September 14, 201114 yr اوروں کو تو بہت کچھ سکھایا ہے خود کو نظروں ہی سے گرایا ہے چند خیالات کو شعروں میں ڈھال کر اشعار کو ہم نے غزل بنایا ہے آپ غلط سمجھے کہ ہم سمجھے ہیں چہرے کے تاثر سے دھوکہ کھایا ہے وہ اک شہر جو کبھی اپنا تھا آج وہ بھی ہو گیا پرایا ہے تیرے چہرے کی رونق کو پا کر خود کو ہم نے کہکشاں بنایا ہے تیز آندھیوں کے اس شہر میں آپ نے کاغذ کا گھر بنایا ہے میرے دل کی نزاکت جان کر بھی تو نے جلتی پہ تیل گرایا ہے کیوں اپنے دلِ بے قرار میں تیری حسیں یادوں کو چھپایا ہے ساحر سے دور بہت دور جا کر آپ نے اس کا دل دکھایا ہے
September 14, 201114 yr اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
Create an account or sign in to comment