Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 16/04/16 in Posts

  1. ایک عام عورت کسی بھی راز کو زیادہ سے زیادہ سینتالیس گھنٹے راز رکھ سکتی ہے اسی حوالے سے برطانوی ٹیلی گراف کی رپورٹ پڑھیں
  2. سرخ و سفید رنگ کی اڑنے والی دیو ہیکل گلہری گلہری کی یہ قسم صرف چائنہ اور تائیوان میں پائی جاتی ہے ان کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں حوالے کے لیئے وکی پیڈیا لنک
  3. دنیا کا سب سے بڑا قلعہ سندھ کے ضلع جامشورو میں ہے جس کا نام رنی کوٹ فورٹ ہے. اسکا محیط 26 کلومیٹر ہے
  4. تاریخ میں ایک دن ایسا بھی گزرا ہے جس دن ایک بادشاہ مرا دوسرا تخت نشیں ہوا اور تیسرا پیدا ہوا. یہ 13 اور 14 ستمبر 786 عیسوی کی درمیانی رات تھی. ہادی مرا ہارون الرشید تخت نشیں ہوا مامون الرشید پیدا ہوا
  5. عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کمپیوٹر کی دنیا میں کسی عورت کا کوئی خاص کارنامہ نہیں چلیں آج آپ کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتے ہیں کمپیوٹر پروگرامنگ آئی ٹی کی دنیا میں ایک مشکل ترین فیلڈ ہے اور کمپیوٹر پروگرامنگ کی موجد ایک عورت ہی تھیں جی ہاں سب سے پہلے کمپیوٹر پرامنگ ایک عورت نے شروع کی ان کا نام Ada Lovelace تھا جنھوں نے اٹھارو سو باون میں محض چھتیس سال کی عمر میں وفات پائی اور اس وقت برطانیہ میں مدفون ہیں
  6. ہومر اور سقراط کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم فلفسیوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک لائن تک نہیں لکھی کیوں کہ یہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
  7. مارچ انیس سو ترانوے میں کیون کارٹر نے یہ تصویر کھینچی اس تصویر نے انعام بھی جیتا تھا۔۔ یہ تصویر سوڈان میں لی گئی جب وہاں خوراک کا قحط تھا اور اقوام متحدہ کے تحت وہاں وہاں خوراک کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔ فوٹو گرافر کیون کارٹر کے مطابق وہ ان خوراک کے مراکز کی فوٹو گرافی کرنے جا رہا تھا جب راستے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کہ انہی مراکز کی جانب جانے کی کوشش میں تھا لیکن بھوک کمزوری فاقوں کی وجہ سے اس کا یہ حال تھا کہ اس سے ایک قدم اٹھانا دوبھر تھا آخر یہ لڑکا تھک ہار کر گر گیا اور زمین سے سر لگا دیا۔۔ تصویر میں دیکھیں پیچھے ایک گدھ موجود ہے جو کہ اس انتظار میں ہے کب یہ لڑکا مرے کب میں اسے کھاوں بس اسی منظر نے اس تصویر کی تاریخ کو آنسووں سے بھر دیا کیون کارٹر نے یہ تصویر نیو یارک ٹائمز کو بیچی اور نیویارک ٹائمز کے مطابق جب انھوں نے یہ تصویر شائع کی تو ایک دن میں ان سے ہزاروں لوگوں نے رابطہ کیا اور اس لڑکے کا انجام جاننا چاہا کہ کیایہ بچ گیا تھا؟ لیکن نیو یارک ٹائمز والے خود اس کے انجام سے بے خبر تھے بات یہیں ختم نہیں ہوتی فوٹوگرافر کیون کارٹر جس نے یہ سارا منظر کیمرے میں قید کیا وہ اس تصویر کے بعد اکثر اداس رہنے لگا اور ڈپریشن کا مریض بن گیا آخر اس میں موجود منظر نے اس فوٹو گرافر کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا کیون نے تینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی اس کی خود کشی کا طریقہ بھی بہت عجیب تھا وہ اپنے گھر کے پاس والے اس میدان میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنے کار کے سائلنسرمیں ایک ٹیوب فکس کی اور اس ٹیوب کو ڈرائیورنگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لے آیا تمام کھڑکیاں تمام دروزے لاک کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔گاڑی میں سائلنسر سے نکلتا ہوا دھواں بھرنا شروع ہوا دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جو کہ جان لیوا ہوتی ہے اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی اس نے جو تحریر چھوڑی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا " درد،بھوک ،اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے."
  8. انیس سو ننانوے میں ایک ماہی گیر کو ایک بند بوتل میں ایک لو لیٹر ملا یہ لو لیٹر پہلی جنگ عظیم (جو کہ انیس سو چودہ سے انیس سو اٹھارہ تک جاری رہی )کے دوران ایک فوجی نے اپنی بیوی کو لکھا تھا۔۔ماہی گیر نے وہ لو لیٹر اس فوجی کی بیٹی تک پہنچا دیا تھا کیوں کہ فوجی کی بیوی انتقال کر چکی تھی
  9. تھا کل تلک تو خوشامد سے گانڈ مرواتا ہمہ شما کے اشارے پہ دوڑ کر آتا پھرے تھا بیچ کی انگلی سے گانڈ کھجلاتا ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
  10. دکھایا جو روپیہ چمکتا ہوا وہ لالچ میں پھر سامنے جھک گیا ہوئی جبکہ تکلیف کہنے لگا کریما بہ بخشائے بر حال ما کہ ہستم اسیر کمند ہوا کہا اس سے میں نے کہ اے دلربا گھسیڑوں میں پورا کہ آدھا بتا تو شرما کے مجھ سے یہ کہنے لگا سپردم بہ تو ماےۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را لٹایا انہیں اور بنایا نرس دیا ان کی مقعد پہ لوڑا جو کس وہ نیچے سے بولے کہ بس بھیا بس ندایم غیر از تو فریاد رس توعامیاں را خطا بخش و بس

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.