سب سے پہلے تو نشاندہی کا شکریہ۔یہ اچھی بات ہے کہ قاری کہانی کو غور سے پڑھتے ہیں اور ہر سطر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
دیکھیں بات درست ہے آپ کی۔ کہانیوں اور زندگی میں ہم بےشمار ایسی باتیں کہتے ہیں جو کہ انسان خود اعتمادی کے جذبے سے مغلوب ہو کر کہتا ہے۔
اس کا نعوذ بااللہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خدائی کا دعویدار ہے۔ بس یہ ایک قسم کا مضبوط ارادی کا اظہار ہوتا ہے۔
جیسا کہ کہانی میں جمیل کا کیریکٹر چل رہا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسے بھی بار بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ خود زخمی ہوتا ہے،چوٹیں لگتی ہیں،اس کے بھی پیارے مارے جاتے ہیں۔اگر دشمن اس سے خوف کھاتے ہیں تو کئی کئی بار خود جمیل با مشکل موت سے بچ پاتا ہے،کئی بار پسپائی اختیار کرتا ہے،روپوش ہو جاتا ہے،جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ کئی محاذوں پر شکست ہوتی ہے تو کن فیکون والی کیفیت تو کہانی میں نہیں چل رہی۔
کلمات کے اظہار میں اکثر انسان بڑائی کی باتیں کر جاتا ہے۔
جمیل نے اگر یہ باتیں کہیں تو اس مکالمے کی پس منظر میں جائیں کہ وہ انوسٹی گیشن کے آئی جی کو اس کی گوتاہیاں سمجھاتے ہوئے اپنی کامیابی کا راز بتا رہا ہے۔ پورا مکالمہ پڑھا جائے تو یہ باتیں خدائی دعویٰ میں نہیں آتیں۔
اور یہ بھی دیکھیں کہ جمیل اس مقام تک کیسے اور کن کن مراحل کو طے کر کے پہنچا ہے۔ کہاں گاؤں کا ایک عام نوجوان جسے اس کا پہلوان بھائی کشتی اور کبڈی سکھاتا تھا۔
کیسے انٹیلی جنس والوں نے اسے ٹرین کیا،یہ سب طور طریقے سیکھنے کے بعد وہ اس حد تک پر اعتماد ہوا کہ ایسی باتیں کہہ سکے۔
باقی میرا کبھی بھی ارادہ ایسا نہیں رہا کہ جمیل کو ناقابل شکست یا لازوال بنا کر پیش کیا جائے۔
امید کرتا ہوں میں نے آپ کی تسلی کروا دی ہو گی۔