Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus Launched ×
URDU FUN CLUB

خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا


Recommended Posts

خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا 

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو آئے تھے وہ کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟ مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

1 hour ago, S.KHAN said:

کس نے توڑا ھے دل حضور کا     کس نے ٹھکرایا تیرا پیار۔پیاری شازی جی 

@hitman

@Ramshaz

ایک بہت ہی دلچسپ میسج ملا . نظم کے پہلے شعر پر 

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز  

انھوں نے لکھا 

" آپ کو بستر پہ نیم دراز ہونے کا تصوّر ہی مجھے جنسی طور پر مشتعل کر دیتا ہے . اسی سوچ میں خود لذّتی کی انتہا پا لیتا ہوں"

ہی ہی ہی 

اب بھلا اس کا میں کیا جواب دوں ؟ 

چلیں جی اگر مجھے بستر پر نیم دراز دیکھنے کا تصّور آپ کو جنسی لذّت دیتا ہے تو بہت ہی اچھی بات ہے 

بس مجھے بتا دیا کریں کہ کب کب نہانا ہے مجھے ؟

ہی ہی ہی 

امی جان کی موجودگی میں کہانی لکھنے کا وقت نکالنا بہت ہی مشکل ہو رہا ہے 

جیسے ہی انکی واپسی ہوتی ہے ، کہانی کا تسلسل شروع ہو جائے گا 

خوش رہیں 

 

 

Link to comment
  • 2 weeks later...
On 11/3/2022 at 5:18 AM, Shazia Ali said:

خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا 

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو آئے تھے وہ کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟ مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

Link to comment
On 11/3/2022 at 5:18 AM, Shazia Ali said:

خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا 

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو آئے تھے وہ کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟ مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

میرے محبوب تیری محبت کے صدقے

میں تجھ پہ وار دوں میری جان صدقے

آہ مل کہیں دنیا سے پہرے تنہا

تجھ پہ نثار کر دوں میری جان صدقے

تُو تو ہے میری محبتوں کا یکتا جاناں

یکتائی تجھ پہ قرباں میری جان صدقے

میری چاہتوں کا امیں تو ٹھہرا جاناں

میں وار وار صدقے سو بار میری جاں صدقے

Link to comment
  • 1 month later...
On 11/14/2022 at 5:52 AM, Cancerian said:

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

کانپ  اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں 

میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی 

پروین شاکر 

Link to comment
On 11/14/2022 at 6:34 AM, Cancerian said:

میرے محبوب تیری محبت کے صدقے

میں تجھ پہ وار دوں میری جان صدقے

آہ مل کہیں دنیا سے پہرے تنہا

تجھ پہ نثار کر دوں میری جان صدقے

تُو تو ہے میری محبتوں کا یکتا جاناں

یکتائی تجھ پہ قرباں میری جان صدقے

میری چاہتوں کا امیں تو ٹھہرا جاناں

میں وار وار صدقے سو بار میری جاں صدقے

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ 

وہیں سے لوٹ جانا تم ، جہاں بے زار ہو جاؤ 

ملاقاتوں میں وقفہ اس لیئے ہونا ضروری ہے 

کہ تم ایک دن جدائی کے لیئے تیار ہو جاؤ 

بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو 

بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ 

بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو 

بس اب ایسا کرو تم ، سایہ دیوار ہو جاؤ 

ابھی پڑھنے کے دن ہیں ، لکھ بھی لینا حال دل اپنا 

مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ 

پروین شاکر 

Link to comment
On 12/30/2022 at 9:34 PM, Shazia Ali said:

کانپ  اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں 

میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی 

پروین شاکر 


اپنی سانوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو
تیری روح میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

Link to comment

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...