April 16, 20224 yr اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے میں نے کہا تجھے عشق ہو یہ خدا کرے کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں تیری آنکھیں پر نم رہا کریں تو اس کی باتیں کیا کرے تو اس کی باتیں سنا کرے تجھے عشق کی وہ جھڑی لگے تو ملن کی ہر پل دعا کرے تو گلی گلی میں پھرا کرے تو نگر نگر میں صدا کرے تجھے عشق کا پھر یقین ہو اسے تسبیوں میں پڑھا کرے میں کہوں کہ عشق ڈھونگ ہے تو نہیں نہیں کی صدا کرے پروین شاکر
Create an account or sign in to comment