January 2, 20233 yr On 12/30/2022 at 9:43 PM, Shazia Ali said: یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم ، جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لیئے ہونا ضروری ہے کہ تم ایک دن جدائی کے لیئے تیار ہو جاؤ بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو بس اب ایسا کرو تم ، سایہ دیوار ہو جاؤ ابھی پڑھنے کے دن ہیں ، لکھ بھی لینا حال دل اپنا مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ پروین شاکر کیا برا ہے کہ میں اقرارِ محبت کر لوں لوگ ویسے بھی تو کہتے ہیں گناہگارمجھے
Create an account or sign in to comment