Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 18/11/16 in Posts

  1. ماریہ(کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد): ہاں میں پوری کوشش کروں گی۔ کیا آپ باجی فرزانہ سے میری بات کروا سکتے ہیں؟ میں نے اس کی بات مانتے ہوئے موبائل فون باجی کی طرف بڑھا دیا اور خود نیچے آگیا۔ نیچے سب سو چکے تھے امی اور باجی طاہرہ کے کمروں کی لائٹس آف تھی جبکہ باقی کی لائٹس میں نے بند کرکے واش روم کی طرف چل دیا۔ کچھ دیر بعد میں چھت پر چلا گیا جہاں باجی میرے ہی انتظار میں تھی۔ میں مسکراتے ہوئے: باجی۔۔۔ آپ کو ماریہ کی بچی نے شکایت کی تھی؟ باجی: محبت جس سے ہو اس کی شکایت نہیں کی جاتی۔ خیر تم بتاو۔ اس ماریہ کے علاوہ اور کون کون سی لڑکی تم میں انٹرسٹڈ ہے۔ میں نے صاف انکار کردیا کیونکہ میرے دل میں بھی ماریہ ہی تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سکول لائف میں ٹائم پاس کے لیے ایک عدد گرل فرینڈ بنا لی جاتی ہے۔ اگر وہ لڑکی کالج لائف میں بھی ساتھ ہو تو اسی سے گزارا کرلیا جاتا ہے۔ کچھ لڑکیاں بولڈ بھی ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کو جلانے کے لیے لڑکوں کا استعمال کرتی ہیں۔ میرے انکار سے باجی خوش ہوکر میرے ماتھے کو چوم کر سو جانے کا بولا اور خود کروٹ بدل کر سو گئی۔ میں کافی دیر ماریہ کے بارے میں سوچتا رہا صبح میری آنکھ کھلی تو امی، طاہرہ اور باجی فرزانہ ناشتے بنانے میں لگی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد ہم سب ایک ہی جگہ بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔ باتوں باتوں میں باجی نے باجی غزالہ کے سسرال والوں کی کہانی چھیڑ دی۔ ان باتوں میں باجی نے بڑے ہی واضح الفاظ میں مجھے بتایا کہ باجی غزالہ کو اس کی نند نے کافی تنگ کررکھا ہے۔ میں یہاں اب باجی غزالہ کی نند کے بارے میں تھوڑا سا تعارف کروا دوں۔ باجی غزالہ کے سسرال میں ان کی ساس جو ہر وقت چارپائی پر پڑی رہتی تھی اور کافی اونچا سنتی تھی۔ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ خود کروٹ بدل سکیں۔ باجی کی شادی کے بعد میرے بہنوئی اپنی والدہ کی طرف سے بے فکر ہوگئے اور بیرون ملک چلے گئے تھے۔ بیرون ملک گئے ہوئے آٹھ سے نو ماہ ہوچکے تھے جبکہ شادی کو ۲ سال ہونے کو تھے لیکن ان کے گھر کوئی اولاد نہ تھی باجی کی نند عمرانہ نام تھا لیکن عرف عام ’’مانہ‘‘ تھا۔ جب میں نے ان کو آخری مرتبہ دیکھا تھا تو اس وقت بھی باجی کے لیے ان کی آنکھوں میں نفرت تھی۔ مانہ کی شادی بھی ہوچکی تھی لیکن ان کے گھر بھی اولاد جیسی نعمت نہ تھی۔ جس کی وجہ سے مانہ بہت زیادہ چڑ چڑی ہوچکی تھی۔ پہلے پہل باجی کو مانہ نے کبھی بھی تنگ نہیں کیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مانہ کی طبعیت میں چڑچڑا پن آنے لگا۔ کچھ دن پہلے مانہ نے صاف صاف الفاظ میں باجی کو گھر سے نکل جانے کا بول دیا تھا۔ مانہ کے سسرال والے کافی امیر تھے۔ اسی وجہ سے مانہ غرور میں تھی آج نہیں تو کل اس نے کسی نہ کسی طریقے سے بچے کو اڈاپٹ کرلینا تھا۔ میں: مجھے معلوم ہے لیکن میں اس سارے معاملے میں کیا کرسکتا ہوں جو کسی سے بولتا؟؟؟ باجی: بندا کم از کم اس کے شوہر سے تو پوچھ لیتا ہے کہ کیا مسئلہ ہے؟ ایسے ہی مختلف مسئلوں پر بات چیت ہوتی رہی۔ پھر کچھ دیر بعد میں امی سے اجازت لے کر (تقریبا آٹھویں جماعت سے اب تک کبھی اجازت نہیں لی تھی) میں سکول کی طرف چل دیا۔ سکول میں پرنسپل کی تبدیلی ہوچکی تھی۔ پہلے میل سر تھے اب فیمیل پرنسپل کی تعیناتی ہوچکی تھی۔ بوائز گرلز سیکشن ایک کردیے گئے تھے۔ بس قطاریں الگ الگ تھیں۔ کچھ لڑکے لڑکیوں کو بس گھورتے رہتے تھے۔ میں سکول کے بعد سکول کے ساتھ بنے چھوٹے سے بازار کا معائنہ کرتارہا ۔ ایک دکان پر مجھے انجانی سی کشش محسوس ہوئی۔ میں چلتا ہوا اس دکان کے اندر چلا گیا۔ میرے سامنے خالق موجود تھا۔ میں نے کافی عرصے کے بعد خالق کو دیکھا تھا۔ ہم نے کافی دیر تک بات چیت کی۔ سکول، گھر اور دوسرے معاملات کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی۔ پھر میں وہاں سے خالق سے اجازت لے کر گھر آگیا۔ دن کا کھانا کھایا اور باجی نے رات کو اہم مسئلے پر بات کرنے کا اشارہ دے کر پھر سے بے چین کردیا۔ رات کو باجی اور میں معمول کے مطابق چھت پر چلے گئے اور پھر باجی نے بات شروع کی۔ باجی: دن کیسا گزرا اور مارکیٹ بھی دیکھی؟ میں: دن کافی آسانی سے گزرگیا۔ مارکیٹ بھی دیکھ لی کافی تبدیلی ہوچکی ہے۔ اگر یہاں کام کاروبار ٹھیک طریقے سے کیا جائے تو پیسہ کمانا بہت آسان ہے۔ باجی: ہمممم۔۔۔ میرے ذمے ابو نے کچھ کام لگائے تھے اب امید ہے کہ تم ان کو پورا کردو گے۔ کیونکہ مجھے نہ تو میرے شوہر پر اتنا زیادہ اعتبار ہے اور نہ غزالہ کے۔ میں(حیرت سے): گھر کے داماد کیوں نہیں؟ وہ بھی تو اس گھر کے فرد ہیں۔ اگر آپ کو یا غزالہ باجی کو کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں۔ باجی(مجھے سمجھاتے ہوئے):۔ اگر ان کو ان کے سسرال والے ایک بزنس سیٹ کرکے دیں گے تو پھر کچھ دن بعد غزالہ کے سسرال والے اپنی خواہش کا اظہار کریں گے پھر طاہرہ کے۔ ایسے تو ہم کنگال ہوجائیں گے۔ میری تمام باتیں تم کو میرے سمجھانے سے پہلے ہی سمجھ آ جانی چاہیں۔ میں: جہاں تک یہ بات ہے تو ابو اپنے دامادؤں کو کنڑول کرلیں گے اور رہی بات ان مسائل کی وہ ہم سب مل حل کرلیں گے۔ باجی: اچھے سے سوچ لو۔ بعد میں انکار نہ کردینا۔ میں: میں انکار نہیں کروں گا جو بھی کرنا پڑا میں اپنی بہنوں کی خوشی اور پیار کے لیے کروں گا۔ باجی مسکراتے ہوئے: اچھا جی۔۔۔ اتنا پیار آرہا ہے تو پہلا کام یہی کرو جو میں نے بولا ہے۔ اپنے بہنوئی پر اعتبار مت کرو اور خود ہی اپنے کام کاروبار کو شروع کرو۔ ویسے یہ ماریہ والا چکر کب سے ہے؟ میں مسکراتے ہوئے: میرا تو کوئی چکر نہیں تھا بس وہی میرے لیے پاگل تھی۔ (باجی نے مجھے گھورتے ہوئے دیکھا تب میں ماریہ کے متعلق بتانے لگا) شروع میں وہ میرے قریب بیٹھنے لگی تھی تو اس وقت کوئی احساسات نہیں تھے پھر آہستہ آہستہ اس متعلق سوچنے لگا پھر۔۔۔ اگے آپ خود سمجھ جاو۔ باجی: اچھا چل اب تو سو جا کل مجھے مارکیٹ کے بارے میں مکمل رپورٹ دینی ہوگی۔ کیونکہ ہم بہنوں کو تمہارے بہنوئیوں پر ایک ذرہ برابر اعتبار نہیں۔ باجی اپنا حق جتاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.