<b>
عزیزان ِ من! ایک قاری اور ایک لکھاری میں فرق ہوتا ہے۔
قاری جس کہانی کو منٹوں میں پڑھ لیتا ہے لکھاری اسے گھنٹوں میں ٹائپ کرتا ہے اور بعض اوقات دنوں میں سوچتا ہے۔
اس کے بعد جو مستقل سلسلے ہوتے ہیں یہ مستقل وقت مانگتے ہیں۔ ایک کہانی کو لکھنے میں فرض کریں دو دن لگتے ہیں تو ایک مستقل کہانی کو ایک مہینہ لگاتار لکھنے کے لیے ایک مہینے تک بالکل فراغت چاہیئے۔ تاکہ دن رات یکسوئی سے سوچ کر لکھا جا سکے۔
یہ تو نہیں ہوتا نا کہ کہیں سے پڑھی اور لکھ دی۔ یہ ایسا ہوتا ہے کہ سوچی پھر اسے تشکیل دی اور پھر اسے جاری رکھنے کے لیے مزید مواد بھی سوچ کے رکھا۔
جو آج سے دس قسطوں بعد ہونا ہے وہ آج سوچوں گا تو ہی اسے اس کے لیے پلاٹ بنانا شروع کروں گا۔ یعنی ایک مستقل سلسلے میں ایک ساتھ بیس پچیس قسطوں کی کہانی سوچنی ہوتی ہے۔
ایک مکمل کہانی میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک آئیڈیا سوچا اور اسے چار الفاظ میں بیان کر کے مکمل کر دیا۔
</b>