Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 30/06/19 in all areas

  1. سٹوری پڑھنے کے بعد اپنی اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔۔۔مطلب سٹوری کا ٹیمپو یہاں سے گر گیا۔۔۔یا پھر یہاں سے ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تھا۔ مطلب کچھ تو۔ اگر کوئی کچھ کہے گا تو پتہ چلے گا ناں کہ کیا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا پھر کھچیں مارتے ہوئے اپنا اور آپ سب لوگوں کا ٹائم ضائع کر رہا ہوں۔ منتظر۔ جاوید بانڈ
  2. Sir g bohat aala likhani rahy hain khani ka sath smaa bandh kar sex bi dal diya hay or bari dukan phika pakwan bi andar ki baat bi. very good bas agli update bi jaldi jaldi dayin bohat nawazish ho gi. thanks
  3. amazing.........................wait tu kia bt maza agya update ka.....
  4. مجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔ ************************ (36) مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔ بھایا جلدی کرو۔ میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔ حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔ لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔ میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔ ************************ (37) وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔ ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔ میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔ جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔ ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔ امی جان،امی جان۔ میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔ میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔ پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔ ************************ (38) جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔ ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔ (نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔) باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔ نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔ اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔ میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔ اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ************************* (39) اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔ وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔ چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔ کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔ راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔ کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔ لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔ میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔ میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔ روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔ میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔ چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔ کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔ ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ************************ (40) اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔ جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔ شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔ جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔ نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی چند وجوہات تھیں۔ وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔ وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔ وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ************************ (41) کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔ کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔ نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔ نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔ ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔ نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔ میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔ ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟ نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔ ************************ (42) میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔ جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔ وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔ تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔ اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔ چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔ میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔ میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔ آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔ میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔ ************************ (43) کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔ مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔ اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔ چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟ اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔ بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟ ************************ (44) میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟ وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔ کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کی ادا ٹھہری۔ یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔ چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔ ************************ (45) وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔ پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔ اسی لیے گنگا بہہ گئی۔ رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔ اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔ شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔ میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔ ************************* (46) جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔ میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔ میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔ شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔ تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔ میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔ ************************* (47) میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔ اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔ اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔ میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔ میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔ صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔ ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔ پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔ اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ جاری ہے۔۔۔
  5. کیسے ہیں سب دوست۔ جن لوگوں نے رپلائی دیا یا کمنٹس کیے ان کا شکریہ۔ میں سٹوری کی اپڈیٹ 2 جولائی کو اپلوڈ کرنے والا تھا بس تھوڑا ٹائم مل گیا تو اپڈیٹ ریڈی کر لی۔اس لیے دیے گئے وقت سے پہلے ہی سٹوری اپڈیٹ کر رہا ہوں۔
  6. (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************
  7. (11) میں نے کانپتے ہوئے اپنے جسم کو سمیٹنے کی کوشش کی تو میری نظر بیڈ کی چادر پر پڑی اس پہ دو جگہ پر خون گرا ہوا تھا جو یقینی طور پر میری پھدی سے نکلا تھا۔ دوسری طرف راجو بھی اس لڑکی کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ہماری پھدیوں کا ستیاناس کرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ہماری کمروں پر ٹانگ مار کر ہمیں نیچے گرا دیا۔ ہم نیچے فرش پر پڑی کراہ رہی تھیں۔۔۔تبھی راجو دھاڑا،،اوئے فضلو،،اسی وقت باہر کا دروازہ کھلا اور ایک ملازم اندر داخل ہوا۔۔۔سیماء کو بلاؤ،،اچھا حضور،،یہ کہہ کر وہ ملازم باہر نکل گیا۔ چند منٹ بعد ایک لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔وہ کوئی شہری لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔اس نے آتے ہی ہم دونوں کی ٹانگیں کھول کھول کر ہماری پھدیوں کو چیک کیا۔ اس کے بعد اس نے فضلو کو اشارہ کیا تو وہ باہر نکل گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہی وہ دو عدد چادریں اٹھائے اندر داخل ہوا۔۔۔اس دوران دونوں سیال زادے ہم لوگوں سے بے نیاز شراب پینے میں مصروف تھے۔ اس نرس اور فضلو نے ہم دونوں کو چادروں میں لپیٹ کر سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا اور وہاں سے چلاتے ہوئے نکل کر ساتھ والے کمرے میں لے آئے۔ یہاں چھوڑ کر ملازم باہر نکل گیا اور اس نرس نے ہم دونوں کو واش روم میں جا کر اپنا آپ صاف کرنے کو کہا۔ میں سہارا لے کر اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئی واش روم میں جا کر اچھی طرح سے پانی سے اپنی پھدی کو صاف کر کے باہر چلی آئی۔۔۔میرے آنے کے بعد راجی بھی اٹھ کر اندر چلی گئی۔۔۔نرس نے پلنگ کے نیچے سے ایک بیگ کھینچ کر باہر نکالا جس میں مختلف قسم کی انگریزی دوائیاں پڑی ہوئی تھیں۔۔۔اس نے ایک کریم اٹھا کر کافی ساری کریم میری پھدی پر لگا کر آہستہ آہستہ مساج کر دیا۔۔۔جس سے میری پھدی میں لگی ہوئی آگ سرد ہوتی گئی۔ ساتھ ہی اس نے مجھے دو گولیاں اور پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا کہ یہ گولیاں کھا لو درد ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔اسی طرح دوسری لڑکی کو بھی اسی طریقے سے مساج کرنے اور دوا دینے کے بعد ہمیں آرام کرنے کا کہہ کر وہ نرس لڑکی چلی گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سے رونے لگیں۔ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔تقریباً ایک گھنٹے بعد دوبارہ سے دروازہ کھلا اور وہی ملازم جو ہمیں کوارٹر سے نکال کر سیال زادوں کے حوالے کر گیا تھا دوبارہ اندر داخل ہوا۔۔۔اسے دیکھ کر ہم دونوں پھر سے سہم گئیں۔۔۔میں روتی ہوئی بولی چاچا یہ تم نے ہمارے ساتھ کیا کروا دیا۔ تو وہ تیز لہجے میں بولا۔۔۔چپ چاپ اٹھو اور یہاں سے نکلو فٹا فٹ ورنہ وہ پھر سے آ جائیں گے۔ ہم فٹا فٹ اٹھیں اور خود کو سنبھالتے ہوئے اس کمرے سے باہر نکل کر اس کے ساتھ چلتی ہوئی اسی کوارٹر میں جا پہنچیں۔۔۔جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئیں تو اس ملازم نے دروازہ بند کر کے ہمیں دیکھا اور کہا:یہاں جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں اگر کسی سے بات کی تو یہ چوہدری تم کو چیرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولنے کیلئے منہ کھولتی۔۔۔کوارٹر کا دروازے پر جیسے دھماکہ سا ہوا۔ ************************* (12) دروازے پر دھماکے کی آواز ایسی تھی جیسے کسی نے زور سے کوئی چیز دروازے پر ماری ہو۔۔۔ساتھ ہی زور زور سے دروازہ بجنے لگا۔۔۔اور کسی کی آواز آئی اوئے اندر کون ہے دروازہ کھول میں نے کہا دروازہ کھول۔ ملازم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ایک نوجوان لڑکا جو کہ بہت خوبصورت تھا دندناتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔ہم پر نظر پڑتے ہی اس نے غصیلے لہجے میں اس ملازم سے کہا اوئے کنجر کی اولاد ان گشتیوں کو لیکر یہاں رنگ رلیاں منا رہا ہے۔ تو وہ ملازم ہاتھ جوڑ کر بولا نہیں کامی سائیں یہ میرا نہیں یہ تو نور سائیں اور راجو سائیں کا شکار ہے۔۔۔ابھی ابھی ان کو اندر سے لے کر آیا ہوں۔۔۔وہ لڑکا جس کا نام کامی تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ حرام کا تخم وڈے چوہدری کی دوسری بیوی کا منجھلا بیٹا کامران سیال ہے۔ وہ لڑکا تیزی سے میری طرف بڑھا اور میرے جسم سے چادر کھینچ لی۔۔۔نیچے سے میں مادر ذات ننگی تھی۔۔۔اس نے مجھے پوچھا دیکھو سچ سچ بتاؤ کہ اندر تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ورنہ میں ہنٹر سے تم دونوں کی کھال ادھیڑ ڈالوں گا۔۔۔اور تم حرامی کی اولاد وہاں کونے میں کھڑا ہو جا۔۔۔وہ ملازم کی طرف مڑتے ہوئے غرایا۔ میں نے ہمت کر کے اسے ساری بات بتائی۔۔۔اس نے دوسری لڑکی کو اشارہ کیا تو اس نے بھی چادر اتار کر اپنا جسم دکھایا اس کے مموں پر بھی راجو نے کاٹ کاٹ کر نشان بنا دیے تھے۔ ہمممم چلو تم دونوں یہاں سے میرے ساتھ چلو۔۔۔ہم ابھی وڈے چوہدری صاحب کے پاس جائیں گے اور ان بھائیوں کے کرتوت انہیں بتائیں گے۔ چلو جلدی چلو یہ کہہ کر اس نے میرا بازو پکڑے مجھے باہر کی طرف کھینچا ہم چاروناچار اس کے پیچھے چل پڑیں۔۔۔وہ ہم دونوں کو ایک راہداری میں سے گھماتا ہوا ایک کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ کمرے کے دروازہ بند تھا۔۔۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی۔۔۔چلے آؤ دروازہ کھلا ہے۔۔۔ہم اندر داخل ہوئے تو سامنے وڈے چوہدری صاحب بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ ہماری حالت دیکھ کر اس نے حیرانگی سے کامی سے پوچھا کامی یہ سب کیا ہے۔۔۔کون ہے یہ دونوں لڑکیاں اور ان کی یہ حالت کس نے کی ہے۔ کامی نے وڈے چوہدری کو بتایا کہ کیسے ہم دونوں کو دونوں بڑے سیال زادوں نے کمرے میں بلا کر زبردستی چود ڈالا۔۔۔چوہدری نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر گلاس ہاتھ میں پکڑے ہماری طرف قدم بڑھائے۔ ہوں!!!تو ان کنجروں کی اتنی ہمت کہ گاؤں کی دو لڑکیاں زبردستی چود ڈالیں۔۔۔اتنی دیر میں وہ ہمارے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔پھر چوہدری بولا کہ بڑے کتی کے پتر ہیں کہ دو خوبصورت لڑکیوں کا یہ حال کیا اور وہ بھی۔ (13) اتنا کہہ کر چوہدری رکا اور نشے میں چور نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا پھر اس نے گلاس خالی کر کے دیوار پر مارتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔ وہ بھی ہمیں دانہ چکھائے بغیر۔ ساتھ ہی چوہدری نے میرے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا اور ایک طمانچہ مار کر میرے مموں کو دباتے ہوئے بولا: چپ چاپ میری بات پر عمل کر گشتی!!!ورنہ میرے سارے نوکر مل کر تم دونوں کی گانڈ ماریں گے!!!پھدیوں کا بینڈ بجائیں گے اور آخر میں بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیں گے تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تم دونوں کے ساتھ کیا ہوا کہاں گم ہو گئیں۔ میں بے بس چڑیا کی طرح اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی،،،کہ اچانک راجی اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی چوہدری صاحب اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو زبردستی کیوں۔۔۔ہم راضی خوشی آپ کی ہر بات پر عمل کریں گی۔ چوہدری بولا:نہیں تم بعد میں۔۔۔پہلے میں اس بڑے بڑے مموں والی گشتی کا مزہ چکھ لوں پھر تیری باری آئے گی۔۔۔کامی جو چپ چاپ کھڑا دانت نکال رہا تھا بولا:پاپا!!!کیا اب میں وہ نرس سیما کو چود سکتا ہوں؟چوہدری میرے ممے مسلتے ہوئے بولا ہاں کامی جا عیش کر۔۔۔لیکن پاپا وہ راجو بھائی۔۔۔ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ چوہدری دھاڑا:اپنی بکواس بند کر اوئے۔ جب میں نے کہہ دیا تو وہ تیری ہے۔۔۔اب نکل جا یہاں سے اور میرا موڈ مت خراب کر۔۔۔کامی شکریہ پاپا کہہ کر واپس مڑ گیا۔ *************************** (14) چوہدری بھوکے عقاب کی طرح میرے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔میں نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کر کے اپنی آنکھیں موند لیں۔ چوہدری اور اس کے بیٹوں میں ایک فرق تھا۔۔۔لڑکے جانوروں کی طرح کاٹتے تھے جبکہ چوہدری نوچنے کھسوٹنے کی بجائے صرف مزے سے ممے چوس رہا تھا۔ چند منٹ میرے ممے چوسنے کے بعد چوہدری نے اپنے کپڑے اتارے اور فل ننگا ہو کر میرے سر کے پاس آ کر بولا۔۔۔چل اوئے میرا لن چوس۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو چوہدری کا لمبا اور موٹا لن میری آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔اتنا لمبا لن دیکھ کر میں ڈر گئی۔ مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر اس نے اپنا لن میرے ہونٹوں پہ پھیرا تو میں بھی اور کوئی چارہ نہ پا کر اس کا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔دوسری لڑکی راجی وہیں ایک سائیڈ پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے ایک عجیب حرکت کی اس نے اپنی چادر اتاری اور چلتی ہوئی آ کر میرے پاس کھڑی ہو کر اس نے چوہدری کی چھاتی پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر چوہدری کی آنکھوں میں ایک عجیب شیطانی چمک ابھر آئی۔ اس نے اپنا لن میرے منہ سے نکالا اور خود وہاں سے پیچھے ہٹ کر صوفے پر ٹانگیں کھول کر نیم دراز ہو گیا۔ پھر اس نے مجھے ٹی وی کے پاس سے ریموٹ اٹھا کر لانے کو کہا تو میں ریموٹ اٹھا کر چوہدری کے پاس لے آئی۔ چوہدری نے راجی کو بھی اپنی طرف بلاتے ہوئے مجھے ریموٹ سے ٹی وی آن کرنے کو کہا۔میں نے ٹی وی آن کیا تو حیرت سے اچھل پڑی۔ ٹی وی پر ایک ننگی فلم لگی ہوئی تھی جس میں دو لڑکیاں ایسے ہی صوفے پر بیٹھے کسی انگریز کا لن چوس رہی تھیں۔۔۔ایک لڑکی کے منہ میں لن تھا تو دوسری لن کے نیچے لٹکتے ہوئے ٹٹے چاٹ رہی تھی۔ میری سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا۔۔۔راجی بھی اٹھ کر ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد چوہدری نے نے ہم دونوں کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے پیروں میں زمین پر بٹھا دیا اور بولا چلو شاباش اب دونوں مل کر ان فلم والی لڑکیوں کی طرح میرا لن چوسو۔ ایسے ہی خوشی خوشی سب کرو گی تو کسی کنجر کی کیا مجال کی وہ تمہاری طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھے۔ میں نے اس کا لن منہ میں ڈالا اور راجی نے بلکل فلم والی لڑکیوں کی طرح اس کے ٹٹے چاٹنے شروع کر دیے۔ چوہدری کے منہ سے عجیب بے ڈھنگی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ آہ۔۔۔آہ۔۔۔شاباش۔ ساتھ ہی چوہدری نے ساتھ پڑی چھوٹی سی میز پر موجود شراب کی بوتل اٹھائی اور ایک گلاس اٹھا کر اس میں بھر کر پینے لگا۔۔۔دو تین منٹ بعد ہی چوہدری کا جسم کانپنے لگا اور اس کے منہ سی سسکی سی نکلی آہ۔۔۔آہ اور ساتھ ہی مجھے لگا کہ جیسے کوئی نمکین پانی میرے منہ میں پھیل گیا ہو۔ وہ نمکین پانی چوہدری کے لن سے نکلنے والا منی تھا۔۔۔میں نے چوہدری کے لن سے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی تو اس نے ایک ہاتھ سے میرے سر کو نیچے لن کی طرف دبا دیا۔۔۔جس سے اس کا لن میرے حلق میں جا کر پھنس گیا۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ لن کو منہ سے باہر نکال لوں پر اتنی دیر تک اس کا لن میرے حلق میں اپنا سارا پانی نکال چکا تھا۔۔۔جو کہ خودبخود نیچے پیٹ میں پہنچ گیا۔ ************************* پھر چوہدری نے اپنا ہاتھ میرے سر سے ہٹا لیا اور بولا:چل اوئے وہ سائیڈ پر واش روم میں جا اور اچھی طرح سے منہ ہاتھ دھو کر آ۔ میں کراہتی ہوئی اٹھی اور بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی واش روم میں جا پہنچی۔۔۔مجھے اپنے آپ سے گھن آ رہی تھی۔۔۔لیکن اس سب میں میرا کیا قصور تھا اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ دس منٹ بعد میں واش روم سے نکلی تو دیکھا کہ راجی چوہدری کی گود میں بیٹھی اچھل رہی تھی۔ میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اس گشتی کو پتہ نئیں کیا سوجھی جو خود بخود لگ گئی۔ میں نے پاس جا کر دیکھا!!!تو چوہدری کا لن اس لڑکی کی پھدی میں تھا اور وہ لن اندر لیے آگے پیچھے ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر چوہدری نے پھر سے اپنی طرف بلایا:میں اس کے پاس چلی گئی۔۔۔چوہدری نے کھینچ کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا اور بلکل اس طرح میرے ممے چوسنے لگا کہ جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے۔ ساتھ ہی چوہدری نے پاس پڑی میز سے تیل کی بوتل اٹھائی اور اپنی انگلیوں پر لگا کر اپنا ہاتھ میرے نچلے حصے کی طرف لے گیا اور اپنی دو انگلیوں کے ساتھ میری پھدی کے ہونٹوں پر اچھی طرح سے تیل اندر تک لگا دیا۔ پھر اس نے دوسری لڑکی راجی کو اٹھنے کا کہا۔۔۔راجی کے نیچے اترنے کے بعد چوہدری نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے مجھے صوفے پر لٹا کر میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھیں اور اپنے ہاتھ سے لن کو میری پھدی پر سیٹ کرنے کے بعد دباؤ ڈالنا شروع کیا تو اس کا لن میری پھدی کے ہونٹوں کو چیرتا ہوا اندر دھنستا چلا گیا۔ میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے تکلیف کے آثار ابھر آئے۔۔۔لیکن میں اپنے ہونٹ بھینچے تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ویسے بھی اب یہ تکلیف پہلی دفعہ کی نسبت کافی کم تھی۔ دو منٹوں بعد ہی چوہدری کا لن پوری روانی سے میری پھدی میں اندر باہر آ جا رہا تھا۔۔۔میری تکلیف بھی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔بلکہ سہی بتاؤں تو مجھ پر ایک عجیب قسم کا نشہ طاری ہوتا جا رہا تھا۔۔۔اور اس نشے کے زیرِ اثر میں آپ ہی آپ نیچے سے آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ اچانک مجھے اپنے ہونٹوں پر تھوڑی چپچہاہٹ کا احساس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ راجی اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی۔ میں نے بھی بے خودی میں اپنا منہ کھولا اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں سے چوسنے لگی۔ اسی طرح اگلے دس منٹ تک چوہدری لگاتار مجھے چودتا رہا اور پھر اس نے اپنا لن باہر نکالا اور راجی کے منہ میں دے کر اس کے سر کو دونوں ہاتھوں سے اپنے لن کی طرف دبا دیا۔ اس کی بھی وہی حالت ہوئی جو میری ہوئی تھی اس کی آنکھیں پٹھنے والی ہو گئی تھیں۔۔۔شاید چوہدری کو منہ کے اندر لن گھسا کر پانی نکالنے کا شوق تھا۔ پانی نکالنے کے بعد چوہدری نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا اور بے خود ہو کر صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔وہ لڑکی اٹھ کر تیزی سی واش روم کی طرف بھاگ گئی۔۔۔چوہدری کے چہرے پر خباثت بھری ہنسی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ کنجر اس عمر میں بھی اتنا حرامی ہے تو جوانی میں اس نے کیا کیا گل نہیں کھلائے ہوں گے۔ ************************* (15) تھوڑی دیر بعد ہم دونوں چوہدری کے پاس اس کے پیروں میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔چوہدری نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور پاس پڑی اپنی قمیض کی جیب سے چند نوٹ نکال کر ہم دونوں کی طرف پھینکے اور کہا کہ یہ تم دونوں کا انعام ہے۔ اب تم لوگوں کے میرے ملازم گھروں میں چھوڑ آئیں گے۔۔۔لیکن خبردار اگر کسی سے ایک لفظ بھی کہا تو زبانیں حلق سے کھینچ کر بھوکے کتوں کو کھلوا دوں گا۔۔۔اور جب بھی میری طرف سے بلاوہ آئے تم دونوں سب کام چھوڑ کر میرے پاس چلی آنا کیونکہ انکار اور دیری مجھے پسند نہیں۔ میں سر جھکائے بیٹھی رہی لیکن وہ دوسری لڑکی راجی بولی۔۔۔چوہدری جی:میں واپس نہیں جانا۔۔۔مجھے ادھر ہی اپنے پاس رکھ لو۔۔۔میں دن رات آپ کی خدمت کرنا چاہوں گی۔۔۔اب واپس جا کر کیا کروں گی مجھے آپ پسند ہیں میں ادھر حویلی میں ہی کوئی کام شام کر لیا کروں گی اور جب آپ کا دل چاہے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کروں گی۔جبکہ میں حیرانگی سے راجی کی شکل دیکھنے لگی۔ چوہدری اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:فلحال تمہیں جانا پڑے گا۔۔۔بعد میں باقاعدہ ملازمہ کے طور پر تمہیں واپس بلا لوں گا۔ بلکہ رکو!!!یہ کہہ کر چوہدری نے پاس پڑی گھنٹی بجائی تو ایک منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور وہی حرامی ملازم اندر داخل ہوا جو ہمیں سب سے پہلے سیال زادوں کے پاس لے گیا تھا۔۔۔چوہدری نے کپڑے تک پہننے کی زحمت نہیں کی اور وہیں سےمیری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا اس لڑکی کو لے جاؤ اور اچھی طرح صاف ستھرائی کروا کر واپس بھیج دو۔راستے میں اسے سب سمجھا دینا۔ ملازم یہ سن کر بولا جو حکم!!!پھر اس نے مجھے وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں نے زمین پر پڑے ہوئے نوٹوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ایسے ہی اٹھی اور چادر لپیٹ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ تبھی چوہدری کی دھاڑ سنائی دی۔۔۔او کنجر دی بچی:یہ نوٹ کیوں نہیں اٹھائے تم نے سنا نہیں میں ٹٹ نے بولا تھا کہ میری ہر بات پر چوں چراں عمل کرو۔ میں نے واپس مڑ کر چپ چاپ نوٹ اٹھائے اور ملازم کے پیچھے باہر چل دی۔۔۔ملازم مجھے سیدھا اس کوارٹر میں واپس لے گیا اور جاتے ہی اندر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔۔۔میں خاموش نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔کنڈی لگانے کے بعد وہ مڑا اور میرے پاس آ کر ایک دم اس نے مجھے زمین پر گرا کر میری چادر ہٹا دی۔ (16) میں نا کچھ بولی نا مزاحمت کی چند لمحے میرے ممے چوسنے کے بعد اس نے میری ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنا کالا بھجنگ لن باہر نکالا جو کہ اس وقت سانپ کی طرح پھن پھیلائے جھوم رہا تھا۔ اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھ کر تھوک کا ایک گولا اپنے لن پر پھینک کر ہاتھ سے اچھی طرح پھیلایا اور لن میری پھدی کے اندر ڈال کر جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے تمام احساسات مر چکے تھے اور میں ایک لاش کی طرح پڑی تھی۔ صرف چند گھسے مارنے کے بعد اس نے اپنا لن باہر نکالا اور میرے پیٹ پر منی کی دھاریں چھوڑ دیں۔ اپنا پانی نکالنے کے بعد وہ اٹھا اور اپنی شلوار باندھتے ہوئے مجھے بولا چل بنو اب اٹھ کر فٹا فٹ صاف صفائی کر لے۔۔۔پھر تجھے تیرے گھر بجھوا دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا سامنے میز کے پاس گیا اور کچھ دیر ادھر ادھر ہاتھ مار کر باہر نکل گیا۔ میں آہستہ سے اٹھی اور واش روم میں جا کر خود کو صاف کرنے کے بعد الماری سے اپنے پرانے کپڑے نکال کر پہنے اور زمین پر پڑے ہوئے نوٹ اٹھا کر اپنے گریبان میں اڑس کر بیٹھ گئی۔ دس منٹ بعد وہ اندر داخل ہوا اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ دبا ہوا تھا۔ چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد اس نے خاموشی توڑی اور بولا:دیکھ لڑکی اس حویلی کی کوئی بات باہر نہیں جانی چاہیے ورنہ چوہدریوں میں واقعی اتنی طاقت ہے کہ وہ سرِعام سب کے سامنے تجھے ننگا کر کے اپنے کتوں کو کھلا دیں اور کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ میں نے جو تیرے ساتھ کیا اس کی بھنک بھی چوہدری کو لگ گئی تو مجھے تو وہ کچھ نہیں کہے گا لیکن تجھے ننگی کر کے واپس ہم سب کے حوالے کر دے گا۔ پھر تم سارا دن حویلی کے ملازموں کو پھدی دیتی رہو گی۔۔۔اور ویسے بھی تم کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکو گی کیونکہ،،اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر چلتا ہوا سامنے پڑی میز تک گیا اور وہاں سے کچھ اٹھا کر واپس آ گیا۔ اور بولا کیونکہ یہاں ہونے والی ساری واردات اس کیمرے میں موجود ہے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ سامنے کیا تو اس کے پاس ایک بڑا سا کیمرہ موجود تھا مجھے دکھا کر اس نے کیمرہ چلایا تو اس میں میری اور اس کی وہ فلم موجود تھی جو چند منٹ پہلے اس نے میری پھدی مارتے ہوئے فلمائی تھی۔ ************************* ایک بات تمہیں اور بتاتا چلوں۔ میرا نام شاہنواز ہے سمجھی اور مجھے دھوکا دینے کا مطلب اس کے ساتھ ہی اس نے ایک انگلی سے گلے پر چھُری پھیرنے کا اشارہ کیا۔ میں منہ سے کچھ نہیں بولی اور خاموش رہی تو وہ مجھے کندھے سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا کہ چلو اب میں تمہیں گھر بجھوا دوں اور ہاں دوبارہ جب بھی آؤ مجھے ملے بغیر واپس مت جانا۔ ورنہ!!!یہ کہہ کر اس نے کیمرے کو تھپتھپایا اور مجھے لیکر کوارٹر سے باہر نکلا آیا۔ گھر پہنچنے سے پہلے پہلے میں خود کو سنبھال چکی تھی۔۔۔گھر داخل ہوتے ہی میں چہرے پر خوشی سجائے ماں سے ملی اور اسے بتایا کہ ماں وڈے چوہدری صاحب نے مجھے انعام دے کر بھیجا ہے اور گریبان سے پیسے نکال کر ماں کو دے کر خود اندر کمرے میں چلی گئی۔ بس اس دن کے بعد میں ان کی مشترکہ پراپرٹی بن گئی ہوں۔۔۔ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی مجھے چودتا ہے۔۔۔کبھی وڈا چوہدری خود تو کبھی اس کا کوئی حرامی پتر۔۔۔اس کے علاوہ تقریباً ہر پھیرے میں واپس آتے وقت وہ کتی کا پٗتر شاہنواز تو لازمی میری پھدی مارتا ہے۔ پھر ایک دن راجو نے نشے کی حالت میں میری گانڈ کا بھی افتتاح کر دیا۔۔۔اور اب تک وڈے چوہدری سمیت سبھی سیال زادے میری پھدی اور گانڈ مار چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ اور بھی کئی لڑکیاں ہیں جو اس عذاب سے گزر رہی ہیں۔۔۔اپنی کہانی پوری کر کے وہ اٹھی اور دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ کمال مجھے معلوم ہے کہ یہ سب جان کر دنیا کا کوئی بھی مرد مجھ سے نفرت کرے گا۔۔۔پر تم ہی بتاؤ کہ اس سب میں میرا کیا قصور تھا۔ مجھ بیگناہ کو تو زبردستی اس راستے پر چلایا گیا۔۔۔اور میں کمزور ہستی چاہ کر بھی کچھ نہ کر پائی۔ اب مجھے عادت سی ہو گئی ہے کہ جب تک میں سیکس نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تم میری پسند ہو اس لیے میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہارے پاس پہنچی۔۔۔لیکن تم دوسرے مردوں سے مختلف نکلے تم ہمیشہ صرف پیار کرتے رہے کبھی زور زبردستی نہیں کی۔ تو میں نے سوچا کہ جہاں ساری دنیا میرے ساتھ زبردستی یہ سب کر سکتی ہے تو کیوں نہ میں اپنے پیارے دوست کے ساتھ اپنی مرضی سے سیکس کر لوں بس یہ سوچ کر اس دن میں نے ہمارے درمیان کی ساری دیواریں گرا دیں۔۔۔اور تمہیں اپنا لیا اب تم چاہو تم نفرت کرو چاہو تو دھتکار دو مجھے کوئی غم نہیں۔ ************************* (17) کچھ دیر کی خاموشی کے بعد چھیمو بولی:اب میں چلتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ میں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے بازوؤں میں دبوچ لیا اور اس کے کانوں کو چوم کر بولا:نہیں چھیمو اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ تم بیگناہ ہو اور میں ہمیشہ ایسے ہی تم سے دوستی برقرار رکھوں گا۔۔۔اور اگر کبھی موقع ملا تو ان سیالوں کو ایسا مزہ چکھاوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اب یہ بتاؤ کہ تمہارے دن کب ختم ہوں گے تو وہ مڑ کر میرے گلے لگ کر بولی۔ کمال میرے دوست میں تم پر واری جاؤں۔۔۔میرے ساتھ جو ہوا شاید یہی تقدیر کا کھیل ہوتا ہے۔۔۔پر تم ان سب باتوں کو بھول جاؤ یار وہ بہت بڑے اور خطرناک لوگ ہیں۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ تم کسی چکر میں پڑو۔ میں نے جھلا کر کہا چھوڑو ان باتوں کو وقت آنے پر دیکھا جائے گا فلحال مجھے یہ بتاؤ کہ اور کتنے دن ترساؤ گی تو وہ میرے نیم کھڑے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلتے ہوئے بولی بس چار دن اور پھر تیری یہ گھوڑی سواری کروانے کیلئے تیار ہو گی۔ اتنا کہہ کر وہ نیچے بیٹھی اور دوبارہ میرے لن کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔چند منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد اس نے مجھے چھوٹنے پر مجبور کر دیا۔ چھیمو میرا سارا منی اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔دوسری دفع چھوٹنے کے بعد تھوڑی کمزوری محسوس کرتے ہوئے میں لڑکھڑا گیا تو وہ فٹا فٹافٹ آگے ہو کر مجھے سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔اف یار میں بھی کتنی بے وقوف ہوں۔۔۔اب اگلے چار دن تک میں نہیں آؤں گی۔ اب تم بھی خوب کھا پی کر جان بناؤ۔۔۔چار دن بعد ملاقات ہو گی تو خوب جشن منائیں گے۔ اچھا اب تم سو جاؤ میں چلتی ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ مڑی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔میں نے جیسے تیسے اٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور چارپائی پر گر گے سو گیا۔ (18) دو دن بعد مجھے دودھ کے ایک آڑھتی سے ملنے لاہور جانا پڑا۔۔۔میں دودھ کی سپلائی کرنے والی گاڑی لیکر ہی لاہور چل پڑا۔۔۔ڈرائیونگ مجھے آتی تھی اس لیے خود ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔اس آڑھتی کا نام میاں اشرف تھا۔ ہمارا سارا دودھ اسی کی ڈیری پر جاتا تھا اور وہاں سے آگے وہ گاہکوں کو سپلائی کرتا تھا۔۔۔دراصل میں اب دودھ کے کام کو بڑھا کر اپنی ڈیری کھولنا چاہتا رہا تھا تو سوچا کہ اس بارے میں ساری معلومات اکٹھی کروں۔۔۔چنانچہ اسی سلسلے میں میاں اشرف سے ملنے لاہور چلا آیا۔ ************************* میاں اشرف سے ملاقات کے بعد میں وہاں سے ایک فرنیچر کی دکان پر چلا گیا اور گھر کیلئے خوبصورت بنا بنایا فرنیچر اور اپنے لیے ایک پلنگ خریدا۔ پیسے ادا کر کے میں نے مالک کو فرنیچر اچھی طرح پالش کر کے گھر بھیجنے کو کہا۔ اس کے بعد میں واپس گاؤں جا رہا تھا کہ مجھے راستے میں ایک گلی کے کارنر پر نادر ایک گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا سگریٹ پیتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی۔ خود گاڑی سے اتر کر چلتا ہوا نادر کے پاس پہنچا اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔ میں نے پیچھے سے اسی پنجابی سٹائل کا چپھا مار کے خود میں بھینچ لیا۔ وہ میری طرف مڑ کے میرے گلے سے لگ گیا۔۔۔آؤ جی آؤ کدھر دیاں سیراں ہو رئیاں نیں پاپے۔ میں نے اسے بتایا کہ کس کام سے آیا تھا۔ پھر میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ یارا چھوٹی بی بی نوں لے کے آیا واں۔ اوناں نوں ایتھے اپنی کسے سہیلی ول کوئی کم سی تے میں نال آ گیا۔ میں نے پوچھا کہ یار اے چھوٹی بی بی کون اے۔ اس نے بتایا کہ جگر جی وڈے چوہدری صاب دے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال دی اکلوتی کڑی اے۔ شبینہ سیال۔ بڑی سوہنی سنکھی پر جڈی سوہنی اوڈی کپتی اے۔ خیر سانوں کی لینا دینا۔۔۔اسی ملازم آں اپنا کم کیتی جاندے آں۔۔۔چھڈ یار ایناں گلاں نوں آ پھڑ دو کش لا۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے ایک سگریٹ سلگا کر میری طرف بڑھایا جسے میں نے پکڑ لیا۔ کبھی کبھار نادر کے ساتھ مل کر ہی میں بھی دو چار کش لگا لیا کرتا تھا۔ ہم لوگ نادر والی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پیتے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ نادر بولا یار تم رکو میں وہ سامنے ہوٹل کے واش روم میں چھوٹا پیشاب کر کے آیا۔۔۔بس دو منٹ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر نادر لمبے لمبے قدم اٹھاتے سامنے ایک ڈھابے نما ہوٹل کی طرف چلا گیا۔ میں وہیں گاڑی سے ٹیک لگائے کش لگاتے ہوئے دھواں چھوڑ رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک تلخ آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ جاہل،گنوار،پینڈو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی جو کہ نہایت ہی خوبصورت لباس میں ملبوس تھی۔۔۔ماتھے پر تیوریاں لیے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ ہو نا ہو یہی شبینہ سیال ہے۔۔۔لیکن اس کے الفاظ مجھے انتہائی برے لگے تھے۔۔۔تو میں بھی ترکی بہ ترکی بولا۔ یہ تم نے جاہل گنوار اور پینڈو کسے بولا ہے۔۔۔تو وہ دانت پیستے ہوئے بولی کیا تمہیں یہاں کوئی اور نظر آ رہا ہے۔۔۔نہیں نا اس کا مطلب تمہیں ہی بولا ہے۔ میں بھی تیوری چڑھا کر بولا۔۔۔او لڑکی ذرا تمیز سے بات کر۔۔۔اگر میرا دماغ گھوم گیا تو تیرا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا۔۔۔شاید اسے آج تک کسی نے ایسے منہ توڑ جواب نہیں دیا تھا تو وہ دھاڑتی ہوئی بولی۔ اپنی بکواس بند کرو گندی نالی کے کیڑے۔۔۔تم لوگوں کی اوقات ہی بس اتنی ہے کہ گندی نالی میں سڑتے رہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا مجھے کسی نے بازو پکڑ کر پیچھے کھینچا تو میں نے دیکھا کہ مجھے کھینچنے والا نادر تھا۔۔نادر بولا او یار ایہہ کی کر ریا ایں۔ ایہو چھوٹی بی بی اے۔ ساتھ ہی وہ آگے آ کر بولا چھوٹی بی بی ایہہ میرا دوست اے۔۔۔اپنے ای پنڈ دا ہے۔ غلطی ہو گئی تے میں معافی منگدا آں۔ تسی غصہ نہ کرو۔ وہ چلاتے ہوئے بولی اس کو تو وہ مزہ چکھاؤں گی کہ یاد رکھے گا۔۔۔اتنا کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی۔۔۔تبھی میں نے بھی جواب دیا۔ کمال پاشا ہے نام میرا۔ تمہاری حویلی سے تھوڑا ہی دور رہتا ہوں۔۔۔جب بھی مزہ چکھانا ہو آ جانا۔ وہ کچھ نہیں بولی بس شعلہ بار نگاہوں سے مجھے گھورتی رہی۔۔۔نادر نے میرے آگے ہاتھ جوڑے اور مجھے وہاں سے جانے کو کہا۔ ساتھ ہی نادر مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑا۔ چھیمو کی بربادی اور سیالوں کے ظلموں کی داستان سن کر میں پہلے ہی غصے میں تھا۔۔۔اوپر سے اس سیال زادی کی بکواس اور تپا گئی۔ ************************* (19) اگلے دن شام کے وقت میری زمینوں پر کام کرنے والے سارے مزدور اکٹھے ہو کر گھر پہنچ گئے۔ میں صحن میں بیٹھا ابو سے باتیں کر رہا تھا کہ کسانوں کو دیکھ کر میں چارپائی سے اترا اور آگے ہو کر پوچھا۔۔۔اپ سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ہیں۔۔۔مطلب کوئی گھمبیر صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ سب یک آواز ہو کر بولے کمال باؤ ایناں سیالاں نے تنگ کر ماریا۔۔۔آئے دن نہر دے پانی دا رخ موڑ کے اپنی زمین ال کر لیندے نیں۔ اج وی ساڈی واری سی تے اوہناں نیں پانی نوں کاوا کٹ کے اپنی زمین ال موڑ لیا۔ اسی اکٹھے ہو کے اوناں نال گل کیتی تے موقع تے موجود راجو تے نور سیال نے چاچے اکبرے نوں تھپڑ مارے اور ٹھڈے شڈے وی مارے۔ میں ان کی باتیں سن کر ایک دم پریشان ہو گیا۔۔۔پھر پوچھا اب چاچا اکبر کہاں ہے نظر نہیں آ رہا تو انہوں نے بتایا کہ مار کھاتے وقت چاچا بیہوش ہو گیا تو دو آدمی اس کو ڈسپنسری لے گئے ہیں۔ میں نے اسی وقت کمرے میں جا کر اپنی بندوق نکالی اور غصے میں باہر نکلا تو ابا جان جو کہ ساری بات سن چکے تھے مجھے روکتے ہوئے بولے نہیں پتر نہیں اس کو رہنے دو اور اپنا دماغ بھی ٹھنڈا رکھو۔ اس مسئلے کا حل میں نکالتا ہوں۔۔۔میں نے جواب دیتے ہوئے کہا لیکن ابو جی آپ ان سیالوں کو نہیں جانتے!!!تو ابا ایک دم گرج کر بولے اوئے چپ کر اب تم مجھ سے بڑا ہو گیا ہے جو آگے سے غوں غٹر کر رہا ہے۔۔۔ایک دفعہ کہہ دیا نا کہ میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔۔۔بس تم اندر جاؤ اور گھر سے باہر نہیں نکلنا یہ میرا حکم ہے۔ پھر وہ کسانوں کی طرف مڑ کر بولے چلو آؤ میں دیکھتا ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر ابو کسانوں کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکل گئے اور میں بے بسی سے وہیں کھڑا رہا۔۔۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب اگر ابو کے منع کرنے کے باوجود میں وہاں گیا تو پھر میری خیر نہیں۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ابو کی واپسی ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ سب معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے۔ پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور چاچے اکبر کے علاج معالجے کے علاوہ ہرجانہ کے طور پر بیس ہزار روپیہ اس کو ادا کر دیا گیا ہے سیالوں کی طرف سے۔ پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولے:سن پتر!تمہارا جوان خون ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔لیکن خون کی گرمی سے یہ معاملات نہیں سلجھائے جا سکتے۔ ویسے بھی وہ لوگ پاورفل ہیں۔۔۔اب گاؤں میں الیکشن بھی شروع ہو رہے ہیں اور سیال فیملی کا بھی ایک امیدوار لازمی ہو گا۔ اس لیے ہر وقت ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچ کر چلنا پڑتا ہے۔۔۔اور میں ان کی باتیں سنتے ہوئے اندر ہی اندر ابل رہا تھا کہ اب ابو کو کیسے سمجھاؤں کہ ان سیالوں کی پوری نسل ہی کنجر زنی پر مشتمل ہے!!!پر اب ظاہری سی بات ہے کہ چھیمو کی سنائی ہوئی کہانی تو ابو کو سنا نہیں سکتا تھا اس لیے غصہ دل میں دبائے خاموش ہو گیا۔ آج رات چھیمو بھی نہیں آئی تو میں کروٹیں بدلتے بدلتے سو گیا۔ (20) اگلے دن صبح میں زمینوں کا چکر لگا رہا تھا کہ نادر سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مجھے ہی ڈھونڈھتا ہوا وہاں آیا تھا۔۔۔گلے ملنے کے بعد بولا یار کمال مینوں پتہ لگیا کہ کل تواڈے ہاریاں دا سیالاں نال کوئی پنگا ہو گیا سی۔ میں دانت چباتے ہوئے بولا کہ نہیں یار ایسی بات نہیں انہوں نے پانی بند کیا تو ہاری ان سے بات کرنے گئے تو وہاں انہوں نے ایک بزرگ کو مار پیٹا۔۔۔ہمیں پتہ چلا تو بابا جان نے مجھے گھر روک کر خود پنچایت بلائی اور پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور بزرگ ہاری کو ہرجانہ بھی مل گیا۔۔۔اچھا یار پرسوں بی بی نال وی رولا بن گیا سی پر میں راستے اچ بی بی نوں سب سمجھا دتا کہ غلط فہمی نال سب ہویا۔ اور تو میرا یار ایں۔ بی بی دا غصہ وی ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔چل دفع مار ایناں گلاں نوں۔۔۔میں تینوں ایہہ دسن آیا سی کہ میں چند دن واسطے کراچی جا ریا۔ وڈے چوہدری صاحب دا کوئی کم پھَسیا کھڑا۔۔۔توں میرا ویر پچھوں میری بوجھائی شمسہ دا خیال رکھیں۔۔۔ویسے تے نال آلی چاچی رحمتے ہر ویلے شمسہ کول وڑی ریندی اے پر فیر وی توں چکر مار لیا کریں۔ میں نے پوچھا کہ کب جا رہے ہو تو وہ بولا کہ بس گھر جا رہا ہے اور روٹی کھا کر شمسہ کو بتا کر کراچی کیلئے نکل جائے گا۔۔۔پھر وہ مجھے احتیاط کرنے اور سیالوں سے دور رہنے کی تلقین کر کے چلا گیا۔ شام کے وقت فرنیچر والی گاڑی بھی آ گئی۔۔۔گاڑی کے ساتھ لڑکوں نے مل کر سارا فرنیچر اتار کر گھر میں مختلف جگہوں پر رکھا۔ میرا بیڈ میں نے اپنے کمرے میں رکھوایا اور ان لڑکوں کو ادائیگی کر کے واپس بھیج دیا۔۔۔امی،ابو اور بینا سب کو فرنیچر بہت پسند آیا۔ میں نے بینا کو چھیڑنے کی خاطر کہا بینا تجھے تیری شادی پر اس سے بھی ذیادہ خوبصورت فرنیچر لا دوں گا۔۔۔میری بات سن کر بینا نے سر جھکایا اور شرماتے ہوئے اندر امی کے کمرے میں چلی گئی۔ میں امی ابو کے پاس بیٹھ کر بینا کی شادی بارے میں بات کرنے لگا کہ اب بینا بڑی ہو گئی ہے اس کیلئے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈتے ہیں۔۔۔پھر تھوڑی دیر تک اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ ************************* (21) رات کو میں اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا کہ چھیمو آن وارد ہوئی۔۔۔مجھے کمرے میں موجود پا کر وہ تیر کی طرح میرے پاس آئی۔ آتے ہی وہ میرے گلے لگ گئی۔۔۔اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔اچھی طرح ہونٹ چوسنے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئی اور میرے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔۔۔کمال میری جان یہ بتاؤ کہ پرسوں چھوٹی بی بی شبی ساتھ تیرا کیا پھڈا ہوا تھا۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ تجھے کیسے پتہ چلا تو وہ بولی کہ بعد میں بتاتی ہوں پہلے جو پوچھا اس کا جواب دو۔۔۔میں نے اسے ساری بات بتائی کہ کیسے شبینہ نے بلاوجہ ہی بکواس کی تو اس نے بتایا کہ شبینہ کے بکواس کرنے کی وجہ یہ تھی کہ تم چونکہ اس کی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پی رہے تھے اور وہ نہایت نفاست پسند لڑکی ہے۔۔۔اوپر سے انتہائی لاڈلی اور نک چڑھی بھی!!!تو اس لیے وہ برداشت نہ کر پائی اور بکواس کر گئی آگے سے منہ توڑ جواب ملنے پر بھڑک گئی۔ اب مصیبت یہ بنی کہ رات کو اس نے ساری بات راجو سیال کو بتا دی۔۔۔اب راجو موقع کی تاڑ میں ہے۔ یہ سب انتہائی کینہ پرور لوگ ہیں۔۔۔تم میری جان اپنا خیال رکھنا۔۔۔میں بے پروائی سے بولا چھوڑ اس گشتی کے بچے کو جب مجھ سے ٹکرائے گا تو اسے دکھاؤں گا مردانگی کسے کہتے ہیں۔ اب جلدی سے آ جا دیکھ کتنے دنوں سے میں بھوکا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑ دبانے شروع کر دیے۔۔۔وہ ایک دم مچل کر اٹھی اور بولی۔۔۔ارے یار میں تو بھول ہی گئی۔۔۔آج میں اکیلی نہیں آئی ہوں۔۔۔تجھے کسی سے ملوانا ہے۔۔۔میں نے حیرانی سے پوچھا۔ کیا مطلب کِس سے ملوانا ہے تو وہ بولی یاد ہے نا اس دن جب میں نے تمہیں سٹوری سنائی تھی تو اس لڑکی کا ذکر کیا تھا جس کو میرے ساتھ ہی سیالوں نے خراب کیا تھا۔۔۔تو میں بولا ہاں ہاں بتایا تھا وہ خوبصورت لڑکی۔ بھلا سا نام تھا اس کا یہ کہہ کر میں اس کا نام سوچتے ہوئے بولا ہاں یاد آیا رضیہ عرف راجی۔ کیوں کیا وہ تمہارے ساتھ آئی ہے۔۔۔تو چھیمو میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی کہ ہاں آج وہ میرے ساتھ آئی ہے۔۔۔میری طرح وہ بھی سیالوں کی زور زبردستی سے بہت تنگ ہے مگر سیکس کی بھوک اس میں بھی بہت ذیادہ ہے۔ جب میں نے اس کی حالت دیکھی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اسے تمہارے بارے میں بتایا کہ کس طرح تم سے دوستی ہوئی اور ہم سیکس تک پہنچے اور تم کیسے بھرپور انداز میں سیکس کے مزے دیتے ہو۔ بس یہی سن کر وہ مچل اٹھی۔۔۔نتیجتاً اب وہ میرے کمرے میں انتظار کر رہی ہے۔۔۔یہ سن کر میری باچھیں کھل اٹھیں اور میں بولا کہ جاؤ اسے بھی لے آؤ۔ چھیمو اٹھ کر باہر نکل گئی جبکہ میں نے اٹھ کر اپنے کپڑے اتارے اور خود ننگا ہی بیڈ پر سیدھا لیٹ کر اپنے نیم مردہ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلنے لگا۔ چند منٹ بعد ہی چھیمو کے ساتھ چادر میں لپٹی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔چھیمو نے پلٹ کر دروازے کی کنڈی لگائی اور سیدھا میری طرف آتے ہوئے اپنے کپڑے اتار کر پوری طرح ننگی ہو گئی۔ پاس آ کر چھیمو نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر مڑ کر اس لڑکی سے بولی چل راجی آ جا۔۔۔میرا کمال ہم دونوں کے بارے میں سب جانتا ہے پھر دیر کس بات کی۔۔۔اتنا کہہ کر چھیمو بیڈ پر چڑھ آئی اور آتے ہی میرے اوپر لیٹ کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے راجی کو اپنی طرف بلایا جو کہ ابھی بھی چادر لپیٹے اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔ میرے اشارہ کرنے پر وہ آگے بڑھی اور بیڈ کے کنارے پر ٹک کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چھیمو کو اوپر سے ہٹایا اور اٹھ کر راجی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچنا چاہا تو وہ تھوڑا بدک اٹھی۔ یہ دیکھ کر چھیمو بولی راجی کیا بات ہے کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو۔۔۔تم نے آج تک صرف چوہدریوں کے دھکے کھائے ہیں۔۔۔آج تمہیں میرا دوست کمال بتائے گا کہ اصلی مرد کا پیار کیا ہوتا ہے۔ اس لیے بلکل اطمینان سے بیٹھو اور ان لمحات کو پوری طرح انجوائے کرو۔ اچھا لاؤ میں تمہاری مدد کرتی ہوں!!!یہ کہہ کر چھیمو نے آگے بڑھ کے راجی کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند لمحات بعد ہی راجی میرے سامنے ننگی کھڑی تھی۔۔۔کالے رنگ کی برا کھولنے کے بعد راجی کے بڑے بڑے گول مٹول ممے اچھل کر باہر نکل آئے۔ اس کے ممے چھیمو سے تھوڑے چھوٹے تو تھے لیکن اٹھان بھرپور تھی۔۔۔اب راجی نے ہمت کی اور قدم بڑھا کر بیڈ پر چڑھ آئی۔ *********جاری ہے*********
  8. ڈاکٹر صاحب پلیز جلدی اپڈیٹ دیں ہمیں شدت سے انتظار ہے۔ آپکی شاہکار کہانی جس نے ہمیں اس فورم کے ساتھ مستقل طور پر جوڑ دیا ہے
  9. 1 like
    Molvi sb ko thora shaq to ho raha tha ky Saba ko shayad pata lag gya hai usky chaidny ka....... magar yeh bhi yaqeen tha ky us ny bura nahi manaya hai is baat ka........ or isi baat sy unka hosla barh raha tha ........ woh samjh rahy thy ky woh apni chaal main kamyaab hoty jaa rahy hain........ Molvi sb ny usy sofy ky arm wali side pr bethaya..... or boly....... haan main bhi araam kr laita hoon..... tum lait jaao......... Saba sofy pr beth gai to....... Molvi sb doosry kinary ki traf Saba sy door hat kr beth gy..... Molvi sb: tangain apni seedhi kr lo na....... or relax ho kar lait jaao....... Saba ny ahista sy apni dono tangain ooper kin or side arm sy take laga li..... magar apni tangain phailai nahin........ ku ky aagy to Molvi sb bethy hoy thy....... or tangain phailaati to Saba ky pair Molvi sb ki goud main hi jaaty........... magar Molvi sb ny saba ky pairon ko pakra or apni goud main kheench kr uski tangoon ko seedha kr dya...... Saba ki pindlyaan Molvi sb ki thighs pr aagai thin.... or Pair aagy thy....... Saba: ahista sy boli..... uncle...... yeh kya kr rahy hain aap.... na chooin na mery pairon ko........ Molvi sb ny apny haath Saba ky goory goory mulayam chikny pairon pr rakhy or unko sahlaaty hoy boly....... kyun ....... kyun na chooun....... Saba thora sa apny pairon ko churwaany ky andaaz main hilaa kr boli.... uncle acha nahi lagta na...... aaappppppp....... aap itny bary hain........ to mery pairon ko chooty hoy acha nahi lagta na........ Molvi sb muskraay...... or Saba ky pairon ko apny haathon main ly kr sahlaaty hoy boly...... magar mujhy to acha lag raha hai Saba beti......... Saba sharmaaa di......buhat ziddi ho aap bhi na...... Molvi sb ny ab apna aik haath Saba ki pindli pr rakh dya hoa tha..... or apny haath ko ahista ahista Saba ki pindli pr ragar rahy thy...... uski pindli ko sahlaa rahy thy......... Saba ny bhi lazzat ky maary apni aankhain band kr lin............. ssssssssssssssssssss plzzzzzzzzzz uncle na krain ............. Molvi sb ny Saba ki siskaari suni to muskraay....... or Saba ki leggy ky ooper sy uski taang ko sahlaaty hoy boly....... kaisy pehan laiti hoti ho tum larkyaan yeh leggy....... Saba muskraai: kyun uncle....... aap ko achi nahi lag rahi kya.... Molvi sb apna haath Saba ki taang pr sahlaaty hoy ooper ko jaaty hoy boly...... nahi nahi....... buhat pyaari lag rahi hai......... Molvi sb ka haath Saba ki shirt ky neechy sy sirakta hoa Saba ki thighs pr pohnchny laga tha......... magar Saba ny apna haath barhaa kr Molvi sb ky haath pr rakh dya....... Saba: nahi nahi ..... plz uncle........ aunty uth gain to kya sochain gi........ plz na krain........... Molvi sb ny dekha ky Saba koi khaas mazahimat nahi kr rahi hai to woh khush ho gy......... or uth kr boly....... aik minute....... Molvi sb uthy...... or kursi ki back pr pari hoi uski chaadar laa kar Saba ky ooper phaila di..... saba ka poora jisam dhak gya tha..... or usky pairon tak aa rahi thi uski chaadar........... Molvi sb dobara sy bethny lagy....... to Saba boli...... Saba: nahi uncle yahan nahi bethain plz........ mujhy sharam aati hai....... Molvi sb hansy........... ary kya hai na tumko bhi beti...... lo main light hi band kr daita hoon....... Saba: nnnnnnnnnn.........nnnnnnnhhhhhhhhhhhhheeeeeee nahi uncle..... Magar Molvbi sb ny uski baat suny bina hi uth kr kamry ki aakhir light bhi band kr di......... ab kamry main bilkul andhaira ho gya hua tha........ Molvi sb ahista ahsita Soofy ki traf barhy....... or apny mobile ki halki si roshni main Saba ky pairon ki traf beth gy...... Saba ny apni tangain samait li hoi thin........... Molvi sb ny neechy beth kr dobara sy Saba ki tangain apny oper phaila lin........... Saba ahista sy boli.... uncle plzzzzzzzzzzz nahi.......... krain..... Magar molvi sb ahista ahsita Saba ki tangon ko sahlaany lagy....... Molvi sb: Saba tum khamoshi sy so jaao....... dekho main ny ab to light bhi band kr di hai......... Saba us andhairy main ahista sy hansi...... aap sony do gy to soun gi na..... Saba ki khoobsorat hansi ........ us andhairy kamry main kisi choti si ghanti ki trah khanak gai thi........ or uska bhi Molvi sb pr direct asar hoa tha....... Molvi sb apna haath Saba ki tangon pr sy uski thighs pr ly jaaty hoy dheery sy boly........ kyun main ny kya kaha hai tumko........... Saba phir hansi...... lagta hai ky aunty ko bhi aap aisy sataaty hon gy na...... Molvi sb: ary ary yeh kya kah rahi ho........ main to tumhari tangain sahlaa raha hoon...... or dabaa raha hoon......... thak gai ho gi na tum subah sy....... is lye........ Saba Molvi sb ky haathon ko apni thighs pr ooper ki traf barhta hoa mahsoos kr rahi thi...... dheery sy boli........ dekho to aap ky haath kaha tak jaa rahy hain .......... or aisy dabaaty hain kya........ Molvi sb hansy....... mujhy to aisy hi aata hai dabaana....... Saba: rahny deejye.......... mujhy nahi dabwaani apni tangain aap sy...... main to lagi hoon sony.......krty raho aap jo krna hai...... aap ko to lagta hai neend hi nahi aa rahi ....... Molvi sb ka haath ahsita ahsita Saba ki thigs sy sirakta hoa usky pait pr aagya tha........ haan haan so jaao tum............. Saba ab chup kr ky lait gai....... jaisy Molvi sb ko khuli chutti dy di thi..... sub kuch krny ki ......... sub jaga pr choony ki...... Molvi sb ka haath Saba ky pait ko choony laga....... Saba holy sy phir tarpi...... or boli...... uuuffffffffffff buhat tang krty hain aap ........... na krain na ....... gudgudi hoti hai mujhy............. Molvi sb apny haath ko aagy ko ly jaaty hoy boly....... ary main kaha kr raha hoon gudgudi........ main to bus haath phair raha hoon....... khud hi tum hilti ho to gudgudi hoti hai phir tumko............ Saba: wah je wah........ yeh bhi theek hai........ aap mujhy aisy choo rahy ho yaha wahan or main hillon bhi nahi....... or phir qusoor bhi mera hi....... Molvi sb: ary kya hai ...... kuch hota hai kya tumko....... bus chup kr ky soti raho tum......... Molvi sb ny apna haath Saba ky pait pr thora or aagy ko sirkaaya...... or Saba ky bobos ky neechy ky hissy ko choony lagy........ Saba ny foran hi unka haath pakar lya.......... yeh aap ka haath kuch ziada hi aagy nahi jaa raha kya............ ruk jain aap warna main abhi awaaz dai rahi hoon aunty ko........... Molvi sb ny apny haath thora sa peechy sirkaaya........ or boly kuch nahi kr raha tum ko.......... or apni aunty ko kyun jagaati ho ..... pata bhi hai ky injection dya hai unko........ Saba shookhi sy.......... acha je........ aunty ko injection laga hai to aap ko azaadi mil gai hai jo bhi krty rahain...... hatain bus aap......... Saba halki halki mazahimat kr rahi thi bus...... bilkul ahsita sy Molvi sb ka haath apny pait pr sy hataany ki koshish kr rahi thi...... magar..... hataa nahi paa rahi thi..... or shayad hataana bhi nahi chahti thi na........ Molvi sb ny Saba ky haath ko apny doosry haath sy pakra or apna haath ahista sy Saba ky boob pr rakh dya.......... Saba: ssssssssssssssssssssssssssssssssssssssssssssssss aaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaahhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhh kya kr rahy hain aaaaaaaappppppppppppppppppppppppppppppp................ plzzzzzzzzzzzzzzzzzzzz Molvi sb Saba ky boob ki goolaai ko apny haath sy naapty hoy boly........... ssssshhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhh.............. shor nahi....... kuch nahi kr raha......... bus dekh raha hooon inko........... Molvi sb ky bhaari bharkam haath main Saba ki breast aisy hi lag rahi thi jaisy ky koi chota si ball ho bachon ky khailny wali.............. or Molvi sb ny ahista ahista usy dabaana shuru kr dya........ jaisy hi Molvi sb ny uski breast ko dabaaya....... to Saba ka seena ooper ko uth gya.............. or monh sy aik taiz siskaari nikal gai.............. Saba ki tangain abhi bhi Molvi sb ki goud main hi thin........... or usy apni tangon ky neechy Molvi sb ka lund khara hota hoa mahsoos ho raha tha.......... or yeh cheez....... Molvi sb ky haathon ky lams ky saath mil kr uski choot ko garam krty hoy ........ us main sy rus tapkaa rahi thi............ Saba ki saansain bhi taiz hony lagin.......... jaisy jaisy Molvi sb ky haath Saba ky boobs ko sahlaa rahy thy...... Saba ky jisam ki garmi barhti jaa rahi thi.......... or choot paani chorti jaa rahi thi........ Saba ky monh sy siskaaryan nikal rahi thin........ Molvi sb Saba ky boobs ko baari baari apni muthi main ly kar ahista ahista dabaa rahy thy....... Saba siski........... mmmmmmmmmmmmmmmmm uncleeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee .......... yyyyyyyyyyyeeeeeeeeeeee theeek nahi haiiiiiiiiiiiiiiiiiiii........... plzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzz............ auntyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyy .....uth jain geeeeeeeeeeeeeeeeeeeee.......... Magar saba ki saari faryaad bekaar jaa rahi thi.......... Molvi sb apni daanist main apny mansooby main kaamyaab ho chuky hoy thy....... or haqeeqat main to Saba kaamyaab hoi thi.......... molvi sb ko pahal krny pr majboor kr ky............. achanak hi darwazy par dastak ho gai........... Saba or Molvi sb dono hi chounk kr aik doosry sy alag hoy....... or Saba foran hi uth kr beth gai....... apny kapron ko theek krti hoi......... or Molvi sb bhi dil hi dil main aany waaly ko gaalyan daity hoy light jalaa kr kamry ka darwaaza kholny chaly gy....... Molvi sb ny darwaaza khola to saamny nurse khari thi...... haath main medicine ki tray lye hoy............ dono ko ab ahsaas hoa ky subah ka waqat ho gya tha......... or isi lye nurse medicine dainy aai thi........... yeh aik hi nurse thi jo her raat ko duty pr hoti thi.... or night or morning ki medicine daiti thi........... yeh nurse qareeb 20-22 saal ki thi.... darmyaani height...... or buhat hi fair color tha...... chehry pr aik sexy pan chalakta tha..... dekhny main hi buhat hot or sexy lagti thi...... boobs bhi uski shirt main phansy hoy hoty thy........ or khoob ubhry hoy...... or tight thy........ Nurse andar daakhil hoi to us ny Molvi sb or Saba ki traf dekha...... dono ky chehron pr thori ghabrahat si thi..... nurse ajeeb si nazron sy dono ko dekh rahi thi...... magar apny chehry sy kuch bhi show nahi kr rahi thi........ Saba ka chehra thora thora laal ho raha tha...... aisy achanak kisi ky aajany sy dono hi thora ghabraa gy thy...... Nurse aunty ky bed ky qareeb gai or injection banaany lagi...... phir us ny Saba ko bulaya........ jo ky abhi bhi sofy pr hi bethi hoi thi...... Nurse: aap plz idhar aain zara....... Saba uth kr bed ki doosri traf aagai....... or aunty ka haath pakar lya..... Molvi sb doosri nurse wali side pr hi khary thy..... Nurse injection laga rahi thi....... Saba ny molvi sb ky chehry ko dekha to usy hansi aagai..... kyun ky unky chehry pr gussa tha..... Saba shararat sy muskraati hoi Molvi sb ko dekhti or phir nazar nurse ki traf kr laiti.......... Molvi sb chahty thy ky nurse jaldi sy injection lagaa kr wapis jaay ...... or woh dobara sy Saba ko dabouch lain........... magar saba ko dosron ko tarpaany or tease krny main maza aata tha na....... us ny thori dair mazeed nurse ko wahin rokny or Molvi sb ko tease krny ka iraada kia...... or nurse ky saath batain shuru kr din........ Saba: aap ki night shift hoti hai kya......???? Nurse muskraa kr....... je haan....... meri night duty hi hoti hai...... Molvi sb gussy sy dono ki traf dekh rahy thy..... or Saba apni hi batoon main lagi hoi thi Prachi ky saath........ Nurse: aap inki kya lagti hain.... Saba: yeh meri aunty hain........ or wo mery uncle hain...... actually neighbours hain hum to aunty ki tabiat kharab hoi to isi lye main saath aagai......... 217 Phir nurse ny medicine complete ki or dono ki traf dekh kr bahir nikal gai.... jaisy hi Prachi kamry sy nikli to...... Molvi sb ny darwaza band kia or jaisy Saba ki traf jhapty........ magar..... Saba unky haath sy nikal gai....... Saba: nahi nahi....... uncle plz............ door rahain aap....... plzzzz...... subah ho gai hai ..... sub staff bhi uth gya hai.... or koi bhi andar aa sakta hai...... Molvi sb ny Saba ky haath pakar kr kheencha apni traf....... ary koi nahi aa raha hai yaha pr.......... is sy pahly ky Molvi sb kuch kr paaty...... aunty bed pr hilin....... or ahista ahista apni aankhain kholny lagin....... or awaaz di...... Molvi sb nybhi foran sy Saba ko chor dya..... or Saba jaldi sy aunty ki traf barhi........ je aunty........... Saba aunty ky paas aik side pr jhuki hoi thi....... itny main Molvi sb bhi unky paas aa gy........ unka mood kaafi kharab ho raha tha........ wo Saba ky bohat qareeb khary thy...... Saba autny sy nazar bacha kr Molvi sb ki traf dekhti or halka sa muskraa daiti........... Molvi sb ny peechy khary khary hi apna haath aagy barhaaya or Saba ki kamar pr rakh dya........... Saba ky jisam main current sa doud gya......... or Saba ka jisam kaanmp gya.......... Molvi sb Saba ki kamar ko sahlaa rahy thy....... or kabhi uski bra ky hooks pr haath phairny lagty......... or ahista ahsita usy kheenchty............ lakin saamny sy dono apny expressions ko control kr ky aunty sy batain kr rahy thy........ ahsita ahsita Molvi sb ka haath Saba ki kamar sy neechy sirakny laga...... or kuch hi dair main Molvi sb ka haath Saba ki ubhri hoi gool gool daand pr tha........... Saba ny mur kr masnooi gussy sy molvi sb ki traf dekha or unko rukny ka ishaara kia apni aankhon sy hi.......... or phir aunty ki traf apni ankhon sy ishaara kia .......... jaisy molvi sb ko unki moujoodgi ka ahsaas dilaa rahi ho............ Magar molvi sb to baaz nahi aa rahy thy........... unka haath Saba ki khoobsorat gaand ko sahlaa raha tha........ Saba bhi apni gaand ko ahista ahista ghumaa rahi thi..... hilaa rahi thi....... jaisy........ Molvi sb ka haath hataana chahti ho apni gaand pr sy........... magar haqeeqat main to woh......... apni gaand ko matkaa rahi thi.......... poori trah sy Molvi sb ky haathon ky lams ka maza lainy ky lye............ ku ky usy pata tha ky aunty ky jaagty hoy Molvi sb kuch or nahi kr sakty ab............ Phir Saba Molvi sb ki traf muri...... or boli....... jain jaa kr chaai laain na........ aisy hi khary hain yaha pr aap............. subah subah buhat dil kr raha hai chai peeny ka mera............. Saba ny aik khaas adaa or andaaz sy kaha tha........... jaisy ....... jaisy wo Molvi sb ki biwi ho........... ya jaisy unki mahbooba ho............ or Saba khud ko paish bhi to aisy hi kr rahi thi na Molvi sb ky saamny....... Aunty: haan haan....... molvi sb.... jain ly aain beti ky lye chai...... Molvi sb ny aik baar zooor sy Saba ki gaand ko dabaya.... or phir darwazy ki traf chaly gy...... kuch dair baad Saba or molvi sb ny chaai pee or phir utni dair main hi Ashraf bhi aagya Saba ko lainy ky lye............ Saba jaati hoi Molvi sb ko dekh rahi thi........ jinky chehry pr mayoosi thi....... magar Saba shararat sy muskraa rahi thi......... Ghar wapis aa kar Saba apny bed pr lait gai........ kal ky saary waqyaat usy yaad aany lagy............. Major ky saath jaana...... road pr bandy ka usy apny saath chalny ko kahna..... or phir Major ka apny aadmyoon ky saamny hi sy choodna........ or phir Jimmy ki batain....... or usky baad Molvi sb ky saath guzaari hoi raat........ yeh sub kuch mil kr Saba ko garam krny laga........ Ashraf bathroom sy naha kr bahir aaya to Saba sy bola........ Saba aap araam kro...... mujhy thora kaam hai main bahir jaa raha hoon........ ghanty tak wapis aoun ga.... chaabi hai mery paas khol loon ga darwaza tum so jaao............. Saba ny usy ok kaha or lait gai....... magar phir sy wohi yadaain usko tarpaany lagi.......... raat ko Major ny usy choda to zaroor tha magar usky baad........ Molvi sb ny phir sy usky andar aag lagaa di hoi thi........... or ab usy apni yehi aag bujhaani thi........ warna is choot ki aag ny usy sony nahi daina tha.......... magar kaisy....... Major to abhi tak apny addy sy hi wapis nahi aaya ho ga..........or Molvi sb ky saath kuch bhi krny ky lye usy raat ka intezaar krna tha...... jub woh dobara sy hospital main jaati raat rukny ky lye... Deenu........... Saba ki aankhain chamak uthin..... jub Deenu ka naam usky dimagh main aaya........... ku ky ab wohi aik banda bacha hoa tha jo ky uski choot ki pyaas bujhaa sakta tha........ or phir Saba apny bed sy khari ho gai......... Deenu ky paas jaany ky lye............ apni pyaas bujhaany ky lye.......... Deenu ky mooty .. kaaly lund sy ...........

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.