Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 29/02/16 in all areas

  1. محبت حلال یا حرام رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ، نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !! یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ محبت چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔! اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔ تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔ وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ ! ! ! ۔ ۔ غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ، وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔ آؤ ، ، ، ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ، اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ، مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ، مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔ ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔ ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے# کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔ بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !! کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ، ۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!
  2. اردو فن کلب میں مزید چند تبدیلیاں اردو فن کلب پر پچھلے چند دنوں میں رینک میں کافی ادل بدل کیا گیا ہے۔تمام نان ایکٹو موڈیٹر اور سپر موڈریٹر سے رینک واپس لے لیے گئے ہیں۔اور آج نان ایکٹو وی آئی پی ممبر سے بھی اعزازی وی آئی پی رینک واپس لے لیے ہیں۔کسی سے رینک واپس لینا کسی قسم کی کوئی ذلت یا توہین نہیں۔بلکہ اس حقیقت کو قبول کرنا ہوتا ہے کہ اب ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں ان کے پاس ہمارے لیے یا فورم کے لیئے وقت نہیں رہا۔یہ حقیقت ہمارے لیے بہت تکلیف دہ اور تلخ ہوتی ہے۔ مجھے کافی سخت فیصلے کرنے پڑے۔ اپنے دوست پیچ تھری سے رائٹر کا رینک واپس لینا۔اتھرا جٹ اور نو سیکس سے رائٹر کا رینک واپس لینا۔ ایک وقت میں اس فورم کے ٹاپ قابل رکن ملے سٹون سے سپر موڈ کا رینک واپس لینا۔ اسی طرح لنڈ فار پھدیز سے بھی سپرموڈ کا رینک واپس لینا۔ ان سب اراکین کی عزت محبت میرے دل میں آج بھی اتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی۔یہ لوگ رینک کے محتاج نہیں۔اس فورم پر ایک وقت میں کیا گیا ان کا بہترین کام آج بھی بولتا ہے۔ یہ سب وہ اراکین ہیں جو کافی مہینوں سے آن لائن ہی نہیں ہوئے ۔مگر مجھے آج بھی پسند ہیں لیکن چونکہ اب کی دل چسپی اور ترجیحات بدل چکی ہیں لہذا ہم انھیں مستقبل اور ان کی نئی ذمہ داریوں پر نیک تمناوں سے وش کرتے ہیں۔ موڈریٹر ٹیم میں مزید کانٹ چھانٹ کی جانب میری توجہ ہے دو تین اراکین کی دل چسپی دکھائی نہیں دے رہی ان سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ یہاں آن لائن ہو کر تین چار تھریڈ بنانا تو دور دو یا تین تھریڈز میں رپلائی کر کے تھریڈ اسٹارٹر کی حوصلہ افزائی ہی کر دیں۔میں مزید دو ہفتے دیکھوں گا ۔اس کے بعد مزید فیصلے لوں گا۔ بے شک اب اردو فن کلب پر پہلے جیسی رونقیں نہیں لیکن یہ جتنا حلقہ احباب ہے اسے ہی چند اصولوں پر چلانے کی کوشش کرنا میرا اور آپ سب کا فرض ہے۔ امید ہے آپ لوگوں کو یہ فیصلے پسند آئے ہوں گے اگر پسند نہیں آئے تو تنقید کرنا آپ کا حق ہے والسلام ایڈمن اردو فن کلب
  3. ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺎﺿﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﺭﯾﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺑﻨﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺳﻮﯾﺎ ﺭﮨﺎ، ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﻃﻠﺒﺎﺀ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻝ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺫﻣﯿﮧ ﮐﺎﻡ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻮﭦ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ۔ .... ﮔﮭﺮﺟﺎ ﮐﺮﻟﮍﮐﺎ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯﺣﻞ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ۔ ﺳﻮﺍﻝ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺭﯾﺎﺿﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﮔﻼ ﺳﯿﺸﻦ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ .... ﺍﮔﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﮐﮯ، ﻧﺌﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﮐﺎ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺻﺎﺣﺐ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭼﺎﺭ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺣﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ؟ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﻣﯿﮧ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ... ﺟﯽ ﮨﺎﮞ۔ ﯾﮩﯽ ﻣﻨﻔﯽ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﮨﮯ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﺯ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﻃﺎﻟﺒﻌﻠﻢ ﻋﯿﻦ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺒﮑﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﻮﺍﻝ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺮﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻄﻌﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯽ ﻧﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍُﺳﮑﺎ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺍُﻥ ﺩﻭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﭼﺎﺭ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺣﻞ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ ﮐﯽ ﺍُﺱ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.