October 3, 20196 yr زبردست قسط زبردست سین زبردست ڈائیلائیگ جیسے حقیقت میں ایسا ہو رہا ہو اب دیکھنا ہوگا کہ سانول سازش کا شکار ہو جائے گا یا بچ نکلنے میں کامیاب ہوگا آخر کو وہ کھلاڑی ٹھہرا
October 3, 20196 yr ڈاکٹر صاحب آپ کی کہانی خوب جارہی ہے اپنے جوبن پر. سانول نے جس طرح سے ان بندوں کو کوٹا ہے وہ کمال کا رہا ہے , روز روز کے طعنہ سن کر تنگ آگیا تھا, سلطان کھوڑو سمجھتاہے کہ بختاور نے بھیجے ہیں جب کہ بختاور کو پتا ہی نہیں. میرا کی انٹری تک پڑھی ہے. پھر وقت نہیں ملا تو سوچا پچھلی اپڈیٹ پر کمنٹ کردوں آپ نے شکوہ کیا کہ کوئ خاص کمنٹ آ نہیں رہے تو پڑھنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کتنی مشکل سے وقت نکالتے ہیں جب کہ کمنٹ لکھنے میں کتنا وقت صرف ہوتا ہوگا خود ہی سوچیں
October 3, 20196 yr ڈاکٹر صاحب ایک بات بتائیں یہ منظر یہ تخیل یہ عکس بندی یہ آپ کس طرح سے لکھ لیتے ہیں کہاں سے الفاظ لاتے ہیں کاش میں کوئ لکھاری ہوتا تو تعریف کے لائق الفاظ آپ کی خدمت میں پیش کرتا. ڈاکٹر صاحب آپ نے تو کمال کردیا, کمال کمال, لاجواب وڈیرہ نواز کا میرا کو پہلو میں بٹھانا اس کے کوہلوں پر سب کے سامنے ہاتھ پھیرنا پھر اس کادوپٹہ کا گرنا اس کے اندر سے لنڈ کو پکڑوانا میرا کا شرم کے باوجود پکڑنا ساتھ ہی نواز کا لوگوں سے باتیں کرنا واہ کیا منظر کشی کی ہے ایسا لگ رہا تھا کہ میں وہیں موجود ہوں پھر کمرہ میں لے کر جب اس نے ننگی ہونے کا کہا تو اس کا شرمانا پھر باسو کو اس لڑکی کے ساتھ مجبور کرنا ساتھ ہی میرا کے ممے پکڑنا, باسو کے تو بیٹھے بٹھائے وارے نیارے ہوگئے جب اس کے پستان ننگے کرتا ہے تو ساتھ ہی وڈیرہ اس کے ممے ننگے کردیتا ہے میرا چپھاتی ہے لیکن وڈیرہ اس کے نپل منہ میں لے لیتا ہے. افففففف آپ نے یہ جو سیکس سین قلم بند کیا ہے کچھ نہ پوچھیں کہ جزبات کی کن بلندیوں پر آپ لے گئے ہیں. کیا جملے آپ نے لکھے ہیں اس کے اندر کیا کیا بیان کروں عورت کی کشمکش کا آپ نےاچھا تفصیل سے ذکر کیا میں تو اس کا مختلف مواقع پر عینی شاہد ہوں. ایک بار ایک لڑکی کو اپنی جگہ پر لایا اسے کہا کہ صحن میں آجاؤ لیکن اس نے کہا کھلے آسمان کے نیچے نہیں یہ گناہ ہے یہ وہ . اسی طرح کمرہ میں جب کسی رنڈی کو لے کر جاؤ تو لائٹ بند کردیتی ہیں انہیں بے حیائ لگتی ہے حالاں کہ لنڈ ڈلوارہی ہیں ننگی ہورہی ہیں اس میں کچھ نہی. آپ نے بہت اچھے طریقہ سے بتایا. ویسے آپ سے اس کی وجہ جاننا چاہوں گا کہ کیا وجہ ہے ؟؟ امجد نے بڑی چالاکی سے چال چلی اور سانول کو حاصل کرلیا دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ سلطان کھوڑو انتہائ سمجھدار ہے وہ پہلے سے چاہتا تھا کہ کہ کسی طرح سانول کو حاصل کرے جو اس نے حاصل کرلیا. سانول کیا رویہ رکھے گا آگے چل کر معلوم ہوگا مراد لانگڑی کی بیوی صیبی اور سدو کی باتیں کیا ہی ہیجان خیز تھیں. سدو کے مموں کا چھلکنا پھر صیبیی کا سانول کے سیکس کے بارے میں پوچھنا شلوار کا گیلی ہوجانا ...آہ ہ ہ ہ ہ. لگتا ہے صیبی کوئ راستہ ڈھونڈے گی سانول کا لنڈ لینے کے لیے. سدو بھی کمال کی چیز ہوگی امید کرتا ہوں کہ کیپرو کی اپنے ہونے والے ماٹھ کے ساتھ پہلی رات کا نقشہ بھی آپ لاجواب کھینچیں گے. اس کہانی میں اب تک آپ نے جتنے بھی سیکس سین پیش کیے وہ ایک سے بڑھ کر ایک تھے جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ڈاکٹر صاحب آپ یقین مانیں میرے پاس وہ الفاظ نہیں جس سے آپ کو خراج تحسین پیش کروں. آپ نے جو انداز رواں رکھا ہے جس طرح سے وڈیروں ہاریوں کی زندگی سے پردہ اٹھا رہے ہیں وہ کمال لاجواب ہے طویل کمنٹ کے لیے معذرت پر مجبور تھا
October 3, 20196 yr Author کسی کی کہانی کو لکھنے کے لیے اسکے ہر کردار کی نفسیات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ جیسے سندھ میں یا اکثر دیہات میں برہنہ ہو کر سیکس کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بتی بجائی جاتی ہے تاکہ بےحیائی کا کام بھی حیا سے کیا جائے۔ اسی طرح کئی عورتوں کی نفسیات میں کوئی عمل بےحیائی کی سند بن جاتا ہے۔ جیسے کروانا ٹھیک ہے بس روشنی میں گناہ ہوتا ہے۔یا وہ کر لے تو ٹھیک میں کروانے لگوں تو گناہ۔ اسی طرح وہ میرے کپڑے اتارے تو اس کا فعل،میں خود جو سیکس کے لیے ننگی کر دوں تو گناہ کبیرہ۔ اسی کہانی میں سدو سیکس پہ نہیں شرماتی مگر چومنے پہ اسے شرم آتی ہے۔
October 3, 20196 yr لاجواب ڈاکٹر صاحب آپ کا لکھا ایک ایک لفظ ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا اپڈیٹ ختم ۔۔۔لاجواب رائٹر ہیں آپ تعریف کے لیے الفاظ نہیں۔۔۔اگلی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار ہے
October 4, 20196 yr 14 hours ago, DR KHAN said: کسی کی کہانی کو لکھنے کے لیے اسکے ہر کردار کی نفسیات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ جیسے سندھ میں یا اکثر دیہات میں برہنہ ہو کر سیکس کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بتی بجائی جاتی ہے تاکہ بےحیائی کا کام بھی حیا سے کیا جائے۔ اسی طرح کئی عورتوں کی نفسیات میں کوئی عمل بےحیائی کی سند بن جاتا ہے۔ جیسے کروانا ٹھیک ہے بس روشنی میں گناہ ہوتا ہے۔یا وہ کر لے تو ٹھیک میں کروانے لگوں تو گناہ۔ اسی طرح وہ میرے کپڑے اتارے تو اس کا فعل،میں خود جو سیکس کے لیے ننگی کر دوں تو گناہ کبیرہ۔ اسی کہانی میں سدو سیکس پہ نہیں شرماتی مگر چومنے پہ اسے شرم آتی ہے۔ ہمممم بہت اچھے سے آپ نے بتایا سارا کھیل ہی نفسیات کا ہے . . نفسیات پر بہت سی چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں. نفسیات کے بننے میں گھر, محلہ, معاشرہ علاقہ کا بڑا عمل دخل ہے. ہر کسی کے ذہن میں ایک الگ تعریف ہے
October 4, 20196 yr Superb dr sb Sanwal ko bh usi ghot ma bhja ja raha ha jahan khepro ki malka byah kar ay gi, mujy lagta ha sanwal r uska jor setup krny ky liy khani ma ya dramai mor dala gya ha, shyad khepro ki malka ka hero yai sanwal ho . baqi zabrdast update ha
October 5, 20196 yr kahani achi ja rahi hai abi tempo silow hai lakin tez hoga or jb tez hoga tu ye paid section me hogi... anyway achi kahani hai maza aaraha hai likhte rahe ..... kre aapka zor e qalam or zyada
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.