September 27, 20196 yr 8 hours ago, DR KHAN said: آپ کے طویل تبصرے کا بہت شکریہ۔ سب سے پہلے تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ نے کم از کم دس سال پرانی کہانی کا حوالہ دیا جو میں نے لکھی تھی۔وہ تین کہانیاں کے نام سے سلسلہ تھا۔ اس میں سندھ پہ دو کہانیاں تھیں،ایک ونی کی جانے والی لڑکی پہ لکھی گئی تھی کہ جسے ایک عورت کے شوہر کے قتل کے عوض اس کے ایک سالہ بیٹے سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ وہ گزربسر کرنے کے لیے اپنی بہو سے جسم فروشی کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ دوسری کہانی تھی جس میں ایک لڑکی اپنے منگیتر کے ساتھ دیکھی جاتی ہے اور تصور یہ کیا جاتا ہے کہ وہ دونوں زنا کاری کر رہے تھے، جس کی تصدیق کے لیے وڈیرہ پورے گاؤں کے سامنے اس کا کنوارہ پن ختم کر کے گواہی دیتا ہے کہ اس پہ لگا الزام جھوٹا تھا۔ یہ کہانی ہم نے اسی لیے لکھی ہے کہ سندھی کہانیوں یا سندھ کے پس منظر کی کہانیاں کم ہیں۔ پردیس میں تو سندھ کا تفصیلی ذکر ہے مگر عام کہانیوں میں کم وبیش میں سندھ کی ہوتی ہے۔ باقی ہم یہ مہینوں والا سلسلہ بھی ختم کر رہے ہیں اور اپڈیٹ کی ایک مقررہ مقدار کے مطابق اس کی ایک قیمت ہو گی جسے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ باقی ہر وڈیرے کا کردار جدا ہے اور آپ سبھی کو یقیناً یہ سلسلہ پسند آئے گا۔ یہ سلسلے جوا ہوتے ہیں، ہم نے پردیس،ہوس،آہنی گرفت کا جوا کامیابی سے جیتا ہے تو ہمارے کچھ سلسلے قارئین کو اچھے نہیں بھی لگے۔ مگر ظاہر ہے ہمیں نت نئی چیزوں کو ٹرائی تو کرنا ہی ہے۔ Kiu sir ye sex monthly membership setup kiu katam kar rahe ha app
September 29, 20196 yr On 9/27/2019 at 4:12 PM, sec-see-princes said: ایک منفرد بیک گراؤنڈ میں لکھی گئی بے حد با کمال کہانی۔۔۔ میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ کہانی پردیس اور ہوس سے کسی طور بھی کم نہیں ہو گی۔۔۔۔ کہانی کا پلاٹ جاندار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت وسیع بھی ہے ۔۔۔ وڈیروں کی آپس کی چپقلش کے ساتھ ساتھ کمیوں اور ہاریوں پر ہونے والے مظالم بہترین انداز میں عیاں ہوں گے۔ ویسے اس ٹاپک پر ڈائجسٹی ادب میں تو کافی کچھ لکھا گیا ہے مگر اصل زندگی میں بہت کم عیاں ہوتا ہے ۔۔۔ شاید ان علاقوں میں پائی جانے والے ازلی غربت اور وہاں کے وڈیروں کی تعلیم اور ترقی سے نفرت کی وجہ سے وہاں کے عوام ظلم و ستم کے عادی ہوگئے ہوں گے اور کوئی علم بغاوت بلند کرتا بھی ہو گا تو مین سٹریم میڈیا تک پہونچنے سے پہلے اس آواز کو دبا دیا جاتا ہوگا ۔۔۔ اکا دکا کیس ضرور سامنے آتے رہے ہیں مگر یقیناً یہ اصل کا عشر عشیر بھی نہیں ہوں گے۔ کہانی بہترین انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ۔۔۔ واقعات کا تسلسل اور کرداروں کی ایڈجسٹمنٹ بہت پرفیکٹ ہے ۔۔۔ "میرا" کے ساتھ ہونے والی کاروائی بہت دل بہار بھی تھی اور دل فگار بھی ۔۔۔ وہاں بسنے والی مخلوق یعنی کمیوں کے مائینڈ سیٹ کو کھول کے رکھ دیا ۔۔۔ کہ کس طرح ہر ظلم کو جسٹیفائی کرتے ہیں ۔۔۔ کبھی چاول کی بوری پر اور کبھی گوشت کے شوربے پر۔۔۔۔ بھوک بذات خود ایک بہت بڑی عفریت ہے۔۔۔۔ رائیٹر کے لیے ڈھیروں داد۔ شکو پہلے دو وڈیروں کے گلے کی ہڈی تھی اب وڈیرا نواز بھی اس چپقلش کا حصہ بنے گا ۔۔۔ اور شکو تین ملاؤں میں مرغی حرام کی مصداق بنے گی۔ سدو اور سانول کے سیکس سین بھی ہیجان خیز تھے ۔۔۔ خاص کر جن سینز میں سدو کی چومنے میں جو شرم دکھائی گئی وہ بہت مزہ دے گئے۔۔۔ سانول بھی وڈیروں کی آپس کی چپقلش میں اچھا کردار ادا کرے گا۔۔۔ اور کہانی کو کئی اہم موڑ دے گا۔ ڈاکٹر ۔۔۔ اس بیک گراونڈ میں مجھے آپ کی ایک بہت پرانی پڑھی ہوئی شارٹ سٹوری یاد آ رہی ہے جس میں ہر نئی دلہن وڈیرے کے پاس لائی جاتی تھی اور وڈیرا دلہن کے کنوارپن کا ثبوت دیتا تھا ۔۔۔ سفید چادر پر مباشرت کر کے اور وہ بھی بیچ میدان ۔۔۔ آئے ہائے ۔۔۔ بڑی ہی تلخ سٹوری تھی وہ بھی۔۔۔ جو ابھی تک مجھے بھول نہیں سکی ۔۔۔ ویسے آپ کی بہت سی سٹوریز مجھے اب بھی یاد ہیں ۔۔۔ حالانکہ بہت سال ہو گئے ان کو پڑھے ہوئے۔۔۔ کہانی کے اور کرداروں کے نام وغیرہ شاید یاد نہ ہوں مگر سٹوریز کے پلاٹ اور واقعات کچھ کچھ یاد آتے ہیں۔ ایسی ایسی سٹوریز لکھ چھوڑی ہیں آپ نے کہ کیا ہی کہنے اور اب بھی آپ کا زرخیز ذہن مسلسل تخلیق کیے جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار وجود میں آتا جا رہا ہے ۔۔۔ حالات سے لگ رہا ہے کہ یہ کہانی بھی جلد از جلد ہم "کمیوں " کی پہونچ سے دور ہونے والی ہے ۔۔۔ ویسے کوئی لائف ٹائم والی ممبرشپ نہیں ہے ۔۔۔ مجھے ممبرشپ لینے میں کوئی عار نہیں مگر جو یہ چھ ماہ والا ایشو ہے نہ اس سے مسلہ ہے ۔۔۔ گھر کی مصروفیات ہی اتنی ہوتی ہیں کہ میں بہت کم مسلسل آن لائن ہوسکتی ہوں ۔۔۔ آپ دیکھ سکتے ہوں گے کہ کافی کافی دیر بعد ہی فورم پر آن لائن آتی ہوں۔ اگر کوئی ایسی آپشن ہے تو پلیز مجھے آگاہ ضرور کیجئے گا۔ سلامت رہیں ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ اور لکھتے رہیں ۔۔۔ سلام عقیدت۔ ماہم واہ جی کیا کمال کی باتیں کی ہیں آپ نے. آپ تو بہت پرانی قاریہ ہیں. بڑا مزہ آیا آپ کا کمنٹ پڑھ کر
September 29, 20196 yr ڈاکٹر صاحب ہمیشہ کی طرح یہ جو پیجز لکھے کمال لکھے. کہانی کی مرکزی کردار کا اب آپ نے تعارف کرایا. ہم تو میشو کی بیٹی کو سمجھ رہے تھے.لگتا ہے کہ جب بغاوت ہوگی اس میں میشو کی بیٹی اور سانول کا بھی اہم کردار ہوگا. آپ نے اس قسط میں کھپرو کی ملکہ کا ہلکا سا تعارف کرایا لگتا ہے آگے مزید کردار سامنے آئیں گے . نواز خان کی حویلی میں بھی وہ محفوظ نہیں رہے گی. یہ کہانی بہت دلچسپ بننے والی ہے. آپ نے اب تک جو سیکس سین قلمبند کیے ہیں انتہائ مزے دار. میرا کا سیکس اففففف, اس کی خوف میں نیم رضامندی. لگتا ہے کہ شوہر کر نہیں سکا, جزبات اس کے بھڑک چکے تھے تو نواز نے مزید آگ لگادی نواز تو پرانا کھلاڑی تھا سدو کا چومنے کے لیے جتن کرنا اور سانول کاماننا اپنے ہونٹوں کو سانول کی گردن سے پیوست کرکے نمکین لعاب اتارنا,, اففففففف کیا منظر کشی کی ہے کیا نقشہ کھینچا ہے امید ہے آگے بھی ایسے منظر دیکھنے کو ملیں گے
September 29, 20196 yr ڈاکٹر صاحب کیا کوئ ایسا طریقہ ہے کہ اب تک کی لکھی گئ آپ کی تمام کہانیاں کسی ایک پیج یا لنک پہ دستیاب ہوں جہاں سے خرید کر پڑھی جا سکیں
September 30, 20196 yr Wah wah dr.sahab kya khob update... Ek chez ki kami mehsos hui ha sex scene ni dala apny chota sa b na es update me na es se pichli me 😔😔😔
October 1, 20196 yr Author 9 hours ago, Saqlan said: Wah wah dr.sahab kya khob update... Ek chez ki kami mehsos hui ha sex scene ni dala apny chota sa b na es update me na es se pichli me 😔😔😔 جناب ضرور آتا اگر کہیں گنجائش بنتی۔ فی الحال تو کہیں جگہ نہیں تھی مگر بےفکر رہیں ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.