Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 28/07/17 in all areas

  1. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ، ٭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ/ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ٭ ﺍﮔﻼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ٭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ٭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﻤﻠﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ : ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮩﻠﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ٭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ٭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﺏ ﮈﮬﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ / ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﺑﻠﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﻭ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﺒﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻟﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮩﺎﺑﮭﯽ ) ﻡ۔ ﻣﮩﻢ ( ﺟﺐ ﮨﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﯾﺎ ﺯﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻭﺍﺝ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻋﻔﺖ ﻭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﺤﺾ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻓﮩﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺎﻝ، ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
  2. ایک-کہانی-بڑی-پرانی پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقہ میں ایک بوڑ ھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس بوڑ ھے آدمی کی مشکل یہ تھی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو اونچے اونچے پہاڑ کھڑ ے ہوئے تھے ۔ ان پہاڑ وں کی وجہ سے سورج کی کرنیں اس کے گھر میں کبھی نہ پہونچتی تھیں ۔ ایک دن اس بوڑ ھے آدمی نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ آؤ ہم اس پہ...اڑ کو کھود کر یہاں سے ہٹادیں تاکہ سورج کی کرنیں ہمارے گھر میں بلاروک ٹوک داخل ہو سکیں ۔ بوڑ ھے آدمی کے پڑ وسی کو اس کا یہ منصوبہ معلوم ہوا تو وہ اس پر ہنسا۔ اس نے بوڑ ھے آدمی سے کہا: میں یہ جانتا تھا کہ تم ایک بے وقوف آدمی ہو لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ تم اتنے زیادہ بے عقل ہو گے ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اپنی کھدائی کے ذریعے ان اونچے پہاڑ وں کو یہاں سے ہٹادو۔ بوڑ ھے آدمی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا: تمہارا کہنا درست ہے لیکن اگر میں مر گیا تو اس کے بعد میرے بیٹے اس کو کھودیں گے ۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ، اور پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ۔ اس طرح کھدائی کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ تم جانتے ہو کہ پہاڑ آئندہ اور زیادہ بڑ ے نہیں ہوجائیں گے ۔ ہر مزید کھدائی ان کے حجم کو کم کرتی رہے گی۔ اس طرح آج کے دن نہیں تو کسی اگلے دن یہ مصیبت ہمارے گھر کے سامنے سے دور ہو چکی ہو گی۔ یہ کہانی بہت خوبصورتی کے ساتھ بتا رہی ہے کہ بڑ ی کامیابی کے لیے ہمیشہ بڑ ا منصوبہ درکار ہوتا ہے ۔ اگر آپ اس دنیا میں کوئی بڑ ی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑ ے منصوبہ کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے جو ایک بڑ ے منصوبے کو مسلسل چلانے کے لیے ضروری ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں ان کے حل کی طاقت زیادہ ہوتی ہے ۔ مسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور حل ہمیشہ لامحدود۔ اگر آپ حل کی ا سکیم کو نسل در نسل چلا سکیں تو آپ ہر پہاڑ کو کاٹ سکتے ہیں اور ہر دریا کو عبور کرسکتے ہیں۔ جو شخص لگاتار عمل کرنے کے لیے تیار ہو اس کے لیے کوئی پہاڑ پہاڑ نہیں اور کوئی دریا دریا نہیں ۔
  3. ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے ہم بہرحال بسر خواب تمہاراکرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارہ کرتے محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام آنکھ گر آئینہ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے پھر کوئی آئے یہاں، کیسے گوارا کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب تیری جانب ہی ترے لوگ اشارہ کرتے ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے (عبید اللہ علیم)
  4. Jahan Bhi Rahin Aik Hi Baat Hai Tum Pass Nahin Aik Hi Baat Hai Kabhi Bin Tumhary Roya Kartey Thay Ab Tum Door Ho Aik Hi Baat Hai Dil Main Pehlay Wali Baat Nahin So Jatan Karo Aik Hi Baat Hai Dil Kay Aaenay Main Tumhin Dekh Liya Ab Jo Bhi Roop Dharo Aik Hi Baat Hai Bharum Sarey Ab Tum Nay Khou Diyey Bahaar Ho Ya Khizaan Aik Hi Baat Hai Woh Waqat Tha Jab Hum Mila Kartey Thay Wadey Sarey Wafa Kay Kiya Kartey Thay Rishta Chah Ka Tha Jo Tum Nay Mita Diya Ab Subha Ho Ya Shaam Aik Hi Baat Hai Ab Na Hi Woh Dil Hai Na Hi Tum Jesi Bhi Rut Ho Aik Hi Baat Hai Bin Tumhary Jeena Bhi Kiya Jeena Hai Zindagi Ho Ya Mout Ho Aik Hi Baat Hai
  5. میاں بیوی ہر سال عوامی میلے میں جایا کرتے تھے اور جب بھی بیوی ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتی۔ میاں فورا کہتا : "بیگم پانچ ہزار روپے لگیں گے اور تمہیں پتہ ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ایک دفعہ میلے میں گئے تو بیگم بولی "میاں جی ۔ اب میں ستر سال کی ہوگئی ہوں۔ اگر اس دفعہ ہیلی کاپٹر کی سیر نہ کی تو شاید میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے" میاں پھر بولا " بیگم تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ہیلی کاپٹر کا کپتان ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اسے خاتون پر ترس آیا اور ان سے بولا میں ایک شرط پر آپ کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرا سکتا ہوں کہ آپ تمام راستے میں خاموش رہیں گے اور اگر کسی نے بھی منہ کھولا تو پانچ ہزار روپے دینے پڑیں گے۔" کپتان نے بوڑھے میاں بیوی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھاتے ہی خوب کرتب کئے۔ ہیلی کاپٹر کو دائیں بائیں موڑا۔ جھٹکے دیے۔ الٹ پھیریاں لگوائیں۔ مگر وہ میاں بیوی کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکلوا سکا۔ بالآخر جب کپتان زمین پر اترا تو اس نے بوڑھے سے کہا کہ آج تک میری ایسی چالوں کے نتیجے میں مسافر کچھ نہ کچھ ضرور بول کر شرط ہار جاتے ہیں اور پانچ ہزار روپے مجھے مل جاتے ہیں۔ لیکن میری ہزار کوشش کے باوجود آپ خاموش رہے، کیوں؟ بوڑھا بولا، " کیپٹن ۔ جب تم نے ہمیں بٹھا کر پہلا کرتب دکھایا تو میری بیوی باہر گر گئی مگر ميں خاموش رہا کیوں کہ تمہیں معلوم ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔"
  6. koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte ho phir tum ko mana ker kia kerna tere der pe aa ke bethe hain ab ghar bhi ja ker kia kerna din yad se acha guzre ga phir tum ko bhula ker kia kerna
  7. q rakhoun mai apne qalam mai siyahi jab koi arman dil mai machalta hi nahi na janay q sabhi shak kartay hain mujh par jab sokha gulab meri kitaboun mai milta hi nae kashish tu bohat thi mere piyar mai magar kiya karoun koi pathar dil pighalta hi nae agar khuda milay tu us se apna piyar mangoun ga magar suna hai woh milne se pehle milta hi nahi
  8. Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata kar mujhko umr bhar ke liye, Ya tu chup chap apne paas bula le mujhko.
  9. Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujhko daikha krti ho Jb pyar mohbt k Qissy Tum kaan laga k sunti ho Jb apni bolti ankho se Tm mera sab kuch mangti ho Jb dil ki meethi baaton pr Tum thora sa ghbrati ho To aesy sary lamho me Ae jaan_e_wafa tum kya jano "Tum kitni Achi lagti ho

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.