Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 15/09/15 in Posts

  1. =¤= جو پکڑ لے میں اس کی =¤= کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رھا تھا.... ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.. ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی وہ اس کی طرف بڑھا چلا گیا,,, وہ بھی مسکرا رھی تھی..... میرے ساتھ گھر چلو گی ؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ھو لی.. .وہ فضاؤں میں اڑنے لگا چوھدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں,, نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے ھوے... چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ھانپتا کانپتا داخل ھوا... خیر تو ھے ؟ خیر تو ھے ؟ او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا , نورے جٹ کا جوان لڑکا ایک ایسی حسینہ کے ساتھ گزر کے گھر جارھا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی ,, نامعلوم کہاں سے لے کر آیاھے... چاند کا ٹکڑا ھے. چوھدری جی اسے سمجھ. نہیں آرھا تھا کہ اسے کہاں بٹھاؤں... آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا ,, اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا.. وقعی جب خدا دیتا ھے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ھے ... اسے کچھ شور کی آواز آرھی تھی جو اور قریب آگئی..... پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا دروازہ کھلا... چوھدری ھکا بکا رہ گیا... اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا... نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ھو گیا.... تم میری لاش پر سے گزر کر ھی اس تک پہنچ پاؤ گے... تم اس کے قابل نہیں... نہ یہ گھر اس کے قابل ھے... یہ میری حویلی میں رھے گی. , نوکرانیاں., راحت., آرام., عزّت,, اسے وھاں ملے گی... نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا عدالت پورے جوبن پر تھی... سائل, مدعی, وکلاء , اھلکار., عملہ سب موجود تھے., جج صاحب. اپنی مسند ِخاص.پر رونق افروز.... جج صاحب نے نظر آٹھائی اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آرھا تھا... اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا... واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھی جج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں میرے پاس مال و دولت ھے عہدہ ھے بنگلے ہیں گاڑیاں ہیں نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ھے یہ میرے لائق ھے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو وہ ہکّے بکّے رہ گئے نہیں چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے بادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے دربار سجا ہوا تھا وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ھے بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاؤ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاؤ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے وہ حسینہ جو اب تک خاموش تھی اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی۔لمحے وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رھے تھے وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں چوھدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک اب وہ تھی اور نوجون تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چینج بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی آؤ میرے عاشقو میرے پیچھے آؤ تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پاسکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ھے
  2. 1 like
    افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا۔‘‘ سقراط نے مسکرا کر پوچھا ’’وہ کیا کہہ رہا تھا۔‘‘ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا….....‘‘ سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ’’تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر پرکھو، اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔‘‘ افلاطون نے عرض کیا ’’یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے؟‘‘ سقراط بولا ’’کیا تمھیں یقین ہے تم مجھے جو بات بتانے لگے ہو یہ بات سوفیصد سچ ہے؟‘‘ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا، سقراط نے ہنس کر کہا ’’پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟‘‘ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، سقراط نے کہا ’’یہ پہلی کسوٹی تھی، ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ ’’مجھے تم جو بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ "جی! نہیں یہ بُری بات ہے۔‘‘ سقراط نے مسکرا کر کہا ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو تمھیں اپنے اُستاد کو بُری بات بتانی چاہیے؟‘‘ افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا، سقراط بولا ’’گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی۔ ‘‘ افلاطون خاموش رہا، سقراط نے ذرا سا رک کر کہا ’’اور آخری کسوٹی، یہ بتائو وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سرہلایا اور عرض کیا ’’یا اُستاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں۔‘‘ سقراط نے ہنس کر کہا ’’اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے چوبیس سو سال قبل وضع کردیے تھے، سقراط کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ گفتگو سے قبل بات کو تین کسوٹیوں پر پرکھتے تھے، کیا یہ بات سو فیصد درست ہے، کیا یہ بات اچھی ہے اور کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟ اگر وہ بات تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تھی،تو وہ بے دھڑک بات کردیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا،تو وہ خاموش ہوجاتے تھے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.