اسے کہنا
میری سرزمینِ دل‘
اتنی وسیع نہیں ہے کہ
تیرے سوا کسی اور کو
میں اس میں بسا سکوں
تیرے بغیر آشیاں‘
کہیں سجا سکوں
تیرےعلاوہ کسی اور کو‘
چاہ سکوں
کہ رابطہ میرا بس‘
تم سے تمہی تک کا ہے
نہ دوسرا کوئی
اس میں شریک ہے
نہ ہی حوصلہ ہے اب
کسی اور کو سوچنے کا
مشغلہ ہے بس‘
تجھی کو کھوجنے کا
اور اب یہ بھی طے ہے کہ‘
کسی اور کی یاد کے‘
دیپ نہ جلا سکوں
اسے کہنا!
میری سرزمینِ دل ‘
اتنی وسیع نہیں ہےکہ
کسی اور کو اس میں بسا سکوں ....!