September 14, 201114 yr Author عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا کبھی جاں صدقے ہوتی ، کبھی دل نثار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تم ہی منصفی سے کہہ دو،تمہیں اعتبار ہوتا؟ یہ مزا تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا نہ مزہ ہے دشمنی میں نہ لطف ہے دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پہ ستم گر ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیوں کر کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہا تھ لگتی ، نہ یہ اختیار ہوتا
September 14, 201114 yr جُدائی کے بندی خانے میں بس اب تو جینے کا ایک ہی سلسلہ ہے جاناں تمہاری سوچوں میں ڈوبے رہنا تمہارے خوابوں میں کھوئے رہنا کسی طرح تم کو دیکھنے کی سبیل کرنا تمہارے کوچے تک آنے کا کچھ بہانہ کرنا ہر آتے جاتے سے خیریت کی نوید لینا ہواؤں اورچاند اور پرندوں پہ رشک کرنا میرا جو احوال پُوچھنا ہے تویہ ہے جاناں کہ جانے کب سے جُدائی کے بندی خانے میں بند برف کی سِل پہ تنہا بیٹھی حرارتِ زندگی سے کچھ ربط ڈھونڈتی ہوں بدن کو اپنے تمہارے ہاتھوں سے چُھو رہی ہوں
September 14, 201114 yr اگروہ محبت کا اقرار کرتی اسے اِس ادا پر میں بانہوں میں بھر کر بہت پیار کرتا اسے دل سنگھاسن پہ اپنے بٹھاتا دمکتے یہ اشک اپنی پلکوں سے چُن کر میں مالا پروتا اسے نذر کرتا لباس اپنے خوش رنگ ارمانوں کے سب کے سب اس کو دیتا مہکتے ہوئے پھول جذبوں سے اپنے ہزاروں طرح کے میں گہنے بناتا دلہن کی طرح پھر میں اس کو سجاتا چبھوتا کوئی تیز تر درد ، دل میں لہو سے پھر اپنے میں مانگ اس کی بھرتا دل و جان اس پر نچھاور میں کرتا ثنا اس کی کرتا میں شعروں میں اپنے مٹا دیتا خود کو ، امر اس کو کرتا اگر وہ محبت کا اقرار کرتی
September 14, 201114 yr تو پھر کیا سوچا تم نے؟ یوں ہی خود کو روکے وقت کی سرحد پہ کھڑے رہنا ہے؟ تم نے سچ کہا وقت کے صحرا میں شام پڑ جائے تو سحر یوں روٹھ جاتی ہے جس طرح اپنے مصاحبوں کی ذرا سی لغزش پر کبھی شہنشاہ روٹھ جاتے تھے تم نے سچ کہا وقت کی مسافت ختم نہیں ہوتی یہ وہ صحرا ہے جس کی گرد اپنے دامن سے جھاڑتے عمر کم پڑنے لگتی ہے دامن سے لپٹے ہوئے سب خواب ریت بننے لگتے ہیں پائے امکاں جلنے لگتے ہیں مگر ایسے میں اے میرے ہم نفس قدم روک لینے سے فائدہ کیا ہے دوسرا اور کوئی راستہ کیا ہے زندہ رہنے کا خراج ہر کسی کو بھرنا ہے یہ فاصلہ اپنے اندر تو بہرحال طے کرنا ہے تو پھر اے ہمسفر ہوا کے دوش پہ رقّم نئی پرواز کرتے ہیں وقت کے صحرا میں سفر آغاز کرتے ہیں
September 14, 201114 yr فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں ، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جُهوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بِپتا ، جی سے جوڑ سنائی ہو فرض کرو ابهی اور ہو اتنی، آدهی ہم نے چهپائی ہو فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈهونڈے ہم نے بہانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مئے خانے ہوں فرض کرو یہ روگ ہو جُهوٹا، جُهوٹی پِیت ہماری ہو فرض کرو اس پِیت کے روگ میں سانس بهی ہم پر بهاری ہو فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈهونگ رچایا ہو فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو دیکھ میری جاں، کہہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے ہُو بستی بستی صحرا صحرا، لاکهوں کریں دوانے ہو جوگی بهی جو نگر نگر میں مارے مارے پهرتے ہیں کاسہ لئے بهبوت رمائے سب کے دوارے پهرتے ہیں شاعر بهی جو میٹهی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں ان میں سچے موتی بهی ہیں، ان میں کنکر پتهر بهی ان میں اتهلے پانی بهی ہیں، ان میں گہرے ساگر بهی گوری دیکھ کے آگے بڑهنا، سب کا جهوٹا سچا ، ہو ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گهڑا تها جس کا کچہ، ہو
September 14, 201114 yr بارِ محبت بانٹ لو گے نا؟ سنو جاناں یوں تم سے دُور اب مجھ سے اکیلے رات بھر جاگا نہیں جاتا یوں تنہا بوجھ چاہت کا تو اب اُٹھتا نہیں مجھ سے سنو کیا ایسا ہو نہیں سکتا؟ کہ آدھی رات کو کچھ پل سہی تم اگر جاگو یہ چاہت کا حسِیں اِک بوجھ آدھا ہی سہی تم بانٹ لو مجھ سے پھر آدھا درد تم لے لو پھر آدھے خواب تم دیکھو یہ دِل کی بے قراری مجھ سے آدھی بانٹ لو تم بھی تو اب تم ہی کہو جاناں؟ کہ اس بارِ محبت کو تم آدھا بانٹ لو گے نا؟
September 14, 201114 yr آج کی رات آج کی رات تو سونے کی نہیں ہے جاناں آج کی رات ہے تجدیدِ ملاقات کی رات العطش کہتے ہُوئے جسم کی پیہم آواز الاماں کہتی ہُوئی روح کی بے چین صدا تیز بارش کی دُعاؤں میں تجھے یاد کئے ایک مُدت سے لیے بوجھ دلِ خستہ پر تیری خواہش کا، تیرے قرب کی آسائش کا ساتھ دیکھے ہُوئے خوابوں کا نشہ آنکھوں میں ساتھ سوچی ہُوئی باتوں کی دھنک نظروں میں رات کے ہاتھ میں کیا ہاتھ دیا ہے دل نے پاؤں پڑتے ہی نہیں جیسے زمیں پر اس کے روشنی کیسی رگ و پے میں اُتر آئی ہے دُور تک صرف تیری شکل نظر آتی ہے میرے ہاتھوں میں تیرے چہرے کا بے داغ کنول تازہ بارش میں توکچھ اور کِھلا جاتا ہے میری آنکھیں تیرے ہونٹوں کی نمی سے سرشار ساری دُنیا سے چھپائے تیری بانہوں کا حصار ذہن میں گھومتا ہے پہلے پہل کا ملنا اورپھر رنگِ ملاقات کا گہرا ہونا اورپھر ملنے کی خواہش کا سمندر ہونا دھیرے دھیرے کسی تصویر کے ٹکڑے ملنا جس کی ترتیب نے دو روحوں کا سمبندھ کیا اور یہ سچ ہے کہ حیرت کدئہ ہستی میں ایک پہچان کا لمحہ بھی بہت ہوتا ہے ہم پہ اس لمحے کا کچھ قرض ہے باقی اب تک تن میں جذب کریں روح میں روح سموئیں کہ یہ ساعت ہے تشکر کے لئے ریگِ صحرا پہ اُتر آئی ہے برسات کی رات آج کی رات ہے تجدیدِ ملاقات کی رات
September 14, 201114 yr وہی حساب ِ تمنا ہے،اب بھی آجاو وہی ہے سر وہی سودا، اب بھی آجاو جسے گئے ہوئے خود سے اب ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے،اب بھی آجاو وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانش میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے، اب بھی آجاو وہی کشاکش ِ احساس ہے بہ ہر لمحہ وہی ہے دل، وہی دنیا ہے، اب بھی آجاو کسی سے کوئی شکوہ نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوہ ہے، اب بھی آجاو یہ میرے دل کی گزارش کہ مجھے مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آجاو
September 14, 201114 yr tum mere paas raho mere qaatil, mere dildaar, mere paas raho jis gha.Dii raat chale aasamaano.n kaa lahuu pii kar siyah raat chale marham-e-mushk liye nashtar-e-almaas chale bain karatii hu_ii, ha.Nsatii hu_ii, gaatii nikale dard kii kaasanii paazeb bajaatii nikale jis gha.Dii siino.n me.n Duubate huye dil aastiino.nme.n nihaa.N haatho.n kii rah takane nikale aas liye aur bachcho.n ke bilakhane kii tarah qul-qul-e-may bahr-e-naasudagii machale to manaaye na mane jab ko_ii baat banaaye na bane jab na ko_ii baat chale jis gha.Dii raat chale jis gha.Dii maatamii, sun-saan, siyah raat chale paas raho mere qaatil, mere dildaar, mere paas raho
September 14, 201114 yr ستم کرنے سے پہلے وہ کبھی تو مسکراتے ہیں کبھی حد سے زیادہ چاہتیں ہم سے جتاتے ہیں کبھی زمیں سے اٹھا کر آسمانوں پر بٹھاتے ہیں کبھی عرشوں سے فرشوں پہ ہم کو لا بٹھاتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ تم ہمارے دل میں رہتے ہو کبھی میری نگاہوں میں وہ مجھ کو گراتے ہیں مجھے غم کے اندھیروں میں اکثر چھوڑ جاتے ہیں وہی میرے دل میں امیدوں کی نئی شمع جلاتے ہیں میرے دل کی حالت سے کبھی انجان رہتے ہیں کبھی حد سے زیادہ مہرو الفت بھی جتاتے ہیں یہی ان کی عنایت ہے یہی ان کی محبت ہے ہم ان کی ہر عنایت کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ہمیں عظمٰی نہ جانے کیوں انہی پہ اعتبار ہے ہمیشہ جو ہماری چاہتوں کو آزماتے ہیں
Create an account or sign in to comment