Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

پیا کا گھر پیارا لگے

Featured Replies

  • Author

’’دیکھو…سنی!…مجھ سے جھگڑے کی کوشش نہ کرنا۔ بھابھی تک ہی رہو…تو تمہارے لیے بہتر ہے…‘‘ آمنہ نے فوری طور پر اسے دھمکایا تو سنی بھی سیدھا ہو گیا۔ لڑنے کے معاملے میں وہ کسی کو نہیں چھوڑتا تھا اور آمنہ کو تو وہ چھوڑا چاہتا بھی نہیں تھا۔

’’ہاں…تم تو چاہتی ہو…میرے اور بھابھی کے تعلقات بگڑ جائیں اور ہمارے گھر کا سکون غارت ہوجائے…‘‘ سنی لڑاکا انداز میںبولا۔

’’لو…بھلا… میںکیوں ایسا چاہوں گی…بھابھی! اسے سمجھا لیں۔ آپ…‘‘ آمنہ نے شہربانو کو بھی گھسیٹنا چاہا لیکن اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ آمنہ کو چڑاگئی۔

’’بھابھی!…کبھی تو آپ سنی کی بجائے کسی اور کا ساتھ دیا کریں۔‘‘

’’اوہ۔ بھابھی کیا کسی کا ساتھ دیں گی…میں تو خود کمزور پارٹی بن گیا ہوں…کتنی سمجھایا بھابھی نے…لیکن میںبھی اپنی ضد سے باز نہیں آیا…صاف کہہ دیا…شادی کروں گا تو صرف آمنہ سے…‘‘سنی اپنی ترنگ میں روانی سے کہہ گیا لیکن آمنہ کے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا۔وہ ہکا بکاسنی کو دیکھنے لگی۔

’’او…میری ہونے والی دیورانی جی!…ایسے موقعوں پر ہمیشہ شرمایا جاتا ہے…‘‘شہربانو نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسے ساتھ لگایا تو وہ ہوش میں آگئی۔ سنی شال میں منہ دیے یوں بیٹھا تھا جیسے اس نے چند لمحے قبل کچھ کہا ہی نہ ہو۔

’’بھابھی!…آپ…میں،ممانی سے شکایت کروں گی…‘‘آمنہ بری طرح بدحواس ہوچکی تھی اس پر شہربانو کی ہنسی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا وہ پاؤں پٹختی اندر کی طرف بڑھ گئی۔

’’اب بس کرو نیک شہزادۂ سنی!…ظالم جادوگرنی چلی گئی ہے۔‘‘شہربانو کی ہنسی کنٹرول میں ہی نہیں آرہی تھی۔ پتا نہیں تازہ ہوا کا کمال تھا یا دل سے ابھرتی اس ہنسی کا کہ اس کے سانولے چہرے پر ایک بڑی دلکش سی چمک پیدا ہوگئی تھی کہ مزدک کرمانی چاہتے ہوئے بھی اس منظر سے نگاہ نہ ہٹاپایا۔

’’ظالم جادگرنی تو آپ لگتی ہیں مجھے…اتنی سردی ہے یار!…‘‘ سنی اس کی شال کھینچنے پر چیخا تو شہربانو کی ہنسی میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔

’’اب بنو مت…تب تو کیسے ہیرو بن رہے تھے اور اب یوں…‘‘اپنے مخصوص انداز میں پٹر پٹر بولتے ہوئے اسے اچانک اپنے چہرے پر کچھ گرم سا احساس ہوایوں جیسے کوئی بڑے انہماک سے اسے دیکھ رہا ہو۔ اس نے الجھ کر سامنے دیکھا۔کھڑکی سے جھانکتے مزدک کرمانی نے اس کی جان ہی نکال دی۔مزدک کرمانی کی نظروں کی وہ متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس نے چور سی نگاہ سنی پر ڈالی جو اس پر بیتے لمحے سے بے نیاز اب بھی شال میں چہرہ چھپائے بیٹھا تھا۔وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔اس کی ایک دم بند ہوتی زبان اور بدلتے تاثرات کو مزدک نے پوری شدت سے محسوس کیا اور اس کے ماتھے پر بل پڑگئے۔اس نے جھٹکے سے کھڑکی بند کردی۔ رگ و پے میں عجیب سی ناگواریت سرایت کر گئی تھی۔

’’ہوں…ہر وقت سب کے ساتھ باتیں بناتی رہتی ہے…اور مجھے دیکھتے ہی یوں سنجیدہ ہو جاتی ہے…جیسے بولنا جانتی ہی نہ ہو۔سچ کہا سنی نے اسے…ہے ہی جادوگرنی!…سب کو اپنے بس میں کر رکھا ہے…لیکن میں بھی اسے اتنا چکراؤں گا کہ سارے منتر بھول جائے گی۔‘‘شہربانو کے رویے نے اس کے اندر کے ہٹ دھرم انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ آج بھی شہربانو سے جواباً ناگواری کی توقع نہیں کرتا تھا۔

’’یہ لڑکی میرے گھر میں…میرے ہی نام کی زندگی جی رہی ہے اور مجھے دیکھ کر منہ پھیرنے کی اس کی حیثیت ہے بھلا…خود کو کیا حور سمجھتی ہے…جسے میں چھپ کر دیکھوں گا…ہوں…جاہل…گنوار…جادوگرنی…‘‘شہر بانو کے لیے القابات میں ایک نیا اضافہ کرتے ہوئے وہ بری طرح تپ چکا تھا۔

’’دوبار فون آچکا ہے…کتنی دیر میں نکل رہے ہیں ہم لوگ…؟‘‘ سنی نے فاطمہ بیگم کو متوجہ کیا۔ آج وہ لوگ رمیز کو مہندی لگانے جا رہے تھے۔

’’بس نکلتے ہیں بیٹا!…یہ لڑکیاں تیاری مکمل کر لیں تو…

ثناء اب بس بھی کرو رات ہوگی تو نکلیں گے کیا ہم۔ راستے کا پتا ہے ناں تم لوگوں کو آج کل کتنی چوریاں ہو رہی ہیں۔‘‘ فاطمہ بیگم نے ایک بار پھر ان لوگوں کو پکارا۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ سب ’’آرہی ہیں۔‘‘ کے نعرے لگا رہی تھیں لیکن ابھی تک کوئی ایک لڑکی بھی برآمد نہیں ہوئی تھی۔

’’واہ…اماں!… ان لوگوں کی تیاری کا انتظار کیا تو پھر کل ہی نکلیں گے۔‘‘ سنی جھنجلاتا ہوا واپس مڑا۔

’’اﷲ نہ کرے سنی!…کبھی تو اچھی بات منہ سے نکالا کرو۔

بس خالہ!…سب تیار ہیں…سب چیزیں تو آپ نے گاڑیوں میں رکھوا دی ہیں ناں۔‘‘ حسب توقع شہربانو ہی سب سے پہلے آئی اور آتے ہی اسے انتظامات کی فکر لگ گئی۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

’’ہاں…سب ہو گیا ہے ماشاء اﷲ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔ چلو شہربانو تم لوگ نکلو۔ گاؤں سے دوبار فون آچکا ہے۔ ہم لوگ بھی بس پہنچتے ہیں۔‘‘فاطمہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے اطلاع دی۔

’’پہلے کون کون جا رہا ہے خالہ!…اپنے کان کی بالی درست کرتے ہوئے اس نے پوچھا لیکن ان کا جواب سن کر وہ ٹھٹک سی گئی۔

’’وہ اصل میں روحمہ پہنچ نہیں پائی تو اس نے فون کرکے کہاکہ اسے گھر سے ہی لیتے جائیں تو میں نے سوچا تم اور مزدک اسے لے کر آؤ…‘‘

’’پلیز…خالہ!…میں ان کے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گی۔‘‘ وہ بری طرح سٹپٹا کر بولی۔ اسے تو بھرے گھر میں اس خود پسند شخص سے وحشت ہوتی تھی اور اس کے ساتھ تنہا جانے کا تصور ہی اسے ہولا گیا۔

’’مجھے پتا ہے شہربانو!…‘‘ فاطمہ بیگم نے اس کے قریب آتے ہوئے آہستگی سے بات کا آغاز کیا۔

’’جب روحمہ کا فون آیا تھا تب کنیز آپا اور شائستہ میرے ساتھ بیٹھی تھیں…اور بیٹا…تم تو ان عورتوں کی فطرت جانتی ہو ناں…کسی بھی بات کا پتنگڑ بنادیتی ہیں میری خاطر چلی جاؤ۔بس روحمہ کے گھر تک کی ہی تو بات ہے…پھر تو وہ بھی تمہارے ساتھ ہوگی ناں…جا میری اچھی بیٹی…چلی جا…‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ اتنی لجاجت سے کہاکہ وہ چپ ہوگئی۔

’’اچھا…میں اپنی چادر لے لوں…‘‘ وہ منہ بسورتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تو فاطمہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ آحر روحمہ کی بنائی ہوئی ترکیب کام کر گئی۔ جتنی دیر تک وہ چادر لے کر باہر آئی انہوں نے مزدک کو گاڑی تک پہنچا دیا۔ اصل میں وہ بھی روحمہ اور فاطمہ بیگم کی سازش سے ناواقف تھا ورنہ شہربانو کے ساتھ تنہا ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر کرنا اسے بھی گوارا نہ ہوتا۔

’’آخر مسئلہ کیا ہے اماں!…یہ روحی بھی نئی نئی مصیبت کھڑی کرتی ہے…‘‘مزدک بری طرح جھنجلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا۔

’’اب ایسا بھی کیا ہوگیا ہے مزدک۔شہربانو…ادھر آجاؤ بیٹا…‘‘ان کے پکارنے پر وہ حیران سا مڑا۔ سیاہ چادر میں پری خود کو ڈھانپتے وہ چلی آرہی تھی لیکن اس کے وجود کی سج دھج یہ سیاہ چادر بھی چھپا نہیں پائی تھی۔ میرون اور گولڈن آرگنزا کے سوٹ پر نفاست سے کیاگیا میک اپ اسے معمول کی نسبت بہت خوبصورت بناگیاتھا۔ نہ چاہتے ہوئے مزدک کی نگاہ ایک لمحے کو اس پر ٹھہر گئی۔ سانولے چہرے پرجھنجلاہٹ اور پریشانی کا بڑا خوبصورت سا امتزاج نمایاں تھا۔

’’جاؤ اب تم لوگ۔ مزدک گاڑی دھیان سے چلانا۔‘‘انہوں نے عجلت بھرے انداز میں شہربانو کو بازو سے پکڑ کر فرنٹ سیٹ پر بٹھاتے ہوئے ضروری ہدایات دیں اور دروازہ بند کر دیا۔شہربانو کے حواس تو جیسے جواب دے گئے تھے۔ اسے نہ کچھ سنائی دے رہا تھا، نہ دکھائی۔ خود کو پوری طرح سمیٹ کر وہ دروازے سے چپکی بیٹھی تھی۔گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور کن راستوں پر سفر کرنے لگی اسے بالکل ہوش نہ تھا۔ مزدک کرمانی کی اس درجہ قربت اسے سہما رہی تھی اگرچہ اس نے پہلے کی طرح کوئی چیخ پکار نہیں کی تھی لیکن شہربانو تو اب تک اس کے وہ پہلے ستم ہی نہ بھول پائی تھی۔

’’بہت شوق تھا تمہیں میرے ساتھ جانے کا…‘‘نہ جانے کیوں مزدک کو اس کی مسلسل خاموشی سے جھنجلاہٹ ہونے لگی تھی پھر کسی طرح تو بات کا آغاز کرنا ہی تھا ناں۔ ورنہ شاید کبھی اس سے چھٹکارا نہ ملتا۔

’’میں نے آپ سے کچھ کہا ہے محترمہ!…کیا سمجھتی ہو تم اپنے آپ کو…ویسے تو کسی وقت زبان بند نہیں ہوتی اور میرے سامنے یوں بن جاتی ہو جیسے کچھ بولنا جانتی ہی نہیں ہو۔ کان کھول کر سن لو میں تمہاری ان اداؤں سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔‘‘ وہ بولنے پر آیا تو ذرا بھی مروت نہ برت سکا لیکن اس کے آحری فقرے نے شہربانو کو بھڑکا ہی تو دیا۔ ایک ہی لمحہ لگا اسے تمام ڈر، خوف بھلانے میں۔ کچھ بھی برداشت کیا جاسکتا تھا لیکن طنز برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا اور نہ وہ اتنی کمزور تھی کہ اس شخص کے طنز سہتی اور پھر یہاں کون سننے والا تھا جو اسے زمانے کا خوف ستاتا۔

’’کیا…کیا…کیا کہا آپ نے…میں آپ کو ادائیں دکھاؤں گی وہ کس خوشی میں۔میں آپ جیسی نہیں ہوں کہ دل میں کچھ ہو زبان پر کچھ اور۔میں آپ کی کسی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔‘‘

’’واہ…کیا بات ہے…ظاہر ہے آپ کی تو دلی خواہش جو پوری ہوگئی۔ ایک میں ہی تو تھا آپ کے سحر سے باہر اگر میں تنہا میسر ہو جاتا تو…‘‘

’’ایکسکیوزمی…مسٹر مزدک کرمانی!…مجھے آپ کے ساتھ آنے کا کوئی شوق نہیں…میں تو کل ہی آپ کی خوش مزاجی میں چھپی گہری سازش کو سمجھ گئی تھی۔ آپ چاہتے ہیں سب آپ کو اچھا سمجھنے لگیں…لیکن معاف کیجیے گا مجھے لگتا ہے خالہ ابھی بھی روحمہ میر کے معاملے میں آپ پر بھروسہ نہیں کرپائیں اسی لیے زبردست مجھے آپ کے ساتھ بھیجا… گاڑی کے ٹائر زور سے چرچرائے تو دھیان نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔

  • Author

’’کیا بکواس کی ہے تم نے…سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔‘‘ابھی وہ سر کی چوٹ سہلا نہ پائی تھی کہ اس کی پھنکارتی آواز سے دہل گئی۔

’’کیوں…سچ برداشت کرنا مشکل لگتا ہے آپ کو…؟‘‘وہ بری طرح جھنجلا گئی تھی۔

’’اب اگر تم نے مزید ایک لفظ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…مجھے تمہاری فضول گفتگو سننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اماں کا خیال نہ ہوتا تو ایک لمحہ بھی میں تمہیں اپنے ساتھ برداشت نہ کرتا اور پھر اس سناٹے میں چاہے تم جہنم یں جاتیں۔‘‘ مزدک نے اسے اچھا خاصا جھاڑ دیا اور اس کی یہ دھمکی کافی کارگر بھی رہی۔ وہ اس کو کرارا سا جواب دینا چاہتی تھی لیکن گہری ہوتی شام کے سائے اسے چپ کرواگئے۔ بھلا مزدک سے کیا بعید وہ راستے میں ہی اتار دیتا۔ اسے خاموش دیکھ کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

ماحول پر ایک بار پھر سناٹا چھاگیا۔ مزدک کا دل غصے سے بری طرح بھڑک اٹھا تھا وہ ابھی بھی اسے سنانے کا سوچ رہا تھا کہ موبائل پر ہوتی بپ نے اسے چونکادیا۔شہربانو پر ایک سلگتی نظر ڈال کر اس نے موبائل ڈیش بورڈ سے اٹھایا تو روحمہ کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

کیسا جا رہا ہے دوست!…حالات کچھ ٹھیک ہو رہے ہیں…؟‘‘ روحمہ کی کھلکھلاتی آواز مزدک کو کچھ حیران کر گئی اسے ایک دم گڑبڑ کا احساس ہوا۔

’’کیا مطلب روحی!…؟‘‘روحمہ کے نام پر شہربانو بھی متوجہ ہوگئی۔

’’ارے…اب تم پر ناسمجھی کا اٹیک ہوگیا ہے مزدک…میں نے اور فاطمہ آنٹی نے تمہیں اتنا اچھا چانس دے دیا اور تم سوالوں پر ٹائمبرباد کر رہے ہو…دوگھنٹے ہیں تمہارے پاس…اس سفر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا لو مزدک۔‘‘اسے منالو…ویسے مجھے یقین ہے تم لوگ لیٹ ہی پہنچو گے لیکن کوئی فکر نہ کرنا میں سب سنبھال لوں گی۔ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاؤں پہنچ رہی ہوں…بس تم اب جلدی سے سب ٹھیک کر لو اور…‘‘

’’روحی!…میری بات تو سنو…‘‘

’’جی…نہیں…اب سب کچھ اپنی بیوی سے کہو…مجھے یقین ہے وہ مان جائے گی۔ وہ بہت اچھی ہے…تمہاری طرح دوسروں کو ستانے کی عادت نہیں ہے اسے…او۔کے…بائے۔‘‘روحمہ نے اپنی بات مکمل کی اور موبائل آف کر دیا۔ ایک لمحے کے لیے تو مزدک کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کرے تو کیا۔ وہ بری طرح پھنس چکا تھا۔ شہربانو کے ساتھ دو گھنٹے تک سفر کرنا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا اور واپس گھر جانا اماں کی نارضی مول لینے کے مترادف تھا۔

’’کیا ہوا…روحی نے کیا کہا…؟‘‘ شہربانو کو اس کی مسلسل چپ پر پوچھنا پڑا۔

’’ہوں…کیا…وہ…وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاؤں جا رہی ہے…‘‘مزدک گہری سوچ میں مبتلا تھا لیکن شہربانو کے ری ایکشن نے اسے چونکا دیا۔

’’اچھا…تو پھر ہم گھر چلیں مزدک۔‘‘ فقرہ انتہائی عام تھا لیکن لہجہ اور سیاہ آنکھوں سے جھلکتی روشنی ہرگز بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھی۔ مزدک نے ایک نظر ڈال کر رخ پھیر لیا لیکن کچھ عجیب ہوا تھا۔ اس ایک نظر میں شہربانو کے وجود کی ساری روشنیاں سمٹ آئی تھیں۔ وہ گھر جانے کا سوچ کر پرسکون ہوگئی تھی۔اس سکون نے ایک دم سے مزدک کے لیے فیصلہ کرنا آسان کر دیا۔

’’گھر کیسے جاسکتے ہیں…اب گاؤں ہی چلتے ہیں۔ وہ لوگ بھی نکل گئے ہوں گے۔‘‘وہ اس قدر نرم لہجے میں بولا کہ شہربانو کچھ بول ہی نہ پائی۔وہ برا سا منہ بناتی باہر دیکھنے گی۔ وہ مزدک کی دلی حالت سے قطعی بے خبر یہ سوچنے میں مصروف تھی کہ جلد سے جلد سب گھر والوں کے پاس پہنچ جائے۔

’’آپ کو راستہ تو پتہ ہے ناں؟‘‘ شام کے بڑھتے سائے شہربانو کے دل میں عجیب وسوسے جگانے لگے تھے۔ اس کے اس عجیب سوال پرمزدک نے حیرت سے اسے دیکھا۔ مزدک کی سوالیہ نظروں پر وہ گڑبڑا کر گویا ہوئی۔

’’میرا مطلب شام کافی گہری ہو رہی ہے اور…کتنے سال آپ باہر رہے ہیں…یہاں کے راستے بھول جانا کچھ اتنا ناممکن بھی نہیں ہے۔‘‘

’’میں تمہاری طرح گنوار نہیں ہوں اور مجھے ہر راستے کا پتہ ہے فکر نہ کرو۔‘‘

’’آپ کا کیا بھروسہ…‘‘شہربانو زیر لب بڑبڑائی لیکن اتنے سناٹے میں مزدک کے لیے اس کا فقرہ سننا کچھ مشکل نہ تھا۔

’’مجھے کچھ ضرورت بھی نہیں کسی بھروسے کی…اگر تم اترنا چاہو تو میں گاڑی کر تمہیں یہیں اتاردوں…؟‘‘وہ بری طرح تلملا کر بولا۔

’’نہیں…پلیز…میرا دل بہت ڈر رہا ہے۔ اس راستے پر چوری کی بہت سی وارداتیں ہوئی ہیں۔‘‘ وہ واقعی کافی ڈر چکی تھی۔ راستہ سنسان تھا اور ان کی اگڑی کے علاوہ دور دور تک کچھ دکھائی نہیں

  • Author

دے رہا تھا۔

’’ارے…واہ…میں نے کچھ اور ہی سنا تھا آپ کے بارے میں…سنا ہے پورا گھر آپ نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے…یقین نہیں آتا اس قدر ڈرپوک لڑکی…‘‘

’’میںڈرپوک نہیں ہوں…‘‘ وہ ایک دم اس کا فقرہ کاٹتے ہوئے گویا ہوئی۔ اس کے چہرے پر عجیب سا احساس نمایاں تھا۔

’’مدت ہوئی میں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔ بہت چھوٹی تھی تو اماں کہا کرتی تھیں میرے چچا مجھے مار ڈالیں گے…اور پھر…بابا اور اماں مجھے چھوڑ گئے…تو جیسے میرا ڈر بھی ان کے ساتھ ہی چلا گیا…چچاؤں کا ڈر بھی نہیں رہا۔ بچا ہی کیا تھا گنوانے کو…لیکن آج…سوری میں بھی کیا لے بیٹھی۔‘‘بولتے بولتے اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ مزدک کرمانی سے اپنے دل کا سب سے تکلیف دہ دکھ کہہ رہی تھی اور اس شخص سے کچھ بھی شیئر کرنے کی بھلا کیا تک تھی۔ مزدک نے اس کے ایک دم چپ ہوجانے پر رخ پھیر کر اسے دیکھا۔ سیاہ چادر کو اپنے گرد لپیٹے ہوئے شاید وہ اپنے آنسو چھپا رہی تھی اور شاید یہ ان دونوں کی زندگی کا سب سے خاص لمحہ تھا جو ان کے درمیان کے سارے فاصلے مٹا گیاتھا۔

’’تم کو پتا ہے مجھے خود اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اماں سے پوچھنا میں نے کتنے ڈرامے کیے ہیں…کبھی لائٹ چلی جاتی تو…‘‘مزدک نے انتہائی غیر محسوس انداز میں اس کا دھیان اپنی طرف راغب کیا اور پھر اپنے بچپن کے قصے سناتے ہوئے وہ اتنا مگن ہوا کہ سامنے سے آتے گنے سے بھرے ٹرک پر بھی دھیان نہ دے سکا۔

’’مزدک!…سامنے دیکھیں…‘‘ شہربانو کی نگاہ بے ساختہ سامنے پڑی اور اس نے چیختے ہوئے مزدک کے بازو کو دوبچ لیا تھا۔ اس کے اس قدر شدید ردعمل پر مزدک بمشکل اپنے اپنے حواس قابو میں رکھ پایا۔ اسٹیرنگ کو گھماتے ہوئے اس نے گاڑی سائیڈ پر کچے راستے پر ڈال لی تھی۔ ٹرک ڈرائیور شاید ہوش میں نہیں تھا۔ مزدک بری طرح حواس باختہ ہوگیا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ایک امتحان بنی شہربانو اس کے بازو سے چپکی کانپ رہی تھی۔گاڑی کو ایک طرف روکتے ہوئے مزدک نے ایک پرسکون اور گہری سانس لے کر خود کو زندہ ہونے کا احساس دلایا۔

’’ہم ٹھیک ہیں بانو!…کچھ نہیں ہوا…‘‘اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بہت نرمی سے بولا۔ شہربانو نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور مزدک کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ وہ اس کے تصور سے بھی زیادہ قریب تھی۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ڈولتے خوف کے سائے انہیں ہمیشہ سے بڑھ کر حسین بناگئے تھے۔ مزدک کے دل نے بہت دھیرے سے اسے بتایا تھا کہ پچھلے لمحے میں وہ موت کو تو شکست دے چکا تھا لیکن ان قاتل نینوں سے بچ پانا ناممکن تھا۔ مزدک نے بے ساختہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھ کے پیالوں میں لیتے ہوئے اسے زندگی کی موجودگی کا یقین دلانا چاہا تو جیسے اس کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا۔

’’کیا ہوگیا تھا آپ کو…دیکھ کر نہیں چلا سکتے تھے…اگر کچھ ہو جاتا تو…کچھ فکر بھی ہے آپ کو…یہی کہہ رہی تھی ناں…دھیان کہاں تھا آپ کا…‘‘اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ غصے کے مارے بولتی چلی گئی،جیسے جیسے وہ بولی رہی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور مزدک کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔

’’کچھ نہیں ہوا ہے!… سب ٹھیک ہے…سب ٹھیک ہے، سن رہی کچھ نہیں ہوا ہے…‘‘اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے مزدک نے اس کے حواس بحال کرنے کی کوشش کی۔ مزدک کے چیخنے پر اسے جیسے ہوش آگیا۔ اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپاتے ہوئے وہ بری طرح رو دی۔ اس کے یوں شدت سے رونے پر مزدک جھنجلا گیا۔ اس کے آنسو مزدک کو تکلیف دے رہے تھے۔صرف ایک لمحہ لگا مزدک کی برداشت ختم ہونے میں۔اس نے سختی سے اس کا بازو پکڑا اور اسے اپنی طرف موڑتے ہوئے گویا ہوا۔

’’باقی کے انسو بچا کر رکھ لو…میں مر جاؤں تو پھر رولینا، ٹھیک ہے…‘‘اس کے بازو کو جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ اس کے جارحانہ انداز پر شیربانو بری طرح سہم گئی لیکن اس وقت اس میں کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی اور اگلے پندرہ منٹ بعد وہ گاؤں کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔

’’اپنا حلیہ درست کر لو…میرا قصور نہ ہوتے ہوئے بھی سب سوچیں گے میں نے تمہیں رلایا ہے جب کہ میرا خیال ہے تم کو رونے کے سوا اور کچھ آتا ہی نہیں۔‘‘ انتہائی درشت لہجے میں وہ بولا حالانکہ دل پر گزرنے والی خوبصورت واردات کا تقاضا کچھ اور تھا لیکن حالات نے اسے اس رویے پر مجبور کردیاتھا۔ اپنا دھیان اس پر سے ہٹانے کے لیے وہ پوری طرح سڑک پرنظریں جمائے ہوئے تھا لیکن ضدی دل بار بار اسے بھٹکا رہا تھا۔ اور جب اس نے سیاہ چادر سر سے اتاری تو اس کی نظر تمام مصلحتیں بھلائے شہربانو پر آن ٹھہری۔ وہ لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹ رہی تھی۔

’’آخر۔ یہ اتنی اچھی کیوں لگ رہی ہے…وہی تو ہے…پھر یہ کیا ہو رہا ہے مجھے…اتنے سالوں میں اس کے تصور سے بھی نفرت کی ہے میں نے اور اب…‘‘

’’آئی… ایم…سوری…میری وجہ سے آپ کو پریشانی ہوئی…میرے بابا اور اماں اسی طرح ایکسیڈنٹ میں… مجھے رات کے سفر سفر سے بہت ڈر لگتا ہے…مجھے معاف کر دیجیے گا…‘‘گاڑی سے اترتے ہوئے وہ بہت آہستگی سے بولی۔ اندر ہوتے ہنگامے کی وجہ سے وہ بمشکل اس کے الفاظ سن پایا تھا اور جب وہ اترنے لگی تو مزدک نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے رکنے کا

  • Author

اشارہ کیا۔ شہربانو کو اس کا یہ انداز حیرانی میں مبتلا کرگیا تھا۔

’’کیا تم رونا چھوڑ سکتی ہو…؟مجھے تمہارے آنسوؤں سے پریشانی ہوتی ہے۔ پہلے بھی تمہارے آنسو سب کچھ ختم کرگئے تھے اور اب…مجھے آنسوؤں سے نفرت ہے…اگر ہو سکے تو آئندہ میرے سامنے مت رونا… تمہاری مہربانی ہوگی۔‘‘قطعی سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے نرمی سے شہربانو کاتھ تھپتھپایا اور گاڑی سے باہر نکل گیا۔ اس کے الفاظ شہربانو کو الجھن میں مبتلا کرگئے تھے وہ کتنی آسانی سے سب الزام اس کے نام لگاگیاتھا اور وہ کچھ نہ بول پائی۔

vvv

تو پیا سے مل کر آئی ہے

بس آج سے نیند پرائی ہے

اب دیکھے گی سپنے بالم کے

تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

’’یہ تم کو کس وقت کے راگ سوجھ رہے ہیں روحمہ میرا!…کزن یاد ارہا ہے…‘‘ تکیہ ٹھیک کرتے ہوئے اس نے روحمہ کو شرارت سے چھیڑا۔ صبح بارات تھی اسی لیے وہ رات یہیں رک گئی تھی۔

’’ہاں…جی…ہم تو یاد ہی کر سکتے ہیں…آپ کی طرح تھوڑی خوش نصیب ہوں کہ دو گھنٹے تک پیا کے ساتھ لانگ ڈرائیو کے مزے لوٹوں۔‘‘

’’بکو مت روحی!…تمہاری بکواس کے علاوہ بھی مجھے بہت کام ہیں۔‘‘

’’اسے معاف کردو شہربانو۔ وہ سچ مچ تمہیں بہت چاہتا ہے۔‘‘

’’روحی!…یہ کون سا ٹائم ہے اس بکواس کا۔ ساڑھے تین بج رہے ہیں اور…‘‘

’’ہرکام اپنے وقت پر ہو ہی جاتا ہے شہربانو۔ تم اسے موقع تو دو۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔‘‘

’’میں پہلے ہی بہت خوش ہوں۔ کیا کمی ہے مجھے۔ میرا خیال ہے تمہیں نیندن نہیں آرہی اس لیے ایسی بے کار باتیں سوجھ رہی ہیں۔ میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں، اچھی سی۔‘‘ شہربانو نے اپنا لہجہ نارمل رکھا لیکن سچ تو یہ تھا کہ دل میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں وہ چاہ کر بھی روحمہ کو یہ یقین نہیں دلاسکتی تھی کہ وہ خودپسند شخص اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں کر سکتا تھا اور ابھی تو اسے ان لمحوں کا افسوس کم نہیںہوا تھا جب وہ اس کے سامنے اپنے کچھ دکھ رو دی تھی اور وہ…

’’اے شہربانو!…تم کافی لا رہی تھیں…اس کا کیا بنا؟‘‘ روحمہ کی آواز پر وہ چونکتے ہوئے باہر نکل آئی۔

’’یہ روحی بھی حد کرتی ہے…کچھ پتا نہیں چلتا اس کا۔‘‘ کچن کی طرف آتے ہوئے اس نے اپنا دھیان مزدک سے ہٹانے کے لیے روحمہ کو سوچنا چاہا لیکن کچن کے دروازے پر اسے رکنا پڑا کیونکہ وہ دشمن جاں پہلے سے کچن میں موجود تھا۔ چولے پر پانی دھرا تھا اور وہ موبائل کان سے لگائے بہت آہستہ آواز میں بول رہا تھا۔

’’ہاں…یار!…کل بارات ہے۔ میںنے تو کہا تھا تم بھی ساتھ آؤ لیکن تب…‘‘ اسے ایک دم اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو چونک کر مڑا اور شہربانو کو سامنے دیکھ کر وہ بس ایک لمحے کو چپ ہوا اور پھر اس نے تیزی سے الوداعیہ کلمات کہہ کر موبائل بند کر دیا۔ اس کے اس رویے پر شہربانو چور سی بن گئی۔

’’کیا اس کو لگ رہا ہے میں اس کی بات سن رہی تھی…بھلا مجھے کیا ضرورت ہے جو…‘‘

’’اچھا ہوا تم آگئیں…پلیز میرے لیے ایک کپ چائے بنادو۔‘‘موبائل سائیڈ پاک میں ڈالتے ہوئے وہ سرسری سے لہجے میں کہتا چولے کے سامنے سے ہٹ گیا۔ شہربانو کو اس کا انداز بالکل اچھا نہیں لگا۔ وہ کوئی اس کی ذاتی ملازمہ نہیں تھی کہ اتنی رات گئے اس کی خدمت کرتی لیکن جب تک وہ کوئی جواب سوچتی۔ وہ بڑے پرسکون انداز میں ڈائننگ ٹیبل پر جا بیٹھا۔ کچھ لمحے کے لیے خاموشی چھائی رہی۔شہربانو نے اپنے اور روحمہ کے لیے بھی کافی کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے کتیلی میں کچھ پانی بڑھادیا۔

’’کوئی اور بھی جاگ رہا ہے۔‘‘ اسے تیسرا مگ دھوتے دیکھ کر اس نے یونہی پوچھا جسے سن کر بے ساختہ شہربانو کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

📢 Post Your Ad Here
  • Author

’’ہاں…جی…روحمہ جاگ رہی ہے…چاہیں تو بلالیں اسے…کچھ پرانی یادیں ہی تازہ ہو جائیں گی۔‘‘ ان دونوں کے مابین ایسا کچھ نہیں تھا کہ وہ کسی حسد میں مبتلا ہو کر ایسی بات کرتی اس کا مقصد صرف مزدک کرمانی کا دل جلانا تھا لیکن اس کے فقرہ سے بھی اس کے سکون میں کوئی فرق نہ آیا۔

’’میں نے سنا ہے تم ایم۔ بی۔ اے کرچکی ہو…؟‘‘ تھوڑے وقفے کے بعد اس نے نیا موضوع چھیڑ دیا تو کھولتے پانی میں پتی ڈالتی شہربانو کے ہاتھ پل بھر کو تھم سے گئے۔

’’اچھا…تو اس لیے موصوف مجھے بات کرنے کے قابل جان رہے ہیں۔‘‘شہربانو نے ذرا سا مڑتے ہوئے اسے دیکھا۔ ٹیبل پر سر رکھے آنکھیں موندے وہ اس لمحے بہت پرسکون نظر آرہا تھا۔جونہی شہربانو نے اسے دیکھا۔ اس نے بھی آنکھیں کھولتے ہوئے سوالیہ نظروں سے شہربانو کو دیکھا۔ شہربانو ایک پل بھی اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی اور رخ پھیر لیا۔

’’تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا…‘‘وہ آہستہ سے اٹھ کر اس کے برابر آن کھڑا ہوا اور چولہے کی آنچ کو بالکل دھیما کر دیا۔ شہربانو نے کافی جھنجلا کر اسے دیکھا۔ گہری سرمئی آنکھوں سے نیند کا گلابی پن چھلک رہا تھا۔شہربانو نے ناگواری سے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔

’’جس سے فون پر بات کر رہا تھا۔ وہ سنیعہ ہے۔‘‘ایک دم اس نے عجیب سی بات کر دی۔شہربانو کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ سب وہ اسے کیوں بتا رہا تھا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے مزدک کرمانی کو دیکھا لیکن اس کے چہرے اور گہری سرمئی آنکھوں سے چھلکتی مدھر سی مسکان شہربانو کو بہت کچھ سمجھا گئی۔ اس نے محبت کی تو نہیں تھی لیکن محبت کے سب رنگ پہچانتی تھی۔

’’دیکھو…میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں تم سے یہ سب کہوں گا…لیکن شاید ایسا ہونا ہی تھا…اصل میں…‘‘وہ بڑے دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔ اس کے لہجے سے، اس کے چہرے کے ہر ہر عضو سے ایک میٹھی سی روشنی پھوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔ شہربانو اس کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن پتا نہیں اچانک کیا ہوا اس کی نظر مزدک کرمانی پر ٹھہر سی گئی۔گھنی مونچھوں تلے گلابی لب مسکرا رہے تھے گہری سرمئی آنکھوں میں بے پناہ جذبے ہلچل مچائے ہوئے تھے۔ شہربانو نے ایک مدت بعد اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ یہ تو سچ تھا وہ بے پناہ خوبرو تھا۔ مدتوں پہلے جب وہ گرجتا برستا بھی اس کے سامنے تھا تب بھی اس کے وجیہہ سراپے نے شہربانو کو سر اٹھانے نہیں دیا تھا لیکن دھیمے لہجے میں بولتا، مدہم سی مسکان کے ساتھ وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔

’’اے…بانو!…تم نے سنا میں نے کیا کہا۔‘‘اسے یوں چپ چاپ کھڑے دیکھ کر مزدک نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا تو وہ بری طرح چونک گئی۔ سچ تو یہ تھا وہ اس کی کوئی بات سن نہیں پائی تھی۔ پتا نہیں وہ کسی سحر کے اثر میں تھی کہ اسے احساس تک نہ ہوا تھا کہ وہ مزدک کرمانی کو ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی جس کے لیے آج سے پہلے اس کے دل میں کدورت کے سوا کچھ نہ تھا۔

’’سوری…میرا دھیان کہیں اور تھا…جی…کیا کہا آپ نے…‘‘ سر کو جھٹکتے ہوئے اس نے بمشکل خود کو مزدک کرنانی کو سننے کے لیے تیار کیا۔ مزدک نے ایک لمحہ رک کر اسے غیر حاضر سے انداز کو دیکھا اور اس کے لبوں پر ٹھہری دھیمی مسکان بہت گہری ہوگئی تھی۔

’’میں سنیعہ کی بات کر رہاتھا…دیکھو…ہمارے درمیان جو بھی ہوا…وہ غلط ہوا…لیکن اس وقت میں ایسے کسی رشتے کے لیے تیار نہیں تھا…قصوروار نہ ہوتے ہوئے بھی…‘‘

’’آپ اب کیا چاہتے ہیں۔؟‘‘شہربانو کو ماضی کے ذکر سے وحشت ہو رہی تھی۔ تبھی اس نے تیزی سے مزدک کا فقرہ کاٹا لیکن اس کا دل جیسے رک سا گیاتھا۔ اس کی خاموش دھڑکنیں کہہ رہی تھی مزدک کرمانی اب پہلے سے بھی کچھ برا کرنا چاہتا تھا۔

’’میں…میں کیا چاہتا ہوں…‘‘مزدک نے پرسوچ انداز میں اس کی سیاہ آنکھوں میں اترتے سناٹے دیکھے او رہمت کرکے گویا ہوا۔

’’میں چاہتا ہوں…تم یہ گھر چھوڑ دو…‘‘اس نے قطعی انداز میں اپنا فیصلہ سنایا لیکن شہربانو کی تو جیسے کسی نے روح ہی کھینچ لی۔ شہربانو کے لیے وہ آج بھی پہلے دن کی طرح سنگدل تھا۔ اس نے آہستگی سے اپنا رخ اس کی شکوہ کناں نظروں سے پھیر لیا اور ایک بار پھر اپنے الفاظ کی برچھیوں سے اسے چھلنی کرنے لگا۔ آج وہ چیخ چلا کر اپنا مدعا نہیں کہہ رہا تھا لیکن دھیمے لہجے میں کہے گئے الفاظ پہلے سے زیادہ تکلیف دہ تھے۔

’’شاید یہ مشکل ہو تمہارے لیے لیکن مجھے اس گھر میں ان لوگوں میں اپنا مقام واپس چاہیے۔ تمہارا گھر ہے اور اب تم اتنی میچیور تو ہی ہی ناں کہ وہاں جا کر رہ سکو۔اماں نے جتنا سہارا تمہیں دیا ہے۔ تمہارا بھی فرض بنتا ہے تم ان کے احساسات کا خیال کرو۔ وہ کہتی نہیں…لیکن ظاہر ہے ان کو میری ضرورت سب سے زیادہ ہے اور تم ہمارے درمیان…‘‘ مزدک بات کرتے ہوئے مڑا لیکن ایک پل کے لیے وہ دنگ ہی تو رہ گیا۔ اس وقت وہ بالکل اکیلا تھا وہ تو جانے کب سے اس کی بات غیر ضروری سمجھتے ہوئے وہاں سے جاچکی تھی۔ ایک پل کے لیے مزدک کا خون مارے غصے کے کھول اٹھا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ آن ٹھہری۔وہ ایک بہت مشکل مرحلہ طے کرچکا تھا۔ کم از کم اب سب کچھ اس کے اور شہربانو کے درمیان واضح ہو گیا تھا۔

  • Author

’’سنی!…یہ شہربانو کہاں ہے…؟‘‘بظاہر ا سنے اپنا لہجہ سرسری رکھا تھا لیکن سنی جس طرح حیران سا مڑا وہ انداز مزدک کو شرمندہ سا کرگیا۔ اصل میں کل رات سے اب تک وہ ایک بار بھی اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی۔ وہ اس کا ری ایکشن جاننا چاہتا تھا لیکن اس نے تو شاید مزدک کے سامنے نہ آنے کی قسم کھا رکھی تھی۔

’’وہ رانیہ کے ساتھ پارلر گئی ہیں…ابھی میں تھوڑی دیر میں ان لوگوں کو لینے جانے والا ہوں۔ایسا کرو تم ان کو پک کر لو…یہ ایڈریس ہے۔میں یہاں انتظام دیکھ لیتا ہوں…بارات آنے والی ہوگی…‘‘ سنی نے پہلی معنی خیز نگاہ کے بعد بہت سکون سے ایک وزیٹنگ کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھایا تو وہ کچھ بھی نہ بول پایا۔ کارڈ لے کر وہ پورچ کی طرف آگیاتھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرکے روم پر لانے تک وہ جیسے کسی سناٹے کی زد میں تھا۔ وہ سنیعہ سے کمٹ منٹ کر چکا تھا اور اسے ہرحال میں اپنا کہا نبھانا تھا اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔

’’آپ کو راستہ تو آتا ہے ناں…؟‘‘ایک دم جیسے سناٹا ٹوٹا تھا کسی کی گھبرائی ہوئی آواز بہت قریب سے ابھری تھی۔ مزدک کا پاؤں یکبارگی بریک پر پڑا اور اس نے سٹپٹا کر اپنے ارد گرد دیکھا۔اس کے تصور میں کل رات کا لمحہ لمحہ جاگ اٹھا۔وہ ایک دم سے اس کے کتنے قریب آگئی تھی۔ وہ چاہتا تو پچھلے سالوں کی تمام غلطیاں سدھارسکتا تھا۔ اس ڈری سہمی لڑکی کو اپنے اعتبار کا مضبوط سہارا دے سکتا تھا۔ وہ جو خود کو ڈرپوک کہلانے سے انکار کرگئی کیسے ایک ہی پل میں اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں خوف کے مارے برسنے لگی تھیں۔دوچار دن سے عجیب قصہ رونما ہوا تھا۔ وہ سامنے نہیں ہوتی تھی تو مزدک اس کے خلاف خوب ارادے باندھتا،اسے اپنی زندگی سے الگ کرنے کے ہزاروں حیلے سوچتا لیکن وہ سامنے آئی تو جیسے وہ سب بھولنے لگتا تھا۔ انیقہ چچی سچ کہتی تھیں جہاں وہ ہوئی تھی سارے ماحول پرچھائی ہوئی محسوس ہوئی تھی اور اگر رات بھی وہ اسے سنیعہ سے بات کرتے دیکھ نہ لیتی تو شاید وہ کبھی اسے گھر سے چلے جانے کا نہ کہہ پاتا۔ اب وہ اس کھیل سے تنگ آچکا تھا۔ وہ ہمیشہ دل کی ماننے والا انسان تھا۔ دل کی مان کر ہی تو وہ اتنے برسوں گھر اور گھر والوں سے دور رہا لیکن اس بار دل جو مطالبے کر رہا تھا۔ وہ ماننا تو کیا سننا بھی نہیں چاہتا تھا۔

’’راستے تو سبھی جانتا ہوں مسز مزدک کرمانی!…لیکن یہ طے ہے کہ اب دل کی نہیں مانوں گا…پہلے ہی بہت سزا کاٹی ہے…اب مجھے اپنا ہر حق واپس چاہیے۔‘‘گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے شہر بانو کو تصور میں مخاطب کیا تھا۔ یہ تو طے تھا وہ سنیعہ سے کیا ہر وعدہ نبھانے والا تھا۔ چاہے اس کا نتیجہ جو بھی نکلتا۔

گاڑی میںبیٹھنے سے گھر آنے تک اس نے ایک بھی بار نظر اٹھا کر مزدک کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ بڑے سکون سے رانیہ اور ثنا کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اور اس کے چہرے پر پھیلے سکون نے مزدک کا پارہ پوری طرح ہائی کر دیا تھا۔ یعنی اس کی کسی بات کا اثر لینا اس نے ضروری نہیں سمجھا۔

’’سنو…بانو! مجھے تم سے بات کرنی ہے…‘‘ رانیہ کو کمرے تک پہنچانے میں وہ ان کے ساتھ رہا اور جب اس نے شہربانو کو رانیہ کے پاس ہی بیٹھتے دیکھا تو بے ساختہ وہ بول پڑا۔ شہربانو کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا۔ اس نے گھبرا کر رانیہ کو دیکھا لیکن اس نے مسکراتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہاں بیٹھی مہمان لڑکیوں کا خیال کرکے اسے اٹھنا ہی پڑا۔اسے مزدک کے پیچھے نکلتا دیکھ کر سب لڑکیاں معنی خیزی سے ہنسنے لگی تھیں اور ان کی ہنسی شہربانو کے اعصاب پر کوڑے کی طرح لگی۔

’’کیا مسئلہ ہے آپ کو…؟‘‘وہ راہداری میں آتے ہی پھنکاری تو مزدک نے اس کے برابر رکتے ہوئے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈالی۔ ٹی پنک اور براؤن بھاری کام والے پشواز میں جھنجلاتی ہوئی وہ بڑی پیاری لگ رہی تھی۔ سانولے چہرے پر میک اپ کی تہوں کے باوجود پھیلی ناگواری صاف دکھائی دے رہی تھی۔ چند لمحے پہلے کا سکون اس پل قطعی مفقود تھا۔ اسے پریشان دیکھ کر مزدک کو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ اتنی دیر سے لاپرواہ نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اصل میں وہ کافی ٹینشن میں تھی۔

’’کیا میں نے کبھی تمہیں بتایا ہے…تمہاری آنکھیں…بے پناہ خوبصورت ہیں…‘‘ بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کو گرفت میں لیتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو شہربانو واضح طور پر لرزگئی۔ سب کے سامنے تو وہ لگاوٹ کا اظہار کر رہا تھا تو اس کی وجہ تھی کہ وہ سب کے سامنے خود کو اچھا بنا کر پیش کرنا چاہتا تھا لیکن اس طرح تنہائی میں کہا گیا فقرہ شہربانو کے حواس ٹھکانے لگا گیا۔ اس نے تیزی سے وہاں سے ہٹنا چاہا لیکن مزدک اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ تبھی اس نے تیزی سے اس کا بازو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس کے قریب جھکتے ہوئے اس کے چہرے پر پھیلے خوف اور گھبراہٹ کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔

’’سچ کہتا ہوں…تمہاری یہ سیاہ آنکھیں کسی بھی راہی کو اس کا راستہ بھولنے پر مجبور کر سکتی ہیں…ایسا سحر ہے ان میں کہ کوئی ان سے بچ نہیں سکتا…‘‘ اس پر جھکے ہوئے وہ خمار آلود لہجے میں بولتا چلا گیا اور شہربانو کی جیسے جان لبوں پر آگئی۔ مزدک کرمانی سے اس قدر قربت کا تو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ وہ بری طرح لرز رہی تھی اپنی یہ کمزوری اسے بالکل اچھی نہیں لگ رہی تھی۔

’’پلیز مجھے جانے دیں…کوئی آجائے گا۔‘‘ اپنے بازو کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کرتی وہ کمزور سے لہجے میں بولی تو مزدک قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔

’’اب مجھ سے یوں بیویوں والے ڈائیلاگ مت بولو تم…‘‘ مزدک کا استہزائیہ فقرہ اسے جھنجوڑ کر رکھ گیا۔

  • Author

’’مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کی بیوی بننے کا۔‘‘ وہ تنک کر اپنا بازو آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

’’اچھا…‘‘مزدک نے چھوڑنے کی بجائے اسے جھٹکے سے اور بھی قریب کر لیا۔ یوں کہ اس کے لہجے سے پھوٹتے شعلے شہربانو کو خود کو بھسم کرتے محسوس ہوئے۔

’’میری بیوی بننا نہیں چاہتی ہو اور میرے گھر پر حکومت قائم رکھنا چاہتی ہو…اتنی ہی نفرت ہے اس رشتے سے تو میرا گھر کیوں نہیں چھوڑ دیتی…چلی کیوں نہیں جاتی یہاں سے۔‘‘اس کے بازو کو بری طرح دبوچتے ہوئے وہ انتہائی درشت لہجے میں بولا تو ذلت کے احساس کے مارے شہربانو کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اسے لگا وہ ایک بار پھر سب کے سامنے لے جاکر اسے تماشہ بنادے گا۔ وہ لاکھ چاہ کر بھی اپنے اس خوف پر قابو نہیں پاسکی تھی۔

’’یہ میرا بھی گھر ہے…‘‘ وہ انتہائی پست لہجے میں بولی۔

’’ہوں…تمہارا کیسے ہوگیا یہ گھر۔تم یہاں میرے نام کی زندگی جی رہی ہو…میں چاہوں تو ابھی اور اسی وقت ہر حوالہ ختم کردوں…تم…‘‘اس فقرے پر شہربانو نے تڑپ کر اسے دیکھا اور بس مزدک کا فقرہ ہونٹوں میں ہی رہ گیا۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ٹھہرے آنسو مزدک کو سب بھلاگئے۔ وہ بس ایک پل ہی اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں دیکھ پایا اور اگلے ہی لمحے اس نے جھنجلا کر اس کا بازو چھوڑ دیا۔

’’چلی جاؤ یہاں سے۔ سیدھی طرح یہ گھر چھوڑ دو۔ورنہ میں تمہارا جینا مشکل کردوں گا۔‘‘ اس کی طرف بنا دیکھے وہ ناگواری سے بولا تو ایک لمحے کے لیے شہربانو نے ششدر سی نظروں سے دیکھا اور پھر جان چھوٹ جانے پر تیزی سے بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔

’’یہ سیاہ آنکھیں کسی بھی راہی کو اس کا راستہ بھولنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔‘‘چند لمحے پہلے اس نے محض شہربانو کو ستانے کے لیے یہ فقرہ کہا تھا لیکن دل میں ہوتی ہلچل نے اسے بے بس کر دیا تھا۔بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ٹھہرے آنسو دل کو عجیب کسک میں مبتلا کر رہے تھے۔

’’چلو۔ شکر ہے بھابھی!…آپ اس ذمہ داری سے بھی فارغ ہوگئیں…روانیہ ماشاء اﷲ اپنے گھر میں خوش ہے…‘‘ صالحہ پھوپو نے رانیہ کی کھلی صورت دیکھ کر کہا۔

’’ہاں…اﷲ کا کرم ہے صالحہ!…رانو تو کتنی پگلی سی ہے…کہیں اورجاتی تو جانے رشتے کیسے نبھاتی…یہ تو اپنے ہی گھر میں اس کا ساتھ بن گیا۔ بس اﷲ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔‘‘ فاطمہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن بات کرتے کرتے اچانک ان کی نظرشہربانو پر پڑی وہ غائب دماغی سے پلیٹ میں ڈالے ہوئے چالوں میں چمچ چلائے جا رہی تھی۔ اس کے انداز نے انہیں الجھا دیا۔ شادی کی مصروفیت میں انہوں نے اس پر غور ہی نہیں کیا تھا۔ وہ بڑی مرجھائی ہوئی لگ رہی تھی۔

’’تو آپ کیا کہتی ہیں صالحہ پھوپو!…یہ جو لڑکیاں ہوتی ہیں، یہ فیملی میرج میں زیادہ خوش رہتی ہیں…‘‘مزدک کے سوال پر فاطمہ بیگم نے چونک کر اسے دیکھا۔‘‘ شہربانو جتنی پژمدردہ لگ رہی تھی وہ اتنا ہی پرسکون تھا۔

’’بیٹا!…نصیب تو کوئی نہیں جانتا…لیکن فیملی میرج کا یہ فائدہ ہے کہ انسان کو اپنے خاندان کے سب بچوں کا پتا ہوتا ہے،بھروسہ ہوتا ہے۔‘‘صالحہ پھوپو نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا اور ان کے جواب پر جعفر کرمانی ہنسنے لگے۔ سب سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگے۔

’’دیکھو بھرجائی!…اپنا مزدک کتنا سیانا ہو گیا ہے۔ پتا ہے یہ کیا کہنا چاہتا ہے… کہ تم…‘‘

’’ابا جان!…ہو جانے دیں مجھے بھی سیانا۔ اب میرے ڈائیلاگ مجھے ہی بولنے دیں…اچھا…پھوپو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب فیملی میرج اتنی اچھی ہوتی آپ یہ اپنی پگلی سی آمنہ ہمیں کیوں نہیں دے دیتی ہیں…ہمارے سنی پر بھروسہ کریں وہ اتنا بھی برا نہیں۔‘‘ پورے ماحول میں اس کے الفاظ پر سناٹا چھا گیا۔ فاطمہ بیگم نے گھور کر مزدک کو دیکھا بھلا اتنی اہم بات یوں کی جاتی ہے لیکن اس کی مسکراہٹ میں ذرا فرق نہ آیا۔ وہ مسکراتی نظروں سے صالحہ پھوپو کو دیکھ رہا تھا اور صالحہ پھوپو پلیٹ پر جھکے سنی کو دیکھ رہی تھیں جو اس وقت اپنی فطرت کے برعکس کافی خاموش تھا۔

’’بات بھروسے کی نہیں مزدک!…‘‘صالحہ پھوپو ایک پل کو رکیں اور اس لمحے سنی کی جان لبوں تک آگئی۔ اس نے خوفزدہ ہو کر پھوپو کو دیکھا اور اسے یوں پریشان دیکھ کر وہ ہنس دیں۔

’’ڈر لگتا ہے تو یہ کہ فاطمہ بھابھی کا کیا قصور ہے۔ پگلے بیٹے کے بعد اب بہو بھی ویسی ہی لے آئیں لیکن میرا اس میں بہت فائدہ ہے۔کیوں بھابھی!…آپ میں ہے یہ حوصلہ…؟‘‘صالحہ پھوپو نے بڑی گھماپھر کر رضامندی دیتے ہوئے فاطمہ بیگم سے پوچھا۔

’’کیوں نہیں یہ حوصلہ تو کرنا ہی پڑے گا…ارے رانو!…آمنہ کے منہ میں کچھ ڈالو…کھلا ہوا ہے…اور اسے یہاں سے لے جاؤ…آخر اس کے رشتے کی بات ہو رہی ہے…‘‘فاطمہ بیگم

  • Author

نے بھی ہنستے ہوئے کہا تو سارا ماحول جیسے ایک دم زعفران زار بن گیا۔ سب سنی کو تنگ کر رہے تھے جو ابھی تک اس اچانک سیچویشن پر دم بخود تھا اور اس سے پہلے کہ وہ ہش میں آتا سب نے اس خوب مذاق کیا۔فاطمہ بیگم کا دل خوشی سے بھرا جا رہا تھا آج سے پہلے کبھی اتنی خوشیاں ان کے گھر میں نہیں آئی تھیں اور یہ سب مزدک کی بدولت تھا۔ آخر مزدک نے بڑا بیٹا ہونے کا حق ادا کر دیا تھا۔ ہر چہرے پر خوشی تھی،سکون تھا۔ سب کو دیکھتے وہ ایک بار ٹھٹک گئیں۔ شہربانو کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکان تھی لیکن اس مسکراہٹ میں خالی پن تھا۔ شہربانو انہیں بے حد عزیز تھی اور انہوں نے آج سے پہلے کبھی اسے یوں اداس نہیں دیکھا تھا۔ ان کا بس چلتا تو سب سے پہلے اس کا دامن خوشیوں سے بھردیتیں لیکن وہ چاہ کر بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی تھیں۔

’’شازی!…میں تیری امانت سنبھالنا چاہتی ہوں…لیکن اس کی مرجھائی صورت مجھے احساس جرم میں مبتلا کر رہی ہے…تو ہی بتا میںکیا کروں۔‘‘فاطم بیگم ایک بار پھر مزدک اور شہربانو کی وجہ سے امتحان میں پڑگئی تھیں۔ پتا نہیں اس بار فیصلہ کس کے حق میں ہونا تھا۔

دروازے پر ہوتی دستک پر اسے حیرت سی ہوئی۔ دروازہ ناک کرکے آنے والا کون ہو سکتا تھا۔

’’سنی!…دروازہ کھلا ہے…ڈرامے مت کرو اس وقت…‘‘اس نے بیزاری سے بنا کتاب سے نظر ہٹائے کہا تو دروازہ ہولے سے کھلا اور ساتھ ہی شہربانو کی نظر بھی اٹھی لیکن اندر داخل ہونے والیل ہستی نے اسے ساکت ہی تو کر دیا۔ پچھلے دین دن وہ اس سے بالکل لاتعلق رہا تھا۔ نہ کوئی سوال جواب، نہ کوئی فضول بات لیکن اس لمحے وہ اس کے کمرے میں کھڑا تھا۔ ڈراک براؤن کرتا شلوار میں وہ ہمیشہ والے مزدک کرمانی سے قطعی مختلف لگ رہا تھا۔ گہری سرمئی آنکھوںو میں نرم سی مسکان تھی اور وہ بڑے دھیان سے شہربانو کے چہرے کے اتار چڑھاؤ جائزہ لے رہا تھا۔

’’آپ یہاں کیاکرنے آئے ہیں؟‘‘شہربانو نے بمشکل حواس بحال کرتے ہوئے سوال کیا تو وہ چھوٹے چہوٹے قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب آگیا اور بڑے دھیمے سے لہجے میں گویا ہوا۔

’’کیوں…بیوی ہو تم میری…کافی دیر سے نظر نہیں آئی تو سوچا خود آجاؤں تمہیں دیکھنے کے لیے۔‘‘ لگاوٹ سے کہتا وہ اس کے برابر بیڈ پر بیٹھ گیا تو شہربانو کو جیسے کرنٹ لگا۔ وہ تیزی سے بیڈ سے اتری اور اس سے قدر فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ مزدک کے ہونٹوں پر پھیلی معنی خیز مسکراہٹ نے اسے طیش دلا دیا۔

’’فوراً نکل جائیں آپ میرے کمرے سے…اگر آپ نے مجھے تنگ کیا تو میں خالہ کو شکایت کر دوں گی۔ آپ سمجھتے کیا ہیں۔میں آپ سے ڈر جاؤں گی۔یہ میرا گھر ہے اور مجھے یہاں سے آپ نہیں نکال سکتے۔میں نے خالہ سے کہا تو…‘‘

’’میں تو چاہتا ہوں…تم اماں سے کہو…لیکن یاد رکھنا اس بار اماں بھی وہ سنیں گی جو میں کہوں گا۔تم نے دیکھا نہیں آج۔ میں نے تم سے اپنے سارے اختیار واپس لے لیے ہیں۔ اب سب وہ کرتے ہیں جو میں کہتا ہوں۔ سنی تو تمہارا بیسٹ فرینڈ ہے ناں…لیکن آج اسے یاد بھی نہیں تھا کہ تم وہاں ہو بھی یا نہیں…یہی سچ ہے مسز مزدک کرمانی کہ تم اب اس گھر کے لوگوں کے دل سے اتر چکی ہو اور میں…‘‘

’’نہیں…ایسا کبھی نہیں ہو سکتا…یہ میرا گھر ہے…اور وہ لوگ میرے اپنے ہیں…جانتی ہوں ابھی آپ نے سب کو اپنے بس میں کر لیا ہے…لیکن اتنا یاد رکھیے گا مزدک!…کہ میں مر کر ہی اس گھر سے جاؤں گی۔ سب جان لیں گے آپ کے اس نیک اور شریف چہرے کے پیچھے چھپے فریب کو…اور پھر…پہر کیا کریں گے آپ۔‘‘ شہربانو پچھلے دنوں پریشان ضرور رہی تھی لیکن اس گھر اور گھر والوں سے اس کا رشتہ اتنا گہرا ضرور تھا کہ کوئی یوں بلاجواز یہ رشت نہ توڑ سکتا تھا لیکن شہربانو کے الفاظ پر بجائے پریشان ہونے کے مزدک ہنستے ہوئے بیڈ پر نیم دراز ہوگیا اور اس نے اپنی گہری سرمئی آنکھیں شہربانو پر ٹکادیں۔

’’میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا گنوار!…کہ تم اتنا اچھا بولنے لگی ہوگی…کتنی میٹھی ہے تمہاری آواز…دل چاہتا ہے تم تمام عمر بولتی رہو اور میں سنتا رہوں…‘‘گہری سرمئی آنکھوں میں اترتا خمار شہربانو کا خون کھولا گیا تھا۔ اس کا دل چاہا وہ اس شخص کا خوبصورت چہرہ نوچ ڈالے۔ اسے ذرا بھی کسی کے جذبات کا احساس نہیں تھا۔ وہ بری طرح تپ چکی تھی۔

’’اب تو میں آپ کو ایک سیکنڈ بھی اپنے کمرے میں برداشت نہیں کر سکتی۔اس سے پہلے کہ میں خالہ کو آوازدوں نکل جائیے۔‘‘ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درشت لہجے میں کہا لیکن مزدک نے بجائے اٹھنے کے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے برابر بیڈ پر بٹھادیا۔ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ شہربانو خود پر قابو نہ رکھ سکی اور کسی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح اس کے پہلو میں آن گری۔ اس کے بازو کو گرفت میں لیتے ہوئے اس نے شہربانو کے فرار کے سارے راستے مسدود کر دیے اور پھر خوف کے مارے پھٹی ہوئی اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شرارت سے گویا ہوا۔

’’تم پر…تمہارے کمرے پر…بلکہ تمہاری ہر چیز پر میرا اتنا اختیار ہے کہ تمہاری خالہ تو کیا…دنیا کی کوئی طاقت مجھے چیلنج نہیں کر سکتی کہو تو ابھی ثابت کرکے دکھاسکتا ہوں۔میں فریبی ہوں…جھوٹا ہوں ناں…اتنی زبان تو کبھی کسی نینہیں چلائی میرے سامنے…لیکن پتا نہیں کیا بات ہے آج کل تمہاری ہر بات اچھی لگتی ہے…تمہاری بدتمیزیاں…تمہاری غصے پھولتی ناک اور

  • Author

تمہاری یہ…سیاہ آنکھیں…مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم سے عشق نہ کر بیٹھوں۔‘‘ وہ اس کی گرفت میں تڑپ رہی تھی خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی اور مزدک نہ جانے اسے تنگ کرنے کے لیے کیا سے کیا بولے چلا جا رہا تھا۔

’’ہاں…کر بھی سکتے ہیں آپ تو عشق۔ ایک بار کیا ہزار بار۔پہلے روحمہ…پھر سنعیہ…اور اب…لیکن چاہے آپ جو بھی کریں مجھے اس گھر سے نہیں نکال سکتے۔ سمجھے آپ…‘‘اس کے ہاتھ سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے وہ تڑخ کر بولی۔

’’اوہ…واہ…بڑی ہی دلیر ہو…اور سمجھدار بھی…لیکن مجھے تمہاری یہ بدتمیزی بالکل پسند نہیں…اس کی سزا تو تم کو بھگتنا ہی ہوگی۔‘‘اس کے الفاظ نے مزدک کو بھڑکادیا۔ اس نے انتہائی سنجیدگی سے یہ فقرہ بولا تو شہربانو کانپ کر رہ گئی۔

’’پلیز…میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا…مجھے…‘‘

’’یہی تو چاہتا ہوں…تم کچھ بگاڑ نہ پاؤ…‘‘ اس کی التجا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ آہستگی سے اس پر جھکا،اسے اتنا قریب دیکھ کر شہربانو پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ کوئی راہِ فرار نہ پاکر اس نے اپنی آنکھیں سختی کے ساتھ میچ لیں۔ مزدک نے اس پر جھکے ہوئے ایک پل کو اس کے کپکپاتے وجود کا بھرپور جائزہ لیا۔ وہ پہلے کی نسبت بالکل بدل گئی تھی۔ سیڈول بدن، سانوالا چہرہ، لمبے گھنا بال جو اس پل بیڈ پر پھیلے ہوئے تھے۔ وہ اس لمحے پوری طرح اس کے اختیار میں تھی۔ مزدک کا دل چاہا وقت یہیں رک جائے اور یہ لمحے امر ہو جائیں لیکن اس کے کانپتے لب اور بند آنکھوں سے بہتے آنسو اس کی بے بسی کا پتہ دیتے تھے اور کسی کی بے بسی کا فائدہ اٹھانا مزدک کی سرشت میں نہیں تھا۔ اس نے نرمی سے اپنے جلتے ہوئے لب اس کی پیشانی پر رکھ دیے اور اس لمحے مزدک کو لگا آج وہ مکمل ہو گیا۔ دنیا کا ہر غم، ہر پریشانی اس لمحے ختم ہوگئی۔ ایک عجیب سی سرمستی تھی جو اسے رگ و بے میں اترتی محسوس ہو رہی تھی اور اس سے پہلے کہ جذبات کا سمندر بس میں نہ رہتا وہ تیزی سے سیدھا ہوا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے کمرے سے نکل گیا۔اس کے جانے کے کتنے ہی لمحے بعد تک شہربانو بے جان سی پڑی رہ گئی۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ طوفان ٹل گیا ہے۔ اس کے ہاتھ میکانکی انداز میں اپنی پیشانی تک آئے مزدک کرمانی سے ایک بار پھر وہ شکست کھاچکی تھی۔پیشانی پر دہکتے لمس نے اسے احساس دلا یاتھا کہ اس بار شکست بہت خوفناک ہوئی تھی۔اپنی بے بسی پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی لیکن اب شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔ مزدک کرمانی کا منتر اس کی روح میں اترچکا تھا۔ وہ چاہتی بھی تو اس درد سے نجات نہیں پاسکتی تھی۔

٭٭

’’سیدھی طرح یہ گھر چھوڑ دو…ورنہ میں تمہارا جینا مشکل کرد وں گا۔‘‘ اس نے یہی کیا تھا اس پر آگہی کا ایسا در کھول گیا تھا کہ وہ خود سے بھی نظر نہیں ملا پائی تھی۔ زندگی کے وہ بے درد لمحے جیسے ٹھہرگئے تھے۔ وہ اپنی ضد میں اس کی ذات کا غور مٹا گیاتھا لیکن وہ پھر بھی اس سے نفرت نہیں کر پا رہی تھی۔

’’شہربانو!…تم یہاں کیا کر رہی ہو…؟‘‘روحمہ کی آواز پر وہ اس بری طرح چونکی کہ روحمہ شرمندرہ سی ہوگئی۔

’’میں نے ڈرا دیا ناں تم کو…سوری… اب کیسی طبیعت ہے۔شکر ہے ٹمپریچر تو کم ہوا۔ کیا ہوگیا ہے تم کو شہربانو۔ دو ماہ ہوگئے لیکن تمہاری چپ نہیں ٹوٹی۔ مجھ سے تو کہو میری جان ہوا کیا ہے۔ کچھ فاطمہ آنٹی کا سوچو۔ بیچاری کتنی پریشان ہیں اور گھر پر بھی کتنا سناٹا چھایا ہے۔ تم ہی تو اس گھر کی جان ہو…اور اگر…

’’میری جان مزدک کرمانی نکال کر لے گیا ہے روحمہ اور اگر کبھی ملے تو ضرور پوچھنا۔می ںنے اس کا کیا بگاڑا تھا کہ وہ مجھ سے اتنی نفرت کرتا ہے۔‘‘سپاٹ لہجے میں اس نے یہ فقرے کہے اور وہاں سے اٹھ کر اندر چلی گئی اور روحمہ اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی۔ مزدک کے ایک دم چلے جانے نے اسے شک میں تو مبتلا کیا تھا لیکن واپس جاکر اس نے ایک بار پھر سب سے قطع تعلقی کر لی تھی کہ کوئی چاہ کر بھی نہیں جان پایا تھا کہ اس رات ہو کیا تھا۔

زندگی معمول پر آنے لگی تھی۔اس نے مزدک کرمانی کے غم کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ پہلے وہ گیا تھا تو شہربانو نے شکر کی سانس لی تھی لیکن اب دن بدن وہ گھلتی جا رہی تھی۔ اس کے سامنے ایک بار پھر کوئی مزدک کا نام نہیں لیتا تھا لیکن اب اس کا اپنا دل ہر پل اسی کے نام کا ورد کرنے لگا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ مزدک کرمانی کی زندگی میں وہ کوئی مقام نہیں رکھتی لیکن دل تھا کہ کچھ سننے کو تیار نہ تھا۔ اب بھی اس کی پیشانی پر اس بے دد کا لمس دہکتا تھا۔ اب بھی اس کا گھمبیر لہجہ اس کے کانوں میں گونجتا تھا۔ اب بھی اس کی ساحر آنکھیں شہربانو کو روح میں اترتی محسوس ہوتی تھیں اور ایسے لمحوں میں وہ بے پناہ روتی آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے اور ایسے میں اسے مزدک کرمانی کا جھنجلایا ہوا لہجہ یاد آجاتا۔

’’باقی کے آنسو بچا کر رکھ لو…میں مر جاؤں تو پھر رو لینا۔‘‘اور یہ خیال اس کی جان جلا کر رکھ دیتا۔کتنا سنگ دل تھا وہ۔اسے ذراپرواہ نہ تھی کہ کسی کے لیے اس کے الفاظ کتنے تکلیف دہ ہو سکتے تھے۔

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.