Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

اک فرقہ اداس کوگوں کا

Featured Replies

محبتیں خیرات ہوتی تو ہم تیرے لیے مذاروں پر بیھٹے ہوتے 

منت کے دھاگوں سے ملتی تو کوئ ایسا مزار نہ ہوتا جہاں میں تیری منت کا دھاگہ نہ باندھ کر نہ آتا

لیکںن یہ تو اعزاز ہیں اور اعزازات تو نصیب والوں کو ملتے ہیں

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

اسے کہنا
میری سرزمینِ دل‘
اتنی وسیع نہیں ہے کہ
تیرے سوا کسی اور کو
میں اس میں بسا سکوں
تیرے بغیر آشیاں‘
کہیں سجا سکوں
تیرےعلاوہ کسی اور کو‘
چاہ سکوں
کہ رابطہ میرا بس‘
تم سے تمہی تک کا ہے
نہ دوسرا کوئی 
اس میں شریک ہے
نہ ہی حوصلہ ہے اب
کسی اور کو سوچنے کا
مشغلہ ہے بس‘
تجھی کو کھوجنے کا
اور اب یہ بھی طے ہے کہ‘
کسی اور کی یاد کے‘
دیپ نہ جلا سکوں
اسے کہنا!
میری سرزمینِ دل ‘
اتنی وسیع نہیں ہےکہ
کسی اور کو اس میں بسا سکوں ....!

  • 1 year later...

یہ عجیب فصلِ فراق ہے

کہ نہ لب پہ حرفِ طلب کوئی

نہ اداسیوں کا سبب کوئی

نہ ہجومِ درد کے شوق میں

کوئی زخم اب کے ہرا ہُوا

نہ کماں بدست عدو ہُوا

نہ ملامتِ صفِ دُشمناں

نہ یہ دل کسی سے خفا ہُوا

 

کوئی تار اپنے لباس کا

نہ ہَوا نے ہم سے طلب کیا

سرِ راہگزرِ وفا بڑھی

نہ دیا جلانے کی آرزو

پے چارہ غمِ دو جہاں

نہ مسیح کوئی نہ چارہ گر

 

نہ کسی خیال کی جستجُو

نہ خلش کسی کے وصال کی

نہ تھکن رہ ماہ و سال کی

 

نہ دماغ رنجِ بُتاں

نہ تلاش لشکرِ ناصحاں

وہی ایک رنگ ہے شوق کا

وہی ایک رسم ہے شہر کی

 

نہ نظر میں خوف ہے رات کا

نہ فضا میں دن کا ہراس ہے

پے عرضِ حال ہے سخن وراں

 

وہی ہم سخن ہے رفیقِ جاں

وہی ہم سخن جسے دل کہیں

وہ تو یوں بھی کب کا اُداس ہے۔

  • 1 year later...

تیرگی شب کی اسی طور مٹائی جائے 

چاند چہروں پہ پڑی گرد ہٹائی جائے 

 

مفتئِ وقت ہے الحاد کی مئے کا خُوگر 

آئتِ عہدِ وفا کس کو  سنائی جائے 

 

زحمتِ دستِ کرم تجھ کو گوارا ہو اگر

تلخئِ صُورتِ حالات بتائی جائے 

 

دوستو شامِ گلستاں کا تقاضا یہ ہے 

رات سے پہلے کوئی شمع جلائی جائے 

 

اس قدر زور سے آواز کے پتھر پھینکو 

حاکمِ شہر کے محلوں میں دہائی جائے 

 

مرے رستے میں مزاحم ہے  ارادہ میرا

مرے رستے کی یہ دیوار گِرائی جائے 

 

اب یہ مُنصف پہ ہے انصاف کرے یا نہ کرے 

اپنا جو فرض ہے زنجیر ہلائی جائے 

 

 

  • 2 months later...
  • 9 months later...
📢 Post Your Ad Here

وہاں وہ آنکھ بجھی ہم یہاں اداس ہوئے

یہ زخم بھرنے لگے تو نشاں اداس ہوئے

 

اسے خبر ہی نہیں ہے کہ اس کے جانے سے

یہ پھول اور یہ آبِ رواں اداس ہوئے

 

تمہارے بعد کئی بار یوں ہوا ہے کہ ہم

جہاں پہ بنتا نہیں تھا وہاں اداس ہوئے

 

فضا اداس ہے لہجوں میں سوگواری ہے

یہ کس کے جانے پہ اہلِ زباں اداس ہوئے

 

کسی نے گاؤں سے جانے کی بات کیا کر دی

مکین بعد میں پہلے مکاں اداس ہوئے

  • 9 months later...

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.