June 18, 20224 yr شکوہ نہ کر--- گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے ---یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر خزاں اس گلستان میں آتی رہی ہے ---ہوا سوکھے پتے اڑاتی رہی ہے یہاں پھول کھل کے ---بہاروں سے مل کے بچھڑتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر یہاں تیرے اشکوں کی قیمت نہیں ہے ---رحم کرنا دنیا کی عادت نہیں ہے کسی نے نہ دیکھا ---یہاں خون کے آنسو ڈھلکتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر یہاں کا ہے دستور خاموش رہنا ---جو گزری ہے دل پہ ---کسی سے نہ کہنا یہ دن کاٹ ہنس کے ---یہاں لوگ بس کے اجڑتے رہے شکوہ نہ کرگلہ نہ کر Edited June 19, 20224 yr by Shazia Ali
Create an account or sign in to comment