Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/02/15 in Posts

  1. "صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے " بعض اوقات صرف دیکھنے کا زاویہ بدلنے سے پورا منظر بدل جاتا ہے، چند کارآمد ٹپس جو ایسا کرنے میں آپ کی مددکریں گے عالمگیر کتاب ’’مثبت سوچ کی طاقت‘‘ کا مصنف ونسنٹ پیلے ایک روز اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا ۔فون پر موجود شخص رو رہا تھا کہ اس کا سب کچھ لٹ چکا ہے۔ہر چیز تباہ ہو چکی اور وہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے اب اس کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں۔ونسنٹ نے اس شخص کو اپنے دفتر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ اگلے روز وہ ونسنٹ پیلے کے آفس میں موجود تھا، ملاقات کی ابتدا اس نے آہ و بکا سے کی۔وینسنٹ نے مسکرا کر اسے تسلی دی اور سکون سے بیٹھنے کو کہا جب وہ قدرے اطمینان سے بیٹھ گیا تومینجمنٹ کے اس معروف ماہر نے کہا کہ آئو مل کر تمہارے حالات کا مفصل جائزہ لیتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ تمہارے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟ونسنٹ نے ایک کاغذ لے کر اس کے درمیان میں ایک عمودی لکیر کھینچی اور کاغذ اس شخص کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ’’میں تم سے بہت سی باتیں پوچھوں گا۔ جو باتیں تمہاری زندگی میں مثبت ہیں انہیں کاغذ پر دائیں کالم میں لکھنا اور جو منفی ہیں انہیں بائیں طرف‘‘وہ شخص پریشان ہو کر ایک دم بولا’’لیکن میری زندگی میں تو کچھ بھی مثبت نہیں ہے‘‘ آپ کو لکیر لگانے کی کیا ضرورت ہے ؟میں ابھی سارا صفحہ منفی باتوں سے بھر دیتا ہوں۔ونسنٹ نے ایک بار پھر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’تم صرف ان باتوں کا جواب دینا جو میں پوچھوں‘‘وینسنٹ نے پہلا سوال کیا’’آپ کی بیوی آپ کو چھوڑ کر کب گئی؟وہ شخص یکدم تلملا کر بولا،یہ آپ سے کس نے کہا؟میری بیوی مجھے کیوں چھوڑ کر جائے گی۔وہ بہت اچھی ہے،میرے ساتھ ہے اور مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔‘‘’’بہت خوب!یہ تو بہت اچھی بات ہے، اسے دائیں طرف لکھ لو۔‘‘اس شخص نے یہ بات دائیں کالم میں لکھ لی تو وینسنٹ نے اگلا سوال کیا’’آپ کے بیٹوں کو جیل کب ہوئی؟یہ سن کر اس شخص کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا’’انہیں جیل کیوں ہو گی؟ میرے بیٹے انتہائی مہذب شہری ہیں ،قانون کا احترام کرتے ہیں والدین کے فرمانبردار ہیں، اچھی ملازمت ہے ان کی، آسودہ حال ہیں اور میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔‘‘ ’’یہ تو اور بھی اچھا ہے۔ یہ سب باتیں دائیں طرف لکھ لو۔‘‘ونسنٹ نے مسکرا کر کہا۔اس کے بعد ونسنٹ نے مزید کچھ چبھتے ہوئے سوال کیے اور ان کا مثبت جواب دائیں کالم میں لکھواتا رہا۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔اس طرح کئی صفحات بھر گئے ،لیکن ان سب کا بایاں کالم بالکل خالی رہا۔ اتنے سوالوں کے بعد اس شخص کو سمجھ آ چکی تھی کہ قصور حالات کا نہیں، اس کی منفی سوچ کا ہے۔اس سے پہلے کہ وینسنٹ کچھ کہتا،وہ شخص خود ہی مسکرا کر کہنے لگا’’آپ صحیح کہتے ہیں سوچ کا انداز اگر مثبت ہو تو ہر چیز بدلی بدلی اور بہتر نظر آتی ہے۔‘‘ مثبت طرز فکر ہے کیا…؟ اوپر دیا گیا واقعہ اپنے اندر بڑی حکمت رکھتا ہے ،مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ مثبت طرز فکر کس چڑیا کا نام ہے؟ ماہرین کے مطابق زندگی کے ناخوشگوارحالات و واقعات میں ہر صورت حالات سدھرنے اور بہتری کی توقع و امید رکھنا مثبت طرز فکر ہے۔ کامیابی اور خوشی مثبت سوچ کی سہیلیاں ہیں۔ مثبت طرز عمل کا آغاز خود کلامی سے ہوتا ہے۔انسان اپنے آپ سے خاموش گفتگو کرتا ہے، جو لامتناہی سوچوں پر مبنی ہوتی ہے۔سوچوں کی لہریں ہمارے دماغ میں سفر کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ سوچیں منفی بھی ہو سکتی ہیں اور مثبت بھی، دلیل و منطق پر مبنی بھی ہو سکتی ہیں،غلط فہمیوں اور غلط تصورات پر مشتمل بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے گمان و امید پر بھی۔ محققین نے مثبت سوچ کے نتائج پر تحقیق کی اور نتیجہ یہ نکالا کہ مثبت سوچ کے حامل افراد کی عمر طویل ہوتی ہے ۔وہ ڈپریشن میں بہت کم مبتلا ہوتے ہیں۔باد مخالف کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ان کی جسمانی و نفسیاتی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔یونیورسٹی آف کینٹکی امریکہ کے ماہرین نے اپنی ریسرچ کے بعد یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان جس طرح اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں سوچتا ہے،اس کے سوچنے کا وہ انداز اس کے جسم کی قوت مدافعت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں مثبت انداز میں سوچتا ہے تو یہ مثبت سوچ اس کے جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ اور صحت میں بہتری کا باعث بنتی ہے۔تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ مستقبل کے بارے میں اچھے اور مثبت انداز میں سوچنا حالیہ زندگی پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ زمانہ حال کی مصیبتوں کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے سے انسان فالج، ہارٹ فیلیئراور دماغی سکتے وغیرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ سامنے آنے والی مشکلات اور مستقبل کے بارے میں مثبت اور اچھے انداز میں سوچنے کا اثر دماغ کے سامنے والے درمیانی حصے پرہوتا ہے جو کہ آنکھ کے پیچھے گہرائی میں واقع ہوتا ہے یہ حصہ متحرک ہو جاتا ہے۔متحرک ہونے سے جسم کے مدافعتی نظام میں قوت پیدا ہوتی ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔یوں انسانی پریشانیوں اور مشکلات میں فرار اختیار کرنے کے لیے سگریٹ نوشی یا دیگر قسم کی مخرب اخلاق سرگرمیوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مثبت رویے کی تعمیر کیسے کی جائے ۔ماہرین نفسیات اس کے لیے بہت سے طریقے بتاتے ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ 1۔دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں ہر انسان ایک مختلف گھریلو ماحول،معاشی و معاشرتی حالات،والدین ،تعلیم،بہن بھائی اور دوست رکھتا ہے عمر،مواقع،قابلیت مزاج اور ذہنی صلاحیتیں بھی سب کی یکساں نہیں ہوتیں تو پھر موازنہ کرنا کہاں کی دانشمندی ؟یاد رکھیے موازنہ ہمیشہ صرف یکساں خصوصیات و حالات کی حامل اشیاء یا افراد میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر زندگی میں کبھی آپ کو خود میں خامیاں ہی خامیاں اور دوسروں میں خوبیاں خوبیاں نظر آنے لگیں تو خود کو خودترسی کے اندھیروں کے حوالے کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجیے گا کہ کیا آپ کے حالات اور صلاحیتیں سو فیصد اس شخص کی مانند ہیں جس کے ساتھ آپ اپنا موازنہ کر رہے ہیں۔اگر جواب نفی میں آئے تو بغیر کسی مقابلے کے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیے۔صرف اور صرف اپنی منزل پر نظر رکھیے تاکہ آپ کی راہ کھوٹی نہ ہو۔ 2۔ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے جب بھی ناکامیاں آپ کے حوصلوں کو پسپا کرنے لگیں خود کو سنبھالیں۔اپنے کندھے پر ایک تھپکی دیں اورچپکے سے خود سے کہیں ’’تھوڑی سی کوشش اور…۔ کامیابی انہیں کے قدم چومتی ہے جو راہ کی صعوبتوں سے تھک کر بیٹھ نہیں جاتے۔حوصلہ شکنی سے سفر ادھورا نہیں چھوڑ دیتے بلکہ طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش اور ’’تھوڑی سی اور کوشش‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔‘‘ 3۔اللہ پر بھروسہ جب بھی لفظ، لہجے،حالات مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے لگیں۔ خوا بوں کی مٹھی سے تعبیریں ریت کی طرح پھسل جائیں، زندگی کے صحرا میں کامیابی کسی انجان مسافر کی طرح بچھڑ جائے اور ناامیدی کی ریت اڑ اڑ کر باقی ماندہ خوش کن آرزوئوں کا طواف کرنے لگے اور اللہ پر بھروسے کی کشتی ڈگمگانے لگے تو ایسے میں ایک چھوٹی سی مشق صحرا کو نخلستان میں تبدیل کر دے گی ۔ڈگمگاتی کشتی سنبھل جائے گی۔ معروف صوفی سکالر سید سرفراز اے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ زندگی میں جب بھی مایوس ہونے لگیں تو سوچیں کہ ماضی میں کتنی بار ایسا ہوا کہ لگا’’یہ کام نہیں ہو پائے گا‘‘ لیکن اللہ نے غیب سے مد د کی اور وہ کام ہو گیا۔ کتنی بار اللہ نے کٹھن حالات سے نکال لیا۔کتنی بار ناموافق حالات موافق ہو گئے اور جن خواہشات کے پورا نہ ہونے پر آپ بے چین رہتے تھے ۔آنے والے وقت نے بتایا کہ ان کا نہ پورا ہونا ہی بہتر تھا تب آپ نے دل کی گہرائیوں سے اللہ کا شکر ادا کیا۔جب آپ ان سارے واقعات کو یاد کریں گے تو آپ کا اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جائے گا۔4۔اللہ والوں سے قریب ہوجائیں ایسے لوگوں سے قریب ہو جائیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا اور نیکی کا جذبہ دل میں فزوں تر ہوتا ہے ۔ منفی سوچ مثبت میں بدلنے لگتی ہے ۔سیانے کہتے ہیں کہ اگر شبہ بھی ہو جائے کہ فلاں شخص اللہ کا مقرب ہے تو اس کے قریب ہو جائو کیونکہ ہم نشینی کا اثر بہرحال ہوتا ہے۔ 5۔حلقہ احباب وسیع کیجیے محبت دوسروں کی خوبیوں کو بے نقاب کرنے کا نام ہے۔خوشبو صفت، مخلص اور اچھے دوست یہی کرتے ہیں،مخلص دوست سرمحفل ہماری خوبیوں کو اجاگر کر کے ہمارے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق پراعتماد لوگ کامیابی کی شاہراہ پر بہت تیزی سے سفرکرتے ہیں۔اچھے دوستوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تعلقات کا وسیع کینوس بعض اوقات کائنات کے حسن کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔انسانی نفسیات کا ادراک ہوتا ہے۔رویوں کوسمجھنے اور مختلف مزاج کے لوگوں سے برتائو کرنا اور انہیں ہینڈل کرنا سکھاتا ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جس قدر زیادہ لوگوں سے میل جول ہو گا۔علم،تجربہ اور مشاہدہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا جو حتمی طور پر انسان کو بتائے گا کہ مثبت سوچ رکھنے والے خوشبو صفت لوگ ہی ہر دلعزیز ٹھہرتے ہیں ۔ 6۔اپنانے یا مسترد کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کریں جلد بازی میں بہت بار ہم سنہری مواقع ضائع کر دیتے ہیں اورغلط چیزوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو ہم رد کر رہے ہیںوہ مستقبل میں ہمارے لیے بہت سود مند ثابت ہو اور جس کو وقتی طور پر مفید سمجھ رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں ضرررساں اورزندگی کو اجیرن کر دینے والی ہو۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 216میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم یاد رکھیں ۔ ’’اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے کسی بھی شے یا شخص کواپنانے یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ ، سہ بارہ سوچ لیں۔ 7۔شخصیت کو نکھاریں ظاہری شخصیت ہمارے اپنے ہی نہیں،دوسروں کے ہمارے متعلق امپریشن اور رویے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے۔اگر آپ خوش لباس ہیں، آپ کا ہیئر سٹائل خوبصورت ہے ،جوتے لباس کے مطابق اور صاف ستھرے ہیں تو آپ کی ظاہری شخصیت کی خوبصورتی آپ کے اندر کے حسن اور اعتماد میں اضافہ کا سبب بنے گی۔سادہ اور باوقار شخصیت کا تاثر بہت دیرپا ہوتا ہے۔آپ اپنی اندرونی شخصیت کو ظاہری شخصیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت سوچ اور طرز عمل اپنا سکتے ہیں کیونکہ اندر کا عکس ظاہر سے ضرور عیاں ہوتا ہے۔ 8۔گفتگو کریں بجا کہ کبھی کبھی کہنے کو صرف اور صرف ہمارے پاس خاموشی ہوتی ہے لیکن شکیب جلالی نے کہا تھا ؎ گفتگو کیجیے کہ یہ فطرت انسان ہے شکیب جالے لگ جاتے ہیں جب بند مکاں ہوتا ہے اگر کوئی شخص آ پ کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے کہ منفی سوچوں کی مکڑی آپ کے اردگرد جالا بننے لگتی ہے تو آپ اس جالے میں مقید رہنے کی بجائے اسے مثبت سوچوں کی طاقت سے توڑ ڈالیے۔ بہت جرات ،اعتماد، نرمی اور ملائمت سے ناقد سے اس بارے گفتگو کریں اور اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں ۔اگر وہ آپ کی بات سمجھ جائے تو ٹھیک ورنہ اپنے آپ کو سمجھائیے کہ ہر انسان کا زاویہ نگاہ اس کے ظرف کے مطابق ہوتاہے اور ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہو۔بلا وجہ خود کو منفی سوچوں کے حوالے کبھی مت کریں۔ 9۔دوسروں کی سوچوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں کبھی کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو تضحیک کا نشانہ بنائے۔کبھی منفی ردعمل کی وجہ سے اپنا موڈ خراب نہ کریں۔دوسروں کی منفی آراء کو سر پر سوار کر کے کبھی اپنا مثبت طرز زندگی ترک نہ کریں۔ 10۔خود کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ ایسی مصروفیات اپنائیں جو آپ کو سچی خوشی دے سکیں۔ اصل خوشی وہی ہوتی ہے جو دوسرون کے لیے بھی کسی نہ کسی طور نقصان نہیں، فائدے کا باعث ہو۔ 11۔مسکرانا سیکھیں ایک تھکن سے بھر پور دن میں جب آپ کے اعصاب تنے ہوئے ہوں۔خوفناک سنجیدگی چہرے سے ٹپک رہی ہو، ایسے میں اچانک ایک خوبصورت مسکراہٹ جھلستی دوپہر میں رم جھم کا سا سکون دیتی ہے۔جو لوگ مسکرانا جانتے ہیں، وہ منفی سوچوں کو بھگانا بھی بہت خوب جانتے ہیں۔ 12۔مثبت سوچوں کی لائبریری بنائیں روزانہ 10سے 15منٹ ایسی باتیں سننے،پڑھنے،دیکھنے میں گزاریں جو رویے کو مثبت رکھنے کی تحریک پیدا کرتی ہیں۔فائز سیال،رابرٹ ایچ شلر،ڈیل کارنیگی ،سٹیفن کووے یا کسی بھی ایسے مصنف یا ٹرینرکی کتاب پڑھیں جو آپ کی سوچ کی سمت کو مثبت رکھنے اور مایوسی سے بچنے میں آپ کی مدد کرے۔کوئی ٹی وی پروگرام یا فلم دیکھیں، ریڈیو پر ان لوگوں کو سنیں جو مثبت گفتگو کرتے ہوں ۔جب آپ اپنے ذہن میں اچھی اور روشن سوچوں کی لائبریری قائم کر لیں گے تو آپ کی شخصیت سے جھانکتی یہ روشنی اسی قدر دلفریب اورسحر انگیز لگے گی،جیسے رات کے وقت لاہور کی مال روڈ پرواقع جنرل پوسٹ آفس یا پھر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی عمارت سے جابجا جھانکتی خفیہ بلبوں کی روشنی ۔ 13اشتعال انگیزی پھیلانے والوں سے اجتناب کریں لوگ ہوں یا میڈیا ۔ایسے تمام محرکات سے دور ہو جائیں جو اشتعال کو ہوا دیتے اور منفی باتوں کے بیج بوتے ہیں۔ 14۔شاکی لوگوں کو نظر انداز کریں کچھ لوگ آپ کی کامرانیوں اور شاد مانیوں پر آ پ کو مبارکباد تو دیتے ہیں،لیکن ان کا لہجہ کھوکھلا ہوتا ہے۔ وہ اندر سے آپ کی کامیابی کو قبول نہیں کر پا رہے ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنا بہت زیادہ بھی بہت کم اور دوسروں کا بہت تھوڑا بھی زیادہ لگتا ہے۔ وہ ہر وقت حالات اور قسمت سے شکوہ کناں رہتے ہیں اور یوں اپنا وقت،توانائیاں اور صلاحیتیں ضائع کرتے کرتے محرومیوں اور ناکامیوں کا تعویز گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں۔یہ تعویز انہیں دوسروں کی سبقت کو قبول کرنے سے روکتا ہے۔ایسے لوگوں سے فاصلہ رکھیں کیونکہ صحبت بہرحال اپنا رنگ تو دکھاتی ہے۔ 15۔مثبت زخیرہ الفاظ کا استعمال زرا سا بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لو تم بھی ادھر تم لب ہلاتے ہو،ادھر دل ٹوٹ جاتا ہے جی ہاں۔گفتگو کا سلیقہ تو اہم ہے ہی لیکن لفظوں کا چنائو اس سے بھی زیادہ اہم۔منفی الفاظ صورتحال کو سنگین اور حالات کو کشیدہ کر دیتے ہیں جبکہ خوبصورت الفاظ اور مثبت لہجہ کہتا ہے پریشان ہونے کی بات نہیں۔نئے دروازے آپ کے لیے کھل چکے ہیں جہاں آپ اپنی صلاحیتیں زیادہ بہتر انداز میں منوا سکتے ہیں۔ منفی طرز گفتگو مایوسی پھیلاتے ہوئے کہتا ہے،’’تم میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ تم زندگی میں کچھ کر سکو۔تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔تمہارے لیے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ڈکشنری سے ناممکن ’’نہیں کر سکتا‘‘’’کوئی فائدہ نہیں‘‘،جیسے الفاظ نکال دیں اور ’’ممکن‘‘ کیا جا سکتا ہے ضرور فائدہ ہو گا،جیسے الفاظ کو Boldکر لیجیے۔ منفی الفاظ آپ خود استعمال کریں یا کوئی اور آپ کے لیے استعمال کرے،یہ منفی رجحانات کو جنم دیتے ہیں۔آگے بڑھنے کی راہیں مسدود کرتے ہیں ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ کسی بات پر شدید برہم ہوں تب بھی نرم الفاظ اختیار کرتے ہوئے کہیں ’’میں کچھ ناراض ہوں‘‘ 16اپنے احساسات کو قابو میں رکھیں بعض اوقات اپنی مرضی کے برعکس ردعمل دیکھ کر ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ہمارا منفی اظہار خیال جہاں دوسروںکو رنجیدہ کرتا ہے، وہاں خود ہمیں بھی جھنجھلاہٹ کا شکار کرتا ہے۔اس لیے ہمیشہ اپنے احساسات کے اظہار کو قابو میں رکھیں۔ 17۔اپنی ڈائری آفس ٹیبل یا وائٹ بورڈ پر یہ چند اصول تحریر کر لیں ٭منفی سوچیں جب بھی ذہن پر دستک دیں گی ہم دروازہ نہیں کھولیں گے۔ ٭ہمیشہ ہر شے اور معاملہ کا روشن پہلو دیکھنا ہے کیونکہ سورج کی طرف منہ کرنے سے اندھے سائے پشت پر چلے جاتے ہیں۔ ٭رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہے کہ رحمت کے امیدواروں پر رحمت ضرور ہوتی ہے ٭ایسے مواقع کی تلاش میں رہنا ہے کہ مسکراہٹ چہرے کا لازمی جز بن جائے۔ ٭حتی المقدور کوشش کر کے یقین رکھنا ہے کہ اللہ ضرور میری مدد فرما کر مجھے بہترین سے نوازے گا۔ ٭مثبت طرز فکر و زندگی کے حامل افراد کی صحبت میں روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزارنا ہے ۔ ٭مثبت مواد کی لائبریری کے حجم میں اضافہ کرنا ہے ۔ ٭صرف ان لوگوں اور چیزوں کے بارے میں سوچنا ہے جو مسرت کا احساس دلاتی ہیں، ناکامی اور خوف کو لفٹ نہیں کرانی۔ ٭مایوس،پست ہمت اور کمزور لوگوں کو سنبھالا دینا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ہاں!تم یہ کر سکتے ہو‘‘ ایک بہت بڑے ادارے کے ہردل عزیز اور کامیاب منیجر کی کامیابی کا راز کھوجنے کی کوشش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا مثبت رویہ دراصل اسے ایسی توانائی فراہم کرتا ہے کہ مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اسے نئے نئے راستے سجھائی دینے لگتے ہیں۔اس منیجر کے مثبت رویے کا آغاز نوحرفی لفظ سے ہوتا تھا۔دفتر میں جب بھی کوئی اس سے پوچھتا ’’آپ کیسے ہیں۔؟‘‘وہ مکمل توانائی اور بھر پور گرمجوشی سے جواب دیتا۔ کیا آپ مثبت سوچ کے حامل ہیں۔؟یہ اس سوالنامے کے ذریعے پرکھا جا سکتا ہے۔ 1۔کیا آپ مشکل حالات میں مسکراتے ہیں؟ 2۔کیا آپ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، دوسروںکے گڑھے مردے نہیں اکھاڑتے؟ 3۔غیر متوقع صورتحال سے گھبرانے کی بجائے یکدم اسے چیلنج سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہونے اور سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟ 4۔دوسروںکو کسی نہ کسی مثبت لفظ اور جملے کے ذریعے آگے بڑھنے کی تحریک دیتے رہتے ہیں؟ 5۔کیا انجان لوگوں کے ساتھ آپ کا مزاج دوستانہ ہوتا ہے؟ 6۔آپ گرتے ہی دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟ 7۔آپ کی ذات آپ کے گرد و پیش میں رہنے والوں کے لیے مینارہ روشنی ہے؟ 8۔مشکل صورتحال میں بجائے گرجنے برسنے اور دوسرون کو مورد الزام ٹھہرانے کے ،آپ تحمل،خاموشی اور مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ 9۔آپ رشتوں اور تعلقات کو مادی چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں؟ 10۔ضروریات پوری نہ ہونے کے باوجود آپ خود کو خوش رکھنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں؟ 11۔شکست کھا کر بھی ناامید نہیں ہوتے؟ 12۔دوسرون کی جیت پر خوش ہوتے ہیں؟ 13۔موجودہ حالات مخدوش ہونے کے باوجود آپ ایک روشن اور بہتر مستقبل کے لیے پرامید و پر یقین رہتے ہیں؟ 14۔اجنبی لوگوں کو بھی ان کے اچھے اخلاق و اطوار پر سراہتے ہیں؟ 15۔آپ کو دوسروں کو یہ بتا کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے؟ 16۔آپ کی صحبت میں لوگ خوشی،سکون،اور توانائی محسوس کرتے ہیں۔؟ 17کہیں ناانصافی ہوتی دیکھیں تو محض شکوہ کرنے کی بجائے ناانصافی کے خاتمے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 18۔ناقدین کی وجہ سے اپنا مورال پست نہیں ہونے دیتے؟ 19۔بدلے کی توقع کے بغیر دوسروںکو فائدہ پہنچا کر خوش ہوتے ہیں؟ 20۔ہر وقت لڑائی جھگڑے کا سبب بننے والی منفی باتوں کو دہرانے کی بجائے انہیں ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ 21دوسروںکی خامیوں کی بجائے خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں؟ 22۔حتی المقدور دوسروںکا ذکر اچھے الفاظ میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؟ 23۔مثبت واقعات،اقوال،سوچیں دوسروںکے ساتھکرتے ہیں؟ 24کیا آپ دوسروںکو مصیبت یا پریشانی میں دیکھ کر چپکے چپکے ان کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں؟ 25۔اپنے ساتھ سچ بولتے ہیں؟ جتنے سوالوں کا جواب ہاں ’’میں ہے، اتنے ہی آپ مثبت ہیں۔ زندگی خوش ذائقہ اور گلے سڑے … دونوں طرح کے پھلوں سے بھری ایک ٹوکری ہے۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ گلے سڑے پھلوں کا انتخاب کر کے صحت خراب کرتے ہیں یا خوش ذائقہ تازہ پھلوں سے لطف اور توانائی کشید کرتے ہیں۔ یاد رکھیے ،مثبت رویہ،ضروری نہیں،آپ کے تمام مسائل حل کر دیے لیکن اگر آپ مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ مثبت سوچ رویہ اور مثبت طرز عمل ہی ہے۔
  2. kia americ , england , israel aur degar europion countries mein polio vaccination ni hoti ? ? ?
  3. 1 like
    Aik baar phir apny andar Major ky lye nafrat or apny shouhar Ashraf ky lye muhabat paida kr ky Saba ny khud ko sanmbhala or sitting room main bikhry huy apny kapray uthaany lagi........... jaldi sy apni shalwaar, bra or kameez pahni or apny baal theek krny lagi...... hulya drust krny lagi........... aainy main khud ko dekha to khud sy boli.......... saaf lag rha jaisy tu buri trah sy chud gai ho aaj bhi............ halaky aaj to us ny mujhy choda bhi nahi hai............ kameena adhoora hi chor gya hai.......... janwar hai poora kisi ky jazbaat ka koi ahsaas hi nahi hai us kameeny ko.......bara gharoor hai na jaisy apny lund pr...... Saba gussy or hasrat ky mily july jazbaat ky saath phir sy Major ko yaad krny lagi thi.......... bina kisi iraady ky............. hulyaa theek kr ky bahir aai....... fridge sy paani nikaal kr peea or phir sitting room ka hulya theek krny lagi.......... sub cheezain apni apni jaga pr rakhny or samaitny lagi........... yeh ky?????????????? yeh underwear kis ka hai.........??????? Ashraf ka to hai nahi.......... ohhhhhhhh yeh to usi kutty ka hai.................... kameena waisy hi pant pahan gya hai............ Saba ny Major ky utaary huy underwear ko utha lya........ usy dekhny lagi....... kitna ganda ho raha hai........... pata nahi dhota kyun nahi hai............. andar ko dekha to us pr peely peely nishaan bhi nazar aarahy thy........... shayad Major ky paseeny ky........ or shayad usky peeshaab ky .............. kitni smell aa rahi hai.......... Saba ny thora sa ooper laa kr Major ky gandy underwear ko soongha............ kitni gandi smell hai....... badboo hai....... jaisy mail or peeshab or pata nahi kya kya laga ho us pr............. dustbin main phaink daiti hoon isy........... us kameeny ky gandy underwear ko............. Saba dustbin ki traf barhi.................... phainkny hi lagi thi ky khayal aaya........... agar us kameeny ny wapis maang lya to.............?????????? to kaha sy doon gi.......... us zaleel aadmi sy khuch bhi umeed ki jaa sakti hai............. phir kya kroon............... haan uski balcony main phaink daiti hoon.................... yeh theek hai.......... bahir balcony main gai........ hawa chal rahi thi........... nahi agar phainkty hoy hawa sy neechy chala gya to???????????? to phir sy wohi musebat ho jaay gi........... phir mery sir ho jaay ga wo apni gandi harkatain ly kar............. wo wapis aagai.......... kya kroon ab iska............. bedroom main aai haath main wohi ganda underwear pakry hoy............. usky flat pr jaa ky dy aati lakin ab to Ashraf kisi waqt bhi aasakta hai........ kaha chupaaoun isy jaha Ashraf ki nazar na pary is pr........... achanak usy aik khayal aaya.............. haaan yeh jaga theek hai........... woh jaldi sy apni kaproon ki almaari ki traf barhi ............ aik draw khola........... is main sirf or sirf Saba ky undergarments thy....... uski bra...... panties ....... or......... usky "Whisper" ............. haan usky Whisper pads ka poora packet........ usky periods ky lye............ Saba ny us khuly huy whisper pads ky packet ko khola or Major ka underwear ........... ganda underwear.............. mail, gandgai, peeshaab or shayad mani ki sy kharab ho raha hua Major ka underwear........... apny unused menses pads ky packet main thoons dya.............. sukoon ka saans laiti hoi sochny lagi.......... haan yahi safe jaga hai.......... ku ky usy pata tha ky Ashraf kabhi bhi usky undergarments waly draw ko nhi kholta or usky Whisper pads ko dekhna or choona to buhat door ki baat thi............. Bahir sitting room main aai to dekha ky kaafi waqat ho chuka hai or Ashraf abhi tak nahi aaya.....usy fikar hony lagi........ Saba ny apna phone uthaya or Ashraf ka number milaya........ Saba: hello.......... kaha rah gy ho....... abhi tak wapis kyun nahi aaye..... kya kaam buhat ziada hai......... Ashraf: nahi bus pohnch hi raha hoon 5 min main...... Ashraf ny jawab dya....... thori dair main bell hoi........... jaldi sy Saba darwazy ki traf doudi............. gate khola to Ashraf hi tha...........sir jhukaay huy andar aagya.......... uska chehra abhi bhi pareshaan lag raha tha..... gussa or sharam ki kaifyat usky chehry pr saaf nazar aa rahi thi........isi pareshaani or sharmindgi ki wajah sy to woh jaldi jaldi ghar sy nikal gya tha........himmat nahi kr paa raha tha Saba ky saamny betha rahny ki........ halaky uska bilkul bhi dil nahi kr raha tha duty pr jaany ko....... lakin ghar beth kr wo khud ko or bhi sharmsaar hi mahsoos krta.......usy mahsoos ho raha tha ky jaisy aik mukka maar kr Major ny usy Saba... apni hi biwi ki nazroon main giraa dya ho....... usy usky saamny haqeer sabit kr dya ho....... apni duty pr bhi woh pareshaan hi raha tha........ jo khuch bhi Major ny aaj usky saath kya tha woh extreme thi........ usy uski biwi ky saamny hi mukka maar dya tha........... usy be bus kr dya tha........... Ashraf ko is baat pr gussa aaraha tha or sharmindgi is baat ki thi ky woh usko jawab nhi dy paya tha.........apni biwi ky saamny woh Major ka khuch na bigaad saka tha....... uski apni jismaani taqat itni nahi thi Major ky muqably main ky woh uska badla ly sakta............ Major ny uski biwi ki tazleel ki thi beizzati ki thi......... lakin woh uska khuch na kr saka......... yeh baat usko pareshaan kr rahi thi....... kya main apni biwi ki hifazat bhi nahi kr sakta............ us kameeny ny itni beizzati ki meri biwi ki or main us sy mukka khaa kr gir para............ lanat hai mujh par............. apni isi sharmindgi ki wajah sy hi wo kaafi dair tak ghar nahi aaya tha........haalaky apny kaam sy to woh aik aik ghanty main hi farigh ho gya tha lakin ghar aany ki bajaay aik park main tahlta raha tha........sochta raha tha....... apny andar hosla paida krny ki koshish krta raha tha ky kaisy saamna kry woh Saba ka.......... park main kaafi waqat zaia kya tha us ny halaaky agar woh pahly hi ghar aajata to usy ghar pr aik or hi manzar nazar aata.......... jis main aik baar phir sy uski biwi ki tazleel ho rahi hoti........ or uski bhi........ or us manzar ko dekh kr woh to doob hi marta or yaa phir kisi na kisi ko maar hi daita..........lakin shukar hai ky woh nahi ghar aaya seedha....... apni biwi ka saamna krny ki himmat nahi ho rahi thi........... kya sochti ho gi woh ky main uski hifazat bhi nahi kr sakta........ kya sochti ho gi ky main kitna kamzoor hoon or be bus hoon us zaleel shakhs ky saamny........ kya mujhy yeh flat chor daina chahye.......... kya kroon aakhir main........ yahi waqat tha jub Saba ki call aai thi or usy wapis apny ghar jaana para tha....... ghar pohnch kr bhi us ny haqarat sy or shayad bebasi sy Major ky flat ky darwazy ki traf dekha............. mera bus chaly to aag laga doon isky flat ko zinda hi jal mary ga kameena............. Ghar ky andar aaty hi aik achi biwi ki trah Saba ny pahli hi nazar main jaan lya ky abhi bhi Ashraf ka mood theek nahi hai or woh behad sharminda lag raha hai..........lakin Saba usy mazeed sharminda nahi krna chahti thi....... usy pata tha ky is main Ashraf ka koi dosh nahi hai........ Major jaisy gundy or badmaash ky saath us jaisa shareef aadmi kaisy ulajh sakta hai............phir Major hatta katta or body builder aadmi tha...... or Ashraf nazuk sy jisam wala........... aik aam sharif aadmi jo ky sirf apny ghar main apni biwi pr hi apna hukam chalata hai or ghussa dikhaata hai........... lakin bahir jiski koi khaas haisyat nahi hoti........... bahir kisi sy larny ki himmat nahi hoti.........Saba Ashraf sy buhat ziada expect bhi nahi kr rahi thi........... Saba ny thori si kaam ky bary main batain kin or phir khaana lagany ka poocha............ lakin Ashraf ny mana kr dya ky mujhy bhook nahi hai....... Saba: kya baat hai Ashraf ....... lagta hai ky tum abhi tak usi baat ko ly kr bethy ho............. choro ab us badmaash ky bary main sochna.. Ashraf chup raha....... sir jhukaa ky betha raha..... sharminda sa... be bus sa.... Saba: dekho Ashraf is baat ko dil pr lainy ki zaroorat nahi hai..... wo aik kameena or ghatyaa aadmi hai hum us sy panga nahi ly sakty..... woh jo bhi baat krta hai or jo khuch bhi us ny kya woh apni gandi zehnyaat or ghatya pan ko show krny ky lye kya.......... tum kyun pareshaan hoty ho....... Ashraf: lakin ............ us ny tumko bhi gandi gandi gaalyan din.......... lakin ..... main khuch nhi kr saka...... Saba Ashraf ko apni bahon main bharty hoy boli......ary yaar kah dya to kya hua..... mera kya bigad gya hai........... relax kro yaar dont feel worried Ashraf: mera khayal hai ky hamain yeh flat chor ky kahin or chaly jana chahye... Saba: haan tum theek kah rahy ho ....... tum dekh choro koi or jaga phir hum waha shift ho jain gy........... chalo utho haath dho ky aao or khaana khaaty hain..... or is maamly ko main khud hi handle kr loon gi........ Mansoor uncle ki wife sy kahoon gi ky woh baat krain Mansoor sahb sy or Major ko khuch samjhain..... Saba ny baat ko khatam krny ky lye kaha haalaky yeh usy hi pata tha ky woh maamla khatam kr chuki hai or kaisy.......... or is maamly ko khatam krny ki kyaa qeemat usy ada krni pari hai.......... or abhi aagy kya qeemat chukaani pary gi.......... Ashraf ko khuch hosla hua woh utha or phir dono ny aik saath khaana khaya......... khaana khaaty hoy bhi soch rahi thi...... ab isy kaisy bataoun ky kaisy maamla khatam hua hai............ kya khuch bhugatna para hai usy is maamly ko khatam krny ky lye........... or jaaty huy kitna bura kr ky gya hai wo kameena usky saath........ kaisy bataati ky wo uski chooot ki pyaas barhaa kr usy pyaas chor ky daffa hua hai........ or raat ko dobara aany ka kah gya hai............. or yeh sub sirf isi ki wajah sy hua hai.........

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.