وہاں وہ آنکھ بجھی ہم یہاں اداس ہوئے
یہ زخم بھرنے لگے تو نشاں اداس ہوئے
اسے خبر ہی نہیں ہے کہ اس کے جانے سے
یہ پھول اور یہ آبِ رواں اداس ہوئے
تمہارے بعد کئی بار یوں ہوا ہے کہ ہم
جہاں پہ بنتا نہیں تھا وہاں اداس ہوئے
فضا اداس ہے لہجوں میں سوگواری ہے
یہ کس کے جانے پہ اہلِ زباں اداس ہوئے
کسی نے گاؤں سے جانے کی بات کیا کر دی
مکین بعد میں پہلے مکاں اداس ہوئے
تیرگی شب کی اسی طور مٹائی جائے
چاند چہروں پہ پڑی گرد ہٹائی جائے
مفتئِ وقت ہے الحاد کی مئے کا خُوگر
آئتِ عہدِ وفا کس کو سنائی جائے
زحمتِ دستِ کرم تجھ کو گوارا ہو اگر
تلخئِ صُورتِ حالات بتائی جائے
دوستو شامِ گلستاں کا تقاضا یہ ہے
رات سے پہلے کوئی شمع جلائی جائے
اس قدر زور سے آواز کے پتھر پھینکو
حاکمِ شہر کے محلوں میں دہائی جائے
مرے رستے میں مزاحم ہے ارادہ میرا
مرے رستے کی یہ دیوار گِرائی جائے
اب یہ مُنصف پہ ہے انصاف کرے یا نہ کرے
اپنا جو فرض ہے زنجیر ہلائی جائے