نہیں خلوت ہی پر راضی وہ پردے دار ہوچکتی
بس اک دھکے میں دیوار حیا مسمار ہوچکتی
کیا ہت پھیر لیکن وہ نہیں تیار ہوچکتی
جو کوئی اور سی ہوتی تو کتنی بار ہوچکتی
شب فرقت نے فرقت میں تری مجھ کو تھکا مارا
کہ آلپٹی ہے مجھ سے اور نہیں اے یارہوچکتی
وہ پاپڑمیں نے بیلے وہ شدائد میں نے جھیلے ہیں
کہ اس نرغے میں غیر آتا تو پھٹ کر غار ہوچکتی
پلے ہیں مارنے مرنے پہ لنڈاور چوت ازل ہی سے
کوئی جانے نہیں کیوں ختم یہ تکرار ہوچکتی
نہ رکھتی آس اگر تیرے نظارے کی اسے زندہ
تو نرگس جو کہ اک مدت سے ہے بیمار ہوچکتی
کھڑا کرنا تھا لوڑے کو نہیں ثالث بخیر ایسا
زن و شوہر میں پھر تو جو بھی تھی تکرار ہوچکتی