Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

”عمران خان میرے چاروں طرف“ سے اقتباس“

Featured Replies

انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی کرکٹ میرے لیے نئے نئے انکشافات لے کر آئی۔ اس نے دنیاکے بارے میں اور میری اپنی قابلیت سے متعلق تمام تصورات کو بدل کررکھ دیا۔زندگی میں پہلی مرتبہ میں ایسے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا جو تمام کے تمام کسی اور ہی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں بہت سوں نے سڑکوں اور گلیوں میں کرکٹ کی ابتدا کی، کچھ نے کسی بھی ایسے میدان کے ٹکڑے پر ،جو چپٹا ہو اوروہاں کوئی کھیل کھیلا جاسکتا ہو۔ بہت سے لڑکے اقبال پارک کی پیداوار تھے جہاں بعض اوقات بیک وقت دس دس میچ کھیلے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں مجھے دوسرے لڑکوں کی جانب سے کچھ کچھ دشمنی کا سا احساس ہوا۔ ان میں سے بیشتر کا خیال یہ تھا کہ میں ٹیم میں شامل ہونے کا اہل نہیں بلکہ ا پنے تعلقات کی بنا پر وہاں تک پہنچا ہوں۔ کئی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے میں ٹیم کے بقیہ کھلاڑیوں کے مذاق اور طنز کا نشانہ بنا۔ ان میں سے ایک میرا پنجابی زبان میں کمزور ہونا بھی تھا۔ بعد میں سرفراز نواز کی شاگردی کی وجہ سے میں بہت اچھی پنجابی بولنے لگا۔ ہمارے علاقے میں زیادہ تر پنجابی بولی جاتی ہے مگر ہم گھر میں اردو بولتے تھے۔ بہرحال جب میں نے خود کو کرکٹر کی حیثیت سے منوا لیا اور مجھے خود اس بات کا بھی احساس ہوا کہ میرے ساتھیوں نے کوئی مقام پانے کے لیے کس قدر مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے تو مشترکہ ادب و احترام کی ایک فضا نے جنم لیا۔ میری آرام دہ اور آسان ترقی کے مقابلے میں بعض پاکستانی کھلاڑی ایسے ایسے مقامات پر گزرے ہیں جن کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کرکٹر بننا ہی ایک معجزہ تھا۔ مثال کے طور پر حالیہ پاکستانی ٹیم میں ہی عبدالقادر اور توصیف احمد جیسے کھلاڑی ہیں جو تاریکیوں سے روشنی میں آئے اور ان کی کہانیاں دیو مالائی معلوم ہوتی ہیں۔ مجھ پر یہ حقیقت بھی آشکارا ہوئی کہ میری اپنی بیٹنگ کے بارے میں رائے کچھ زیادہ ہی اونچی ہے۔ وسیم راجہ جو انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم کا کپتان تھا، ایک الگ ہی مقام رکھتا تھا اور پہلے ہی ایسی بیٹنگ کررہا تھا جو اس سے بڑی عمر کے کھلاڑی بھی نہیں کرپاتے۔ کئی دوسرے بھی مجھ سے میلوں آگے تھے جیسے کہ افضل مسعود یا شفقت اور شکور کا بھائی عظمت رانا۔ اگر افضل اسکول کے کھلاڑیوں میں سرفہرست تھا تو عظمت کو بیٹنگ میں حد درجہ کمال حاصل تھا۔ میں نے خود کو اس صورتحال میںخوش قسمت تصور کیا کہ لاہور میں اچھے فاسٹ باﺅلروں کا فقدان تھا اور میری اس پوشیدہ قابلیت نے مجھے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا اہل بنا دیا۔ ”عمران خان میرے چاروں طرف“ سے اقتباس“

Edited by suhail502
siz

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

bhut ache janab ya eik informative iqtabas share ki hai apne

  • 1 month later...
📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.