June 25, 20205 yr محبتیں خیرات ہوتی تو ہم تیرے لیے مذاروں پر بیھٹے ہوتے منت کے دھاگوں سے ملتی تو کوئ ایسا مزار نہ ہوتا جہاں میں تیری منت کا دھاگہ نہ باندھ کر نہ آتا لیکںن یہ تو اعزاز ہیں اور اعزازات تو نصیب والوں کو ملتے ہیں
June 29, 20205 yr Author اسے کہنا میری سرزمینِ دل‘ اتنی وسیع نہیں ہے کہ تیرے سوا کسی اور کو میں اس میں بسا سکوں تیرے بغیر آشیاں‘ کہیں سجا سکوں تیرےعلاوہ کسی اور کو‘ چاہ سکوں کہ رابطہ میرا بس‘ تم سے تمہی تک کا ہے نہ دوسرا کوئی اس میں شریک ہے نہ ہی حوصلہ ہے اب کسی اور کو سوچنے کا مشغلہ ہے بس‘ تجھی کو کھوجنے کا اور اب یہ بھی طے ہے کہ‘ کسی اور کی یاد کے‘ دیپ نہ جلا سکوں اسے کہنا! میری سرزمینِ دل ‘ اتنی وسیع نہیں ہےکہ کسی اور کو اس میں بسا سکوں ....!
August 10, 20214 yr یہ عجیب فصلِ فراق ہے کہ نہ لب پہ حرفِ طلب کوئی نہ اداسیوں کا سبب کوئی نہ ہجومِ درد کے شوق میں کوئی زخم اب کے ہرا ہُوا نہ کماں بدست عدو ہُوا نہ ملامتِ صفِ دُشمناں نہ یہ دل کسی سے خفا ہُوا کوئی تار اپنے لباس کا نہ ہَوا نے ہم سے طلب کیا سرِ راہگزرِ وفا بڑھی نہ دیا جلانے کی آرزو پے چارہ غمِ دو جہاں نہ مسیح کوئی نہ چارہ گر نہ کسی خیال کی جستجُو نہ خلش کسی کے وصال کی نہ تھکن رہ ماہ و سال کی نہ دماغ رنجِ بُتاں نہ تلاش لشکرِ ناصحاں وہی ایک رنگ ہے شوق کا وہی ایک رسم ہے شہر کی نہ نظر میں خوف ہے رات کا نہ فضا میں دن کا ہراس ہے پے عرضِ حال ہے سخن وراں وہی ہم سخن ہے رفیقِ جاں وہی ہم سخن جسے دل کہیں وہ تو یوں بھی کب کا اُداس ہے۔
April 8, 20233 yr تیرگی شب کی اسی طور مٹائی جائے چاند چہروں پہ پڑی گرد ہٹائی جائے مفتئِ وقت ہے الحاد کی مئے کا خُوگر آئتِ عہدِ وفا کس کو سنائی جائے زحمتِ دستِ کرم تجھ کو گوارا ہو اگر تلخئِ صُورتِ حالات بتائی جائے دوستو شامِ گلستاں کا تقاضا یہ ہے رات سے پہلے کوئی شمع جلائی جائے اس قدر زور سے آواز کے پتھر پھینکو حاکمِ شہر کے محلوں میں دہائی جائے مرے رستے میں مزاحم ہے ارادہ میرا مرے رستے کی یہ دیوار گِرائی جائے اب یہ مُنصف پہ ہے انصاف کرے یا نہ کرے اپنا جو فرض ہے زنجیر ہلائی جائے
March 23, 20242 yr وہاں وہ آنکھ بجھی ہم یہاں اداس ہوئے یہ زخم بھرنے لگے تو نشاں اداس ہوئے اسے خبر ہی نہیں ہے کہ اس کے جانے سے یہ پھول اور یہ آبِ رواں اداس ہوئے تمہارے بعد کئی بار یوں ہوا ہے کہ ہم جہاں پہ بنتا نہیں تھا وہاں اداس ہوئے فضا اداس ہے لہجوں میں سوگواری ہے یہ کس کے جانے پہ اہلِ زباں اداس ہوئے کسی نے گاؤں سے جانے کی بات کیا کر دی مکین بعد میں پہلے مکاں اداس ہوئے
Create an account or sign in to comment