Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 17/04/20 in all areas

  1. کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ "عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . " لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . . میں نے وہ سب کچھ کیا ، جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ، اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . . اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ، بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . . لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ، میں نے یوں ہی برباد کر دیا ، گھر والے ناراض ہوئے ، تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . . لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ، سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . . برباد ، ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . . اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ، کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ، اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . . لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . . شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . . خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ، میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ، میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ، مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . . کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ، سب سے بڑا بے وقوف ، اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ، تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا " میں ہوں " کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ، اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . . کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ، جہاں میں رہتا تھا ، وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . . کافی بھاگ دور کے بعد کسی بھی طرح میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ، بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ، بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . . خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں تھی . . . . جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ، میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ، اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . . آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ، جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ، یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . . جاری ہے . . . .
  2. nice start buddy i hope it will go on regards
  3. شاندار لکھ رہے ہو
  4. 2nd episode another nise story began. Keep it up
  5. ڈاکٹر صاحب امید ہے مزاج اچھے ہوں گے معلوم ہے کہ آپ کی مصروفیات بڑھ گئ ہیں اور اب تو سو پیجز کی ایک ساتھ دینی ہوگہ . لیکن بتاتا چلوں کہ آپ کی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار ہے .
  6. " ارمان . . . ارمان . . . اٹھ ، ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . " کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال دی . . . . " ٹائم کتنا ہوا ہے . . . " آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ، اور گھڑی پر نظر گھمائی ، صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . . بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . . کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ، جہاں ہم رہتے تھے ، وہ ایک پوش علاقہ تھا ، جس کا نام گلشن حدید تھا جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا ، . . . اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . . میرے ساتھ کیا ہوا ، میں نے ایسا کیا کیا ، جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ، یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . . کاشف پریس میں کام کرتا تھا ، اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . . " اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ، ٹائم نہیں بچا ہے . . . . " میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . " اور پی رات بھر شراب، کمینے خود کو دیکھ ، کیا حالت بنا رکھی ہے . . . " " اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . " میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . . " اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . " کاشف بولتے بولتے روک گیا ، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . . وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . . " وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . " " کون . . . " میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . . " سعدیہ . . . " " سعدیہ . . . . " میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ، تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . . " کیا بول رہی تھی وہ . . . " " مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ، ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے . . . " " اوکے . . . . " سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ پڑے . . . . . سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . . سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ہر گلی ، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . . اِس علاقے میں میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ، یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . . وہ جب بھی ، جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . . دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ، اسے بات کرنا بند کر دوں ، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . . کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ، جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ." کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . . ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . . میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی کال پھر آنے لگی . . . " ہیلو . . . " میں نے کال ریسیو کی . . . " گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . . " " اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ، اس کی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . . " " اوہ ہو . . . تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . . گھر بلکل خالی ہے . . . . " " ٹھیک ہے ، رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . " کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . . " كھانا ، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . " " ٹھیک ہے ، میں آ جاؤںگا . . . " سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . . میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ " ریلکس بھڑوے ، جو کچھ بھی ہوا ، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل ، فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ، اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . " لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . . یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل پلانٹ میں میں کام کرتا تھا ، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . . بلو شرٹ . . . " ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں آیا . . . کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . . " چل ، ہاتھ منہ دھو لے . . . شراب پیتے ہے . . . " ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . . " میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . " " ارے واہ. . . مطلب آج پوری رات ، لیو میچ ہونے والا ہے . . . " " لیو میچ تو ھوگا ، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . " " کمینے ، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . . میں مر گیا تھا کیا . . " شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف نے کہا " ارمان ، ایک کام کر . . . تو سعدیہ سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . " " مشورہ اچھا ہے ، لیکن مجھے پسند نہیں . . . " " تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ، زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . " کاشف غصے میں بولا . . . . " میں چلتا ہوں . . . " یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . . سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ، یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا تھا . . . . وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ، تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ، جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . . " آ جاؤ . . . " سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . . " صبر کرو تھوڑی دیر . . . . " میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ، میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . . میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی " تم ڈاکٹر ہو . . . " اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں ، میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . . " میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . . " ارمان ، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . " " چدائی . . . " میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ، اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . . سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ، اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . . میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ، اِس وقت میرے ہاتھ اس کی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے ، میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . دھتھ . . . " وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . . " نائس براہ ، کافی اچھا لگ رہا ہے ، تم پر . . . . " اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان یہ براہ ، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . " " کیوںکہ اِس براہ كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے " اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ، ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ، لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . . سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا . . . " منع کیا نہ . . . آہ ہ ہ اوں " سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی " کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے مت دبایا کرو . . . " میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . . میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . . میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ، وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . . " جلدی . . . . . پلیز . . . میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’ . . . . . " میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . . اس کی آواز کانپ رہی تھی . . . جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . . میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ، کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . . " تم جانتے ہو ، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .
  7. ڈاکٹر صاحب! کھپرو کی ملکہ کے کیا حالات ہیں. کب تک اپڈیٹ آئے گی. اس کہانی کا بھی ایک الگ ہی خمار ہے. بلا شبہ یہ ایک منفرد ناول ہے..ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے. جس جس طرح آپ کے ناولز کی قسطیں پڑھ چکا ہوں جیسے پردیس, آہنی گرفت. وہ بھولی داستان. کھپرو کی ملکہ تو آپ کے قلم کی طاقت کا اندازہ ہورہا ہے. اور ہوس اس کا تو کچھ نہ پوچھیں کھپرو کی ملکہ کی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار ہے. معلوم ہے کہ اس وقت آپ کی مصروفیات بڑھ گئ ہیں., پر لوگوں کے پاس بھی اب وقت ہے. اور جن کے پاس سامان میسر ہے تو ان کے عضو کی اٹھان سختی کے لیے بھی آپ کے ناول کی قسط کی بہت ضرورت ہے. ہاہا ہاہا. ہم تو ٹھہرے زمانہ کے کنوارے 😉😉😉
  8. گڈ اور وہ لڑکی ضرور سارہ ہو گی :پ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.