بدین میں لیڈی ہیلتھ ورکر نے اپنے 2 ساتھیوں کے خلاف اغواء ، ریپ اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کروادیا
بدین(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11جون۔2016ء) صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے اپنے 2 ساتھیوں کے خلاف اغواء ، ریپ اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کروادیا ہے۔بدین ماڈل پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں غلام حسین پڑھیار گاو¿ں کی رہائشی لیڈی ہیلتھ ورکر نے دعویٰ کیا کہ ان کے 2 ساتھیوں نے انھیں 10 ماہ قبل اغواءکیا اور ریپ کا نشانہ بنایا۔
خاتون کے مطابق اغواءکاروں نے ریپ کے دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے انٹرنیٹ پر اس بات کا انتقام لینے کے لیے اَپ لوڈ کردیا، کیونکہ خاتون نے اپنے ا±س ساتھی پولیو رضاکار سے ملنے سے انکار کردیا تھا، جس نے 2 سال قبل ایک پولیو مہم کے دوران انھیں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔مذکورہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ 2 سال قبل جس شخص نے انھیں نشہ آور اودیات پلا کر ریپ کا نشانہ بنایا تھا، اس نے بھی ان کی ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کردے گا اور جب خاتون نے انکار کیا تو ملزم نے اپنے ایک دوست کے ساتھ انھیں اغواءکرکے ریپ کا نشانہ بنایا اور اس موقع پر بنائی گئی ویڈیو انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کردی۔مذکورہ ہیلتھ ورکر نے دعویٰ کیا کہ ان واقعات کے بعد انھیں ان کے شوہر اور سسرال والوں نے گھر سے باہر نکال دیا تھا۔بدین کے ماڈل پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد ابراہیم جتوئی کے مطابق پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔جتوئی نے مزید بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں جو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اپنے رشتے داروں کے ہمراہ مفرور ہیں۔دونوں ملزمان کے خلاف واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 376، 337 (جے) اور 354 کے تحت درج کیا گیا۔