Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 10/10/16 in all areas

  1. میں: خالق۔۔۔(کچھ دیر خاموشی کے بعد) کیا ہوا؟؟؟ کچھ بولو گے؟ خالق:(سوچنے کے بعد) یار۔۔۔ آج تُجھ سے کوئی وعدہ نہیں کرواؤں گا کیونکہ مجھے معلوم ہے تو سچا بندہ ہے تو نے کچھ دیر پہلے جو کچھ پوچھا تھا۔۔۔ اس کا جواب تجھے سچا لگے یا جھوٹا۔۔۔ میں ایک دن سکول سے جلدی گھر پہنچ گیا، معلوم ہوا کہ سب کسی جنازے میں شریک ہونے کے لیے گئے ہیں۔ گھر پر چچی تھی، چچی نے مجھے کھانا دیا کچھ دیر بعد میں نے کپڑے تبدیل کیے اور سو گیا۔ کچھ دیر بعد مجھے اپنے جسم پر وزن محسوس ہوا تو میری آنکھ کھل گئی۔ میں کافی ڈر گیا تھا میں سوچ رہا تھا کہ کوئی جن، بھوت یا چڑیل مجھ پر بیٹھی ہے کیونکہ مجھے ہلکا ہلکا سسکنے کی آوازیں بھی سنائی پڑرہی تھی۔ امی اکثر مجھے بولتی تھی کہ دن کو کھانا کھانے کے فورا بعد سونا نہیں چاہیے۔ اگر لڑکے دن کو سو جائیں تو ان پر جن،بھوت کا سایہ ہوجاتا ہے جو رفتہ رفتہ اس لڑکے کے پیٹ سے کھانا نکال کر کھاتے رہتے ہیں۔ میں اسی ڈر کی وجہ سے آنکھیں بند کیے لیٹا رہا، مجھے اس وقت احساس ہوا جب میرے اوپر موجود جو بھی تھی یا تھا وہ اوپر نیچے مسلسل ہونے لگا تھا۔ میرے جسم میں عجیب سی سنساہٹ ہونے لگی تھی۔ میں خاموشی سے لیٹا ہوا اپنی آنکھیں مضبوطی سے بند کیے اس کے نیچے پڑا رہا۔ میرے اوپر موجود چڑیل کے ہاتھ میں چوڑیوں کی آواز پیدا ہورہی تھی اور میں امی کی بتائی باتوں میں موجود چڑیل کے سراپے کو سوچ رہا تھا۔ میرے حلق میں کافی تھوک جمع ہو چکا تھا جو ڈر کی وجہ سے میں اندر بھی نگل نہیں سکا۔ تب اچانک میری آنکھیں فورا کھل گئی کیونکہ میں مسلسل جاگ رہا تھا اور اپنی آنکھیں بند کرنے کی کوشش میں تھک چکا تھا۔ چچی کی آنکھیں بند تھی اور ان کا جسم پر ایک بھی کپڑا موجود نہیں تھا۔ میں نے اپنی نظر چچی کے چہرے سے لے کر اپنے پیٹ تک لائی اور پھر دوبارہ سے چچی پر لے آیا جو اپنے کام میں مشغول مسکرا رہی تھی۔ عثمان۔۔۔ یقین مانو ! اُس وقت میرے اندر کوئی ہوس نہیں تھی۔ جب چچی کافی دیر تک ایسا کرتی رہی تو کچھ دیر بعد چچی مجھ پر جھک کر میری گردن میں بازو گماکر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور میرے جسم سے اپنا جسم رگڑتے ہوئے مجھے چومنے چاٹنے لگیں۔ چچی نے خود کو ٹھنڈا تو کرلیا لیکن میرے جسم میں ہوس کی آگ بھر دی۔ جب چچی کو محسوس ہوا کہ میں فارغ نہیں ہوا تب چچی میرے اوپر سے الگ ہوئی اور میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر اوپر نیچے کرنے لگی۔ چچی کی پھدی سے نکلنے والا سارا پانی میرے لنڈ اور ٹٹوں کو گیلا کر چکا تھا اس لیے چچی کو میرے لنڈ کو گیلا کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ان کے ہاتھ کی نرمی نے مجھے الگ ہی دنیا میں پہنچا دیا تھا۔ کچھ دیر بعد چچی نے دوبارہ سے وہی ننگا ناچ شروع کردیا جو کچھ دیر پہلے جاری تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر موجود سارا خون تیزی سے گردش کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ میرے گلے میں جون جولائی کی سخت گرمی پڑنے لگی۔ ہم دونوں ایک ساتھ فارغ ہونے لگے۔ چچی جان چکی تھی کہ میں جاگ رہا ہوں اس لیے فارغ ہونے کے دوران چچی میرے سارے جسم اپنی ہوس کے نشانات چسپا کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد چچی مجھ سے الگ ہوئیں اور میرے بغل میں لیٹ کر اپنی پھدی میں انگلیاں ڈال کر چیک کرنے لگی۔ چچی: خالق۔۔۔ مزا آیا؟؟؟ میں کچھ بھی نہ بولا اور اپنی پیٹھ انکی طرف کر کے آہستہ آہستہ رونے لگا۔ کیونکہ میں چاچی کی بیٹی سے پیار کرنے لگا تھا اور وہ بھی۔ خیر چچی نے مجھے اسی حال پر چھوڑا اور رات کے کھانے کے بعد سے اگلی رات تک مجھ سے اپنی ہوس کی آگ ٹھنڈی کرواتی رہی۔ اب یہ روزانہ کا معمول بن چکا تھا جب بھی چچی کو موقع ملتا وہ شروع ہوجاتی۔ ایک دن جب میں سکول سے آیا تو امی نے بتایا کہ میری کزن کو بخار ہے (جس سے مجھے پیار ہوا تھا) اس لیے ہم ڈاکٹر کے پاس شہر جارہے ہیں۔ میں نے کافی بولا کہ میں ساتھ چلتا ہوں لیکن امی نے انکار کردیا۔ انکار کی وجہ یہی تھی کہ گاڑی میں جگہ نہیں تھی۔ ابو، امی، کزن، اور چچا جارہے تھے۔ اس دن بھی چچی نے اپنی آگ کو ٹھنڈا کروایا۔ اب تو مجھے اس سارے کام میں مزہ ہی مزہ ملتا تھا۔ میں(خالق کی رام لیلا سُن لینے کے بعد ): آج سب کچھ بتانے ہی والا ہے تو یہ بھی بتا دے کہ یہ سب میرے ساتھ تو کیوں کررہا ہے جب کہ۔۔۔ خالق: جب میں نہم جماعت میں تھا تب ہم دونوں کسی نہ کسی طریقے ٹائم نکال کر سکس (ہوس پوری) کرلیتے تھے، جس دن میں کسی بہانے سے چچی کو لے کر چھت پر گیا اور یہ سب کررہے تھے تب چچا اوپر آگئے۔ چچا نے ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا چچی کو چچا نے نیچے بھیج دیا چچا نے مجھے اس وقت چھت پر لیٹا کر میری گانڈ کو کھول کر رکھ دیا۔ میرے چچا کو گانڈ مارنا بہت پسند تھا چچی نے کافی مرتبہ سکس کرتے وقت مجھے بتایا تھا۔ وہ اکثر چچا سے گانڈ مروانے کے بعد ادھوری رہ جاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ روزانہ کسی نہ کسی سے چدوانے کا سوچتی، پھر ایک دن ان کو موقع مل گیا۔ اور یہ سب ہوتا چلا گیا۔ چچے کا بے شک ساڑھے پانچ یا اس سے چھوٹا تھا، لیکن میری گانڈ میں انہوں نے مرچیں ڈال دیں تھی(گانڈ مار کر) کچھ دن کے بعد چچی میرے کمرے میں آئی اور آہستہ سے بولی کہ: میں نے تیرے چچا کو کافی سمجھایا ہے وہ اس سب کے لیے تیار ہیں لیکن ایک شرط ہے۔ میں بھی کچھ دنوں سے اس ہوس کی آگ میں جھول رہا تھا۔ اس لیے بغیر سوچے ہاں بول دی۔ ’’چچی رُک کیوں گئیں ؟؟؟ آپ اپنی شرط بتائیں۔ چچی: وہ چاہتے ہیں کہ ہم دونوں بے شک جو مرضی کریں لیکن جب اُن کا دل کرے گا تب تم ان کی ہربات مانو گے۔ کیا تم میری بات کا مطلب سمجھ رہے ہو؟؟؟ میں کافی دیر خاموش بیٹھا رہا میں سوچ رہا تھا کہ میری گانڈ کی گرمی جو چچا ختم کرسکتے ہیں اور میرے لنڈ کی گرمی چچی۔۔۔ دوسری سوچ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ چچی کو یہ بات بولنی نہیں چاہیے تھی۔ چچی: مجھے معلوم ہے کہ تو میری بیٹی سے پیار کرتا ہے اور وہ بھی، میں تم دونوں کی شادی کروا دوں گی اگر تم چچا کی بات ٹالو گے تو یہ خواہش پوری نہیں ہوسکے گی۔ تب سے میں پہلے مجبوراَ یہ کام (چچا سے گانڈ، چچی سے مکمل سکس ) کرنے لگا پھر خود کی مرضی سے کرنے لگا۔ جب تیرے ہتھیار پر نظر گئی تب میری گانڈ کے کیڑے نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا۔ اب یہ فیصلہ تجھ پر چھوڑتا ہوں۔ میں: دوست۔۔۔ ہر کسی پر مشکل وقت آتا ہے، تیرا گزر گیا اب تو مزے کر میں تو چلا اپنے گھر۔ خالق: تجھے معلوم نہیں کہ یہ برا کس کی ہے؟ تو سوچ رہا ہوگا کہ یہ میں نے اپنی گرل فرینڈ کی برا لائی تھی۔ نہیں دوست۔۔۔ یہ میری چچی کی برا ہے جب پہلے پہلے وہ یہ پہنا کرتی تھی۔ میں نے اسے گالی دیتے ہوئے پوچھا: چاچی چود۔۔۔ اب تیرا کیا ارادہ ہے؟ خالق مسکراتے ہوئے: آج موڈ خراب ہوگیا اس لیے کینسل۔۔ ویسے کسی دن میرے ساتھ چلنا میری چچی کے پاس۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا جہاں اس کی آنکھوں میں صرف ہوس تھی۔ میں مسکراتے ہوئے اس کے بازو پر مکا مارتے ہوئے بولا: تیری چچی کی پھدی بھی مار لیں گے ’’مل کر‘‘ لیکن اب گھر چلتے ہیں کافی دیر ہوچکی ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.