یہ نظم میں نے آج سے کچھ پندرہ سولہ سال پہلے سنی تھی آپ سے کیا پردہ باجی میں سب بتا دیتی ہوں شب عروسی کی کہانی میں سب سنا دیتی ہوں رات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسے دو جواں دل تھے دونوں ہی تھے پیاسے کس پیار سے وہ میرے پاس آیا باجی دونوں ہاتھوں سے میرا گونگھٹ اُٹھایا باجی میرے ہونٹوں کو ہونٹوں سے دبایا باجی باغ نشیمن پہ بھی ہاتھ لگایا باجی لرزتے جسم میں ایک بجلی سی کود گئی اُس نے بوسہ جو سینے پہ لگایا باجی ناف تک رینگ گئ ہائے اک کھڑی سی چیز ظالم نے دھکا جو زور سے لگایا باجی درد لطف سے اک ہائے تو نکلی لیکن دھیرے دھیرے مجھے بھی چین آیا باجی پھر تو رگ رگ میں آنے لگی سرور و مستی اس نے چپو جو روانی سے چلایا باجی اک چشمہ سا ابلتا ہوا محسوس ہوا آخری جھٹکا جو ظالم نے لگایا باجی
آڈیو ملاحظہ ہو