December 30, 20223 yr نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقین کامل نہیں لیکن ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر، کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پہ بڑا اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شائد، میرا دل ہے نشانے پر لبوں سے کچھ نہیں کہتا، نظر سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں ،مجھ سے محبّت ہے پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں ، وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
Create an account or sign in to comment