Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

عشق دیندا ہے رولا

Featured Replies

انسیسٹ کو اگر پڑھنے کی حد تک دیکھا جائے تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے مگر جب بات فورم کے اصول اور ضوابط کی آجائے تو اسے فوقیت حاصل  ہے۔ پرائیویٹلی سب ہی اسے پڑھنا چاہتے ہیں ویسے۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

اب یہ تو بتا دیں پرائیویٹ فورم ملے گا کہاں سے میں تو نیا ہوں اور یہ سٹوری بھی بہت اچھی لگی ہے تو اب کیا کیا جائے اسے پڑھنے کےلئے

  • Author

dosto intezar Ki gharian khatam ap sb ke pyar or request se admin sb ne mujhe kahani post kerne Ki ijazat de di he ab yahan kahani post hu GI admin humin aik private form dain ge Janan per ap sb ye kahani Perh sake ge thanks for supporting Me 

12 hours ago, dangeroush said:

dosto intezar Ki gharian khatam ap sb ke pyar or request se admin sb ne mujhe kahani post kerne Ki ijazat de di he ab yahan kahani post hu GI admin humin aik private form dain ge Janan per ap sb ye kahani Perh sake ge thanks for supporting Me 

Yeh to achi khabr ha 

15 hours ago, dangeroush said:

dosto intezar Ki gharian khatam ap sb ke pyar or request se admin sb ne mujhe kahani post kerne Ki ijazat de di he ab yahan kahani post hu GI admin humin aik private form dain ge Janan per ap sb ye kahani Perh sake ge thanks for supporting Me 

Bhai phir bnao private or yahan link bhi do

📢 Post Your Ad Here
  • Author

قسط نمبر7:۔ 
تھوڑی دیر بعد پھر دروازے پر دستک ہوئی اور ناز اندر آگئی آج تو وہ شعلہ جان بنی ہوئی تھی شاہد خصوصی تیار ی کر کے آئی تھے جیسے اس کی سہاگ رات ہے ہلکا سا ریڈ فٹنگ والا سوٹ پہنا تھا جس میں اس کے جسم کا خاص کٹاؤ واضح نظر آرہے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ابھی ممے اور گانڈ باہر نکلی آئے گی۔ میں نے بولا کیا بات ہے بولی چھوٹی بی بی نے بھیجا ہے کہ آپ نے بلایا ہے ساتھ ہنس رہی تھی۔ میں نے بولا تم کو ابو نے میرے لیے بولا تھا بولی نہیں مجھے چھوٹی بی بی نے بولا تھا تو میں بول تم نے کہا تھا کہ بڑے سردار نے بھیجا ہے بولی کہ بی بی نے بولا تھا ایسا کرنے کو میں بولا اچھا ٹھیک ہے وہ کمرے میں آئی ہی تھی کہ میرا لوڑے نے حرکت شروع کردی تھی۔ میں نے اس کو پکڑ کر بازوؤں میں کس لیااور اس کے گانڈ سے پکڑ کر اٹھا لیا اور کسنگ شروع کرلی آج اس کی کسنگ میں جنون تھا میں بھی پیچھے کہا رہنے والا تھا میں بھی اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا جب اس کا سانس بہت زیادہ پھول گیا تو اس نے ہونٹ الگ کیے میں نے اس کو نیچے اتارا اور اس کی قمیض کو پکڑ کر اتار دیا اور ساتھی ہی برا بھی اتار دی اور اس کے خربوزے سائز مموں پرٹوٹ پڑا اس نے سسکنا شروع کردیا۔ میں کبھی اس کے مموں کو چوستا کبھی کاٹتا کبھی پکڑ کر مسلتا وہ فل مزے میں سسکیاں لے رہی تھی۔میں نے اسکوبیڈ پر گرایا اور اس کے اوپر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹو ٹ پڑا کسنگ کرتا پورے منہ پر چاٹ لیا اور دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسل رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لوڑے کو ٹراؤزر کے اوپر سے پکڑ لیا اور مسلنے لگ پڑی جس سے میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا وہ میرے نیچے پڑی ایک چھوئی موئی سے لڑکی لگ رہی تھی حالانکہ اس کے عمر 35سال تھی وہ پوری مست رانڈ تھی میں نے زبان اس کی ناف میں ڈالی تو وہ مچل گئی میں نے اس کی ناف کو پورا بھر دیا پھر میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے تنگ پاجامہ کو پکڑ کر اتار دیا تو اس کی پانی سے بھر ی پھدی میرے سامنے آگئی میں نے پہلے تو ایک انگلی اس کی پھدی کے درمیان میں پھیری جو کہ پوری گیلی ہوگئی اس کو منہ میں لے کر چوسا پھر اس کی پھدی پرٹوٹ پڑا پتہ نہیں کیا تھا میرا دل کررہا تھا کہ پھدی کو کھاجاؤں اس کا ذائقہ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ہلکا سالٹی سا میں جیسے جیسے اس کی پھدی کے دانے کو چوستا وہ مچلتی اور زورز زور سے سسکتی پھر اچانک اپنی دونو ں ٹانگیں اوپر کو اٹھا دیں جس سے اس کی پھدی کا منہ میرے منہ سے سٹ گیاپھر ایک فوراہ نکلا جو سیدے میرے منہ میں گیا اور باقی میرے چہرے پر پھر وہ پرسکون ہوگئی تھوڑی دیربعد بولی اب تم ماسٹر بنتے جارہے ہو میں بول ٹیچر ایسی ہو تو بندہ ماسٹر بن جاتا ہے پھر میں نے اپنا ٹراؤزر اتار ا تو وہ بھی بھوکی کتیا کی طر ح میرے لن پر ٹوٹ پڑی او ر جتنا ہوسکتا تھا چوسنے لگ پڑی میں آرام سے بیڈ پر لیٹ گیااور مزے کی وادیوں میں گم ہوگیا کچھ دیر بعد اس نے میرے لن پر کافی سارا تھوک پھینکا اور میرے اوپر آگئی پہلے کسنگ کرتی رہی پھر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا اور اس پر آہستہ آہستہ بیٹھتی گئی جب میرا آدھا لن اندر چلا گیا تو رک گئی پھر اوپر نیچے ہونے لگ پڑی اور آہستہ آہستہ لن اندرلیتی رہی پھر تھوڑا سا جب رہ گیا تو ایک جھٹکا مارا جس سے سارا اس کے اندر تھا آج اس نے خو د ہی میرا سارا لوڑا اپنے اند ر اتار لیا تھا مجھے اس کی گرم پھدی محسوس ہو رہی تھی جب اس کی گرم اور لیسدار پھدی کی رگڑ میرے لن پر لگتی تو میری مزے کے مارے سسکاری نکل جاتی اس کے آواز میں جوش بڑھتا جارہا تھا پھر مجھے لن پر گیلا پن محسوس ہوا اور وہ میرے اوپر چیختی ہوئی لیٹ گئی کچھ دیر بعد میں نے اس کو بازوؤں میں کسا اور گھمایا تو اب میں اس کے اوپر تھا اور وہ میرے نیچے تھی میں نے دھکے لگانے سٹارٹ کردیے میں نے سپیڈ سلو رکھی کچھ دیر بعد اس نے بھی گانڈ کو میری طرف کرنا شروع کردیا میں نے سپیڈ بڑھا دی اس نے سسکنا شروع کردیا آرام سے کرو ہاں مزا آرہا ہے زور سے کرو میں بھی فل سپیڈ میں دھکے لگا رہا تھا اب میں طوفانی دھکے لگا رہا تھا اس نے چیخنا شروع کردیا ہائے مر گئی روکو میں نہیں رکا پھر اس نے پانی چھوڑ دیا وہ اب بے جان ہوگئی میں نے اس کو پکڑ کر گھمایا اور اس کی کانڈ پر تھوک پھینکا اور لن کی ٹوپی اوپر رکھی تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا مجھ میں زیادہ جان نہیں بچی میں نے ایک دھکا مارا تو میرا آدھا لن اس کے اندر تھا پھر دوسرا اور تیسرا دھکا مارا تو اس کے منہ سے چیخ نکلی میں نے اب بنا رکے اس کے گانڈ کا بھرتا بنانا شروع کردیا تھا اور آہستہ آہستہ میں بھی منزل کی طرف آرہا تھا اب وہ بس برداشت کررہی تھی کہ کسی طرح میں فارغ ہوں اس کی شدید درد ہورہا تھا اور وہ درد سے چیخ رہی تھی میں نے اب اس کی گانڈ کو پکڑ کر او ر رفتار تیز کردی پھر مجھے اپنی جان لن میں جاتی ہوئی محسوس ہوئی اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی گانڈ میں جھٹکے کھانے شروع کردیا نیچے جب میرا گرم پانی اس کی گانڈ میں گیا تو وہ پھر ایک بار فارغ ہوگئی۔ میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور لمبے سانس لینے لگ پڑا وہ نیچے ایسے پڑی تھی کہ جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔ میں نے اس کی گانڈ سے لن نکالا تو پھک کی آواز آئی اس کی گانڈ کا سوراخ کافی کھلا ہوا تھا پھر آہستہ ااہستہ بند ہو رہا تھا میرا لن ابھی بھی سیمی حالت میں تھا میں ایسے ہی ننگا فریج تک گیا ملک شیک پیا اور ایک گلاس اس کو دیا بولی میری جان نکال دی ہے میں نے بولا نہیں نکلتی تم کی جان آج تک کوئی مرا ہے اس سے بولی تم نے مجھے ضروری مار کے چھوڑ نا ہے مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میرا سارا اندر زخمی ہوگیا ہے ایک تو تم کا اتنا بڑا ہے اور دوسرا تم فارغ ہی نہیں ہوتے بڑے سردار بھی جوانی میں ایسے ہی تھے میں اس کی یہ بات سن کے حیران ہوگیا بولا کیا مطلب بولی تم اپنے ابو کی جوانی کی کاپی ہو وہ بھی ایسے ہی تھے جب انہوں نے پہلی بار کیا تھا تو ایسی ہی حالت ہوئی تھی میری تم تو ان سے بھی ایک ہاتھ آگے ہومیں بولا کیا تم ابو کے ساتھ بھی وہ بولی بہت سے راز ہیں اس حویلی کے یہ بھی میرے منہ سے نکل گیا۔ ابھی وہ اور میں ننگے ہی تھے اور میرے لن سے پھر سے انکڑائی لی اس نے دیکھا تو بولی کیوں مجھے مارنے پے تلے ہوئے ہو میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی نہ بابا نہ پہلی بار تم نے اتنا ٹائم لگایا دوسرے بار تو تم مارکے ہی دم لو گے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور اس کو پکڑ کر گرا دیا اور اس سے کسنگ شروع کردی ساتھ ممے مسلنے لگا اور پھر میں نے لن کو اس کے 38سائز کے ممو ں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے منہ کھول لیا میرا لن اس کے چکنے مموں کی لکیر سے رگڑ کھا کر اس کے منہ کی طرف جاتا جس کو وہ اپنے منہ میں لیتی پھر نے اس کو گھوڑی بنا دیا اور لن اس کی پھدی کے منہ پر رکھا جس سے پانی بہ رہا تھا ایک جاندار دھکا مارا اس کی چیخ نکل گئی میں نے پروا ہ نہ کرتے ہوئے دوسرا دھکا مارا سارااندر کردیا بولی آرام سے کرو کیوں میرا اندر پھاڑنا ہے میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی جس میں جاتا ہے اس کو پتہ لگتا ہے کہ کچھ ہوتا ہے یا نہیں میں نے شروع سے ہی رفتار تیز رکھی میری سٹیمنا والی ٹریننگ کام آرہی تھی میں کبھی اس کی پھدی میں ڈالتا کبھی گانڈ میں وہ بہت بری طرح تھک چکی تھی اور چیخ رہی تھی اس دوران وہ کئی بار فارغ ہوئی مجھے اس کو چودتے ہوئے 70منٹ ہوچکے تھے اس کے تینوں سوراخ میں نے باری باری چودے منہ کو بھی چودا اورآخر کار اس کی گانڈ میں فارغ ہوگیا اور لیٹ گیا اور ایسے ہی نیند کی وادیوں میں چلا گیا صبح دروازہ زور زور سے بجا یہ پہلی بار تھا کہ کوئی اٹھانے آیا ہو ورنہ میں خود اٹھ جاتا تھا اٹھ کر دیکھا تو ایسے ہی ننگا پڑا تھا اور ساتھ میں ناز بھی ایسے ہی بے سد ھ پڑی تھی میں نے پوچھا کون ہے تو چھوٹی ماں کی آواز آئی دروازہ کھولو میں ہوں میں نے جلدی سے چادر ناز پر ڈالی اور خود ٹراؤزرپہن کر دروازہ کھولا بولی کیا بات ہے آج جم نہیں گئے میں بولا تھوڑی طبیعت خراب ہے بولی ایسا کبھی نہیں ہوا تم کی طبیعت خراب بھی ہو تو تم جاتے ہو پھر اندر آئی اور بولی مجھے پتہ وہ ناز ابھی تک یہیں خان جی اٹھ کر گئے تو میں بھی اٹھ جاتی ہوں آج تم نہیں نکلے تو مجھے لگا تم کو اٹھا دوں کوئی اور نہ اٹھ جائے بولی لگتا ہے رات بھر نہیں سوئے میں بولا سوگیا تھا بس آج نیند سخت آئی چھوٹی ماں بولی آئے گی رات بھر جو اس بیچاری کا ستیاناس کیا ہوگا اتنے میں ناز بھی اٹھ بیٹھی اور جب بیڈ سے اٹھنے لگی تو گر پڑی چھوٹی ماں نے سنھبالہ بولی لگتا ہے اس کی اچھی خاطر مداری کی ہے تم نے میں ہنس دیا ناز کو بولی جلدی چلو کوئی اور اٹھ گیا تو غضب ہوجائیگا۔ ناز کپڑے پہن رہی تھی تو میرا لن ٹراؤزر میں تمبو بننا شروع ہوگیا جس کو چھوٹی ماں نے بھی محسوس کرلیا میں جلدی سے گھوم گیا ناز کو بولی جلدی چلو یہ نہ ہو پھر اندر ہی رہنا پڑے اور ہنس پڑی ناز بھی جلدی سے گدم باہر کی طرف بڑھائے میں جلدی سے جم کی طرف گیا ابو بولے کیا بات ہے آج لیٹ آئے میں بولا بس زرا طبیعت خراب تھی بولے آرام کرلینا تھا اب تم سردار ہو اب تم ایک دن ناجم آؤ تو کچھ نہیں ہوگا میں بولا نہیں اب تو بچپن کی عادت ہے رہا نہیں جاتا بولے یہ بات تو ہے خیر اسی طرح جم ختم کی اور گھر کی طرف چل پڑا۔ 

 

  • Author

قسط نمبر8۔
 گھر پر سب ناشتے کی ٹیبل پر تھے چھوٹی ماں بھی تھی ان کی اور میری نظرے ملی تو دونوں کی ہلکی سے سمائل نکل گئی سب نے مل کر ناشتا کیا میں اٹھنے لگا تو نمو بولی کے افی مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے میں بولاابھی پروسوں ہی تو تم کی دوست کی برتھ ڈے پارٹی تھی اب کو ن سی دوست ہے  تو نمو بولی دوسری دوست ہے میں بولا ٹھیک ہے جاتے ہیں۔ اور امی بولی بیٹا اب وہ سردار ہے کیا تم اس کے ساتھ گھومتی رہوگی اب اس کو کئی کام ہوں گے تو میں بولا امی کوئی بات نہیں میں دنیا کے لیے سردار ہوں لیکن آپ سب کے لیے میں افی ہی ہوں میں باہر نکلا گاڑی کی بجائے بائیک نکالی کیونکہ مجھے بائیک زیادہ پسند تھی اور نمو نے مجھے بائیک ہی گفٹ دی تھی اب پہلی بار اس کے ساتھی اسی کی گفٹ دی ہو ئی بائیک پر جارہے تھے۔ نمو نے ایک جامنی کلر کا سوٹ پہنا تھا نیچے ہیل والی جوتی تھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ راستے میں ایک جگہ سڑک ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے جمپ لگ رہے تھے تو نمو میرے ساتھ چپک گئی اس کے نرم نرم ممے  مجھے اپنی کمر پر محسوس ہو رہے جس سے میرے ہوش گم ہو رہے تھے کسی نہ کسی طرح خو دکو قابو کر کے بائیک چلارہا تھاسوچ رہا تھا گاڑی لے آتا خیر ہم شہر پہنچے ایک مال میں گئے وہاں سے گفٹ پسند کیے ایک بریسلٹ مجھے پسند آیا جو میں نے نمو کو لے کر دیا ایک بریسلٹ میں نے چھوٹی ماما کے لیے خریدا لیکن نمو سے نظر بچا کر۔پھر باہر نکلے سٹرک کے کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جس سے برگر کھانے لگے انہوں نے ندی کے کنارے کرسیاں لگا کر جگہ بنائی ہوئی کافی خوبصورت لوکیشن بنائی گئی تھی مجھے واش روم آیا میں واش روم کی طرف گیا جب واپس آیا تو تین لڑکے نمو کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھے اس سے بد تمیزی کر رہے تھے۔ میں چلتا ہوا ان کے پاس گیا تو نمو ان سے کہہ رہی تھی اگر اپنی جان پیاری ہے تو یہاں سے جلدی چلے جاؤ اگر وہ آگیا تو تم کا بھاگنا ناممکن ہوجائے گا۔ اتنے میں میں ان کے سرپر پہنچ گیا انہوں نے چونک کر مجھے دیکھا میری باڈی وغیرہ دیکھ کر پہلے تو رک گئے پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ بولے اچھا تو یہ ہے جس کی وجہ سے اچھل رہی ہے ان میں سے ایک نے بولا چل نکل یہاں سے دو دن بعد آکر اسے اسی جگہ سے لے جانا اب یہ بلبل ہمارے پاس رہے گی ہماری خدمت کرے گی میں نے کہا یا چھوڑو اس کے میں تم کے ساتھ چلتا ہوں جو خدمت بولو گے کردوں گا وہ سب ہنسنے لگ پڑے بولے لڑکا بھی چالولگتا ہے اس کو بھی لے چلتے ہیں میں نے نمو کو آنکھ ماری کیوں کہ میں یہاں اتنی پیاری جگہ پر کوئی  توڑ پھوڑ نہیں چاہتا تھا وہ بھی میری بات سمجھ گئی باہر ان کی جیپ کھڑی تھی تھے ہم ان کی جیپ میں پچھلی طرف بیٹھ گئے ان میں سے دو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھ گئے ایک ڈرائیو کرنے لگا جو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھا تھا اس نے نمو کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو میں بولا یہاں نہیں یار جو بھی کریں گے منزل پر پہنچ کر یں گے وہ بولے بڑا بہترین مال لیے پھر رہے ہو ہمارے  ساتھ رہو عیش کروا دیں گے اور پیسے بھی کما لوگے میں ہنس دیاوہ ایک کوٹھی کے سامنے رکے ایک جو ہمارے ساتھ بیٹھا تھا نیچے اترا گیٹ کا تالا کھولا اس کا مطلب تھا کہ ان تینوں کے علاوہ یہاں کوئی نہیں تھا۔ ہم اندر آگئے اس نے گیٹ بند کر دیا اندر حال میں پہنچے تو انہوں نے اے سی آن کیا نمو بالکل میرے ساتھ لگ کر کھڑی تھی اس کو پتہ تھا اب ان تینو ں کا کیا حال ہونے والا تھا۔ ان میں سے ایک نمو کے قریب آنے لگا تو میں بولا دوستو پہلے میری باری پھر اس کی مجھے زرا جلدی ہے یار صبر نہیں ہورہا۔ جیسے ہی ان می سے ایک میرے قریب آیا میں نے اس کو گھوم کر کک لگائی اور وہ اڑتا ہوا صوفہ پر گرا صوفہ الٹ گیا میں بولاکیا ہوا یار اتنی چڑھا لی کیا جوکھڑا بھی نہیں ہوا جارہا دوسرا میرے قریب آیا تو اس کو بھی کک لگائی وہ بھی اس کے اوپر گرا جو پہلے گرا تھا اب اٹھ رہاتھا یہ بھی اس کے اوپر گرادونو ں گر پڑے تیسرا آیا میں نے اس کا بھی یہی حال کیا وہ بھی ان کے اوپر پھر میں نے تینوں کو خوب پھینٹی لگائی میرے پاؤں میں گر کر معافی مانگنے لگتا میں ا س کو لاتوں سے مارتا پانچ منٹ کے اندر تینوں ادھ مرے ہوگئے پھر میں نے خنجر نکال لیا کیونکہ اس کی دھار کو میں نے ابھی تک آزمایا نہیں تھا وہ تینوں تھر تھر کامنے لگے اور معافیاں مانگنے لگے۔ میں نے بولا تم ایسے ہی شریف لوگوں کو تنگ کرتے ہوگے آج تم ہمارے ساتھ بھی یہی کرنے لگے تھے میں نے ایک کے چہرے پر خنجر سے لکیر بنائی تو وہ تڑپنے لگا۔میں نے اسی طرح میں نے دونوں کے ساتھی بھی یہی کیا پھر میں نے نمو کو بولا جاؤ ان کی جیپ میں بیٹھو زرا واپس بھی تو جانا ہے۔ وہ چلی گئی تو میں نے خنجر سے ایک ایک ہاتھ تینوں کا کاٹ دیا وہ چیخنے لگے میں بولا شور مت کروں مجھے پتہ ہے یہ ساؤنڈ پروف ہے میں نے دیکھ لیا تھا تم یہاں اسی لیے لائے تھے کوئی ہماری آواز نہ سن سکے تم نے  میری بہن کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تھی میں نے تمہارے ہاتھ ہی کاٹ دیے کہ دوبارہ اگر تم نے دوبارہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تم کے ساتھ اس سے بھی برا حال ہوگا پھر ایک کے جسم سے خنجر کا پھل صاف کیادوبارہ میان میں ڈال لیا جو کہ میری پنڈلی سے بندھی تھی پھر وہاں دروازہ بند کر کے نکل گیا مجھے آتا دیکھ کر نمو نے گاڑی سٹارٹ کی ہوٹل سے تھوڑا پیچھے انکی جیپ روکی جہاں پہلے تھی وہاں سے بائیک نکالی اور نکل گئے نمواب میرے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے نمو بولی تم نے ان کے ساتھ کیا کیا میرے باہر آنے کے بعد میں بولا کچھ نہیں صر ف یہ بولا کسی کو نہ چھیڑنا اس نے بولا افی کیا میں تم کو نہیں جانتی میں بولا بے شک جا کر دیکھ لو وہ چپ ہوگئی میں بولا وہاں کیا ہوا تھا جب میں واش رو م گیا تھا بولی تم گئے تو تھوڑی دیر بعد مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پاس آگئے اور تنگ کرنے لگے میں بولا تم تو ان کو بھگانے کے چکر میں تھی وہ بولی مجھے پتہ تھا تم نے دیکھ لیا تو ان کی خیر نہیں تو میں بولا تو نہ کرتا ایسا کیا بولی اچھا لگا تم نے ان کو مجھ سے بد تمیزی کی سزا دی۔ اور مجھ سے چپک گئی اس کے ممے میری کمر میں دھنس گئے اس نے مجھے پیچھے سے گلے لگالیا پھر گھر پہنچے نمونے اپنا بریسلٹ دیکھایا جو میں نے دلوایا تھا تو نور اور عائشہ بولی ہاں نمرہ تمہاری سگی بہن ہے ہم تو جیسے ہے ہی نہیں میں بولا ایسی بات نہیں آپ کو بھی دلوا دوں گا بولی ہمیں تھوڑی لے کر جاؤ گے تم اپنی لاڈلی کو ہی لے کر جاؤ گے میں بولا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو سب کو لے کر گیا اور شاپنگ کروائی نور آپی بولی اس کو بھی تو کروائی تھی میں نے بولا اچھا بابا ناراض نہ ہو میں تم کو بھی لے جاؤں گا اپنی پسند کا لے لینا جو بھی لینا ہوا۔ پھر کھانہ کھایا اور اپنے روم میں آگیاتھوڑی دیر دروازے پرناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو چھوٹی ماں اندر آگئی اور میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی  اس وقت انہوں نے ایک سفید کلر کا سوٹ پہنا تھا جس میں ان کی نیلی برا وا ضح محسوس ہورہی تھی ان کا بھاری سینہ ان کا ڈوپٹہ بھی نہ چھپا پارہا تھا  وہ میرے قریب بیٹھی تو ان کی جسم کی خوشبو مجھے محسوس ہونے لگ پڑی جیسے تازہ کھلے گلاب کی ہو۔میں نے بولا کیسی ہیں بولی بہت اچھی بولی رات کیسی گزری میں بولابہت مست گزری چھوٹی ماں بولی تم کو تو مست گزری لیکن تم نے ناز بیچاری کی چال ہی بگاڑ دی میں بولا میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں کیا چال بگاڑوں گا بولی اس میں کسی نے کیا سیکھنا یہ تو قدرت خود سیکھا دیتی ہے پھر میں نے سائیڈ ٹیبل سے وہ بریسلٹ نکالااور ان کو دیا اور کہا کہ یہ ہماری دوستی کے نام بولی تو خود پہنا دوانہوں نے ہاتھ آگے کیا میں نے بریسلٹ پہنا دیا بولی اب دوست نے تحفہ دیا ہے مجھے بھی دوست کو کوئی تحفہ دینا پڑے گامیں بولا آپ نے دیا تو ہے ناز والا بولی وہ تحفہ خان جی کی طرف سے تھا اور وہ ویسے بھی بس تم کا اناڑی پن ختم کرنے کے لیے تھا اب میری طرف سے تحفہ ہوگا وہ زرا سپیشل ہوگا میں یہ بات سن کر چونگ گیا مطلب کوئی لڑکی ملنے والی تھی تحفے میں یہ سن کر میرا لن نے انگڑائی لینی شروع کردی۔میں بولا اچھا جی پھر کب مل رہا ہے تحفہ بولی زرا صبر کرو مل جائے گااور ہنس پڑی پھر اٹھ کر جانے لگی اور کہا آرام کرو میں نے بولا اب آپ کے تحفہ کے انتظار رہے گا بولی جلدی ملے گا پھر واپس جانے لگی تو ان کی گانڈ پر نظر پڑی جو کہ باہر کو نکلی ہوئی تھی پتلی کمر کے نیچے بڑی گانڈ کیا لگ رہی تھی کپڑوں سے اوپر سے دروازے پر پہنچ کر پیچھے دیکھا تو میری نظر اپنی گانڈ پر پا کر بولی بدمعاش یہ مال تم کا نہیں ہے خان جی کا ہے اور باہر چلی گئی میں ہنس پڑا۔    

 

  • Author

قسط نمبر9۔
میں تھوڑی دیر کے لیے سو گیا پھر اٹھ کر فریش ہوا اور نیچے آگیا وہاں نور اور عائشہ بیٹھی ہوئیں تھیں مجھے دیکھتے ہی بولی بھائی آپ تو ہر وقت نمرہ کے ساتھ ہی رہتے ہو میں بولا اب تو اتنا عرصہ ہوگیا اس کے ساتھ وقت نہیں گزارہ بس مقابلے کی تیاری کرتا رہا اب سب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ بولی آپ نے نمرہ کو بریسلٹ دیا ہمیں بھی چاہیے۔ میں بولا جب بولو لے جاؤ گا۔ اتنے میں امی آگئی وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئی میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا بولی کبھی اپنے ماں کو بھی وقت دیا کرو میں بلا امی سارا وقت آپ کا ہی تو ہے پھر میں ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تو میرا پاؤں عائشہ پٹ کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا نہ تو عائشہ نے نوٹس لیا نہ میں نے لیکن اس کا جسم گرم تھا اور پٹ اتنا نرم تھا کہ کیا بتاؤں پاؤں اندر دھنس رہا تھا عائشہ تھوری سی فربہ جسم کی مالک ہے مطلب نہ اتناجسم بھاری نہ پتلا درمیانہ جسم اور درمیانہ قد تھا ہم بہن بھائیوں کے قد میں سے سے کم قد اس کا ہی تھالیکن ایک با ت تو پتہ چل گئی تھی عائشہ کا جسم بہت نرم ہے۔ امی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں ان کا سینہ میرے منہ کے اوپر تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی شہوت نہ تھی۔ بلکہ مجھے ان کی گود میں سکون مل رہا تھا امی بولی اب تم کی دعوتیں شروع ہوں گے کئی خاندان تم کو سرادر بننے کی وجہ سے دعوت پر بلائیں گے تاکہ ان سے جان پہچان ہو سکے سب سے پہلی دعوت تم کے چچا کی طرف سے ہے کل شام ان کے گھر تم کی دعوت ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے امی چلا جاؤں گا۔اسی طرح ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر ابو بھی آگئے وہ فیکٹری میں گئے ہوئے تھے ہماری ایک فیکٹر ی میں مشینوں کے پرزے بنتے تھے اور ایک فیکٹر ی میں فیکٹری میں پلاسٹک کا سامان تیار ہوتا تھا۔اور ایک ہماری کنسٹریکشن کمپنی تھی اور کئی پلازے تھے جن کے لیے ابو نے ایک مین ہیڈ آفس بنایا ہوا تھا باقی سب میں منیجر تھے جو کہ پورے کام کو کنٹرول کرتے تھے پھر ہیڈ آفس آکر ابو کو ساری ڈیٹیل اور حساب وغیرہ چیک کرواتے تھے ابو بھی اکثر فیکٹر ی اور کمپنی میں پلازہ چکر لگاتے اور چیک کرتے رہتے وہاں کا سارا نظام الگ تھا اور یہاں کا سارانظام الگ تھا۔ میں بھی اب سوچ رہا تھا آفس جانا شروع کردوں اور ساتھ ساتھ کام سمجھتا رہوں اور ابو کا ہاتھ بٹاؤں پہلے تو مقابلے کی تیاری میں رہا اب میں بھی آفس جانا چاہتا تھا۔ میں نے یہی بات ابو سے بولی تو ابو بولے بیٹا تم کا اپنا تو آفس ہے جب چاہو آجاؤ لیکن بچپن سے تیاری کررہے ہو مقابلے کی اور پندرہ ماہ پہاڑوں میں رہے ہو اب تم سردار ہو تو کچھ عرصہ اس کا پھل کھاؤ پھر آفس بھی آجانا میں بولا جی ابو ٹھیک ہے لیکن میں چاہتا ہوں اب آفس جانا شروع کردوں باقی یہ سب تو چلتا ہی رہے گا میں کون سا ہر وقت آفس میں رہوں گا۔ بولے ٹھیک ہے جیسے مرضی کرویار پھرکھانہ لگ گیا اور پھر سب نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔میں اپنے روم میں جانے کی بجائے عائشہ اور نور کے روم میں چلا گیا حالانکہ بہت کمرے تھے حویلی میں لیکن وہ دونوں اپنا روم شیئر کرتی تھیں۔ میں نے ناک کیا تو نو ر آپی کی آواز آئی آجاؤ میں اندر چلاگیا مجھے دیکھ کر نور بولی واہ واہ آج دن کدھر سے چڑھا ہے جناب سردار آفتا ب خان ہمارے کمرے میں آئے ہیں میں ہنس دیا کہ اگر برا لگا تو واپس چلا جاتا ہوں تو عائشہ بولی ہماری تو ہمیشہ سے خواہش تھی کہ تم ہمارے بھی اتنے ہی بھائی بنو لیکن تم تو اس نموکے ساتھ چپکے رہتے ہو جیسے وہ ہی تمہاری بہن ہو میں نے بولا اب آپ کا سارا گلا دور کردوں گاروزانہ حاضری دیا کروں گا بولی پتا ہے دن کے بعد پھر بھول جاؤ گے میں بولا پکا وعدہ اب آپ کے پاس روزانہ آیا کروں گا عائشہ بولی دیکھتے ہیں پھر نور بولی نمو کو بریسلٹ لے کردیا ہے ہمیں کب لے کر دو گے میں بولا صبح چلتے ہیں آپ کو بھی لے کر دوں گا صبح تیار رہنا عائشہ بولی کوئی ضرورت نہیں مانگ کر لینے کی خود سے تو دیا نہیں میں بولا اس کے ساتھ گیا تھا اس کو پسند آگیا تو لے دیا او ر کوئی بات نہیں آپ کو صبح لے دوں گا۔عائشہ بولی ٹھیک ہے پھر صبح ہم تیار رہیں میں بولا جی پھر عائشہ بولی کہ خالی بریسلٹ ہی دلواؤگے میں بولا جو تم کا دل کرے لے لینا نور بولی یہ ہوئی نہ بات صبح تم کی جیب تو خالی میں بولا سب تم کا ہی تو ہے۔اسی طرح نوک جھوک چلتی رہی آخر کاران کا موڈ بہت اچھا ہوگیا پھر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا اور سوگیا پہلے سوچا ناز کو بلوا لوں پھر سوچا آج ریسٹ کرتا ہوں پھر سوگیا۔ صبح روٹین کے مطابق جم گیا وغیرہ سے فارغ ہو کر گھر واپس آیا اور کمرے میں چلاگیا اتنے میں نمو بلانے آئی کے ناشتہ کرلو میں بولا آتا ہوں فریش ہو کر پھر نمو بولی رات نور اور عائشہ کے کمرے کے کیا کرنے گئے تھے میں بولا کیا نہیں جاسکتا نمو بولی جاسکتے ہولیکن کبھی گئے نہیں ہو میں بولا یہی تو ان کا گلہ تھا کہ میں ان کے پاس جاتا نہیں ہر وقت تم سے چپکا رہتا ہوں تو نمو بولی مجھ سے کب چپکے رہتے ہو آج کل تو پتہ نہیں کدھر گم رہتے ہو میں بولابکواس نہ کرو ابھی کل ہی تو تم کو لے کر شہر گیا تھا اور اتنا ہنگامہ ہوا بولی پتہ پتہ ہے بس کرو میں بولا اچھا یار اب سب کو ٹائم دیا کروں گا پھر ہم نیچے آگئے تو سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے ہم نے ناشتہ کیا ابو کسی کام سے چلے گئے ابھی تک ابو نے ہی میرا زیادہ کام سنھبالہ ہوا تھا کوئی بڑا کام ہوتا جس پر میرے فیصلہ یا دستخط کی ضرورت ہوتی تو لے لیتے لیکن جمعہ والا دن جو پنچایت ہوتی اس کی سربراہی مجھے ہی کرنی تھی۔خیر ناشتے کے بعد میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا تو چھوٹی ماں تیار کررہی تھی کہیں جانے کی میں بولا کہا جارہی ہو تو وہ بولی کہ آج انوشے کو لینے ہوسٹل جارہی ہوں اس کی پڑھائی مکمل ہوگئی ہے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ میری بہن جو چھوٹی ماں سے تھی وہ ہاسٹل میں تھی اس کے پیپر ہورہے تھے فائنل اس وجہ سے وہ جشن کے موقع پر نہ آسکی اب اس کے پیپر ختم ہوگئے تو وہ آرہی تھی۔میں بولا میں چلوں بولی خان جی ساتھ جارہے ہیں تم نے آنا ہے تو تم بھی آجاؤ میں بولا جب ابو جارہے ہیں بولی کیوں میں بولا ویسے ہی بولی ٹھیک ہے۔ ویسے بھی مجھے آج نور اور عائشہ کے ساتھ بازار جانا ہے۔ انہوں سرکھایا ہوا ہے نہ گیا تو وہ بہت ناراض ہوگیں چھوٹی ماں بولی اچھی بات ہے تم ہران کو ٹائم ہی نہیں دیتے جب بھی وقت ملتا ہے اپنی نمو کے پاس گھس جاتے ہو میں بولا بس جڑوا ں ہیں اور بچپن سے ایک ساتھ ہی رہے پڑھے اور بڑے ہوئے وہ مجھے سمجھتی ہے میں اس کو اس لیے زیادہ وقت اس کے ساتھ ہی گزارتا ہوں چھوٹی ماں بولی کسی اور کے ساتھ وقت گزارو گے تو اس کو سمجھو گے میں بولا اب میں نے نور اور عائشہ سے وعدہ کرلیا ہے روزانہ ان کو ٹائم دوں گا بلکہ سب کو برابر ٹائم دوں گا پہلے تو ویسے بس ٹریننگ میں ہی ٹائم گزرتا رہا ہے۔ چھوٹی ماں بو لی ٹھیک ہے۔ میں بولا آپ کے گفٹ کا انتظار ہے بولی لگتا ہے ناز سے دل بھر گیا ہے جو گفٹ کے انتظار میں ہو میں بولا نہیں ایسی بات نہیں لیکن جب سے آپ نے بولا ہے تو تجسس ہے اس لیے بس اور کوئی بات نہیں تو چھوٹی ماں بولی مجھ سے اب کیسی شرم لگتا ہے ناز نے ٹھیک طرح سے شرم نہیں اتار ی میں بولا اترجائے گی جلد وقت تو لگتا ہے نابولی ٹھیک ہے جلد ہی پیش کرتی ہوں میں بولا کیا بولی جس کا تم کو بے صبر ی سے انتظار ہے اور ہنس دی۔ میں باہر آیا تو نور اور عائشہ کھڑی تھیں اور میری طرف دیکھ رہی تھیں میں بولا چلو تیار ہو جاؤ پھر چلتے ہیں تو وہ دونوں خوش ہوگئیں عائشہ جو کہ باتونی تھی بولی ہمیں تو لگتا تھا کہ صبح ہوتے ہی رات کا وعدہ بھول گئے ہوگے میں بولا ایسانہیں ہوگا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا۔ پھر وہ دونوں جلدی جلدی کمرے میں چلی گئیں کے کہیں شاہد میں مقر نہ جاؤ ں میں بھی اپنے کمرے میں آگیا اور تیار ہونے لگ پڑا۔ میں نے ایک بلیک جینز اور سکائی بلیو شرٹ پہنی گاؤں میں زیادہ تر میں شلوار قمیض ہی پہنتا تھا لیکن شہر جاتے ہوئے پینٹ شرٹ یا اس قسم کا لباس پہنتا تھا۔اتنے میں نمو میرے کمرے میں آئی اور بولی جارہے ہو آج تو بڑا سج دھج کر جارہے ہو کسی گرل فرینڈ کو تو ٹائم نہیں دیا میں تھوڑا سے سیڈ سا منہ بنا کر بولا میری ایسی قسمت کہا 22سال کا ہوگیا ہوں سردار بن گیا ہوں لیکن ایک بھی گرل فرینڈ نہیں نہ ہی کوئی دوست ہے۔ تمہیں بھی اچھی طرح پتہ ہے۔ تو میرے پاس آئی اور بولی کیا میں تم کی دوست نہیں ہو میں بولا ہو لیکن میری گرل فرینڈ تو نہیں ہے نا جس کے ساتھ میں گھومو پھرو اور انجوائے کروں۔ تو میرے ساتھ گھوم لیا کرو میں دوست ہوں اور گرل بھی ہوں تو تم کی گرل فرینڈ بھی ہوئی نا میں بولا یا ر تم فرینڈ ہو لیکن گرل فرینڈ تو نہیں بن سکتی نا جیسے گرل فرینڈ ہوتی ہے ایسا تو نہیں کرسکتی یہ بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر رہا تھا اس نے کچھ دیر آنکھوں میں دیکھا پھر نظریں جھکا لیں۔ پھر وہ بنا کچھ بولے چلی گئی۔  
قسط نمبر 10  
میں نیچے آیا اور نور اور عائشہ کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر گزری تو دونوں نیچے آئیں دونوں نے ایک جیسے کپڑے پہنے تھے ہلکے پیلے کلر کے اور اس پرسفید پھول تھے لان کے سوٹ تھے اور پر سفید ڈوپٹہ تھا۔ میں نے باہر گاڑی نکالی تو گارڈ بھی گاڑی نکالنے لگے میں نے ان کو روک دیا بولا جب میں پرسنل کام سے جارہا ہوں تو ساتھ نہیں آنا اگر کسی دورے پر یا کسی اور کام پر جاؤں تو ساتھ آنا وہ سمجھ گئے۔وہ باہر آئیں تو گاڑی کو دیکھ کر بولیں نہیں بائیک پر چلتے ہیں میں بولا تین لوگ ہیں بائیک پر کیسے جائیں گے بولی ہمیں تو بائیک پر جانا ہے میں بولا ٹھیک ہے پھر بائیک نکالی تو پہلے عائشہ بیٹھی پھر نور بیٹھ گئی بائیک پر تین لوگ بیٹھے تھے تو اس لیے عائشہ مجھ سے چپک گئی اس کے نرم نرم ممے مجھے اپنی پیٹھ پر محسوس ہورہے تھے میرے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگ پڑی میں نے سارا دھیان سٹرک پر لگایا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرلیا۔ لیکن عائشہ شاہد مجھے کنٹرول کرنے نہیں دے رہی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے اور جس سے میں گرم ہورہا تھا اور ساتھ ہی اس نے دونوں ہاتھ میرے پیٹ سے گزار کر مجھے پکڑ لیا تھا ایک جگہ کھڈا لگا تو وہ پوری میرے ساتھ چپک گئی اور واپس نہ ہوئی۔ خیر جیسے تیسے کر کے ہم شہر پہنچے پھر شاپنگ مال میں گئے وہاں انہوں نے اپنے لیے بریسلٹ لیے پھر کپڑے بھی خریدے میں نے انوشے کے لیے بھی بریسلٹ لے لیا آج وہ بھی واپس آرہی تھی پھر آج چچا کی طرف بھی دعوت تھی توان کے لیے کچھ گفٹ لیے اور پھر وہاں سے نکلے تو ایک ہوٹل سے کھانا کھایا ہم بہت انجوائے کررہے تھے پھر نور نے ضد کی کے ہم نے فلم دیکھنی ہے میں بولا نہیں اچھا نہیں لگتا اس کیساتھ عائشہ بھی بولنے لگ پڑی مجبوراً مجھے ماننی پڑی بولا کون سی فلم دیکھنی ہے اس وقت ہالی ووڈ کی ایک ہارر فلم لگی تھی رونگ ٹرن بولی یہ دیکھنی ہے میں بولا خوفناک ہے ڈر جاؤ گی بولیں یہی دیکھنی ہے میں بولا ٹھیک ہے  کیونکہ میں بھی کبھی سنیما نہیں آیا مجھے بھی تجسس تھا پہلی بار فلم دیکھنے کا سنیما دیکھنے کا۔ٹکٹ خریدے اورکچھ سنیک خریدے پھر اندر داخل ہوگئے ابھی فلم سٹارٹ نہیں ہوئی تھی اس لیے اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں کئی کپل بیٹھے تھے ہم بھی ایک جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے ایک طرف نور بیٹھ گئی ایک طرف عائشہ ان کے درمیان میں میں بیٹھ گیا لیکن اتنا زیادہ رش نہ تھا فلم شروع ہوئی تو فل اندھیرا ہوگیا فلم بہت ہی خوفناک تھی شروع ہوتے ہی ایک ڈراؤنا سین آیا تو دونوں نے مجھے پکڑ لیا اور انکھیں بند کرلیں میں نے بولا کیا ہوا دیکھو فلم اب بڑا شوق تھا ہارر فلم دیکھنے کا دونوں چپ رہی پھرفلم دیکھنے لگ پڑی لیکن مجھے نہ چھوڑا۔اور ہارر فلم ہو ہالی ووڈ کی اور اس میں بولڈ سین نا ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بولڈ سین آیا میں ترچھی نظر سے ان کی طرف دیکھا تو دونوں بہت غور سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہی مجھ پر نظر پڑی نظر جھکا لیں۔ ہمارے آگئے ایک لائن چھوڑ کر ایک کپل بیٹھا تھا وہ اپنے کام میں لگ گیا دونوں کسنگ کررہے تھے اور ٹھیک ہمارے سامنے تھے دونوں دنیا سے بے خبر لگے پڑے تھے اور ایک کپل سائیڈ میں تھا وہ بھی سٹارٹ کرچکے تھے۔ لائیو شو دیکھ کر میرا تو دماغ خراب ہونا شروع ہوگیا اور میرا لن کھڑا ہونا شروع ہوگیا اب لڑکی نیچے منہ جھکا چکی تھی اورلڑکا اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا تھا مطلب لڑکی لڑکے کا لن چوس رہی تھی جب میں نے ترچھی نظر سے نور او ر عائشہ کو دیکھا تو وہ دونوں بھی ان کو ہی دیکھ رہی تھیں۔میری حالت خراب تھی میرے پینٹ میں تمبو بن چکا تھا اگر انڈر ویئر نہ ڈالا ہوتا تو بالکل صاف نظر آتا۔ اب لڑکی لڑکے کے آگے اگلی سیٹ پر جھک چکی تھی اور لڑکا چدائی شروع کرچکا تھا۔ میں پسینہ پسینہ ہورہا تھا حالانکہ حال ایئر کنڈیشن تھاان دونوں کی طرف نظرڈالی تو ان کی حالت بھی کچھ ایسی تھی۔ لڑکی کی سسکیوں کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی حالانکہ فلم کا شور بھی تھا اب فلم پر دھیان کہاں تھا اب تو ان کی طرف ہی سارا دھیان تھا اب میرا بس نہیں چل رہا تھا دل کررہا تھا کہ بس لڑکے کو ہٹا کر میں چڑھ جاؤں لڑکی پر۔ سچوئیشن ایسی تھی کہ دوسگی بہنیں ساتھ تھیں اور سامنے لائیو شو چل رہا تھا کیابتاؤں کیا حالت ہو رہی تھی۔مجھے پتہ نہیں چلا میرا ہاتھ کب عائشہ کی طرف رینگ گیا اور اس کی ٹانگ پر رکھ دیا اور پھیرنا شروع کردیا میرا سارا دھیان اس لائیوشو کی طرف تھا اور میں ہاتھ عائشہ کی ٹانگوں پر پھیر رہا تھا اور میرا ہاتھ عائشہ کی پھدی پر شلوار کے اوپر سے ہی لگا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کسی گرم گیلی بھٹی پر ہاتھ رکھ دیا ہوامجھے جھٹکا لگا کہ میرا ہاتھ کہاں ہے میں نے جب عائشہ کی طرف دیکھا تو اس کی نظریں مجھ پر تھیں اور میرا ہاتھ اس کی پھدی والی جگہ پر شلوار کے اوپر تھا میں نے فوراً ہاتھ اٹھالیا دوسری طر ف دیکھا تو نور بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میرا سر جھک گیا اور آنکھوں سے آنسو آنے لگ پڑے زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا لیکن جو کام آج ہوا تھا اس نے رولادیا میں ایسا تو نہیں تھا اب مجھے لائیو شو کا کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ میرا لن بیٹھ چکا تھا ایسے کے جیسے ساتھ ہو ہی نہیں زندگی میں پہلی بار ایسی غلطی ہوئی تھی کہ اپنی سگی بہن کی اس جگہ پر ہاتھ رکھ بیٹھا تھا اور دوسرے بہن نے دیکھ لیا تھا میری نظریں اٹھ ہی نہیں پارہی تھی مجھے ہوش نہیں تھا کب فلم کا ہاف ٹائم ہوا اور لائٹس آن ہوئیں۔ ہم تینوں خاموشی سے باہر آئے تو نور بولی بس اب چلتے ہیں اور فلم نہیں دیکھنی اس کی آواز میں غصہ تھا میں نے بولا ٹھیک ہے لیکن ایک بار بھی عائشہ کی طرف یا نور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ جلدی سے بائیک نکالی اور بیٹھ گیا۔ میرے پیچھے اس بار نور بیٹھی تھی پھر عائشہ بیٹھی ہمارے پاس کافی شاپر تھے کچھ میں نے آگے ٹانگ لیے تھے اور کچھ ان دونوں نے پکڑ لیے تھے۔ میں نے جیسے تیسے بائیک چلاکر جلدی سے گھر پہنچایا۔ اس بار بائیک بہت تیز چلائی جب بھی بریک لگتی تو نور مجھ سے چپک جاتی۔اس نے ممے مجھے اپنی کمر پر محسوس ہوتے لیکن اس بار سیدھا گھر جاکر بریک لگائی اور سیدھا اپنے کمرے میں آگیا تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو انوشے آگئی میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور وہ بھاگتی ہوئی میرے گلے لگ گئی اس نے مجھے مبارک باد دی۔ میں نے اس کے پیپروں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا کے بہت اچھے ہوگئے ہیں پھر وہ چلی گئی میں نیچے نہیں جارہا تھا کیونکہ مجھ سے عائشہ سے نظر نہیں ملائی جاتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد چھوٹی ماں آئی میں نے ان کا حال پوچھا پھر وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور مجھ سے سفر کی باتیں کرنے لگی لیکن میں گم سم تھا انہوں نے بھی محسوس کرلیا اور بولی کیا بات ہے صبح تو بہت چہک رہے تھے میں نے بولا کچھ نہیں سفرسے آیاہوں انہوں نے شاپنگ کروا کروا کر تھکا دیا بولی بات کچھ اور ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو مت بتاؤ اب میں کیابتاتا کہ چھوٹی بہن کی پھدی پر ہاتھ مارتا رہا ہوں میں نے بولا کچھ نہیں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا تو فریش ہوجاؤں گا بولی ٹھیک ہے لگتا ہے میرے گفٹ کا زیادہ ہی شدت سے انتظار ہے جو تم کو کچھ بھی اور اچھا نہیں لگ رہا میں بولا ایسا کچھ نہیں بس تھکاوٹ ہے بولی اچھا آج رات تم کی تھکاوٹ اتار دے گی میں بولا کو ن بولی سرپرائس ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے جی جاتے ہوئے بولی تھوڑا آرام سے ابھی چھوٹی عمر کی ہے۔ چھوٹی عمر کاسن کر میرے نیچے ہل چل ہونے لگ پڑی اور میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ ابھی کیا کرکے آرہا ہوں۔ پھر نمو آئی کمرے میں بولی ہوگئی تم لوگوں کی شاپنگ میں بولا ہوگئی ہے اس کے لیے بھی ایک سوٹ لایا تھا اس کو دے دیا تو وہ میرے گلے لگ گئی اور شکریہ بولا لیکن آج اس میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہوتی تھی جب میں اس لیے کچھ لاتا تھا شاہد صبح والی بات کی وجہ سے۔ پھر وہ چلی گئی۔ شام تک میں روم میں ہی رہا کیونکہ عائشہ اور نور کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی لیکن جو کام ہوا ہے اس کے لیے معافی تو مانگنی ہے پھر چاہے وہ معاف کریں یا نہ لیکن ابھی مجھے دعوت پر جانا تھا اس لیے جلدی سے تیار ہوا اور چچا کے گاؤں کی طرف چل دیا ان کی طرف دعوت تھیں ان کا گاؤں ساتھ ہی ہے۔  

 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.