سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ،
اس کا گورا جسم ،
درد اور مستی سے لال پیلا
ہو رہا تھا
" میں . . .
اب . . .
آہ ہ ہ ہ . . . .
ارمان . . .
آئی لوو یو . . . .
س س س س س . . . .
یس س س س . . . . . "
سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ،
اب میں نے اس کے گالوں کو زور سے سہلایا اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . .
وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے
لگی ،
لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ،
اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . .
میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . .
ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . .
پھر اس نے ایسا کچھ کہا ،
جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی
تھی . . . . . . . . . . .
" دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . .
دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . "
سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ،
جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے
لیے کہا . . .
سعدیہ ،
مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ،
یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ،
میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر
تک دھنسا تھا . . . .
میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی
" تم نے ابھی جو کہا ،
اس کا مطلب کیا ہوا . . . "
" میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . "
جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ،
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ،
وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . .
" میں مذاق کر رہی تھی . . . "
وہ بولی
" اصل میں ،
بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . "
" گڈ ،
لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . "
میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . .
" میں جاننا چاہتی تھی کہ ،
تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،
اور ہستی ہوئی بولی . . .
" اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ،
یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . "
میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ،
اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . .
" میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ،
میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ،
جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ،
تو وہ بہت اُداس ہوئے ،
کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . .
سعدیہ پلیز مت جاؤ ،
میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ،
تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ،
کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ،
ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . "
" بے فکر رہو ،
میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . "
میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ،
میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . .
میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی . . . .
تمہیں ،
اک بات بتاؤں . . .
آہ ہ ہ ہ . . . "
" ہاں بولو . . . "
" ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا
پڑا . . . .
تھوڑا آرام سے ڈالو ،
ابھی ابھی فارغ ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . "
" اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . "
میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ،
سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . .
" پلیز اسٹاپ . . . . "
" اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . "
" اِس گاڑی کو ابھی روکو ،
رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . "
اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی
" تمہیں کیا ،
تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ،
یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی
ہوں . . .
اٹھو ابھی . . . "
دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ،
لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ،
اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ،
اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . .
" اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . "
وہ ایک بار پھر مسکرائی ،
اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم
كے طرف بڑھی . . . .
دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں،
لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . .
جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . .
جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . .
میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ،
دو تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ،
سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ،
وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ،
ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . .
شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ،
شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ،
کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ،
کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . .
لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ،
وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . .
شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . .
سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ،
جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ،
پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . .
میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ،
اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . .
" ارمان ،
ذرا اوپر تو آنا . . . . "
" کون . . . "
آواز سن کر میں بھوکلایا ،
لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . .
" اسی نے بلایا ھوگا . . . "
میں نے خود سے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ،
مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ،
اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .