January 12, 20251 yr غزل کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں اب فراز آؤ چلیں اپنے قبیلے کی طرف شاعری ترک کریں بوجھ اٹھانے لگ جائیں (احمد فراز)
Create an account or sign in to comment