Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

پیا کا گھر پیارا لگے

Featured Replies

  • Author

’’چار ماہ ہوگئے…اس کا کچھ پتا نہیں…اس نے وہاں شادی کر لی ہو گی۔ بھلا اب وہ مڑ کر کیوں دیکھے گا۔ جب تک میں اس گھر میں ہوں وہ یہاں نہیں آئے گا۔ میں کیا کروں۔ یہ گھر چھوڑا تو مر جاؤں گی۔ان رشتوں کے سوا میرے پاس ہے ہی کیا۔ آپ ٹھیک کہتے تھے مزدک۔میں آپ کے نام کی زندگی جی رہی ہوں۔ کیا کروں مسزمزدک کرمانی کے علاوہ میری کوئی پہچان نہیں۔‘‘ دھیان بٹانے کے لیے اس نے آفس جوائن کر لیا لیکن جب دل کا غبار حد سے سوا ہو جاتا تو ڈائری لکھنے بیٹھ جاتی تھی اس کے سوا کوئی نہیں تھا جس سے وہ اپنا یہ درد کہتی۔

میں ہوش میں تھا تو اس پر مر گیا کیسے

یہ زہر میری رگوں میں اتر گیا کیسے

’’کاش خدا میری زندگی میں وہ گھڑی نہ لاتا جب…‘‘ ابھی وہ اتنا ہی لکھ پائی تھی کہ ایک ہاتھ آگے بڑھا اور مکمل استحقاق کے ساتھ اس نے ڈائری بند کر دی۔وہ اس سچویشن پر سٹپٹاگئی۔ اب وہ گھر والوں کو مزید اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

’’وہ…میں…‘‘اس نے کچھ وضاحت دیتے ہوئے مڑنا چاہا۔ اس کا خیال تھا کہ سنی اس کی جاسوسی کرنے آ پہنچا ہے۔‘‘لیکن وہ ٹھٹک گئی۔اس بار اتنا لمبا عرصہ نہیں بیتا تھا کہ وہ اسے پہچاننے میں کسی مغالطے کا شکار ہوتی۔ اونچا لمباقد، سرخ و سفید چہرہ اور گہری سرمئی آنکھیں بھلا کون سا نقش تھا جو وہ اس چار ماہ کے عرصے میں بھلا پاتی۔ اس کا ذہن بالکل ماؤف ہو گیا۔ وہ توسوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ ایک بار پھر لوٹ آئے گا۔و اسے اپنا الوژن ہی قرار دینے والی تھی کہ وہ مسکرایا اور چلتے ہوئے اس ٹیبل کے ساتھ آن کھڑا ہوا جہاں اب بھی شہربانو کی ڈائر رکھی تھی۔ اس کے وجود سے اٹھتی مہک پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی۔ شہربانو کا دل اس سنگ دل کو سامنے پاکر خوشی سے بے حال ہونے لگا۔ اسے روم روم میں اترتی سرمستی بالکل نہیں بھا رہی تھی لیکن اب خود پر بس ہی کہاں تھا۔ وہ دھیمے لہجے میں کچھ کہہ رہاتھا اور شہربانو کا پورا وجود کان بن گیا۔

’’میں بھی اتنے عرصے سے یہی سوچ رہا ہوں…کیسے…کیسے ہو گیا یہ سب۔ میں مزدک کرمانی اپنی ذات سے ہٹ کر کسی دوسرے کے لیے سوچنے لگا۔میری اپنی ذات تو کہیں باقی ہی نہ رہی صرف وہ…کیسے ہوا،یہ جادو مجھ پر لیکن…شاید اسی کو محبت کہتے ہیں۔شہربانو کے اعصاب پر اس کے دھیمے لہجے میں رچے جذبے ہتھوڑے برسا رہے تھے کم از کم اب وہ کبھی بھی اس دشمن جان کے کسی نئے عشق کا قصہ سننے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ وہ بنا اس پر ایک نگاہ ڈالے جھٹکے سے کھڑی ہوئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ باہر نکل جاتی۔ مزدک نے اسے پکارا۔

’’میری بات تو تم کو سننا ہی ہوگی مسز مزدک کرمانی!…آخر میرے نام کی زندگی جیتی ہو…اتنا حق تو بنتا ہے میرا۔‘‘ اس کے الفاظ نے شہربانو کو جھلسا کر رکھ دیا۔ ابھی جو الفاظ اس نے ڈائری میں لکھے تھے وہ مزدک کی زبان پر تھے۔ وہ رک گئی لیکن مڑ کر اس کی طرف نہ دیکھا تو وہ خود ہی اس کے قریب چلا آیا۔

’’تو…تمہیں…مسزمزدک کرمانی کو…اس لڑکی کو جو بہت مضبوط ہے۔ جس نے اس گھر کو…اس گھر کے سبھی رشتوں کو سنبھال رکھا ہے،سچ کہوں تو جوڑ رکھا ہے، تم نے اس گھر کواپنے پیار کی مور سے۔ تم کو محبت ہوگئی ہے۔ مزدک کرمانی سے محبت۔‘‘ڈائری اس کے سامنے لہراتے ہوئے وہ اتنے استہزائیہ انداز میں بولا کہ شہربانو اپنی جگہ کٹ کر رہ گئی۔اتنی ذلت سہنے کا تو اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ وہ راز تھا جو اسے اس خود پسند شخص تو کبھی نہیں کہنا تھا لیکن جانے تقدیر میں ابھی کتنے دکھ سنہے لکھے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے تھے۔ دل تھا کہ اس رویے پر تڑپ رہا تھا اور وہ اس کی حالت کا مزا لے رہا تھا۔

’’کیا ہوا…آج چپ کیسے ہو…ڈانٹو مجھے…اپنے کمرے سے چلے جانے کو بولو اور کچھ نہیں تو اماں کوبلاؤ…ہاں…یہ اچھا رہے گا سب کو بلا لو…پھر میں سب کو بتاؤں گا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔‘‘

’’ہاں…ہے محبت…تو کیا کرلیں گے آپ…یہ میرا مسئلہ ہے…میری غلطی ہے…آپ کے لیے میں ایک بدصورت…اور گنوار ہوں…جسے آپ کی اماں نے زبردستی آپ کی زندگی میں شامل کر دیا…جس کو ہر لمحہ رلا کر…تکلیف دے کر آپ کو خوشی ہوتی ہے…اﷲ نے مجھے آپ کی طرح چاند چہرہ نہیں دیا لیکن ایک احساس دل ضرور دیا ہے جو محبت کرنا جانتا ہے اور جو اتنا گنوار ہے کہ اپنے درد سے بھی پیار کرنے لگا ہے لیکن آپ کو اس سے کیا۔ لاکھوں ہو گی آپ کی دیوانی ایک میں بھی سہی۔‘‘

ڈائری اس کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے شہربانو کا ضبط جواب دے گیا۔ اس کی گہری سرمئی آنکھوں میں براہِ راست دیکھتے ہوئے وہ انتہائی تلخی سے بولی لیکن اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں تیرتے موٹے موٹے آنسوؤں نے مزدک کو گنگ کردیا تھا۔ شہربانو کی بے پناہ ہمت نے اسے لاجواب کر دیا تھا۔

’’اور اگر اب بھی آپ کا خودپسند دل مطمئن نہ ہوا ہو تو گھر والوں کو ہی نہیں ساری دنیا کو جمع کر لیجیے میں سب کے سامنے اس غلطی کا اقرار کر لوں گی پھر ضرور خوش ہوں گے آپ۔‘‘ آنسوؤں کا گولہ گلے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

میں پھنس گیاتھا مزید ایک لفظ بھی کہنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ مزدک بس ایک لمحہ ہی اس کے آنسوؤں اور ہچکیوں کو برداشت کر سکا۔ وہ انتہائی ناگواری سے گہری سانس لیتا اس کے برابر زمین پر بیٹھ کر اس کے کندھوں کو سختی سے تھام لیا۔

’’باقی کے آنسو بچ کر رکھ لو…میں مر جاؤں تو…‘‘

’’کبھی تو اچھی بات بھی کیا کیجیے۔‘‘ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ تڑپ کر بولی۔ رونے کی وجہ سے سیاہ آنکھوں میں سرخ ڈورے تیر رہے تھے اور سانولے چہرے پر غم کے گہرے آثار تھے لیکن پھر بھی وہ یہ بات برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس کے بہتے آنسوؤں پر زندگی میں پہلی بار مزدک کو غصہ نہیں آیا تھا۔ وہ مسکرایا اور بے بس انداز میں آلتی پالتی مار کر پوری طرح پرسکون ہو کر بیٹھ گیا۔ شاید اب ہر راستہ بند ہوگیاتھا اور اس لمحے کے بعد اسے اس پگلی سی لڑکی سے دل کی ہر بات کہنا تھی کہ اس کی ان ہی اداؤں نے اس کے خود پسند دل کو دھڑکنا سکھایا تھا۔

’’سچ کہتی ہو، مجھ سے محبت کرنا تمہاری بہت بڑی غلطی ہے اور یہ غلطی تمہیں تمام عمر بھگتنا ہوگی کیونکہ…کیونکہ تم سے لڑتے لڑتے…تمہیں تنگ کرتے جانے کب مجھے سچ مچ تم سے عشق ہو گیا ہے۔‘‘

’’کیا…فار…گاڈسیک مزدک!…کیا بے ہودگی ہے یہ۔‘‘مزدک کرمانی سے اظہار محبت سن کر بجائے خوش ہونے کے وہ تپ گئی۔ اسے لگا اب مزدک کوئی نئی چال چل رہا تھا اسے گھر سے نکالنے کی۔‘‘

’’واہ…یہ کیا بات ہوئی…تم کرو تو محبت…میں کروں تو بے ہودگی۔یہ تو غلط ہے اور ابھی تم نے تو کہا میں خودپسند ہوں اور بھلا مجھ جیسے خودپسند بندے کو اب کہاں اتنی بہادر لڑکی ملے گی جو نفرت کرے تو ڈنکے کی چوٹ پر…محبت کرے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بنا کسی ڈر کے اقرار کرے۔ یقین کرو بانو!…مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘ انتہائی بے بسی سے محبت کا اقرار کرتا وہ کہیں سے بھی پہلے والا لڑتا جھگڑتا مزدک نہیں لگ رہا تھا۔

شہربانو نے ایک لمحے کو اس کا چہرہ دیکھا تو دل لرز سا گیا۔ گہری سرمئی آنکھوں سے چھلکتی نرم نرم محبت کی پھوار اس کی روح کو بھگونے لگی لیکن وہ ایک دم جھنجل سی گئی۔اسے اپنے آپ سے وحشت ہونے لگی۔

’’مربھی گئی ناں…تو بھی اس گھر سے نہیں جاؤں گی…مت سوچیں نئے نئے طریقے مجھے یہاں سے نکالنے کے۔‘‘ وہ بپھر کر اٹھنا چاہتی تھی لیکن اس نے اسے بازو سے تھام کر روک لیا۔

’’کیسے یقین دلاؤں تم کو اپنا…سب کچھ چھوڑ آیا ہوں…تمہارے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں…کچھ اچھا ہی نہیں لگتا کہ میں…‘‘

’’بس کیجیے…آپ کو جو کرنا ہے کریں…میں نہ کبھی آپ کے راستے میں آئی ہوں، نہ آؤں گی۔ آپ کے لیے یہ سب ایک اور مذاق ہوگا لیکن مجھ پر جو گزرے گی اس کا درد آپ کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ میرے لیے یہ گھر…‘‘

’’شٹ…اپ…بانو!…گھر…گھر اور…گھر…یہ اینٹ پتھر سے بنا گھر نظر آتا ہے تم کو اور یہ جیتا جاگتا چھ فٹ کا انسان جو بکواس کر رہا ہے وہ اتنی دیر سے تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی۔ آئی لو یو یار!…سچ بالکل گنوار ہو تم۔‘‘وہ ا سکی ایک رٹ سے جھنجلا گیا تھا اور اس کے تپے ہوئے لہجے پر شہربانو ذرا سا ڈر بھی گئی لیکن اس کے ’’گنوار‘‘ کہنے پر وہ بھی بھڑک گئی۔

’’جیسی بھی ہوں آپ سے تو بہتر ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں خالہ کو آواز دوں چلے جائیے میرے کمرے سے۔‘‘ وہ ناگواری سے چلائی لیکن مزدک کے ہونٹوں پر پھیلتی معنی خیز مسکان اس کے تن بدن میں ایک عجیب سا احساس جگاگئی۔ کچھ عرصہ پہلے بھی یہی فقرے اس نے کہے تھے اور اس لمحے کے بعد وہ کبھی خود سے نظر نہ ملا پائی تھی۔ ماتھے پر دہکتا لمس ایک بار پھر اسے بیقرار کر گیا۔ اس میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ نگاہ پھیر کر اس سنگ دل کو دیکھ لے جو اس وقت یقیناً اس کی حالت پر ہنس رہا تھا۔ دل میں اٹھتے شور سے گھبرا کر شہربانو نے اس کے سامنے سے ہٹنا چاہا لیکن وہ اس کا ارادہ بھانپ گیا۔

’’مجھے ایک آخری موقع دو بانو!…میں جانتا ہوں تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی ہو۔ مجھ سے محبت کرکے بھی تم کو مجھ سے کوئی امید نہیں ہے لیکن…آخری بار میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ بس وہ سن لو۔‘‘ بنا اس کی طرف دیکھے وہ اس قدر سنجیدگی سے بولا کہ شہربانو اپنی جگہ سے ہل نہ پائی۔

’’میں مانتا ہوں…میں غلط تھا۔ میری وجہ سے تم ہمیشہ دکھی رہی۔میں جب واپس آیا تو میرے دل میں تمہارے لیے نفرت تھی لیکن پہلے ہی دن جب تم نے کہا…مس نہیں مسز…مسز مزدک کرمانی…شاید اسی دن میری ساری نفرت ختم ہوگئی تھی۔ تم نے جتنی اپنائیت سے مجھ سے خود کو جوڑے رکھا یہ میرے لیے بہت خوبصورت تھا۔ لیکن میں اس احساس کو سمجھ ہی نہیں پایا۔ میں سنیعہ سے کمٹ منٹ کر چکا تھا اور میرے لیے وہ بہت اہم تھی۔ اسی لیے میں چاہتا تھا تم گھر چھوڑ کر چلی جاؤ۔ میں تم سے چڑتا تھا لیکن جب تم سب سے ہنستی بولتی تھیں اور مجھے اگنور کرتی تھیں تو مجھے بہت برا لگتا تھا۔ عجیب کیفیت تھی ان دونوں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا اور اس رات جب ہم دونوں مہندی کے لیے جا رہے تھے تو میں نے تمہارا بالکل نیا روپ دیکھا۔تم بظاہر جتنی بہادر نظر آتی ہو دل سے اتنی ہی ڈری سہمی

  • Author

ہو۔ پتا نہیں مجھے کیا ہو رہا تھا۔ مجھے تمہاری لاپرواہی ستانے لگی تھی۔ میں چاہتا تھا تم ہر وقت صرف میرے بارے میں سوچو۔ میں نے تم کو گھر سے چلے جانے کا کہہ دیا۔ میں تم کو جلانا چاہتا تھا۔ اپنی الجھن میں، میں عجیب حرکتیں کر رہا تھا۔میرے لیے تم سب سے اہم ہوگئی تھیں۔ دل تو ہر لمحہ یہ کہتا لیکن دماغ اس حقیقت کو مانتا نہیں تھا۔ جس سے ہمیشہ نفرت کی ہو۔ وہ اتنا اہم کیسے ہوسکتا تھا لیکن ایسا ہوگیاتھا اور اس رات میں سچ مچ تمہیں ڈھونڈتا ہوا تمہارے کمرے تک آگیا تھا۔ تم کافی دیر سے نظر نہیں آئی تھیں اور میرا دل شاید وہ پل اس لیے ہماری زندگی میں آئے تاکہ ہم کو ایک دوسرے کا احساس ہو سکے۔ ہم جس مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اس کی اہمیت یاد آجائے ہمیں اور وہی ہوا۔ میں تب ہی سب کہہ دیتا لیکن…ارے…اب کیوں رو رہی ہو تم۔‘‘ جذبوں سے گندھے لہجے میں اپنی ہر غلطی کا اعتراف، ہر جذبے کا اقرار کر رہا تھا۔ اس کا خیال تھا اب تو وہ اس کے احساسات کو سمجھے گی لیکن اس پر نظر پڑتے ہی وہ چونک گیا۔

’’کیا ہو گیا بانو!…پلیز بتاؤ نا…‘‘ اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے مزدک نے نرمی سے پوچھا تو وہ اور بھی دھواں دھار رونے لگی۔ اس کے یوں روئے چلے جان پر مزدک پریشان ہو گیا۔

’’ہوا کیا ہے یار!…ایسا کیا کہا ہے میں نے…‘‘

’’سب کچھ کہا ہے لیکن بس ایک سوری نہیں کہا۔‘‘ آنسو صاف کرتے ہوئے وہ روٹھے پن سے بولی تو مزدک ایک پل کے لیے ٹھٹک سا گیا اس کے لہجے کی ہمیشہ والی بے گانگی غائب تھی اور اس کی جگہ وہ اپنے مخصوص اپنائیت بھرے لہجے میں شکوہ کر رہی تھی جو آج سے پہلے سب کے لیے تھا۔ وہ آہستگی سے کھسک کر شہربانو کے قریب ہو گیا اور محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

’’سوری تو غیروں سے کہا جاتا ہے اپنوں سے تو صرف محبت کی جاتی ہے۔‘‘ خمار آلود لہجے میں وہ کہتا اس پر جھکا تو شہربانو کا رنگ اڑ گیا۔دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ بری طرح گھبراگئی تھی اس قربت سے۔

’’اے…مسز مزدک کرمانی! میری طرف دیکھو ناں۔ بس ایک بار اور اتنی ہی بہادری سے کہہ دو تمہیں مجھ سے محبت ہے۔‘‘ اس کی جھکی آنکھیں، لرزتی پلکیں اور سلونے چہرے پر چھائے حیا کے رنگ مزدک کو شرارت پر مائل کر رہے تھے اور شہربانو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہے تو کیا۔ پہلے اس کی بے اعتنائیاں ستاتی تھیں اور آج گھمبیر لہجے میں محبت اس کے دل کو دیوانہ کر رہا تھا۔

’’یوں آسانی سے سے تو آپ کی جان نہیں چھوٹنے والی کچھ تو کہنا پڑے گا۔‘‘وہ اس کے جھکے سر سے شرارت سے اپنا سر ٹکراتے ہوئے بولا تو وہ اس کے یوں ستانے پر چڑ سی گئی۔

’’کیوں اور کہنے والی کم ہیں کیا۔ جائیے اپنی سنیعہ کے پاس۔ مجھ سے زیادہ فری مت ہوں آپ۔‘‘ اسے آہستہ سے پرے دھکیلتے ہوئے وہ جھنجلا کر بولی تو وہ کھکھلا کر ہنس دیا۔ اس کی خوشگوار ہنسی شہربانو کی روح تک اترگئی۔ اس نے آنکھیں بند کرکے اس لمحے کی خوبصورتی پر خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کی زندگی میں وہ خوشی آئی تھی جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور وہ کہہ رہا تھا۔

’’ظاہر ہے…جب تک آخری کانٹا نہیں نکلے گا تم کہاں مجھے لفٹ دو گی۔یہاں سے گیا تو عجیب حالت تھی…ہرلمحہ…ہرپل تمہارے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ اچھا خاصا میچیور بندہ اور ایسی دیوانگی۔ تیسرے ہی دن جاکر سنعیہ سے معافی مانگ لی کہ مجھ پر تو ایک جادوگرنی نے وار کر دیا ہے۔جسے میری ہرچیز سے محبت ہے…میرا گھر…میرے گھروالے…میرے سبھی اور اب مجھے اس کے پاس جانا ہے تاکہ وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرے…مجھے چاہے۔خوش قسمتی سے سنیعہ یہ سمجھ گئی کہ میں اب کسی کام کا نہیں رہا…تو اس نے مجھے ہر وعدے سے آزاد کر دیا۔‘‘

’’اور…اگر وہ آزاد نہ کرتی تو۔‘‘وہ ایک دم بولی۔

’’تو…‘‘ اس سوال کے پر مزدک ایک پل کو رکا۔

’’ہاں…تو کیا کرتے آپ…‘‘اس کے چہرے کا اڑتا رنگ مزدک کو رشک میں مبتلا کر گیا۔ ایسی ہی تو صحبت چاہی تھی اس نے۔

’’تو…تو میں تمہیں وہاں بلوالیتا اور سنیعہ سے کہتا اب تم دونوں بہنیں بن کر ایک ہی گھر میں رہو۔‘‘

’’کیا…مار نہ ڈالتی میں آپ کو۔‘‘ اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی شہربانو نے اسے پیچھے دھکا دیا تو اس کا قہقہہ پورے کمرے میں گونج اٹھا۔

’’ارے…میں تو تمہیں صرف گنوار سمجھتا تھا۔تم تو اچھی خاصی پہلوان بھی ہو۔اب میں بتاؤں گا اماں کو…آپ کی لاڈلی بہو مجھ پر اپنی پہلوانی آزماتی ہے۔‘‘

’’ہاں…آپ خالہ سے مل آئیں…ورنہ…‘‘

’’ورنہ کچھ نہیں ہونے والا…ڈانٹ پھٹکار سن کر آرہا ہوں سب سے اور ایک وہ تمہاری باڈی گارڈ روحمہ…پتا نہیں کہاں سے میرا نمبر لے کر مجھے وہ سنائیں کہ حد نہیں۔میں نے تو اسی پل کانوں کو ہاتھ لگائے اور واپس بھاگا۔ جب اس نے بتایا کہ میری پیاری سی بیوی نے خود کو ہلکان کر رکھا ہے تو پہلی فلائٹ سے واپس آیا ہوں۔‘‘

’’اتنا احسان مت جتائیں… مشکل تھا تو نہ آتے…یہاں کسے پرواہ ہے۔‘‘شہربانو لاپرواہی سے کہتے ہوئے کھڑی ہوگئی تو مزدک کے چہرے کا رنگ ایک دم فق ہو گیا۔ وہ اتنی دیر سے اپنی محبت

  • Author

کا یقین دلا رہا تھا اور وہ تھی کہ مسلسل بے یقینی جتا رہی تھی۔

’’اچھا…تو تم کو میری کوئی پرواہ نہیں…ٹھیک ہے…شاید مجھ سے غلطی ہوئی۔ سوچتا تھا جسے مجھ سے وابستہ ہر شے سے محبت ہے۔ وہ میرا اعتبار کیوں نہ کرے گی۔ مجھ سے محبت کیوں نہ کرے گی…لیکن تم…اب کون سا دیر ہوئی ہے یاد رکھنا اب گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔‘‘ وہ اس کے برابر کھڑے ہوئے اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں بولا تو شہربانو نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ اس لمحے کتنا نامکمل سا لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے مخصوص مغرور تاثروں کی جگہ ایک تکلیف دہ اداسی نے لی تھی۔اعتبار تو وہ کر ہی چکی تھی اس پر اب وہ کیسے جانے دیتی۔ اس نے دروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور اسی لمحے شہربانو نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ محبت کو گنوانے سے کہیں بہتر تھا وہ ذرا سا حوصلہ کر لیتی۔‘‘ اس کے استحقاق بھرے انداز پر مزدک نے حیرت سے اسے دیکھا۔

’’وہ…میں یہ کہہ رہی تھی جی…مجھے آپ کی ہر چیز سے محبت ہے۔آپ کے گھر سے…سب گھر والوں سے…آپ سے جڑے ہر رشتے سے…لیکن آپ رکتے تو آپ کو سب سے بڑھ کر چاہتی…خیر…آپ جا ہی رہے ہیں تو…‘‘

’’اب میں مار ڈالوں گا تم کو…سمجھی تم۔‘‘اسے چٹیا سے کھینچتے ہوئے مزدک نے خود سے قریب کر لیا۔ ایک ہی لمحے میں وہ اس کی شرارت سمجھ گیا تھا اور اب وہ اس کو فرار کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔

’’چاہنا ہی ہوگا مجھے سب سے زیاد…ورنہ مار ڈالوں گا تم کو۔‘‘اس نے دھونس بھرے انداز میں دھمکی دی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ مزدک نے بانہوں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کی ہنسی کے رنگوں کو دل میں اتارا۔ آنکھوں سے خودپسندی کی پٹی ہٹی تھی تو وہ ساری دنیا سے پیاری لگنے لگی۔

’’کتنی پیاری لگتی ہو، ہنستے ہوئے اور ہر ٹائم روتی ہو۔ میں ان آنکھوں میں ہمیشہ ہنسی دیکھنا چاہتا ہوں۔ بولو ناں…ہمیشہ ہنسو گی ناں میرے لیے۔‘‘ اس کی بانہوں کے گھیرے میں وہ بالکل گنگ ہوچکی تھی۔ اس کی نگاہ اٹھ نہیں رہی تھی اور کہاں سے اتنی ہمت لاتی کہ کچھ کہہ پاتی۔اس نے خو دکو اس کی گرفت سے چھڑانا چاہا، جس کی ہر دھڑکن اس لمحے اسے پکار رہی تھی۔

’’وہ میں…‘‘

’’ارے…ابھی سے کہاں چل دیں مسز مردک کرمانی!… ویسے بولے جاتی ہو۔ جب میں بولتا ہوں تو زبان چپک جاتی ہے حلق سے۔ اب میں جو بولوں گا تم سب مانو گی کیونکہ اس بار تم اپنی مرضی سے میرے پاس آئی ہو اور اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔‘‘ خمار آلود لہجے میں کہتا ہو اس پر جھکا تو شہربانو بری طرح گھبراگئی ساری ہمت جواب دے چکی تھی۔ مزدک کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بمشکل اسے اور اپنے درمیان فاصلہ کر پائی۔

’’دیکھیے مجھے تنگ نہ کریں…ورنہ میں خالہ سے شکایت کردوں گی۔‘‘کوئی راہِ فرار نہ پاکر اس نے کمزور سی دھمکی دی۔ جس کو سنتے ہی وہ ہنسنے لگا۔ شہربانو نے جھنجلا کر اسے دیکھا لیکن اس کے چہرے سے چھلکتی محبت اور خوشی کی ربست شہربانو کو گنگ کرگئی۔۔ وجیہہ تو وہ ویسے بھی بہت تھا لیکن اس پل تو نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔

’’دیکھو…مجھے اتنے پیار سے مت دیکھو۔ ورنہ میں تمہاری خالہ شکایت کردوں گا کہ آپ کی بہو مجھے پر بے ایمان ہے۔‘‘ وہ اس لمحے پوری طرف متوجہ تھا تو اس کی چوری بھلا کیسے نہ بھانپ لیتا لیکن اس کے فقرے پر شہربانو اپنی ہنسی روک نہ سکی۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دونوں ہنسے جا رہے تھے اور پھر شہربانو نے اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا۔ محبت کی بارش میں بھیگنا کتنا خوبصورت احساس ہے یہ آج پہلی بار اس نے جانا تھا۔کچھ دیر پہلے تک اسے مزدک کرمانی سے کتنے شکوے تھے اور اب اس کی بانہوں میں، اس محبت کے حصار میں اسے ہر شکایت مٹی محسوس ہو رہی تھی اور ہونٹوں پر اس محبت کے امر ہونے کی دعائیں تھیں۔ برسوں ان کے بیچ دوریاں رہی تھیں لیکن آج وہ دونوں جان گئے تھے کہ ایک دوسرے سے الگ سمتوں میں چلتے ہوئے بھی وہ کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے بیج نکاح جیسا مضبوط بندھن تھا جس نے آخر ان دونوں کو محبت کرنا سکھا دیا تھا۔

The End

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.