June 6Jun 6 عشق سے عشق کی روداد نا پوچھے کوئیعشق کی عشق سے روداد نا پوچھے کوئیاشک آنکھوں میں اٹھا کر وہ گرا دیتا ہےجب بھی پوچھا ہے کہ انجام محبّت کیا ہےدل بناتا ہے وہ پھر دل کو مٹا دیتا ہےمحبّت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیںکہ جن کو دل میں رکھتے ہیںوہی دل توڑ جاتے ہیںتمہارا نام لے لے کرتڑپنا کیا... سلگنا کیامحبّت تم جو ہو جاؤتو ملنا کیا ... بچھڑنا کیایہ کیا ...کہ تم بناتی ہوبنا کر تم مٹاتی ہوجگر کا خون پیتی ہودلوں کا ماس کھاتی ہویہی ہیں چونچلے تیرےجو محفل چھوڑ جاتے ہیںکہ جن کو دل میں رکھتے ہیںوہی دل توڑ جاتے ہیںچلو ہم پاس رکھ لیں گےتیری باتیں... تیری یادیںمحبّت تیرے صدقے میںیہی ملتی ہیں سوغاتیںہنسیں گے دل سے مل کر ہمگلے دل کو لگائیں گےتجھے ہم یاد کر لیں گےتجھے ہم بھول جائیں گےچلو منزل سے پہلے ہمیہ رستہ موڑ جاتے ہیںکہ جن کو دل میں رکھتے ہیںوہی دل توڑ جاتے ہیں Edited June 6Jun 6 by Shazia Ali
Create an account or sign in to comment